سر ورق / ناول / ان لمحوں کے دامن میں…مبشرہ انصاری..قسط نمبر9

ان لمحوں کے دامن میں…مبشرہ انصاری..قسط نمبر9

ان لمحوں کے دامن میں

مبشرہ انصاری

قسط نمبر9

یاٹ پر بیتائے گئے آدھے گھنٹہ کے سفر کے بعد تمام سلیکٹڈ ٹیم الحان کے پرائیویٹ طیارے پر سوار لندن کے لیے روانہ ہو چکی تھی….

نیہا اور برینڈاالحان کو گھیرے نجانے کہاں کہاں کی باتیںکیے چلی جا رہی تھیں…. تین کیمرہ مین اپنے اپنے کیمرے سنبھالے کبھی ریکارڈنگ کرنے لگتے تو کبھی کیمرے سائیڈ پررکھے آرام کرنے لگتے…. مانہ ان سب سے دور اپنی سیٹ پر بیٹھی کھڑکی سے باہر جھانکتی نجانے کیا کیا سوچے چلی جا رہی تھی…. الحان اپنا سارا ٹائم مانہ کے ساتھ گزارنے کا خواہشمند تھا،مگر وہ دو لڑکیاں تھیںکہ اسے راہ فرار کا موقع تک نہ دے رہی تھیں…. پٹرپٹر بس بولے ہی چلی جا رہی تھیں….

”ایک تو عاشر نے کیمرہ مین کی پوری ٹیم میرے ساتھ روانہ کر دی ہے…. آخر ضرورت کیا تھی تین تین کیمرہ مین کو ساتھ بھیجنے کی….ہاں میں نے کہا تھا کہ بجٹ کی فکر کرنے کی ضرورت نہیں…. لیکن اس کا یہ مطلب تو ہرگز نہیں کہ ایک انسان آپ کو ہاتھ دے…. اور آپ اس کے بازو ہی کھینچ لیں….“

من ہی من میں کڑھتا،کیمرہ مین پر نظر دوڑاتا اب وہ مانہ پر اپنی نظریں ٹکا بیٹھا تھا….

”اور یہ محترمہ!…. مجال ہے جو تھوڑی سی لچک لے آئیں اپنے رویہ میں…. اب دیکھو…. اتنی دور بیٹھی، کھڑکی سے باہر نجانے کون سا خزانہ تلاشنے میں مصروف ہے….“

وہ جل بُھن کر رہ گیا…. اب اس کی بیزار نگاہیں نیہااور برینڈاپر مرکوز تھیں، جو باری باری منہ کھولے مسلسل کچھ نہ کچھ بولے چلی جا رہی تھیں….

”اور یہ…. بن سیل کے دو ریڈیو…. پچھلے دو گھنٹوں سے ایک ہی بیزا ترین خبرنامہ نشر کیے چلی جا رہی ہیں…. اُف!“

وہ بظاہر تحمل کا مظاہرہ کرتا، اندر ہی اندر خود سے جنگ لڑے چلا جا رہا تھا….

”اینی ویز!…. آج کا یہ موقع میں اتنی آسانی سے گنوانے نہیں دوں گا…. آج میں مانہ سے دو ٹوک بات کروں گا…. اسے آخر مجھ سے مسئلہ کیا ہے؟…. کیوں وہ مجھ سے اس قدر اُکھڑی اُکھڑی رہتی ہے؟….“

وہ مانہ کو نظروں کا محور بنائے من ہی من میں پلان کرنے لگا….

”آئی…. نو…. نیہا اور برینڈا سے جان چھڑانا تھوڑا مشکل کام ہے…. اور پھر یہ تین تین کیمرہ مین…. ہوں…. ان سب کی موجودگی میں مانو سے بات کرنا امپوسِبل…. خیر…. کب تک جاگتے رہیں گے یہ سب…. ان سب کے سونے کے بعد ہی میں مانو سے کوئی بھی بات کر سکتا ہوں…. یہ محترمہ اتنی جلدی سونے کی عادی نہیں…. اس بات کامجھے اچھے سے اندازہ ہے….“

من ہی من میں سارا پلان تصور کرتا اب وہ پُرسکون انداز میں سیدھا ہو بیٹھا تھا…. ایئرپورٹ پہنچتے ہی ایک بلیک مرسڈیز اس تمام ٹیم کوپک کرنے کے لیے پہلے سے موجود تھی…. الحان تینوں لڑکیوں سمیت مرسڈیز میں سوار ہوتا ہوٹل کے لیے روانہ ہو چکا تھا…. کیمرہ مین الگ کار میں سوار ہوٹل کے لیے روانہ ہوئے تھے…. تقریباً آدھ گھنٹہ کی ڈرائیو کے بعد الحان کی کار لندن کے ایک خوبصورت، نہایت ہی معروف، عمدہ اور مہنگے ترین ہوٹل کے سامنے جا رُکی…. نیہااور برینڈا، منہ کھولے ساکت کھڑی، پھٹی نگاہوں سے ٹکر ٹکر ہوٹل کی جانب تکے چلی جا رہی تھیں…. مانہ نے بھی "The Dorchester Hotel!” کا نام بہت سنا تھا، لیکن اس نے شاید کبھی خواب میں بھی نہ سوچا تھاکہ وہ زندگی میں کبھی اس عالیشان اور لندن کے مہنگے ترین ہوٹل میں رہنے کے لیے آئے گی…. اسے اس پل یہ سب ایک خواب سا لگ رہا تھا…. ستائش بھری نگاہوں سے ہوٹل کی جانب دیکھتی، ناک پر ٹکی عینک کو درست کرتی وہ دم بخود چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتی ہوٹل کے مین دروازے کی جانب بڑھنے لگی تھی….

ض……..ض……..ض

”ٹوٹل تھری رومز ہیں…. ایک روم میرا اور باقی کے دو رومز آپ تینوں لیڈیز آپس میں شیئر کریں گی…. اور یہ تینوں کیمرہ مین اپنا تمام کام مکمل کرتے،رات ہوتے ہی اپنے اپنے گھروں کو روانہ ہوجائیں گے…. باہر چینل کی گاڑی موجود ہے جو ان تینوں کو ان کے گھروں میں ڈراپ کرے گی…. اور پھر صبح پہلی فرصت میں یہ تینوں واپس ہم سے اس ہوٹل میں آ ملیں گے…. ناشتہ کے بعد ہم لوگ واپس Island کے لیے روانہ ہوجائیں گے…. گرلز! گو اینڈ سلیکٹ یور رومز!“

الحان لابی میں داخل ہوتے ہی اپنے مخصوص انداز میں گویا ہوا تھا….

نیہااور برینڈا، الحان کی بات سنتے ہی جمپ لگاتی، تقریباً دوڑتی ہوئی سیڑھیوں کی جانب بڑھی تھیں…. تینوں کیمرہ مین اپنے اپنے کیمرے سنبھالے ہوٹل کی ریکارڈنگ میں مصروف تھے…. مانہ نظریں گھما گھما کر ہوٹل کا کونہ کونہ ذہن نشین کرتی دکھائی دی تھی…. آخرکار اسے اس ہوٹل کا چپہ چپہ اپنے ناول میں جو لکھنا تھا…. الحان بغور مانہ کے چہرے کا جائزہ لیتا اس کے قریب آ کھڑا ہوا تھا….

”اور تم مانو!“

”میں کیا؟“

وہ ہوٹل کی چاردیواری سے بنانظر ہٹائے مشغول انداز میں گویا ہوئی…. وہ کافی متحیر دکھائی دے رہی تھی….

”تم بھی جا کر اپنا روم دیکھ لو….“

”نیہااور برینڈا یہ دونوں میرے ساتھ روم شیئر کرنا پسندنہیںکریں گی….“

”کوئی بات نہیں…. تم چاہو تو میرے ساتھ روم شیئر کر سکتی ہو….“

وہ معنی خیز انداز میں گویا ہوا…. مشغول انداز میں ہوٹل کا جائزہ لیتی مانہ یکایک چونک اٹھی…. وہ اب شعلہ برساتی نگاہوں سے بغور الحان کی جانب دیکھنے لگی….

”ویری فنی!“

”اوہ یس! اٹ از فنی…. خیر! خوامخواہ غصہ میں اپنی انرجی ضائع کرنے کی ضرورت نہیں…. میں مذاق کر رہا تھا….“

”آپ مذاق نہیں کر رہے تھے…. بہت اچھے سے جان چکی ہوں آپ کو الحان ابراہیم صاحب!“

وہ غصہ میں پھنکاری….

”اچھا…. کیا جانتی ہیں آپ میرے بارے میں؟“

وہ تحمل سے گویا ہوا….

”سب کچھ!“

”مثلاً؟“

”فالتو میں بحث نہیں کرنی مجھے…. سب جانتی ہوں مطلب سب جانتی ہوں….“

وہ غصہ میں پھنکارتی اپنا بیگ اٹھانے لگی….

”ہاں سب جانتی ہیں آپ…. بہت سمجھدار جو ہیں…. ایک میں ہی بیوقوف ہوں اس پوری دنیا میں….“

مانہ بیگ اٹھائے سیڑھیوں کی جانب بڑھنے لگی تھی….الحان نے جلدی سے دیوار بنتے ہی اس کا راستہ روک لیا تھا….

”میں کیا کہہ سکتی ہوں…. اپنے بارے میں آپ خود بہتر جانتے ہیں….“

وہ براہ راست الحان کی آنکھوںمیں جھانکتے ہوئے پھنکاری….

الحان لاجواب ہو کر رہ گیا….

”اور ہاں…. میں آپ لوگوں کے ساتھ مزید ٹائم نہیں گزار سکتی…. آپ لوگوں کو باہر کہیں بھی جانا ہو یا اسی ہوٹل میں کہیںبھی ٹائم سپینٹ کرنا ہو تو پلیز مجھے بلانے کی ضرورت نہیں…. میری طبیعت ٹھیک نہیں ہے…. مجھے آرام کرنا ہے….“

وہ دو ٹوک انداز میں بولتی سیڑھیوں کی جانب بڑھنے لگی…. الحان نے جلدی سے آگے بڑھ کر اسے روکنے کی غرض سے اس کا بیگ چھین لیا تھا….

”کم آن مانو! ایسا نہیں کرو پلیز!…. یہ سب میں نے تمہارے لیے کیا ہے….“

الحان خاصا آزردہ دکھائی دیا تھا….

”میرے لیے؟“

وہ سوالیہ نگاہوں سے اس کی جانب دیکھنے لگی….

”ہاں…. تمہارے لیے….“

وہ اپنی بات دہراتا ایک بار پھر سے شرارت پر آمادہ تھا….

”دیکھو! تمہیں آنا ہی ہو گا…. نہیں تو تمہیں لینے میں تمہارے روم میں آ جاﺅں گا…. اور تمہیں یہ بات یقینا ناپسند ٹھہرے گی…. اس لیے مجھے فورس کرنے کی مہلت ہی مت دینا….“

وہ شرارت بھرے انداز میں اسے دھمکانے لگا تھا…. مانہ آتش پا نگاہوں سے اسے گھورتی، غصہ میںپھنکارتی،اپنا بیگ کھینچتی،تیزی سے چلتی سیڑھیوں کی جانب بڑھتی گئی…. جواباً الحان شریر مسکراہٹ لبوں پر سجائے جینز کی پاکٹ سے موبائل نکالتا، نمبر ڈائل کرتے ہی موبائل کان سے لگا کھڑا ہوا تھا…. دوسری ہی بیل پر کال ریسیو کی جا چکی تھی….

”ہیلو کبیر! کیسا ہے یار؟“

وہ فون پر اپنے اسی بیسٹ فرینڈ سے مخاطب تھاجس کے ساتھ شرط لگائے وہ اس شو کا اہم حصہ بن کھڑا ہوا تھا….

”اچھایار! ایک کام کر…. فوراً سے پہلے ڈورچیسٹر ہوٹل پہنچ…. فوراً…. جلدی….“

ض……..ض……..ض

”سین کیا ہے باس؟ اس کے آس پاس ہونے پر تو بہت عجیب بی ہیو کرتاہے….“

وہ سب لوگ چینج کیے،اس وقت ہوٹل کے لاﺅنج میں موجود تھے…. نیہا اور برینڈا گھوم گھوم کر لاﺅنج کا چپہ چپہ گردان رہی تھیں…. تینوں کیمرہ مین الگ الگ جگہیں سنبھالے اپنے اپنے کاموں میں مشغول تھے…. مانہ، الحان اور کبیر سے خاصے فاصلے پر بیٹھی چاروں اطراف نظر دوڑاتی لاﺅنج کا چپہ چپہ ذہن نشین کرتی دکھائی دی تھی…. اسی پل مانہ پر نظر دوڑاتا کبیر، جوس کی چسکی بھرتا شریر انداز میں گویا ہوا تھا….جواباً الحان انجان بن کر بولا….

”کیا بات کر رہے ہو تم اور کس کے بارے میں بات کر رہے ہو؟….“

”تم اچھے سے جانتے ہو کہ میں کیا بات کر رہا ہوں اور کس کے بارے میں بات کر رہا ہوں؟….“

اس بارکبیر سرگوشی کرنے لگا…. الحان پھنکار کر رہ گیا….

”صاف صاف دکھائی دیتا ہے میرے بھائی…. جب جب وہ تمہارے آس پاس ہوتی ہے…. تمہاری نظریں اس پر سے ہٹتی ہی نہیں…. سچ میں…. ٹی وی پر سب دکھایا گیا الحان صاحب!“

وہ اس بار معنی خیز انداز میں گویا تھا….

”ایسا کچھ نہیں ہے….“

”ایسا کچھ نہ کچھ تو ہے…. مجھے لگتا ہے…. تو اسے پسند کرتا ہے…. لیکن وہ تجھے پسند نہیں کرتی…. ایسا ہے ناں؟“

الحان کو اچنبھہ ہوا…. اس کا دوست بالکل درست کہہ رہا تھا…. نظروں کا زاویہ گھمائے وہ جوس کا سپ لینے لگا….

”وہ مجھے پسند کرتی ہے…. اگر نہیں کرتی ہوتی…. تو آج یہاں پر موجود نہیں ہوتی…. انفیکٹ! اس شو میں ہی موجود نہیں ہوتی….“

اس نے جلدی سے ایک جھوٹ گاڑھا…. کبیر معنی خیز نگاہوں سے اسے گھورتارہا….

”وہ تجھے پسند نہیں کرتی…. شو میں سب کچھ صاف صاف دکھایا گیا ہے…. اور…. اور تو اس میں اتنی دلچسپی لے ہی کیوں رہا ہے؟ تجھے یاد ہے ناں اپنی شرط…. اس شو کے اینڈ پر تو پلٹ کر کبھی بھی ان میں سے کسی بھی لڑکی کی جانب نہیں دیکھنے والا….“

”ہاں ہاں! یاد ہے سب کچھ…. اچھے سے یاد ہے…. تجھے میں نے یہاں شرط یاد دلانے کے لیے نہیں بلایا ہے….“

”پھر کس لیے بلایا ہے؟“

”یار! یہ نیہا اور برینڈا نان سٹاپ ریڈیو ہیں….بہت سر کھاتی ہیں قسم سے…. بالکل تیرے ٹائپ کی ہیں دونوں…. میں چاہتا ہوںکہ تُو ان دونوں کو کمپنی دے…. تاکہ یہ مجھ سے دور رہیں….“

الحان بیزاریت سے گویا ہوا….

”اچھا! یعنی تم چاہتے ہو کہ میں تمہارے لیے میدان صاف کر دوں؟ میں ان دو چڑیلوں کو سنبھالوں اور پیچھے تم اس چڑیل کو….“

”خبردار! وہ چڑیل نہیں ہے….“

الحان نے آنکھیں دکھائیں….

”اوہ سوری…. مانو!“

”خبردار جو تو نے اسے مانو بولنے کی جرا ¿ت بھی کی…. منہ توڑ دوں گا سالے تیرا….“

”ابے! تو بھی تو….“

”ہاں میں…. صرف میں اسے مانو کہہ کر پکار سکتا ہوں، بس….“

”اوئے ہوئے…. کیا بات ہے…. لو بھیا…. تُو مجھے صاف صاف شرط ہارتا دکھائی دے رہا ہے….“

کبیر نے جوس کا گلاس ٹیبل پر رکھتے ہی فیصلہ کن انداز میں کہا….

”امپوسِبل!“

وہ زور دے کر بولا….

”امپوسِبل کا اصل مطلب ہوتا ہے…. آئی ایم پوسِبل!…. سمجھے میرے بھائی!….“

”کبیر!“

وہ اسے آنکھیں دکھانے لگا….

”مان لے میری بات…. تو یہ شرط ہار رہا ہے…. اور میں جیت رہا ہوں…. مان لے اپنی ہار…. کوئی بات نہیں…. ایسے بڑے بڑے شہروں میں ایسی چھوٹی چھوٹی باتیں ہوتی ہی رہتی ہیں….“

”پکچر ابھی باقی ہے میرے دوست…. جسٹ ویٹ اینڈ واچ!“

”اوکے، اوکے!…. ہم تو دیکھ ہی رہے ہیں…. پر آپ جناب دیکھ ہی نہیں پا رہے….“

الحان آئی برو اُچکاتاجوس کا گلاس منہ سے لگا بیٹھا تھا…. اسی پل کبیر، مانہ کو لاﺅنج سے باہر نکلتے دیکھ یکایک اچھل کر رہ گیا۔

”ابے وہ دیکھ…. تیرے والی باہر جا رہی ہے….“

الحان جوس کا گلاس ٹیبل پر پٹختا تیزی سے کھڑا ہوتے ہی پلٹ کر لاونج سے باہر نکلتی مانہ کی جانب دیکھنے لگا….

”کبیر! تُو یہاں سنبھال…. میں ابھی آیا….“

”کہاں جا رہا ہے ؟“

”بس ابھی آیا…. دو منٹ میں….“

وہ جمپ لگاتا،ٹیبل پھلانگتا، تیز تیز قدم دروازے کی جانب بڑھانے لگا…. کبیر اپنا سر کھجا کر رہ گیا….

ض……..ض……..ض

وہ خنک ہوا سے ٹھٹھرتی، گارڈن میں چلی آئی تھی…. موسم بے حد خوشگوار تھا…. تازہ ہوا اسے اپنی روح میں اُترتی محسوس ہوئی…. وہ لمبی سانس کھینچتی تازہ ہوا کو کھینچ کھینچ کر اپنے اندر اُتارنے لگی کہ یکایک ایک شناسا آواز اس کی سماعت سے ٹکرائی….

”مانو!…. مانو!“

آواز ہر بڑھتے قدم کے ساتھ اسے نزدیک سے نزدیک تر ہوتی محسوس ہوئی…. اس نے پلٹ کر دیکھا…. سامنے سے الحان دوڑا چلا آ رہا تھا…. مانہ غصے سے پھنکارتی تیز تیز قدم اٹھاتی آگے کی جانب بڑھنے لگی….

”مانو! رکو!…. کہاں جا رہی ہو؟“

”جہنم میں…. چلنا ہے ساتھ؟‘

وہ غصے میں پھنکاری….

”ہاں ضرور…. تمہارے ساتھ تو کہیں پر بھی جانے کو تیار ہوں…. اگر تم ساتھ ہو….“

”الحان پلیز! مجھے کچھ دیر کے لیے اکیلا چھوڑ دو….“

”ایسے کیسے اکیلا چھوڑ دوں؟…. تم فرار ہو گئیں تو؟“

”ڈونٹ وری…. ٹاپ (4) سے پہلے کہیں فرار نہیں ہونے والی…. سو جسٹ ریلیکس!“

”اوہ واو…. آئی لائیک اٹ!“

وہ قدم بہ قدم اس کے ساتھ ساتھ چلنے لگا….

”چپکو!“

مانہ زیرلب بڑبڑاتی آگے بڑھتی رہی….

”کیا؟…. کیا کہا تم نے؟“

”کچھ نہیں….“

”تم نے کچھ کہا…. میں نے سنا…. پر…. کیا کہا…. یہ نہیں سنا!“

”الحان! میں تھوڑی دیر کے لیے اکیلے وقت گزرانا چاہتی ہوں….“

”لیکن میں تھوڑی دیر کے لیے تمہارے ساتھ وقت گزارنا چاہتا ہوں…. تم سے باتیں کرنا چاہتا ہوں….“

”مجھے کوئی بات نہیں کرنی….“

”پر مجھے کرنی ہے…. مجھے پوچھنا ہے تم سے کہ تم مجھے اتنا اگنور کیوں کر رہی ہو؟….“

”میںاگنور نہیں کر رہی…. میری طبیعت ہی ایسی ہے….“

”پھر تو بہت ہی گندی طبیعت ہے تمہاری….“

”شکریہ….!“

وہ ڈھٹائی سے بولتی آگے ہی آگے بڑھتی رہی….

”دیکھو مانو! تم صرف ٹاپ (4) تک ہو میرے ساتھ…. اس کے بعد نجانے ہماری ملاقات کبھی ہو نہ ہو….“

”نہ ہی ہو تو بہتر ہے…. شکرانے کے نوافل اداکروں گی میں!“

وہ غصہ میں پھنکاری….

”اتنی نفرت کرتی ہو مجھ سے؟“

وہ افسردہ دکھائی دینے لگا….

”اس سے کہیں زیادہ….“

”تم ایک بار پھر سے میرا دل دُکھا رہی ہو….“

”اوہ واو…. تو آپ کا بھی دل دُکھتا ہے الحان ابراہیم صاحب!“

وہ براہ راست اس کی جانب دیکھتی ٹونٹ کرنے لگی…. الحان اس کی نگاہوں کا مفہوم سمجھا نہیں….

”انسان ہوں میں…. میرے سینے میں بھی دل ہے…. جو دھڑکتا ہے…. محسوس کرتا ہے…. اور تمہارے اس بیڈ بی ہیوئیر پر دُکھتا بھی ہے….“

”بہت فلمی ٹائپ کے انسان ہو تم…. ایکٹنگ جتنی مرضی کروا لو جناب سے….“

”تم؟“

وہ اس کی نگاہوں میں جھانکنے لگا….

”کیا بات ہے مانو! تمہارے دل میں کوئی بات ہے میرے خلاف؟“

مانہ بنا جواب دئیے ایک بار پھر سے اپنے دونوں ہاتھ سینے پر باندھے آگے کی جانب بڑھنے لگی….

”تمہیں معلوم ہے مانو! تم مجھے تم کس وقت کہتی ہو….“

وہ چند لمحے خاموشی سے چلتا اس کے جواب کا انتظار کرتا رہا…. پھر بولا….

”جب تم مجھ سے بے حد خفا ہوتی ہو….“

”میں تم سے خفا کیوں ہوں گی الحان…. میرا تمہارا ایسا رشتہ ہے نہیں کہ میں تم سے کسی بھی بات کی خفگی ظاہر کروں….“

”کچھ توبات ہے…. جو تمہارے دل و دماغ کو جکڑے ہوئے ہے…. مجھ سے شیئر کرو مانو! باتیں شیئر کرنے سے ہی مسائل حل ہوا کرتے ہیں…. ورنہ یہ غلط فہمیاں تو ایک پل نہیں لگاتیںہماری خوشیاں ہڑپنے میں….“

”تم اتنے چپکو کیوں ہو الحان؟ مجھے نفرت ہے تم جیسے چپکو لوگوں سے….“

وہ غصہ کا اظہار کرتی ایک بار پھر سے اس کے سامنے آ کھڑی ہوئی….

الحان چند ثانیے خاموشی سے اس کی جانب تکتا رہا…. پھر دھیمے سے گویا ہوا….

”میں چپکو نہیں ہوں…. تم سے کچھ سوالوں کے جواب مانگ رہا ہوں….بس!“

”اور مجھے تمہارے کسی بھی سوال کا کوئی بھی جواب دینے میں کوئی دلچسپی نہیں…. آئی ایم سوری….!“

وہ آتش پا نگاہوں سے اسے گھورتی واپس ہوٹل کے مین دروازے کی جانب بڑھنے لگی…. الحان پیچ و تاب کھاتا وہیں کھڑا رہا….

مانہ کے کچھ دور جاتے ہی وہ تیزی سے پلٹتا ایک بار پھر سے اسے پکارتا اس کے تعاقب میں چل نکلا…. مانہ اس کی پکار اَن سنی کرتی تیز تیز چلتی Elevator کا بٹن دبانے لگی…. لفٹ کا دروازہ کھلنے تک الحان اس کے قریب آ کھڑا ہوا….

”مانو! میری بات سنو!“

”مجھے تمہاری کوئی بات نہیں سننی!“

دروازہ کھلتے ہی وہ لفٹ میں داخل ہو گئی…. الحان بھی پھرتی کا مظاہرہ کرتا تیزی سے لفٹ میں داخل ہوگیا….

مانہ اس کی اس حرکت پر کڑھ کر رہ گئی…. اس وقت وہ دونوں اس لفٹ میں بالکل تنہا تھے…. مانہ کو پاس کھڑے الحان سے بے حد خوف محسوس ہونے لگا تھا…. بظاہر وہ خود کو نارمل پوز کرتی اسے اگنور کیے کھڑی تھی لیکن اندر ہی اندر اس کا دل زوروں سے دھڑکے چلا جا رہا تھا…. الحان چند ثانیے خاموش کھڑا اسے دیکھتا رہا…. پھر دو قدم اس کے قریب بڑھتے ہی سرگوشی میں گویا ہوا….

”دل چاہتا ہے یہ لفٹ یہیں پر رُک جائے…. تاکہ تم چاہ کر بھی مجھ سے دور بھاگنے کی گستاخی نہ کر سکو….!“

اس کے لہجے میں کچھ چھپا تھا…. کچھ الگ سا…. مانہ خود میں سمٹتی شیشے کی بنی دیوار سے جا لگی…. الحان ایک قدم اور آگے بڑھا….

”بتاو مجھے…. کیوں بھاگ رہی ہو مجھ سے؟“

وہ اس کے چند انچز کے فاصلے پر کھڑا اس کے چہرے کا طواف کرتا، اسی سے مخاطب تھا…. اسے اس قدر نزدیک کھڑے دیکھ کر اس کاحلق خشک ہونے کو آیا تھا…. بمشکل الفاظ جمع کرتی وہ نظریں جھکائے لڑکھڑاتی آواز سے گویا ہوئی….

”کک…. کوئی بات ہے…. ہی نہیں…. تت…. تو کیا بتاﺅں….“

اس کی پیشانی پر چھوٹے چھوٹے پانی کے قطرے نمودار ہونے لگے…. الحان ان قطروں پر نگاہ دوڑاتا ایک بار پھر سے گویا ہوا….

’ڈرو نہیں مجھ سے…. کھا نہیں جاﺅں گا تمہیں….“

”مم…. میں کسی سے نہیں ڈرتی….“

وہ اپنے ہٹ دھرم انداز میں گویا ہوئی…. الحان ایک قدم اور آگے بڑھا….

”اچھا؟….“

”خبردار!…. مجھے چھونے کی کوشش بھی کی تو….“

وہ ایک دم چلّا اُٹھی….

”سب سے پہلی بات…. میرا ایسا کوئی ارادہ ہے نہیں…. اور چلومان لو….میں نے تمہیں چھو بھی لیا…. تو کون آئے گا اس اکیلی لفٹ میں، تمہیں مجھ سے بچانے؟“

وہ اب شرارت پر آمادہ تھا…. الحان کے اس قدر قریب کھڑے ہونے پر وہ خوف سے کپکپاتی، پلکوں میں نمی لیے، لرزتی آواز سے گویا ہوئی….

”دیکھو الحان! میں تمہارے ٹائپ کی بالکل نہیں ہوں…. پلیز میری جان چھوڑ دو…. ہاتھ جوڑتی ہوں تمہارے آگے….“

وہ بہتی نگاہوں سے اپنے دونوں ہاتھ جوڑے اس کی نگاہوں میں جھانکنے لگی…. الحان ایک جھٹکے سے دور جا کھڑا ہوا…. اس کے چہرے پر آزردگی واضح طور پر عیاں تھی….

”اتنا گھٹیا انسان سمجھتی ہو تم مجھے؟…. کہ…. کہ اکیلی لفٹ میں ایک اکیلی لڑکی دیکھ کر…. میں کچھ بھی…. چھی….“

وہ تاسف بھرے اندازمیں بولا….

”بہت افسوس ہو رہا ہے مجھے تمہاری سوچ پر مانو!…. تم میرے بارے میں ایسا سوچ بھی کیسے سکتی ہو….؟ اگر مجھے تمہارے ساتھ ایسا کچھ بھی کرنے کا شوق ہوتا تو اس رات جنگل میں کر گزرتا…. وہاں پر بھی تمہیں مجھ سے بچانے والا کوئی نہیں تھا…. لیکن میں نے ایسا کچھ نہیں کیا…. کیونکہ میری ایسی گندی فطرت نہیں…. تم مجھے واقعی اچھی لگی تھیں…. تمہاری عزت کرتا رہا میں…. اور تم…. ایک ہی پل میں مجھے میری ہی نظروں میں گرا کر رکھ دیا ہے تم نے….“

دقت انگیز انداز میں وہ اپنی آنکھیں میچ کر رہ گیا….

”میں تمہاری کی پسند نہیں…. تمہاری کی ضد بن چکی ہوں…. اور آپ تم جیسا انسان جب ضد پر اُتر آئے تو کچھ ایسی ہی حرکتیں کرتا ہے…. جیسی تم کر رہے ہو…. اینڈ آئی ایم سوری ٹو سے!…. مجھے تمہاری کی کہی گئی کسی بھی بات پر رتی برابر یقین نہیں….“

وہ آنسو پونچھے پھنکارنے لگی تھی…. الحان ساکت کھڑا اسے دیکھتا رہا…. اسی لمحے ایک ٹون کے ساتھ ہی لفٹ کا دروازہ کھل گیا…. مانہ جاتے جاتے پلٹی….

”ایک اور بات…. میں تمہیں کو گھٹیا انسان سمجھتی نہیں ہوں…. تم گھٹیا انسان ہو…. اور یہ میں پورے دعوے کے ساتھ کہہ سکتی ہوں….“

آگ بگولہ نگاہوں سے اسے گھورتی وہ زہر اُگلتی اپنے کمرے کی جانب بڑھ گئی تھی…. الحان ایک لفظ بھی نہ بول پایا تھا…. وہ اپنی ہی نظروں میں ڈھیر ہوتا چلا جا رہا تھا…. کس قدر تکلیف دہ ہوتا ہے وہ لمحہ…. جب آپ کسی کو اپنی پوری ایمانداری کے ساتھ چاہیں…. اسے اپنے سچے ہونے کا یقین دلانے کی بارہا کوششیں کریں لیکن وہ ایک شخص آپ پر یقین نہ کرتے ہوئے آپ کو آپ ہی کی نظروں میں گرا کر چلا جائے…. اسے آج اس بات کا شدت سے احساس ہوا تھا…. اس نے آج سے پہلے نجانے کتنی لڑکیوں کا دل دکھایاتھا…. ایک سرور تھا جو اسے ہر دوسری لڑکی کے ساتھ محسوس ہوا کرتا تھا…. جو نئی نئی ہوتی…. اور پھر وہ پرانے لباس کی طرح جس سے دل بھرجائے وہ سرور اُتار پھینکتااور نئی راہوں میں نئے جال بچھا کر نئے دانے گراتا…. مگر آج کچھ بدلا تھا اس میں…. وہ پہلے جیسا ہرگز نہ رہا تھا…. اسے دل دکھنے کا احساس ہوا تھا…. کچھ تھا…. جو اندر ہی اندر اس پر ضرب لگائے چلا جا رہا تھا….

ض……..ض……..ض

”کہاں رہ گیا تھا بھائی تو؟“…. تیری ان دو چڑیلوں نے بول بول کرمیرے کانوں سے خون نکال دیا ہے…. سوری یار! میں اب مزید ان دونوں کی کمپنی برداشت نہیں کر سکتا…. تیری دونوں چڑیلیں تجھے ہی مبارک ہوں بھائی…. میں چلا….“

کبیر متلاشی نگاہیں ادھر اُدھر دوڑاتا لفٹ کے پاس چلا آیا تھا…. جس کا دروازہ کھلتے ہی الحان نڈھال قدموں سے چلتا باہر نکل آیا…. الحان پر نظر پڑتے ہی کبیر اس کی جانب دوڑا چلا آیا…. اور جب اپنے دل کی بھڑاس نکال چکا تو بغور الحان کا سرخ ہوتا آتش پا چہرہ دیکھتا اب وہ مشتبہ انداز میں گویا ہوا….

”تجھے کیا ہوا ہے؟…. سب ٹھیک ہے ناں؟“

”ہاں ٹھیک ہے…. تجھے تھوڑی دیر ان دونوں کے پاس رُکنے کو کہا تھا، تو یہاں کیا کر رہا ہے؟“

وہ بمشکل نارمل پوز کرتے ہوئے متانت بھرے لہجے میں بولا….

”تھوڑی دیر؟…. ابے میرے بھائی…. آپ کی یہ تھوڑی دیر پورے ایک گھنٹے میں بدل چکی ہے…. اور تیری وہ دونوں ریڈیو سٹیشن، بول بول کر میرے سر کے بال گرا دیں گی…. بڑی مشکل سے جان بچا کر بھاگا ہوں قسم سے….“

”ہوں….“

الحان مکمل طور پر منتشر دکھائی دے رہا تھا….

”تُو ٹھیک ہے ناں الحان؟“

کبیر کو اب کے فکر ستانے لگی….

”ہاں…. مجھے کیا ہونا ہے…. اچھا چل تُو گھرجا…. رات بھی کافی ہو گئی ہے….“

”الحان!“

کبیر براہ راست اس کی آنکھوں میں جھانکنے لگا….

”کیا بات ہے؟…. کچھ ہوا ہے؟“

”کچھ نہیں ہوا یار! پیچھے مت پڑ جایا کر…. کچھ نہیں ہوا ہے…. سب ٹھیک ہے…. بالکل ٹھیک….“

وہ ایک دم طیش میں آ گیا…. آناً فاناً غصہ کا اظہار کرتا وہ ہوٹل کے مین دروازے کی جانب بڑھنے لگا…. کبیر چند ثانیے یونہی کھڑا اسے دیکھتا رہا…. پھر لمبی سانس کھینچتا زیرلب بڑبڑانے لگا….

”الحان بیٹا!…. تم تو گئے کام سے!“

اپنی ہی بات پر مسکراتا وہ لمبی سانس کھینچ کر رہ گیا ….

ض……..ض……..ض

”اتنا گھٹیا انسان سمجھتی ہو تم مجھے؟ …. کہ…. کہ اکیلی لفٹ میں ایک لڑکی دیکھ کر…. میں کچھ بھی…. چھی….“

مانہ،ہوٹل کے روم کے مخملی خوبصورت آرام دہ بیڈ پر سیدھی لیٹی، کمرے کی خوبصورت ڈیکوریٹڈ چھت پرنظریں گاڑھے نجانے کیا تلاش کرنے میں مگن تھی…. الحان کی آواز مسلسل اس کی سماعت سے ٹکرائے چلی جا رہی تھی….

”بہت افسوس ہو رہا ہے مجھے تمہاری سوچ پر مانو!…. تم میرے بارے میں ایسا سوچ بھی کیسے سکتی ہو….؟ اگر مجھے تمہارے ساتھ ایسا کچھ بھی کرنے کا شوق ہوتا تو اس رات جنگل میں کر گزرتا…. وہاں پر بھی تمہیں مجھ سے بچانے والا کوئی نہ تھا…. لیکن میں نے ایسا کچھ نہیں کیا…. کیونکہ میری ایسی گندی فطرت نہیں….“

اگلے ہی پل مانہ کروٹ لیے، سائیڈ ٹیبل پر رکھے بڑے سے خوبصورت لیمپ پر نظریں ٹکائے آنکھیں جھپکانے لگی….

”تم مجھے واقعی اچھی لگی تھیں…. تمہاری عزت کرتا رہا میں…. اور تم…. ایک ہی پل میں مجھے میری ہی نظروں میں گرا کر رکھ دیا ہے تم نے….“

بے چینی کے عالم میں وہ خوشک ہوتے لبوں کو زبان سے تر کرتی ایک بار پھر سے سیدھی ہو لیٹی….

”ایک اور بات…. میں تمہیںکو گھٹیا انسان سمجھتی نہیں ہوں…. تم گھٹیا انسان ہو….“

اپنی ہی آواز سماعت سے ٹکرائی تو وہ ایک جھٹکے سے اٹھ بیٹھی…. پریشانی کے عالم میں وہ لب بھینچتی من ہی من میں ہمکلام ہوئی….

”مجھے یہ سب نہیں بولنا چاہیے تھا…. سامنے والا انسان کیسا بھی ہو…. ہمیں کوئی حق نہیں کہ ہم اس کی ذات پرانگلی اٹھائیں…. یااللہ! کیا کروں اب…. یہ شرمندگی مجھے سکون کا سانس تک نہیں لینے دے رہی…. کیوں میں غصہ میںاتنی پاگل ہو جاتی ہوں؟“

وہ خاصی نادم دکھائی دے رہی تھی…. وہ کچھ سوچنے لگی….

”ایک کام کرتی ہوں…. الحان کو جا کر سوری بول دیتی ہوں….“

وہ فیصلہ کن انداز میں اٹھ کھڑی ہوئی…. پھر سوچنے لگی….

”اگر الحان نے میرے سوری کا غلط مطلب لے لیا تو؟“

وہ پھر سے لب بھینچ کر رہ گئی….

”سمجھتا ہے تو سمجھتا رہے…. مجھے اس وقت صرف اپنے آپ کو دیکھنا ہے…. مجھ سے غلطی ہوئی ہے…. سوری بول دوں گی تو سکون میسر ہو جائے گا….“

فیصلہ کن انداز میں سوچتی وہ سلیپر پاﺅں میں اُڑستی کمرے کے دروازے کی جانب بڑھنے لگی….

ض……..ض……..ض

دروازے پرہلکی سی دستک سنائی دی تھی…. کھوئے کھوئے انداز میں شرٹ کے آدھ کھلے بٹنوں کو ادھورا چھوڑتا وہ آنکھیں میچ کر رہ گیا….

"Coming.”

نڈھال قدموں سے چلتا وہ دروازے تک آیا…. دروازہ کھولتے ہی ایک شناسا چہرہ اس کی نگاہوں سے ٹکرایا…. تیوری چڑھائے وہ حیران کن انداز میں گویا ہوا….

”برینڈا؟“

سامنے برینڈا کھڑی کھلکھلا کر مسکرائے چلی جا رہی تھی….

”کیا بات ہے الحان! تم ڈنر کے بعد سے دیکھائی ہی نہیں دیے…. مجھے تمہاری فکر ہو رہی تھی…. میں نے سوچا آ کرتم سے ایک بار پوچھ لوں کہ سب ٹھیک تو ہے ؟“

وہ انگلش میں گویا تھی…. الحان سر ہلا کر رہ گیا….

”ہاں سب ٹھیک ہے…. پوچھنے کے لیے اور فکر کرنے کے لیے شکریہ!“

”اچھا! ابھی تم سو رہے ہو؟“

”ہاں…. کیوں؟“

وہ سوالیہ نگاہوں سے اس کی جانب دیکھنے لگا…. برینڈا مسکرا دی….

”مجھے نیند نہیں آ رہی…. میں سوچ رہی تھی کہ کیوں نہ ہم واک کے لیے نیچے جائیں…. یا پھر لانگ ڈرائیو….“

”رات کے دو بج رہے ہیں برینڈا!…. ہمیں صبح واپسی کے لیے جلدی نکلنا ہے…. اس لیے ایم سوری…. ہم نہ واک پر جا سکتے ہیں نہ ہی لانگ ڈرائیو پر….“

”کم آن الحان!…. یہ ہماری ڈیٹ ہے….“

وہ بے باکی سے آگے بڑھتی، الحان کے کھلے گریبان پر نظر دوڑاتی، ایک ادا سے اس کی شرٹ کے کھلے بٹنوں کو چھیڑنے لگی…. الحان نے اسے خود سے دور کرنے کی غرض سے اس کی دونوں کلائیاں تھام لی تھیں….

”برینڈا! …. رات بہت ہو گئی ہے…. تم اپنے روم میں واپس جاﺅ….“

اسی پل الحان کی نگاہ برینڈا کے پیچھے ساکت کھڑی مانہ پر جا ٹکی…. وہ آنکھوں میں بے پناہ حیرت سموئے، سراسیمہ حیران کھڑی پھٹی نگاہوں سے الحان کے کھلے گریبان اور برینڈا کی الحان کے ہاتھ میں پکڑی نازک کلائیاں گھورے چلی جا رہی تھی….

”مانو!“

ایک جھٹکے سے برینڈا کی کلائیاں جھٹکتا وہ حواس باختہ، مانہ کی جانب دیکھنے لگا…. برینڈا پلٹ کر مانہ کی جانب دیکھتی، خباثت سے مسکرا کر رہ گئی…. اس کا اس وقت سانس لینا عذاب ہو رہا تھا…. پیٹ سے ایک گولا اٹھتا اس کے حلق میں آن پھنسا تھا…. حقارت بھری نگاہ سے الحان کو دیکھتی وہ دوڑتی ہوئی واپس اپنے کمرے کی جانب بڑھتی چلی گئی….

”شِٹ!“

الحان اس ساری صورتحال سے پریشان حواس باختہ کھڑا مانہ کو پکار کر رہ گیا….

”مانو!“

”الحان!“

اس بار برینڈا نے اپنی زبان کھولی…. الحان کھا جانے والی نگاہوں سے اس کی جانب گھورنے لگا….

”شٹ اَپ…. اینڈ گو بیک ٹو یور روم!“

”بٹ؟؟؟“

وہ ڈھیٹ بنی کھڑی رہی….

”آئی سیڈ، گو بیک ٹو یور روم!“

کس قدر برفیلا لہجہ تھا اس کا…. برینڈا اس کی آتش پا نگاہوں اور برفیلے لہجے سے خوفزدہ ہوتی، الٹے قدموں اپنے روم کی جانب دوڑنے لگی…. الحان وہیں دروازے کے بیچ و بیچ کھڑا ضبط کے عالم میں اپنا سر تھام کر رہ گیا….

ض……..ض……..ض

”میں ہی بیوقوف تھی…. جو منہ اٹھا کر سوری بولنے چلی گئی….“

مانہ بند دروازے سے ٹیک لگائے آنسو بہائے چلی جا رہی تھی….

”یااللہ! میں رو کیوں رہی ہوں؟…. مجھے ان سب سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ الحان کسی کے ساتھ کچھ بھی کرے….“

وہ بیدردی سے اپنے گال رگڑنے لگی…. اسی ثانیے دروازے پر ہلکی سی دستک کے ساتھ ہی الحان کی آوازبھی سنائی دی….

”مانو پلیز! دروازہ کھولو…. مجھے میری صفائی میں کچھ کہنے کا موقع تو دو…. پلیز!“

وہ دروازے سے باہر کھڑا التجا کر رہا تھا….

”مانو پلیز! میری بات سن لو ایک بار….“

”الحان! چلے جاﺅ یہاں سے…. میں تمہاری شکل تک نہیں دیکھنا چاہتی…. جسٹ گو….“

وہ گال رگڑتی غصہ میںپھنکاری….

”مانو پلیز! ایک بارموقع دے دو…. پلیز میری بات سن لو….“

مانہ لمبے لمبے سانس کھینچ کر خود کو نارمل کرتی، آنکھیں رگڑ کر صاف کرتی، جھٹکے سے دروازہ کھولتی سپاٹ چہرے سے اس کے سامنے جا کھڑی ہوئی….

”تمہیں مجھے کچھ بھی ایکسپلین کرنے کی ضرورت ہرگز نہیں…. کیونکہ مجھے تمہاری کسی قسم کی کسی بھی ایکٹوٹی سے کوئی لینا دینا نہیں….“

وہ سپاٹ لہجے میں گویا تھی…. الحان خاصا نادم دکھائی دے رہا تھا….

”مانو! ایسا کچھ بھی نہیں ہے…. جیسا تم سوچ رہی ہو….“

”میں کچھ بھی نہیں سوچ رہی الحان ابراہیم!…. سو جسٹ ریلیکس! اور جا کر سو جاﺅ….“

”مانو پلیز! ایک بار مجھ پر ٹرسٹ کر کے دیکھو…. پلیز!“

”ٹرسٹ؟…. اوروہ بھی تم پر….“

وہ ایک دم قہقہہ لگانے لگی….

”تم اس قابل نہیں الحان کہ میں تم پر ٹرسٹ کر سکوں….“

”مانو! میں کیسے یقین دلاﺅں تم کو…. کہ میں بے قصور ہوں…. تم مجھے غلط سمجھ رہی ہو…. برینڈا واک پر جانا….“

”مجھے کچھ نہیں سننا الحان!“

وہ اس کی بات کاٹتی سپاٹ لہجے میں بولی….

”ڈونٹ ڈو دز مانو! میں بہت ہرٹ ہو رہا ہوں….‘

”یُو نو واٹ الحان! دماغ میرا خراب تھا جومیں تمہیں سوری بولنے کے لیے چلی آئی…. لیکن اچھا ہی ہوا…. مجھے سب کلیئر ہو گیا…. کہ میں تمہارے بارے میں بالکل ٹھیک تھی…. تم واقعی ایک گھٹیا ترین انسان ہو….“

مانہ کی آواز میں لرزش واضح طور پر عیاں تھی…. نم بھری نگاہوں سے اس کی جانب دیکھتی وہ پٹاخ سے دروازہ بند کرتی، تیزی سے اپنے بیڈ پر آ لیٹی…. الحان کافی دیر بند دروازے کے سامنے کھڑا اندر ہی اندر گھلتارہا…. اس کی نگاہوں میں شکستگی واضح طور پر عیاں تھی….

”کیوں ہو رہا ہے یہ سب کچھ میرے ساتھ؟…. کیوں سب کچھ اس قدر امپوسِبل ہوتا چلا جا رہا ہے…. کیوں؟“

من ہی من میں الجھتا وہ شکستہ نگاہوں سے بند دروازے کی جانب دیکھتالمبی سانس کھینچ کر رہ گیا….

ض……..ض……..ض

جاری ہے ۔۔۔۔۔

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

من کے دریچے۔۔۔عابدہ سبین۔۔۔قسط نمبر 11

من کے دریچے عابدہ سبین قسط نمبر 11 اس کی طبیعت اچھی نہیں تھی اس …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے