سر ورق / کہانی / اندھا قانون…مہتاب خان 

اندھا قانون…مہتاب خان 


اندھا قانون 

مہتاب خان 

وہ اس شہر کا ایک بڑا مشہور میڈیکل کالج تھا -جہاں اسٹوڈنٹ احتجاج کر رہے تھے-کلاسیں ایک ہفتے سے معطل تھیں اور یہ احتجاج صرف کالج تک محدود نہیں تھا بلکہ پورا شہر ہی سراپا احتجاج بنا ہوا تھا اور ہر طبقہ فکر کے لوگ اس احتجاج میں شامل تھے-ٹی  وی چینلز پر بریکنگ نیوز آ رہی تھیں-اس وقت بھی مختلف اخبارات کے رپورٹرز  اور تی وی اینکرز میڈیکل کالج میں موجود تھے-

ایک مشہور نیوز چینل کی رپورٹر لڑکی مائیک لیے کیمرےکے سامنے چلا رہی تھی-

"ایک مہینہ  بیت چکا ہے اور ان گمشدہ اسٹوڈنٹس کی ذمہ داری لینے کو کوئی تیار نہیں جیسا کے آپ دیکھ سکتے ہیں اس کالج کے اسٹوڈنٹس دو ہفتے سے بھوک ہڑتال پر ہیں-یہ احتجاج کر رہے ہیں اپنے ان تین ساتھیوں کے لیے جو پچھلے ایک ماہ سے لاپتا ہیں-یہ حکومت سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ وہ انہیں جلد سے جلد ڈھونڈے اور اگر انہیں اغوا کیا گیا ہے تو بازیاب کروایا جائے-"

کیمرہ اب وہ مناظر دکھا رہا تھا جہاں اسٹو ڈنٹ پلے کارڈز اٹھائے ہوئے نعرے لگا رہے تھے-پر جوش نوجوانوں کا ایک ہجوم تھا جو کالج کے گراؤنڈ میں چہار جانب پھیلا ہوا تھا-

"شہر کی پولیس کے ساتھ اس علاقے کی پولیس کوئی تعاون نہیں کر رہی جہاں یہ لڑکے لاپتا ہوئے تھے-گاؤں چنن گڑھ کی پولیس نے ان گمشدہ لڑکوں کے بارے میں لا علمی ظاہر کی ہے-ہمارے ساتھ موجود ہیں شیراز احمد جو ان لڑکوں کے ساتھی اور اس میڈیکل کالج کے اسٹوڈنٹ لیڈر بھی ہیں-"

کیمرے کا رخ بدلا اور اس نے شیراز احمد کو فوکس کیا-

"آئیے ہم ان سے پوچھتے ہیں کہ ان کی اپنے ساتھیوں سے آخری بار کب اور کہاں بات ہوئی تھی؟”لڑکی نے کہا –

"میری ان سے چھبیس نومبر کو رات گیارہ بجے بات ہوئی تھی-"شیراز  نے کہا –

"کیا بات ہوئی تھی آپ کی ان سے؟”

"بس احسن نے مجھ سے یہی کہا تھا کہ چنن گڑھ کی پولیس نے ہمیں گرفتار کر لیا ہے-اتنی دیر میں اس کا موبائل آف ہو گیا تھا-پھر ان لوگوں سے کسی کا کوئی رابطہ نہیں ہوا اس کے بعد ان تینوں کے موبائل آف ہو گئے تھے-

"وہ لوگ چنن گڑھ کیوں گئے تھے کیا آپ جاننتے ہیں؟”رپورٹر لڑکی نے پوچھا-

دراصل وہ عامر حسین  کے ساتھ اس کے گاؤں گئے تھے-احسن اور بلال کا تعلق اسی شہر سے ہے جبکہ عامر چنن گڑھ کا رہائشی تھا-اگلے دن وہ واپس آنے والے تھے-اس واقعہ کو ایک مہینہ ہو گیا ہے لیکن تب سے اب تک ان تینوں کا کوئی پتا نہیں چلا ہے- اوپر سے پولیس اور حکومت کا رویہ  اس واقعے سے اتنا غیر ذمہ دارنا ہے کہ مت پوچھیں-"شیراز نے کہا –

حکومت کے اس غیر ذمہ دارانہ رویے پر احتجاج کرتے اسٹوڈنٹس اور کیمرہ میں لطیف حسن کے ساتھ میں کرن نیازی……………….” اسی وقت حکومت کے ایک اعلی عھدہ دار نمودار ہوئے تو تمام رپورٹرز اور کیمرہ مین ان کی طرف دوڑے ان میں کرن بھی شامل تھی-وہ اپنے پروٹوکول افسروں کے جلو میں تیزی سے چلتے احتجاج کرنے والے طلبا کی سمت بڑھے-

"سر ایک مہینہ ہو گیا اسٹوڈنٹس کا کوئی پتا نہیں چلا حکومت اس سلسلے میں کیا کر رہی ہے-؟”کرن نے کہا –

"ہم پوری کوشش کر رہے ہیں-"وہ جلدی سے بولے "جلد ہی ایک انویسٹی گشن ٹیم چنن گڑھ کے لیے روانہ ہو رہی ہے-"

"سر…………..سر……..”مختلف آوازیں ابھریں-"سر ابھی تک پولیس کیا کر رہی تھی؟”

"نو مور کوئسچن پلیز-” کہتے ہوئے وہ آگے بڑھ گئے –

احسن اور بلال کا تعلق دولت مند گھرانوں سے تھا-اس لیے پولیس اور دوسرے ادارے بھی بڑے فعال تھے- ان دونوں کے گھروں میں کہرام مچا ہوا تھا-ان کی گمشدگی ایک معمہ بن کر رہ گئی تھی-احسن کے والد ایک نامور کاروباری شخص تھے جبکہ بلال کے والد کا تعلق ایک نشریاتی ادارے سے تھا- اسی وجہ سے ملک بھر کی میڈیا شور مچا رہی تھی- وہ تینوں لڑکے بلال کی گاڑ ی میں چنن گڑھ گئے تھے-اور پھر ان کا کوئی پتا نہیں چلا تھا-نہ ہی گاڑ ی ملی تھی اور اگر انہیں اغوا کیا گیا تھا تو دونوں گھرانو کو تاوان کے لیے کوئی فون یا پیغام بھی وصول نہیں ہوا تھا-ان کی گشدگی سمجھ سے بالاتر تھی-

حمزہ اسپیشل برانچ کا ایک نہایت ذہین،نڈر اور بے حد خوبرو نوجوان تھا-اسے اس کیس  کی انویسٹی  گیشن کے لیے چنن گڑھ بھیجا گیا تھا-اسی محکمے سے تعلق رکھنے والے ایک بے حد بہادر اور نڈر نوجوان اسامہ کو اس کے اسسٹنٹ کے طور پر چنا گیا تھا-اسامہ کا تعلق اسی گاؤں سے تھا-مگر کچھ ذاتی وجوہات کی بنا پر وہ پانچ سال سے اپنے گاؤں نہیں گیا تھا-

چنن گڑھ پنجاب کے دوسرے دیہاتوں کی طرح ایک چھوٹا مگر وسیح آبادی والا ایک نہایت خوبصورت اور سر سبز و شاداب گاؤں تھا-مگر اپنی خوبصورتی کے بر عکس یہاں گھناونے جرائم پھل پھول رہے تھے اور کرائم ریٹ بہت زیادہ تھا-

ان کی کار پکی سڑک پر گاؤں چنن گڑھ کی جانب تیزی سے دوڑ رہی تھی-دوران سفر حمزہ ایک فائل کا مطالعہ کر رہا تھا-فائل فرنٹ سیٹ پر بیٹھے اسامہ کو دیتے ہوئے اس نے کہا –

"یہ پڑھا تم نے اتنی خوبصورت  اور پر سکون  جگہ پر مرڈر،کڈنیپنگ،ریپ،جیسے جرائم کی شرح بڑے شہروں کے مقابلے میں تین گنا زیادہ ہے-"

"تین گنا نہیں پانچ گنا زیادہ ہے سر………زیدہ تر کرائم تو رپورٹ ہی نہیں ہوتے اگر ہونے لگ جائیں تو آرمی بلانی پڑے گی یہاں-"

تمہارا کہنے کا مطلب یہ ہے کہ جو کچھ ان کاغذات پر لکھا ہے غلط ہے؟”حمزہ نے کہا –

"اے سی کمروں میں بیٹھے سرکاری ملازمین کی کام چوری کا ثبوت  ہیں یہ کاغذات-لوگ وہی سنتے ہیں جو انہیں سنایا جاتا ہے-اب آپ ادھر آ گئے ہیں تو دھیرے دھیرے سب سمجھ میں آ جائے گا-"اسامہ فائل  کی ورق گردانی کرتا ہوا بولا-"ویسے اتنی کم عمری میں آپ کو بڑے خطرناک علاقے میں بھیج دیا سینیرز نے-” وہ پیچھے مڑا اور فائل حمزہ کو دیتے ہوئے کہا –

"میں دو ہائی پرو فائل کیسز کا انچارج رہ چکا ہوں اور انہیں بہ  خیر و خوبی اپنے انجام تک پہنچا چکا ہوں-اسی وجہ سے مجھے اس کیس کا انچارج اور تمہارا باس بنایا گیا ہے-"حمزہ نے کہا –

"میرے ایک سینئر کہا کرتے تھے اوور کانفیڈنس دماغ خراب کر دیتا ہے-"اسامہ نے ہنستے ہوئے کہا -"یہاں کا قانون الگ ہے جو باقی ملک سے مختلف ہے-"

"یہ تم مجھے ڈرا رہے ہو یا خبردار کر رہے ہو؟”

"آپ جو مرضی سمجھیں-"اسامہ نے مسکراتے ہوئے کہا –

وہ اپنی منزل پر پہنچ گئے تھے-گاڑی ایک جھٹکے سے اس گیسٹ ہاؤس کے سامنے رکی تھی جہاں ان کی رہائش کا انتظام کیا گیا تھا- یہ گیسٹ ہاؤس تین کمروں پر مشتمل ایک صاف ستھرا گیسٹ ہاؤس تھا جس کے ایک کمرے میں ان کے لیے دفتر کا سیٹ اپ کیا گیا تھا-

اگلی صبح حمزہ اور اسامہ چنن گڑھ کے واحد پولیس اسٹیشن میں موجود تھے-جہاں ایک پولیس انسپکٹر کرسی پر التی پالتی مارے بیٹھا تھااور کمرے میں دیگر پولیس افسر اور کانسٹبل بھی موجود تھے-حمزہ اس کے سامنے گیا اور کہا –

"مجھے انچارج صاحب سے ملنا ہے کہاں  ہیں وہ؟”

"آپ کون ہیں؟ اور انچارج صاحب سے کیا کام ہے؟وہ اس وقت مصروف ہیں-"انسپکٹر نے لاپرواہی سے کہا –

"یہ میں انہیں ہی بتاؤں گا-"حمزہ نے کہا –

"شہر سے آئے ہو؟”اس نے سر سے پاؤں تک حمزہ کو دیکھتے ہوئے کہا "اخبار والے ہو؟ ایک تو ان میڈیا والوں نے ناک میں دم کیا ہوا ہے-جاؤ وہاں جا کر بیٹھو-"اس نے کمرے کی ایک جانب رکھی کرسیوں کی طرف اشارہ کیا-وہ اور اسامہ وہاں جا کر بیٹھ گئے اور انتظار کرنے لگے-کچھ دیر بعد ایک پولیس افسر نے انسپکٹر سے کہا-

"کمو کہہ رہا تھا کہ آپ اسے نہیں چھوڑیں گے-ان کاؤنٹر میں مار ڈالیں گے-اور وہ بول رہا تھا کہ وہ اوپر تک جائے گا-"

"بڑا آیا اوپر جانے والا -تمہیں پتا ہے نہ اگر میں چاہوں تو اسکے ساتھ ساتھ اسکے بچوں کا بھی ان کاونٹر کر ڈالوں گا-کون مائی کا لال ہے مجھے پوچھنے والا-یہاں کوئی ہے مجھے روکنے والا؟”

"پر صاحب کیس ہلکا ہے پراپرٹی کا معاملہ ہے-"

"پراپرٹی کے کیس کو ریپ کیس بنانے میں کتنی دیر لگتی ہے -یہ بھی کیا مجھے سکھانا پڑے گا-"

اسی وقت اس کے ٹیبل پر رکھے فون کی گھنٹی بجی-

"ہیلو-"انسپکٹر نے فون اٹھایا-"آج شام………….. کیا کہا ……….لڑکی کون ہے؟”

حمزہ اور اسامہ خاموش بیٹھے یہ تماشا دیکھ رہے تھے-اتنے میں ایک کانسٹبل ایک دبلے پتلے خستہ حال بوڑھے کو گردن سے پکڑے کمرے میں داخل ہوا اور انسپکٹر کے قریب پہنچ کر بولا-

"سر یہ بوڑھا کہہ رہا ہے کہ اسکی گائے غلطی سے چوہدری صاحب کے کھیتوں میں گھسی تھی-چوہدری صاحب نے کہا ہے اسے الٹا لٹکا دو-"

"ایک منٹ-"انسپکٹر نے فون پر کہا ، ریسیور ٹیبل پر رکھا اور ایک زوردار تھپڑ بوڑھے کو ما را-بوڑھا زمیں پر گر چکا تھا-"تو لے جاؤ اسے اور الٹا لٹکا دو میرا منہ کیا دیکھ رہے ہو-"انسپکٹر نے درشت لہجے میں کہا اور فون پر دوبارہ باتوں میں مصروف ہو گیا-جیسے کچھ ہوا ہی نہ ہو-

حمزہ کا چہرہ غصے سے سرخ ہو گیا تھا-وہ اٹھا اور تیزی سے اس کے قریب گیا-"اور کتنا ٹائم لگے گا؟” حمزہ نے اپنا کارڈ نکالا اور اس کے سامنے لہرایا-

انسپکٹر نے کارڈ دیکھ بغیر ہاتھ کے اشارے سے اسے روکا اور ایک زوردار قہقہہ لگایا "اچھا نیا مال ہے-"اسی وقت اس کی نظرحمزہ کے ہاتھ میں تھامے کارڈ پر گئی تو اس کا قہقہہ وہیں دم تو ڑ گیا-وہ چونکا اور کہا "ارے پہلے بتانا چاہے تھا کہ آپ اسپیشل برانچ سے آئے ہیں-” اسی وقت اندرونی کمرے کا دروازہ کھلا اور انچارج کمرے میں داخل ہوا-اس کے ساتھ کلف لگے سفید لباس میں موٹی موٹی مونچھوں والے دو لحیم شحیم افراد بھی تھے-

"فکر نہ کریں اور چودھری صاحب سے کہیں  ان کا کام ہو جائے گا-"اس نے کہا اور انہیں رخصت کر کے مڑا -حمزہ تیزی سے اس کے قریب آیا تو اس نے سوالیہ نظروں سے اپنے اسسٹنٹ کو دیکھا-"سر یہ اسپیشل برانچ کے افسر ہیں-شہر سے انہیں بھیجا گیا ہے-"

"ارے ہاں…….مجھے اطلاع مل گئی تھی-……..بھئی کچھ خاطر مدارت کی ان کی؟”

اس نے انسپکٹر کی طرف دیکھتے ہوئے کہا-

‘نو تھینک یو …………ہمیں بس ان لڑکوں کے بارے میں تفصیل چاہے-” حمزہ نے جلدی سے کہا-

"یہ کیا آپ شہر والوں نے ہنگامہ کھڑا کیا ہوا ہے؟” وہ انسپکٹر کی ٹیبل کے سامنے رکھی کرسی پر بیٹھتا ہوا بولا-"کون تھے وہ لڑکے ہمیں تو کوئی علم نہیں ہے-……….. روز فون پر فون آ رہے ہیں-کبھی ٹی وی والے تو کبھی اخبار والے………. آپ کو کوئی انفارمیشن ملے تو ہمیں بھی بتائے گا-خواہ مخواہ کی پریشانی ہے-” انچارج نے کہا-

"موبائل فون ریکارڈ کے مطابق ان میں سے ایک لڑکے احسن نے آخری کال چنن گڑھ سے کی تھی-"حمزہ نے کہا –

"کیا کہہ رہے ہیں آپ؟” وہ حیرانی سے بولا-

"یہ چھبیس نومبر رات گیارہ بجے کی بات ہے-یہ کہتے ہوئے اس کا فون کٹ  گیا تھا کہ چنن گڑھ کی پولیس نے انہیں گرفتار کر لیا ہے-اس کے بعد ان تینوں کے موبائل آف ہو گئے تھے-جب سے اب تک کسی سے ان کا کوئی رابطہ نہیں ہوا-"

"گرفتار اور ہم نے ………ایسا کوئی واقعہ یہاں پیش نہیں آیا-آپ چاہیں تو ریکارڈ چیک کر سکتے ہیں-…………..دیکھیے اپنا قیمتی وقت یہاں برباد نہیں کیجیے اور یہ کہانی تو مجھے میڈیا کی بنائی ہوئی لگتی ہے-ویسے بھی آج کل کے نوجوانوں کا کوئی بھروسہ نہیں-ہو سکتا ہے انہوں نے کوئی سنگین مذاق کیا ہو- اس گاؤں میں ان کی دلچسپی کا کوئی سامان نہیں ہے-ہو سکتا ہے وہ کہیں اور گھومنے پھرنے نکل گئے ہوں-جب تفریح سے دل بھر جائے گا تو گھر چلے جائیں گے………..محکمے والوں نے بلاوجہ آپ کو اتنی دور دوڑا دیا-” پھر وہ کچھ دیر ٹہر کر بولا-"ہمارے لائق اور کوئی خدمت ہو تو بتائے؟”

"انہیں غائب ہوئے ایک ماہ سے زیادہ ہو گیا ہے اور انہیں آخری بار اسی علاقے میں دیکھا گیا تھا-میں اس کیس کی انوسٹی گیشن کے لیے بھیجا گیا ہوں-انوسٹی گیشن کمپلیٹ کر کے ہی واپس جاؤں  گا-"حمزہ غصیلے انداز میں بولا-

"بلکل جی………………شوق سے کریں انوسٹی گیشن…………ہم مدد کے لیے حاضر ہیں-"

انچارج نے کہا-

"چلو اسامہ -” حمزہ نے کہا اور تیزی سے باہر نکل گیا-

"اب کہاں کا ارادہ ہے؟”باہر نکلتے ہی اسامہ نے پوچھا-

"دین محمد کی بہن کے گھر چلو-"

دین محمد کے والدین وفات پا چکے تھے-وہ کچھ عرصے اپنی شادی شدہ بہن کے ساتھ رہتا رہا تھا پھر جب اس کا میڈیکل کالج میں ایڈمشن ہوا تو وہ گاؤں کی ساری زمین فروخت کر کے مستقل طور پر شہر چلا گیا تھا-زمیں کی فروخت کے سسلے میں ان دونوں بہن بھائی میں کچھ ناچاقی چل رہی تھی-بہرحال دین محمد کی بہن ہی اس کیس کی واحد کڑی تھی-جس سے ان کی گمشد گی پر کچھ روشنی پڑ سکتی تھی-

وہ وہاں پہنچے دروازہ کھٹکھٹایا تو دینو کا  بہنوئی باہر آیا-حمزہ نے اپنا تعارف کروایا تو وہ انہیں گھر کے اندر لے گیا-یہ گاؤں کے دوسرے گھروں کی طرح کا ایک کچا پکا مکان تھا-  صحن میں دو بچے کھیل رہے تھے-صحن عبور کر کے وہ برآمدے میں پہنچے جہاں دو چارپائیاں بچی تھیں ایک پر ایک پوڑھ شخص لیٹا تھا-

حمزہ  اور اسامہ دوسری چارپائی پر بیٹھ گئے اور دینو کا بہنوئی بھی بوڑھے کے قریب بیٹھ گیا-اس کی بہن گھر میں موجود نہیں تھی وہ کہیں گئی ہوئی تھی-

"دین محمد ایک مہینے سے لاپتا ہے-آپ لوگوں نے پولیس میں رپورٹ درج کروائی؟”حمزہ نے کہا-

"جی صاحب میں اور میری گھر والی تھانے گئے تھے-مگر تھانیدار نے ہمیں یہ کہہ کر بھگا دیا کہ وہ اپنے دوستوں کے ساتھ کہیں گھومنے پھرنے گیا ہو گا واپس آ جائے گا-"

"ایک مہینے پہلے وہ اپنے دو دوستوں کے ساتھ گاؤں آیا تھا-آپ لوگوں سے ملنے تو ضرور آیا ہوگا-"

"نہیں جی………….وہ آیا تو ضرور تھا مگر  ہمارے گھر نہیں آیا -اس کی اپنی بہن سے کچھ ناراضگی چل رہی تھی-شاید اسی لیے نہیں آیا-"

"وہ گاؤں  آیا اور اپنی اکلوتی بہن سے نہیں ملا-……….تم کچھ چھپا رہے ہو…………ڈرو نہیں سب کچھ سچ سچ بتا دو-وہ یہاں کیوں آیا تھا؟یہاں وہ کسی سے تو ملا ہو گا-کیا اس کی یہاں کسی سے دشمنی تھی؟”

"مجھے کچھ نہیں پتا-وہ کیوں آیا تھا اور کہاںچلا گیا؟”وہ بہت خوفزدہ نظر  آ رہا تھا-اسامہ نے اسے حوصلہ دیا-"دیکھو ڈرو نہیں جو کچھ جننتے ہو سچ سچ بتا دو ہم یہاں تمھاری مدد کے لیے آئے ہیں”لیکن اس کا ایک ہی جواب تھا کہ اسے کچھ معلوم نہیں ہے-بلآخر حمزہ اور اسامہ اٹھ کھڑے ہوئے اور تنبیہ کی کہ اگلے دن وہ پھر آئیں گے اور دین محمد کی بہن سے پوچھ  گچھ کریں گے-

اگلے دن وہ دینو کے گھر گئے تو یہ دیکھ کر حیران رہ گئے کہ وہاں ایک مجمع اکھٹا تھا اور دین محمد کی بہن زار و قطار رو رہی تھی اور پڑوسی خواتین اسے دلاسے دے رہی تھیں پتا چلا کہ اسی شام دینوکے بہنوئی کو کچھ لوگ اٹھا کر لے گئے تھے-انہوں نے اپنے چہروں پر ڈھاٹے باندھے ہوئے تھے-

"آپ لوگوں نے رپورٹ درج کروائی؟”حمزہ نے پوچھا-

"ہمیں نہیں لکھوانی کوئی رپورٹ……………..مجھے اپنا بیٹا زندہ چاہے -"اس کا سسر تیز آواز میں بولا-

"آپ لوگ سمجھتے کیوں نہیں کوئی ظلم کے خلاف آواز کیوں نہیں اٹھاتا-"حمزہ نے جھلا کر کہا-

"رہنے دو یار نہ ان میں سے کوئی زبان کھولے گا نہ ہی کچھ بولے گا-انہیں ظلم سہنے کی عادت ہے-"اسامہ نے تلخ لہجے میں کہا-

"کیسے لوگ ہیں یہ؟”حمزہ نے چاروں جانب نذر دوڑائی مجمع کو جیسے سانپ سونگھ گیا تھا–"پچھلے صرف ایک سال میں یہاں بائیس لڑکیاں دن دھارے اغوا ہوئی ہیں اور زیادتی کے بعد ان کی لاشیں ریل کی پٹریوں پر، کونویں میں اور کھیتوں میں پائی گئی ہیں اور تو اور بچوں کو بھی نہیں چھو ڑا جاتا-کتنے نوجوان ہیں جنھیں قتل کیا گیا ہے-پھر بھی کوئی رپورٹ نہیں لکھواتا پولیس انہیں ایکسیڈنٹ قرار دیتی ہے یا خودکشی کیوں؟……………کیونکہ نہ کوئی رپورٹ ہے نہ گواہ…………..اس بستی میں سب اندھے اور گونگے رہتے ہیں-"

"ہم زندہ ہی اس لیے ہیں کے اندھے ہیں………وہ لوگ موت کے گھاٹ  اتار دے جاتے ہیں جو پولیس میں رپورٹ درج کرواتے ہیں یا گواہ بننا چاہتے ہیں-"دینو کی بہن کے سسر نے چلا کر کہا-

"چا چا ہم آپ کی مدد کے لیے شہر سے آئے ہیں-ہم آپ لوگوں کو تحفظ فراہم کریں گے-"

"آپ کل میرے بیٹے سے بھی یہی کہہ رہے تھے-بہت مہربانی آپ کی ہمیں ہمارے حال پر چھوڑ دیں  اور چلے جائیں یہاں سے-” وہ ہاتھ جوڑتے ہوئے بولا-

وہ دونوں سر جھکائے باہر نکل آئے تھےاور سیدھے پولیس اسٹیشن پہنچے تھے-جہاں انسپکٹر کے گرد چند کانسٹبل بیٹھے کسی بات پر قہقہہ لگا رہے تھے-انسپکٹر کی نظر جیسے ہی حمزہ پر پڑی  تو وہ چونکا –

” آئیے ……..آیئے ……… اور کہاں تک پہنچی آپ کی انوسٹی گیشن؟”

"کل شام دین محمد کی بہن کے گھر پر حملہ ہوا تھا-کچھ لوگ اس کے بہنوئی کو اٹھا کر لے گئے ہیں-"حمزہ نے تیز لہجے میں کہا-

"اچھا-” وہ حیرانی سے بولا-

"آپ نے کوئی ایکشن لیا یا نہیں؟”

"ارے ریلیکس حمزہ صاحب ……..ریلیکس…………کا ہے کو گرم ہو رہے ہیں-بھائی پولیس تو جب ایکشن لیتی ہے جب کوئی رپورٹ لکھواتا ہے-اب آپ کیا چاہتے ہیں-ہم روز لوگوں کے گھر جا جا کر پوچھیں بھی کوئی شکایت ہے کیا؟یا بہن جی کوئی پریشانی تو نہیں-"اس نے مزاحیہ انداز میں کہا-

"میں آپ کی پرابلم سمجھ گیا-چلیں لکھیں میں لکھوا رہا ہوں رپورٹ-"حمزہ نے کہا-"اور یہ وارننگ بھی دے رہا ہوں کہ مجھے چوبیس گھنٹے میں بشیر چاہیئے -مجھے معلوم ہے اسے اس لیے اغوا کیا گیا ہے کہ ہم اس سے پوچھ  گچھ کر رہے تھے-اگر میری رپورٹ میں یہ آ گیا کہ چنن گڑھ کی پولیس مجرموں کو سپورٹ کر رہی ہے تو آپ کے لیے مشکل ہو جائے گی-"حمزہ نے دھمکی آمیز لہجے میں کہا-

"او نزیرے رپورٹ لکھ اور رفیق تو بھاگ کر صاحب کے لیے ٹھنڈا لا-"اس نے آواز لگی-"آپ لوگ بیٹھیں-"انسپکٹر نے مسکراتے ہوئے کہا -"آپ کا دماغ تو بڑیجلدی گرم ہو جاتا ہے-"وہ رپورٹ لکھوا کر واپس گھر آ گئے تھے-

اگلی صبح اسامہ اپنے کپڑے استری  کر رہا تھااور حمزہ لیپ ٹاپ پر کچھ کام کر رہا تھا-کہ اچانک حمزہ بولا-

"یار تمھارے گاؤں والے اتنا ڈرتے کیوں ہیں؟تمہیں کچھ اندازہ ہے؟”

"یہ بہت پرانا ڈ ر ہے جو ان کی زندگی کا حصہ بن چکا ہے-"

"کیا مطلب؟حمزہ نے کہا-

"ایک دلچسپ کہانی سناتا ہوں آپ کو………اس گاؤں میں کچھ عرصہ پہلے ایک غریب خاندان رہتا تھا-ماں باپ دو بیٹیاں اور ایک بیٹا-پیسے جوڑ کر انہوں نے تھوڑی سی زمین خریدی تھی-پورے خاندان کی محنت سے زمین سونا اگلنے لگی-حالات بہتر ہوئے تو انہوں نے مزید زمین خرید لی اور مال مویشی بھی-ایک بار گاؤں کا چوہدری قدیر جو موجودہ چوہدری افضل اور اکرم کا باپ تھا کا گزر وہاں سے ہوا تو وہ بولا-

"اے فضلو بڑی ترقی کر لی ہے بھئی تو نے کہیں مجھ جیسا زمیندار تو نہیں بننا چاہتا ؟”تو وہ بھی مذاق میں بولا-

"میں کتنی بھی محنت کر لوں لیکن کسان سے زمیندار نہیں بن سکتا لیکن اگر خدا نے چاہا تو میرے بچے پڑھ لکھ کر آپ کے بچوں سے بہتر زندگی ضرور بسر کریں گے-"

زمیندار کو یہ مذاق کم اور طنز زیادہ لگا-اس واقعے کو چند دن گزرے تھے-ایک رات وہ خاندان گاؤں میں ایک شادی میں مدعو تھا- وہ شادی سے رات گئے واپس آئے تو دیکھا ان کا گھر کھیت اور مویشی سب جلا دیئے گئے تھے-اس خاندان پر تو جیسے قیا مت ٹوٹ پر تھی-رات جیسے تیسے گزری صبح ہوئی پھر وہ دن بھی گزر گیا-وہ سب پریشانی کے عالم میں بھوکے پیاسے بیٹھے تھے-کہ اچانک باپ نے کہا کہ وہ کھانے  کا انتظام کرنے جا رہا ہے- کچھ دیر بعد باپ ان کے لیے کھا نا  لے کر آ گیا تھااور کہا تھا کہ فکر نہ کرو سب ٹھیک ہو جائے گا-………..اور سب ٹھیک ہو گیا کیونکہ باپ نےکھا نے میں زہر ملا دیا تھا-سب مر گئے لیکن اس کا اکلوتا بیٹا کسی طرح بچ گیاتھا جسے اس لڑکے کے ہیڈ ماسٹر نے جو بہت خدا ترس اور نیک سیرت شخص تھا اپنے گھر لے گیا تھا–جہاں اس نے اسے پڑھایا لکھایا اور بہترین پرورش کی تھی…………….. خیر ………….ایسی لاتعداد کہانیاں یہاں بکھری پڑی ہیں-خوف ان کی رگوں میں بسا ہوا ہے-"

"شاکنگ یار-” حمزہ نے کہا-"”ویسے آج کل وہ لڑکا کہاں ہے؟”

فی الحال اپنی شرٹ پریس کر رہا ہے-"اسامہ نے شرٹ پر استری پھیر تے ہوئے مسکرا کر کہا-تو حمزہ نے چونک کر اسے دیکھا-اسی وقت فائر کی آواز آئ  اور کھڑکی کا شیشہ ایک چھناکے سے ٹوٹ گیا-اسامہ کی گردن اگر جھکی ہوئی نہ ہوتی تو گولی اس کی کھوپڑی کے پار ہو جاتی-

ان کے گیسٹ ہاؤس پر چاروں جانب سے گولیوں کی بوچھاڑ ہو رہی تھی-وہ دونوں پھرتی سے زمین پر لیٹ گئےتھے-کچھ دیر بعد گولیوں کی آواز تھمی تو حمزہ اٹھا اپنا ریوالور نکالا اور تیزی سے کمرےسے باہر نکل گیا-اسامہ بھی اس کے پیچھے لپکا-باہر نکلتے ہی حمزہ نے کی فائر مارے لیکن حملہ آ ور جو تعداد میں چار تھے اور دو موٹر سائکلوں پر سوار تھے فائرنگ کرتے ہوئے بھاگنے میں کامیاب ہو گئے-ان سب نے اپنے منہہ پر ڈھاٹے باندھے ہوئے تھے-

وہ یہ سمجھنے سے قاصر تھے کہ ان پر حملہ کرنے والے افراد کون تھے-وہ دونوں سیدھے پولیس اسٹیشن جا پہنچے وہاں جا کر پتا چلا کہ انچارج اور انسپکٹر چوہدری افضل کی حویلی گئے ہوئے ہیں-وہ دونوں وہاں سے حویلی  جا دھمکے حمزہ بہت غصے میں تھا- وہاں ناؤ نوش کی محفل سجی ہوئی تھی-موٹی  موٹی مونچھوں اور بھاری جثہ  والا چوہدری افضل اپنے مکروہ صورت بھائی چوہدری اکرم اور چند حواریوں کے ساتھ موجود تھا ایک جانب انچارج اور انسپکٹر بھی بیٹھے ہوئے تھے-

حمزہ اور اسامہ کو وہاں دیکھ کر انچارج حیران رہ گیا پھر سنبھل کر بولا-"آئیے آئیے ……….حمزہ صاحب خیریت تو ہے یہاں کیسے؟”اس نے لڑ کھڑا تی  زبان میں کہا-"ان سے ملیں یہ ہیں چوہدری افضل…….حکومت کے اعوانوں تک ان کی پہنچ ہے-"چوہدری افضل نے بڑے کرو فر سے نظریں اٹھا کر اسے دیکھا اور مصافحہ کے لیے ہاتھ آگے بڑھایا-جسے حمزہ نے تھام لیا-"اور یہ حمزہ صاحب ہیں-بڑے زمہ دار افسر ہیں…………گمشدہ لڑکوں کی انوسٹی گیشن کے لیے انہیں بھیجا گیا ہے-"

"اچھا یہ ہیں حمزہ صاحب……….میں خود آپ کو مدعو کرنا چاہتا تھا-بہرحال اچھا ہوا آپ خود آ گئے-"اسی وقت اس کی نظر اسامہ پر پڑی-"ارے …….یہ تو اپنا ہی لڑکا ہے……..فضلو کے بیٹے ہو نہ؟”اس نے اسامہ سے مصافح کرتے ہوئے کہا-پھر اپنے بھائی  سے مخاطب ہوا-"پہچانا اسے اکرم شہر جا کر خوب قد کاٹھ  نکالا ہے اس نے-"چوہدری افضل نے ستائشی نظروں سے اسامہ کو دیکھا-"ماسٹر کی محنت رنگ لے آئ  بڑ ا افسر بن گیا ہے یہ تو-"چوہدری اکرم نے اسامہ کا ہاتھ مضبوطی سے تھا متے پھر جھٹکے سے چھوڑتے ہوئے کہا-

"آپ لوگ بیٹھیں-"چوہدری افضل نے کہا-

"ہم یہاں بیٹھنے نہیں آئے-"حمزہ نے کہا پھر انچارج کی طرف دیکھتے ہوئے کہا-"ابھی ابھی ہمارے گیسٹ ہاؤس پر حملہ ہوا ہے-کیا آپ جانتے ہیں وہ کون لوگ ہو سکتے ہیں؟”حمزہ نے چبھتے ہوئے لہجے میں کہا-

انچارج چونکا-"اوہ کب؟”

"ہم پولیس اسٹیشن گئے تھے وہاں جا کر پتا چلا کہ آپ یہاں ہیں اسی لیے ہم یہاں آ گئے-"

"یہ مجھے کمالے کا کام لگتا ہے-"انسپکٹر جلدی سے بولا-

"وہ کون ہے ؟”حمزہ چونکا-

"ارے بھائی وہ ایک ڈاکو ہے……کہاں سے آتا ہے اور کہاں جاتا ہے کسی کو علم نہیں-"

"آپ بیٹھ کر اطمینان سے بات کریں-"چوہدری افضل نے کہا-

وہ دونوں بیٹھ گئے-تو چوہدری اکرم نے اپنے ایک ساتھی  سے کہا جاؤ شانو سے کہو چائے پانی کا بندوبست کرے مہمان آئے ہیں-"

شانو کے نام پر اسامہ بری طرح چونکا تھا-

"کمالے نے بہت تنگ کیا ہوا ہے سب کو ہم سب اس کے سامنے بے بس ہیں -اس نے علاقے میں اپنی دھاک بٹھائی ہوئی ہے-اور ایک بات جان لیں اس حملے کو دھمکی سمجھیں اگر وہ چاہتا تو آپ دونوں کو بڑی آسانی سے مار سکتا تھا-"

"مجھے تو لگتا ہے آپ دھمکی دے رہے ہیں-"حمزہ نے تلخ لہجے میں کہا-

"میں آپ کو دھمکی کیوں دوں گا-میں تو آپ کو بتا رہا ہوں-"وہ گڑبڑا کر بولا-

کچھ دیر بعد ایک ملازمہ چائے اور دیگر لوازمات لیے اس سجے سجائے ہا ل میں داخل ہوئی اس کے ساتھ ایک انتہائی خوبصورت دوشیزہ بھی تھی جو دروازے کی اوٹ میں کھڑی ہو گئی تھی-وہ چوہدری اکرم کی بیوی شا نو تھی-ایک لمحے کے لیے اس کی نظریں اسامہ سے ملی تھیں-اسامہ اسے دیکھ کر بری طرح چونکا تھا-پھر اس کی نظریں وہیں ٹک  گئی تھیں-

اسامہ کے لیے تو جیسے زمین کی گردش تھم گئی تھی-وہ جس کی طرف آنکھ اٹھا کر نہ دیکھنے کی اس نے قسم کھائی تھی-اس کے سامنے تھی وہ ساری قسمیں وعدے بھول چکا تھا-………….زندگی کے کس موڑ پر وہ اس کے سامنے آ کھڑی ہوئی تھی اور ابھی تو تقدیر کے ترکش میں نہ جانے کتنے تیر باقی تھے-مگر فی الحال اس تیر نے تو اسے گھائل کر کے رکھ دیا تھا-شا نو کی نظریں بھی اسامہ پر جمی ہوئی تھیں-زمین نے جیسے اس کے قدم پکڑ لیے تھے-اسامہ کو دیکھ کر وہ جہاں کی تہا ن کھڑی رہ گئی تھی-حمزہ نے اسامہ سے کچھ کہا تو وہ چونکا-شانو بھی جیسے ہوش میں آ گئی-اور وہاں سے چلی گئی-

"ہمیں دو پولیس اہلکار گیسٹ ہاؤس میں چاہیے -"حمزہ نے انچارج سے کہا تو وہ بے رخی سے بولا”یہ شہر نہیں ہے چھوٹا سا گاؤں ہے ہمارے پاس ویسے بھی نفری کم ہے-"

"ہم کر یں گے آپ کی حفاظت کا انتظام ویسے بھی آپ ہمارے مہمان ہیں-یہ بتائیں کہاں تک پہنچی آپ کی انوسٹی گیشن؟لڑکے ملے یا نہیں؟”چوہدری افضل نے نرمی سے کہا-

"ارے بے چارے کہاں ڈھونڈھ سکے ہیں………. ان پر تو خود حملہ ہو گیا-پہلے اپنی جان تو بچا لیں-"چوہدری اکرم نے معانی خیز لہجے میں کہا-

"میں سمجھتا ہوں جب میڈیا والے حکومت پر دباؤ ڈالتے ہیں تو انہیں بھی ڈرامہ کرنا پڑتا ہے-خواری کس کی ہوتی ہے؟……….دوڑیں کس کی لگتی ہیں؟پولیس والوں کی یا آپ جیسے افسروں کی………. کون پڑھتا ہے یہ رپورٹس وغیرہ پھر کوئی نیا واقعہ ہو جاتا ہے اور پبلک کے دماغ سے سب صفا چٹ ہو جاتا ہے………کسی کو کچھ یاد نہیں رہتا-…………میں تو آپ کو مشورہ دوں گا جو دل میں آئے رپورٹ میں لکھو اور شہر واپس چلے جاؤ ………..کیوں خواہ مخواہ گاؤں کی دھول مٹی میں پریشان ہو رہے ہو-چودھری افضل کی اس بات پر حمزہ بولا-

"میں آپ کا مشورہ یاد رکھوں گا-پھر وہ اسامہ کی طرف مڑا "چلو اسامہ-"اس نے بت  بنے اسامہ سے کہا اٹھا اور تیزی سے باہر نکل گیا-

چوہدھری کے لہجے میں چھپی دھمکی سے حمزہ کا دماغ کھول رہا تھا-وہ گاڑ ی ڈرائیو کر رہا تھا اور اسامہ اس کے برابر سیٹ پر خاموش بیٹھا تھا-کار کا رخ جائے وقوع کی جانب تھا جو گاؤں کی سرحد پر واقع تھی اور جہاں سے دوسرا گاؤں شروع ہوتا تھا-راستے میں ڈرائیونگ کرتے ہوئے حمزہ نے اسامہ کی غیر معمولی خاموشی کو محسوس کیا-جو بہت دیر سے چپ بیٹھا تھا-

"تمہیں کیا ہوا ہے اتنے چپ کیوں ہو؟”

"کچھ نہیں میں ٹھیک ہوں-"اسامہ نے پر سوچ انداز میں کہا-

"دیکھو……….اگر چوہدھری کی دھمکیوں سے پریشان ہو تو پریشان ہونے کی ضرورت نہیں اگر یہ ان جرائم میں ملوث ہوا تو دیکھنا کیسے میں اسے گر دن سے دبوچتا ہوں-"

وہ ابھی جائے وقوع سے کچھ ہی دور تھے کہ انہیں سڑک کے کنارے لوگوں کا مجمع نظر آیا-حمزہ نے مجمع کے قریب گاری روکی اور کھڑکی سے سر باہر نکلتے ہوئے پوچھا-"کیا ہو رہا ہے یہاں مجمع کیوں اکھٹا ہے؟”ان میں سے ایک نوجوان آگے بڑھا اور کہا "چنن گڑھ کے چوہدھری نے ہمارے گاؤں  کا پانی بند کر دیا ہے-ویسے بھی بارشیں نہیں ہوئی ہیں-ہمارے کھیت سوکھ جائیں  گے-نہر میں پانی کم رہ گیا ہے-"

"یہاں مجمع لگانے سے کیا ہو گا-آپ لوگ چوہدھری کے پاس جائیں اور ان سے بات کریں-"حمزہ نے کہا اور گاڑی آگے بڑھا دی-

کافی دیر وہ جائے وقوع کا مو آئنہ کرتے رہے تھے-مگر انہیں کوئی سراغ نہیں ملا تھا-کچھ دیر بعد وہ گیسٹ ہاؤس واپس چلے گئے تھے-

حمزہ نے شہر سے اور نفری بلوا لی تھی -اس کی ٹیم کے باقی ممبرز سادہ لباس میں گاؤں  بھر میں پھیل  گئے تھے-اور دکانوں،ہوٹلوں اور چائے خانوں میں مختلف لوگوں سے معلومات اکھٹی کر رہے تھے-ان معلومات کے نتیجے میں ایک جرائم پیشہ فرد اقبال عرف بالے کا نام سامنے آیا تھا جو چوہدھری اکرم کا قریبی ساتھی سمجھا جاتا تھا-حمزہ نے بالے سے پوچھ  گچھ کا فیصلہ کیا تھا اسی سلسلے میں وہ لاحیہ عمل بنا رہا تھا-

اسی رات حمزہ کو اطلاع ملی کہ اغوا کاروں نے دین محمد کے بہنوئی کو قتل کر دیا ہےاور لاش اس کے گھر کے دروازے پر پھینک کر فرار ہو گئے ہیں-کچھ ہی دیر میں حمزہ اور اسامہ وہاں پہنچ گئےتھے جہاں انسپکٹر اپنے دیگر ساتھیوں کے ساتھ موجود تھا-لاش کو پولیس کی گاڑ ی میں رکھا جا رہا تھا-

"اسے کہاں لے جا رہے ہیں؟”حمزہ نے انسپکٹر سے پوچھا –

"پوسٹ مارٹم کے لیے بڑے اسپتال-‘انسپکٹر نے مختصر جواب دیا-

"میں بھی چلتا ہوں-"حمزہ نے کہا-

"یہ ہمارا کام ہے ہمیں کرنے دیں -آپ اپنے کام پر دھیان دیں  جو آپ کرنے آئے ہیں-"انسپکٹر نے تلخ لہجے میں کہا-

"اس کے اغوا کی  رپورٹ میں نے لکھوائی تھی-"حمزہ نے اسے یاد دلایا-

 "ہاں تو کیا ہوا بندہ مل گیا نا -"

"اس حال میں؟………….”حمزہ نے غصیلے انداز میں کہا-"بہرحال اس کے اغوا کاروں کے بارے میں کچھ پتا چلا کہ کون لوگ تھے؟”

"ہم انوسٹی گیشن کر رہے ہیں-"وہ گاڑ ی میں بیٹھتے ہوئے بولا اور گاڑ ی تیزی سے روانہ ہو گئی-

"آپ کو معلوم ہو گیا ہو گا کہ ہم ایسے کھلےعام انوسٹی گیشن نہیں کر سکتے-مجھے پتا تھا کہ اسے مار ڈالا جائے گا-"اسامہ نے تیز لہجے میں کہا-

"کیا لگتا ہے تمہیں میں پہلی بار انوسٹی گیشن کر رہا ہوں-"حمزہ جھلا کر بولا-

سب یاد ہے مجھے مگر یہاں کا قانون باقی ملک سے الگ ہے-"اسامہ حمزہ کے برابر سیٹ پر بیٹھتا ہوا بولا-"یہاں غلطی سے بھی کوئی زبان نہیں کھولے گا-لگتا ہے ہمیں یہاں سے خالی ہاتھ جانا پڑ ے گا-"

حمزہ گاڑ ی اسٹارٹ کر ہی رہا تھا کہ اس کے سیل فون کی گھنٹی بجی-کچھ دیر وہ فون پر بات کرتا رہا پھر فون آف کر کے اس نے اسامہ سے کہا "اب خالی ہاتھ نہیں جانا پڑ ے گا -"اسامہ چونکا اور سوالیہ نظروں سے اسے دیکھنے لگا-(جاری ہے)

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

منا لینا عشناء ۔۔۔کوثر سردار ۔۔۔پہلا حصہ

منا لینا عشناء کوثر سردار پہلا حصہ ”مجھے نہیں معلوم تھا اگر محبت دل میں …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے