سر ورق / یاداشتیں / 9 ست رنگی دنیا ٭ میری کہانی٭ ضیاءشہزاد قسط نمبر

9 ست رنگی دنیا ٭ میری کہانی٭ ضیاءشہزاد قسط نمبر

ست رنگی دنیا
٭
میری کہانی٭ ضیاءشہزاد
قسط نمبر 9
آندھیاں غم کی یوں چلیں، باغ اجڑ کے رہ گیا
۔ ۔ ۔ ۔ ۔
ایک دم بندروں کے چیخنے اور چلانے کی آوازیں آنے لگیں۔ ۔ ۔ پھر تیز تیز ہواﺅں کا شور اٹھا۔ ۔ اور اس کے ساتھ ہی ایک زوردار دھماکہ ہوا کہ میں سہم کر اماں سے چمٹ گیا ۔ ۔ ۔ ٬٬ اماں ۔ ۔ مجھے ڈر لگ رہا ہے ۔ ۔ اماں ،،
اماں نے مجھے گود میں بھر لیا اور دوڑتی ہوئی کمرے کی طرف بھاگی۔ ۔ ۔
دادا کے چلانے کی آواز سنائی دی وہ کہہ رہے تھے ۔٬٬ ارے بچے کا خیال رکھنا۔ ۔ ۔ بڑی تیز آندھی آئی ہے ۔،،
اماں مجھے لے کر کمرے تک پہنچ چکی تھی۔ ۔ ۔ ایک اور دھماکہ ہوا ۔ ۔ ۔ اور کچھ اینٹیں اور پتھر صحن میں آ کر اسی جگہ آ کرگرے جہاں ابھی ابھی اماں مجھے لئے کھڑی تھی ۔ ۔ ۔ ہواﺅں کے تیز جھکڑ چل رہے تھے اور چیزیں اِدھر اُدھر اڑ رہی تھیں ۔ ۔ ۔ ابا بھی بھاگتے ہوئے کمرے میں آگئے تھے ۔ ۔ ٬٬ سعیدن بہت تیز آندھی آئی ہے ۔ ۔ ۔ کالی آندھی ہے ۔ ۔ برسوں کے بعد ایسی آندھی چلی ہے ۔ ۔ ۔ دروازہ بند کر لو کمرے کا ۔ ۔ ۔ لاﺅ ضیاءالدین کو مجھے دیدو ۔ ۔ ۔ ،، ابا نے نے مجھے گود میں اٹھالیا۔
٬٬ ابا یہ آندھی کیا ہوتی ہے،، میں نے ابا سے پوچھا
٬٬آندھی ۔ ۔ آندھی ہوتی ہے بیٹا۔،، اماں بولی
آندھی ۔ ۔ آندھی ہوتی ہے ۔ ۔ ۔ اماں ۔ ۔ مگر یہ کیا ہوتی ہے ۔ ۔ مجھے بتاﺅ ماں۔،، میں نے ضد کی
٬٬ ارے بیٹا ۔ ۔ جب اللہ میاں ۔ ۔ ۔ ۔۔کسی سے ناراض ہو جاتا ہے تو ۔ ۔ تو پھر آندھی آتی ہے ۔،، ۔ ابا نے کہا
٬٬ تو کیا اللہ میاں ہم سے ناراض ہے۔ ،، میں نے پوچھا
٬٬ نہیں ۔ ۔ بیٹا ۔ ۔ ۔ اللہ میاں ہم سے کیوں ناراض ہوگا ۔ ۔ ہم مسلمان ہیں اللہ کو ناراض نہیں کرتے ۔،، ابا بولے
٬٬ تو ابا،۔ ۔ پھر ۔ ۔ یہ آندھی ۔ ۔۔۔ آندھی کیوں ۔ ۔ آ گئی ہے ۔ ۔ مجھے بتاﺅ۔ ۔ ۔ ابا۔،، میں ضد کرتے ہوئے بولا
٬٬ارے بیٹا ۔ ۔ ۔ میں تجھے کیا بتاﺅں ۔ ۔ تو ابھی بچہ ہے ۔ ۔ ۔ ابھی تیری سمجھ میں کچھ نہیں آئے گا ۔،، ابا نے کہا
٬٬ کیوں ابا ۔ ۔ میری سمجھ میں کیوں نہیں آئے گا ۔ ۔ ۔ میں بچہ نہیں ہوں ۔ ۔ میں بڑا ہوں۔ ۔ ۔ میری سمجھ میں سب آتا ہے ۔،، میں نے اکڑتے ہوئے کہا ۔ ۔ ۔ ٬٬ مجھے بتاﺅ ابا ۔ ۔ یہ آندھی کیا ہوتی ہے۔،،
٬٬ اچھا ۔ ۔ اچھا ۔ ۔ ۔ بتاتا ہوں بیٹا ۔ ۔ پہلے تو کھانا کھالے۔،، ابا نے میرے سر پر ہاتھ پھیرتے ہوئے کہا
٬٬ نہیں ابا مجھے پہلے بتاﺅ ۔ ۔ ۔ آندھی کیا ہوتی ہے۔،، میںنے پھر ضد کی
٬٬ اچھا بیٹا ۔ ۔ ۔ جب اللہ میاں ناراض ہوتا ہے ، تو ہوا کو تیز تیز چلنے کا حکم دیتا ہے۔ ۔ ۔ اور جب ہوا تیز چلتی ہے تو وہ آندھی ہو جاتی ہے ۔،، ابا نے مجھے سمجھایا
تو کیا ہوا اندھی ہو جاتی ہے۔، میں نے پوچھ لیا
٬٬ہاں بس ہوا اندھی ہی ہو جاتی ہے ۔ ۔ وہ تیز تیز چلتی ہے ۔ ۔ تو اس کے سامنے جو آتا ہے وہ اڑ جاتا ہے ۔،، ابا ہنستے ہوئے بولے
٬٬ ابا یہ آندھی کیا سفید بھی ہوتی ہے ۔،، میں نے پھر پوچھ لیا
٬٬ سفید ۔ ۔ ۔۔ نہیں بیٹا ،، ابا ہنستے ہوئے بولے
٬٬ ابھی تو آپ نے کہا تھا ۔ ۔ ۔کا لی آند ھی آ رہی ہے ۔،، میں نے ابا کی طرف دیکھتے ہوئے کہا
٬٬چپ ہو جا بس۔ ۔ ۔ ،،اماں نے مجھے ڈانٹا ۔۔ ۔ ٬٬ اپنے ابا سے بیکار کی بحث کررہا ہے ۔ ۔ ۔ ۔ چل چپ چاپ کھانا کھا ۔ ۔ ۔ صبح سے بھوکا ہے کچھ بھی نہیں کھایا تو نے،،
اسی وقت ایک اور زبردست دھماکہ ہوا جیسے کوئی بڑی چیز باہر صحن میں آ کر گری ہو ۔ ۔ ۔ اس کے ساتھ ہی بادل گرجے اور بجلی ایسی کڑکی کہ ہر طرف روشنی سی پھیل گئی ۔ ۔ ۔ ۔ ۔اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے اندھیرا چھا گیا ۔ ۔ ۔ ہواﺅں کا شور بڑھ گیا تھا ۔ ۔ ۔ زوں زوں کی زوردار آوازیں آ رہی تھیں ۔ ۔ اور میں ڈر کے مارے ، ابا سے چمٹا ہوا تھا۔۔ ۔ ۔ ابا نے میرے سر پر پیار سے ہاتھ پھیرا اور پچکارتے ہوئے بولے۔٬٬ بیٹا، کھانا کھالے۔ ۔ ۔ صبح سے تونے کچھ بھی نہیں کھایا ہے ۔ ۔ ۔ ۔ کیا تجھے ابھی تک بھوک نہیں لگی ۔،، اور اس کے ساتھ ہی انہوں نے اماں سے کہا۔ ۔ ۔ ٬٬ سعیدن ۔ ۔ ۔ جا ۔ ۔ ۔ کھانا دے میرے بیٹے کو،،
میں نے انکار میں گردن ہلاتے ہوئے کہا۔٬٬ نہیں۔ ۔ نہیں ۔ ۔ مجھے بھوک نہیں ہے ۔ ۔ ۔ میں کھانا نہیں کھاﺅں گا۔ ۔ ۔ ،،
صبح سے جو کچھ ہو رہا تھا اس کی وجہ سے میری بھوک اڑ چکی تھی مجھے کچھ بھی اچھا نہیں لگ رہا تھا اور میرے دل میں ہول اٹھ رہی تھی ۔ ۔ ۔ ۔ اماں دوڑ کر میرے لئے قریب ہی رکھا ہوا کھانا اٹھا کر لے آئی اور ایک نوالہ بناکر مرے منہ میں ڈالا۔مجھے ایسا لگا جسے کسی نے کوئی کڑوی چیز منہ میں ڈال دی ہو۔ ۔ میں نے منہ بنا کر نوالے کو اُگلنے کی کوشش کی تو اماں اور ابا دونوں نے ڈانٹ دیا ۔ ۔ ۔ ۔٬٬ارے ۔ ۔ ارے۔ ۔ ایسا مت کرنا ۔ ۔ کھالو ۔ ۔ ۔ نہیں تو ۔ ۔دادا ماریں گے ۔ ۔ ۔،، میں نے زبردستی وہ نوالہ حلق سے اتارا ۔ ۔ ۔ اماں نے دوسرا نوالہ بنایا اور ان کا ہاتھ میرے منہ کی طرف بڑھا تو اسی وقت زور سے بادل گرجا ۔ ۔ ۔ ۔ اور بجلی کڑکی ۔ ۔ ۔ میرا جیسے دم ہی نکل گیا ۔
۔ ۔ میں پھر ابا سے چمٹ گیا۔ ۔ ۔ ابا نے بھی مجھے اپنے سینے سے لگالیا۔
٬ اوہ سعیدن بڑی تیز بارش شروع ہو گئی ہے ۔،، ابا نے کہا ۔٬٬ضیاءالدین کو سنبھالو یہ ڈر رہا ہے ۔ ۔ ۔ میں باہر جا کر دیکھتا ہوں ۔ ۔ کوئی چیز ہٹانے والی تو نہیں ہے۔،،
ابا آگے بڑھے اور جیسے ہی انہوں نے کمرے کا بند دروازہ کھولا۔ ۔ ۔ باہر دالان سے بارش کی بوچھاڑ پڑتی دکھائی دی اور اس کے ساتھ ہی ہوا کے ساتھ پھوار اندر آنے لگی۔
ابا باہر نکل گئے اورانہوں نے دروازہ باہر سے بند کر دیا تھا ۔ اماں مجھے اپنے سینے سے چپٹائے ہوئے تھی اورمجھے بڑا چین مل رہا تھا۔ ۔ ۔ ۔ وہ مجھے اپنی گود میں بھر کر جھولا سا جھلا رہی تھی۔ میں بھی اماں سے چپٹ گیا اور مجھے نیند سی آنے لگی۔
اس باربادل اس قدر تیز آواز سے گرجے اور بجلی کڑکی کہ اماں بھی ڈر گئیں اور انہوں نے مجھے اپنی گود میں بھینچ لیا۔ ۔ ۔ ۔ اور اس کے ساتھ ہی ابا دروازہ کھول کر اندر پلٹ آئے۔۔ ۔ ٬٬ سعیدن ۔ ۔ ۔ بڑی تیز اور دھواں دھار بارش ہو رہی ہے ۔۔۔۔ اولے بھی پڑنا شروع ہو گئے ہیں۔ ۔ ۔ یہ طوفان ہے ۔ ۔ طوفان آیا یے سعیدن ۔ ۔ اف ۔ ۔ میں نے اپنی زندگی میں ایسی طوفانی بارش نہیں دیکھی ۔۔ اور سعیدن ۔۔ ۔ بڑے بڑے اولے پڑ رہے ہیں۔ ۔۔ وہ بھی میں نے پہلی بار ہی دیکھے ہیں۔ ۔ ۔ اللہ ہماری توبہ ہم پر رحم کرنا ۔،،ابا بری طرح بارش میں بری طرح بھیگے ہوئے تھے۔
٬٬ میں دوسرے کپڑے نکالوں کیا ۔،،اماں نے ابا کو بھیگا ہو ا دیکھ کر کہا
٬٬ ارے کپڑے کیوں بدلوںابھی ۔ ۔ ۔ ذرا بارش کا زور کم ہو تو باہر جانا پڑے گا مجھے۔،، ابا مسکراتے ہوئے بولے
٬٬ کیوں اب کیوں جاﺅ گے باہر ۔ ۔ ۔ نہیں نہیں ایسی بارش می باہر مت نکلنا اب ۔ ۔ ۔ مجھے ڈرلگ رہا ہے ۔،، اماں بولی
٬٬ ابا مجھے بھی ڈرلگ رہا ہے ۔ ۔ ،،۔ میں اماں کی گود سے منہ نکالتے ہوئے بولا ۔٬٬ ابا ۔ ۔ ۔اب باہر مت جانا ۔ ۔ مجھے ڈر لگے گا۔،،
ابا ہنستے ہوئے بولے۔تمہاری ماں ہے نا پھر ڈرنے کی کیا بات ہے۔ ،، پھر انہوں نے اماں سے کہا۔ ۔ ٬٬ سعیدن ہمارے صحن کے پچھواڑے کی آدھی دیوار گر پڑی ہے ۔ ۔ ۔ باہر صحن میں اینٹیں بکھری پڑی ہیں۔ ۔ ۔ بارش ذرا تھم جائے اور اولے رک جائیں تو باہر جا کر دیکھنا پڑے گا کہ اور نقصان تو نہیں ہوا ہے ۔،،
٬٬ ابا ۔ ابا ۔ ۔ یہ اولے کیا ہوتے ہیں ۔ ۔ مجھے بھی دکھانا ابا ۔ ۔ ،، میں نے کہا تو ایک بار پھر مجھے ڈانٹ پڑ گئی ۔ ۔ ۔ ۔ اس بار اماں اور ابا دونوں نے ایک ساتھ ڈانٹا تھا۔ ۔ ۔ میں سہم کر اماں کی گود سے چپک گیا ۔
بارش کی یہ خوفنا ک شام۔ ۔ ۔ یہ کالی آندھی۔ ۔ ۔ یہ اولے پڑنا ۔ ۔ بادلوں کا گرجنا ۔ ۔ بجلی کا کڑکنا ۔ ۔ ۔ میری زندگی کا ایک ایسا باب ہے جسے میں آج تک نہیں بھول پایا۔ اگرچہ یہ سترسال سے بھی زیادہ پرانی بات ہو چکی ہے ۔ ۔ ۔ میں نے پاکستان آ کر بھی بڑی بڑی دھواں دھار بارش اور آندھیاں دیکھی ہیں لیکن باول میں جو بارش پڑی اور اولے پڑے۔ اس کا مقابلہ نہیں ہو سکتا ۔ ۔ ۔ میں یاد کرتا ہوں تو کانپ کر رہ جاتا ہوں۔ ۔ ۔ جس وقت میں یہ آپ بیتی لکھ رہا ہوں تو مجھے یہی محسوس ہو رہا ہے کہ اب بھی ویسی ہی بارش ہو رہی ہے ۔ ۔ ۔ طوفان آیا ہوا ہے ۔ ۔ ۔ کالی آندھی سب کو اپنے ساتھ اڑاکر لے جا رہی ہے ۔ ۔ ہر چیز تباہ و برباد ہو کر رہ گئی ہے ۔ ۔ ۔ اف اللہ ۔ ۔ میری توبہ ۔ ۔ ۔یہ سب کچھ میرے دل و دماغ پر اس بری طرح سے چھایا ہوا تھا کہ کوشش کے باوجود بھول نہیں پایا تھا۔
میں پھر اپنے بچپن میں پہنچ گیا ۔ ۔ ۔ میرا ذہن پھر اسی بارش کی طرف چلا گیا ۔۔ ۔ میں اماں کی گود میں چپکا ہوا تھا۔ ۔ کئی گھنٹے تک اسی انداز سے بارش ہوتی رہی ۔ ۔ ۔ بجلی کڑکتی رہی ۔ ۔ ۔۔۔ زوں زوں کی دل دہلا دینے والی آوازیں آتی رہیں اور اولے پڑنے کا ایسا شور مچ رہا تھا کہ میری سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ یہ سب کیوں ہو رہا ہے۔۔ ۔ابا اور اماں تھوڑی تھوڑی دیر کے بعد ایک دوسرے کی طرف پریشان نظروں سے دیکھ رہے تھے۔
٬٬ سعیدن دعا کرو بارش رک جائے ۔ ۔ ۔ پتہ نہیں ابا اور تایا کلو، بدرالدین بھائی اور بھابی خیرن وغیرہ کس حال میں ہوں گے۔،،ابا نے پریشان ہوتے ہوئے کہا۔
٬٬وہ سب دادا کے ساتھ ہی ہوں گے۔۔ ۔فکر تو مجھے بھی ہورہی ہے۔،، اماں بولی
٬٬ہاں ہوں گے تو وہیں۔ ۔ میں انہیں ابا کے پاس ہی چھوڑ کر آیا تھا ۔ ۔ ابا نے مجھے خود بھیجا تھا یہاں۔ ۔ ۔ انہیں سب سے زیادہ اس بات کی فکر تھی کہ ضیاءالدین بھوکا ہے ۔ انہوں نے کہا تھا کہ اسے کھانا کھلا کر سلا دوں ۔ ۔ مگر یہ ابھی تک کھانا بھی نہیں کھا سکا ۔،، ابا نے میری طرف اشارا کرتے ہو ئے کہا۔
دو گھنٹے ہوگئے تھے۔ بارش اسی طرح ہو رہی تھی ۔۔۔ ۔ ہواﺅں کے شور سے میرے کان پھٹے جا رہے تھے ۔ ۔ ۔ اولے پڑنے کی آواز ابھی تک اسی زور و شور کے ساتھ آرہی تھی ۔ ۔ ۔ اور اس شور کے ساتھ ہی میرے دل میں اولے دیکھنے کا چاﺅ بھی بڑھ رہا تھا ۔ ۔ میرا ذہن تیزی سے کام کرنے لگا ۔ ۔ مین سوچ رہا تھا کہ اولے کیسے دیکھوں ۔۔۔۔ ۔ اولے کیسے ہوتے ہیں مجھے کچھ پتہ نہیں تھا۔ ۔ ۔مگر میں انہیں دیکھنا چاہتا تھا کہ وہ کیسے ہوتے ہیں۔
پھر اسی دم میرے ذہن میں ایک ترکیب آئی اور میں نے اماں کی گود سے اپنا منہ باہر نکالا اور ابا سے بولا۔٬٬ابا ۔۔۔ ۔ ابا میری بات سنو ابا۔،،
٬٬ ابا نے پریشان ہو کر میری طرف دیکھا اور پیار سے بولے۔٬٬ ہاں بیٹا ۔ ۔ بول ۔ ۔ کیا بات ہے ۔،،
٬٬ ابا آپ کہہ رہے تھے نا ۔ ۔ میں کھانا کھالوں۔،،
٬٬ہاں ۔ ۔ آخر بھوک نے پیٹ میں درد کر دیا ہے نا۔،، ابا نے کہا
٬٬ نہیں تو ۔ ۔ میرے پیٹ میں تو درد نہیں ہے ۔،، میں سنبھل کر بیٹھ گیا
٬٬ بھوک لگی ہے ۔ ۔ سعیدن چل اسے کھانا کھلا دے۔،، ابا نے میری طرف دیکھتے ہوئے اماں سے کہا
٬٬ پہلے میری بات مانو ۔ ۔ ابا ۔ ۔ پھر میں کھانا کھالوں گا۔،، میں نے کہا
٬٬ کون سی بات۔،، ابا نے حیرت سے میری طرف دیکھا
٬٬ پہلے مجھے اولے دکھاﺅ ابا ۔ ۔ پھر میں کھانا کھالوں گا ۔،، میں نے ابا کے سامنے اولے دیکھنے کی شرط رکھی
٬٬ گدھا ہے بالکل ۔ ۔ ہنھ ۔ ۔ یہ بھی کوئی ماننے والی بات ہے،، ابا کو غصہ آگیا ۔ ۔٬٬ پاگل ہوگیا ہے۔ ۔ ۔ باہر طوفان اٹھا ہوا ہے دھواں دھار بارش ہو رہی ہے اور اسے اولے دیکھنے کا شوق اٹھ رہا ہے۔ ۔ ۔،،
ابا کے ڈانٹنے پر مجھے رو نا ا ٓ گیا اور میں چیخ چیخ کر رونے لگا ۔ یہ صورت حال ابا اور اماں دونوں کے لئے عجیب تھی ۔ وہ ایک دوسرے کی طرف دیکھنے لگے ۔ مجھے چپ کرانے کے لئے اماںآگے بڑھی اور اس کے ساتھ ہی ابا بھی میرے قریب آ گئے اور مجھے پیار سے سمجھانے لگے ۔ انہوں نے کہا کہ جیسے ہی بارش رکے گی وہ مجھے اولے دکھا دیں گے۔ میں نے انکارمیں گردن ہلائی اور بولا ۔٬٬ ابا جب بارش رک جائے گی تو کیا اس وقت بھی اولے پڑیں گے۔،،
میرا یہ سوال ابا کو لاجواب کر گیا ۔ انہوں نے حیرت سے اماں کی طرف دیکھا اور مسکراتے ہوئے بولے۔٬٬ سعیدن تیرا بیٹا، بہت چنٹ ہے۔ ۔ ۔ اسے یہ بھی معلوم ہے کہ جب بارش رک جائے گی تو اولے بھی رک جائیں گے ۔ وہ مسکراتے ہوئے آگے بڑھے اورمجھے پیار سے اپنی گود میں اٹھا لیا۔ ٬٬۔ چل گدھے ، میں دکھاتا ہوں اولے۔ ۔ ۔،،
٬٬ ارے ، کیسے دکھاﺅ گے باہر تو تیز بارش ہو رہی ہے ،،۔ اماں چیخ کر بولی
٬٬ ہونے دو بارش۔،، ابا بولے۔٬٬یہ نہیں مانے گا اور اودھم مچائے گا۔ ۔ ۔ دادا کو پتہ لگے گا تو وہ الگ غصہ ہوں گے۔،،
ابا مجھے گود میں لئے آگے بڑھے اور انہوں نے دروازہ کھولا۔ ایک دم بارش کی پھوار نے ہمیں گیلا کر دیا۔ میں نے پہلی بار دیکھاکہ اولے کیسے ہوتے ہیں ۔ باہر صحن پانی سے بھرا ہوا تھا اور بارش کے ساتھ بڑے بڑے اولے پڑ رہے تھے۔ وہ گول گول بیر جیسے تھے بلکہ اس سے بھی بڑے تھے ۔ مجھے بہت عجیب لگ رہاتھا ۔ اولوں کے پانی سے بھرے صحن میں گرنے کی وجہ سے ایک شور اٹھ رہا تھا جس سے میرے کان پھٹے جارہے تھے۔ اسی دم مرے کانوں میں ٬٬اللہ اکبر ،،کی آواز آئی ۔ ۔ ۔ یہ آواز ایسی ہی تھی جیسی ہمارے گاﺅں کی مسجد میں مولوی صاحب ٬٬ اللہ اکبر،، کہتے تھے۔۔ ۔ ۔ (جاری ہے )

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

ست رنگی دنیا ٭ میری کہانی ٭ضیاءشہزاد ‘٭ قسط نمبر17

ست رنگی دنیا ٭ میری کہانی ٭ضیاءشہزاد ”آندھیاں غم کی یوں چلیں، باغ اجڑ کے …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے