سر ورق / ترجمہ / بے رنگ پیا۔۔۔امجد جاوید۔۔قسط نمبر 10

بے رنگ پیا۔۔۔امجد جاوید۔۔قسط نمبر 10

۔

بے رنگ پیا

امجد جاوید

قسط نمبر 10

شام ہونے کو تھی۔ سورج مغرب میں چھپ جانے کو بے تاب تھا۔ زرد کرنیں پورچ میں پڑ رہی تھیں۔ دادا لان میں بیٹھے کافی دیر سے آیت کا انتظار کر رہے تھے۔انہیں یہ تو پتہ چل گیا تھا کہ وہ دفتر سے نکل آئی ہے۔ مگر ابھی تک وہ پہنچ نہیں پائی تھی۔ اس وقت وہ یہی سوچ رہے تھے کہ فون کر کے پتہ کریں، انہی لمحات میں آیت کی کار پورچ میں آ کر رکی۔ وہ اٹھ کر اس کی جانب چل دئیے ۔ڈرائیور کے دروازہ کھولنے سے پہلے ہی وہ کار سے باہر آ گئی ۔ سارا دن آ فس میں مصروف رہنے کے باوجود وہ فریش لگ رہی تھی ۔ اس کی نگاہ دادا پر پڑی،جو اس کی جانب بڑھتے چلے آ رہے تھے، وہ رُک گئی۔ قریب آ تے ہی اس نے سلام کیا تو دادا نے سلام کا جواب دینے کے بعد پوچھا

” اتنی دیر کر دی آج ؟“

” بس دادو، کچھ کام ایسے تھے، بس کل سے بڑی فرصت ہو گی۔“ اس نے خوش ہوتے ہوئے کہا

” کل ایسا کیاہے ؟“ دادا نے پوچھا تو آیت نے ان کا ہاتھ تھام کر اندر کی جانب بڑھتے ہوئے کہا

” یہ کل ہی بتاﺅں گی ۔پھر آ پ کے ساتھ بہت سارا وقت گذرا کرے گا۔ بلکہ میں خود آ پ کو کھانے بنا بنا کر کھلایا کروں گی ۔ “

 ” یہ تو بڑی بات ہے ۔میری بیٹی مجھے اتنا وقت دے گی ۔“ وہ خوشی سے بولے ۔ لاﺅنج میںآجانے کے بعد دادا جی ایک صوفے پر بیٹھ گئے تو آ یت اندر جانے لی۔ تب انہوںنے کہا،” بیٹا میرے پاس کچھ دیر بیٹھو ، میں تم سے بات کرنا چاہ رہا ہوں۔“

” جی دادو ، کہئے کیا بات ہے ۔“ وہ اسی لمحے صوفے پر بیٹھتے ہوئے بولی تو چند لمحے خاموش رہنے کے بعد بولے

”آیت بیٹا۔! میں جتنا اس بات پر خوش تھا کہ تمہاری شادی طاہر سے ہونے والی ، اب طاہر کی رابعہ سے شادی ہو جانے کے بعد مجھے بہت زیادہ دکھ ہوا ہے ، یوں سمجھو شاک لگا ہے ۔“

”آپ کو ایسا نہیں سوچنا چاہئے دادو ۔“ اس نے نرمی سے کہا

”بہت سارے رشتے آ ئے ، بات ہو ئی ، بات ختم ہو گئی ، وہ سب روٹین میں تھے، لیکن تمہارے طاہر سے تعلق کے بارے میں جان کر ، ان کے والدین کا ہمارے ہاں آ نا ، یہ سب بہت دُکھ دے رہا ہے ۔“ان کے لہجے میں حد درجہ غم چھلک رہا تھا ۔وہ یہ سب سن کر اٹھی اور ان کے پاس چلی گئی ۔ پھر ان کا ہاتھ تھام کر بولی

” دادو ، میرا اور طاہر کا تعلق ، صرف اتنا ہے کہ ہمارے درمیان ایک اچھا تعلق ہے۔ اس کے سوا کچھ نہیں۔ رابعہ سے شادی میری مرضی سے ہوئی ۔ میں نے اسے کہا۔ وہ تو مجھ سے شادی کرنا چاہتا تھا، میں یہ بات اس لئے بتا رہی ہوں کہ آ پ کو غلط فہمی نہ ہو۔ “

” میں جانتا ہوں ، مجھے سب پتہ چل گیا ہے ۔ میں وہ وجہ بھی سمجھ سکتا ہوں ، جس کی وجہ سے تم نے رابعہ کا گھر بسا دیا ۔لیکن بیٹا، اس کے لئے اور بہت اچھے لوگ مل سکتے تھے۔“ دادا نے اپنی بات کہی

”دادو آ پ وہ باتیں نہیں سمجھ سکیں گے ۔خیر آپ پریشان نہ ہوں ۔میں ….“ اس نے کہنا چاہا تو دادا نے انتہائی حسرت سے پوچھا

” بیٹا کیامیرا پریشان ہونا فطری نہیں ہے؟“

” ہے ، مگر جب میں مطمئن ہوں تو ….“ اس نے کہتے ہوئے اپنی بات اُدھوری چھوڑ دی

 ” نہیں بیٹا ، میں انسان ہوں، میں سوچتا ہوں ، میرے بھی جذبات ہیں، احساس ہیں۔“ انہوں نے دکھی انداز میں کہا تو آیت چند لمحے سر جھکائے خاموش رہی پھر ایک دم سے ہنستے ہوئے بولی

” تو پھر آ پ ایسا کریں ، پھر سے ایک نیا رشتہ تلاش کریں۔ مجھے یقین ہے کہ اس بار ہماری بات بن جائے گی ۔“

آیت نے ان کا موڈ ٹھیک کرنے کے لئے ایک کوشش کی تھی جو بارآور ثابت نہ ہو سکی ۔دادا نے اس کی طرف دیکھ کر کہا

” میری ایک بات مانو گی بیٹا؟“

” بالکل ، کیوں نہیں، آ پ کہیں۔“ اس نے جلدی سے کہا

” پہلے وعدہ کرو کہ مانو گی ؟“ انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا

” بالکل ، سو فیصد پکا، بالکل مانوں گی، آپ بولیں ۔“ اس نے یقین دلاتے ہوئے کہا

” ٹھیک ہے ، میں کل بتاﺅں گا ، جب تم مجھے یہ بتاﺅ گی کہ اب تمہیں بالکل فرصت ہے،ٹھیک ؟“ انہوں نے کہتے ہوئے پوچھا تو آیت ان کے ساتھ لگ کر بولی

” بالکل ٹھیک ۔“

” چلو جاﺅ ، فریش ہو جاﺅ ،پھر ڈنر لیتے ہیں۔“ دادا نے کہا تو وہ اٹھ کر اندر کی جانب چل دی ۔دادا اسے جاتے ہوئے دیکھتے رہے پھر گہر ی سوچ میں کھو گئے ۔

اگلی صبح آ یت النساءبڑے مطمئن انداز میں آفس کے لئے پہنچی تھی۔اس کا ذہن ہر طرح کی سوچوں سے آ زاد تھا۔ صرف ایک ہلکی سی الجھن تھی جو گذشتہ شام دادا جی سے باتیں کرتے ہوئے اس میں دماغ میں کہیں پھر رہی تھی ۔ اسے دادا جی کی اس بات سے اتنا تجسس نہیں تھا کہ وہ اپنی کون سی بات منوانا چاہ رہے تھے بلکہ اس پرتھوڑی الجھن تھی کہ وہ اس کی وجہ سے دُکھ محسوس کر رہے ہیں ۔ انہیں ایسا نہیں سوچنا چاہئے تھا۔ وہ جانتی تھی دادا کیا سوچ رہے ہیں۔اس نے ارادہ کر لیا تھا کہ وہ اپنے دادو کو خوش رکھنے کی کوشش کرے گی ۔وہ یہی سوچتی ہوئی اپنے آ فس میں آکر صوفے پر بیٹھ گئی ۔اس نے وال کلاک پر نگاہ ڈالی ۔ ایسے میں آ فس بوائے اس کے سامنے آ گیا۔تبھی آ یت نے اس سے کہا

” اچھی سی چائے بناﺅ ۔“

” جی بہتر ۔“ یہ کہہ کر وہ واپس پلٹ گیا۔

ابھی اسے گئے چند منٹ ہی ہوئے ہوں گے کہ طاہر اس کے آ فس میں آ گیا۔اس کے چہرے پر دھیمی سی مسکراہٹ ، چال میں تمکنت اور انداز میںبردباری تھی۔ اس نے سیاہ شلوار قمیص کے ساتھ براﺅن کوٹ پہنا ہوا تھا۔ وہ علیک سلیک کرتے ہوئے ساتھ پڑے صوفے پر بیٹھ گیا۔ تبھی آیت نے عام سے انداز میںپوچھا

” کل تم اچانک بہاول پور چلے گئے، خیریت تو تھی؟“

”کچھ خاص نہیں،بابا نے بلایا تھا، خیر تم کہو خیریت تھی جو یوں بار بار کال کر رہی تھی؟“اس نے ساری بات کو چھپاتے ہوئے بڑے نارمل انداز میں پوچھا تو آیت نے مسکراتے ہوئے کہا

” ہاں وہ کہتے ہیں نا کوئی کام ادھورا نہیں کرتے ، اس لئے میں نے بلایا تھا کہ وہ کام پورا کرو ۔“

” کون سا ادھورا کام جو پورا کرنا ہے ؟“اس نے بھنوئیں اُچکاتے ہوئے پوچھا

”جب رابعہ اور سرمد کی ذمہ داری تم نے لے لی ہے تو اب اس کا بزنس بھی سنبھالو ،سرمد کا بزنس ، جسے میں اب تک دیکھ رہی ہوں ۔“آیت نے سکون سے کہا

” سرمد کا بزنس ، میں سمجھا نہیں؟“ اس نے کچھ نہ سمجھتے ہوئے پوچھا

”اس میں نہ سمجھنے والی بات کیا ہے ۔یہ بزنس سرمد کا ہے ۔“ آیت نے سمجھانے والے انداز میں کہا ، اس پر طاہر نے ایک طویل سانس لی ، پھر نرم لہجے میں بولا

” وہ ایک چھوٹا سا معصوم بچہ ،اس نے کب بزنس شروع کیا؟ ہاں البتہ اس کے نام سے جو تم نے بزنس شروع کیا ، وہ بزنس تو تمہارا ہی ہے نا۔“

” یہ بات درست ہے کہ یہ بزنس اس کے نام پر میںنے شروع کیا لیکن وہ بزنس میرا نہیں، اسی کا ہے۔جو سرمایہ لگا وہ واپس بھی دے دیا۔“ آیت نے اسے بہت تھوڑے لفظوں میں بات سمجھائی

” تم اپنے اخراجات کہاں سے پورے کرتی ہو ؟“ اس نے حیرت سے پوچھا

”میں دادو کے بزنس میں ایک تنخواہ دار ملازم ہوں ۔وہاں سے مجھے اتنا مل جاتا ہے کہ مزید کی ضرورت نہیں رہتی۔ خیر ۔! میری بات چھوڑو اور سرمد کا بزنس سنبھالو۔ اب یہ تمہاری ذمہ داری ہے ۔“ آیت نے نہایت ملائمت سے کہا تو وہ اس کی طرف دیکھتا رہا ، چند لمحے خاموش رہنے کے بعد بولا

”میرا خیال ہے جیسے تم یہ سب کر رہی ہو ، کرتی رہو ، میرے پاس اتنا کچھ ہے کہ میں انہیںایک شاندار زندگی دے سکتا ہوں ۔میرے پاس اتنا کچھ ہے کہ میں ….“

اس نے کہنا چاہا لیکن آیت نے اس کی بات قطع کرتے ہوئے کہا

”لیکن وہ سب تمہارا نہیں،تمہارے بابا کا ہے ،اگر تمہارا ذاتی ہو ، خود کمایا ہو تو مجھے اعتراض نہیں۔“

” یہ تم کیا کہہ رہی ہو ، وہ سب میرا….“ یہ کہتے ہوئے وہ ایک دم سے ٹھٹک گیا، یوں جیسے کسی طاقتور خیال نے اسے جکڑ لیا ہو ۔ وہ حیرت سے آیت کی طرف یوں دیکھنے لگا جیسے اسے کل والی سب باتوں کے بارے میں علم ہوگیا ہو ۔بلاشبہ یہ طاہر کی انا ہونی چاہئے تھی کہ اگر وہ بابا کی بات نہیںمانتا تو پھر اسے بابا کا ایک پیسہ بھی نہیںکھانا چاہئے ۔وہ ایسی صورت حال میں پھنس گیا جہاں وہ اقرار نہ کرنے کے لئے دلائل دے رہا تھا اورنہ انکار کر سکتا تھا۔وہ ہاں اور ناں کی صلیب پر لٹک گیا۔ اسے آنے والے وقت کا شدت سے احساس ہو گیا تھا۔اسے لگا جیسے آ یت النساءنے یہ سب پہلے ہی سے سوچ رکھا ہو ۔

”کیا سوچنے لگے ہو طاہر؟“ آیت نے پوچھا

”کچھ نہیں۔“ اس نے اپے خیالات سے نکلتے ہوئے کہا

” تو پھر اتنے خاموش کیوں ہو گئے؟تم اگر یہ بزنس نہیں بھی سنبھال سکتے، تب بھی ذمہ داری تمہاری ہی ہے۔“ یہ کہہ کر وہ ایک لمحہ کے لئے رکی اور پھر بولی،” وہ سامنے میز پر سب پڑا ہے ۔ اسے دیکھو، جس کی سمجھ نہ آ ئے مجھ سے پوچھ لو ۔ہیو اے سیٹ پلیز (Have a seat please)“ آیت نے سامنے میز کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا تو چند لمحے سکون سے بیٹھا رہا پھر اٹھ کر میز کے ساتھ دھری کرسی پر جا بیٹھا۔آیت اسے دیکھ کر مسکرا دی ۔ انہی لمحات میں آفس بوائے چائے کی ٹرے لے آ یا ۔اس نے ٹرے میز پر رکھا تو آیت نے اس سے کہا،” پہلے میڈم فرخندہ کو بلاﺅ پھر آ کے چائے بنانا ۔“

” جی بہتر ۔“ اس نے کہا اور تیزی سے واپس سے پلٹ گیا۔طاہر ایک ٹک آیت کی طرف دیکھ رہا تھا ۔ اس پر وہ مسکراتے ہوئے بولی

” یوں ڈرے ہوئے سے میری طرف کیوں دیکھ رہے ہو؟“

” میں ڈرا ہوا تو نہیںہوں۔“ اس نے انتہائی سنجیدگی سے کہا

” مت گھبراﺅ، اسی بلڈنگ میں ۔یہیں ساتھ میرا آ فس ہے ۔ کیوں پریشان….“ اس نے ڈھارس دینے والے انداز میں کہا تو وہ بولا

”خدا کے لئے چپ ہو جاﺅ ۔“

اس پر آیت فقط مسکرا کر رہ گئی ۔ اگلے چند منٹ میں آفس بوائے واپس آکر چائے بنانے لگا ۔تبھی میڈم فرخندہ آ گئی ۔ اس نے غور سے طاہر کی طرف دیکھا ، پھر آ یت کی جانب دیکھ کر بولی

” جی میڈم ۔“

” بیٹھو، ان سے ملو یہ اب آ پ کے نئے باس ہیں۔“

” اچھا ۔“ یہ کہتے ہوئے وہ صوفے پر بیٹھ گئی ۔ آ فس بوائے انہیں چائے سرو کرنے لگا۔

ز….ژ….ز

معمول کے مطابق اس دن بھی سید ذیشان رسول شاہ صاحب صوفے پر نیم دراز تھے۔ ان کے سامنے والے صوفے پر طاہر حیات بیٹھا ہوا تھا۔جس کے ساتھ ہی نوجوان خاموشی سے بیٹھا ہوا تھا۔ان کے درمیان حال احوال والی باتیں چل رہی تھیں ۔ باتوں میں ذراوقفہ آیا تو نوجوان نے پوچھا

” سرکار ،ذات اور فطرت کا تعلق کیا ہے؟“

” رَبّ تعالیٰ کی پیدا کی ہوئی ہر شے فطرت پر ہے ۔ رَبّ تعالیٰ کی تخلیق باطل نہیں ہو سکتی اور نہ ہی وہ غلط پیدا کی گئی ہے ۔“ یہ کہہ کر وہ لمحہ بھر کو رکے ، پھر کہتے چلے گئے،” انسان ، رَبّ تعالی کا شاہکار ہے ۔یہی انسان اس کائنات کا مرکز و محور ہے ۔ انسان مرد ہے یا عورت دونوں اصناف ہی میں اہم ہیں۔ یہی دو اصناف زندگی کا اہم ترین محور ہیں۔ یہی انسان مل کر ایک معاشرہ تشکیل دیتے ہے ۔ رَبّ تعالی نے جہاں اپنی تخلیق فطرت پر پیدا کی ہے تو وہاں اسے افعال سے بھی نوازا ہے۔ جب تک خلق کے اعمال فطرت کے مطابق رہتے ہیں، تب تک وہ رَبّ تعالیٰ کی توحید کے ساتھ جڑا ہو ا ہے۔ لیکن جیسے ہی انحراف کرتا ہے، وہ شرک کا مرتکب ہو جاتا ہے۔دوسرے لفظوں میں جو شے بھی رَبّ تعالیٰ کی مخالفت میں آ ئے گی ، وہ شرک کے زمرے میں چلے جائے گی ۔اس کی وجہ یہ ہے کہ رَبّ تعالیٰ نے کوئی شے باطل پیدا نہیں کی۔کوئی شے فی نفسہ باطل نہیں،ہر شے کو نور سے پیدا کیا گیا ہے ، عمل ایک ایسی شے ہے ، جس سے ظلمت کی طرف بھی جایا سکتا ہے اور نور کی جانب بھی بڑھا جایا جا سکتا ہے۔ یہ افعال ہیں جو حقیقی نہیں ہیں ، ذات کا اظہار حقیقی ہے ۔ذات اور فطرت کا تعلق وہی ہے جو خالق اور مخلوق کا ہے۔“

” انسان اپنی فطرت میں کیا ہے، کیا بنی نوع انسان کی فطرت ایک ہی ہے؟“ نوجوان نے سوال کیا

”فطرت اپنی زبان حال سے بتا رہی ہے کہ بنی نوع انسان ایک ہی فارمیٹ پر ہے ، ایک ہی پیٹرن پر ہے ، جو فطرت سلیمہ پر ہے ۔ذہن ایک ہے ، مثلاً پوری دنیا میں مختلف قومیں ہیں، ملک ہیں،وہ جب قانون بنائیں گے تو کہیں بھی ایسا نہیںہے کہ جھوٹ کو اچھا کہا گیا ہو۔کہیں نہیں کہا جائے گا کہ سچ نہ بولا جائے۔ کہیںبھی جھوٹ کو قانون کا درجہ نہیںدیا گیا۔ پھر جب قانون بنے گا تو وہ ہر ملک کا قانون دوسرے ملک میں تسلیم کیا جائے گا ۔ اگر کہیں کوئی خامی رہ گئی ہے تو اسے درست کر کے انسانی حقوق پر لایا جائے گا ۔یعنی اپنے فارمیٹ یا پیٹرن کے مطابق ایک ہی نکتے پر جمع ہو جائیںگے ۔ مسائل وہاں سے جنم لیتے ہیں جہاں سوچ کو جدا جدا کرنے کی کوشش کی جاتی ہے ۔اور وہاں آ کر انسان مجبور ہو جاتا ہے ۔“ شاہ صاحب نے وضاحت کی

” پھر جو اس قدر خون ریزی ہے ، جنگ و جدل ، یہ سب کیوں ہے ؟“ نوجوان نے ذرا تیکھے انداز میں سوال کیا تو شاہ صاحب نے سنجیدگی سے فرمایا

”دراصل یہ انسان کا ٹکراﺅ نہیں سوچوں کا تصادم ہے ۔ میں آپ کو ایک مثال سے سمجھاتا ہوں ۔ ہم ایشیاءمیں رہ رہے ہیں۔ یہاں ہر طرح کی تقسیم ہے ، ذات پات ، سے لے کر ہر طرح کی عصبیت جو پورے خطے میں پھیلی ہوئی ہے ۔کہیں زبان ، کہیں صوبائیت، قوم پرستی،کہیں مذہب ، اور ہر مذہب میں ذیلی فرقے اور نجانے کیا کیا، اور کیسی کیسی تقسیم موجود ہے۔ نتیجہ کیا؟ وہ میں عرض کرتا ہوں۔“ یہ کہہ کر وہ چند ثانئے کے لئے رُکے اور پھر کہتے چلے گئے۔” دیکھیں، تقریباً کم و بیش پانچ سوسال پرانی تاریخ ہے موہنجو داڑو کی ،وہاں جو وہاںنظام تھا ، کیا ہمارے ہاں وہی نظام نہیں ہے رہنے سہنے کا ؟کتنی ترقی کی ؟ لیکن اس کے مقابلے میں بہت سارے خطے اور ممالک ایسے ہیں جہاں کی دنیا ہی مختلف ہے ؟رہنے سہنے کے نظام سے لے کر ذہنی وسعت تک ۔ ایسا کیوں ہے؟ اس کی وجہ یہ ہے کہ جو سوچ فطرت کے عین مطابق ہو گی، وہی کامیاب ہو گی ۔ جب تک سوچ میں یکسوئی ہے ، تب تک مادی ترقی بھی ہے اور روحانی ترقی بھی ۔اور اگر ان میں تقسیم آ جاتی ہے تو نہ صرف ترقی رک جاتی ہے ، بلکہ تنزلی کا عمل شروع ہو جاتا ہے ۔اگر ہم ان حقائق کو تسلیم نہیںکرتے جن پر کائنات کا نظام قائم ہے ، صاف ظاہر ہے ہمارا ارتقاءبھی رک جائے گا ۔ہماری ظاہری ترقی بھی اور باطنی ترقی بھی رک جائے گی ۔ ایشیاءکا ذہنی ارتقاءکیا ہے ؟ہم پاکستان ہی کی بات کر لیتے ہیں، کیوں لوگ ایسے زندگی گذار رہے ہیں، جیسے وہ آج بھی موہنجو داڑو کے دور میںہو ں؟ پاکستان سے کہیں کم وسائل والے ممالک میں لوگ خوشحال ہی نہیں ذہنی وسعت بھی رکھتے ہیں۔ان کا زیادہ آ ئی کیو ہے، نوبل پرائز وہاں ہیں،وہ ہر معاملے میں آگے جارہے ہیں ،ہمارے ہاں ہی ایسا کیا قحط الرجال ہے کہ کوئی بین الاقومی سطح کا کام ہی نہیںہو رہا ہے ، ہمارے تعلیمی ادارے ایسے نہیں، کیوں؟“

” کیوں ہے ایسا ؟ سرکار آپ فرمائیں ۔“ اس بار طاہر نے دلچسپی سے پوچھا تو وہ بولے

” جہاں سوچوں کا زیادہ ٹکراﺅ ہو گا ۔وہاں مسائل زیادہ بڑھ جائیں گے ۔جہاں سوچوں کا ٹکراﺅ کم ہو گا وہاں ہر طرح کی ترقی ہے ۔پیداواری صلاحیت زیادہ ہے ،عام انسان کہیں زیادہ وسعت پذیر ہے ۔دیکھیں قانون قدرت عشق ہے ۔اگر تو معاشرہ عشق پر کھڑا ہے اور اس نے اپنے آپ کو عشق کے آ گے جھکا دیا ہے وہ کامیاب ہیں،کیونکہ فطرت کے ساتھ جڑنا ہی عشق ہے ۔ جو اپنی سوچ فطرت کے ساتھ جوڑ لیتے ہیں ، وہ کامیاب ہیں۔سوچوں کی تفریق فطرت نہیں۔انسان جہاںاس حقیقت سے ٹکرایا وہیں نزاع پیداہوا ۔اگر انسان حقیقت کے ساتھ چل پڑتا ہے تو اس میں کامیابی ہے ۔“

” تو پھر یہ مسلمانوں کی زبوں حالی سوچ کی وجہ سے ہے ؟“ نوجوان نے پوچھا

” اسلام نے ملت واحدہ کا درس دیا ہے ۔ہم اگر ملت واحدہ بنانے میں زور لگاتے تو صورت حال آج والی نہ ہوتی ۔ ہم اس کے الٹ چل پڑے ہیں۔دیکھ لیں بات کہاں سے کہاںتک جا پہنچی ہے ۔اسلام میں داخل ہونے کی کوئی شرط نہیںہے، ماسوائے رَبّ تعالیٰ کی توحید کا اور نبی آخرالزماں ﷺ کی نبوت کااقرار۔ اگر اسلام میں داخل ہونے کی کوئی شرط رکھی ہوتی کہ اس میں فلاں آ سکتا ہے اور فلاں نہیں آ سکتا تو ہم کہہ سکتے تھے کہ اسلام میں کہیں تفریق ہے ۔ اسلام نے اپنا دروازہ کھولا اور اس میں کسی قسم کی کوئی تفریق نہیںکی ۔ اسلام تفریق کے خلاف ہے ۔ جبکہ ہمارے ہاں بہت سارے مسائل بنے ہوئے ہیں۔ذات پات ، قومیت ، مسلک، صوبائیت ،اور نجانے کیا کیا۔ایسی باتیں بھی ممکن ہیں یہاں، جن کا اسلام سے کہیں دور کا بھی واسطہ نہیں۔، ان پر رشتے تک ٹوٹ جاتے ہیں۔ اسلام کو دیکھنے کا آ ئینہ بے رنگی ہے۔اس میں آ گے بڑھنے کی کوئی شرط نہیں ما سوائے عشق کے ۔ یہی وہ شے ہے جو انسان میں ارتقاءاور ترقی پیدا کرتی ہے ۔ نئی سوچیں، نئے خیال ، نئے علوم پیدا ہوتے ہیں۔ہم موہنجو دارو کے دور میں کیوں پھنسے ہوئے ہیں؟ کس نے ہمیں پھنسا دیا؟یا ہم خود ہی پھنسے ہوئے ہیں۔ ہماری پوری تاریخ میں اولیاءاللہ کا ایسا کام دکھائی دیتا ہے ،جس میں انسانیت کے لئے کوئی نیا پن تھا۔ ورنہ تو انسان جکڑا پڑا ہے اور ہماری قوم اس سے باہر ہی نہیںآ نا چاہتی ۔“ انہوں نے سمجھایا

” یہ تفریق آ کہاں سے گئی ؟“ طاہر نے سوال کیا

”چند لوگوں نے یا مضبوط طبقات نے پورے معاشرے کو تقسیم کر کے رکھ دیا ہے۔ رَب تعالی کا پیغام علیحدہ علیحدہ نہیںہے۔ وہ انسانوں میں تفریق نہیںکرتا۔انبیاءکی تعلیمات کو خود انسان نے ہی بدل کر رکھ دیا،جبکہ وہ تعلیمات ہی انسان کو جوڑنے ہی کی تھیں۔“ انہوں نے عام سے انداز میںکہا

” انسان کو انسان کے ساتھ جوڑنا اتنا ہی ضروری کیوں رہا ؟“ اس نے مزید سوال کیا

”لوہا اور مقناطیس کو لے لیں،لوہے میں اس وقت مقناطیسی خصوصیت پیدا ہو جائے گی ، جب لوہا اور مقناطیس جڑ جائیں گے ۔اس کشش میں ایک راز یہ ہے کہ وہ دوسری شے میں اپنی صلاحیت پیدا کر دیتا ہے ۔ یہی راز محبت والی شے میںہے کہ وہ نفرت کو بدل دیتیہے۔“ شاہ صاحب نے اس کی طرف غور سے دیکھتے ہوئے جواب دیا جیسے یہ بات وہ اسے سمجھا دینا چاہتے ہو ۔

” مقناطیس اور پیتل ، سونا ، یہ تو ایسا نہیں ہوگا ؟“ اس نے دھیمے لہجے میں مزید سوال کیا

” ہر دھات کا اپنا مقناطیسی نظام ہے ۔ان کی اپنی پروڈکشن کا ایک سسٹم ہے ۔جو ایک کشش کے ہی تابع ہے ۔اگر یہ کشش کا نظام نہ ہو تاتومٹی سب کھا جاتی ۔ ہم دیکھتے ہیں ان کی پر ڈکشن مسلسل ہو رہی ہے ۔زمین میں بنتے رہنے کی کوئی وجہ تو ہے ۔وہ کون سی وجہ ہے کوئلے کو ہیرا بنا دیتی ہے ۔ یا کوئلے سے ہیرے تک کا سفر کیسے ہو رہا ہے ۔ جیسے پارس کسی بھی چیز کو چھو جاتا ہے تو وہ سونا بن جاتا ہے ۔ بنیادی طور پر یہ بھی ایک نظام کے تحت ہے ۔جو اس کشش میں آ گیا اس میں کچھ پیدا ہو جائےگا ،عربوں میں ایسا کیانسخہ کیمیا آ گیا تھا کہ وہ سب بدل گئے، یہ سب پارسائی کی وجہ سے تھا ۔ پارسائی جب اپنی مکمل صورت پر پہنچتی ہے تو پارس بن جاتی ہے ، جو ہر شے کو سونا بنا دیتی ہے، اسی کو عشق کہتے ہیں ۔“ انہوں نے مسکراتے ہوئے جواب دیا۔

”عشق کا فارمیٹ کیا ہے؟“ طاہر نے دھیمی مسکان کے ساتھ پوچھا

”عشق ایک لامحدود قوت ہے ۔اس کو جس فارم یا فارمیٹ میں لے جائیں گے اس نے اپنی حیثیت بر قرار رکھنا ہے ۔ کیونکہ اس نے کائنات کو چلانا ہے ۔جب مقنا طیس لوہے کو پکڑتاہے نا تو پھر اس میں دوئی نہیںہوتی ۔ یعنی دونوں ہی ایک دوسرے کو اپنا آ پ دے دیتے ہیں۔تبھی ایک دوسرے کی خصوصیات منتقل ہو تی ہیں۔“ شاہ صاحب نے فرمایا

”عشق کا ہدف کیا ہوتا ہے ؟“ نوجوان نے انتہائی سنجیدگی سے پوچھا تو انہوں نے کہا

” عشق کا ہدف اعمال ہیں۔ فرق پیدا کرنے سے انسان میں کیا تبدیلی آ تی ہے اور فرق مٹانے سے کیا ہوتا ہے ، یہ سب پلس مائنس ہے ۔ روحانی اعتبار سے بھی اور مادی لحاظ سے بھی۔ عشق کے سامنے جو شے بھی آ ئے گی وہ جھوٹ ہو جائے گی ، شرک بن جائے گی ۔عشق اپنے آ پ میں ایک ذات ہے ۔ اس کے سامنے جتنی بھی صفات آ جائیں وہ سجدے میں گر جائیں گی۔ کیونکہ عشق کے سامنے صرف عشق ہی قائم رہ سکتا ہے ۔ کہنے والے کہہ گئے ہیں کہ عشق کی سمجھ عشق ہی عطا کر تا ہے ۔اب ترقی مقام در مقام ہے ۔ اعمال سے صفات میں وسعت پیدا ہوتی ہے اور انسان ترقی کرتا ہے ۔“

اس سوال کے ساتھ ہی ان میں خاموشی چھا گئی ۔ شاہ صاحب نے کلاک کی طرف دیکھا۔اس پر نوجوان سمجھ گیا کہ آج کی ملاقات کا وقت ختم ہو گیا ۔ طاہر نے بھی جان لیا ۔ وہ دونوں اٹھے ، انہوں نے شاہ صاحب سے مصافحہ کیااور باہر کی طرف چل دئیے۔

ز….ژ….ز

دن کا دوسرا پہر ابھی ختم نہیںہوا تھا جب آیت النساءکی گاڑی گھر کے پورچ میں آ رُکی۔یہ وقت دادا جی کے آرام کا تھا۔ وہ لاﺅنج میں آئی تو گھر کی ملازمہ فوراً آ گئی۔آیت نے اسے دیکھتے ہی پوچھا

” دادواپنے کمرے میں ہیں؟“

” جی ، آرام کر رہے ہیں۔“

” ٹھیک ، تم میرے لئے چائے لے آ ﺅ ۔“ یہ کہتے ہوئے وہ اپنے کمرے میں چلی گئی۔

ڈریسنگ ٹیبل پر اپنا پرس رکھ کر وہ ایزی چیئر پر آن بیٹھی ۔ وہ خود کو بہت ہلکا پھلکا محسوس کر رہی تھی۔اسے لگا جیسے صدیوں کا بوجھ اس کے ذہن سے اتر گیا ہو ۔ رابعہ کی سپاٹ زندگی اور سرمد کی زندگی کا سب سے بڑا خلا اس نے پر کر دینے کی کوشش کی تھی۔ اس نے پورے خلوص سے سرمد کے نام پر جو کمایا تھا،وہ سب اس نے طاہر کو دے دیا تھا۔وہ ذمہ داری جو اس نے خود ہی اپنے ذمہ لے لی تھی ، وہ پوری کر دی تھی۔اب اس کا یہ مطلب نہیںتھا کہ وہ ان سے غافل ہو جاتی۔ایک دریا پار کرنے کے بعد ایک نیا دریا اس کے سامنے آ گیا تھا۔ اب اس کی ذمہ داری کہیں زیادہ بڑھ گئی تھی ۔ اسے طاہر سے امید تو نہیں تھی کہ کچھ غلط کرے گا لیکن آخر وہ انسان تھا، کسی بھی وقت کچھ بھی سوچ سکتا تھا۔ وہ جانتی تھی کہ طاہر کس طرح کے مرحلے سے گذر رہا تھا۔وہ اپنے بارے میں جانتی تھی کہ وہی بزنس دیکھنا، وہی صبح و شام اور اپنے من میں ڈوبے رہنا۔وہ یہ بات بھی اچھی طرح جانتی تھی کہ دادو کو ایک شاک لگا ہے لیکن انہوں نے اپنی محبت میں اسے ایک لفظ تک نہیںکہاتھا۔ اب اسے دادو کا کہیں زیادہ خیال رکھنا تھا۔اس کے ذہن میں تھا کہ دادو اس سے کوئی بات کرنا چاہتے تھے لیکن کسی وجہ سے نہیںکر پائے تھے ۔ اسے پورا یقین تھا کہ سوائے اس کی شادی کے ان کے پاس کوئی موضوع نہیںتھا۔جو بھی ہوگا وہ ان کی بات تسلیم کرے گی۔ انہوں نے اپنے شاک کا جس طرح اظہار کیا تھا،وہ اس پر غصہ کر سکتے تھے، مگر انہوں نے کچھ بھی نہیں کہا۔ یہ ان کی محبت کا ثبوت تھا۔یہ سوال اپنی موجود تھا کہ باوجود شاک لگنے کے ، دُکھ ہونے کے،انہوں نے آیت کو کچھ نہ کہا۔ اس کی آخروجہ کیاہے؟ان کے ذہن میں کیا ہے؟ جو بھی ہوگا بہرحال سامنے آ جائے گا۔ وہ جو کہیںگے چپ چاپ خاموش سے مان لے گی۔یہی وہ رویہ تھا ، جس سے وہ دادا جی کا مان رکھ سکتی تھی۔

” بی بی جی چائے ۔“

 ملازمہ نے اس کے پاس آ کر کہا تو وہ اپنے خیالات سے نکل آ ئی۔تبھی اس نے سائیڈ ٹیبل کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ۔

”یہاں رکھ دو ۔“

ملازمہ چائے رکھ کر پلٹی تو آ یت نے کہا

” جیسے ہی دادو لان میں جائیں ، مجھے بتانا۔“

” جی بی بی جی ۔“ ملازمہ نے دھیمے سے کہا اور کمرے سے نکلتی چلی گئی ۔

 آیت نے چائے کا کپ اٹھا کر ہلکا سا سپ لیا تو اس کا دھیان پھر سے رابعہ ، سرمد اور طاہر کی طرف چلا گیا۔ اچانک ہی پرانی یادیں پھر سے مہکنے لگیں۔ دل چاہ رہا تھا کہ ان یادوں کے سفرمیںکھو جائے لیکن دماغ نے بگٹٹ گھوڑے کی لگامیں تھام لیں۔ اسے لگا اس سفر میں سوائے تلخیوں کے مزید کچھ بھی نہیںہے۔اس نے ریمورٹ اٹھایا اور ٹیلی وژن آن کردیا۔ وہ چائے پینے کے کافی دیر بعد تک چینل بدلتی رہی۔ دھیرے د ھیرے وہ نارمل ہوتی چلی گئی ۔ وہ اٹھی اور کچن میں چلی گئی۔اس کا من چاہ رہا تھا کہ آ ج وہ کچھ بنائے گی۔وہ کچن میں جا کر ایسی کھوئی کہ وقت گذرنے کا احساس تک نہیںہوا ۔

کھانے کی میز پر جب وہ آ ئی تو دادو اس سے پہلے ہی موجود تھے۔وہ ساتھ والی کرسی پر بیٹھتے ہوئے خوشگوار لہجے میں بولی

” دادو، آپ کو پتہ آج میں ایک نہیں دو ڈشیں بنائی ہیں۔“

”تو اس کا مطلب ہے آ ج میں بھی معمول سے کچھ زیادہ ہی کھا لوں گا، کہاں ہیں؟“ وہ بھی خوش کن لہجے میں بولے

” وہ صفیہ لا رہی ہے ۔“ آ یت نے کہا

” گڈ ۔“ وہ سر ہلاتے ہوئے بولے

” دادو ، آ پ نے کل کہا تھا کہ آج آ پ کوئی بات کریں گے ، کیا ہے وہ ؟“

” لیکن پہلے یہ تو بتاﺅ ، اب تمہیں فرصت ہے نا ؟“انہوں نے تصدیق طلب لہجے میں پوچھا

” یہ جو میں نے کھانے بنائے ہیں، اس سے آ پ کو اندازہ نہیں ہوتا۔“ اس نے مصنوعی حیرت اور خوشگوار لہجے میں کہا،پھر لمحہ بھر رک کر بولی،”میں نے سرمد کا سارا بزنس طاہر کے حوالے کر دیا ہے ۔وہ جانے اور اس کا کام ، اب میں ہوں اور آ پ کا بزنس….بس۔“

” میرا سب کچھ تمہارا ہے بیٹا،یہ تو بزنس کمیونٹی میں نام اور ساکھ کا معاملہ ہے ۔خیر،میں نے تم سے جو کہنا ہے وہ کھانے کے بعد ہی کہوںگا ۔“ اس نے مسکراتے ہوئے کہا

” دادو آ پ کہہ دیں۔ کوئی بات نہیں، میں کھانا چھوڑ کر نہیںجاﺅں گی۔“ اس نے ہنستے ہوئے کہا

” اچھا تو پھر سنو۔“ وہ اس کے چہرے پر دیکھ کر بولے

” سنائیں ۔“ اس نے ہمہ تن گوش ہوتے ہوئے کہا

” آج کل جس طرح کا دور چل رہاہے ، اس میں تو لگتا ہے کہ ہر دوسرا بندہ کسی نہ کسی نفسیاتی الجھن کا شکار ہے ۔اچھا بھلا بندہ بھی کس نہ کسی نفسیاتی عارضے کا شکار ہو جاتا ہے ۔“ وہ دھیمے سے لہجے میںیہ کہہ کر ثانئے بھر کو رُکے پھر بولے ،”بیٹا میں یہ نہیں کہتا کہ تم خدا نخواستہ بیمار ہو ، لیکن نجانے مجھے کیوں لگتا ہے کہ تمہیں کچھ وقت کسی سائیکا ٹرسٹ کے ساتھ گذارنا چاہئے ، اور کچھ نہیں تو میری تسلی ہو جائے گی ۔“

بہت نرم لہجے میں انہوں نے ایسی بات کہہ دی تھی ، جس پر آیت یا کوئی بھی نارمل انسان بہت کچھ کہہ سکتا تھا۔وہ دلائل دے سکتی تھی کہ وہ بالکل ٹھیک ہے ۔اسے کسی سائکا ٹرسٹ کی ضرورت نہیں۔ مگر وہ چند لمحے بھی خاموش نہ رہی بلکہ فوراً ہی کاندھے اچکاتے ہوئے لاپرواہی سے بولی

” جیسے آ پ چاہیں دادو ، مجھے کوئی اعتراض نہیں۔“

” مطلب تم سائیکاٹرسٹ کے پاس جانے پر راضی ہو ۔“ دادا جی نے یوں پوچھا جیسے انہیں یقین نہ آ رہا ہو

”آپ اگر کہہ رہے ہیں تو ٹھیک کہہ رہے ہیں۔کب جانا ہوگا؟“ اس نے سکون سے کہہ دیا تو دادا جی چند لمحے خاموش رہے پھر خوش ہوتے ہوئے بولے

”پتہ ہے وہ سائیکاٹرسٹ کون ہے ؟ تم اس سے مل کر ویسے بھی بہت خوش ہو گی۔“

” کون ہے ؟“ آیت نے دادا کا دل رکھنے کے لئے تجسس بھرے اندازسے پوچھا

” شکیل احمد،وہی میرے دوست احمد دین کا پوتا اور اقبال حسن کا بیٹا۔“ دادا نے خوشی سے بتایا

” ہاں ، مگر وہ تو کئی سال پہلے امریکہ چلا گیا تھا۔“ آیت نے سوچتے ہوئے کہا

” کئی کتنے سال ، یہی چھ سات سال پہلے تو پڑھنے گیا تھا۔ اب آ گیا ہے واپس ۔ یہیں رہے گا اب ،ملنے آ یا تھا مجھے۔“ دادا نے خوشگوار لہجے میں کہا تو وہ ہنستے ہوئے بولی

” اچھا، مطلب اب پریکٹس بھی یہیں کرے گا اور لگتا ہے پہلی مریضہ میں ہی ہوں گی۔“

”ایسے نہیںکہتے بیٹا، تم مریض نہیں ہو ، میں تو ….“ دادا نے کہنا چاہا لیکن اتنے میں صفیہ اور اس کا شوہر کھانا لا کر میز پر رکھنے لگے تو انہوں نے کہا،” خیر پہلے ڈنر پھر بعد میں باتیں ہوتی رہیں گی ۔“

” جی بسم اللہ کریں ۔“ آ یت نے کہا اور کھانے کی جانب متوجہ ہو گئی ۔

 شکیل احمد اور آیت النساءایک ہی سکول میں پڑھا کرتے تھے۔ ان کے دوسرے کزن بھی اسی سکول ہی میں پڑھنے جاتے تھے۔ چونکہ ان کے گھر ایک دوسرے کے انتہائی قریب تھے، اس لئے اکثر کھیلتے بھی اکھٹے ہی تھے۔جہاں ان میں لڑائیاں چلتیں ، وہاں ایک دوسرے کے بنا رہ بھی نہیں سکتے تھے۔ایک یہی شکیل تھا جو ان میں تیز طرار ہوا کرتا تھا۔وقت گزرتا گیا ۔کالج لائف میں جہاں ان کے ساتھ بدل گئے ، وہاں انہوں نے گھر بھی بدل لئے ۔ آیت النساءاپنی فیملی کے ساتھ پوش علاقے میں آ کر آ باد ہو گئی ۔پھر گاہے بگاہے ان کی ملاقات تو رہتی لیکن درمیان میں وقت کے فاصلے بھی بڑھتے گئے۔پھر ایک دن پتہ چلا کہ شکیل پڑھنے کے لئے امریکہ جا رہا ہے ۔ وہ ان سے ملنے بھی آ یا تھا لیکن شاید وہ گھر پر نہیںتھی ۔ یوں شکیل سے ملے اسے برسوں بیت چکے تھے۔ اسے یہ گمان بھی نہیںتھا کہ وہ اس کا علاج کرے گا؟ آیت النساءیہ بات اچھی طرح جانتی تھی اسے کوئی نفسیاتی عارضہ نہیںہے لیکن دادا جی کی مرضی تھی، ان کا اطمینان تھا، اس لئے وہ چاہتی تھی دادا اپنے طور پر مطمئن ہو جائیں۔ ایسا وہ فقط اپنے دادا جی کی خوشی کے لئے کرنا چاہتی تھی۔

ز….ژ….ز

آیت النساءبڑے سکون سے ڈرائیونگ کرتے ہوئی آفس سے فارم ہاﺅس کی طرف جا رہی تھی۔ سرمد سے ملنے کے لئے اس کادل شدت سے چاہا تھا۔آخری بار وہ طاہر اور رابعہ کے نکاح والے دن ملی تھی۔ پھر اس کے بعد وہ اپنے ہی معاملات میں پھنس گئی تھی۔اس دن ذرا وقت ملا تو وہ فارم ہاﺅس کی جانب چل دی۔دن کا دوسرا پہر ڈھل گیا تھا جب وہ فارم ہاﺅس پہنچی ۔ پورچ میں کارکھڑی کر کے جب وہ لاﺅنج میں گئی تو وہاں کوئی بھی نہیںتھا۔ جیسے ہی وہ جا کر صوفے پر بیٹھی، وہاں کی ملازمہ آ گئی ۔تبھی اس نے ادھر اُدھر دیکھتے ہوئے عام سے لہجے میں پوچھا

” سرمد کہاں ہے ؟“

” جی وہ تو طاہر صاحب کے ساتھ گئے ہیں۔“ ملازمہ نے جواب دیا

” کہاں؟“ اس نے پوچھا

” وہ شاپنگ کے لئے گئے ہیں، رابعہ بی بی بھی اُن کے ساتھ ہیں۔“ ملازمہ نے بتایا

” اوہ ۔!“ اس کے منہ سے بے ساختہ نکلا ، پھر چند لمحے سوچتے رہنے کے بعد بولی،” واپسی بارے کچھ بتایا تھا رابعہ نے ؟“

” نہیں، بس اتنا کہا کہ وہ ڈنر باہر ہی کر کے آ ئیں گے، آپ فون کر کے …. “

” نہیں، فون نہیں۔ مطلب وہ دیر سے آ ئیں گے ۔ چلو ٹھیک ہے ۔“ یہ کہتے ہوئے وہ اٹھ گئی تو ملازمہ نے تیزی سے کہا

” آ پ بیٹھیں میں آپ کے لئے ….“

” کچھ بھی کھانے پینے کو جی نہیں کر رہا ہے ۔بس میں اب چلتی ہوں ۔“ یہ کہتے ہوئے وہ باہر کی جانب چل دی۔

واپس کار میں بیٹھتے ہوئے اس نے من کو ٹٹول کر دیکھا۔ کہیں بھی دور دور تک نہ کوئی منفی جذبہ تھا اور نہ کوئی مثبت۔بس ایک خوشگواریت سے بھرا پھیلا ہوا احساس تھا ، جس سے اس کی روح سرشار رہتی تھی۔ ایک پھیلے ہوئے وسیع سمندر کی طرح ، جو دیکھنے میں طمانیت دیتا ہے ۔ اس کی تہوں میں جتنے بھی ہنگامے ہوں ، جتنی بھی ہلچل ہو ، سطع سمندر اور آسمان کا ملتا ہوا کنارا ہی ایک الوہی تاثر رکھتا ہے۔ ویسا ہی سب ہو رہا تھا ، جیسا اس نے چاہا تھا۔ وہ سکون سے واپس چل دی ۔اس وقت سورج ڈھلنے کو تھا جب اس نے اپنے گھر کے پورچ کار روکی۔اس نے یونہی عادتاً گردن گھما کر لان کی طرف دیکھا۔ دادو شام کے وقت اکثر وہیں ہوتے تھے۔ اس دن وہ وہاں نہیں تھے ۔ وہ اندر چلی گئی۔

لاﺅنج میں داخل ہوتے ہی اس کی پہلی نگاہ ایک وجیہ اور سمارٹ سے جوان پر پڑی۔بلیک سوٹ ،گرے شرٹ پر گہری نیلے رنگ کی ٹائی، نفاست سے سنوارے ہوئے بال، بھاری مونچھیں، گول سرخ و سفید چمکتا ہوا چہرا،اسے دیکھتے ہی اٹھ کھڑا ہوا، وہ دراز قد تھا۔وہ پورے قد سے کھڑا، بہت پر کشش دکھائی دے رہا تھا ۔اس کے بائیں ہاتھ میں پکڑے ہوئے قیمتی سیل فون کی اسکرین روشن تھی۔وہ ا س کی طرف بڑی پر شوق نگاہوں سے دیکھتے ہوئے مونچھوں تلے مسکرا رہا تھا۔ وہ اسے دیکھتے ہوئے اس کے بالکل قریب جا پہنچی۔تب اس نے انتہائی تجسس اور پر جوش لہجے میں پوچھا

” آ یت النساء….؟“

” ہاں اور تم …. شکیل احمد؟“

” بالکل درست ، مجھے پورا یقین تھا کہ تم مجھے پہچان لو گی ،کیونکہ میں ہی وہ واحد ہستی ہو ں جس نے تمہیں سب سے زیادہ ستایا تھا، تمہیں تو بہت غصہ ہو گا مجھ پر نا۔“ اس نے دھیمے سے ہنستے ہوئے خوشگوار لہجے میں کہا تو آیت اسے بیٹھنے کا اشارہ کرتے ہوئے خود بھی بیٹھ کر بولی

” تمہیں ابھی تک یاد ہے کہ تم مجھے ستایا کرتے تھے، جبکہ میں تو سب بھول بھی گئی ۔“

” بالکل بھی نہیں، جب مجھے نہیں بھولی ہو تو میری شرارتیں کیسے….“ اس نے کہنا چاہا تو وہ بات قطع کرتے ہوئے بولی

” ہاں تب غصہ آ تا تھا لیکن اب بچپن کو یاد کر کے بہت اچھا لگتا ہے ۔“

” بہت اچھا لگا تمہیں پھر دیکھ کر ، میں نے تو سوچا تھا کہ تمہاری شادی ہو گئی ہو گی، بچے ہوں گے اور تمہارے شوہر کے ہوتے ہوئے اتنی بے تکلفی کبھی نہ دکھا سکتا، اب یہ مت کہنا کہ میں ویسے کا ویسا ہو ں۔“ وہ خوشگوار لہجے میں بات کرتا ہوا ایک دم سے اداس ہوگیا۔

” مطلب اب ویسے اچھے نہیں ہو ؟ سادہ سے ، شرارتی، ہمدرد؟“ آیت نے پوچھا

” زندگی بہت کچھ چھین لیتی ہے آ یت ۔“ اس نے اُداس لہجے میں کہا تو وہ بولی

” دوسرے نکتہ نگاہ سے یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ زندگی دیتی بھی بہت کچھ ہے ۔“

” اوہ ۔!تم بچپن کی ایک ساتھی ملی ہو تو ساری یادیں گڈ مڈ ہو گئیں۔ ہاں تم بالکل ٹھیک کہتی ہو۔ “ اس نے قہقہ لگاتے ہوئے کہا

” کب آئے ہو واپس ؟ ملنے ہی نہیں آئے؟“ آیت نے پوچھا

”چند ہفتے ہوئے ہیں واپس آ ئے ،میں دو بار آ یا ہوں لیکن تم ہی نہیں ملی ۔آج سوچا تم سے مل کر ہی جاﺅں گا ۔“ اس نے آیت کے چہرے کی طرف دیکھتے ہوئے کہا

” کیا ارادہ ہے ، کب واپس جا رہے ہو ؟“ اس نے جان بوجھ کر پوچھا

” نہیں اب واپس نہیں جانا، یہیں رہنا ہے ۔ میں نے آ نے سے پہلے ہی یہاں کلینک بنانے کا پلان کر لیا تھا۔اب کلینک بن گیا ہے ۔ اچھا ریسپانس ہے ، لوگ آ رہے ہیں میرے پاس ۔“ اس نے کافی حد تک حوصلہ افزا لہجے میں کہا تو آ یت نے ہنستے ہوئے کہا

” ہاں دادو نے بھی مجھے تمہارے پاس بھیجنا ہے نفسیاتی مریضہ بنا کر ۔“

” وہ تو تم بچپن ہی سے ہو نفسیاتی مریضہ ۔“ اس نے پر مزاح لہجے میں کہا ، پھر ایک دم سے سنجیدہ ہوتے ہوئے بولا،” ویسے دادا جی نے جو مجھے بتایا ، وہ بس پریشان زیادہ ہو گئے ہیں باقی تمہارا معاملہ کوئی اتنا سنجیدہ نہیں۔ہم آ پس میں گپ شپ کر کے اسے طے کر لیں گے۔کیونکہ تم میرے لئے کوئی مریضہ نہیں ، اچھی دوست ہو ۔“

” پھر تو چل چکا تمہارا کام ۔“ اس نے بھی سمجھتے ہوئے مزاحیہ انداز میں کہا

” نہیں سچ میں،مجھے ایک دوست کی زیادہ ضرورت ہے ۔تم جیسا بچپن کا دوست مل جائے تو پھر کیا ہی بات ہے ۔“ اس نے خوش ہوتے ہوئے کہا

” چلیں، یہ بھی ٹھیک ہے ، میں خود کو مریضہ نہیں سمجھتی۔، ورنہ میں تو یہی سوچ کر پریشان ہو رہی تھی کہ مجھے بھی باقاعدہ سیشن میں بیٹھنا ہو گا اور ….“ اس نے کہنا چاہا تو شکیل نے اس کی بات قطع کرتے ہوئے کہا

” نہیں نہیں، ایسا نہیں ہے ، ہم ویسے ہی باتیں کریں گے ۔ پھر جو اصل صورت حال ہو گی وہ دادا جی کو بتا دیںگے ۔“ یہ کہہ کر وہ لمحہ بھر کو خاموش ہوا ، پھر ہنستے ہوئے بولا،” ویسے تمہارے گھر میں مہمانوں کو کھانے پینے کا نہیں پوچھتے؟“

” مہمانوں کو پوچھتے ہیں، گھر والوں کو نہیں۔“ آیت نے مسکراتے ہوئے کہا ، اس سے پہلے کہ کوئی مزید بات چلتی داداجی لاﺅنج میں داخل ہوئے ۔ وہ دونوں کو بیٹھا دیکھ کر بولے

” مطلب آپ لوگ ایک دوسرے کو پہچان گئے ہوںگے ۔“

” جی بالکل ۔“ شکیل نے تیزی سے کہا ۔ اتنے میں ملازمہ تازہ جوس لے کر آ گئی ۔ اسے دیکھ کر آ یت نے ہنستے ہوئے کہا

” دادو ، یہ تو ڈنر کرنے کا پروگرام بنائے بیٹھا ہے ، آپ صرف جوس پر ہی ٹرخا رہے ہیں۔“

 ” ڈنر بھی ہوگا ، لیکن اس میںبس تھوڑا سا وقت ہے ، اسے یوں بھی کہہ لو کہ ڈنر کی شروعات ہیں۔“ دادا نے بھی پرمزاح انداز میں کہا تو وہ اٹھتے ہوئے بولی

” آ پ پئیں ، میں فریش ہو لوں ۔“

” ٹھیک ہے ۔“ دادا نے کہا تو وہ اندر کی جانب چلی گئی ۔

آیت النساءکچھ دیر بعد واپس آ ئی تو شکیل احمد دادا سے باتیں کر رہا تھا۔وہ بھی ان کے پاس آ کر بیٹھ گئی۔ دونوں میں موجودہ حالات بارے باتیں چلتی رہیں، جسے آ یت خاموشی سے سنتی رہی ۔ یہاں تک کہ ملازمہ نے کھانا لگا دینے کی بابت کہا تو وہ سبھی اٹھ گئے۔

ڈنر کے بعد دادا جی تو اپنے کمرے میں چلے گئے جبکہ آیت اور شکیل باہر کاریڈور میں آ گئے ۔بھیگی ہوئی رات ، ہلکی ہلکی ہوا ، خواب ناک سی روشنی اور کھلے ماحول میں وہ دونوں بیٹھے چائے پی رہے تھے۔آیت اسے اپنے بزنس کے بارے میں بتا رہی تھی ۔انہی باتوں کے دوران آیت نے پوچھا

” تمہارے یہاں واپس آ نے کی وجہ کیا ہے؟ کیا تمہارا وہاں کام نہیں چلا ،یا کوئی مسئلہ ہے؟“

”کام تو ٹھیک تھا میرا،ایک پاکستانی دوست کے ساتھ ایک سٹور میں بھی شیئر ہے،کمانے کے معاملے میں کوئی کمی نہیں تھی۔ بس میری بیوی شارلین بے وفا ثابت ہو ئی ، اس نے مجھ سے علیحدگی لے لی۔بیٹا بھی اس کے پاس چلا گیا تو میرا دل نہیں لگا وہاں پر ۔سو یہاں آ گیا۔“ اس نے کافی حد تک خود کو نارمل رکھتے ہوئے کہا

 ” مطلب طلاق ہو گئی ؟“آیت نے افسوس بھرے لہجے میں پوچھا

” یونہی سمجھ لو ۔“ اس نے اس ذکر سے بچنے کے لئے کہا تو وہ بولی

”ٹھیک ہے ، یہ تمہارا معاملہ ہے۔ہم اس پر بات نہیں کرتے ۔“

” نہیں ایسا نہیں،میں دراصل اس تکلیف دہ ذکر سے بچنا چاہتا ہوں ۔ جو چیز ماضی بن گئی ،سو بن گئی۔ اب اس کے ذکر کا کیا۔اب تم پوچھو گی کہ اس علیحدگی کی وجہ ،تو اس کی ہمیں بھی سمجھ نہیںآئی،اس نے کہا کہ اب ہم میں محبت نہیں رہی ، سو ہمیں ایک دوسرے سے الگ ہو جانا چاہئے۔“ اس نے ان لمحات میں خود پر قابو پا کر ہنستے ہوئے کہا تو آیت زیر لب مسکراتے ہوئے بولی

” بہت خوب، مطلب محبت بھی ایسی چیز ہے جو کبھی ہوتی ہے اور کبھی نہیںہوتی ۔“

” ہاں ایسا ہی ہے ، محبت بذات خود کوئی شے نہیں ہے ، جب تک اسے بنانے والے یااسے قائم رکھنے والے عناصر موجودنہ ہوں ۔مطلب جن عناصر پر محبت کھڑی ہے اگر ان میں سے ایک دو نہیں رہتے تو محبت قائم نہیں رہ سکتی ۔“ شکیل نے پوری سنجیدگی سے کہا تو وہ ہنستے ہوئے بولی

” محبت تو پھر کوئی ڈش کے جیسی ہو گئی ، اگر اس میں نمک نہیں ہے تو ساری ڈش ہی بد ذائقہ ہو گئی ۔“

”آیت اصل میں تمہارا مسئلہ بھی یہی ہے ۔ تم محبت کو سمجھتی ہی نہیں ہو ۔کیونکہ محبت کو سمجھنا، محبت کرنے سے بھی بڑا کام ہے ۔محبت کرنے والے محبت کو سمجھ ہی نہیں رہے ہوتے ،حتیٰ کہ محبت پر گفتگو بھی نہیں کر سکتے ، لیکن بس محبت کئے جا رہے ہوتے ہیں، ناسمجھی میں فاصلے بڑھ جاتے ہیں،کم نہیں ہوتے ، الجھنیں پیدا ہوتی ہیں، انتشار پیدا ہوتا ہے جو بڑھتا ہے یہاں تک کہ وہ ایک دوسرے سے جدا ہو جاتے ہیں۔“ اس نے اسے سمجھانے والے انداز میں کہا تو سکون سے بولی

” اس میں میرا مسئلہ کہاں سے آ گیا ؟“

” تمہارا مسئلہ ، محبت کو نہ سمجھنا ہے ، تم وہی روایتی سوچ کو لے کر جو تمہارے معاشرے نے تمہیں دی، اسی کو مضبوطی کے ساتھ پکڑ کر اپنے آ پ کو خود اذیتی میں ڈال کر بیٹھی ہوئی ہو ۔بالکل الٹ ، اس کے بالکل متضاد چل رہی ہو ، جو حقیقی محبت کا تصور ہے ۔“ اس نے سمجھایا

” میں سمجھی نہیں تم کیا کہنا چاہ رہے ہو ۔“

” دیکھو۔! جیسے میںنے کہا کہ چند عناصر ہیں ، جن کے ملنے سے محبت وجود میں آ تی ہے۔ وہ عناصر نہ ہو ں تو محبت کاہے کی ؟ وہ بنتی ہی نہیں۔جیسے پانی ، اگر آکسیجن ہی نہ ہو تو پانی کیسے وجود میں آ ئے گا ۔“ اس نے دھیمے سے لہجے میں بڑے سکون سے سمجھایا

”ہاں ، اتنی بات تو میں سمجھ گئی ہوں محبت کا وجود کچھ عناصر کی وجہ سے ہوتا ہے ، کیا تم اپنے تصور ِمحبت کی وضاحت کر سکتے ہو ۔“ آ یت نے دلچسپی لیتے ہوئے پوچھا

”بالکل ، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ تم ایک ہی نشست میں سمجھ جاﺅ ۔“ اس نے بتایا

” نہیں ہم اس پر بات کرتے رہیں گے ۔“ اس نے سر ہلاتے ہوئے کہا تو شکیل نے ایک لمحہ کو سوچا پھر اس کے چہرے پر دیکھتے ہوئے بولا

” ہر انسان بنیادی طور پر احساسات رکھتا ہے۔اس کا کوئی بھی عمل انہی احساسات کے تحت ہوتا ہے ۔ محبت بھی احساس کا اظہار ہے ۔ اب احساس پیدا ہونے کی کوئی نہ کوئی وجہ ہو تی ہے ۔مطلب کچھ عناصر ایسے ہوتے ہیں جو انسان میں احساس پیدا کرتے ہیں ، جو شدید ہو جاتے ہیں یا کم ہو جاتے ہیں۔سو محبت بھی بنیادی طور پر تین عناصر کی وجہ سے وجود میں آ کر اپنا اظہار کرتی ہے ۔“

” کون سے ہیں وہ تین عناصر ؟“ آ یت نے پوچھا

” پہلا عنصر ہے قربت یا وابستگی ، دوسرا عنصر ہے جوش و جذبہ، اور تیسرا ہے لذت نفس۔ اب یہ تینوں ہوں گے تو محبت کا وجود ہوگا ۔ورنہ صرف نہیں۔ اسے اگر ایک متبادل لفظ میں سمیٹنا ہو تو اسے کمٹمنٹ کہہ سکتے ہیں۔“ یہ کہہ کر وہ اس کی طرف دیکھنے لگاتو آیت نے کہا

” اس کی تھوڑی سی وضاحت کرو گے۔“

” یوں سمجھو۔!محبت کی تمام اقسام ان ہی تین عناصر کو مختلف انداز میں ملا کر ہی بنتی ہیں۔ جس تعلق میں ان میں سے ایک بھی عنصر غیر موجود ہے ،وہ محبت نہیں۔ محبت میں کوئی نہ کوئی ایک عنصر موجود ہونا ضروری ہے ۔پسندیدگی، قرابت داری کا نتیجہ ہے ، اسی لیے قرابت داری دوستی میں بھی ہو سکتی ہے اور محبت میں بھی۔خالی محبت یعنی ایک ہی تعلق پر پکے رہنا، صرف محبت محض پابندی ہے ۔جب قرابت داری اور جوش دونوں شامل ہوں تو رومانوی محبت سامنے آتی ہے۔جبکہ قرابت داری کے ساتھ اگر کمٹمنٹ کو شامل کیا جائے تو گہری دوستی جیسی محبت کی صورت اختیار کر لیتی ہے۔جب جوش اور کمٹمنٹ دونوں شامل ہو جائیں تو اس کو احمقانہ یا بے وقوفانہ محبت کہتے ہیں۔جس تعلق میں یہ تینوں عناصر یکجا ہوں تو اس کو کامل محبت کہتے ہیں۔“ اس نے وضاحت کرتے ہوئے کہا

 ”مطلب ان تین عناصر کے علاوہ محبت ممکن نہیں؟“ آیت نے سرہلاتے ہوئے کہا

” بالکل ، کیونکہ میں نے نہ صرف یہ پڑھا ہے ، بلکہ اس پر تحقیق دیکھی ہے اور یہ ثابت بھی ہے ۔“ اس نے بتایا

” دیکھو شکیل ۔! میں تمہاری کوئی بات نہ رَدّ کرتی ہو اور نہ اس کی حمایت کرتی ہوں۔ میں صرف یہ کہوں گی تم اپنی جگہ بالکل ٹھیک ہو ۔ ہم اس پر پھر کبھی بات کر لیں گے ۔“

” ہاں اب خاصا وقت ہو گیا ہے ۔ مجھے بھی چلنا چاہئے، ہم گپ شپ تو کرتے ہی رہیں گے۔“ وہ خوش دلی سے بولا اور اٹھ گیا۔آیت اس کے ساتھ گیٹ تک آئی اوروہیں سے اسے الوداع کہا۔اسی لین کے آخر پر شکیل کا گھر تھا۔ وہ چند لمحے اسے جاتا ہوا دیکھتی رہی ،پھر پلٹ گئی ۔

اگلی صبح وہ پارک کے جاگنگ ٹریک پر ابھی پہنچی ہی تھی کہ اسے شکیل آتا ہوا دکھائی دیا۔آیت نے اس کا انتظار نہیں کیا بلکہ وہ جاگنگ کے لئے چل دی ۔شاید شکیل نے بھی محسوس کر لیا تھا ، اس لئے وہ اس کے قریب نہیں آ یا ۔جب وہ جاگنگ کر چکی تو ایک بینچ پر جا بیٹھی ۔ اسے بیٹھا دیکھ کر شکیل بھی اس کی طرف آ گیا۔

” صبح بخیر ۔“ اس نے قریب آ تے ہی کہا

” صبح بخیر ۔“ آ یت نے کہا اور تھوڑا سا ایک طرف کھسک گئی تاکہ وہ بھی وہیں بیٹھ جائے ۔ تبھی اس نے بیٹھتے ہوئے پوچھا

” آ ج کیا پر وگرام ہے ؟“

”وہی جو روزانہ ہوتا ہے ، آ فس جاﺅں گی ۔“ یہ کہتے ہوئے اس نے چند لمحے سوچ کر پوچھا،” کوئی خاص بات ؟“

” میرا دل چاہ رہا ہے کہ کسی جھیل کنارے جایا جائے ، میں سوچا اگر تم بھی ساتھ چلنا چاہو ؟“ اس نے آ یت کے چہرے پر دیکھتے ہوئے پوچھا

” چل دیں گے ، لیکن آفس سے آ نے کے بعد ، شام کے وقت ۔“ وہ کندھے اُچکا تے ہوئے بولی

” ٹھیک ہے ، میں انتظار کروں گا ، مجھے کال کر دینا ، میں پک کر لوں گا ۔“

” ڈن ہو گیا۔“ اس نے مسکراتے ہوئے کہا اور اٹھ گئی ۔ اس پر شکیل بھی اٹھ گیاتو وہ دونوں چلتے ہوئے پارک سے نکلتے چلے گئے ۔

باہر شکیل کی کار کھڑی تھی۔ وہ اس طرف بڑھا توآیت پیدل ہی دوسری جانب چل دی ۔ شکیل نے اسے یوں جاتے ہوئے دیکھ کر پوچھا

” کہاں جا رہی ہو ؟ کار لائی ہو؟“

” نہیں میں پیدل ہی آتی جاتی ہوں ۔“ آیت نے جواب دیا۔

” اوہ ۔!چلو آ ج میرے ساتھ واپس چلو ، کل سے میں بھی پیدل ہی آ جایا کروں گا ۔“ شکیل نے کہا تو وہ اس کی کار کی جانب چل پڑی۔

ز….ژ….ز

طاہر کار پورچ میں لے کر آیا تو سرمد بھی اپنا بیگ سنبھالتے ہوئے آگیا۔ اس نے پچھلی سیٹ پر بیگ رکھا اور پھر پسنجر سیٹ والا دروازہ کھول کر ساتھ میں آ بیٹھا۔ انہیں لمحات میں رابعہ اندر سے آ گئی ۔وہ ان دونوں کی طرف دیکھ رہی تھی ۔ طاہر نے رابعہ کی طرف دیکھ کر مسکراتے ہوئے ہاتھ ہلایا تو سرمد نے بھی ایسے ہی کیا۔رابعہ نے بھی مسکراتے ہوئے ہاتھ ہلایا تو طاہر نے کار آ گے بڑھا دی ۔ فارم ہاﺅس کا بیرونی گیٹ پار کرتے ہوئے طاہر نے سرمد کی طرف دیکھ کر کہا

” یار سرمد ، آج تم بڑے اچھے لگ رہے ہو ۔“

” وہ کیسے پاپا؟“ اس نے معصومیت سے پوچھا

”یونیفارم جچ رہی ہے ، بال سنوارے ہوئے ہیں۔“ طاہر نے تیزی سے کہا

” وہ تو روزانہ ہی ایسے ہوتے ہیں۔“ اس نے کہا طاہر کی طرف دیکھ کر بولا،” پاپا۔! جچ تو آپ رہے ہیں آج۔ اصل بات بتائیں کہنا کیا چاہ رہے ہیں؟“ اس نے مسکراتے ہوئے پوچھا تو طاہر ہنستے ہوئے بولا

” سرمد ، میرے ساتھ رہ کر تم کچھ زیادہ ہی چالاک نہیںہو گئے۔“

” اب بات گول مت کریں۔“ سرمد نے قہقہہ لگا تے ہوئے کہا

” ہاں یار بات تو ہے ۔اور وہ یہ ہے کہ مجھے آج ایک کام کے لئے اسلام آ باد جانا ہے ۔ دو دن لگ جائیں گے ۔سو کہیںتمہارا موڈ ….“ یہ کہتے ہوئے اس نے سرمد کی طرف دیکھا تو اس نے اداس ہوتے ہوئے تیزی سے کہا

” کوئی بات نہیں پاپا، بڑی ماما کہتی ہیں کہ آ پ کو بہت سارے کام ہوتے ہیں، کام تو کرنے ہیں ، اس لئے آ پ جائیں لیکن فون کرتے رہیں۔“

بالکل ، فون تو میں کروں گا۔ہاں میں واپس آ کر پوچھوں گا کہ آپ نے کتنا کچھ پڑھا، ٹھیک۔“

” جی پاپا، بالکل ٹھیک ۔“ اس نے عام سے لہجے میں کہا

 ” یہ دو دن مستی کرنا لیکن ماما کو تنگ نہیں کرنا۔“ طاہر نے سمجھاتے ہوئے کہا

” ڈن پاپا۔“ اس نے سرہلاتے ہوئے اداسی سے کہا

 ” اچھا یہ بتاﺅ ، تمہارے لئے وہاں سے کیا لے کر آ ﺅں؟“ اس نے سرمد کو بہلانے کے لئے پوچھا

” کچھ نہیں ، میرے پاس سب کچھ ہے ،آپ بس جلدی سے آ جائیں ۔“سرمد نے کہا

” ڈن ہوگیا۔“ اس نے سرمد کے انداز میں کہا تو وہ ہنس دیا

انہیں باتوں کے دوران سرمد کا سکول آ گیا۔ طاہر نے گیٹ کے آ گے کار روکی ۔ اتر کر سرمد کو بیگ تھمایا ، اسے پیار کیا تو وہ ہاتھ ہلاتا ہوا گیٹ کے اندر چلاگیا۔ تبھی طاہر کار میں بیٹھ کر چل دیا ۔ اس کا رخ آیت النساءکے گھر کی طرف تھا۔

اسے آیت النساءسے بہت ساری باتیں کرنا تھیں۔بہاولپور میں ضمنی الیکشن تھے۔ جہاں امیدوار فائنل کرنے کا مسئلہ چل رہا تھا۔اگرچہ اس کی رابعہ سے شادی والی بات عوام میں نہیں گئی تھی لیکن اپنے ہی لوگوں کے مخصوص حلقے کو علم تھا۔بابا سے وہ بات بھی کرنا چاہتا تو بابا اس کا فون ہی نہیں سنتے تھے۔بلقیس بیگم اس کی بات سن لیتی مگر اپنے خاوند کے سامنے مجبور تھی۔ سو اسے کچھ پتہ نہیںتھا کہ بابا ضمنی الیکشن میں کسے لا رہے ہیں۔ وہ ذاتی طور پر ساجد کو آ گے لانا چاہتا تھا۔لیکن۔!وہاں کی بزنس کمیونٹی اپنا بندہ لانا چاہتی تھی۔ طاہر اور سردار سکندر کے درمیان بات نہ ہونے کے سبب اسے کچھ پتہ نہیں چل رہا تھا کہ صورت حال کیا ۔ اسے اسمبلی اجلاس کے لئے اسلام آ باد جانا تھا۔ ظاہر ہے وہاں پر ضمنی انتخابات کے بارے میں بات ہونا تھی لیکن اسے حلقے کے بارے میں کوئی علم نہیںتھا۔وہ اس سے مل کر اس سے بات کرکے ، یہ مسئلہ حل کرنا چاہتا تھا۔

یہی سوچتے ہوئے وہ آیت النساءکے گھر کے قریب موڑ مڑا۔ تبھی اس کی نگاہ گیٹ پر کھڑی پہ پڑی ۔ آیت اس میں سے نکلی تھی ۔ وہ کسی بات پر قہقہ لگا کر ہنسی تھی۔ پھر بڑے بے تکلفانہ موڈ میں ہاتھ ہلایا اور تیزی سے اندر کی جانب بڑھ گئی ۔اسی لمحے وہ کار حرکت میں آ ئی اور اسی کی جانب بڑھ آ ئی ۔ لاشعوری طور پر اس نے ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھے جوان کو دیکھا، جو لمحہ پھر سے بھی کم وقت میں اس کے قریب سے گذر گیا۔یہ سارا منظرچند لمحوں کا تھا، یا شاید آدھے منٹ سے کم ، لیکن اسی مختصر وقت نے اس کے اندر کی دنیا کو اتھل پتھل کر دیا۔اسے وہ سب بھول گیا جو اس نے آیت سے کہنا تھا۔یاد رہا تو وہ منظر جس نے اس کے اندر موجود عاشق کو بیدار کر کے رکھ دیا۔ ایسے میں وہ آ یت کے گھر کے باہر گیٹ تک آ ن پہنچا۔اس نے ایک بار بریک دبایا پھر نہیں رُکا، آ گے ہی بڑھتا چلاگیا۔

وہ سیدھا دفتر کی پارکنگ میں آ کر رکا۔جہاں پر چند گاڑیاں ہی کھڑی تھیں اسے احساس ہوا کہ وہ دفتر کے وقت سے کافی پہلے آ گیاہے۔اس نے کار بند کی اور اتر کر سیدھا اپنے آ فس کی جانب بڑھ گیا۔ آفس بوائے ابھی صفائی کر رہا تھا۔ اسے حیرت سے دیکھ کر جلدی سے ایک طرف ہٹ گیا۔ وہ کرسی پر جا بیٹھا تو آ فس بوائے باہر چلا گیا۔ وہ کون تھا، جس کے ساتھ آیت النساءاس قدر خوش تھی؟کیا آ یت النساءکی خوشی اسی کے ساتھ میں ہے ؟ یہ وہ بنیادی سوال تھے جس پر ایک کے بعد ایک سوال اس کے دماغ میں گھومنے لگے ۔

” سر چائے ۔“

آفس بوائے نے چائے میز پر رکھتے ہوئے کہا تو وہ اپنے خیالات سے نکل آ یا۔ اس نے سبھی سوالوں کو ذہن سے جھٹکا اور چائے پینے لگا۔ کیونکہ جو کچھ دماغ کہہ رہا تھا، اس پہ اس کا دل نہیںمان رہا تھا۔چائے پینے تک وہ فیصلہ کر چکا تھا کہ وہ ابھی آ یت النساءکا سامنا بھی نہیں کرے گا ، ممکن ہے کوئی بات منہ سے نکل جائے ، وہ اسے ملے بغیر ہی اسلام آ باد جائے گا ۔ضمنی الیکشن میں جو فیصلہ ہوتا ہے ہوتا رہے ، اگر کوئی مجھ سے پوچھے گا تو دیکھا جائے گا ۔ اس نے ڈرائیور کو بلایا تاکہ اسی وقت اسلام آ باد کے سفر پر چل پڑے ۔

ز….ژ….ز

جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

بے رنگ پیا۔۔۔امجد جاوید۔۔۔قسط نمبر 11

بے رنگ پیا امجد جاوید قسط نمبر 11 شہر سے باہر بنائی گئی جھیل کے …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے