سر ورق / کہانی / ماسی منظورہ۔!…عروسہ وحید

ماسی منظورہ۔!…عروسہ وحید

ماسی منظورہ۔!

عروسہ وحید

                ”ہائے ہائے قسمت پھوڑ ڈالی میری ماں نے مجھے یہاں بیاہ کے،بھلا کیا نظر آیا تھا اُسے، اس چھچھورے محلے میں بنے، ماچس کی ڈبیا جیسے گھرمیںجو یہاں مجھے سڑنے کے لیئے پھینک دیا“۔پینو نے اپنی پھینی ناک اور فالسے جتنی چھوٹی چھوٹی آنکھوں میں آنسو صاف کرتے ہوئے دُہائی دی۔”بھلا کیا تھا جو میری ماں میری شادی میرے چاچے کے پتر شیدے سے کر دیتی ! بس اُس کی شکل ہی رنگیلے جیسی تھی نا اور تھوڑا سا کالا ہی تو تھا اور توکوئی خرابی نہیں تھی اُس میں، ساری زندگی عیش کر واتا مجھ کو پھر اپنی بد شکلی کی وجہ سے میرے حُسن کے سامنے دب کر رہتا۔“ پینو کوکچھ زیادہ ہی غرور تھا اپنے پھیلے ہوئے وجود ، چھوٹے قد، گندمی رنگت اور چینوں جیسی پھینی شکل پر۔”اتنی بدصورت عورت کو بیوی بنا لیا، جو دن رات بیوٹی پارلر لے چکر کاٹ کاٹ کے انسان بن گئی ہے اور بیٹیاں املی کی گٹھلی جیسی پیدا کی ہیں ،جن کو سال میں بیس بیس سوٹ بنا کر دیتی ہے ۔اور اُ س شیدے کا گھر دیکھ کر ہی میں حسد کے مارے جل جل جاتی ہوں۔ اتنا بڑا گھر، ضرورت کی ہر چیز موجود ہے وہاں پر۔جب بھی وہاں پر جاتی ہوں، ٹھنڈی آہیں ہی بھرتی رہ جاتی ہوں اور وہ شیدہ مجھے دیکھ کر سینے پر ہاتھ رکھ کر ٹھنڈی آہیں بھرتاہے، جیسے کہہ رہا ہو یہ گھر اور عیش تم جیسی خوبصورت اور سلیقہ شعار عورت پر ہی سج سکتے تھے ۔یہ نکمی اور پھوہڑ عورت فضول میں ہی گلے پڑ گئی۔“پینو نے پھر سے اپنے حُسن کو بڑھا چڑھا کر بیان کرتے ہوئے ”ماسی منظورہ“ کے سامنے اپنا دکھڑا رویا۔”یہاں پر تو دو وقت کی روٹی مشکل سے پوری ہوتی ہے۔ صدیق کی تنخواہ کا پتہ ہی نہیں چلتا۔ بجلی ،گیس اور بچوں کی فیسوں میںہی غرق ہو جاتی ہیں ۔ہماری قسمت میں بھلا کہاں عیش لکھے ہیں“۔پینو نے حسرت سے بھرہوئی سانس کمرے کی گھٹی ہوئی فضا کے سپرد کرتے ہوئے کہا۔

                ”ٹھیک کہہ رہی ہے تو پینو، ہم جیسے لوگوں کو توایسے عیش نہیں دئیے قسمت نے۔وہ نکڑ والے آڑتی اظہر کی بیوی آسیہ اور بہن طاہرہ اُن دونوں کو دیکھ لو ۔نند بھابھی ہونے کے باوجود اِن ناس پیٹیوںمیں لڑائی نہیں ہوتی۔ سارا سارا دن بازار میں چکر کاٹتی ہیںآوارہ گردوں کی طرح۔ پتہ نہیں کہاںسے اتنا پیسہ آتا ہے اُن کے پاس جو ایک پل نہیںگھر میں ٹک سکتی اور پہنچ جاتی ہیں خریداریاں کرنے کو۔“ماسی منظورہ نے اُلّو کی مانند گول گول دیدے گھُما کر کہا۔

                ”ہاں ماسی اِن جیسے حرام خوروں کی تو زندگی ہے، ہماری کہاں، چلو گھر کی ٹیشن تو کبھی ختم ہوتی نہیں پر اِن محلے والوں نے زندگی خراب کر رکھی ہے یہ ساتھ والے گھر کا بڈھا شیخ نہایت ہی گھٹیا اور خبیث انسان ہے۔ ذرا جو اُ س میں ماں بہنوں کا لحاظ ہو۔ آنکھوں میں حیا نام کی کوئی چیز نہیں۔ ذرا کسی بچے کو یا کوئی چیز دیکھنے کے لیئے باہر جھانکوں توایسی خطر ناک نظروں سے دیکھتا ہے ،مانو ابھی نگل ہی جائے گا۔ قبر میں جانے والا ہے پھر بھی تانک جھانک سے باز نہیں آتا بے شرم کہی کا۔دل کرتا ہے اُس کی آنکھوں میں سیخیں کھبو دوں یا پھر اُسے ایک زور دار بلکہ بہت زوردار طمانچہ مار کر گردن دوسری طرف موڑ دوں تا کہ پھر وہ مجھے دیکھنے کی جرات نہ کرے۔“پینو تلخ ہو کر بولی

                ”ہائیں !“ پینو کی بات سُن کر ماسی منظور ہ کی آنکھیں باہر آنے والی ہو گئیں۔

”اے پینو تو اپنے شیخ داﺅد کی بات کر رہی ہے؟“ماسی منظورہ کو اس بات کا یقین نہ آیا تو پوچھ ڈالا ۔

                ”تو اور کیا ماسی، اُسی کھوسٹ سٹھیائے ہوئے بڈھے کی بات کر رہی ہوں۔“

                ”اچھا لیکن وہ تو۔۔۔“ماسی منظورہ کچھ کہتے کہتے رک گئی ۔پھر فوراً بول پڑی۔”ارے ہاں مجھے یاد آ گیا مجھے مقبول سبزی والے کے گھر جانا تھا۔ اُس کی بیوی نسیم سے کام ہے۔میرے گھٹنوں میں درد رہتاہے اُس نے ایک مالش بتائی تھی ۔ذرا اُدھر سے ہو آﺅں پھر آتی ہوں۔“ماسی منظورہ کہتے ہوئے اُٹھ کرچلی گئی اور پینو بھی ناشتے کے برتن دھونے کے لیئے اپنے چوہے کے بل جیسے کچن میں چلی گئی ۔

ززز

                ”اے کوئی گھر میں موجود ہے کہ نہیں ؟“ماسی منظورہ نے مقبول سبزی والے کے گھر میں داخل ہوتے ہوئے کہا۔پھر چھوٹے سے صحن میں کھڑے ہو کر چلاتے ہوئے بولی۔”دروازہ کھلا پڑا ہے کسی کو ہوش ہے ،زمانہ بڑا خراب ہے کہیں کوئی چوری ڈکیتی ہوگئی تو ،پر یہاں تو کسی کو پروا ہی نہیں۔“

                ”ارے ماسی منظورہ تم ! آﺅ آﺅ کتنے دنوں بعد نظر آئی ہو کہاں چھُپی رہی ہو۔“نسیم جو بکھرے کچن کا پھیلاﺅ سمیٹ رہی تھی ماسی کی آواز سُن کر باہر آئی اور اُس کی اتنے دنوں کی غیر حاضری کی وجہ پوچھ ڈالی۔ماسی نے نسیم کی بات کا جواب دینا ضروری نہ سمجھا اور صحن میں پڑی چارپائی پر دھڑام سے گرنے والے انداز میں بیٹھ گئی، جس سے چارپائی کی ہلکی سی چیخ نکل گئی اور وہ بیٹھتے ہی شروع ہو گئی۔

                ”ارے کیا زمانہ آ گیا ہے دُنیا نہ بُرے کو چھوڑتی ہے اور نہ ہی بھلے کو، پتہ نہیں لوگوں کو ہو کیا گیا ہے بلا وجہ ہی بھلے مانس لوگوں پر جھوٹے الزام لگاتے ہیں اِن جیسے لوگوں کو خُدا کا خوف ہی نہیں رہا۔“

                ”ارے ماسی کن لوگوں کو خدا کو خوف نہیں ہے؟“جلدی جلدی کچن کا پھیلاﺅ سمیٹ کر دوپہر کے کھانے کے لیئے سبزی بناتی نسیم نے پوچھا۔

                ”ارے اُس ناشکری کلرک کی بیوی پینو کی بات کر رہی ہوں ۔بڑی توپ بنی پھرتی ہے۔ گولے کی طرح ہر بات سامنے والے کے منہ پر مارتی ہے ۔جب دیکھو لوگوں کی برائی اور غیبت ۔یہ دونوں چیزیں تو اُس کی گھٹی میں شامل ہیں۔“حالانکہ یہ کہتے ہوئے اسے اپنی گھٹی کا تواحساس ہی نہیں ہوا۔

                ”ارے پتہ بھی تو چلے کہا کیا ہے اُس پینو نے ۔“آلو چھیلتی نسیم نے پوچھا

                ”ارے ہمارے محلے کے جو شیخ صاحب ہیں بیچارے بزرگ آدمی، اُن پر اُس بارہ من کی دھوبن نے الزام لگایا ہے کہ وہ اُسے تاڑتاہے ۔وہ بیچارہ نمازی پرہیزی روزے کا پابند، بھلا بتاﺅ اُس بیچارے اللہ لوک بندے نے ست رنگی بھینس کو تاڑ کر کیا کرنا۔“

                ”ہائے سچی!“حیرت سے نسیم کے ہاتھوںسے آلو اور چھُری گر گئے۔

                ”تو اور کیا میں جھوٹ بول رہی ہوں ۔ابھی ابھی یہ بکواس اُس مکار عورت کے منہ سے سُن کر آ رہی ہوں۔

                ”ہا ۔۔۔ ہائے ۔۔۔الزام لگانے کے لئے اُسے وہ بزرگ ہی مِلا تھا ؟ ایسی ہی عورتیں ہوتی ہیں جن کو اور کوئی کام نہیں ہوتا پھر دوسروں پر بے بنیاد الزام لگاتی ہیں۔“نسیم نے پھر سے چھری اور آلو اُٹھا کر اُسے چھیلنا شروع کر تے ہوئے اپنا سوال پھر سے دہرایا۔”اور سناﺅ ماسی کہاں رہی ہو اتنے دن؟“

                ”بس گھٹنوں کے درد کی وجہ سے کہیں جایا ہی نہیں جاتا۔ آج بڑے دنو ں بعد نکلی ہوں۔ سوچا تم سے اُس مالش کے بارے میں پوچھتی جاﺅں جو تم نے مجھ سے کہی تھی۔“

نسیم کچھ بولنے ہی والی تھی کہ دروازے پر تین گھر چھوڑ کر رہنے والی رضیہ کا بیٹا آگیا جس کا شوہر پٹواری تھا۔

                ”نسیم خالہ!“ بچے نے زور سے ہانک لگائی۔

                ”کتنی بار کہا ہے تم سے کہ مجھے خالہ مت کہا کرو پینڈو کہیںکے ،آنٹی کہتے ہوئے زبان جلتی ہے تمہاری۔“نسیم تڑخ کر بولی

                ”میں بھول گیا تھا، آئندہ سے آنٹی کہہ کر ہی پُکاروں گا۔ “ دروازے پر کھڑا بچہ منمناتے ہوئے بولا

                ”ٹھیک ہے، آگے سے دھیان رکھنا ،اب بکو، کیا کام ہے؟“وہ تیکھے پن سے بولی

                ”آنٹی وہ سالن اپنی فرج میں رکھو دو۔ شام کو جب میرا ابا گھرآئے تو لے جاﺅں گا اور میری ماں کہہ رہی ہے سبز مرچ ہے تو دے دو۔“

                ”ارے یہ وہی سالن ہے نہ جو تم صبح ناشتے کے لیئے اُٹھا کر لے گئے تھے۔“نسیم نے ناک بھنویں چڑھا کر پوچھا۔

                ”جی!“ بچے نے سعادت مندی سے جواب دیا۔

                ”اور کتنے مہینے رکھنے کا ارادہ ہے اسے ۔پرسوں سے تم لوگوں نے ناک میںدم کر رکھا ہے۔ کبھی رکھتے ہو کبھی اُٹھاتے ہو ۔میری فرج کو اپنے باپ کا مال سمجھ رکھا ہے۔ چلو بھاگو یہاں سے ،اپنی اماں سے کہو میںنے فرج بند کر رکھی ہے۔ تمہارا سالن نہیں رکھ سکتی خراب ہو جائے گا۔پھر تم لوگ جان جلانے کو پہنچ جاﺅ گے۔اور سبز مرچ کیا مفت میں آئیں ہیں۔ میرا شوہر پتہ نہیں کیسے کیسے محنت کرکے مجھے چیزیں لا کر دیتا ہے اور میں تم لوگوں پر لُٹاتی رہوں۔“

یہ تلخ باتیں سن کر وہ بچہ تو منہ بسورتے وہاں سے چلا گیالیکن اُس کے جانے کے بعد بھی نسیم کی بڑبڑاہٹ جاری رہی۔”بھوکے،بے عزت ،بھگ منگے ، ندیدے لوگ ذرا جو اُن کی ناک ہو ۔میںنے سوچا تھا،جان چھوٹی اُس منحوس سالن سے۔ اُس کی گندی بو سے ساری فرج بھر گئی تھی اور یہ بھکاری پھر سے اُسے اٹھا کر لے آئے ہیں۔ماسی کیا بتاﺅں میں ان لوگوں سے بڑا تنگ ہوں ۔سارا دن ا ِن کی مانگ شروع رہتی ہے ۔کبھی چینی ،کبھی پتی،کبھی کیا، کبھی کیا ۔پریشان کر رکھا ہے اِن ٹٹ پونجیوں نے مجھے۔“نسیم کا لہجہ حقارت سے پُر تھا۔

ماسی منظورہ کو اُس کا یہ انداز بالکل بھی نہ بھایا۔ کیا تھا جو وہ رضیہ کا سالن رکھ لیتی اور اُسے سبز مرچ دے دیتی۔ کوئی مجبوری کے تحت ہی مانگتا ہے ۔”ہاں ماسی تم کچھ کہہ رہی تھی یہ بھکاری آگیا تو تمھاری بات بیچ میں رہ گئی تھی۔“

                ”میں نے تم سے مالش کے بارے میں پوچھا تھا۔“ماسی نے سنجیدہ ہو کر کہا۔

                ”ارے ہاں ماسی میں تمہیں وہ مالش ضرور دے دیتی، پر وہ میں نے اپنی اماں کو دے دی ہے کیو نکہ اُس کے گھٹنوں میں بھی درد رہتا ہے ۔میں تمہیں اُس حکیم کا پتہ بتا دیتی ہوں۔ تم وہاں سے اپنے بیٹے کو بھیج کر منگوا لینا۔ چھوٹی سی شیشی ڈیڑھ سو کی آتی ہے۔“نسیم نے لہسن چھیلتے ہوئے سرسری سے انداز میں کہا۔

                ”اے کوئی بات نہیں نسیم، میںنے تو ایسے تم سے پوچھا تھا۔ ویسے بھی تنویر مجھے اتوار کو کسی اور حکیم کے پاس لے جائے گا۔“ماسی منظورہ نے بات کو ٹالتے والے انداز میں کہا۔”اچھا نسیم اب میں چلتی ہوں۔“ ماسی ایک دم سے اُٹھتے ہوئے بولی۔ اب اُس کے بیٹھنے کا کیا فائدہ؟ کام تو اس کا ہوا نہیں تھا۔ اوپر سے نسیم نے رضیہ کے بیٹے کے ساتھ جو سلوک کیا تھا اُس سے بھی دل نسیم کی طرف سے پھیکا پڑگیا تھا۔

                ”ارے ماسی ابھی تو آئی ہو کچھ دیر بیٹھو تو سہی کچھ نئی تازی سناﺅ۔“نسیم نے ماسی کو اُٹھتے دیکھ کرروکنا چاہا۔

                ”ارے مجھے بھی تو روٹی پانی کا کچھ کرنا ہے ۔پھر آﺅں گی ۔“ماسی منظورہ بولی۔

                ”چلو ٹھیک ہے جیسے تمھاری مرضی۔“نسیم نے لاپرواہ انداز میں کہا اور سبزی کے چھلکے شاپر میں ڈالنے لگی ۔ماسی منظورہ اللہ حافظ کہہ کر باہر نکل گئی۔

ززز

                ”توبہ توبہ کیا زمانہ آگیا ہے !ایک دوسرے کی پرواہی نہیں کسی کو۔اتنی سی چیز کیا مانگ لی۔ اُس بچے کو تو وہ کاٹ کھانے کو دوڑ پڑی تھی۔“ماسی منظورہ اپنے گھر کی طرف جا رہی تھی کہ موٹر مکینک اسلم کی بیوی شگفتہ جو اپنے دروازے پر ہی کھڑی تھی ،ماسی کی بڑبڑاہٹ سُن کر اُس کی طرف متوجہ ہو گئی اور آواز دے ڈالی۔

                ”ماسی کدھر جا رہی ہو؟“

ماسی نے اُس کی پُکار سنی تو فوراً رک گئی اور بڑ بڑاتے ہوئے شگفتہ کے پاس آ گئی۔”دماغ خراب تھا جو اُس کنجوس اور بے رحم عورت کے گھر چلی گئی۔“

                ”اے ماسی پہلے اندر تو آ جاﺅ پھر بتانا کس کا دماغ خراب ہو ا ہے ؟“شگفتہ ماسی کو لیکر اندر آ گئی۔۔اندر داخل ہوتے ہی ماسی کا ایک دھچکا لگا۔ دن چڑھے تو کافی دیرہو چکی تھی بلکہ اب تو دوپہر ہونے والی تھی لیکن شگفتہ نے ابھی تک مرغی کے ڈربے جیسے گھر کے نہایت چھوٹے سے صحن میں چاپائیاں نہیں اُٹھائی تھیں۔بلکہ اُن پر پڑے کھیس اور دریاں ابھی تک اُونگھ رہے تھے۔فرش کا سیمنٹ جگہ جگہ سے اُکھڑا ہوا تھا، گرتے ہوئے چونے والی دیواریں منہ چڑھا رہی تھیں،بکھری ہوئی چیزیں پورے صحن میں پھینکے گئے پھلوں کے چھلکے اور اُن پر بھنبھناتی مکھیاں گھر کو بہت ہی بدہیت بنا رہی تھیں۔ماسی نے ناک بھنوںچڑھا کر شگفتہ سے پوچھا،

                ” ارے تو نے ابھی تک یہ پھلاﺅ کیوں نہیں سمیٹا؟“

                ”بس ماسی دل نہیں کر رہا تھا صفائی کرنے کو۔“شگفتہ نے سستی اور کاہلی سے جمائی لیتے ہوئے کہا اور منہ پر ہاتھ رکھنا بھی گوراہ نہیں کیا۔”اچھا ماسی اب بتاﺅ کس کا دماغ خراب ہے اور کون کنجوس ہے ؟“شگفتہ نے چارپائی سے کھیس اُٹھا کر دوسری چارپائی پر منتقل کرتے ہوئے کہا۔ماسی کو بھی اپنے دل کی بھڑاس نکالنی تو تھی۔ اس لیئے وہ سارے گندکو نظر انداز کرتے ہوئے شروع ہو گئی۔

                ”ارے اُس سبزی والے بے ایمان مقبول کی بیوی نسیم کی بات کر رہی ہوں ۔دل اُس کا بڑا تھوڑا ہے پر زبان اُس کی بڑی وافر مقدار میں چلتی ہے ۔میںتو کہوں گی زبان نہ ہوئی دودھاری تلوار ہے اُس کی ۔اور اس کے میاں نے اُسے بے مہار چھوڑا ہواہے کہ ہر جگہ سینگ مارتی پھروں۔“ماسی بات کرتے کرتے ہاپنے لگی۔

                ”پتہ بھی تو چلے کیا بات ہوئی ہے ! کس کے ساتھ زبان درازی کی ہے ۔“شگفتہ نے پوچھا۔

                ”ہونا کیا ہے وہ پٹواری کا بیٹا اُس کی فرج میں سالن رکھنے آیا تو اُسے کھری کھری سُنا کر چلتا کیا اور بیچارے نے سبز مرچ کیامانگ لی، تو پتا نہیں اُس بیچارے بچے کو کیا کیا نہ کہہ دیا اُس بے رحم عورت نے ۔اگر تھوڑی سی چیز سے کسی کا بھلا ہو جائے تو اس میں کیا برائی ہے ۔پر نہ جی اُس عورت میں سرے سے انسانیت موجود نہیں۔“ماسی کا سانس بولتے بولتے پھر پھول گیا۔

                ”ہاں ماسی لوگوں نے تو رکھا کھاﺅ طور طریقے سب کچھ بھلا دئیے ہیں۔ کہتے ہیں پڑوسی دُکھ سکھ کا ساتھی ہوتاہے۔پر یہاں تو کوئی مر جائے پوچھنے والا کوئی نہیں ہے ۔اب وہ ہماری ہمسائی عشرت کو ہی دیکھ لو، کبھی جو اُس نے جھانک کر پتا کیا ہو کہ ساتھ والے گھر میں بھی کوئی رہتاہے ۔ماں باپ کیسے نیک تھے۔ جب میں بیاہ کر آئی تھی تو میرا بیٹیو ں کی طرح خیال رکھتے تھے ۔بیٹا بھی بڑا اچھا ہے اُن کا۔وہ ڈائن اپنے بھائی کا گھر بھی کہیں نہیں بننے دیتی۔ چھت پر لیٹ کر منہ پر دوپٹہ ڈال کر رات دن پتہ نہیں کسے فون کرتی رہتی ہے۔ بھائی بیچارہ صبح کا گیا رات کو واپس آتاہے۔ نہ اُسے کھانے کی پرو ا نہ پینے کی ۔وہ بیچارہ خود بھی بازار کے کھانے کھاتا ہے اور یہ بھی ٹھونستی ہے ۔مرحوم ماں باپ کی عزت کو کلنک کا ٹیکہ لگا رہی ہے ۔بیچارے بڑے اچھے تھے محمد دین چاچا اور رفیقہ خالہ۔“

شگفتہ ابھی کچھ اور کہنے ہی والی تھی کہ برآمدے میں پڑی چارپائی کے نیچے سے برتن ٹکرانے کی آواز آئی اور ایک بلی نیچے سے نکلتے ہوئے ماسی منظورہ کے پاﺅں سے ٹکراتی ہوئی دروازے سے باہر کی جانب بھاگ گئی۔

                ”ہائے سیاپا ،یہ منحوس پاﺅں پرسے گزر گئی۔ ارے شگفتہ تو نے گوشت پکایا ہے جو یہ اس کی خوشبو سونگھ کر آگئی۔“ماسی اپنی بھنویں اُچکا کر بولی

                ”نہیں ماسی آج توگوشت نہیں پکایا، پرسوں پکایا تھا۔ بچوں نے شائد کھانا کھا کر جوٹھے برتن چارپائی کے نیچے رکھ دیئے تھے اور مجھے بھی یاد نہیں رہا ۔میں اُن برتنوں کو اُٹھا لوں ۔آخر میں اکیلی جان کیا کیا کروں۔“شگفتہ کی یہ بات سنتے ہی ماسی کا وہاں بیٹھنا محال ہو گیا۔وہ وہاں سے اُٹھ بیٹھی اور شگفتہ کے کچھ بولنے سے پہلے ہی بول پڑی۔

                ”میں اب چلتی ہوں تم ذرا صفائی وغیرہ کر لو،گھر کتنا گندا ہوا پڑا ہے ۔میں پھر آ جاﺅں گی۔“

                ”ارے ماسی صفائی تو ہوتی رہے گی تم ذرا دیر تو بیٹھوں !میں تمھارے لیئے شربت بنا کر لاتی ہوں۔“ماسی منظورہ نے اُس کی بات سُنی ان سُنی کرتے ہوئے باہر نکل گئی ۔شگفتہ یہ سوچتے رہ گئی کہ آخر ماسی کو ہوا کیا ہے۔

ززز

                ”توبہ توبہ اُس منحوس ماری کے گھر جاکے میرا تو کھا یا پیا سب باہر آ رہا ہے ۔پتہ نہیں وہ اُس بوچڑ خانے میں رہ کیسے رہی ہے ۔“ماسی اپنے ہی دھیان میں بڑبڑاتے ہوئے گلی میں سے گزر رہی تھی کہ اُسے اپنے کندھے پر کسی کا ہاتھ محسوس ہوا۔

                ”ہائے اللہ کون ہے ۔!“ماسی ایک دم چونک کر پیچھے مڑ کر دیکھااور کندھے پر ہاتھ رکھنے والی اظہر آڑتی کی بیوی آسیہ تھی اور اُس کے ساتھ کھڑی اُس کی نند طاہر ہ بھی تھی۔

                ”اے ماسی کیوں ایسے منہ لٹکا رکھا ہے ۔جیسے ساری دنیا نے تم سے منہ پھیر لیا ہو۔“بلا کی بدتمیز اور حد سے زیادہ منہ پھٹ طاہر ہ نے اپنی اور ماسی کی عمر کا لحاظ کیئے بغیر پوچھ ڈالا۔کوئی اور وقت ہوتا توماسی اُس کی خوب لتّے لیتی لیکن اس وقت اُس کے دماغ سے شگفتہ کے گھر میں پڑا گند ہی نہیں نکل رہا تھا۔

                ”بتاﺅ نہ ماسی اتنی پریشان کیوں لگ رہی ہو ؟“آسیہ نے پوچھاجو طاہرہ کی بہ نسبت قدرے بامروت اور سمجھ دارتھی اور نہ بھی ہوتی تو دنیاداری کی خاطر ہی سہی تمام لوگوں سے اچھے طریقے سے بات کرلیتی ۔

                ”ابے کیا بتاﺅں اُس بد سلیقہ پھوہڑعورت کے گھر سے ہو کر آ رہی ہوں۔ توبہ کُتا بھی دُم مار کر صفائی کر کے بیٹھتاہے ۔پر اس عورت کو کیڑے بھی پڑ گئے تو وہ سستی سے جمائیاں ہی لیتی رہے گی۔“

                ”اُو ہو، ماسی اب بتا بھی چُکو کس کی بات کر رہی ہو کس کو کیڑے پڑے ہیں۔“طاہرہ سے مزید سسپنس برداشت نہ ہوا تو آخر بول پڑی۔

                ”ارے اُس موٹر مکینک کی بیوی شگفتہ کی بات کر رہی ہوں۔ گھرمیں گوڈے گوڈے گند پڑا ہے اور وہ لگی ہے دوسروں کے سلیقے پچھاڑنے میں ۔مجھے تو یہ حیرت ہو رہی ہے وہ اُ س گندگی میں رہ کیسے رہی ہے ۔تین دن پرانے جوٹھے برتن اُس نے چارپائیوں کے نیچے گھسیڑ رکھے تھی تا کہ بلیاں اُنہیں چاٹ چاٹ کر صاف کر جائے ۔اور ابھی تک اُس نے بستر نہیں اُٹھائے ویسے ہی منحوسیت پھیلا رہے ہیں۔اُسے چاہئے پہلے اپنے گریبان میں تو جھانکے پھر کسی اور کے بارے میں بات کرے، پر وہ ناس پیٹی لگی ہے اُس یتیم بچی کے کردار کے بخیے اُدھیڑنے۔“ماسی کو بولتے بولتے سانس چڑھ گیا اور وہ سانس لینے کے لیئے رکی۔کلائیمکس پر آ کر اس نے بات ادھوری چھوڑ دی تھی دونوں کوفت کا شکار ہو گئیں۔ طاہرہ سے تو برداشت نہ ہوا اور بول پڑی۔

”جلدی جلدی بتاﺅ ماسی کسی کے بخیے اُدھیڑ ے ہیں اس موئی شگفتہ نے ؟“اُس نے پُر جوش ہو کر پوچھا۔

                ”اے بتا رہی ہوں صبر نام کی کوئی چیز ہے تم میں، بلکہ تمہیں تو کسی کے بارے میں ایسے بات بھی نہیں کرنی چاہئے تم خود کنواری لڑکی ہو۔اگر تیرے ماں باپ زندہ ہوتے تو یوں تجھے بات کرنے کے لیئے نہ چھوڑتے ۔“ماسی نے تھوڑی دیر پہلے ہونے والی توہین کا بدلہ لیتے ہوئے کہا۔

                ”ارے ماسی چھوڑوںیہ ابھی بچی ہے ۔“آسیہ نے معاملہ ٹھنڈا کرنا چاہا پر ماسی منظورہ اپنے نام کی ایک تھی اُسے کہاں چین آنے والا تھا جب تک وہ اپنی بات مکمل نہ کر لیتی۔

                ”اب اتنی بھی دودھ پیتی کاکی نہیں ہے۔ چوبیس کی ہو گئی ہے پر عقل نہیں ہے اس میں۔ا گلے گھر جا کر بھی یہ ایسے ہی کن سوئیاں لے گی تو وہاں سے جوتے کھائے گی ۔میں تو چلو تم لوگوں کی محلے دار ہوں اس وجہ سے کچھ نہیں کہا۔اور آسیہ بیگم سسرال جا کر اس نے تمھاری ناک کٹوانی ہے کیونکہ ماںاس کی ہے کوئی نہیں پھر اس کی ساس چوٹی تمھاری ہی آکر پکڑے گی کہ یہ تربیت کی ہے ۔“

یہ سن کر طاہرہ کا چہرہ غصے سے لال ہو گیا اُس نے بولنے کے لیئے منہ کھولا لیکن اپنی بھابھی کی گھوری کی وجہ سے چُپ کر گئی۔

ُُ          ”ارے ماسی اب چھوڑ بھی دو۔“ آسیہ نے لیپا پوتی کرتے ہوئے کہا۔

                ”ہاں ہاں چھوڑ دیا ۔میں نے کب کسی بات کر پکڑا ہوا ہے۔“

                ”اچھا بتاﺅ ماسی کس کے کردار کے بارے میں کیا بات کر رہی تھی شگفتہ۔“آسیہ کی سوئی بھی وہی پر اٹکی ہوئی تھی۔

                ”ارے اُس بیچاری شمائلہ پر فضول کے بہتان باندھ رہی ہے کہتی ہے وہ بیچاری بن ماں باپ کی بچی سارا سارا دن فون پر کسی سے باتیں کرتی ہے اور یہ بھی کہ اپنے بھائی عاشر کا گھر بننے نہیں دے رہی ۔بھلا بتاﺅ اتنے نیک ماں باپ کی بچی ایسا کرتوت کر سکتی ہے ۔“ماسی کی بات سُن کر دونوں کی آنکھیں باہر گرنے والی ہو گئی تھی۔”دیکھا تم لوگوں کو بھی یقین نہیں آ یا نہ؟“

                ”ہاں ماسی بالکل جھوٹ کہتی ہے ۔اچھا ماسی اب ہم چلتی ہیں یوں گلی میںکھڑا ہونا اچھا نہیں لگتا نہ تم کبھی ہمارے گھر آنا۔“آسیہ کا تجسس ختم ہو چکا تھا۔ اب اُ س کا ماسی کے پاس کھڑے ہونے کا بالکل بھی دل نہیں چاہ رہا تھا اس لیئے بہانہ گھڑ دیا حالانکہ پچھلے بیس منٹ پہلے تک اسے کسی کے بھی گزرنے کی پروا نہیں تھی، چاہئے اُسے جو مرضی دیکھ رہا ہو۔وہ دونوں چلی گئی اور ماسی منظورہ بڑبڑاتے ہوئے اپنے گھر کو ہو لی۔

                ”واہ واہ ،بڑی آئی پردے دار بیبیاں جب سارا سارا دن پورا بازار چھانٹتی ہیں تب کہاں جاتی ہے اِن کی پردے داری ۔“

                ”بڈھی چُغل خور خرانٹ کہیںکی ۔دوسروں کے گھروں کی باتیں پھیلاتی پھر رہی ہے عیار کہیں کی۔خود تو بڑی دودھ دھلی ہے یہ مکار بڑھیا ۔اللہ کرے خاک پڑے اُس کے منہ میں جو مجھے باتیں سُنا رہی تھی منحوس کہیں کی۔“

اوریہ ریمارکس دینے والی طاہرہ ہی تھی۔ اور آسیہ کے ریمارکس ماسی منظورہ کے بارے میں اس سے مختلف نہ تھے۔

ززز

                ”آج اتوار کا دن تھا۔ ماسی منظورہ صبح صبح ہی اپنے بیٹے تنویرکے ساتھ اوکاڑے چلی گئی تھی۔ اُسے وہاں اپنے گھٹنوں کے درد کے لیئے کسی حکیم کے پاس جانا تھا ۔سو وہ چلی گئیں ۔اور یہ کسی کو بھی پتہ نہیں تھا کہ ماسی کی واپسی کب تک ہو گی۔دن کے تقریباً گیارہ ،ساڑھے گیارہ کا وقت ہوا ہو گا۔ مرد حضرات سب اپنے کاموں پر گئے ہوئے تھے۔دن اپنی روٹین میں ہی گزر رہا تھا کہ پینوچیختی چلاتی ہوئی نسیم کے گھر پہنچ گئی ۔

                ”تم لوگوں میں انسانیت زندہ ہے یا مر چکی ہے۔ میںکہتی ہوں انسانیت تو دور کی بات ہے، تم لوگوں میں تو خوف خدا بھی باقی نہیں رہا جو یوں سرے عام قتل کرنے پر تُل گئے ہو۔“

                ”کونسا آسمان ٹو ٹ پڑا ہے جو تم یوں تماشہ لگا کر سارے جہان کے تماشائیوں کی دل جوئی کر رہی ہو۔“نسیم نے پینوکی آواز سن کر باہر آنے والی عورتوں اور بچوں کو سُنانے کے لیئے بلند آواز میں کہا۔

                ”ہاں ہاں آسمان ہی ٹوٹاہے مجھ پر۔ میریے ببلو کا سر تیرے بیٹے نے پھوڑ ڈالا تو میں کچھ نہ بولوں؟ ہونٹ سی کر گھر بیٹھ جاﺅں۔ ہر گز نہیں، میرے ببلو کا سر پھٹا ہے کوئی مذاق نہیں ہو ا۔میں بالکل بھی چُپ نہیں بیٹھوں گی۔“

                ”ارے زیادہ اُڑ مت !“نسیم بھی میدان میں اُتر آئی ۔”تیرا بیٹا کون سا دودھ دھلا ہے۔ پہلے اُس نے میرے ٹیپو کے ساتھ زبان درازی کی ہے تو اُسے غصہ آ گیا اور پتھر اُٹھا کر دیوار پر مارنے لگا اپنا غصہ ٹھنڈا کرنے کے لیئے، مگر یہ ببلو بیچ میں آ گیا ۔اب اس میں میرے ٹیپو کا کیا قصور ہے ؟ذرا بتاﺅ مجھے۔“نسیم نے سارا الزام ببلو پر ڈالتے ہوئے اطمینان سے جواب دیا۔

                ”ارے واہ ایک تو چوری اُوپر سے سینہ زوری۔میرے بچے کو مار کر میرے ہی بچے پر الزام لگا رہی ہے یہ مکار عورت ۔کوئی انصاف کرنے والا یہاں پر ہے کہ نہیں۔“

اور انصاف کرنے کے لیئے شگفتہ وہاں پہنچ گئی اور اُس کا فیصلہ پینو کے حق میں ہونا تھا کیونکہ سب سے زیادہ اُس کی محلے میں پینو سے ہی بنتی تھی۔

                ”میں کہتی ہوں میرے بچے نے اِن معزز لوگوں کی شان میں کون سی گستاخی کر دی۔گلی کے لڑکے اس کے میاں کو بے ایمان، چور، سستی اور باسی سبزی لا کر مہنگی بیچنے والا کہہ رہے تھے ۔ببلو نے روک دیا اور اس کے پنجابی فلم کے ولن جیسے بیٹے نے نہ کچھ سوچا نہ سمجھا اور پھوڑ ڈالا میرے لعل کا سر۔“پینو نے بھی اینٹ کا جواب پتھر سے دیا۔

                ”ہاں نسیم تم بجائے اپنے بیٹے کو کچھ کہنے کے اُلٹا، ببلو پر الزام لگا رہی ہو اور سارا محلہ جانتا ہے، بھائی مقبول کے بارے میں سب لوگ ایسی ہی باتیں کرتے ہیں۔“شگفتہ نے بھی ہونے والی لڑائی میں حصہ لینے کی ناکام سی کوشش کی۔اپنے شوہر اور بیٹے کی یوں سارے محلے کے سامنے مٹی پلید ہوتے دیکھ کر نسیم کو پتنگے لگ گئے۔

                ” اے تم اپنی بکواس بند کرو تم سے کس نے کہا ہے کہ ہمارے معاملے میں ٹانگ اڑاو چمچا گیر کہیں کی۔“شگفتہ کی طبعیت صاف کرنے کے بعد نسیم توپ کے دہانے کا رخ پینو کی طرف کرتے ہوئے بولی۔”ائے پینو اب زیادہ منہ ماری مت کر اور سیدھی طرح یہاں سے چلی جا، ورنہ تیرے سارے کچے چھٹے کھول کر رکھ دوں گی۔“نسیم نے اُسے انگلی دیکھاتے ہوئے وارننگ دی

                ”بکواس بند کر اپنی فضول عورت ،اب تجھے کوئی بہانہ نہیں مل رہا تو میرے آئینے جسے صاف کردار پر کیچڑ اُچھالنا شروع کر دیا ہے تو نے ۔“

                ”ہاں ہاں تجھ سے بڑی پارسا تو اس دنیا میں ہے ہی نہیں ۔ارے تو تو اتنی معصوم ہے کہ تجھے جوان اور بچے میں فرق ہی نہیں پتہ ،ورنہ اپنے ہمسائے اُس بڈھے شیخ کو پھنسانے کو کوشش نہ کرتی ۔اور تو خودلوگوں کو پکڑ پکڑ کر بتاتی پھرتی ہے کہ میکے میں تیرا ایک عاشق رہتا ہے جس کو تو اور وہ تجھے دیکھ کر ٹھنڈی آہیں بھرتا ہے ۔بڑی آئی آئینے جیسے کردار والی۔“نسیم نے پینو کی بولتی بند کروانے کے بعد تمسخرا نہ انداز میں اُسے دیکھا۔

                ”اے نسیم منہ سنبھال کر بات کر۔“شگفتہ کو عزیزاز جان سہیلی کے بارے میں یہ ریمارکس برے لگ گئے۔

                ”تو بھی کوئی اتنی نیک پروین نہیںہے جتنی بن رہی بے رحم عورت۔“شگفتہ دھاڑنے والے انداز میں بولی۔”ارے تو تو انسان کہلانے کے لائق بھی نہیںہے کنجوس عورت ،تو تو کسی کو اپنا گناہ بھی نہ دے ۔اتنی کنجوس ہے ۔تیرے جیسی سفاک عورت نہ دیکھی، نہ سُنی۔ تجھ جیسی حقارت کی پتلی کا بہت برا حال ہو گا بے ترسی عورت ۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ میرے بندوں کے ساتھ اچھا سلوک کرو میں تمہارے ساتھ اچھا سلوک کروں گا ۔لیکن تو تو اللہ کے بندوں کے ساتھ وہ کرتی جو نہ کرنے والی ہو۔ ارے تجھ سے بچے نے سبز مرچ کیا مانگ لی تو نے اُس کی سات پشتیں چھانٹ کر رکھ دی تھیں۔دیکھنا مرنے کے بعد جہنم میںجائے گی۔تو پھر وہی پر سبز مرچ بھی کھانا اور دوزخ میں سڑنا۔ محتاجوں کا مذاق اُڑانے والی مغرور عورت، ارے نمرود اور فرعون نے بھی اتنا غرور نہیں کیا تھا ،جتنا تو اپنی فرج پر کرتی ہے ۔کہتی ہے لے جاﺅ یہ سالن بیس دن پُرانا اس میں کیڑے پڑے ہوئے ہیں میری فرج گندی ہو جائے گی۔بڑی آئی لوگوں کے کیجے چھٹے کھولنے والی۔“پینو نے داد دینے والے انداز میں شگفتہ کو دیکھا اُسے اپنا سارا غم بھول گیا۔یہ خونخوار الفاظ نسیم کے دماغ میں سانپوں کی طرح لوٹنے لگے ۔آسیہ کے تعلقات نسیم سے اچھے تھے کیونکہ وہ ضرورت پڑنے پر ایک دوسرے کی مدد کر دیتی تھیں۔اسی وجہ سے خاصی گہری دوستی تھی اُن میں ۔اور جب اُس نے دیکھا کہ نسیم کی حالت غیر ہو رہی ہے تو وہ بھی میدانِ جنگ میں بمعہ اپنی منہ پھٹ نند کے کود پڑی اور اُس کی انٹری بڑے جوشیلے انداز میں ہوئی۔

                ”اے شگفتہ تجھے کوئی حق نہیں بنتا یوں کسی کے بارے میں باتیں بناتے ہوئے ۔جا جا کرپہلے اپنا گھر صاف کر پھر کسی کے معاملے میں ٹانگ اڑانا، ابھی تک تیرے بستر بھی چارپائیوں پر ویسے پڑے ہونگے بلکہ تو تو یہ تکلف کرتی بھی نہیں ہو گی بلکہ سارا دن ویسے ہی بستر پڑے رہتے ہونگے اور تو رات کو ویسے ہی اِن میں گھس جاتی ہو گی۔اے تیرے جیسی سمجھ دار عورت تو خود برتن بھی نہیں دھوتی۔ کیا طریقہ نکالا ہے ،برتن چارپائیوں کے نیچے رکھ دو بلیاں کُتے آکر خود ہی صاف کر جائیں گے۔اور ویسے تو بڑے حقوق العباد نسیم کو سمجھا رہی ہے پہلے خود تو اس پر عمل کر پھر کسی اور کو بتانا۔بیچاری بن ماں باپ کی بچی پر تو نے بہتان باندھا ہے کہ وہ سارا سارا دن فون پر گپے لڑاتی ہے ،تیار شیار ہو کر کسی سے ملنے جاتی ہے ۔میں کہتی ہوں پہلے اپنے گریبان میں جھانکوں پھرکسی اور کے بارے میں بات کرو ۔بڑی آئی تبلیغ کرنے والی اور خوفِ خدا دلانے والی۔“ آسیہ کی اس شاندار کارکردگی پرنسیم نہال ہو گئی اُس کا بس نہیں چل رہا تھا کہ وہ اس کے گلے میں بانہیں جھوم جائے۔

                ”ارے نسیم باجی اس سے بھی برا وقت تم پر آ سکتا ہے بھلا کر کوڑا کرکٹ میں رہنے والے غلیظ لوگ تم کو باتیں سُنائیں۔“طاہرہ نے بھی لقمہ دیا وہ بھلا منہ ماری کیے بغیر کہاں رہ سکتی تھی۔

                ”بد تمیز تمہیں بڑوں سے بات کرنے کی ذرا تمیز نہیں ہے ۔اور ویسے تمہارا کیا کام بنتا ہے شادی شدہ عورتوں کے بیچ یوں منہ اُٹھا کر چلے آنے کا اور آکر منہ ماری کرنے کا۔معصومیت تو تمہارے منہ سے صدیاں گزر گئیں اُٹھ چکی ہے تم میں کنواری لڑکیوں والی کوئی بھی بات موجود نہیں ہے۔اِدھر کی اُدھر لگانا لگائی بجھائی کرنا۔تمہیں تو چاہیے کہ چُپ چاپ ایک نکڑ میں کھڑی رہو ،پر اسے تو بڑا شوق ہے چسکے لینے اور زبان درازی کرنے کا۔بھلا بتاﺅ کنواری لڑکیوں کے یہ لچھن ہوتے ہے۔“پینو نے کنواری لڑکی پر کچھ زیادہ زور دیتے ہوئے کہا جیسے کنواری ہونا دنیا کا سب سے بڑا گناہ ہو۔

                ”میں کہتی ہوں اسے یہ سب زیب دیتا ہے جو یوں ہمارے ساتھ زبان لڑا رہی ہے۔“

                ”اے پینو اب تم حد سے زیادہ بڑھ رہی ہو۔“ آسیہ کی آنکھوں میں خون اُتر آیا جب اُس نے نند کی آنکھوں میں اُمنڈنے والے آنسو دیکھے۔آخر وہ اُس کے بازار کی ،چسکوں کی لگائی بجھائی کی ،لوگوں کے بارے میں جھوٹی سچی باتیں بنانے کی اور لوگوں کو بھڑکانے کی اکلوتی ساتھی تھی۔”میں کہتی ہوں اب آگے ایک لفظ اپنے منہ سے مت نکالنا ورنہ مجھ سے برا کوئی نہ ہو گا۔“آسیہ نے دانت کچکچاتے ہوئے کہاتوپینو تیکھے پن سے بولی۔

                ”واہ اب بڑی آگ لگی ہے تمہیں آوارہ گرد کہیں کی۔تم بھی کسی کو بات کر سکتی ہو ۔ سارا سارا دن تم دونوں بازاروں میں جاتی ہو، پتہ نہیں بازار والے تم لوگوں کے لیئے کون سے آم ٹھنڈے کر کے رکھتے ہیںجو تمہارا دل گھر میں نہیں لگتا۔ارے تم دونوں تو آدھی رات کو بھی بازاروں میں یوں بغیر کسی ڈر کے پھر رہی ہوتی ہو جیسے گھر کے بیڈ روم میں پھرتی ہو۔“

                ”ہاں ہاں تم ہمارے پیسے سے جلتی ہو۔ اس وجہ سے ایسے کہہ رہی ہو نظر باز کہیں کی۔“آسیہ سے مزید تو ہین برداشت نہ ہوئی توجلے دل کے ساتھ بول پڑی۔

                ”میری تو جوتی بھی نہیں جلتی۔ اللہ کا شکر ہے میرا میاں حلال روزی کماتا ہے۔ تمہارے میاں کی طرح نہیں جو غریب کسانوں کا خون نچوڑ کر تمہارے جیسی ڈائن کی پیاس بجھا تاہے۔“پینواُس کی کسی بھی بات کی پروا کیئے بغیر مقابلہ کیے جا رہی تھی۔بات پہ بات نکلتی گئی اورجھگڑا بڑھتا گیا۔یہاں تک کہ بات ہاتھا پائی تک بڑھ گئی۔صدیق جو اپنے بیٹے کی پٹی کروا کے آ رہا تھا اور کسی نے مقبول کو بلایا جس کی دکان قریب ہی تھی ،دونوں نے اپنی اپنی بیویوں کو جھڑکا اور معاملہ ٹھنڈا کروایا۔اُن کے معرکے ختم ہوئے تو شگفتہ ،پینو کے ساتھ اُ س کے گھر چلی گئی اور آسیہ بمعہ طاہرہ کو نسیم لیکر اپنے گھر آگئی تھی۔

                پینو اور شگفتہ کو یہ سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ اُن کے گھر کی باتیں نسیم اور آسیہ کو کیسے پتہ چلیں اور اُدھر وہ دونوں پریشان تھی کہ پینو اور شگفتہ ہمارے بارے میں یہ سب کیسے جانتی ہیں اور پھر وہ لوگ معاملے کی تہہ تک پہنچ گئے تو اُنہیں ایک ہی نام سوجھا۔ماسی منظورہ!

                ”وہ عورت میرا گھر برباد کر وا دیتی اگر صدیق ببلو کو پیٹی لگانے نہ گیا ہوتا۔ اس خرانٹ سے تو میں نے اپنا دکھ بانٹا تھا۔ مجھے کیا پتا وہ میرا ہی گھر اُجاڑنے پر تُل جائے گی۔“پینو کو تو ہول اُٹھ رہے تھے ۔یہ سوچ کر اگر نسیم کی بکواس صدیق سُن لیتا تو کیا ہوتا۔

                ”سارا دن بولائے بولائے پھرتی ہے وہ عیار بڑھیا، کوئی اُس کو منہ تک نہیں لگاتا اس سارے محلے میں اور میں کیسے اُسے عزت دیتی تھیں۔ چائے یاشربت کے بغیر اُسے جانے نہیں دیتی تھی ۔اس کو کہتے ہیں تھالی میں کھایا اُس میں چھید گیا۔“شگفتہ کو بھی شدید صدمہ پہنچا تھا کیو نکہ سارے محلے کے سامنے اُسے بد سلیقہ اور پھوہڑ کہا گیا تھا۔

اورادھر نسیم اور آسیہ کا نقطہ نظر ماسی منظورہ کے لیئے کچھ یوں تھا۔

                ”لنگڑی بڑھیا ابھی میں نے کل رات ہی سوچا تھا کہ اُسے گھٹنوں کے درد کی مالش دوں گی پر اب وہ میرے سامنے آجا ئے میں اُس کی ٹانگیں نہ توڑ دوں۔“ نسیم کا بس نہیں چل رہا تھا کہ اگر ماسی منظورہ سامنے ہوتی تو اُسے قتل کر ڈالتی۔

                ”میں تو پہلے ہی کہتی تھی اس بڑھیا کو زیادہ منہ مت لگاﺅ لوگوں کے عیبوں سے پردے اُٹھاتی پھرتی ہے۔قبر میں ٹانگیں ہیں اور وہ لگی ہے لگائی بجھائی کرنے۔ خدا کے پاس کیا منہ لے کر جائے گی۔“یہ کہنے والی طاہرہ تھی کیونکہ اُس کے پرخچے پہلے اُس ماسی منظورہ نے اُڑائے تھے اور آج سب کے سامنے پینو نے اُڑا دیئے تھے۔

                ماسی منظورہ کی وجہ سے کتنے لوگوں کے کمزور پہلولوگوں کے سامنے آ گئے تھے ۔کسی کی غربت تو کسی کی عزت کا، کسی کی کم آمدن کا تو کسی کی حرام کمائی کا۔اپنی طرف سے تو ماسی نے اُن لوگوں کے ساتھ ہمدردی کی تھی لیکن وہ ہمدردی کچھ اور ہی رنگ لے آئی۔

ززز

                ”اے کہاں جا رہی ہو تم دونوں!“ماسی نے بازار جاتی طاہرہ اور آسیہ سے پوچھا لیکن دونوں اُسے گھورتے ہوئے بولے بغیر وہاں سے چلی گئی۔”ارے انہیں کیا ہو ا ہے ۔“وہ یہ سوچ رہی تھی کہ کچھ فاصلے پر شگفتہ اپنے دروازے پر کھڑی اُسے نظر آ گئی۔ماسی اپنی بہن کے گھر سے ایک ہفتے بعد ہو کر آئی تھی۔ اُس نے اپنا سامان بیٹے کو تھماتے ہوئے کہا کہ وہ گھر جائے میں ذرا محلے والوں سے مل لوں۔”ارے شگفتہ کیسی وہ تم !“ ماسی نے جھٹ حال احوال پوچھا لیکن شگفتہ ایک دم اندر چلی گئی اور دروازہ بند کر لیا ”کمال ہے یہ پاگل تو نہیں ہو گئیں۔“تھوڑی دور جانے کے بعد وہ نسیم کے گھر چلی گئی جو اپنے میاں کی کوئی چیز ڈھونڈنے کی کوشش کر رہی تھی ۔ماسی کو دیکھتے ہی اُسے غصہ آ گیا وہ اپنے کمرے میں گھس گئی اور یوں غائب ہوئی جیسے گدھے کے سر سے سینگ ۔ماسی نے اُس کا تھوڑی دیر انتظار کیا۔ تب بھی وہ باہر نہ آئی تو ماسی اُس کے گھر سے باہر نکل آئی۔ماسی اپنے گھر کی طرف جا رہی تھی کہ پینو اپنے دروازے پر سے جھاڑو لگا رہی تھی ۔ماسی کواپنی طرف آتا دیکھ کر جلدی سے اُٹھی اور گھر کے اندر جا کر دوازہ بند کر دیا۔ماسی حیران پریشان کہ سب لوگوں کو ہو کیا گیا ہے۔ ایسے سب کیوں کر رہی ہیں ۔لگتا ہے مجھ سے ناراض ہیں کہ میں اپنی بہن کے گھر میں ایک ہفتہ کیوں ٹھہری ۔اب میری بہن کا مجھ پر اتنا بھی حق نہیں کہ میں اُس کے پاس چند دن رہ سکوں۔خود ہی اِن کی ناراضگی دو دن میں ختم ہو جائے گی اور یہ بھاگی آئیں گی اپنے دکھ سکھ مجھ سے بانٹنے۔آخر پیاسا کنویں کے پاس آتا ہے نہ کہ کنواں پیاسے کے پاس جاتاہے۔ماسی منظورہ خود کوتسلی دیتی ہوئی اپنے گھر کی طرف ہو لی۔

ززز

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

منا لینا عشناء ۔۔۔کوثر سردار ۔۔۔پہلا حصہ

منا لینا عشناء کوثر سردار پہلا حصہ ”مجھے نہیں معلوم تھا اگر محبت دل میں …

ایک تبصرہ

  1. Avatar

    بہترین لکھاری ہیں ۔عروسہ میرے ایمیل پر مجھ سے رابطہ کیجیے ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے