سر ورق / کالم / چلبلا کالم۔۔۔ محمد قاسم سرویا،

چلبلا کالم۔۔۔ محمد قاسم سرویا،

چلبلا کالم۔۔۔ محمد قاسم سرویا، شیخوپورہ

چاچا چار پرونٹھے۔۔۔

آپ نے اکثر دیکھا اور سنا ہوگا کہ دیہات، قصبات اور مضافات میں، بلکہ شہروں کے گلی محلہ جات میں بھی کچھ کردار اپنی کسی بات، حرکات یا غیر شعوری عادات کے باعث بہت مشہور ہو جاتے ہیں۔۔۔ جی ہاں! غصہ کرنے کی وجہ سے، مذاق کی وجہ سے، چھیڑخانی کی وجہ سے یا ویسے ای مزا لینے اور دینے کے لیے۔۔۔ اور آس پاس کے بچوں، لڑکوں بالوں، مردوں یا عورتوں کے لیے یہ ایک مذاقیہ قسم کی ایکٹیویٹی بن جاتی ہے۔ جو ان کو چھیڑ کر خوب مزا بھی لیتے ہیں اور دندیاں بھی کڈھتے پھرتے ہیں۔

آیئے انھی کچھ کرداروں کا باری باری تذکرہ کرتے اور پڑھتے ہیں۔

1۔ چاچا چار پرونٹھے:

چاچا چراغ دین تگڑے جُثے کا مالک ایک اُچا لمّا اور جفاکش کسان تھا۔ چونکہ اس کا کام بھی زیادہ محنت اور زور  والا ہوتا تھا اس لیے اس نے گھر والوں کو پکا کر رکھا تھا کہ مجھے ناشتے میں چاٹی کی لسی اور چار پراٹھے ضرور دیا کریں تاکہ مجھے دوپہر کو جلدی بھوک نہ لگے اور میں شام کو ہی گھر آ کر کھانا کھاؤں۔ چار پراٹھوں کا صرف اس کے گھر والوں کو ای پتا تھا کیونکہ شریکے برادری اور الّے محلے میں ایسی بات کا بڑا ہاسا مخول بن جاتا ہے۔ جب تک یہ بات گھر میں ہی تھی، خیر ہی خیر تھی۔

پھر ایک دن ماسی لبھاں لسی لینے چاچے کے گھر آئی تو چاچے چراغ دین کو چھابی میں رکھ کر چار پراٹھے کھاتا دیکھ کر اس نے دانتوں تلے انگلیاں دبا لیں۔۔۔ اور جب اس سے بالکل برداشت نہ ہوا تو اس نے پوچھ ہی لیا۔۔۔

ہیں۔۔۔! چاچا تم کٹھے چار پرونٹھے ای کھا جاتے ہو؟َ

چاچا ذرا گرم طبیعت کا بندہ تھا، تُنک کر اور تنگ آ کر بولا۔۔۔ ہاں بی بی۔۔۔! تمھیں کوئی تکلیف ہے؟ اپنے گھر سے کھاتا ہوں تمھارے گھر سے تو نہیں کھاتا۔۔۔

چاچا! تم تے میرے گلے ہی پڑ گئے ہو، میں نے تو ویسے ہی پوچھا تھا ماسی نے وضاحت کی۔

جاؤ اپنا کام کرو جاکے، سویرے تڑکے مخبری کرنے آگئی ہو چاچے نے اور بھی غصے سے کہا۔

لسی لینے والی ماسی کا چونکہ کافی گھروں میں آنا جانا تھا، اس نے اپنی اس بے عزتی کا بدلہ لینے کے لیے ہر گھر میں مشہور کر دیا کہ چاچا چراغ دین چار پرونٹھے کھاتا ہے۔ پھیلتے پھیلتے یہ بات پورے گاؤں میں مشہور ہو گئی۔۔۔ حتیٰ کہ چھوٹے بچے بھی گلی میں جب چاچے کو دیکھتے تو "چاچا چار پرونٹھے” کہہ کر بھاگ جاتے۔ چاچا ان کو پکڑ تو نہیں سکتا تھا بس دور سے ہی موٹی موٹی گالیاں دینا شروع کر دیتا۔ کبھی کبھار ایک دو لڑکے قابو آ بھی جاتے اور خوب پھینٹی لگتی، لیکن یہ سلسلہ کہاں رکنے والا تھا۔

ایک دن تو اخیر ای ہو گئی۔۔۔ ایک لڑکے نے چاچے کے سامنے اپنے کھبے ہاتھ کی چار انگلیاں لہرائیں اور بھاگ گیا۔ اب کوئی بھی منہ سے چار پرونٹھے نہیں بولتا تھا، بس ہاتھ کی چار انگلیاں چاچے کی طرف کر کے اشارہ کر دیتا تھا تو چاچے کو بہت "وٹ” لگتا تھا۔ کیونکہ پورے گاؤں میں "چار پرونٹھے” اب چاچے کی چھیڑ بن گئی تھی ، اس لیے اب چاچے نے ہاتھ میں بڑی سی ڈانگ پکڑنی شروع کر دی تھی۔ جیسے ہی کوئی اس کی طرف شرارتی انداز سے دیکھتا یا چار انگلیوں کا اشارہ کرتا، تو چاچا دور سے ہی اپنے سوٹے کی زور سے وگاٹی مارتا جو اکثر ٹھیک نشانے پر جا لگتی اور کبھی "پوپڑی” اور کبھی "گِٹے” سیک کے رکھ دیتی۔

لیکن لڑکے بالوں کو اتنی سی ٹھکائی کی کیا پرواہ ہوتی ہے۔۔۔ گھر جا کر خود ہی آگ پر کوئی کپڑا گرم کرتے اور متاثرہ جگہ پر ٹکور یا "سیک” دے لیتے۔ گھر میں امی ابا اگر پوچھتے تو کہہ دیتے۔۔۔ کھیلتے ہوئے سٹ لگ گئی تھی لیکن اگلے دن سارے راز افشاء ہوجاتے پر وہ اپنی حرکتوں سے باز نہیں آتے تھے۔

ایک دن چاچا مسجد میں نماز پڑھ رہا تھا تو دو شرارتی منڈے مولبی سے نظریں بچا کر چاچے کے پاس جھوٹ موٹ کی نماز پڑھنے لگے۔۔۔ جیسے ہی چاچا رکوع میں جاتا ایک لڑکا دائیں طرف سے اور دوسرا بائیں طرف سے چار انگلیاں پھیلا کر اس کے سامنے کر دیتا۔ اب چاچا نماز کے دوران تو کچھ کہہ نہیں سکتا تھا، بس گُھوریاں کڈھ سکتا تھا یا غصے سے منہ پر ہاتھ پھیر سکتا تھا، جیسے کہہ رہا ہو۔۔۔ "کاکا بّلی! مجھے ذرا نماز پڑھ لینے دو، پھر میں تمھیں چنگی طراں سواد چکھاؤں گا۔

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

نوخیزیاں/ پاکستانیوں کے مغالطے …گل نوخیزاختر

نوخیزیاں/گل نوخیزاختر پاکستانیوں کے مغالطے ایک دور تھا جب مجھے اپنا آپ سو فیصد ٹھیک …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے