سر ورق / ناول / ڈھل گیا ہجر کا دن نادیہ احمد آخری قسط

ڈھل گیا ہجر کا دن نادیہ احمد آخری قسط

۔

ڈھل گیا ہجر کا دن

نادیہ احمد

قسط نمبر12

ابھی کچھ دن مجھے میری محبت آزمانے دو!

مجھے خاموش رہنے دو۔۔

سنا ہے عشق سچا ہو تو

خاموشی لہو بن کر رگوں میں ناچ اٹھتی ہے۔

ذرا اس کی رگوں میں خاموشی کو جھوم جانے دو

ابھی کچھ دن مجھے میری محبت آزمانے دو!

اسے میں کیوں بتاو ¿ں اس کو میں نے کتنا چاہا ہے

بتایا جھوٹ جاتا ہے

کہ سچی بات کی خوشبو تو خود محسوس ہوتی ہے

میری باتیں میری سوچیں اسے خود جان جانے دو

ابھی کچھ دن مجھے میری محبت آزمانے دو!

اچانک تاروں بھرا آسمان بادلوں کی اوٹ میں چھپ گیا تھا۔ فضا میں گیلی مٹی کی سوندھی مہک رچی ہوئی تھی۔ اس نے کمرے کی کھڑکی سے ننھی بوندوں کو زمین پہ ٹپ ٹپ گرتے دیکھا۔پانی کے قطرے ایک تسلسل سے سطحِ زمین پہ پھیل کر پیاسی دھرتی میں جذب ہورہے تھے۔ آسمان کی وسعتوں سے زمین کا سفر کرتے سوکھی زمین کی آبیاری میں فنا ہورہے تھے۔ موسم میں اس پل یہ خوشنما تبدیلی اسے بہت بھلی لگی تھی۔ شائد یہ دل کے موسم کا اثر تھا ورنہ آج سے پہلے اس پہ موسموں کے تغیر نے کب کوئی تاثر چھوڑا تھا۔ ذہن میں اس وقت گزرے لمحے کسی فلم کی مانند ابھر رہے تھے۔ ابھی چند ماہ پہلے وہ جس کے نام سے بھی واقف نہیں تھی آج اس کے لئے دل میں جذبے سر اٹھا رہے تھے۔ بہت دنوں سے وہ denail کی کیفیت میں تھی لیکن ہر گزرتا دن اس کے انکار کو کمزور کر رہا تھا۔ وہ حیران تھی کہ کیا کبھی زندگی میں اس پل کا سامنا بھی ممکن تھا کہ کوئی ہولے ہولے دل میں اتر جائے گا۔ دشمن سے دشمنِ جاں بن جائے گا۔

 ایک وقت تھا علینہ کو مردوں کے وجود سے نفرت تھی کیونکہ اس کے قریب ترین مردوں نے اس کی زندگی میں فقط مشکلات اور دکھوں میں اضافہ ہی کیا تھا۔ سمیر وہ پہلا شخص تھا جو اس کی سوچ سے یکسر مختلف تھا۔ وہ جتائے بغیر خیال رکھنے والوں میں سے تھا، احساس دلائے بناءمحبت کرنے والوں میں سے تھا ۔ اس کی موجودگی میں اپنا آپ محفوظ لگتا تھا۔ وہ ساتھ ہوتا تو زندگی، زندگی محسوس ہوتی۔ بظاہر نوک جھونک ، شرارت اور غصہ دکھاکر وہ اپنے دل میں اس کے لئے بدلتے جذبات کو دبا رہی تھی کہ اتنا تو طے تھا اسے الفت کے راستے پہ چلنا ہی نہیں لیکن اس دل پہ کب ہمارا اختیار رہا ہے۔ یہ بغاوت پہ اتر آئے تو کچے گھڑوں پہ چناب پار کرنا پڑتا ہے۔

بارش اب کچھ ہلکی ہونے لگی تھی۔ وہ کھڑکی سے گردن نکالے اب بھی بوندوں کی جل ترنگ دیکھ رہی تھی۔ اچانک ابھی کچھ دیر پہلے بھیجے گئے سمیر کے میسیج کا خیال آیا اور بے ساختہ اس کے لبوں پہ مسکراہٹ ابھر آئی۔ دل نے بے اختیار اس خوبصورت لمحے سمیرکے ساتھ کی تمنا کی تھی۔اپنی بے حجابانہ سوچوں پہ گھبرا اس نے جلدی سے کھڑکی کے دونوں پٹ بند کئے۔ کلائیوں میں پہنی چوڑیوں کی جھنکار سے پورا کمرہ گونج اٹھا تھا۔ وہ اب تک اسی سفید لباس میں تھی۔ اسی سنگھار کے ساتھ جس روپ کی سمیر نے تعریف کی تھی اور یہ پہلا موقع تھا وہ اپنی تعریف بار بار سننا چاہتی تھی۔

٭….٭….٭

”میں تو کہتی ہوں ایک بار پھر سوچ لو۔ زندگی میں ایسا موقع بار بار نہیں ملا کرتا“۔ شاکرہ نے موقع ملتے ہی ساری بات بیٹی کے گوش گزار کر دی تھی۔ وہ دونوں ایک ہی کمرے میں بچوں کے ساتھ لیٹی ہوئی تھیں۔ دونوں بچے رات کے اس پہر گہری نیند میں سو رہے تھے۔ علینہ بھی چند منٹ بعد ہی اپنے کمرے میں چلی گئی تھی۔ امید تھی وہ اب تک سو چکی ہوگی یہی سوچ کر شاکرہ نے آسیہ کو نور کا پیغام سنایا۔

”جس راستے پہ چلنا ہی نہیں اس کے متعلق سوچنا بھی کیوں۔ میں اس بات کو کیوں نا سوچوں جس میں بہتری ہو“۔آسیہ نے مدہم لہجے میں کہتے اپنا فیصلہ برقرا رکھا۔ وہ اب بازو کا تکیہ بنائے بیڈ پہ نیم دراز تھی جبکہ شاکرہ بستر پہ آلتی پالتی مارے چھالیہ کتر رہی تھیں۔

”میرا دل تو پکار پکار کر ایک ہی بات کہتا ہے کہ علینہ کے حق میں یہی سب سے بہتر ہے۔ اس نے کتنی حسرت سے علینہ کا نام لیا ہے۔ تم اگر دل میں وسعت پیدا کرو تو ۔۔۔“گو وہ پہلے ہی اس انکار سے واقف تھیں لیکن کیونکہ یہ ان کے اپنے دل کی بھی حسرت تھی اسی لئے بیٹی کو سمجھانا ضروری سمجھا۔

”امی آپ اس موضوع کو چھوڑ کیوں نہیں دیتیں؟“ اس بار آسیہ کے لہجے میں واضح جھنجھلاہٹ تھی ۔ جیسے وہ بار بار انہیں انکار کرکے خجل ہورہی ہے۔ شاکرہ نے بیٹی کے اس انداز پہ برا سا منہ بنایا مگر کہا کچھ نہیں۔

”میں ماں ہوں اس کی، مجھ سے بڑھ کر بھلا کوئی اس کی خوشی چاہ سکتا ہے۔ اپنے ہاتھوں کیسے اسے جہنم میں جھونک دوں۔ “ اسے اپنے لہجے کی تیزی کا احساس ہوا تھا اسی لئے دھیمی آواز میں وضاحت دی۔

”تم زیادتی کر رہی ہو آسیہ۔۔۔اور یہ بھی مت بھولنا تمہاری بیٹی کی خوشی بھی اس میں شامل ہے۔ کیسے پھول سی کھل گئی ہے وہاں جا کر۔ تم بھلے اس کی ماں ہو، لیکن مجھے بھی وہ تم سے کم عزیز نہیں۔ بلکہ اصل سے سود پیارا ہوتا ہے ۔ اولاد کی اولاد، خود س سے بڑھ کر پیاری ہوتی ہے“۔ شاکرہ کو تو علینہ کے تیور دیکھ سو فیصد یقین تھا کہ وہ دل و جان سے سمیر کو پسند کرتی ہے۔ وہ بہت کم عمری میں ان کے پاس رہنے کے لئے آئی تھی۔ اسے ہر دن، ہر مہینہ اپنی جہاندیدہ نگاہوں سے بڑھتا ہوا دیکھا تھا انہوں نے، ایسا ممکن تھا وہ اس میں نظر آتی اتنی واضح تبدیلی کو محسوس نا کرتیں۔ اور پھر یہ بات تو خود آسیہ کو بھی محسوس ہوچکی تھی کہ علینہ کا رجحان کس طرف ہے۔

”علینہ نے کون سا کچھ زبان سے کہا ہے امی، جو بھی بات ہے اسے یہیں کے یہیں ختم کریں۔ پھر وہ تو ابھی بچی ہے اسے اچھے برے کی کیا سمجھ؟ اب ایسی بھی کیا افتاد پڑ ئی ہم پہ جو بس ایک ”سمیر “ کے نام پہ سوئی اٹک گئی ہے آپ کی“۔آسیہ نے زچ ہوکر کہا۔

”ابھی تک تو نہیں بولی، لیکن اگر بول پڑی تو اس وقت بھی یہی فیصلہ ہوگا تمہارا؟“شاکرہ کے سوال پر آسیہ کا چہرہ ماند پڑ گیا۔ واقعی اگر اس نے خود کہہ دیا تو کیا تب بھی آسیہ اس رشتے سے اتنی آسانی سے جان چھڑا پائے گی۔ علینہ کی ضد سے وہ کون سا نا واقف تھی۔ اس وقت اگر بیٹی کی بات نا مانی تو تمام عمر کے لئے اس کے دل میں یہ گرہ بن جائے گی ۔

”ماما کا فیصلہ بالکل درست ہے نانی!“وہ دونوں ہی دروازے پہ کھڑی علینہ کے وجود سے غافل تھیں۔ اس کی آواز پہ چونک کر ان دونوں نے ہی ایک ساتھ اس کی طرف دیکھا۔

”آپ کیسے بھول سکتی ہیں بابا کی زیادتیاں۔ ٹھیک ہے وقت گزر گیا اور ہم نے انہیں معاف بھی کردیا لیکن اس کا مطلب تو ہرگز نہیں کہ نئے سرے سے اس فیملی میں رشتے جوڑ لئے جائیں“۔وہ آہستہ آہستہ چلتی بیڈ کے پاس آ پہنچی تھی۔ آسیہ اسے اندر آتا دیکھ کر اب اٹھ کر بیٹھ گئی ۔ وہ شاکرہ کے سامنے بیڈ کی پائنتی پہ آ بیٹھی۔

”آئے ہائے۔۔۔۔وہاں تو پھوپھی پہ بڑی جان لٹا رہی تھی۔ یہ اچانک پلٹا کس لئے کھایا ؟“شاکرہ سے اپنی حیرت پہ قابو رکھنا مشکل تھا۔ انہیں یقین نہیں آرہا تھا کہ علینہ اچانک اس طرح بدل جائے گی۔

”ہاں تو پھوپھو سمجھ کر ہی مل رہی ہوں۔ اس سے آگے کا تو سوچئے گا بھی مت۔ اس کی شکل بھی پہلے دن سے زہر لگتی ہے مجھے اور آپ میرے اس سے رشتے کی بات کر رہی ہیں“۔اس نے سنجیدگی سے دو ٹوک انداز میں جواب دیا۔ آسیہ نے اس پل ماں کی طرف اس انداز میں دیکھا جیسے کہتی ہو اب تسلی ہوگئی آپ کی۔

”ویسے بھی ابھی مجھے پڑھنا ہے۔ میں ان شادی بیاہ کے جھنجٹوں میں نہیں پڑنا چاہتی۔ ملتا ہی کیا شادی کرکے۔ ماما کی مثال دیکھ کر تو مجھے ویسے بھی اس نام سے وحشت ہونے لگی ہے۔ مرد ذات کم یا زیادہ بابا سے مختلف نہیں ہوتی“۔ ایک توقف کے بعد وہ پھر بولی۔ اس کی آواز میں نمی تھی۔ آسیہ جو اس کی طرف ایک ٹک دیکھ رہی تھی جانے کیوں اس کی بات پہ اس نے نگاہیں جھکائیں تھیں۔

”آپ پھوپھو کو صاف منع کردیں۔ میں یہ شادی نہیں کرنا چاہتی“۔بہت دھیمے لہجے میں کہتے وہ بیڈ سے اٹھ کر کھڑی ہوئی اور ان دونوں کی طرف دیکھے بغیر تیز قدموں سے چلتی کمرے سے باہر نکل گئی۔

”اے لو! اب اسی کی کمی تھی جو پوری ہوگئی۔ ٹکڑا توڑ انکار منہ پہ مار گئی کل کی چھوری۔ خیر جو تم دونوں ماں بیٹی کی خوشی۔ “ اس کے کمرے سے نکلتے ہی شاکرہ نے غصے سے کہا۔ آسیہ کوئی جواب دئیے بغیر ایک بار پھر بستر پہ لیٹ گئی جبکہ شاکرہ اب تک منہ ہی منہ بڑبڑا رہی تھیں۔ ایک اچھا رشتہ ہاتھ سے نکلنے کا قلق اپنی جگہ انہیں تو بس نور فاطمہ کو انکار کرنا مصیبت نظر آرہا تھا۔

٭….٭….٭

”وہاں ایمرجنسی سے کال آرہی ہے آپ کی سر“۔فارس دھیمے قدموں سے چلتا ایمرجنسی روم کی طرف بڑھا۔ آج کی رات ویسے بھی بڑی بھاری تھی۔ آج فریحہ کی منگنی تھی ۔وہ فریحہ جس سے اس کی محبت کی شروعات مطلب کی بناءپر ہوئی پر دھیرے دھیرے وہ عادت کی طرح اس کی نپی تلی زندگی کا حصہ بنتی چلی گئی۔ ا س سے فارس کے اختلافات اس وقت شروع ہوئے جب فریحہ نے اس پہ اپنے مقصد کو ترجیح دی۔ وہ مرد تھا انا پہ چوٹ پڑی تھی، کیسے ہار مان جاتا؟ پھر بھی اس نے کبھی نہیں سوچا تھا فریحہ اتنی آسانی سے اس کی زندگی سے جا سکتی ہے۔ وہ اس کی تھی، اس کے لئے بنی تھی۔ اس ایک اختلاف کے علاوہ ان میں کتنی مماثلت تھی۔ ان کی سوچ ، ان کی آئییڈ یالوجی میں تضاد ہوتا تو کئی سال پہلے وہ دونوں اپنے راستے جدا کرچکے ہوتے۔ کاش اس دن وہ جھگڑا نہ ہوا ہوتا تو آج وہ اس کرب سے نا گزرتا۔ فارس کے مسائل حقیقی تھے پر ان کا جو حل وہ سوچ کر بیٹھا تھا وہ غیر فطری تھا۔ فریحہ کی محبت بے لوث تھی شائد اسی لئے فارس اس لمحہ کو بھلا نہیں پارہا تھا جب اس نے روتے ہوئے اسے اپنی منگنی کی اطلاع دی تھی۔ وہ قیمتی آنسو اس کی آنکھوں سے سیدھا فارس کے دل پہ گرے تھے۔

 اور آج رات فریحہ کی عمیر سے منگنی سے، پھر کیسے یہ رات سکون سے گزر جاتی؟

٭….٭….٭

وہ کمرے کے باہر بنے برآمدے سے نکل کر صحن میں چلی آئی۔ بارش اب رک چکی تھی البتہ فضا میں شدید حبس تھا۔ ہوا بند تھی اور رات کے اس پہر گھٹن اور وحشت سے اسے اپنا سانس بند ہوتا محسوس ہورہا تھا۔ اس نے ایک نگاہ اٹھا کر آسمان کی طرف دیکھا۔ رات سیاہ اور ویران تھی۔ ابھی کچھ دیر پہلے والا رومان نیند میں دیکھے خواب کی طرح رخصت ہوچکا تھا اور اب جو کچھ تھا وہ حقیقت تھی۔ درناک، غمناک اور سفاک۔۔۔

ویکھ نجومی۔۔۔۔ہتھ دیاں لیکاں

بختاں والی۔۔۔گل تے دس دے

ہن تے ساں وی مکدے جاندے

جیون دا ۔۔۔کوئی وَل تے دس دے

”بس میری محبت کی عمر اتنی مختصر تھی۔ ابھی شروع اور ابھی ختم۔ “ اپنے ہاتھوں کی لکیروں کو حیرت سے تکتے اس نے خودکلامی کی تھی۔ چند لمحوں پہلے آنکھوں میں سجایا خواب اپنے ہی ہاتھوں سے نوچ لیا تھا ۔وہ تو اپنے کمرے میں ایک حسین مستقبل کا خواب جاگتی آنکھوں سے دیکھ رہی تھی جب اسے ساتھ والے کمرے سے نانی کی آواز سنائی دی۔ علینہ سمجھی تھی وہ سو چکی ہوں گی اور اسی تجسس میں وہ ان کے کمرے کی طرف آئی۔ دروازہ کھلا تھا اور اس نے بآسانی ان دونوں کی بحث سن لی تھی۔ اس پل تو تکلیف اور اذیت کے احساس پہ جذبات حاوی تھے۔ بس اتنا یاد تھا اسے ماں کے لئے مزید امتحان نہیں بننا تھا لیکن اب درد کی شدت برداشت نہیں ہو پارہی تھی۔

 وہاں کھڑے کھڑے اس نے آسیہ کی مشکل آسان کر دی تھی۔ اس کے انکار کو اپنا فیصلہ بنا کر اپنی زندگی کا سب سے بڑا اور سب سے مشکل فیصلہ کیا تھا ۔ وہ چاہتی تو ماں کو قائل کر سکتی تھی، اس سے التجا کر سکتی تھی، ضد بنا سکتی تھی لیکن ایسی خوشی کس کام کی جس میں زندگی دینے والی کی خوشی شامل نا ہو۔

اور اب اس حبس بھری گھٹن زدہ رات میں جب آسمان سے پانی برسنا بند ہوچکا تھا، علینہ کی آنکھیں مینہ برسا رہی تھیں کیونکہ زندگی کا گلا اپنے ہاتھوں سے گھونٹنا سو بار مرنے سے زیادہ اذیت ناک ہے۔

٭….٭….٭

”تیرا دماغ تو ٹھیک ہے لڑکے یا باو ¿لے کتے نے کاٹ کھایا ہے؟“ رخشندہ کو مونس کی دماغی حالت پہ شبہ ہوا تھا۔ دایاں ہاتھ متعجب انداز میں گال پہ ٹکاتے اس نے تیز لہجے میں کہا۔

”کتے نے کاٹ کھایا ہے“۔جواب ترکی با ترکی آیا تھا۔

” اب خوش؟“وہ سامنے صوفے پہ ٹانگ پہ ٹانگ جمائے بیٹھا اپنے مٹیالے جاگرز میں مقید پاو ¿ں کو مسلسل ہلا رہا تھا جیسے شدید اضطراب میں ہو۔ اس کے ایکدم چڑ کر بولنے پہ رخشندہ کو غصہ تو بہت آیا لیکن اکلوتی اولاد جان کر برداشت کرلیا ۔ البتہ چہرہ اب بھی سنجیدہ تھا کیونکہ اس بار جو فرمائش وہ اس کے پاس لے کر آیا تھا اسے پورا کرنا رخشندہ کے اختیار میں ہوتا بھی تو وہ ہرگز اسے پورا نا کرتی۔

”یہ بتائیں اب آپ ان سے بات کریں گی یا نہیں؟“ اس نے ابرو اچکائے سوال کیا۔ پاو ¿ں اب بھی مسلسل ہل رہا تھا۔

”نہیں“۔رخشندہ کا جواب دو ٹوک تھا۔ اسے تو یہ حیرت نہیں جا رہی تھی اچانک مونس کو علینہ سے شادی کرنے کا جنون کیونکر سوار ہوا۔ ٹھیک ہے وہ اس کے ساتھ اس کے کالج میں پڑھتی تھی لیکن جتنا کچھ اس دوران ہوچکا تھا اس کے بعد تو اسے علینہ کی شکل سے بھی نفرت ہونی چاہیئے تھی۔ کہاں وہ اب ماں کے پاس اس سے شادی کی فرمائش لئے حاضر ہوگیا تھا۔

”اس منحوس ماری چڑیل کو میں اپنی بہو بنا کر لے آو ¿ں۔ ایسا تو میں مرتے دم تک نہیں ہونے دوں گی۔ میرے اکلوتے بیٹے کو کیا بھلی لڑکیوں کی کمی ہے جو وہی رہ گئی۔ اور تو بھول گیا اس نے کیا کچھ کیا تھا تیرے ساتھ“۔کوئی اور لڑکی ہوتی تو وہ سو دل سے بیٹے کی پسند پہ چلی جاتی رشتہ مانگنے لیکن سوتن کی اولاد کو کیسے بہو بنا کر لے آئے۔ اتنا ظرف نہیں تھا اس میں اور ابھی تو اسے مونس کا ہفتہ بھر تھانے میں بند رہنا نہیں بھولا تھا۔ لیکن وہ نہیں جانتی تھی مونس بھی اس بات کو نہیں بھولا تھا بلکہ اپنی ہتک اس کے اندر کانٹا بن کر چبھ گئی تھی۔

”کچھ نہیں بھولا میں اور آپ کو بھی یاد دلانے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ پھر اس نے کون سا آپ کے ساتھ رہنا ہے۔ یہ بات میں پاپا سے بھی کر سکتا تھا اور انہیں تو کوئی اعتراض بھی نا ہوتا۔ آپ سے اس لئے کی کیونکہ خاور انکل آپ کی بات مانتے ہیں۔ اب اگر آپ نے میری بات نہیں سنی تو میں سیدھا پاپا کو لے جاو ¿ں گا اس کی نانی کے گھر“۔اس نے اس بار بڑے اکھڑ لہجے میں جواب دیا تھا کہ رخشندہ اس کا منہ حیرت سے تکتی رہ گئی۔ اس کے اندر اس وقت بدلے کی آگ جل رہی تھی ۔ علینہ سے شادی وہ کسی محبت میں نہیں بلکہ اسے نیچا دکھانے کے لئے کرنا چاہتا تھا اور جانتا تھا رخشندہ ، خاور پہ بآسانی اتنا پریشر ڈال سکتی ہے ۔

”دھمکی دے رہا ہے مجھے۔ بھرے کالج میں تھپڑ مارا تھا اس نے تجھے، گھرگیا تو جوتیوں سے خاطر کرے گی تیری یاد رکھنا میری بات کو“۔ وہ بھی اس بار سیدھی ہوگئی تھی۔ اب وہ مونس کو کیا بتاتی حالات پہلے جیسے نہیں رہے۔ خاور نے اس دن کے بعد مونس کا اس گھر مین داخلہ تک بند کر دیا تھا۔ وہ تو اب خود اس سے بھی سیدھے منہ بات نہیں کرتا تھا۔ رشتہ تو کیا خوب دیتا اپنی بیٹی کا۔

”امی میں آپ کو صاف بتا رہا ہوں۔ مجھے علینہ سے ہر حال میں شادی کرنی ہے ورنہ میں کچھ بھی کر گزروں گا۔ پھر روتی رہیئے گا ساری عمر۔ میری شکل دیکھنے کو بھی ترس جائیں گیں آپ“۔دھمکی آمیز لہجے میں کہتا وہ ایک جھٹکے سے صوفہ سے اٹھا تھا۔

”اللہ کا نام لے مونس، کیا بکواس منہ سے نکال رہا ہے۔ ایک لڑکی کی خاطر اپنی ماں کو دکھ دے گا۔ قیامت کے دن اپنا دودھ نہیں بخشوں گی تجھے۔ “رخشندہ نے جذبات کا سہارا لے کر بیٹے کو قائل کرنے کے ساتھ اپنے کسی بھی احمقانہ اقدام سے باز رکھنے کی کوشش کی لیکن وہ آج ساری حدیں پار کرنے کے موڈ میں تھا۔

”قیامت کی قیامت پہ دیکھی جائے گی۔ فی الحال تو دنیا کی بات کریں۔ دیا ہی کیا ہے آپ نے مجھے۔ کم عمری میں باپ کے حوالے کرکے دوسری شادی کرلی۔ اس وقت جب بچوں کو ماں کی ضرورت ہوتی ہے آپ نے میرا خیال نہیں کیا۔ آج آپ کو اپنا حق یاد آرہا ہے۔ میری خوشی اس وقت عزیز تھی نا آج۔ “رخشندہ اس کے اندر بھرا زہر باہر نکلتا دیکھ کر سن رہ گئی تھی۔ اسے تو لگتا تھا وہ ایک بہت اچھی ماں ہے۔ شوہر سے الگ ہوکر، دوسری شادی کرنے کے باوجود اس نے مونس سے اپنا رابطہ نہیں توڑا تھا۔ وہ ہمیشہ اس کی چھوٹی سے چھوٹی ضروریات کا خیال رکھتی۔ اس کے آدھی زبان سے کہنے پہ اسے پیسے تھما دیتی۔ اس کی خوشی کی خاطر تو اس نے کبھی خاور کی پرواہ بھی نہیں کی تھی پھر بھی وہ اسے جتا رہا تھا کہ وہ ایک بری ماں ہے۔ اس نے اپنی اولاد کے لئے کچھ نہیں کیا۔

”اتنا بد ظن ہے تو اپنی ماں سے مونس“؟اس نے کانپتے لبوں سے کہا۔ یہی فرق ہوتا ہے پالنے اور پل جانے میں۔ کاش اس نے اس کی ضروریات پوری کرنے کے ساتھ ساتھ اس کی تربیت بھی کی ہوتی تو آج اپنے اکلوتے بیٹے کے ہاتھوں اتنی ذلت نا سہنی پڑتی۔

”پلیز کوئی ایموشنل سین مت بنائیں۔ جو میں چاہتا ہوں وہ کردیں بات ختم ۔ ورنہ میں خود کچھ کرلیتا ہوں“۔اس نے ہاتھ اٹھا کر اونچے لہجے میں کہا اور رخشندہ کا اپنے کندھے پہ ٹکا ہاتھ ایک جھٹکے سے پرے کیا تھا۔

”کیا ہورہا ہے یہاں؟“اس پل وہ دونوں اپنی باتوں میں مگن تھے جب اچانک خاور کمرے میں داخل ہوا۔

”اور تم۔۔۔۔تمہیں منع کیا تھا نا میں نے کہ مجھے اپنی شکل مت دکھانا۔ پھر کیا کر رہے ہو یہاں؟“مونس کو دیکھ کر خاور نے ناگواری سے تیوریاں چڑھاتے اونچے لہجے میں کہا۔ خاور اب مونس کو کھا جانے والی نظروں سے دیکھ رہا تھا۔ اس کے بگڑے ہوئے تیور دیکھ کر رخشندہ ایکدم آگے بڑھی۔

”خاور وہ۔۔۔وہ مونس مجھ سے ملنے آیا تھا۔ اب کیا میرا بچہ اپنی ماں سے بھی نہ ملے۔ ایسی پابندیاں لگاو ¿ گے تم اس پر“۔ لہجے میں مٹھاس اور عاجزی رکھتے اس نے منت والے انداز میں خاور سے کہا لیکن اس کے چہرے کے تاثرات میں کوئی تبدیلی نہیں آئی تھی۔

”جو کچھ یہ علینہ کا نام لے کر کر چکا ہے اس کے بعد بھی یہ اپنے ہاتھوں پیروں پہ گھوم رہا ہے تو میرا احسان ہی سمجھے“۔خاور کا لہجہ ہنوز سخت تھا۔ مونس کی طرف دیکھتے وہ دانت پیستے ہوئے بولا۔

”انکل پلیز، مجھ سے اس طرح خفا مت ہوں۔ میں بھی تو آپ کے بچوں جیسا ہوں۔ میری بیوقوفی سمجھ کر معاف کردیں“۔ ایکدم مونس ماں کے پیچھے سے نکل کر خاور کے سامنے آیا اور بڑی عاجزی سے گویا ہوا۔ لگ ہی نہین رہا تھا یہ وہ مونس ہے جو ابھی چند لمحے پہلے اپنی سگی ماں سے انتہائی بد تمیزی سے بات کر رہا تھا۔

”امی آپ کہیں نا انکل سے“۔ ماں کو کہنی مارتے اس نے ساتھ ہی ساتھ آنکھ سے اشارہ کیا۔ رخشندہ نے گھور کر مونس کو دیکھا لیکن اب وہ بری طرح پھنس چکی تھی۔ خاور حیرت سے اب دونوں ماں بیٹوں کو دیکھ رہا تھا لیکن کچھ بھی سمجھ نہیں آرہا تھا کیونکہ اندر پکی کھچڑی سے ناواقف تھا۔

”ہاں ۔۔۔وہ۔۔۔۔خاور ، مجھے نا تم سے ایک بات کہنی تھی۔ مونس اور علینہ کے رشتے کو لے کر“۔چاروناچار رخشندہ کو کہنا ہی پڑا کیونکہ کچھ بھی تھا مونس اسے بہت عزیز تھا اور ویسے بھی دل ہی دل میں وہ اس کی دھمکی سے ڈر گئی تھی۔

”دیکھو نا گھر کی بات گھر میں ہی رہ جائے گی۔ مونس تو تمہارا دیکھا بھالا ہے۔ اور علینہ بھی میری ہی اولاد ہوئی۔ ان دونوں کی شادی ہوجائے تو۔۔۔“ رخشندہ کی بات خاور کو گولی بن کر لگی تھی۔ وہ اس کی بیوی نا ہوتی یا پھر وہ وہی پرانا خاور ہوتا تو اسی وقت دو تھپڑ مارتا۔

”بس!“وہ غصے کی شدت سے دھاڑا تھا۔

”اس سے آگے ایک لفظ بھی مت کہنا رخشندہ“۔اس نے انگلی اٹھا کر کانپتے لبوں سے کہا تو رخشندہ کے ساتھ مونس بھی اندر ہی اندر دہل گیا۔

”علینہ کے لئے اچھے رشتوں کی کمی نہیں اور یہ اس دنیا کا آخری لڑکا بھی ہوا تو میں اپنی بیٹی کی شادی اس سے ہرگز نہیں کروں گا۔ ویسے بھی آپا اس کے لئے پہلے ہی بات کرچکی ہیں“۔دو ٹوک انداز میں اس نے وقت ضائع کئے بغیر صاف انکار کر دیا تھا ساتھ ہی ساتھ اس نے بہن کی خواہش بھی ان دونوں کے گوش گزار کر دی تھی۔

”سن لیا۔۔۔۔تو مرا جارہا ہے اس نواب زادی کے لئے اور وہ پہلے ہی بڑا ہاتھ مار چکی ہے۔ “رخشندہ کے دل پہ دھرا بوجھ ایکدم اتر گیا تھا۔ بناءلڑے ہی جیت اس کی ہوگئی تھی ۔گرگٹ بھی شائد کچھ دیر مین اپنا رنگ بدلتا ہو جس تیزی سے رخشندہ کے لہجے میں بدلاو ¿ آیا تھا۔ ابھی کچھ دیر پہلے والی شیرینی کی جگہ طنز کے نشتر چلاتے اس نے اپنے اندر کی آگ ٹھنڈی کی تھی اور انتہائی گھٹیا انداز میں اس نے مونس کو اس کی غلطی کا احساس دلاتے علینہ کی کردارکشی کی کوشش کی تھی۔

”زبان سنبھال کے بات کرو۔ مت بھولنا تم میری بیٹی کے متعلق کہہ رہی ہو۔ “ خاور نے انگلی اٹھا کر تنبیہہ کی۔

”اور تم نے جو ابھی میرے بیٹے کے بارے میں قصیدہ گوئی کی اس کا کیا؟ میں تو ایسی چلتی پرزہ لڑکی کی طرف دیکھوں بھی نا، یہ تو بس مونس کی خواہش تھی۔ ارے جو ایک مہینہ پرائے گھر رہنے پہ اتنا بڑا افسر پھنسا لے وہ کیسی فتنہ ہوگی۔“ وہ بھی اسی کے انداز میں تنک کر بولی تھی۔

”شرم آنی چاہئے تمہیں زبان سے ایسی بات نکالتے ہوئے۔ علینہ پہ بہتان تراشی کرنے سے پہلے اپنے گریبان میں جھانکو، اپنے بیٹے کی کرتوت دیکھو۔ کیا قابلیت ہے اس کی، کس برتے پہ نام لے رہا ہے اس کا۔ کرتا کیا ہے یہ؟ جس طرح اس نے کالج میں علینہ کا جینا حرام کیا ہوا تھا، جو کچھ اس نے راہ چلتے اس کے ساتھ کیا، یہ سب جان کر بھی تم اس کی سائیڈ لے رہی ہو؟ اتنا ہی مسئلہ ہے تو جاو ¿ اس کے ساتھ چلی جاو ¿۔ “خاور کا پارہ پہلے ہی چڑھا ہوا تھا اس پہ رخشندہ کی علینہ کے متعلق ہج گوئی نے اس کا میٹر مزید گھما دیا تھا شائد اسی لئے وہ آخری حد تک کہہ گیا تھا۔

”ہائے اب تم اس عمر میں مجھے گھرسے نکالو گے۔ اپنی بیٹی کی خاطر مجھے چھوڑوں گے جس نے اس وقت تمہارا ساتھ نبھایا جب سب تمہیں دھتکار چکے تھے“۔یکدم رخشندہ کا طنطنہ صابن کے جھاگ کی طرح بیٹھ گیا تھا ۔ اپنے پسندیدہ ہتھیار یعنی رونا دھونا اور بین کرنا کو میدان میں لے آئی اور مرد کو زندگی میں اگر کوئی شے ہرا سکتی ہے تو وہ عورت کے آنسو ہیں۔ خاور نے بے بسی سے رخشندہ کی طرف دیکھا جو ماتھا پیٹتے گریہ زاری کر رہی تھی اور پھر لب کاٹتا پیر پٹختا اندر کمرے مین چلا گیا۔

”ہوگیا جی ٹھنڈا تیرا ماں کی ذلت کروا کر“۔خاور کے کمرے سے جاتے ہی رخشندہ کا رونا دھونا گدھے کے سر سے سینگ کی طرح غائب ہوگیا۔ دانت پیستے اس نے اپنے تئیں مونس کو شرم دلانے کی کوشش کی تھی۔ یہ پہلی بار تھا کہ خاور اس کے ساتھ اس حد تک سیدھا ہوگیا تھا۔

”ذلت تو اب ہوگی امی اور سارا زمانہ دیکھے گا۔ میں نے کہا تھا نا میں اس معاملے میں انکار نہیں سنوں گا۔ اب دیکھنا میں کیا کرتا ہوں“۔مونس پہ اس کی بات کا الٹا ہی اثر ہوا تھا۔ خاور کا انکار اسے مزید زخمی کر گیا تھا۔ رخشندہ نے اسے سمجھانا چاہا لیکن وہ تن فن کرتا وہاں سے چلا گیا پیچھے وہ دل پہ ہاتھ رکھے آنے والے برے وقت سے بچنے کی دعا کرتی رہ گئی۔

٭….٭….٭

نور فاطمہ نے خود ہی شاکرہ نانی کو کال کرکے آسیہ کے جواب کے متعلق پوچھا تھا جس پہ شاکرہ نے انہیں آسیہ کی بجائے علینہ کے ردِ عمل سے آگاہ کیا تھا۔ بیٹی کے انکار کے ساتھ جو وجوہات جڑی تھیں انہیں لگا وہ سب بیان کرتے نور فاطمہ کے خاندان کی تذلیل ہوگی۔ اب جو کچھ ہوا اس میں اس بیچاری کا کیا قصور۔ وقت و حالات ہی ایسے ہوجائیں تو انسان کیا کرے اس لئے یہی مناسب سمجھا کہ علینہ کی مرضی بتا کر معاملہ ختم کر دیا جائے۔ کم سے کم اس طرح وہ کم دکھی ہوگی۔

”لیکن آنٹی۔۔۔۔اسے بھلا کیا اعتراض ہے؟“ انہیں یقین نہیں آیا تھا۔ کل تک تو اس کے کسی بھی انداز سے نہیں لگا تھا کہ علینہ انہیں ناپسند کرتی ہے اور اب تو سمیر کی مرضی بھی شامل تھی۔ فریحہ کو بھی یہی لگا تھا کہ وہ دونوں ہی ایک دوسرے میں انٹرسٹ لے رہے ہیں پھر اچانک سے دو ٹوک انکار۔

”تم اس کی ضد سے واقف تو ہو۔ ایک بات پہ اڑ جائے تو کہاں کسی کی سنتی ہے“۔ شاکرہ نے جلے دل سے کہا۔ وہ تو خود اسی غم میں مبتلا تھیں اور اب تک نور فاطمہ کو کال نہ کرنے کی وجہ بھی یہی تھی کہ انکو جواب دینا جوکھم لگ رہا تھا۔

”اس عمر میں سب ہی بچے ایسے ہوتے ہیں۔ آپ کہیں تو میں بات کرکے دیکھوں؟“انہوں نے بردباری سے کہا۔ ویسے بھی علینہ انہیں کبھی ضدی نہیں لگی تھی ہاں اس میں جذباتیت اور کسی حد تک امیچورٹی تھی لیکن یہ تو اس کی عمر کا تقاضا تھا ۔

”میں کر تو چکی ہوں، بھلا میری بات کا اعتبار نہیں۔ پھر بھی نا یقین ہو تو کرلو اپنی تسلی۔ تمہیں بھی مل جائے گا جواب“۔ اب اگر بات مزید ہوگی تو آسیہ کا بھید بھی کھلے گا۔ جب یہ رشتہ ہونا ہی نہیں تو اس معاملے کو چیونگم کی طرح کھینچنے سے کیا حاصل۔ شاکرہ بھی اب اس سارے معاملے سے عاجز آچکی تھیں۔

”ایسی بات نہیں آپ کچھ غلط کیوں کہیں گیں، میں تو بس اتنا چاہ رہی تھی اسے پیار سے سمجھاو ¿ں۔ “نور فاطمہ نے بات سنبھالی۔

”مرضی ہے تمہاری۔ ویسے تو اس کی ماں نے بھی یہی کہا ہے کہ اگر وہ نہیں مانتی تو زور زبردستی نہ کی جائے“۔شاکرہ نے اس بار کچھ اس طرح بات کی کہ نور انصاری اس سے آگے کچھ کہہ ہی نا پائیں۔ خاموشی سے انہوں نے فون کاٹ دیا اور اب پچھلے کئی منٹ سے وہ سیل فون ہاتھ میں تھامے خاموش بیٹھی تھیں۔ ان کا دل کہہ رہا تھا بات فقط اتنی نہیں جتنی انہیں سنائی جا رہی تھی ۔ کچھ اہانت کا احساس بھی شامل تھا کہ انہوں نے بڑے چاو ¿ سے بھتیجی کا رشتہ مانگا تھا جسے اتنی اجلت میں ٹھکرا دیا گیا۔

٭….٭….٭

”از ایوری تھنگ آل رائٹ؟“اپنی ہی سوچوں میں گم وہ اتنے اسٹریس مین تھیں کہ انہیں لاو ¿نج میں سمیر کی آمد کا احساس بھی نہیں ہوا تھا۔ صوفے پہ بیٹھنے تک اس نے ماں کا گم صم رویہ محسوس کر لیا تھا اسی لئے گلا کھنکھارتے انہیں اپنی جانب متوجہ کیا۔

”ہوں۔۔۔ہاں۔ سب ٹھیک ہے“۔وہ جیسے گہری سوچ سے چونکیں تھیں جس نے سمیر کے خدشات کی مزید تصدیق کر دی تھی۔

”تو پھر آپ اتنی سنجیدہ کیوں ہیں؟“ وہ بڑے فکرمندانہ انداز میں بولا تھا۔

”نہیں بس ایسے ہی۔ آنٹی سے بات ہورہی تھی“۔نور انصاری نے دھیمے لہجے میں جواب دیا۔

”یہی تو پوچھ رہا ہوں ان سے کیا بات ہورہی تھی جس نے آپ کو اتنا اپ سیٹ کیا ہے؟“وہ کچھ اور متفکر ہوا۔ اب آخر ایسا کیا ہوگیا جو ماں کا چہرہ اتنا اترا ہوا ہے۔ وہ تو کبھی جینوئین پریشانی میں بھی اتنی اپ سیٹ نہیں رہیں۔ مشکل حالات کو نارمل انداز میں ہینڈل کرنا اس نے اپنی ماں سے ہی سیکھا تھا ۔جس نے تمام عمر انہیں اپنے اندر کے غم کی بھنک بھی نہیں پڑنے دی تھی پھر ایسی کون سی بڑی بات ہے جس نے انہیں تکلیف پہنچائی ہے۔

”علینہ نے رشتے سے انکار کردیا“۔سمیر کو شاک لگا تھا پھر بھی اس نے اپنے تاثرات کو قابو میں رکھا۔

”گڈ“۔اس نے بشاش لہجے میں کہا۔ نو ر انصاری نے حیرت سے اس کی طرف دیکھا۔ وہاں موجود کوئی بھی تاثر وہ نہین تھا جو اس وقت وہ ایکسپیکٹ کر رہی تھیں۔

”اس میں اتنا ڈسٹرب ہونے والی کون سی بات ہے“۔سمیر نے مسکرا کر سوال کیا۔

”وہ کیسے کر سکتی ہے انکار؟“وہ پہلے فقط سنجیدہ تھیں لیکن اب ان کی حیرت عروج پہ تھی۔

”اس کا حق بنتا تھا، اس نے اپنے حق کا درست استعمال کیا ہے“۔اس کا انداز بڑا نارمل تھا جیسے یہ کوئی بات ہی نا ہو۔

”تمہیں برا نہیں لگا؟“ بالآخر انہوں نے پوچھ ہی لیا۔ پہلی بار سمیر نے کسی لڑکی کو اپروو کیا تھا۔ پہلی بار اس نے ماں کے سامنے توجیحات کا ڈھیر نہیں رکھا تھا۔پہلی بار انہیں لگا تھا سمیر بھی اس میں انٹرسٹڈ ہے پھر کیسے وہ اس انکار پہ اتنا مطمعن ہوسکتا ہے۔ پل بھر کے لئے ہی سہی اسے حیرت ہونی چاہیئے تھی۔ غصہ آنا چاہیئے تھا۔ برا لگنا چاہیئے تھا۔

”مجھے کس لئے برا لگے گا۔ میں کون سا ایک اسی رشتے پہ بیٹھا تھا جو اگر آپ کی خوبصورت بھتیجی نے ٹھکرا دیا تو اب ساری عمر کنوارہ رہنا پڑے گا“۔اس نے باقاعدہ ہنستے ہوئے ان کی بات کا جواب دیا تھا ساتھ ہی ساتھ اپنے سیل فون پہ بلنک کرتے نمبر کو ڈسکنیکٹ کیا تھا۔ وہ اس وقت اس مینٹل فیز میں نہیں تھا کہ کوئی پروفیشنل کال ریسیو کر سکے۔

”فضول باتیں مت کرو۔ کتنا خوش ہوتی ہے وہ یہاں میرے پاس آکر۔ ہم سب سے مل کر۔ کتنا بدل گئی ہے۔ پھر ایسے اچانک رشتے سے انکار کر دینا وہ بھی بغیر کسی ٹھوس وجہ کے۔ میری تو کچھ سمجھ میں نہیں آرہا۔ کہیں تم نے تو اسے کچھ نہیں کہا؟“جو کچھ اتنی دیر سے ان کے اندر کھول رہا تھا اسے انہوں نے بیٹے کے سامنے رکھ دیا تھا۔ ساتھ ہی ساتھ اپنا آخری اندیشہ بھی ظاہر کردیا گو انہیں اب اس بات کی توقع نا تھی۔

”یعنی حسبِ سابق اس کا سارا کیا دھرا میرے سر پر۔۔۔۔۔حد کرتی ہیں آپ بھی۔ وہ تو سائیکو ہے۔ پڑ گیا ہوگا احساسِ کمتری کا دورہ۔ خیر اب اس بات کو سر پہ سوار کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ وہ نہیں اور سہی، اور نہیں اور سہی۔ اب مجھ بیچارے کنوارے کے لئے کوئی نا کوئی تو مل ہی جائے گی آپ کو“۔بڑے نارمل انداز میں انہیں ہنستے مسکراتے تسلی دی گئی تھی۔

”میرا بیٹا کروڑوں میں ایک ہے۔ جسے وہ ملے گا، اس دنیا کی سب سے خوش قسمت لڑکی ہوگی وہ۔“اس کے ہاتھ پہ اپنا ہاتھ رکھتے وہ بہت پیار سے بولیں تو سمیر نے باقاعدہ قہقہہ لگایا۔

”آپ جیسی مائیں ہوتی ہیں جو کالے کوے بیٹوں کو میرا چاند، میرا چاند کہہ کر خراب کر دیتی ہیں۔ وہ بیچارے خود کو چودھویں کا چاند سمجھتے رہتے ہیں حالانکہ ہوتے اماوس کا چاند ہیں“۔انہیں اپنے دائیں بازو سے بھینچ کر ساتھ لگاتے سمیر نے اب ان کا دھیان پوری طرح بدل دیا تھا۔ وہ نہیں چاہتا تھا وہ اس ایک موضوع کو بار بار دہرا کر خود کو دکھی کریں۔اور اپنی اس کوشش میں وہ پوری طرح کامیاب بھی ہوگیا تھا۔ موضوعِ گفتگو بدل چکا تھا اور اب وہ دونوں ہنس ہنس کر کوئی اور بات کر رہے تھے۔

٭….٭….٭

جتنی آسانی سے اس نے نور انصاری کو مطمعن کر لیا تھا اتنی آسانی سے وہ خود مطمعن نہیں ہوپایا تھا۔ گو یہ کوئی بہت جذباتی تعلق تھا اور نا ہی اس کی عمر بہت طویل تھی لیکن ہاں پہلی بار اس نے خود کسی لڑکی کی طرف اپروچ کیا تھا۔ پہلی بار دل کہیں پسپائی اختیار کر رہا تھا۔ اس کی نا سمجھی، اس کی بیوقوفیاں، وہ ساری حماقتیں جو ماضی میں ہوچکی تھیں، پل پل اس کا بد دل ہونا۔۔۔۔چھوٹی چھوٹی باتوں پہ خوش ہوجانا، ذرا سی تعریف پہ بلش کرنا سمیر کو اپنی طرف راغب کر رہا تھا۔ بہت عام ہوکر بھی وہ خاص نظر آتی تھی۔ اس کی بے نیازی میں غرور نہیں معصومیت تھی۔ اس میں کوئی چھل یا بناوٹ نہیں تھی۔ وہ جو تھی، جیسی تھی۔۔۔سب کے سامنے تھی۔ ہر کوئی اسے چاہتا تھا پھر یہ کیسے ممکن تھا سمیر کا دل اس کی طرف مائل نا ہوتا۔ شائد اسی لئے اس رات اس نے پہلی بار ایک چھوٹی سی پیش قدمی کی تھی۔ ان دونوں کے درمیان کوئی قول و قرار بھی نا تھا پھر بھی اس کی شرارت اور علینہ کے بے سروپاں جوابوں نے یہ بھید ، بھید نہیں رہنے دیا تھا کہ پسندیدگی یک طرفہ نہیں۔ پھر اچانک اگلے ہی دن وہ کیوں پیچھے ہٹ گئی۔ ایسا کیا ہوا جو ایک ہی رات میں ہاں ، ناں میں بدل گئی۔ اس ایک الجھن نے اسے تمام رات بے قرار رکھا تھا اور یہی وجہ تھی کہ اگلے ہی دن وہ اس سے ملنے پہنچ گیا تھا۔

”آپ ؟ یہاں۔۔۔اس وقت؟“اس کے کالج شروع ہوچکے تھے یہ بات وہ جانتا تھا۔ چھٹی کے وقت وہ اسے کالج کے باہر ہی مل گیا تھا۔ اپنی گاڑی پہ کمر ٹکائے وہ پارکنگ میں کھڑا تھا جب علینہ کی نگاہ اس پہ پڑی۔ ایک گہرا سانس لیتے وہ لب کاٹتی اس کی طرف چلی آئی تھی۔ خود کو نارمل رکھنے کی کوشش میں وہ ہلکا سا مسکرائی تھی لیکن سمیر کے چہرے پہ بے تحاشہ سنجیدگی تھی۔

”کچھ بات کرنی تھی تم سے۔ کہیں چل کر بیٹھیں؟“وہ بہت دو ٹوک انداز میں بناءکسی تمہید کے بولا تھا۔ اس سے پہلے علینہ نے اسے کبھی اتنا اجنبی محسوس نا کیا تھا۔ اس وقت بھی جب اس سے دل کا کوئی رشتہ نا تھا۔

”ایسی کیا بات ہے۔ یہاں ہی کر لیتے ہیں“۔اس کا دل بری طرح دھڑک رہا تھا۔ وہ اسی وقت سے خوفزدہ تھی کہ اس کا سامنا کیسے کرے گی۔ کیا خبر تھی وہ وقت اتنی جلدی خود اس تک چل کر آجائے گا۔

”ڈونٹ وری۔۔بھگا کر نہیں لے جاو ¿ں گا تمہیں“۔اپنی گاڑی کی پسینجر سیٹ کا دروازہ کھولتے اس نے نفی میں سر ہلاتے بڑے چبھتے لہجے میں کہا تھا۔ علینہ نے نگاہ اٹھا کر اس کی طرف دیکھا لیکن وہ اس کی طرف نہیں بلکہ اپنی کلائی میں بندھی گھڑی کو دیکھ رہا تھا۔ کچھ کہے بغیر وہ خاموشی سے گاڑی میں جا کر بیٹھ گئی۔ سمیر نے ایک جھٹکے سے گاڑی کا دروازہ بند کیا اور تیز قدموں سے چلتے ڈرائیونگ سائیڈ کی طرف آیا ۔ اگلے چند منٹوں مین گاڑی سڑک پہ دوڑ رہی تھی۔

٭….٭….٭

وہ دونوں قریبی ریسٹورنٹ میں بیٹھے تھے۔ دوپہر کی وجہ سے یہاں رش نا ہونے کے برابر تھا۔ علینہ گو خاصی بے سکون تھی لیکن چین سمیر کے اندر بھی ندارد تھا۔

”تم نے شادی سے انکار کیوں کیا؟“ جوس کا گلاس اس کی طرف بڑھاتے وہ مستقل سنجیدہ تھا۔

”میں وجہ بتانا ضروری نہیں سمجھتی“۔خود پہ قابو پاتے علینہ نے بڑی ہمت دکھائی تھی ورنہ تو دل دھک دھک کر رہا تھا۔ نانی کو انکار کرنا کچھ اور بات تھی لیکن اب اس بات کو سمیر کے سامنے دہرانا ناممکنات میں سے تھا۔ جو بھی تھا اس نے ماں کی محبت ، اس کی خوشی کو مقدم جان کر یہ فیصلہ لیا تھا لیکن دل تو اب بھی بغاوت پہ آمادہ تھا۔ وہ اسے کیا بتاتی اس رات سے وہ خود کتنی موت مری ہے۔ خوابوں کا محل ریت کا ڈھیر بن گیا ہے۔ خواب آنکھوں میں چکنا چور ہوچکے ہیں۔

”لیکن میں وجہ جاننا ضروری سمجھتا ہوں“۔دونوں کہنیاں میز پہ ٹکائے اس نے ہتھیلیوں کو مسلتے اس کی آنکھوں میں جھانکا۔ اس کا لہجہ پختہ اور دو ٹوک تھا۔

”اِٹ واز مائی رائیٹ“۔پتا نہیں کیوں سمیر کے انداز سے اسے حوصلہ ملا تھا۔ وہ جس طرح پر سکون اور نارمل نظر آرہا تھا اس بات نے علینہ کے اندر بھی ہمت پیدا کی تھی۔ وہ جو اس سے غصے اور طنز کی امید رکھ رہی، ان کے احسانات کی گردان سننے کی منتظر تھی اس کا اتنا مبہم انداز اس کے اندر بھی اعتماد لے آیا تھا۔

”میںنے آج تک کسی کو رائٹ کا اتنا رونگ استعمال کرتے کبھی نہیں دیکھا“۔ وہ تسمخرانہ انداز میں بولا۔

”کیوں آپ کو ریجیکٹ کر دیا ، برا لگ رہا ہے کیا؟ آپ نے کبھی کسی کو ریجیکٹ نہیں کیا؟“اس نے اسی وقت حساب چکایا تھا۔

”برا نہیں ۔۔۔آئی ایم شاکڈ۔ یہ انکار تم چند مہینے پہلے کرتی تو جسٹفائی ہوجاتا، لیکن آج مجھ سے یہ بات ہضم نہیں ہورہی۔ انفیکٹ مجھے یقین ہے یہ تمہارا فیصلہ نہیں ہے“۔وہ نا ماننے والے انداز میں سر ہلاتے باقاعدہ ہنسا تھا۔

”یہ سو فیصد میرا فیصلہ ہے۔ میری زندگی ہے اور میں اس بات کا پورا اختیار رکھتی ہوں اسے جیسے چاہوں گزاروں۔ جس سے چاہوں شادی کروں یا نا کروں۔ آپ مجھ پہ اپنی بات مسلط نہیں کر سکتے“۔ اپنے اندر ہورہی جنگ میں خود سے لڑتے لڑتے علینہ نے اتنی ہمت پا ہی لی تھی ۔

”میں تم پہ یا کسی پہ بھی اپنے فیصلے مسلط کرنے والوں میں سے نہیں ہوں لیکن گزرے دنوں نے ہمارے درمیان جو تعلق قائم کردیا تھا اس کی بنیاد پہ تم سے جواب مانگنے کا مکمل اختیار رکھتا ہوں۔ تمہیں اگر کوئی اعتراض تھا تو تم مجھے اسی رات منع کر سکتی تھی“۔سمیر کے سوال پہ علینہ نے بے اختیار نظریں دوسری جانب پھیر لیں۔ حلق میں آنسوو ¿ں کا گولہ آ پھنسا تھا۔ بڑی مشکل سے اس نے خود پہ کنٹرول کیا تھا۔

”ہمارے درمیان کبھی کوئی تعلق نہیں بنا، آپ نے کبھی مجھ سے اظہار کیا نا ہی میں نے آپ کو کبھی یہ احساس دلایا، پھوپھو نے نانی سے بات کی، نانی نے مجھ سے اور میں نے انہیں منع کر دیا۔ بات ختم“۔وہ اب بھی دوسری سمت دیکھ رہی تھی جیسے اس کی طرف دیکھ لیا تو پتھر ہوجائے گی۔

”تو تم مجھ سے محبت نہیں کرتی“؟سمیر کے اس سوال پہ دل عجب انداز میں دھڑکا تھا ۔

”اب یہ محبت کہاں سے درمیان میں آگئی؟“ وہ بے تحاشہ ہنسی تھی کہ ہنستے ہنستے اس کی آنکھوں میں آنسو آگئے تھے ۔ اپنی آنکھوں کی نمی کو مسکراہٹ کے پردے میں چھپا کر اس نے سمیر کی طرف دیکھا جو اب بھی اسی تاثر سے علینہ کی طرف دیکھ رہا تھا۔

”محبت ہے۔۔۔۔کیونکہ میں تم سے محبت کرتا ہوں اور اتنی ججمنٹ رکھتا ہوں کہ تم بھی مجھے چاہتی ہو“۔کتنے غلط وقت پر ہورہا تھا یہ انکشاف اور ہو ہی کیوں رہا تھا۔ اب تو راستے بدل چکے تھے۔ منزلیں الگ ہوگئی تھیں پھر کیوں اسے احساس د لایا جارہا ہے کہ وہ تہی داماں رہ گئی ہے۔

”نہیں ۔۔۔میں آپ کے لئے ایسی کوئی ۔۔۔فیلنگ نہیں۔۔رکھتی“۔میز کا کونہ ناخن سے کھرچتے اس نے ایک بار پھر نظریں جھکالیں تھیں۔ اس پل سامنے بیٹھے اس شخص کی آنکھوں میں دیکھنا ناممکنات میں سے تھا۔

”یہ بات ایک بار میری طرف دیکھ کر کہو۔ “وہ جیسے ہار ماننے کو تیار ہی نہیں تھا۔

”اور اس سے کیا ہوگا؟“وہ متعجب ہوئی۔

”پھر یہ بات آج، اسی وقت اور یہیں ختم ہوجائے گی۔ اس کے بعد ہمارے درمیان یہ موضوع کبھی نہیں دہرایا جائے گا“۔اس نے دوٹوک انداز میں کہا۔

”اور ایسا نا ہو تو؟“

”تو میں سمجھوں گا”پکچر ابھی باقی ہے“، تم یقینناََ کسی پریشر میں ہو یا پھر وہی پرانی فرسٹریشن کا کیڑا کاٹ رہا ہے اور تمہیں ایک اچھی تھیراپی کی ضرورت ہے ۔ یہ بات پھر ہوگی، بار بار ہوگی کیونکہ میں بلاوجہ باتوں کو انا کا مسئلہ نہیں بناتا پھر وہ چاہے انکار ہو یا اقرار۔ میں تم سے یہ اقرار کروا کر ہی چھوڑوں گا کہ تم مجھ سے محبت کرتی ہو“۔یہ باز کیوں نہیں آجاتا، ہٹ کیوں نہیں جاتا سامنے سے۔ کیوں مجھے کمزور کرنے پہ تلا ہے۔ بناءکہے جب یہ سمجھ گیا ہے کہ میں اس سے محبت کرتی ہوں تو کہا گیا انکار کیوں نہیں قبول کرلیتا۔ کیوں میری زندگی کو مشکل تر بنارہا ہے۔ وہ بے بسی سے تڑپتی ، اپنے آنسوو ¿ں پہ بند باندھنے کی سعی میں دل ہی دل میں التجاءکر رہی تھی۔ سمیر نے جیسے ایک چیلنج اس کے سامنے رکھا تھا۔ وہ اسے آخری حد تک آزمانے پہ تلا تھا اور بہرحال علینہ کو اس آزمائش پہ پور اترنا تھا۔

”نہیں کرتی میں آپ سے محبت، اب کیا لکھ کر دوں؟“اس کی آنکھوں میں دیکھتے علینہ نے اپنی زندگی کا سب سے بڑا جھوٹ بولا تھا۔ سمیر نے اسے جس آزمائش مین ڈالا تھا وہ اس میں پوری اتری تھی۔ سمیر کے چہرے کا رنگ بدلا تھا۔ اس ملاقات مین پہلی بار علینہ نے اس کے چہرے پہ مایوسی کی رمق دیکھی تھی جیسے وہ ہر گز اس سب کی توقع نہیں رکھتا تھا۔

”چلو تمہیں گھر چھوڑ دوں“۔مزید کچھ بھی کہے بغیر وہ اپنی کرسی سے اٹھ کر کھڑا ہوا اور والٹ میں سے چند نوٹ نکال کر میز پہ رکھے۔

”نو تھینکس، میں خود چلی جاو ¿ں گی“۔علینہ نے اس سے بھی تیزی سے اپنا بیگ پیک اٹھایا اور ہوٹل کی عمارت سے باہر نکل گئی۔ سمیر اسے خود سے دور جاتا دیکھتا رہا۔

٭….٭….٭

گھر بہت دور نہیں تھا لیکن علینہ کو اس وقت یہاں ایک منٹ رکنا بھی عذاب لگ رہا تھا۔ اسے خوف تھا سمیر اس کے پیچھے نا چلا آئے۔ ویسے بھی اب اس کی برداشت جواب دے کی تھی۔ ریسٹورنٹ سے نکل کر پارکنگ کراس کرتے اس کی آنکھیں آنسوو ¿ں سے بھر چکی تھیں۔ اپنی جس کیفیت کو بہادری سے وہ سمیر کے سامنے چھپائے رہی اب اس پہ قابو نہیں رہا تھا۔اسی لئے وہ ایک لمحہ ضائع کئے بغیر سڑک کے کنارے کھڑے رکشے میں بیٹھ گئی اور اب اس کا ضبط جواب دے گیا تھا۔ سیٹ کی پشت سے ٹیک لگائے وہ بری طرح بلک بلک کر روئی تھی۔ رکشہ سڑک پہ دوڑتا جا رہا تھا۔ اس کے شور کی آواز میں علینہ کے رونے کی آواز دب گئی تھی۔ جب تک گھر آیا وہ اپنا دل ہلکا کر چکی تھی ۔ دوپٹے سے آنسو اور چہرہ صاف کرتے اس نے رکشے والے کو کرایہ دیا اور سیڑھیاں چڑھ گئی۔ سامنے صحن میں آسیہ تار پہ کپڑے پھیلا رہی تھی۔ علینہ کا ستا ہوا چہرہ ایک طرف اس کی سر خ ہورہی آنکھیں ہی اسے پریشان کرنے کے لئے کافی تھیں۔

”کیا بات ہے یہ آنکھیں کیوں لال ہورہی ہیں؟“وہ جو سلام کرکے کمرے کی طرف تیزی سے جارہی تھی ماں کے سوال پہ رک گئی۔ خود اسے بھی اس بات کا اندازہ نہیں تھا۔

”کچھ نہیں وہ جھکڑ چل رہا تھا نا تو کوئی تنکا آنکھ میں چلا گیا“۔ اس نے بات بنائی ۔

”دونوں آنکھوں میں چلا گیا“۔آسیہ کو ہرگز یقین نہیں آیا تھا۔

”ہاں شائد دونوں آنکھوں میں ہی چلا گیا“۔اس نے دھیمے لہجے میں اعتراف کرتے آنکھیں مسلیں۔

”جاو ¿ جلدی سے پانی کے چھینٹے مارو، کہیں انفیکشن ہی نا ہو جائے۔ زخم ہوگیا تو مسئلہ بن جائے گا“۔تفکر سے کہتے اس نے علینہ کے کندھے پہ ہاتھ رکھا۔ وہ سر ہلا کر اپنے کمرے میں چلی گئی۔

”ہاں ۔۔۔اور پھر سارے زخم تو بھرتے بھی نہیں“۔ دوپٹہ اتار کر بیڈ پہ رکھتے اس نے نہائت کرب سے کہا تھا۔ سمیر کا لفظ لفظ ا ب تک اس کے کانوں میں گونج رہا تھا۔

٭….٭….٭

فریحہ کا خیال تھا اسپتال میں ویمن ہیلتھ اینڈ اویرنس کا ایک انڈپینڈنٹ پروگرام شروع کیا جائے جس میں عورتوں کو ان کے بنیادی حقوق اور صحت سے متعلق ایجوکیٹ کیا جائے۔ اس ضمن میں اسے اپنے ساتھ مزید اسٹاف کی ضرورت تھی۔ موجودہ عملے میں سے دو اسٹاف نرسیں پہلے ہی ڈاکٹر انصاری نے اس کے ڈیپارٹمنٹ میں ٹرانسفر کر دی تھیں لیکن وہ چاہتے تھے ایک دو ڈاکٹر بھی اس ٹیم کا حصہ ہوں ۔ ایک تو اس طرح فریحہ پہ کام کا دباو ¿ بڑھ جاتا دوسرے اس کی شادی ہونے والی تھی۔ اب اگر ایک اچھا قدم اٹھایا جا رہا تھا تو اسے اس کی غیر موجودگی میں بھی جاری رہنا چاہیئے تھا۔ یہی سوچ کر ڈاکٹر انصاری نے اخبار میں اشتہار دیا تھا اور آج اسی سلسلے میں وہ ایک ڈاکٹر کا انٹرویو لے رہے تھے۔

”اسلام آباد اور اس شہر کے مزاج میں کافی فرق ہے۔ یہاں کا ماحول، طرزِ زندگی سلو ہے۔ پھر یہ پراجیکٹ بھی ڈیمانڈنگ ہے۔ لوگوں خاص طور پر خواتین کے ساتھ ڈسکشن کرنا، ان کو قائل کرنا یا ان کے مردوں کے ساتھ کولابریٹ کرنا خاصے صبر کا کام ہے“۔ وہ کیبن میں نور انصاری کے ساتھ موجود تھے۔ ہلکے پھلکے انداز میں وہ اس ینگ ڈاکٹر سے فارمل انٹرویو کر چکے تھے۔ اس کے کوائف، اس کی قابلیت نے بہرحال انہیں متاثر کیا تھا پھر بھی وہ کوئی فیصلہ لینے سے پہلے مزید تسلی چاہتے تھے شائد اسی لئے وہ یہاں کے کلچر اور مسائل کے متعلق بات کر رہے تھے۔

”میں ان تمام ایشوز کو ذہن میں رکھ کر ہی اس پوزیشن کے لئے اپروچ کر رہا ہوں ڈاکٹر انصاری۔ مجھے کچھ ذرائع سے آپ کے اس پراجیکٹ کے متعلق پہلے بھی پتا چلا تھا، میں پورا ورک آو ¿ٹ کر چکا ہوں۔ مسائل تو بڑے شہروں میں بھی ہیں بس ان کی نوعیت الگ ہے۔وہاں پیسہ ہے لیکن سب کچھ بہرحال پیسہ تو نہیں ہوتا۔ آپ اور آپ کی فیملی نے اس علاقے میں جو محنت کی ہے، جس طرح لوگوں کی ویلفیر کو ذہن میں رکھ کر کام کر رہے ہیں آپ لوگ، میری خواہش ہے کہ اس ٹیم کا ایک چھوٹا سا رکن میں بھی بن جاو ¿ں“۔ سامنے بیٹھے شخص نے پختہ اور ٹھوس انداز میں اپنا نقطہِ نظر پیش کیا تھا۔

”پیسوں کی طرف سے آپ کو پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے، ہم اپنے اسپتال میں سب کو کمپیٹیٹو پیکیج دیتے ہیں۔ اور ہاں آپ کی رہائش بھی ہماری ذمہ داری ہے۔ آپ چاہیئں تو اپنی فیملی کو بھی یہاں رکھ سکتے ہیں۔“نور انصاری بھی شریکِ گفتگو ہوئی تھیں۔ یہ سہولت زینب وقار میں موجود تمام عملے کے لئے تھی۔ بڑے شہروں کی چکا چوند اور سہولیات سے مزین زندگی چھوڑ کر اب ایک درمیانے درجے کے شہر میں ملازمت کرنے والوں کے لئے اگر اس جاب میں کوئی کشش نہیں ہوگی تو کیونکر یہاں آئیں گے۔ یہی وجہ تھی کہ نا صرف انہیں بہترین تنخواہ دی جاتی تھی بلکہ ان کی رہائش اور دیگر سہولیات کا بھی مناسب انتظام تھا۔

”میرے والدین شائد اپنا شہر چھوڑ کر یہاں آنا پسند نا کریں، پھر میرے والد کی ملازمت اور بہنوں کی تعلیم بھی چل رہی ہے۔“ڈاکٹر انصاری نے اس کی بات پہ مسکراتے ہوئے سر ہلایا۔

”جیسے آپ مناسب سمجھیں“۔وہ جواباََ دھیما سا مسکرایا۔

”ویلکم ٹو ” زینب وقار ہوسپٹل“ ڈاکٹر فارس منیب“! اپنی کرسی سے اٹھ کر ڈاکٹر انصاری نے پوری گرمجوشی سے اس سے مصافحہ کیا تھا۔

”تھینک یو ڈاکٹر انصاری“۔فارس نے گھبیر لہجے میں کہا۔ اسی وقت دروازے پہ دستک ہوئی اور فریحہ اندر داخل ہوئی۔

”آپ نے بلایا تھا بابا؟“فارس کی پشت تھی ، کچھ اس کے گمان میں بھی نہیں تھا شائد اسی لئے وہ اسے قطعاََ نہیں پہچانی تھی۔

”ہاں۔ ان سے ملو۔۔۔۔یہ ہیں ڈاکٹر فارس اور ڈاکٹر فارس یہ میری بیٹی اور ہمارے اویرنیس پراجیکٹ کی ہیڈ ہیں ”ڈاکٹر فریحہ انصاری“۔ ڈاکٹر انصاری کے تعارف پہ فریحہ دو قدم آگے بڑھی اور اسی وقت مسکراتے ہوئے فارس نے پلٹ کر اس کی جانب دیکھا۔ وہ اپنی جگہ فریز ہوگئی تھی۔ سامنے اس کے ممی ڈیڈی بیٹھے تھے اور ان حالات میں وہ ہرگز کسی بھی قسم کا ردِ عمل ظاہر نہیں کرسکتی تھی لیکن فارس کی اس طرح اچانک یہاں موجودگی اس کے لئے اتنا بڑا شاک تھی کہ وہ اپنی کیفیت پہ قابو بھی نا پاسکی۔البتہ فارس پورے اعتماد اور دھیمی سی مسکراہٹ کے ساتھ اس کی طرف متوجہ تھا۔ بڑے خوشگوار لہجے میں اس نے فریحہ سے ہیلو ہائے کی تھی ۔ جواب میں فریحہ نے فقط سر ہلا کر ہلکا سا مسکرانے پہ اکتفا کیا تھا۔

”ویسے تو تم آپ دونوں ایک دوسرے کو جانتے ہوں گے۔ فریحہ بھی آپ کے ہی کالج کی گریجویٹ ہے اور سال بھی وہی ہے“۔ ڈاکٹر انصاری کے کہنے پہ وہ فارس کے برابر والی کرسی پہ ان کے سامنے ہی بیٹھ گئی تھی۔ ڈاکٹر انصاری نے فارس کے کوائف سے اندازہ لگاتے ہوئے خوشگوار موڈ میں کہا۔

”بد قسمتی کہیں یا اتفاق ، کبھی ملاقات نہیں ہوئی“۔ فریحہ کے پریشان چہرے کی طرف دیکھتے فارس نے مسکرا کر جواب دیا تھا۔ ڈاکٹر انصاری کے نزدیک یہ اتنی اہم بات نا تھی۔ وہ تو بس بات برائے بات تذکرہ کر رہے تھے اور اب وہ اسے فارس کے حوالے سے بریف کر رہے تھے۔ ان چاروں کی میٹنگ اگلے پندرہ منٹ تک جاری رہی جس کے بعد نور انصاری کے کہنے پہ فریحہ، فارس کو اسپتال کے وزٹ پہ لے گئی۔

٭….٭….٭

”تم یہاں کیا کر رہے ہو فارس؟“ کمرے سے نکل کر کاریڈور کی طرف جاتے ہوئے فریحہ نے تیز لہجے میں کہا۔ وہ تیز قدموں سے چلتی ایمرجنسی کی طرف جا رہی تھی۔

”فکرِ معاش میں مارا مارا پھر رہا ہوں“۔اس کے قدم سے قدم ملاتے فارس نے بڑے شوخ لہجے میں کہا۔

”آئی ایم سیریس“۔فریحہ چلتے چلتے رک کر کھڑی ہوگئی۔ دونوں ہاتھ سینے پہ باندھے وہ باقاعدہ جل کر بولی تھی۔

”میں بھی ہرگز غیر سنجیدہ نہیں۔ ابھی تمہارے ڈیڈ نے بتایا تو ہے تمہیں کہ میں یہاں جاب شروع کر رہا ہوں“۔فارس پہ فریحہ کے خراب موڈ کا کوئی خاص اثر نہیں ہوا تھا کیونکہ وہ پہلے ہی اس کی توقع کر رہا تھا۔

”یہ جاب تمہارے ٹائپ کی نہیں۔ یہاں خواری زیادہ ہے اور پیسے کم۔ ویسے بھی تم پاکستان میں رہنا ہی نہیں چاہتے“۔ اس نے ایک بار پھر تیز تیز چلنا شروع کر دیا۔ اپنے چہرے پہ جمی فارس کی نظریں اسے کنفیوز کر رہی تھیں۔

”بٹ آئی ہیو چینج مائی مائینڈ“۔ فارس کا انداز دو ٹوک تھا۔

”جہاں لیلیٰ۔۔۔وہاں سگِ لیلیٰ“۔وہ بے بسی سے ہنسا تھا۔

”شٹ اپ“۔فریحہ کچھ اور چڑ گئی۔

”شرم نہیں آتی خود کو اتنا ڈی گریڈ کرتے“۔ ایمرجنسی کی طرف جانے کی بجائے وہ دونوں اب کاریڈور میں آگے بڑھ گئے تھے۔ یہاں اس وقت کوئی بھی موجود نا تھا اور فریحہ کو بہرحال فارس سے بات کرنی تھی۔ اسے فارس کی یہاں موجودگی سے خوف آرہا تھا۔

”اس سے زیادہ کا حقدار ہوں۔ جو کچھ تمہارے ساتھ کیا ہے اس کے بعد گالیاں تو پڑنی ہی چاہیئں۔ تم چاہو تو دے سکتی ہو ۔ آئی ڈونٹ مائینڈ“۔فارس نے کھلے دل سے اپنی غلطی کا اعتراف کیا تھا۔ ان چند دنوں میں اس نے بیسیوں بار اس پہلو پہ غور کیا تھا۔ زندگی فریحہ کے ساتھ یا اس کے بغیر۔۔۔اور ہر بار جواب ایک ہی آیا تھا۔ فریحہ ہے تو زندگی ہے، خوشی ہے۔ وہ نہیں تو زندگی ، زندگی نہیں۔ خوشی نہیں۔ اس نے اپنے والدین کو بھی فریحہ کے متعلق بتا نے کے بعد اپنے فیصلے سے آگاہ کیا تھا جس پہ انہوں نے بھی اس کے فیصلے کو سراہتے ہوئے فریحہ کے پاس جانے کا مشورہ دیا تھا۔

”اب ان سب باتوں کا کوئی فائدہ نہیں۔ میری منگنی ہوچکی ہے۔ کچھ عرصے تک شادی ہونے والی ہے۔ میں خود کو ذہنی طور پہ سمجھا چکی ہو، سنبھال چکی ہوں۔ تمہارے لئے بھی یہ جگہ اور یہ جاب مناسب نہیں۔ تمہاری اڑان اونچی ہے اور یہاں آسمان کم۔ واپس چلے جاو ¿۔ اچھی جاب ہے تمہاری، پھر تمہیں ہائر اسٹڈیز کے لئے بھی تو جانا ہے“۔ وہ پہلے ہی بھری بیٹھی تھی۔ خود کو ہر طرح سے سمجھا چکی تھی۔ قسمت کے آگے ہار مان چکی تھی ۔ اب وہ دونوں جہاں کھڑے تھے اس کے مطابق یہ بند گلی تھی جس سے آگے کوئی راستہ نہ تھا۔

”میں غلط تھا فری۔۔۔۔سوچتا تھا زندگی میں سب سے اہم، سب سے ضروری پیسہ ہے، اختیارات ہیں، عہدہ ہے۔ اور اس سب میں میرا اتنا قصور نہیں جتنا میرے حالات کا ہے۔ تم مڈل کلاس کی فرسٹریشن، ان کے مسائل سے آگاہ نہیں ہو پھر بھی میں تمہیں پورا حق دیتا ہوں کہ تم مجھ سے اپنی ناراضی ظاہر کرو“۔ فارس نے ہولے سے فریحہ کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں تھام لیا۔ اس کے لہجے میں التجا تھی۔ معذرت تھی۔ فریحہ اس سے رخ موڑے کھڑی تھی نے پلٹ کر فارس کو دیکھا جہاں شرمندگی نمایاں تھی پر فریحہ کو اب اس معذرت اور شرمندگی کی ضرورت نہین تھی کیونکہ ان باتوں کا وقت اب نہیں رہا تھا۔

”مسائل سب کی زندگی سے جڑے ہوتے ہیں فارس۔ پیسہ کمایا جاسکتا ہے، اسکائی از دی لمٹ۔۔۔لیکن رشتے ۔۔۔؟ رشتے بہت مشکل سے بنتے ہیں“۔ اس نے بے اختیار اپنا ہاتھ فارس کے ہاتھ سے کھینچ لیا۔

”دیر سے ہی سہی، سمجھ گیا ہوں۔ اور یہ بھی سمجھ گیا ہوں فری کہ میری اڑان تم سے الگ نہیں۔۔۔۔آسمان کتنا ہی وسیع کیوں نا ہو، چکور تو بس چاند کے گرد ہی چکر لگاتا ہے۔ میں تم سے بے تحاشہ محبت کرتا ہوں اور یہ احساس مجھے ان گزرے دنوں میں ہوا ہے۔ جس دن سے تمہاری منگنی کی خبر ملی ہے میرا پوری دنیا کو آگ لگا دینے کو دل کرتا ہے۔“ فارس کی باتیں فریحہ کو بے سکون کر رہی تھیں۔

”مجھے اور کچھ نہیں چاہیئے سوائے تمہارے۔ تمہارے لئے اپنی ضد تو کیا دنیا چھوڑنے کا حوصلہ رکھتا ہوں میں فری۔ پلیز میرے پاس واپس لوٹ آو ¿“۔فارس نے فریحہ کو دونوں بازوو ¿ں سے تھام لیا۔

”تمہیں اپنے سوا کچھ اور نظر آتا ہے فارس؟“وہ ایک جھٹکے سے پیچھے ہوئی تھی۔

”اندازہ ہے میرے پیرنٹس کا کتنا تماشا بن جائے گا۔ لوگ طرح طرح کی باتیں بنائیں گے۔ میری پھوپھو شائد ہم سے ملنا چھوڑ دیں۔ فیملی میں کتنی بدنامی ہوسکتی ہے “۔ ایک لمحے میں اس کا ذہن بہت آگے تک سوچ چکا تھا۔ وہ ایک بیٹی تھی اور اچھی بیٹیاں ماں باپ کا مان بنتی ہیں۔ ان کی عزت کا تماشہ نہیں بننے دیتیں۔

”میں ان ممکنات پہ سوچ چکا ہوں۔ منگنی ہوئی ہے اور منگنیاں ختم ہوتی رہی ہیں۔ پھر تم یہ بھی تو سوچو میں تمہیں چاہتا ہوں تم مجھ سے محبت کرتی ہو، ان حالات میں تم کسی اور کے ساتھ کیسے خوش رہو گی۔ اسے کیا خوشی دے سکو گی“؟منگنی سے پہلے یہی بات علینہ نے بھی فریحہ سے کی تھی جسے آج فارس دہرا رہا تھا ۔

”اپنی خوشی کے متعلق سوچنا چھوڑ دیا ہے میں نے۔ ویسے بھی ہر شادی کی بنیاد محبت تو نہیں ہوتی۔ ہمارے معاشرے میں تو زیادہ گھر کمپرومائز اور انڈراسٹینڈنگ سے ہی آباد ہیں۔ “وہ اس متعلق پہلے ہی سب سوچ چکی تھی۔ عمیر اپنی خوشی سے اس سے شادی کر رہا تھا لیکن خوش رہنے کی پابندی فریحہ پہ تو بہرحال نافذ نہیں تھی۔ یہی سوچ کر اس نے خود کو مطمعن کر لیا تھا۔

”مجھے بھول پاو ¿ گی؟“فریحہ کا دل دھڑکا تھا۔ اس نے لب کاٹتے نگاہیں جھکالیں۔

”راستہ جدا ہوگیا ہے تو بھولنے کی کوشش بھی کروں گی۔ تم لوٹ جاو ¿ فارس، ہماری منزل ایک نہیں“۔ اپنی انگلیاں مروڑتے فریحہ نے دھیمی آواز میں کہا۔

”ہم نے ساتھ چلنا شروع کیا تھا فری، منزل تو ہماری ایک ہی ہے اور ایک بات۔۔۔۔میں واپس جانے کے لئے یہاں نہیں آیا۔ کشتیاں جلا کر آیا ہوں اور تنہا واپسی ممکن نہیں“۔جواب دو ٹوک تھا۔ فریحہ نے بے بسی سے فارس کی طرف دیکھا اور پھر سر جھٹکتی تیزی سے آگے بڑھ گئی۔

٭….٭….٭

تمام رات اس نے بخار میں جلتے کاٹی ۔ ایک لمحے کو بھی وہ سو نہیں پائی تھی۔ سمیر کے چہرے پہ لکھا شکوہ، اس کی آنکھوں سے چھلکتی ناراضی اور سب سے بڑھ کر اس کا اقرارِ محبت علینہ کو پل پل مار رہا تھا۔ وہ جب جب آنکھیں بند کرتی اس کے کانوں میں سمیر کے الفاظ گونجتے اور نگاہوں میں اس کی شبیہہ گھومنے لگتی جس پہ خوفزدہ ہوکر وہ آنکھیں کھول لیتی۔ کالج سے آکر ہی وہ اپنے کمرے میں بند ہوگئی تھی۔ پہلے تو دھیان پڑھائی کی طرف لگانے کی کوشش کی لیکن ذہن اس وقت یکسوئی سے کچھ بھی سوچنے سمجھنے سے قاصر تھا۔ کئی بار آسیہ نے کمرے مین آکر اس سے ہلکی پھلکی بات کرنے کی کوشش کی لیکن وہ کتابوں میں منہ دئیے بس ہوں ہاں کرتی رہی یہاں تک کہ رات کا کھانا بھی نانی کی تین بار ڈانٹ کھانے کے بعد کھایا اور اب رات کے اس پہر اسے اچھا خاصا بخار ہوگیا تھا۔ ذہنی تناو ¿، بے چینی اور بے آرامی کی وجہ سے اس کا پورا جسم چھالے سا دکھ رہا تھا۔ اس درد اور بخار کے ساتھ اسے شدید رونا بھی آرہا تھا۔ بہت مدت بعد آج رات پھر اس نے آنسوو ¿ں سے اپنا تکیہ تر کیا تھا۔ صبح آسیہ اسے کالج کے لئے جگانے آئی تو اس کا سرخ چہرہ اور آنکھیں دیکھ کر گھبرا گئی۔ فوراََ بخار کی دوا دی جس کے بعد بہرحال اس کا بخار کم ہوا تھا ۔

”طبیعت ٹھیک نہیں تو آج کالج مت جاو ¿“۔اس کے منع کرنے کے باوجود وہ کالج جانے کے لئے تیار ہوگئی تھی۔

”اسائنمنٹ جمع کروانی ہے ماما، نہیں کرائی تو میری پرسنٹیج خراب ہوجائے گی“۔اپنا فولڈر بیگ میں ڈالتے اس نے وضاحت کی۔ ویسے بھی گھر رہ کر وہ ماں اور نانی کا سامنا نہیںکرنا چاہتی تھی۔

”تف ہے آج کل کی پڑھائیوں پر، جان نکل جائے بھلے پر نمبر ہاتھ سے نا جائیں۔ کل سے بخار میں پھنک رہی ہے۔ جسم بھٹی کی طرح تپ رہا ہے پھر بھی موا کالج لازمی جانا ہے۔ آسیہ تم کم سے کم بچی کو دوائی تو دو“۔ شاکرہ نے دودھ کا گلاس تھماتے حسبِ عادت اپنی بھڑاس نکالی تھی۔

”دوا دے چکی ہوں امی، بخار کچھ ہلکا ہوا ہے“۔ آسیہ نے ایک بار پھر اس کا ماتھا چھو کر تسلی کی۔

”آپ دونوں پریشان مت ہوں میں اب ٹھیک ہوں۔ کوشش کروں گی جلدی واپس آجاو ¿ں“۔ علینہ نے اس ڈر سے کہیں نانی مزید شروع نا ہوجائیں چپ چاپ بناءمنہ بنائے دودھ کا گلاس ختم کرکے سامنے پڑی میز پہ رکھا اور اٹھ کھڑی ہوئی۔

”چلو میں تمہارے ساتھ چلتی ہوں۔ تمہیں چھوڑ کر آجاو ¿ں گی“۔آسیہ بھی پاس پڑی چادر اٹھا کر اس کے ساتھ ہی کھڑی ہوگئی۔

”ماما میں کوئی چھوٹی بچی تو نہیں، اور آپ ریلیکس رہیں۔ روز کا راستہ ہے میرا“۔علینہ نے ہلکا سا مسکراتے ہوئے ماں کا ہاتھ تھام کر تسلی دی۔ اس کے سمجھانے پہ آسیہ نے سر ہلایا اور پھر بے اختیار اس کا ماتھا چوما۔ ان دونوں کو الواداع کہہ کر علینہ گھر سے نکل گئی۔

”اللہ میری بچی کو اپنی حفظ و امان میں رکھنا۔ پتا نہیں کیوں دل بڑا گھبرا رہا ہے میرا“۔شاکرہ نے بیٹھے بیٹھے آیاتِ حفاظت پڑھ کر اس پہ غائبانہ دم کرنے کے بعد سرگوشی کی تھی ۔

٭….٭….٭

وہ بڑی محویت سے کمپیوٹر اسکرین پہ نظریں جمائے ایک ڈاکو مینٹ پڑھنے مین مصروف تھا جب دروازے پہ ہلکی سی دستک پہ سر اٹھا کر اس نے دروازے کی طرف دیکھا۔ اندر آنے کی اجازت ملنے پہ کشمالہ اس کے کیبن میں داخل ہوئی ۔ سی گرین شارٹ شرٹ اور سیاہ ٹراو ¿زر مین ہمیشہ کی طرح پرکشش اور دلفریب۔ سمیر کا موڈ پہلے ہی خراب تھا اس پہ کام کا دباو ¿ ، اسے کشمالہ کی اس وقت آمد نے بے آرام کیا تھا لیکن پھر بھی اس نے اپنے مخصوص فارمل انداز میں خیر مقدمی مسکراہٹ چہرے پہ سجائے اسے بیٹھنے کو کہا۔

”میرا اسکالر شپ اپروو ہوگیا ہے“۔ہاتھ میں تھامے چند صفحات اس کے سامنے رکھتے کشمالہ نے انکشاف کیا تھا۔

”مبارک ہو“۔سمیر کو حیرانی نہیں ہوئی تھی۔ وہ اب کمپیوٹر پہ نگاہیں مرکوز کئے فائل کو اسکرول کر رہا تھا۔

”یقینناََ تم تک بھی خبر پہنچ چکی ہوگی“۔ کشمالہ نے مسکراتے ہوئے ڈاکومینٹس واپس اٹھا لئے۔

”ایز اے میٹر آف فیکٹ، مجھ سے ہوکر ہی تم تک پہنچی ہے“۔سمیر کا انداز بڑا جتاتا سا تھا۔

”ویسے کیوں بھاگ رہی ہو؟“ اس نے اچانک پوچھا تھا۔ کشمالہ کے چہرے کا رنگ بدلا تھا۔

”ساتھ چل نہیں سکتے تو ساتھ رہ کر خود کو تکلیف کیوں دی جائے“۔اس بار لہجے میںبے نام سی اداسی تھی۔

”کشمالہ تم ہمیشہ میری سب سے اچھی دوست رہو گی“۔ اس نے جیسے یقین دہانی کرائی تھی۔

”دوست۔۔۔“وہ تلخ سا ہنسی۔ اسی تعلق سے نکلنا چاہ رہی تھی وہ۔ دوستی کا بھرم کھل چکا تھا۔ اب مزید اس پردے میں چھپ کر اک دوسرے کا سامنا کرنا مشکل ہی نہیں ناممکن سا ہونے لگا تھا۔ سمیر سے ہوئی آخری گفتگو کے بعد ان دونوں کے درمیان اب کچھ بھی پہلے کی طرح نہیں رہا تھا اور کشمالہ کو اس بات کا پورا ادراک تھا۔ سمیر سے اب اس کا سامنا کام کی حد تک رہ گیا تھا اور اس صورتحال میں کشمالہ نے اس بات کا بس ایک یہی حل نکالا تھا کہ عزت اور بھرم دونوں قائم رہ جائیں۔ اس نے مزید پڑھنے کے اسکالر شپ اپلائی کیا تھا اور اتفاق سے فوری اپروول بھی ہوگیا تھا۔ سمیر اس سے واقف تھا لیکن ان دنوں وہ خود اتنا ڈسٹرب تھا کہ اس نے کشمالہ سے اس سلسلے میں بات نہیں کی۔ یہ تو اب وہ خود سامنے آئی تو اسے بات کرنا پڑی۔

”میں نے تمہارے لئے ہمیشہ بہترین کی خواہش کی ہے اور میری دعا ہے تمہاری آنے والی زندگی خوشیوں سے بھری ہو۔ تمہیں زندگی میں وہ سب کچھ ملے جو تم ڈیزرو کرتی ہو“۔ اس نے پر خلوص لہجے میں کہا تھا۔

”اور ’سب کچھ ‘ میں سے تم نے اپنی ذات کو الگ کر لیا ہے“۔ وہ استہزائیہ انداز میں بولی۔

”کیونکہ میں تمہارے حق میں بہتر نہیں ہوں۔ اس بات کو سمجھ لو گی تو زندگی آسان ہوجائے گی۔ موو آن۔۔۔۔زندگی اس سے آگے بھی ہے۔ خود کو تکلیف دینا بند کرو“۔سمیر نے اسے سمجھانے کی ناکام کوشش کی تھی لیکن وہ جانتا تھا سمجھنا اتنا آسان نہین ہوتا ہے۔ خود ان دنوں وہ اسی فیز میں سے گزر رہا تھا۔ ایام کی تلخی کو سہہ رہا تھا ۔

”تم میری جگہ ہوتے تو کیا موو آن کر لیتے“؟کشمالہ کا سوال اسے چونکا گیا تھا۔

”اتنی ہی آسانی سے جتنی آسانی سے مجھے مشورہ دے رہے ہو“۔وہ ایک ٹک اس کی طرف دیکھ رہی تھی ۔ سمیر کے بے تاثر چہرے میں اپنا جواب ٹٹولتی۔ پر سمیر اس کی سوچ سے زیادہ گہرا تھا۔ اس تک پہنچنا ، کشمالہ تو دور کی بات اس کی اپنی ماں کے بس سے بھی باہر تھا جن کے سامنے اس نے آج تک اپنی کیفیت کھلنے نہیں دی تھی۔ علینہ سے اپنی ملاقات کا ذکر بھی اس نے کسی سے نہیں کیا تھا۔ یہ اور بات اسے تکلیف ہوئی تھی لیکن یہ اس کے صبر کی حد نہین تھی۔

”میں کشمالہ معین نہیں سمیر انصاری ہوں۔ اور کشمالہ تو بس ایک ہی ہے۔ اب سرکار سب پہ تو اتنا پیسہ خرچ کے باہر پڑھنے نہیں بھیجتی۔ “ بات کا رخ بدلتے ہلکے پھلکے انداز میں وہ اب اس سے پہلے کی طرح محوِ گفتگو تھا۔

”سمیر انصاری مت بھولو اسی سرکاری خرچے پہ تم مجھ سے پہلے یہ اسکالر شپ اویل کر چکے ہو“۔ کشمالہ نے بھی بدلہ چکایا تھا۔

”باز مت آنا میرے کمپیٹیشن سے۔ مجھے تو پہلے دن سے علم تھا تم نے دو تین مہینے سے زیادہ میرے انڈر کام نہیں کرنا۔ “وہ دونوں اب پچھلی باتوں کو یاد کرتے ہنس رہے تھے۔

”ہاں تو کیوں کروں تمہارے انڈر کام، واپس آکر تمہارے لیول پہ ریزیوم کروں گی۔ اور دیکھنا تم سے اچھی ضلع کمشنر کہلاو ¿ں گی“۔ کشمالہ نے گردن اکڑائے انکشاف کیا جس نے سمیر نے باقاعدہ قہقہہ لگایا تھا۔

”چلو دیکھتے ہیں کون کتنے پانی میں ہوگا“۔ اپنے فون کی اسکرین پہ نظر مارتے اس نے مسکراتے ہوئے کہا تھا۔

٭….٭….٭

گھر سے بھاگ کر وہ کالج آگئی تھی لیکن یہاں بھی اسے سکون نہیں مل رہا تھا اور ملتا بھی کیسے۔ جب دل و دماغ مین جنگ چل رہی ہو، جب خوشیاں ہاتھوں سے پھسل رہی ہوں، جب اپنے ہی ہاتھوں زندگی مین زہر گھولنا پرے تو سکون کس کم بخت کو آتا ہے۔ اس کی خاموشی، ذہنی انتشار اور غیر حاضر دماغی کو سارہ نے بخوبی محسوس کیا تھا۔

”گھر میں سب ٹھیک ہے نا علینہ؟ میں دیکھ رہی ہوں جب سے تم نے کالج جوائن کیا ہے تم بہت اپ سیٹ ہو“۔ وہ سارہ اور رومیصہ کے ساتھ لان میں بیٹھی تھی جب اسے ضرورت سے زیادہ خاموش پاکر سارہ نے سوال کیا۔

”حالانکہ اب تو تمہاری ماما بھی تم سے ملنے آئی ہوئی ہیں۔ لاسٹ ٹائم جب میں تمہاری طرف آئی تو تم بہت ایکسائیٹیڈ تھی، خوش تھی۔ اتنی خوش کہ ہم نے اس سے پہلے تمہیں کبھی اتنا مسکراتے ہوئے نہیں دیکھا تھا“۔رومیصہ نے بھی سارہ کی پیروی میں کہا تھا۔ وہ دونوں اسے کافی لمبے عرصے سے جانتی تھیں۔ گو وہ کبھی بھی بہت زیادہ باتیں کرنے والوں مین سے نہیں تھی لیکن اتنی خاموش اور گھٹی گھٹی بھی نہین رہتی تھی۔ وہ ہمیشہ سب سے الگ تھلگ ہی رہا کرتی تھی لیکن سارہ اور رومیصہ سے بہرحال وہ کافی کلوز تھی لیکن پچھلے کچھ دنوں سے وہ خاموش اور گم صم گہری سوچ میں ڈوبی رہتی تھی اور یہ بات ان دونوں نے ہی محسوس کی تھی۔

”میری طبیعت ٹھیک نہیں ہے سارہ، اور تو کوئی بات نہیں“۔اس نے بات بناتے سر سامنے کھلی فائل پہ جھکا دیا۔

”طبیعت تو آج خراب ہے، میں تین چار دن سے تمہیں نوٹ کر رہی ہوں۔ شئیر تو تم نے پہلے بھی ہم سے کچھ نہیں کیا لیکن ہم دوست ہیں، تمہارے قریب ہیں۔ پھر دوست ہوتے کس لئے ہیں۔ کوئی پرابلم ہے تو مجھے بتاو ¿، شائد میں تمہاری کچھ مدد کر سکوں“۔ سارہ نے بے ساختہ اس کی بات کو رد کرتے اسے احساس دلایا تھا کہ ان سے کچھ چھپا رہی ہے۔

”کچھ مسئلے حل نہیں ہوسکتے ، پھر ان کی تشہیر سے کیا حاصل۔ ویسے بھی ایسی کوئی بات نہیں ، میں تو بس ان دنوں اسٹڈی کو لے کر اسٹریسڈ ہوں۔ ماما کے ساتھ مصروفیت کی وجہ سے پڑھنے کا وقت ہی نہیں ملتا اور یہاں کالج کھلتے ہی اتنا سارا لوڈ ہم پہ ڈال دیا گیا ہے“۔ علینہ نے کہتے کہتے بات سنبھال لی تھی۔ پہلے ہی بخار سے اس کا سر گھوم رہا تھا۔ وہ تو بلکہ اب یہ سوچ رہی تھی کہ اسے ماں کی بات مان لینی چاہیئے تھی اور کالج نہیں آنا چاہیئے تھا۔ اوپر سے سارہ کی انویسٹییگیشن نے اسے اور بھی پریشان کردیا تھا۔ بہرحال اس نے سوچ لیا تھا وہ سر بخاری کی کلاس لے کر اور اسائنمنٹ جمع کروا کر گھر چلی جائے گی۔

”بالکل ٹھیک کہہ رہی ہے علینہ۔ سمیسٹر شروع ہوئے چار دن نہیں ہوئے ، اسائنمنٹس اور پراجیکٹس کا ڈھیر لگ گیا ہے۔ پتا نہیں ہم سے کون سے جنم کا بدلہ لے رہے ہیں ۔ “رومیصہ نے بھی روہانسی ہوکر اپنی بھڑاس نکالی تھی۔

”مجھے تو لگتا ہے ان کے ٹیچرز نے بھی ان کے ساتھ ظلم کیا ہوگا، بس اسی کی بھڑاس سر اب اپنے اسٹوڈنٹس پہ نکال رہے ہیں۔“ وہ خود اس اچانک اسٹڈی لوڈ سے شدید عاجز تھی ۔ یوں لگ رہا تھا جیسے سر منڈواتے ہی اولے پڑنے لگے ہوں۔

”کم آن یار، آخری سمیسٹر ہے ہمارا۔ اب بھی نہیں پڑھیں گے تو کب پڑھیں گے“۔ سارہ نے چیونگم منہ میں ڈالتے شرم دلائی۔

”اور اب اگر ہم یہاں بیٹھیں سر عباسی کو کوستی رہیں تو لیکچر کے ساتھ اٹینڈنس بھی شارٹ ہوجائے گی۔ پھر تو سمجھو مل گئی ڈگری۔ اس لئے اٹھو کلاس میں چلتے ہیں۔ یہ جھک بعد میں مار لینا“۔ علینہ کی بات پہ وہ دونوں بھی اپنے بیگ اور فائلیں سنبھالتی اٹھ کر کھڑی ہوگئی تھیں۔

٭….٭….٭

ساڑھے گیارہ بجے کے قریب وہ کالج سے نکل آئی تھی۔ باہر اس وقت ٹریفک تھی نا ہی لوگوں کا رش کیونکہ اس وقت عموماََ لوگ اپنے اپنے کاموں میں مصروف ہوتے ہیں۔ گیٹ کیپر نے اپنے رجسٹر میں اس کا نام اور آئی ڈی کا اندراج کیا تھا جس کے بعد وہ اپنے گھر کے راستے کی طرف چل پڑی تھی۔ ذہن میں اس وقت بے ہنگم خیالات کی بھرمار تھی جن میں سے کسی ایک بھی بات پہ سوچنے کا اس کا کوئی ارادہ نا تھا۔ بہت کر لیا تھا اس نے محبت پہ ماتم۔۔۔۔اب اسے خود کو نارمل کرنا تھا۔ اپنے لئے، اپنے گھر والوں کے لئے۔ دل پہ پتھر رکھ کر وہ سمیر کو انکار کر چکی تھی اب اس سے آگے تو کچھ بچا بھی نہیں تھا۔ پھر کیوں وہ اس اذیت میں مبتلا ہے ہر طرف تماشہ بن رہی ہے۔ اسے اب اپنا مزید تماشہ نہیں بنوانا تھا۔ انہی سوچوں میں گھری وہ آہستہ آہستہ چلتی سر جھکائے گھر کی طرف جارہی تھی جب ایک کیری ڈبہ زن سے اس کے بالکل پاس آکر رکا۔ اس نے چونک کر دیکھا ۔ ڈرائیونگ سیٹ پہ مونس بیٹھا دانت نکال رہا تھا۔ وہ ایکدم چوکس ہوئی اور آگے کی طرف بھاگی لیکن مونس نے بے تحاشہ پھرتی سے اس کے پیچھے بھاگ کر اسے دبوچا اور اپنے ہاتھ مین پکڑا رومال اس کی ناک پہ رکھ دیا۔ ناگوار بدبو سے اس کے اعصاب شل ہونے لگے اور چند ہی لمحوں میں اس کا وجود بے جان ہوکر مونس کے ہاتھوں مین جھولنے لگا تھا۔

”تم۔۔۔“اس کی آنکھ کھلی تو مونس ہاتھ میں پانی کا گلاس تھامے اس کے چہرے پہ چھینٹے مار رہا تھا۔

”کیوں لائے ہو تم مجھے یہاں؟“وہ ایکدم اٹھ کر بیٹھ گئی۔ خوف سے اس نے اپنے اردگرد نگاہ دوڑائی۔ یہ ایک دس بائے دس کا کمرہ تھا جہاں ایک بیڈ بچھا تھا ۔ ایک طرف چھوٹی سی میز اور دو کرسیاں رکھی ہوئی تھیں۔ علینہ کے لئے یہ ماحول بالکل اجنبی تھا۔ اس کی سمجھ نہیں آرہا تھا وہ اس وقت کہاں ہوسکتی ہے۔

”کیا کرتا مجبوری تھی“۔مونس نے کندھے اچکاتے پانی کا گلاس سامنے پڑی میز پہ پٹخا۔

”وہ تمہارا اکڑو باپ اگر سیدھی طرح شادی کے لئے ہاں کردیتا تو مجھے اتنی محنت کرنی ہی نہیں پڑتی“۔ وہ اب علینہ کے پاس بیڈ پہ آکر بیٹھ گیا تھا۔ اس کے ہر ہر انداز میں بے خوفی تھی۔ بدتمیز تو وہ پہلے بھی حد درجے کا تھا لیکن اس پل علینہ کو اس سے شدید خوف آرہا تھا۔

”دماغ تو خراب نہیں ہوگیا تمہارا۔ تم سے شادی کیسے ہوسکتی ہے میری“۔وہ خود میں سمٹ کر کچھ پیچھے ہوکر بیٹھ گئی۔

”یہی ٹون تھی تمہارے اس پاگل باپ کی بھی۔ بڑے غرور سے اس نے کہا تھا کہ تمہارے لئے ڈی سی کا رشتہ آیا ہے۔ اب میں بھی دیکھتا ہوں وہ ڈی سی تم سے شادی کیسے کرتا ہے۔ بھئی ہم سے بڑا تمہارا عاشق تو نہیں ہے نا وہ“۔ اپنے لچر اسٹائل میں کہتے اس نے دایاں ہاتھ سینے پہ مارا۔ علینہ کا دل کیا اس کا منہ توڑ دے۔

”شٹ اپ۔ تمیں کیا لگتا ہے یہ سب کرکے تم بچ جاو ¿ گے۔ بابا تمہاری چمڑی ادھیڑ دیں گے۔“ وہ حلق کے بل چلائی تھی۔

”اوہ کم آن۔ مجھے تو تم بچاو ¿ گی۔ ان پیپرز پہ دستخط کرکے“۔مونس پہ اس کی بات کا الٹا اثر ہوا تھا۔ پینٹ کی جیب سے اس نے چند تہہ شدہ کاغذ نکالے اور علینہ کی طرف بڑھائے۔

”کیا ہے یہ سب؟“اس نے حیرت سے پوچھا تھا۔

”ہمارا نکاح نامہ“۔علینہ کا دماغ سن رہ گیا۔

”واٹ؟“اسے شاک لگا تھا۔

”یس! سب کچھ پہلے سے فِل ہے ، انفیکٹ میں بھی سائن کر چکا ہوں۔ بس تم نے اپنے پیارے پیارے نازک ہاتھوں سے تین جگہ دستخط کرنا ہے۔ پھر تم میری لیگل ویڈڈ وائف بن جاو ¿ گی اور پھر کوئی کچھ نہیں کرسکے گا“۔ مونس نے ہاتھ میں پکڑا پین اس کی انگلیوں مین تھماتے اسے دستخط کرنے والے کالم کی نشاندہی کی۔

”کبھی نہیں۔۔میں مر کر بھی اس پہ دستخط نہیں کروں گی مونس“۔علینہ نے پین اٹھا کر دور پھینک دیا۔

”تم زبردستی میرے ساتھ کچھ نہیں کرسکتے“۔ اتنا تو وہ بھی جانتی تھی جبراََ نکاح نہین ہوسکتا ہے۔ وہ اگر دستخط کر بھی دیتی تو اس شادی کو شرعی و قانونی حیثیت کبھی نہیں حاصل ہوتی لیکن مونس کے دماغ مین اس وقت شیطان گھسا تھا۔

”میں زبردستی تمہیں یہاں لا سکتا ہوں مائی ڈئیر علینہ تو تمہارے ساتھ اور بھی بہت کچھ کر سکتا ہوں۔“ اس کے انداز میں چیلنج تھا۔

”نہیں یقین آرہا؟“

”چلو یقین دلاتا ہوں“۔

”یہ ہے گن۔۔۔۔مارنے کے لئے نہیں بس ڈرانے کے لئے ہے“۔پینٹ کی جیب سے لوڈڈ پستول نکال کر اس نے علینہ کے سامنے یوں پیش کیا جیسے کسی خاص شے کی نمائش ر ہا ہوتا ہے۔ علینہ کا سانس خشک ہوگیا جب اچانک مونس کمرے مین رکھی میز تک گیا اور ایک شیشے کی بوتل اٹھا کر علینہ کے پاس واپس آگیا۔

”اور اس میں ہے ”تیزاب“۔ نہیں نہیں پھینکنا نہیں بس ڈرانا ہے۔“ علینہ کی آنکھوں کے سامنے بوتل گھماتے اس نے سفاکی سے کہا تھا۔ وہ بے اختیار پیچھے ہوئی۔ اس کے جارحانہ عزائم کے متعلق سوچ کر اس وقت علینہ کی روح تک کانپ گئی تھی۔

”لیکن اگر ان دونوں میں سے ایک بھی چیز پہ میرا ہاتھ پھسل گیا تو تم خود سوچو۔ بہت برا ہوجائے گا نا اور میں نہیں چاہتا تمہارے ساتھ کچھ بھی برا ہو۔ اس لئے شاباش اچھے بچوں کی طرح ان پیپرز پہ دستخط کرو۔ “ تیزاب کی بھری ہوئی بوتل واپس میز پہ رکھ کر اس نے علینہ کو بالوں سے پکڑ لیا۔ تکلیف سے اس کی چیخ نکل گئی لیکن مونس کو اس پہ ترس نہیں آیا تھا۔

”دیکھو پہلے ہی تمہیں یہاں دو گھنٹے ہوچکے ہیں۔ کچھ ہی دیر میں رات ہوجائے گی اور اچھی لڑکیاں راتوں کو اجنبی لڑکوں سے ساتھ نہیں رہتیں۔ تم نکاح نامے پہ سائن کرو پھر میں صبح تمہیں اپنی امی اور تمہارے بابا کے پاس لے کر جاو ¿ں گا“۔ اس کے گالوں کو سہلاتے اس نے ایک بار پھر پین اس کے ہاتھ میں تھما دیا تھا ۔ علینہ کا دل بری طرح دھڑک رہا تھا۔ اس وقت اسے بس ایک ہی شخص کا خیال آرہا تھا کہ کاش وہ پچھلی بار کی طرح آج بھی اسے مونس کے شر سے بچا لے۔ کاش سمیر مونس کے ہاتھون اس کی عزت پامال نا ہونے دے۔ یہی سب سوچتے اس نے گھٹنوں میں سر دئیے زارو قطار رونا شروع کر دیا تھا۔

٭….٭….٭

”امی علینہ ابھی تک کیوں نہیں آئی۔ صبح تو کہہ کر گئی تھی آج جلدی واپس آجائے گی۔ اب تو چھٹی ہوئے بھی آدھا گھنٹہ گزر چکا ہے“۔ عموماََ وہ ڈیڑھ بجے تک گھر پہنچ جایا کرتی تھی۔ اس وقت سے آسیہ کی نگاہیں دروازے پہ ٹکی تھیں۔ علینہ کا کالج کوئی بہت دور تو تھا نہیں۔ کئی سال سے وہ ایک فکس ٹائم پہ گھر پہنچا کرتی تھی اور آج تو اس کی طبیعت بھی ٹھیک نہین تھی۔ آسیہ نے بالآخر اپنی پریشانی ماں سے کہہ ڈالی تھی۔

”میں بھی اس وقت سے گھڑی پہ نگاہ لگائے بیٹھی ہوں۔ کبھی اپنے وقت سے آگے پیچھے نہیں ہوئی یہ سوائے اس دن والے حادثے کے۔ طبیعت بھی اچھی نہیں تھی کہیں زیادہ ہی نا بگڑ گئی ہو۔ منع بھی کیا تھا مت جا کالج لیکن ڈھیٹ تو ایسی ہے کہ رو رو مر جائیں بھلے اس کے کان پہ جوں نہیں رینگنے کی“۔ خود شاکرہ بھی اسی کی منتظر تھیں۔

”اللہ خیر کرے“۔ آسیہ ان کے پاس برآمدے مین بچھے تخت پہ بیٹھ گئی۔

”ارے اب یہاں کیا بیٹھی ہو موبائل پہ فون کرو اس کے ، پوچھو کہاں رہ گئی“۔وہ تنک کر بولی تھیں۔ علینہ کی طرف سے صبح سے ان کا دل عجیب و غریب وسوسوں کا شکار ہو رہا تھا۔ آسیہ جلدی سے اٹھ کر کمرے میں گئی اور اپنے سیل فون سے علینہ کے نمبر پہ کال ملائی۔ فون بند جارہا تھا۔

”کسی سہیلی کے ساتھ تو نہیں چلی گئی“۔آسیہ نے کود کو تسلی دیتے ماں کی طرف دیکھا۔

”ہائے اتنے برسوں میں تو نا گئی کبھی، آج کاہے کو جائے گی۔ وہ سارہ اور رومیصہ ہی کبھی کبھار چکر لگا لیتی ہیں“۔ شاکرہ نے فوراََ ہی اس کے خیال کو رد کر دیا تھا۔ علینہ انہیں بتائے بغیر گھر سے باہر منہ نہیں نکالتی تھی۔ وہ تو کبھی ان کے ساتھ کسی محلے دار کے گھر بھی نہیں گئی تھی پھر اس بخار میں سہیلیوں کے ستاھ کیونکر چلی جاتی۔

”ان دونوں کا نمبر ہے آپ کے پاس؟“ آسیہ نے مزید پوچھا۔

”لو بھلا ان کا نمبر کیوں ہوگا میرے پاس۔ یہیں پاس میں رہتی ہیں کسی کو بھیج کر پتا کرا لیتی ہوں لیکن یہ علینہ کا نمبر کیوں بند جا رہا ہے“۔ آج سے پہلے کبھی ان مین سے کسی کو کال کرنے کی ضرورت پڑی تھی نا ہی ایسی نوبت آئی تھی۔ شاکرہ چپل گھسیٹتیں اٹھ کر دروازے کی طرف جانے لگیں۔

”میں خود چلی جاتی ہوں کالج یہیں پاس میں تو ہے“۔ آسیہ ڈوپٹہ سر پہ لپیٹتے ان کے پیچھے بھاگی ۔ وہ وہیں رک گئیں۔ اگلے دس منٹ مین وہ علینہ کے کالج پہنچ چکی تھی۔ گیٹ کیپر سے علینہ کے متعلق استفسار کرنے پہ معلوم ہوا کہ وہ تو ساڑھے گیاہ بجے ہی کالج سے نکل چکی ہے۔ رجسٹر میں اس کے نام اور دستخط کے ساتھ وقت کا اندراج موجود تھا۔ آسیہ کا دل بری طرح دہل گیا۔ وہ الٹے پیروں بھاگتی ہوئی گھر پہنچی تھی جہاں شاکرہ پہ اس کا انکشاف بم بن کر گرا تھا۔

٭….٭….٭

”مونس کہاں ہے؟“ شاکرہ نے فوری طور پہ خاور کو فون کرکے علینہ کی گمشدگی کے متعلق بتایا تھا۔ کالج سے ساری معلومات لینے کے بعد خاور کے ذہن نے بے اختیار مونس کا نام سوچا تھا۔ مونس کا نمبر ملانے پہ وہ بند مل رہا تھا اسی لئے وہ بھاگتا دوڑتا رخشندہ کے پاس چلا آیا۔

”مجھے کیا پتا۔ اس دن بیچارے کو تم نے اتنا ذلیل کیا تھا تب سے میرے بچے نے پلٹ کر پوچھا بھی نہیں“۔ رخشندہ کو خاور کے تیور دیکھ کر خوف آیا تھا تو اس کی پریشانی نے حیران کیا تھا۔ اس نے جان چھڑانے والے انداز میں کہتے ہاتھ جھٹکا۔

”علینہ کالج سے واپس گھر نہیں پہنچی۔ پچھلے تین گھنٹوں سے اس کا کچھ پتا نہیں “۔ وہ پریشانی کے عالم میںکمرے میںٹہل رہا تھا۔

”ہاں تو۔۔۔۔اس سب سے مونس کا کیا لینا دینا۔ بھاگ گئی ہو کسی کے ساتھ“۔ رخشندہ کا منہ کھلا کا کھلا رہ گیا ۔ اس کا ماتھا ٹھنکا تھا لیکن خود پہ قابو پاتے اس نے اپنی عادت کے مطابق علینہ کو موردِ الزام ٹھہرایا۔

”بکواس بند کرو رخشندہ۔ مجھے صاف صاف بتا دو اگر تم اس متعلق کچھ بھی جانتی ہو کیونکہ پورا یقین ہے اس میں مونس کا ہاتھ ہے ۔“ اس کی بات سن کر خاور غصے میں غرایا تھا۔

”مونس کا ہاتھ کیوں ہوگا بھئی۔ تمہاری بیٹی کالج سے گھر نہیں گئی۔ اللہ جانے کس کے چکر میں تھی اسے میرے بچے کے سر کیوں تھوپ رہے ہو؟“رخشندہ نے پہلو بچانا چاہا۔

”کیونکہ ایک وہی تھا جو ہاتھ دھو کے اس کے پیچھے پڑا ہوا تھا۔ رشتے سے انکار کا بدلہ وہ ایسے لے رہا ہے“۔ خاور کی بات پہ رخشندہ آئیں بائیں شائین مارنے لگی۔

”چھوٹا بچہ ہے وہ، پڑھ رہا ہے۔ چار پیسوں کے لئے اپنے باپ کا محتاج ہے کہاں سے اغواءکرے گا وہ تمہاری بیٹی۔ اور رشتے سے انکار بس مونس کو تو ہوا نہیں، وہ تمہارا بھانجا بھی ٹھکرایا گیا ہے۔ کیا پتا اسی نے انتقام لینے کے لئے اٹھوا لیا ہو۔ اتنی بڑی کرسی پہ بیٹھا ہے ، اپنے اثر و رسوخ کا استعمال کرکے غائب کرادی لڑکی“۔ بہرحال وہ چکنا گھڑا تھی خود کو کبھی گرفت میں نہیں آنے دیتی تھی لیکن اندر ہی اندر اب اسے خوف آرہا تھا۔ اگر یہ سب کچھ واقعی مونس کا کیا دھرا ہے تو پھر انجام اچھا نہیں ہوگا۔ اس کے لئے تو اکیلا خاور ہی کافی تھا پھر اب تو اس شہر کے بااختیار لوگوں کا ساتھ بھی حاصل تھا ایسے حالات میں مونس کی احمقانہ پلاننگ ایک ہی پل میں کھل کر سب کے سامنے آتو چکی تھی، اسے پکڑے جانے میں کتنا وقت لگتا۔

”بکو مت۔ سمیر پہ انگلی اٹھانے سے پہلے اپنے گریبان میں جھانک کر دیکھو۔ غلطی میری ہی ہے جو تمہیں تمہارے حال پہ چھوڑے رکھا۔ تم جیسی عورتیں کبھی اپنی فطرت نہیں بدل سکتی ہیں۔ ایک بات تو طے ہے، اگر میری بیٹی کو مونس نے کسی بھی قسم کا نقصان پہنچایا تو میں اسے چھوڑوں گا نہیں اور تمہیں اس گھر میں رکھوں گا نہیں۔ یاد رکھنا میری بات تم“۔ وہ تن فن کرتا کمرے سے باہر نکل گیا پیچھے رخشندہ سر تھامے بیٹھی رہ گئی۔

”ہائے مونس یہ تو نے کیا کردیا“۔ اب تو بس اسے اس بات کا خوف تھا مونس کوئی ایسی حد پار نا کرلے جس کا انجام اس سمیت خود رکشندہ کو بھی بھگتنا پڑے۔

”اس منحوس کے عشق میں ایسا پاگل ہوا کہ اچھا برا بھی بھول گیا۔ اب میں کیا کروں۔ “ اس نے بے اختیار اپنا ماتھا پیٹ لیا تھا۔

٭….٭….٭

خاور نے اسی وقت سمیر کو فون پہ علینہ کی گمشدگی کی اطلاع دے دی تھی۔ وہ خود بھی مونس کی تلاش میں مارا مارا پھر رہا تھا لیکن سمیر کو انوالو کرنا بھی ضروری سمجھا تھا۔ جیسے ہی نور انصاری کو پتا چلا وہ فریھہ اور ڈاکٹر انصاری کے ساتھ شاکرہ نانی کی طرف چلی آئی تھیں۔ آسیہ کا رو رو کر برا حال تھا تو نانی کو غش آرہے تھے۔ خاور کی زبانی ہی انہیں پہلی بار مونس کے رشتے والی بات معلوم ہوئی تھی اور وہ دونوں اس بات پہ سر پیٹ رہی تھیں کہ اگر انہین ذرا سا بھی اشارہ ملا ہوتا تو وہ علینہ کو کبھی اکیلا گھر سے نکلنے نا دیتیں۔

”حوصلہ رکھو آسیہ، علینہ کو کچھ نہیں ہوگا ان شاءاللہ۔ سمیر اور خاور اسے ڈھونڈ رہے ہیں“۔ نور انصاری نے پانی کا گلاس آسیہ کو تھماتے اسے تسلی دی۔ وہ خود اس وقت شدید پریشان تھیں لیکن آسیہ تو ماں تھی۔ اپنی اولاد کے لئے ایک ماں سے بڑھ کر تڑپ تو کسی کی نہین ہوا کرتی۔ وہ لوگ مستقل سمیر سے فون پہ رابطے مین تھے۔

”حوصلہ ہی تو نہیں ہورہا۔ پتا نہیں میری بچی کس حال میں ہوگی۔ “ آنسوں تھے کے تھمنے کا نام ہی نہیں لے رہے تھے۔ دوسری طرف فریحہ شاکرہ نانی کو سنبھالے ہوئے تھی ۔

”اللہ کی پناہ میں دے دو اس کو۔ وہ سب سے بڑھ کر حفاظت کرنے والا ہے“۔ نور انصاری نے اسے سینے سے لگاتے تسلی دی۔

”بخار میں پھنک رہی تھی معصوم، دو دن سے طبیعت ٹھیک نہیں تھی۔ میرا تو صبح ہی دل نہیں مان رہا تھا کہ یہ کالج جائے“۔ شاکرہ نے کئی بار کی دہرائی بات ایک بار پھر رو رو کر بیان کی۔

”آپ پریشان نہ ہوں آنٹی۔ اللہ پاک بہتر کریں گے“۔ ان سب کے پاس ایک دوسرے کو تسلی دینے کے سوا فی الوقت کچھ بھی تو نہیں تھا۔

٭….٭….٭

”مجھے پورا یقین ہے ڈی سی صاحب وہ فلاپ ہیرو اسی جگہ ہے۔ جذباتی اور امیچور ہے اس لئے کافی کلئیو چھوڑیں ہیں اور فون تو اس کا ہم پہلے ہی ٹریس کر چکے ہیں“۔پولیس نے مونس کے فون کو ٹریس کرکے اس کا پچھلا سارا ریکارڈ حاصل کرلیا تھا۔ یہی نہیں انہوں نے وہ گاڑی بھی برآمد کرلی تھی جو مونس نے شارق سے لی تھی اور جس میں علینہ کو اغواءکیا گیا تھا۔ گذشتہ چند کالوں کے ریکارڈ کی بدولت پولیس اس پراپرٹی ڈیلر تک بھی پہنچ گئی تھی جسے تین ماہ کا کریہ دے کر گھر ایک ہفتہ کے لئے کرایے پہ لیا گیا تھا۔ سمیر نے اس سارے معاملے میں فقط ایس ایچ کو انوالو کیا تھا جس سے اس کی ذاتی جان پہچان بھی تھی۔ یہ اس کے گھر کا معاملہ تھا اور بات پبلک نہیں ہونی چاہیئے تھی۔ وہ خود اس کیس میں سب سے آگے تھا شائد یہی وجہ تھی کہ فقط چند گھنٹوں میں پولیس مونس کا سراغ لگا چکی تھی۔

”کوئی غلطی نہیں ہونی چاہیئے اور بات باہر تو کسی صورت نہیں نکلنی چاہیئے۔ “ اس نے ہر بار کی کہی بات ایک بار پھر دہرائی تھی۔ وہ اس وقت شدید اضطراب میں تھا۔ دل ہی دل میں علینہ کی عافیت کی دعائیں مانگتا۔ اسے پہنچنے والے معمولی سے نقصان کی سوچ بھی اسے حد درجہ پریشان کر رہی تھی۔

”ان شاءاللہ ایسا ہی ہوگا سر۔ میرے آدمی اس گھر کے باہر ہی موجود ہیں“۔ ایس ایچ نے فون پر اسے اپ ڈیٹ دی تھی۔ وہ اسے اس علاقے اور گھر کی تفصیلات بتا رہا تھا جہاں مونس کی موجودگی کے شواہد ملے تھے۔ ڈی سی کی انوالومنٹ ہو تو ویسے بھی پولیس ضرورت سے زیادہ مستعد ہوجاتی ہے ورنہ تو عام آدمی کے لئے اس سے آدھی مشکل بھی پہاڑ بن جاتی ہے۔ معمولی سے معمولی کیس بھی اول تو تھانے میں درج ہی نہیں کیا جاتا اور اگر ہوبھی جائے تو گریب کی جوتیاں گھس جاتی ہیں اس کی پیروی میں ۔ انصاف کا حصول تو دور کی بات الٹا ہاتھ سے بہت کچھ دینا پڑتا ہے عزت بچانے کے لئے۔

”تو پھر میں بھی پہنچ رہا ہوں۔ “ سمیر نے اگنیشن چابی گھماتے ہوئے کہا۔ ایس ایچ او کی اس درجہ مستعدی اور تسلی آمیز گفتگو کے باوجود وہ مطمعن نہیں ہوپارہا تھا۔ خاور بھی اس کے ساتھ ساتھ تھا لیکن سمیر نے اسے نور فاطمہ کے پاس جانے کا کہا تھا۔

”علینہ کو میری ضرورت ہوگی“۔ زیرِ لب کہتے اس نے ایکسیلیٹر پہ پیر کا دباو ¿ بڑھا دیا۔

”اس کی ضرورت تو نہیں تھی سر لیکن جیسے آپ کا آرڈر“۔ کال ڈسکنیکٹ کرنے سے پہلے اس کے کانوں نے ایس ایچ او کی مایوسی بھری آواز سنی تھی۔ وہ اب ایک ہاتھ سے سر تھامے دوسرا ہاتھ اسٹیرنگ پہ ٹکائے ایک نامعلوم منزل کی طرف جارہا تھا۔

¿¿¿٭….٭….٭

ایسا لگتا تھا درد کی شدت سے اسکا کلیجہ پھٹ جائے گا۔ جلن کا بدترین احساس تھا جو اس کی برداشت سے کہیں بڑھ کر تھا۔ اپنے کندھے اور گردن کی نچلی سطح اسے برچھیوں سے کٹتی ہوئی محسوس ہورہی تھی۔ بڑی مشکل سے اس نے خود کو سنبھالتے ہوئے چند قدم آگے بڑھنے کی کوشش کی لیکن وہ ناکام رہی تھی۔ آنکھوں کے آگے اندھیرا چھانے لگا تھا اور پھر روشنی کا ایک ہالہ نمودار ہوا جس میں اسے اپنی ماں کی صورت دکھائی دی تھی۔ صبح والا اس کا متفکر چہرہ اس پل اس کی نگاہوں کے سامنے تھا اور پھر وہ دھندلا نے لگا۔ پتا نہیں اس کے گھر نا لوٹنے پہ ماں کی کیا حالت ہورہی ہو گی۔ ذہن کے پردے پہ اب ایک دوسری شبیہہ نمودار ہوئی تھی۔ سمیر کا سنجیدہ اور بے تاثر چہرہ۔۔۔۔۔ ابھی کچھ دیر پہلے وہ رو رو کر بس ایک ہی دعا کررہی تھی کہ کاش سمیر اس وقت وہاں آجائے اور اب اس کی شبیہہ سامنے تھی لیکن وہ کچھ بھی کہنے سے قاصر تھی۔ عجیب سا شور فضا میں پھیلا ہوا تھا اور اس شور میں اسے سمیر کی آواز سنائی دی تھی۔ علینہ نے کچھ سمجھنے کی سعی کی مگر کچھ بھی جان نہیں پائی اور پھر اس کا ذہن تاریکی کی گود میں اترتا چلا گیا۔

اس سے پہلے کہ وہ فرش پہ گر جاتی سمیر کے مضبوط بازو ¶ں نے اس کے بیہوش وجود کو سنبھال لیا تھا۔ وہ سب سے پہلے اس کمرے میں داخل ہوا تھا جہاں مونس نے علینہ کو قید کر رکھا تھا۔ پولیس اہلکاروں نے اس مکان کو چاروں طرف سے گھیر رکھا تھا۔ چند سادہ کپڑوں میں ملبوس پولیس والے مکان کی دیوار پھلانگ کر اندر داخل ہوئے۔ بدقسمتی سے مونس کو ان کی آمد کی خبر ہوگئی تھی۔ وہ بھاگم بھاگ علینہ کے کمرے میں آیا جہاں وہ گھٹنوں میں سر دئیے بیٹھی رو رہی تھی بخار سے اس کا چہرہ سرخ ہو رہا تھا۔

”آخر تمہارا وہ عاشق یہان پہنچ ہی گیا“۔ مونس نے گھسیٹ کر اسے بستر سے نیچے اتارا تھا۔ اس کی انگلیوں کی سختی اپنے بازو پہ محسوس کرتے وہ بری طرح بلبلائی تھی۔

”چلو جلدی سے ان کاغذوں پہ دستخط کرو ورنہ۔۔۔۔“ اس نے بستر پہ پڑا نکاح نامہ اٹھا کر اس کی طرف بڑھایا۔ علینہ نے نکاح نامہ اس کے ہاتھ سے چھین کر ٹکڑے ٹکڑے کرتے مونس کے منہ پر دے مارا۔ وہ اسے نفرت سے دیکھ رہی تھی۔ مونس نے آ ¶ دیکھا نا تا ¶ ایک تھپڑ زور سے علینہ کے گال پہ رسید کیا۔ وہ منہ کے بل فرش پہ جا گری۔

”یہ تو ہوا پرانا حساب لیکن تمہاری طرف ابھی میرے بہت سے قرض نکلتے ہیں“۔ قہر آلود نگاہوں سے اس کی طرف دیکھتا وہ میز کی سمت بڑھا اور وہاں پڑی بوتل اٹھا کر کھولنے لگا۔ علینہ تیزاب کی بوتل اس کے ہاتھ میں دیکھ کر پہلے ہی الرٹ ہوچکی تھی اس لئے اپنی ساری طاقت مجتمع کرکے اس جگہ سے اٹھی اور دروازے کی طرف بھاگی ۔ مونس نے اس سے بڑھ کر پھرتی دکھاتے تیزاب اس کی طرف اچھال دیا۔ کھولتا ہوا سیال فاصلے کے سبب کچھ تو فرش پہ گرا لیکن علینہ کا دایاں کندھا اور گردن کا نچلا حصہ بچ نہیں پایا ۔ سمیر کے اندر داخل ہونے سے پہلے علینہ تکلیف کی شدت سے بے ہوش ہوچکی تھی۔

سمیر کو دیکھ کر مونس نے جیب سے پستول نکال کر اس پہ حملہ کرنا چاہا لیکن اسی وقت پیچھے سے آتے پولیس اہلکار نے اس کے ہاتھ کا نشانہ لیا۔ فضا میں گولی کی آواز گونج اٹھی اور مونس کے ہاتھ سے پستول نیچے جاگرا۔ وہ اپنا زخمی ہاتھ تھامے بلبلا اٹھا۔ پولیس اہلکار نے آگے بڑھ کر تیزی سے اسے قابو میں کیا اور دھکیلتا ہوا کمرے سے باہر لے گیا۔

٭….٭….٭

سمیر اسے اپنی ہی گاڑی میں اسپتال لے آیا تھا۔ راستے میں اس نے نور انصاری کو بھی کال پہ ساری تفصیل سے آگاہ کردیا تھا۔ علینہ کو برن یونٹ میں شفٹ کیا گیا جہاں اسے فوری طبی امداد دی گئی تھیں۔ ڈاکٹر انصاری نے شہر سے اپنے ملنے والے دو اسپیشئلسٹ ڈاکٹروں کو بھی بلوا لیا تھا۔ پچھلے بیس گھنٹے سے اسے ہوش نہیں آیا تھا۔ ڈاکٹروں کے مطابق وہ شاک کے زیرِ اثر تھی۔ اس کا کندھا اور دائیں بازو کا اوپری حصہ اچھا خاصا جھلس گیا تھا جبکہ گردن کی نچلی سطح پہ بھی جلنے کے کئی واضح نشانات تھے البتہ کندھے اور بازو کا زخم بہت گہرا تھا۔ اسپتال میں اس وقت سب ہی موجود تھے۔ آسیہ کا رو رو کر برا حال ہورہا تھا تو شاکرہ کو سنبھالنا مشکل تھا ۔ ڈاکٹر انصاری نے ان کی طبیعت کے پیشِ نظر انہین گھر بھیجا تھا۔ خاور کا بس نہیں چل رہا تھا وہ مونس کو جان سے مار دے جس نے اس کی پھول سی بچی کو اتنی تکلیف اور اذیت دی تھی لیکن سمیر نے اسے قانون اپنے ہاتھ مین لینے سے باز رکھا تھا۔ وہ خود اس کیس کی نگرانی کر رہا تھا اور اسے کیفرِ کردار تک پہنچانے کی ٹھان چکا تھا۔ علینہ کے ہوش میں آنے کی خبر نے سب ہی کے اداس چہروں پہ زندگی بکھیر دی تھی۔ ڈاکٹروں کے معائنے کے بعد یکے بعد دیگرے سب ہی اس سے ملاقات کر چکے تھے۔ سمیر سب سے آخر میں اس کے پاس گیا تھا۔ وہ بستر پہ آنکھیں موندیں چت لیٹی تھی۔ اس نے اسپتال کا مخصوص گاو ¿ن پہن رکھا تھا۔ ہاتھ پہ پلس آکسیمیٹری اور کینولا لگا تھا ۔ گاو ¿ن سے نظر آتے گردن کے مختصر حصے کو بینڈیج کیا گیا تھا ۔ نور انصاری کے بقول وہ خطرے سے باہر تھی اور مخصوص حصے کی جلن اور زخم کے سوا وہ بالکل ٹھیک تھی لیکن سمیر اس کے چہرے پہ نقاہت اور تکلیف دہ تاثرات بآسانی دیکھ سکتا تھا۔ اس کے دل پہ بوجھ آٹکا تھا۔ کاش وہ کچھ اور جلدی وہاں پہنچ پاتا تو مونس اس معصوم کے ساتھ اتنا ظلم نا کر پاتا۔ اس کے بیڈ کے پاس خاموش کھڑا وہ علینہ کا ستا ہوا چہرہ دیکھ رہا جب اس نے آنکھیں کھول دیں۔

”کیسی ہو خوبصورت لڑکی؟“ خود کو نارمل کرتے اس نے اپنے مخصوص انداز مین علینہ کو چھیڑا تھا۔ جواباََ علینہ دھیما سا مسکرائی لیکن اس مسکراہٹ میں بھی تکلیف کا عنصر غالب تھا۔سمیر کو اس کا اداس چہرہ اچھا نہیں لگ رہا تھا ۔

”تمہیں اگر مونس اتنا پسند تھا تو مجھے پہلے بتا دیتی۔ میں ملاقات ارینج کردیتا۔ سب کو پریشان کرنے کی کیا ضرورت تھی“۔ وہ شرارت سے بولا تو علینہ کا منہ پہلے تو حیرت سے کھلا کا کھلا رہ گیا اور پھر اس کو ہنستا پاکر اس نے اپنے داہنے ہاتھ سے اسے پرے دھکیلنے کی کوشش کی لیکن شدید تکلیف کے احساس نے بے حال کردیا۔ درد کی شدت پہ قابو پانے کی خاطر اس نے اٹھ کر بیٹھنا چاہا لیکن سمیر نے فوری طور پہ ٹوکتے ہوئے اسے واپس بستر پہ لٹا دیا۔

 ”نہیں نہیں اٹھو مت۔ ممی نے سختی سے ہلنے جلنے سے منع کیا ہے“۔ وہ برا سا منہ بنا کر واپس لیٹ گئی۔ سمیر بیڈ کے کونے پہ اس کے پاس ہی بیٹھ گیا۔

”بہت دردہورہا ہے“۔علینہ نے آنکھ کے اشارے سے کندھے کی طرف اشارہ کیا۔

”زخم کافی گہرا ہے۔ اس حصے کی اسکن بری طرح جھلس گئی ہے لیکن ان شاءاللہ بہت جلد ریکور ہوجائے گا۔ ڈونٹ وری“۔ سمیر نے انگلی کے اشارے سے اسے اس جگہ کے متعلق آگاہ کیا جہاں تیزاب گرا تھا۔ علینہ کی نگاہوں کے سامنے وہ منظر ابھرا جب تیزاب اس کے بازو پہ گرا تھا۔

”اور نشان؟“ اس نے نا امیدی سے سوال کیا تھا۔

”ایک دو سرجریز میں وہ بھی چلے جائیں گے ۔ بٹ اِٹ وِل ٹیک ٹائم“۔ سمیر نے اسے یقین دلایا۔ علینہ لب کاٹتے خاموش ہوگئی۔ سمیر نے بھی اس سے آگے کچھ نہیں کہا تھا۔ چند لمحے خاموشی کے گزرے اور پھر کمرے میں علینہ کی آواز گونجی۔

”آپ مجھ سے ناراض ہیں نا؟“وہ پریشان نظروں سے اسے دیکھ رہی تھی۔

”ناراض تو نہیں لیکن تم نے مجھے بہت ہرٹ کیا ہے“۔سمیر کا لہجہ نارمل تھا ۔

”اور خود کو بھی“۔اس نے مزید کہا۔

”آپ کو پتا ہے اس دن میں نے آپ سے جھوٹ بولا تھا۔ میں۔۔۔میں۔۔۔“ اس نے اعتراف کیا تھا اور یہ سچ بتاتے اس پلکوں پہ آنسو جھلملانے لگے تھے۔

”جانتا ہوں۔ مجھے اندازہ تھا کوئی بات ضرور ہے“۔سمیر نے جیب میں رکھا ٹشو نکال کر اس کی آنکھیں خشک کیں ۔

”میں بس ماما کی وجہ سے۔۔۔انہیں لگتا تھا بابا نے جو کچھ ان کے ساتھ کیا آپ وہی سب میرے ساتھ کریں گے“۔ اس نے اس بار صاف گوئی سے سمیر کو ساری بات بتا دی۔ سمیر نے اس کی بیوقوفی پہ سر جھٹکا تھا۔

”اور یہ بات تم مجھ سے کہہ نہیں سکتی تھی۔ میں انہیں سمجھا سکتا تھا۔ ممی کتنا اپ سیٹ ہوئیں تمہاری وجہ سے“۔یہ اور بات اب کسی کو بھی کچھ کہنے سننے کی ضرورت باقی نہیں رہی تھی۔ اس مشکل وقت میں جس طرح انصاری فیملی نے ان کی مدد کی تھی اس کے بعد آسیہ کو اپنی سوچ اور فیصلے پہ بے تحاشہ شرمندگی ہورہی تھی۔ آج اگر سمیر نا ہوتا تو وہ لوگ اتنے کم وقت میں کہاں سے علینہ کو کھوج نکالتے۔

”آئی ایم سوری“۔وہ بے ساختہ بولی۔

”بس سوری؟“ٹشو پیپر پاس پڑی ڈسٹ بن میں پھینکتے سمیر مایوسی سے اس کے پاس سے اٹھ کر کھڑا ہوگیا۔

”سمیر میں آپ سے بہت پیار کرتی ہوں۔ میں نہیں رہ سکتی خوش آپ کے بغیر۔۔۔۔میں نے کوشش کی لیکن۔۔۔۔میں نہیں رہ پائی“۔

”زندگی میں پہلی بار میں اپنی ضد ، اپنے فیصلے کے آگے ہار گئی۔ آپ کو پتا ہے آپ کے ساتھ میں خود کو سب سے زیادہ محفوظ تصور کرتی ہوں۔ اس وقت جب مونس نے۔۔۔میں دل ہی دل میں دعا کر رہی تھی کاش آپ آجائیں۔ ہر بار کی طرح مجھے اس مشکل سے بچا لیں“ علینہ نے بے اختیار اس کا ہاتھ تھام لیا۔ اتنے دنوں سے وہ جس کیفیت سے گزر رہی تھی، جو کچھ وہ اس کے حوالے سے محسوس کر رہی تھی سب کہہ ڈالا۔

”تم نے خواہش کی اور میں آگیا کیونکہ مجھے تو آنا ہی تھا نا“۔سمیر نے ہلکا سا مسکراتے اس کے ہاتھ کی پشت کو تھپکا اور ہولے سے بیڈ پہ رکھ دیا۔

”اچھا اب تم ریسٹ کرو۔ ممی نے پہلے ہی وارن کیا تھا تمہیں زیادہ بولنے نا دوں“۔وہ ٹھیک تھی اور اس کی تھی اس وقت بس اتنا ہی کافی تھا باقی یہ سب باتیں تو بعد میں بھی ہوسکتی تھیں۔ وہ نہیں چاہتا تھا اس کی وجہ سے وہ اپنی طبیعت خراب کرلے۔

”آپ پھر آئیں گے نا ؟“اس نے جلدی سے سوال کیا تھا جیسے اس کے دور جانے سے خوفزدہ ہو۔

 ”میں کہیں نہیں جا رہا، باہر بیٹھا ہوں اور تم چاہو گی تمہارے پاس آجاو ¿ں گا“۔اس پہ تھوڑا سا جھک کر اس نے اسے یقین دلایا۔

”ایک بات پوچھوں؟“اس نے لب کاٹتے سوال کیا ۔ سمیر نے سر ہلا کر اسے اجازت دی تھی۔

”آپ اب بھی مجھ سے ۔۔۔۔؟؟؟“وہ کہتے کہتے خاموش ہوگئی پر سمیر اس کی بے اعتباری کا مفہوم سمجھ چکا تھا۔ علینہ سے محبت کا اعتراف سن کر بھی اس نے اب تک اسے پنے حوالے سے کچھ نہیں کہا تھا۔ یقینناََ وہ اب یہ سوچ رہی ہوگی کہ تیزاب سے جلنے کی وجہ سے شائد سمیر اب اس میں پہلے کی طرح انٹرسٹڈ نہیں رہا۔ اسی لئے وہ تذبذب کا شکار تھی۔

”علینہ میں تم سے محبت کرتا تھا، کرتا ہوں اور کرتا رہوں گا۔ محبت جسم یا ظاہری خوبصورتی سے نہیں دل سے ہوتی ہے۔ روح سے کی جاتی ہے۔ میں نے تمہیں اپنا لائف پارٹنر بنانے کا فیصلہ کیا تھا اور میں آج بھی اس بات پہ اسی خوشی سے قائم ہوں۔ اب اس پہ کسی احساسِ کمتری کا شکار مت ہوجانا ۔ یہ سب ٹھیک ہوجائے گا“۔اس کے بالوں کو انگلیوں سے سہلاتے سمیر نے نرمی سے کہا تھا اور علینہ کی روح تک سکون اتر گیا تھا۔ اس کے بعد مزید کچھ کہننے سننے کی ضرورت باقی تھی نا خواہش۔

٭….٭….٭

”سفینہ رکو!“وہ بے تحاشہ بھاگ رہی تھی۔

”ایسے مت بھاگو، ورنہ گر جاو ¿ گی“۔پکار پہ اس نے پلٹ کر دیکھا۔ چہرے پہ معصوم سی مسکراہٹ ابھری اور ایک بار پھر اس نے بے اختیار دوڑنا شروع کر دیا۔ سبزے کے تختے پہ اپنے بے ربط قدموں سے ڈولتی وہ ایک ہی سمت دوڑتی چلی جارہی تھی۔ اس کے دائیں جانب موسمی پھولوں کی لمبی قطار تھی جن پہ دھنک رنگوں کی تتلیاں یہاں سے وہاں اڑتی پھر رہی تھیں۔ دونوں ہاتھ ہوا میں اٹھائے وہ ان تتلیوں کا تعاقب کرتی انہیں پکڑنے کی خواہاں تھی۔ اچانک اس کا بیلنس خراب ہوا اور وہ خود کو گرنے سے روک نہیں پائی تھی۔ وہ منہ کے بل گری تھی۔

”دیکھا میں نے کہا تھا نا گر جاو ¿ گی“۔نور انصاری تیزی سے وہاں پہنچیں اور سفینہ کو گود میں اٹھا لیا۔ وہ اب شور مچا مچا کر رو رہی تھی۔ اس کے سر اور ہاتھوں پہ لگی گھاس صاف کرتے نور انصاری نے اس کو کئی بوسے دئیے لیکن اس کا رونا ہنوز تھا کیونکہ وہ چوٹ لگنے پہ نہیں بلکہ تتلی ہاتھ نا آنے پہ رو رہی تھی۔ اس کا دایاں ہاتھ اب بھی فضا میں اڑتی تتلی کی طرف اشارہ کئے تھا۔ اپنی ننھی انگلیوں کو کھولتے اور بند کرتے وہ انہیں اپنے پاس بلا رہی تھی۔ نور انصاری اسے گود میں اٹھائے انصاری صاحب کے پاس چلی آئیں جو لان میں رکھے لان صوفہ پہ بیٹھے اخبار پڑھنے کے ساتھ ساتھ اپنی ڈھائی سالہ پوتی کی شرارتوں سے محظوظ ہورہے تھے۔ دادا کو دیکھ کر وہ ایک بار پھر حلق کا زور لگاتے روئی تھی۔

”چوٹ لگ گئی میری گڑیا کو“۔تتلیوں کی طرف اشارہ کرتے اس کی پھیلی ہوئی ہتھیلیوں کو چومتے انہوں نے اسی کی طرح توتلی زبان میں کہا۔ نور انصاری ان کے برابر خالی نشست پہ آبیٹھی تھیں۔ سفینہ ان کی گود سے نکل کر انصاری صاحب کی گود میں چلی گئی۔ اخبار کے صفحات لپیٹ کر سامنے پڑی میز پہ رکھ کر انہوں نے اسے گود میں لے لیا تھا۔ وہ اب انہیں ہاتھ کے اشارے اور ٹوٹے پھوٹے لفظوں میں تتلی نا پکڑ پانے کی داستان سنا رہی تھی۔

”تتلی کو دیکھ کر اتنی ایکسائیٹیڈ ہوجاتی ہے کہ آگے پیچھے کچھ نہیں دیکھتی۔ اب بھلا اس عمر میں میں اسے تتلیاں کیسے پکڑ کے دوں“۔نور انصار ی نے اس کے گھنگریالے بالوں کی پونی ٹیل درست کرتے ہنس کر کہا۔ جواب میں انصاری صاحب نے قہقہہ لگایا تھا۔

٭….٭….٭

”میں کیسی لگ رہی ہوں؟“علینہ کی آواز پہ چونک کر سمیر نے پیچھے پلٹ کر دیکھا۔ وہ کافی دیر سے بیٹی کے ساتھ ماں کی بھاگ دوڑ کو انجوائے کر رہا تھا۔ ان دنوں اس کی پوسٹنگ نارتھ پنجاب میں تھی۔ نور اور انصاری صاحب کے سر پہ اسپتال کی بھاری ذمہ داری تھی۔ اس کے ساتھ ساتھ فریحہ اور فارس کا اسکول بھی وہی دیکھ رہے تھے۔ پھر وہ یہ شہر اور اپنا گھر چھوڑ کر نہیں جانا چاہتے تھے حالانکہ علینہ کی شدید خواہش تھی کہ وہ لوگ ان کے ساتھ رہیں مگر یہ فی الحال ممکن نا تھا۔ یوں تو پچھلے چند سالوں سے فریحہ بھی اسی شہر میں تھی لیکن چند ماہ پہلے وہ اور فارس پوسٹ گریجویشن کے لئے امریکہ شفٹ ہوگئے تھے۔ فارس کے متعلق فریحہ نے سب سے پہلے علینہ کو ہی بتایا تھا۔ علینہ پہلے فریحہ کے فیصلے کے حق میں تھی نا ہی بعد میں اس نے فریحہ کو اس بات کے لئے اسپورٹ کیا تھا کہ وہ عمیر سے شادی کرلے۔ اس کے نزدیک وہ ایک ساتھ تین زندگیاں داو ¿ پہ لگا رہی تھی۔ علینہ کی بات مان کر ہی فریحہ نے عمیر کو سچائی بتادی تھی۔ وہ علینہ والے حادثے کا سن کر چند روز کے لئے پاکستان آیا تھا جب فریحہ نے علینہ کی منت سماجت پہ عمیر کو اپنی مشکل سے آگاہ کیا تھا۔ عمیر کم ظرف تھا نا ہی خود غرضی اس کا خاصہ تھی۔ اس نے کھلے دل سے فریحہ کے سچ کو تسلیم کرتے ہوئے اسے اس تعلق سے آزاد کردیا تھا۔ گھر کے بڑوں کو دکھ تو ضرور ہوا تھا لیکن فریحہ کی خوشی کا سوچ کر سب نے ہی اس رشتے کو تسلیم کیا تھا۔ فارس کی سوچ اس کی شخصیت سے یوں بھی ڈاکٹر انصاری خاصے متاثر تھے۔ اگلے سال ان دونون کی شادی بھی علینہ اور سمیر کے ساتھ ہی کر دی گئی تھی۔ ان دونوں نے دو سال پہلے یہاں ایک اسکول قائم کیا تھا جس کا ایک وِنگ تعلیمِ بالغاں کی طرز پہ تھا۔ بچوں کے ساتھ یہاں بڑی عمر کے افراد خصوصا خواتین کو جدید نصاب کی تعلیم دی جارہی تھی۔

 ”ہمم ۔۔۔“ سمیر نے سر سے پاو ¿ں تک علینہ کو دیکھا جو جدید فیشن کا شارٹ فراک اور ٹراو ¿زر پہنے اس کے سامنے کھڑی تھی۔ وہ دونوں کل رات ہی انصاری ہاو ¿س پہنچے تھے اور آج انہیں پہلے شاکرہ اور پھر خاور سے ملنے جانا تھا۔

”بندریا جیسی“۔ حالانکہ وہ بہت اچھی اور اسٹائلش لگ رہی تھی پھر بھی سمیر اپنی عادت سے مجبور اس پہ جملہ کسنے سے باز نہیں آیا تھا۔

”زندگی میں وہ کون سا خوش نصیب دن ہوگا سمیر جب آپ میری تعریف کریں گے“۔اس سنجیدگی سے اپنا مذاق اڑائے جانے پہ وہ حسبِ عادت بری طرح چڑ گئی تھی اور صوفہ پہ پڑا کشن اٹھا کر اس نے سمیر کی طرف اچھالا تھا جسے اس نے شانداز کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کیچ کیا تھا۔

”ہمیشہ میرا موڈ خراب کر دیتے ہیں“۔تقریباََ روتے ہوئے وہ سینے پہ ہاتھ لپیٹے صوفہ پہ بیٹھ گئی۔ سمیر کی ہنسی نکل گئی۔

”یار سیریسلی مجھ سے یہ تعریفیں نہیں ہوتیں۔ تمہارا جو دل کرے پہن لیا کرو میں ہر بار نہیں بتا سکتا تم آج فلک کی شہزادی لگ رہی ہو یا پھر پرستان کی پری وغیرہ وغیرہ“۔وہ اب اس کے سامنے پڑی کافی ٹیبل پہ جاکر بیٹھ گیا اور ہنستے ہوئے اسے سمجھانے لگا۔ اس کی طبیعت سے واقف ہونے کے باوجود ہر بار علینہ کو اس کی رائے چاہیئے ہوتی تھی اور یہ آئے دن کا معمول تھا کہ جواب میں کوئی نا کوئی ایسی بات سننے کو ملتی جس پہ اچھے خاصے موڈ کا ستیاناس ہوجاتا۔ اس کی شرارتی مسکراہٹ دیکھ کر علینہ بھی ہلکا سا مسکرائی تھی۔

”اچھا ادھر آو ¿۔۔۔وہ دیکھو“۔علینہ کا ہاتھ تھامے وہ اسے کھڑکی کے پاس لے آیا۔ نیچے سفینہ اور انصاری صاحب تتلیاں پکرنے کی ناکام کوشش کر رہے تھے۔ انصاری صاحب تتلی پکڑنے کے لئے ہاتھ بڑھاتے اور ایسا تاثر دیتے جیسے وہ ان کی مٹھی میں ہے جس پہ سفینہ اچھل اچھل کر تالیاں بجاتی۔ نور انصاری ان دونوں کی شرارتوں سے محظوظ ہوتیں بے تحاشہ قہقہے لگا رہی تھیں۔

”پھو پھو کتنی خوش لگ رہی ہیں نا۔ سفینہ نے بھگا بھگا کر ہلکان کر دیا ہے انہیں“۔وہ اکثر ویک اینڈ یہاں گزارتے تھے اور یہ دن نور فاطمہ اور انصاری صاحب کی زندگی کے خوشگوار ترین دنوں میں سے ہوا کرتے تھے۔گھر میں قہقہے گونجنے لگتے تھے۔ ویسے تو فریحہ کے دونوں بیٹوں سے بھی ان کا دلی لگاو ¿ تھا لیکن سفینہ میں تو نور انصاری کی جان تھی ۔ اس کی پیدائش پہ یہ نام بھی انہوں نے ہی رکھا تھا اور سب ہی جانتے تھے اس نام سے انہیں انسیت ہی نہیں عقیدت ہے۔

”اس کے ساتھ دونوں بالکل بچے بن جاتے ہیں“۔ علینہ نے گردن موڑ کر پیچھے کھڑے سمیر کو دیکھا۔

”پتا کیا ، میرا بہت دل کرتا ہے میں ہمیشہ پھوپھو کے ساتھ رہوں ۔ ہمارے بغیر کتنے اکیلے ہوجاتے ہیں نا“۔ وہ بس ایک سال ہی انصاری ہاو ¿س میں رہی تھی۔ شادی کے ایک سال بعد اسے سمیر کے ساتھ جانا پڑا ۔ حالانکہ وہ یہاں بہت تواتر سے آتے تھے لیکن نانی، باپ اور پھوپھو کو وہ ہمیشہ مِس کرتی تھی۔ اس کے لہجے میں اداسی تھی۔

”اس کا مطلب تمہارا میرے ساتھ رہنے کو دل نہیں کرتا“۔پیچھے کھڑے سمیر نے اس کے کندھے پہ تھوڑی ٹکائے شکوہ کیا۔

”آپ کے ساتھ ہی تو رہتی ہوں اور پاس بھی“۔وہ ہلکا سا مسکرائی۔ نگاہیں گھما کر اس نے سمیر کو دیکھا اور اپنا گال اس کے سر پہ رکھ دیا۔

”اور میں چاہتا ہوں تم ہمیشہ میرے پاس رہو کیونکہ آئی ہیٹ یو سو مچ“۔اپنے مضبوط بازوو ¿ں میں بھرتے ہوئے سمیر نے اس کے کان میں سرگوشی کی۔

”آئی ہیٹ یو ٹو“۔اس نے بھی شرارت سے دہرایا۔ سمیر اس کے بالوں میں منہ دئیے کھڑا تھا اس کی بات پہ مسکرایا۔ علینہ نے اس مسکراہٹ کی تپش کو اپنی نرم گردن پہ محسوس پہ کیا تھا۔

”پتا ہے اس ہیٹ اسٹوری کی شروعات کہاں سے ہوئی تھی؟“ سمیر کی آواز نے اس فسوں کو توڑا تھا۔ علینہ خاموش رہی تھی ۔

”اس درخت سے۔ جب تم اس کے نیچے کھڑی تھی ۔ پہلی بار تمہارے چہرے پہ وہ سڑے ہوئے ایکسپریشن نہیں تھے۔ تم مسکرا رہی تھی“۔ سامنے لان میں دکھائی دیتے درخت کی سمت اشارہ کرتے اس نے چند سال پرانی اس شام کو دہرایا جب علینہ شاخوں کو ہلا کر ان مین چھپی پانی کی بوندوں سے اپنا چہرہ بھگو رہی تھی۔

”اور اس رات جب آپ نے مجھے آکر جنوں بھوتوں سے ڈرایا تھا۔ خود تو مزے سے اندر چلے گئے اور میری جان ہی نکالی دی“۔ اسے اچانک یاد آیا تھا۔

”ہاں تو ایسا ہوتا ہے، خوبصورت لڑکیوں پہ جن عاشق ہوجاتے ہیں اور تم نے ہی تو کہا تھا تم خوبصورت ہو“۔ سمیر کی بات پہ اس نے آنکھوں میں ناراضی لئے پلٹ کر دیکھا۔

”آپ کبھی کچھ بھول سکتے ہیں؟ مجھے چڑانے کے لئے ایک ایک بات یاد رکھی ہوئی ہے۔ جائیں مجھے آپ سے کوئی بات نہیں کرنی“۔ دونوں ہاتھ کمر پہ ٹکائے وہ زچ ہوکر بولی اور اس کے بازوو ¿ں کے حصار سے نکل گئی۔

”یار اب موڈ خراب نہیں کرو۔ “اس کا ہاتھ تھام کر وہ ایک بار پھر اسے اپنے قریب لے آیا تھا۔

”ٹھیک ہے تو پھر میری بہت زیادہ تعریف کریں۔ اچھا سا کمپلیمنٹ دیں“۔گردن اکڑائے علینہ نے فرمائش کی تھی۔

”اوکے ٹرائی کرتے ہیں“۔سمیر گلا صاف کرنے کے انداز میں کھنکھارہ۔

”تمہیں پتا ہے نا علینہ تم ایک انتہائی خوش قسمت لڑکی ہو۔ تمہیں ایک ہینڈسم، ڈیشنگ اور قابل ترین انسان کا ساتھ ملا ہے جو دل و جان سے تم پہ فدا ہوگیا ہے۔ حالانکہ یو آر ویری ایوریج اور کچھ کچھ سائیکو بھی رہ چکی ہو لیکن آئی ایم ان رئیلی لوو ود یو“۔ وہ جو پرشوق نظروں سے اس کی طرف دیکھتی ہمہ تن گوش تھی ان خود ستائشی کلمات پہ ہکا بکا سی رہ گئی۔

”پکے بیوروکریٹ ہیں سمیر انصاری۔ اظہارِ محبت ہو یا تعریف سب میں پالیسی اور اپنا مفاد سامنے رکھتے ہیں“۔علینہ نے اپنا ہاتھ اس کے سینے پہ مارتے الگ ہونا چاہا۔

”کیا کروں یار عادت ہوگئی ہے۔ ویسے اگر تم اپنی اس سے زیادہ تعریف سننے کے موڈ میں ہو تو ۔۔۔۔“سمیر نے اس کے دونوں ہاتھ تھام کر شرارت کرنا چاہی۔ علینہ جو پہلے سے آگاہ تھی مسکراتی ہوئی اس سے دور ہوگئی۔

”بہت شکریہ ۔ میرا پیٹ اسی سے بھر چکا۔ اب آپ نیچے جائیں اور سفینہ کو دیکھیں اس نے پھوپھو کو پریشان کیا ہوگا۔ میں بس تیار ہوکر آتی ہوں“۔سمیر کندھے اچکاتا چہرے پہ مایوسی لئے باہر چلا گیا۔ علینہ سر جھٹکتے مسکراتی ہوئی ایک بار پھر کھڑکی میں آکھڑی ہوئی۔ نیچے لان میں مسٹر ایند مسز انصاری، سفینہ کے ساتھ کھیل رہے تھے۔ اوائل بہار کے دن تھے اور ہوا میں خنکی کم ہوچکی تھی۔ لان میں لگے موسمی پودوں پہ کھلے پھولوں کی رنگینی کیا حسین نظارہ دیتی تھی۔ پچھلے چند سالوں سے علینہ کی زندگی بھی انہی پھولوں کی مانند کھلی ہوئی تھی۔ وہ جو کبھی قدرت سے اپنے بے مصرف وجود کا شکوہ کرتی تھی آج ہر لمحہ اللہ کی کرم نوازیوں پہ سجدہِ شکر بجا لاتی تھی۔

مونس والے حادثے کے بعد اسے نارمل ہونے میں بہت وقت لگا تھا۔ تیزاب سے جل کر کندھے اور گردن کے نچلے حصے پہ گوشت آنے کے بعد بھی وہ بدنما داغ طویل مدت تک اس کے جسم پہ نظر آتے رہے ۔ بلکہ آج بھی اس کے کندھے پہ وہ برن مارک موجود تھے لیکن اتنے عرصے میں سمیر نے کبھی اسے اس بات کا احساس نہیں ہونے دیا تھا۔ وہ ایک مکمل مرد تھا اور خوبصورتی اس کی اضافی خوبی تھی ۔ اتنے سالوں میں اس کے ساتھ نے علینہ کو یہ باور کرایا تھا کہ زندگی کا ساتھی اچھا ہو تو کیسے زندگی جنت میں بدل جاتی ہے اور وہ تو بہترین تھا۔ وہ صرف شوہر نہین اس کا سب سے اچھا دوست تھا جس کے سامنے اپنے دل کی فضول باتیں اور اپنی احمقانہ ترین سوچ بیان کرتے بھی اسے جھجک نہیں محسوس ہوتی تھی۔ وہ اس کا مان اس کا غرور تھا جس کا ساتھ اسے اللہ کا انعام لگتا تھا۔ اس کی موجودگی میں آج بھی علینہ خود کو سب سے محفوظ تصور کرتی تھی۔

٭….٭….٭

سمیر اب وہاں پہنچ چکا تھا۔ اسے دیکھتے ہی سفینہ دادا دادی کے پاس سے بھاگ کر اس کی طرف بڑھی۔ سمیر نے دونوں ہاتھ بڑھا کر اسے گود میں اٹھا لیا۔ وہ اب اس سے تتلی پکڑنے کی فرمائش کر رہی تھی۔ نور انصاری اور ڈاکٹر زبیر بھی اسے یہی کہہ رہے تھے ساتھ ساتھ ہنستے ہوئے اپنی ناکامی کے متعلق بتا رہے تھے۔ سفینہ کو گود میں اٹھائے وہ پھولوں کی کیاری کے پاس چلا آیا تھا۔ سفینہ کو گود سے اتار کر اس نے پھولوں پہ بیٹھی ایک تتلی کی طرف ہاتھ بڑھائے ۔ دھنک رنگ کی تتلی پھولوں کا رس چوستی بے خبری میں اس کی مٹھی میں آگئی۔ سفینہ کا مارے خوشی کے برا حال تھا۔ سمیر نے دونوں ہاتھوں کی مٹھی اس کے آگے کی اور ہولے سے کھولی۔ اندر تتلی اپنے پروں کو پھڑپھڑا رہی تھی۔ سفینہ نے چھوٹی سی جھری سے اپنی انگلی اندر ڈالتے ان نازک پروں کو چھوا۔ اس کے چہرے پہ اس وقت دنیا جہان کی خوشی نمایاں تھی۔ وہ تتلی کو اب سمیر کی طرح اپنے ہاتھوں مین پکرنا چاہی تھی۔ سمیر نے جیسے ہی مٹھی کھولی تتلی آن کی آن میں اونچی اڑان اڑ گئی۔ سفینہ نے ایکدم منہ پہ ہاتھ رکھتے اپنی مایوسی کا اظہار کیا۔ سمیر نے اس کا دھیان بدلنے کی خاطر اسے گدگدی کی تو وہ بے تحاشہ کھلکھلائی اور جھٹ دادی کی گود میں چھپ گئی۔

اوپر جنت کے کسی پرسکون گوشے سے سفینہ نے اپنے کنبے کو ہنستے مسکراتے دیکھ کر ان کی تاحیات خوشیوں کی دعا کی تھی کہ ان سب کی زندگیاں تتلی کے پروں سی رنگین اور امنگوں سے روشن رہیں۔ اپنی اگلی تین نسلوں کو خوش و خرم اور پرسکون پاکر شکر بجا لائی تھی۔

ژ              ژ

(ختم شد)

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

شہر دل کے باسی نفیسہ سعید قسط نمبر 1

حویلی کی گہما گہمی اپنے عروج پر تھی۔ دالان میں بچھی دریوں پرلڑکیاں، بالیاں جمع …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے