سر ورق / ثقافت / دوسری عالمی اُردو سخن کانفرنس 2019ءچوک اعظم : اختر سردار چودھری

دوسری عالمی اُردو سخن کانفرنس 2019ءچوک اعظم : اختر سردار چودھری

دوسری عالمی اُردو سخن کانفرنس 2019ءچوک اعظم

رپورٹ: اختر سردار چودھری

ناصر ملک ادبی حوالے سے ایک معتبر نام ہے۔ ا ردو سخن ڈاٹ کام کے ایڈیٹر ہیں ، چوک اعظم، لیہ سے اِن کا تعلق ہے ۔ناصر ملک، وطن عزیز کے ایک روشن خیال ادیب، معروف افسانہ نگار، تاریخ کے اَن تھک محقق،نام ور صحافی اور میٹھے لہجے کے شاعر ہیں۔ اُردو ادب کے فروغ اور کتاب بینی کے شوق کو اجاگر کرنے کے لیے انہوں نے چوک اعظم میں مورخہ 10 فروری 2019ءکو ادارہ اُردو سخن پاکستان کے زیرِ اہتمام پائینرز انگلش سکول میں دوسری شاندار عالمی اُردو سخن کانفرنس کا انعقاد کیا ۔جس میں نہ صرف ملک بھر سے بلکہ بیرون ممالک سے بھی معروف ادیب و شاعروںنے شرکت کر کے ادب دوستی کا ثبوت دیا ۔ادبی تقریب کی معاونت کرنے والوں میں محمد عمر شاکر ،معروف ادیب محمد ندیم اختر ،خضر حیات ڈلو اور صفدر انصاری قابل ذکر ہیں ۔اُردو سخن کانفرنس کا آغاز ایک گھنٹہ کی تاخیر کے ساتھ 12 بجے دن شروع ہوا۔گیارہ بجے کا وقت دیا گیا تھا ۔

صدارت کی مسند پر ملک کے معروف شاعرجناب جاوید احمد (جن کا تعلق کہوٹہ سے ہے)براجمان ہوئے۔جبکہ مہمانِ اعزاز کی نشستوں پر امر روحانی (دبئی) اور عبدالغفور کشفی (انگلینڈ) تشریف فرما تھے ۔یہ معزز مہمان کانفرنس میں شرکت کے لیے بیرون ممالک سے خصوصی طور پر تشریف لائے تھے ۔ دیگرخصوصی مہمانوں میں میجر شہزاد نیر (گوجرانوالہ) افضل خان (بہاولپور) ڈاکٹر فرتاش سید (ملتان) اور محمد مظہر نیازی (میانوالی) کی تقریب میں شرکت سے رونق دوبالا ہوگئی۔ کانفرنس کی خاص بات اس کا سیشن چار حصوں میں تقسیم ہونا تھا ۔ پہلے سیشن میں محمد عمر شاکر نے نظامت کی ذمہ داری نبھائی جبکہ سیشن کا آغاز محترمہ عائشہ جہانگیر نے تلاوتِ کلام پاک مع اردو ترجمہ سے کیا۔ نعت ِ رسول مقبول کی سعادت فریال ملک گروپ نے نعتِ مبارکہ ”شاہِ مدینہ “ پیش کر کے حاصل کی۔

ملک محمد افضل اعوان، ڈائریکٹر پائنیرز سکول نے خطبہ استقبالیہ دیا ۔اور ملک و بیرون ملک سے دوسری اُردو سخن کانفرنس میں شرکت کرنے کے لیے آنے والے تمام معزز مہمانوں اورشرکاءکو خوش آمدید کہا۔اس کے بعد ملک میں تعلیم و تربیت اور سرکاری سطح پر اردو کے فروغ اور نفاذ پر زور دیتے ہوئے انجینئر شبیر اختر قریشی نے ادارہ اردو سخن پاکستان کے قیام اور کانفرنس کے انعقاد پر بھی بریفنگ دی۔ انہوں نے کہا کہ اُردو کے فروغ و اشاعت کیلئے اُردو سخن پاکستان کی خدمات کا اعتراف بے حد ضروری ہے۔ اس کے ساتھ ہی پہلا سیشن اختتام کو پہنچا ۔

اُردو سخن کانفرنس کا دوسرا سیشن پر شروع ہوا تو نظامت کے فرائض بچوں کے معروف ادیب محمد ندیم اخترنے سنبھال لیے ۔انہوں نے اپنے مخصوص انداز میں کتب بینی کی اہمیت اجاگر کی اور کتاب سے محبت کی اہمیت پر زور دیا ۔ اور تین کتابوں ”منتہائے عشق“، ”درِ زنداں“ اور ”تطہیر“ کا رسمی تعارف بھی پیش کیا۔ عبدالغفور کشفی کی کتاب ”اک نیا راستہ“ معروف شاعر زبیر قیصر (اٹک)کی کتاب ”میں نے آواز کو آتے دیکھا“ جیسی کتابوں کی رونمائی ہوئی جن پر اہل علم حضرات نے بھر پور تبصرے کیے ۔اُردو سخن کانفرنس کا تیسرا سیشن اردو مشاعرے پر مشتمل تھا ۔جس میں اردو کے ممتاز شعرا نے اپنا کلام پیش کیا۔مشاعرے کی نظامت ناصر ملک اور قیصر وسیم نے کی۔کسی بھی مشاعرے کو کامیاب بنانے میں جہاں اچھے سخنور ضروری ہیں وہاں سخن فہم سامعین کی بھی اتنی ہی ضرورت ہوتی ہے۔ جہاں سلیقہ مند شاعر جن کے اشعار میں ان کا دل دھڑکتا ہو اور زندگی بولتی ہو اور سامعین جو ردیف اور قافیہ کے ساتھ بین السطور معانی سمجھتے ہوں تو وہاں کے مشاعرے کامیاب کیوں نہ ہوں گے۔اس معاملے میں ناصر ملک صاحب خراج تحسین کے حق دار ہیں کہ اس مشاعرے میں قوس قزح کے تمام رنگ بھرنے کے لیے انہوں نے ملک بھر سے شعرا ءکو اکھٹا کیا ۔

جن میں چند ایک کے نام درج ذیل ہیں۔امر روحانی (دبئی)،عبدالغفور کشفی (انگلینڈ) عتیق العالم (چنیوٹ)مطیع احمد مجتبیٰ (کہوٹہ) عمران عالی (احمد پور سیال) نصیر حشمت (چنیوٹ) عاطف نصیر (بہاولپور) راکب مختار (جھنگ) زبیر قیصر (اٹک) فیصل صاحب (بہاولپور) اسد رضا سحر (احمد پور سیال) عمر تنہا (فتح پور)، شبیر ناقد(تونسہ شریف) تنویر شاہد محمد زئی (کوٹ ادو)عبدالرحمان واصف (راولپنڈی)شاہد بخاری (بھکر)سلیم نتکانی (مظفر گڑھ) پروفیسر محمود پاشا (جہلم) میجر شہزاد نیر (گوجرانوالہ)افضل خان (بہاولپور) محمد مظہر نیازی (میانوالی)ڈاکٹر فرتاش سید (ملتان)جاوید احمد (کہوٹہ)اورناصر ملک(چوک اعظم ) نے مشاعرے میں دل پذیر رنگ بکھیرے۔شائقینِ شعر نے ہر اچھے شعر کو سراہتے ہوئے دل کھول کر خوب داد دی ۔

دوسری اُردو سخن کانفرنس کا چوتھا سیشن ”بزمِ غزل“ تھا جو ساڑھے چار بجے شروع ہوا۔ گلوکار راشد رضا نے میوزک ٹریک پر گیت گا کر حاضرین کا دل موہ لیا۔ روش رباب نے مشہور غزل ”اے جذبہئِ دل گر میں چاہوں، ہر چیز مقابل آجائے“ اتنی خوبصورتی سے گائی کہ شرکائے محفل جھوم اٹھے۔ اس سیشن کا اختتامی گیت محمد مظہر نیازی نے گایا۔ تمام شاعروں اور ادیبوں کو اردو سخن پاکستان کی جانب سے کتابوں کے تحائف پیش کیے گئے اور گروپ فوٹو بنایا گیا۔ پانچ بجے شام دوسری عالمی اُردو سخن کانفرنس اپنے اختتام کو پہنچی۔

 اس تقریب کیلئے انتہائی خوبصورتی سے اسٹیج تیار کیا گیا اور مہمانوں اور شرکاءکی مجلس کا موسم کے مطابق بہترین اور آرام دہ انتظام کیا گیا تھا۔ اُردو سخن کانفرنس میں ”بک ایکسپو“ کا بھی بہترین اہتمام کیا گیا تھاجس کے تحت نہ صرف اپنی مطبوعات خوبصورت انداز میں نمائش کیلئے رکھی گئیں بلکہ دیگر اداروں سے شائع ہونے والی کتب کی بھی نمائش کی گئی۔ مختلف قیمتوں کے لحاظ سے تین اسٹالز سجائے گئے جن پر 60 فیصد تک رعائت کے ساتھ کتب فروخت کی گئیں۔

دوسری اُردو سخن کانفرنس میں شریک ہونے والے شعرا ءو ادبا ءکے علاوہ حاضرین نے بھی ان اسٹالز کا وزٹ کیا اور کتاب دوستی کا ثبوت دیتے ہوئے اپنی پسند کی کتابیں خریدیں۔ اس سے قبل 8 جنوری 2017ءکو ادارہ اُردو سخن پاکستان کے زیرِ اہتمام پہلی اُردو سخن کانفرنس منعقد کی گئی تھی جس کی جملہ کارگزاری کوبعد ازاں کتابی شکل میں پیش کیا گیا تھا۔امید ہے کہ جلد دوسری اردو سخن کی مکمل روداد کو بھی کتابی صورت میں پیش کیا جائے گا ۔

٭٭٭

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

یہ کھنکتی چوڑیاں ۔۔۔ مدیحہ ریاض

یہ کھنکتی چوڑیاں ۔۔۔ مدیحہ ریاض میرے نیہر سے آج مجھے آیا یہ پیلا جوڑا …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے