سر ورق / کہانی / داجیو…شیکھر جوشی/عامرصدیقی

داجیو…شیکھر جوشی/عامرصدیقی

داجیو

 شیکھر جوشی/عامرصدیقی

ہندی کہانی

………………..

شیکھر جوشی۔پیدائش : ستمبر ، ۲۳۹۱ ئ،جائے پیدائش اولیا گاو ¿ں، ضلع الموڑا، اتراکھنڈ، بھارت۔کچھ اہم کام:کوسوں کا گھروار، ساتھ کے لوگ، ہلوایا، نورنگی بیمار ہے، میرا پہاڑ (کہانی مجموعہ) وغیرہ۔اعزازات:۵۵۹۱ ءمیں ”دھرم یوگ“ کہانی مقابلے میں پہلا انعام۔ اترپردیش ہندی،انسٹی ٹیوٹ کا مہاویر پرساد دویدی ایوارڈ (۷۸۹۱ئ)،ساہتیہ بھوشن (۵۹۹۱ئ)، پہل سمان (۷۹۹۱ ئ) قومی مےتھلی شرن گپت سمان سمیت کئی دیگر ایوارڈ اور اعزازات ۔

………………..

چوراہے سے نکل کر بائیں جانب جو بڑے سائن بورڈ والا چھوٹا کیفے ہے، وہیں جگدیش بابو نے اسے پہلی بار دیکھا تھا۔ گوراچٹا رنگ، نیلی شفاف آنکھیں، سنہرے بال اور چال میں ایک منفرد مستی،پر ڈھیلاپن نہیں۔کنول کے پتّے پر پھسلتی ہوئی پانی کی بوند کی سی پھرتی۔ آنکھوں کی چنچلتا دیکھ کر اس کی عمر کا اندازہ صرف نو دس سال ہی لگایا جا سکتا تھا اور شاید یہی عمر اسکی رہی ہوگی۔

اد ھ جلی سگریٹ کا ایک لمبا کش کھینچتے ہوئے ،جب جگدیش بابو کیفے میں داخل ہوئے تو وہ ایک میز پر سے پلیٹیں اٹھا رہا تھا اور جب وہ پاس ہی کونے کی میز پر بیٹھے تو وہ سامنے تھا۔ مانو، گھنٹوں سے انکا، اس جگہ پر آنے والے شخص کا، انتظار کر رہا ہو۔ وہ کچھ بولا نہیں۔ ہاں ،اچھی کارکردگی دکھانے کےلئے تھوڑا سا جھکا اور مسکرایا بھر تھا، پر اسکی اسی خاموشی میں جیسے سارا ”مینو“ پوشیدہ تھا۔ ”سنگل چائے“ کا آرڈر حاصل کرنے پر وہ ایک بار پھر مسکرایا اور چل دیا اورآنکھ جھپکتے ہی چائے حاضر تھی۔

انسانوںکے جذبات بڑے عجیب ہوتے ہیں۔ تنہا، سنسان جگہ میں بے تعلق ہونے پر بھی کبھی کبھی آدمی اکیلے ہونے کا احساس نہیں کرتا۔ لگتا ہے، اس اکیلے پن میں بھی سب کچھ کتنا قریب ہے، کتنا اپنا ہے۔ لیکن اس کے برعکس بعض اوقات سینکڑوں لوگوں کے بیچ، پرہجوم ماحول میں رہ کر بھی سونے پن کی احساس ہوتا ہے، جو کچھ ہے وہ پرایا ہے، کتنا بے پایاں۔ پر یہ بے سبب ہی نہیں ہوتا۔ اس اکیلے پن کی معرفت، اس تنہائی کی جڑیں ہوتی ہیں،آزردگی اور یاسیت بھری کسی کہانی کے مرکز میں۔ جگدیش بابو دور دیش میں آئے ہیں، اکیلے ہیں۔ چوراہے کی چہل پہل، کیفے کے شوروغل میں انہیں لگتاہے کہ سب کچھ بے پایاں ہے۔ شاید کچھ دنوں رہ کر، عادی ہوجانے پر انہیں اس ماحول میں اپنائیت کا احساس ہونے لگے۔ پر آج تو لگتا ہے یہ اپنا نہیں،اپنے پن کی سر حد سے دور، کتنا پرے ہے۔ اور پھر انہیں غیر ارادی طور پر یاد آنے لگتے ہیں اپنے گاو ¿ں پڑوس کے لوگ، اسکول کالج کے چھوکرے،اپنے قریبی شہر کے کیفے،ہوٹل۔

”چائے شاب۔“

جگدیش بابو نے ایش ٹرے میں سگریٹ جھاڑی۔ انہیں لگا، ان لفظوںکی روح میں وہی کچھ خالی پن ہے، جس کا انہیں احساس ہو رہا ہے۔ اور انہوں نے اپنی تشویش کا حل نکالا۔

”کیا نام ہے تمہارا؟“

”مدن۔“

”اچھا، مدن۔ تم کہاں کے رہنے والے ہو؟“

”پہاڑ کا ہوں، بابوجی۔“

”پہاڑ تو سینکڑوں ہیں ،آبو، دارجلنگ، مسوری، شملہ، الموڑا۔ تمہارا گاو ¿ں کس پہاڑ میں ہے؟“

اس بار شاید اسے پہاڑ اور ضلع کا امتیاز معلوم ہوگیا۔ مسکرا کربولا،”الموڑا، شاب الموڑا۔“

”الموڑا میں کون سا گاو ¿ں ہے؟“ مزید جاننے کی غرض سے جگدیش بابو نے پوچھا۔

اس سوال نے اسے ہچکچاہٹ میں ڈال دیا۔ شاید اپنے گاو ¿ں کے انوکھے نام کی وجہ سے اسے ہچکچاہٹ ہوئی تھی، لہٰذا ٹالتا ہوا سا بولا،”وہ تو دور ہے شاب، الموڑا سے پندرہ بیس میل گے۔“

”پھر بھی، نام تو کچھ ہوگا ہی۔“ جگدیش بابو نے اصرار پوچھا۔

”ڈوٹیالگوں۔“ وہ ہچکچاتا ہوا سا بولا۔

جگدیش بابو کے چہرے پرچڑھی ہوئی اکیلے پن کی سیاہی دور ہو گئی اور جب انہوں نے مسکرا کر مدن کو بتایا کہ وہ بھی اس کے قریبی گاو ¿ں ”۔۔۔“ کے رہنے والے ہیں، تو لگا جیسے مسرت کی وجہ سے اب تب میں مدن کے ہاتھ سے ”ٹرے“ گر پڑے گی۔ اس کے منہ سے الفاظ نکلنا چاہتے ہوئے بھی نہ نکل سکے۔ کھو یاکھویا سا وہ گویا اپنے ماضی کو پھر پلٹ پلٹ کر دیکھنے کی کوشش کر رہا ہو۔

ماضی۔گاو ¿ں ۔۔۔اونچی پہاڑیاں ۔۔۔ ندی۔۔۔اِیجا (ماں) ۔۔۔ بابا(باپ) ۔۔۔ دیدی(بڑی بہن)۔۔۔بھُلی (چھوٹی بہن) ۔۔ داجیو (بڑا بھائی)۔۔۔

مدن کو جگدیش بابو میں کس کی شبیہہ زیادہ دکھائی پڑی۔ اِیجا ؟ نہیں، بابا؟ نہیں، دیدی،۔۔ بھُلی؟ نہیں، داجیو؟ ہاں ، داجیو۔

دو چار ہی دنوں میں مدن اور جگدیش بابو کے درمیان، اجنبیت کی کھائی دور ہو گئی۔ ٹیبل پر بیٹھتے ہی مدن کی آواز سنائی دیتی۔

” داجیو جے ہند۔“

” داجیو، آج تو سردی بہت ہے۔“

” داجیو، کیا یہاں بھی” ہیُون ”(برف) پڑے گا۔“

” داجیو، آپ نے تو کل بہت تھوڑا کھانا کھایا۔“ تبھی کسی جانب سے ”بوائے“کی آواز پڑتی اور مدن اس آواز کی گونج کے پہنچنے سے پہلے ہی وہاں پہنچ جاتا۔ آرڈر لے کر پھر جاتے جاتے جگدیش بابو سے پوچھتا۔” داجیو کوئی چیز؟“

”پانی لاو ¿۔“

”لایا داجیو۔“ دوسری ٹیبل سے مدن کی آواز سنائی دیتی۔ مدن ” داجیو“ لفظ کو اتنی ہی بے صبری اور تندہی سے دہراتا ،جتنی بے صبری سے بہت دنوں کے بعد ملنے پر ماں اپنے بیٹے کو چومتی ہے۔ کچھ دنوں کے بعد جگدیش بابو کا اکیلاپن دور ہو گیا۔ انہیں اب چوراہا، کیفے ہی نہیں سارا شہر شناسائی کے رنگ میں رنگا ہوا سا لگنے لگا۔ لیکن اب انہیں یہ بار بار ” داجیو“ کہلانا اچھا نہیں لگتا اور یہ مدن تھا کہ دوسری ٹیبل سے بھی ” داجیو۔“

”مدن۔ ادھر آو ¿۔“

” داجیو“ لفظ کی بازگشت پر جگدیش بابو کے متوسط طبقے والے خیالات جاگ اٹھے،اپنائیت کی پتلی ڈور” خود پسندی“ کے آگے نہ ٹک سکی۔

” داجیو، چائے لاو ¿ں؟“

”چائے نہیں، لیکن یہ داجیو داجیو کیا چلاتے رہتے ہو دن رات۔ کسی کی ”پرےسٹج “کا خیال بھی نہیں ہے تمہیں؟“ جگدیش بابو کا چہرہ غصے کی وجہ تمتما گیا، الفاظ پر قابو نہیں رہ سکا۔ مدن ”پریسٹج“ کا مطلب سمجھ سکے گا یا نہیں، یہ بھی ان کے دھیان میں نہیں رہا، پر مدن بغیر سمجھائے ہی سب کچھ سمجھ گیا تھا۔ مدن کو جگدیش بابو کے رویے سے گہری چوٹ لگی۔ منیجر سے سر درد کا بہانہ کر وہ گھٹنوں میں سر دیئے کوٹھری میں سسکیاں بھر بھر روتا رہا۔

گھر گاو ¿ں سے دور، ایسی صورت ِحال میں مدن کا جگدیش بابو کےلئے ایک تعلق کا پیدا ہونا فطری امر تھا۔ اسی وجہ آج اپنی مہاجر زندگی میں پہلی بار اسے لگا جیسے کسی نے اسے اِیجا کی گود سے، بابا کی بانہوں سے اور دیدی کے آنچل کے سائے سے زبردستی نکال دیا ہو۔ لیکن جذباتیت مستقل نہیں رہتی۔ رو لینے پر، اندر موجود دکھ کو آنکھوں کی راستے باہر نکال لینے پر انسان جو بھی فیصلہ کرتاہے، وہ جذباتی لمحات کے مقابلے میںزیادہ محتاط ہوتے ہیں۔

مدن دوبارہ کام کرنے لگا۔

دوسرے دن کیفے جاتے ہوئے اچانک ہی جگدیش بابو کی ملاقات بچپن کے کلاس فیلو ہیمنت سے ہو گئی۔ کیفے میں پہنچ کر جگدیش بابو نے اشارے سے مدن کو بلایا، لیکن انہیں لگا جیسے وہ ان سے دور دور رہنے کی کوشش کر رہا ہو۔ دوسری بار بلانے پر ہی مدن آیا۔ آج اس کے چہرے پر وہ مسکراہٹ نہ تھی اور نہ ہی اس نے”کیا لاو ¿ں داجیو۔“ کہا۔ خود جگدیش بابو کو ہی کہنا پڑا،”دو چائے، دو آملےٹ۔“ لیکن تب بھی ”لایا داجیو“ کہنے کے بجائے ”لایا شاب۔“ کہہ کر ہی وہ چل دیا۔ گویا دونوں انجان ہوں۔

”شاید پہاڑیا ہے؟“ ہیمنت نے اندازہ لگا کر پوچھا۔

”ہاں۔“ روکھا سا جواب دے دیا جگدیش بابو نے اور گفتگو کا موضوع تبدیل کر دیا۔

مدن چائے لے آیا تھا۔

”کیا نام ہے تمہارا لڑکے؟“ ہیمنت نے احسان چڑھانے کی غرض سے پوچھا۔ چند پلوں کےلئے ٹےبل پر گھمبیر خاموشی چھا گئی۔ جگدیش بابو کی آنکھیں چائے کی پیالی پر ہی جھکی رہ گئیں۔ مدن کی آنکھوں کے سامنے ماضی کی یادیں گھومنے لگیں ۔۔۔ جگدیش بابو کا ایک دن ایسے ہی نام پوچھنا۔پھر ۔۔۔ داجیو، آپ نے تو کل تھوڑا ہی کھایا ۔۔۔ اور ایک دن ”کسی کی پریسٹج کا خیال نہیں رہتا تمہیں ۔“

جگدیش بابو نے آنکھیں اٹھا کر مدن کی طرف دیکھا، انہیں لگا جیسے ابھی وہ آتش فشاں سا پھوٹ پڑے گا۔ ہیمنت نے اصرار کے لہجے میں دہرایا،”کیا نام ہے تمہارا؟“

 ”بوائے کہتے ہیں شاب مجھے۔“ مختصر سا جواب دیا وہ مڑ گیا۔جذبات میں اس کا چہرہ سرخ ہو کر اوربھی زیادہ خوبصورت ہو گیا تھا۔

٭٭٭

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

ہنساجائے اکیلا۔۔۔مارکنڈییہ /عامر صدیقی

ہنساجائے اکیلا مارکنڈییہ /عامر صدیقی ہندی کہانی ……………….. مارکنڈییہ، پیدائش: ۵ مئی، ۰۳۹۱ ءبرائی گاو …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے