سر ورق / افسانہ / مظلوم معاشرہ  : فضہ ملک 

مظلوم معاشرہ  : فضہ ملک 

عنوان : مظلوم معاشرہ
از قلم : فضہ ملک

معاشرہ : تمہارا وزن زیادہ نہیں؟
لڑکی : ہاں، لیکن میں خوش ہوں۔
معاشرہ : کیا تمہارے بال تمہاری کمر سے نیچے جاتے ہیں؟
لڑکی : نہیں، لیکن میرے بال خوبصورت ہیں۔
معاشرہ : یہ کیا تم چشمہ بھی لگاتی ہو؟
لڑکی : ہاں، کیونکہ یہ ضرورت ہے۔
معاشرہ : جاب کرتی ہو؟
لڑکی: نہیں۔
معاشرہ : تو پھر اتنی تعلیم حاصل کرنے کا فائدہ؟
لڑکی : وہ دراصل ۔۔۔
معاشرہ : عمر کتنی ہے؟
معاشرہ : شادی کیوں نہیں کی اب تک؟
معاشرہ : تم کتنی بے وقوف ہو!
معاشرہ : تم جانتی ہو تم ذرا بھی خوبصورت نہیں ہو!
معاشرہ : تمہیں احساس ہے تمہیں کوئی پسند نہیں کرتا!
معاشرہ : وقت نکال کر مر کیوں نہیں جاتی؟
معاشرہ : کہاں گئی؟
معاشرہ : جواب کیوں نہیں دیتی ؟
معاشرہ : کہیں خودکشی تو نہیں کرلی؟
*__*__*__*

معاشرہ : اوہ میرے خدایا…!!!
وہ بہت اچھی تھی۔ بہت خوبصورت تھی۔ اس کی کمی کبھی پوری نہ ہوسکے گی۔ یہ دنیا بڑی عجیب ہے انسان سے اس کے جینے کا حق چھین لیتی ہے۔  مرحومہ کے درجات بلند ہوں!
مگر اس نے خودکشی کیوں کی۔۔۔؟؟؟
*__*__*__*

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

مکافاتِ قرض …فاطمہ عبدالخالق

مکافاتِ قرض   فاطمہ عبدالخالق  اک اضطراب ہے جو مجھے بے چین کئے رکھتا ہے …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے