سر ورق / ناول / من کے دریچے عابدہ سبین قسط نمبر 9

من کے دریچے عابدہ سبین قسط نمبر 9

من کے دریچے

عابدہ سبین

قسط نمبر 9

یوں تو وہ اس سے خفا نہیں تھا مگر ایک انجانی سی خاموشی تھی جو اس کے مزاج میں اُتر گئی تھی۔ وہ پہلے کی طرح سب سے بولتا تھا، ہنستا تھا مگر پھر بھی، کہیں نہ کہیں، کچھ ایسا ضرور تھا جو پہلے کی طرح نہیں تھا۔ وہ اب بھی روزاسے اکنامکس پڑھانے آتا تھا۔ روز رات کو واک بھی ساتھ ہوتی تھی۔ اس کی ہر بات وہ پہلے جیسی مانتا تھا پھر آخر ایسا کیا تھا، جو صرف وہ محسوس کر رہی تھی۔ کتنے ہی دن وہ خاموشی سے یہ انجانی سی خاموشی، عجیب سی بے رخی سہہ گئی لیکن کب تک….

”دیکھو ابوطالب، میں تمہاری ڈانٹ سہہ سکتی ہوں۔ تمہاری ناراضگی برداشت کر لوں گی لیکن یہ نہیں۔“ وہ اسے پڑھانے آیا تھا لیکن وہی خاموشی۔ آج ریحا کی بس ہو گئی۔

”کیا مسئلہ ہے ریحا! میں نے اب کیا، کیا ہے۔“

”ہاں تم نے کچھ کیا نہیں ہے۔ یہی تو میں کہہ رہی ہوں مگر تم پہلے جیسے نہیں رہے۔“

”تمہاری اوٹ پٹانگ باتوں کے جواب نہیں ہیں میرے پاس۔“

”پلیز طالب تم اچھی طرح جانتے ہوں ناں میں کیا کہنا چاہتی ہوں۔ صرف تم سمجھتے ہو۔“

”میں کچھ نہیں سمجھتا ریحا۔ میں تو اب دعویٰ بھی نہیں کر سکتا کہ ریحاب ضیاءکو سب سے زیادہ میں سمجھتا ہوں۔ یہ بھی تم نے غلط ثابت کر دیا۔ تم میری سوچ سے بالکل الگ ہو۔ تم واقعی سب سہہ سکتی ہو مگر اب تم ابوطالب کے اسی مزاج سے جانکاری حاصل کر لو۔ کیونکہ میں بھی اب وہ نہیں جسے تم جانتی تھیں۔“

”تم اب بھی مجھ سے خفا ہو طالب۔“

”نہیں اب ہمارا وہ رشتہ رہا ہی نہیں۔ میں کوشش کروں گا کہ تمہاری ساری خواہشات پوری کر سکوں۔“

وہ کتاب بند کر کے اٹھ گیا۔ ریحا نے آواز دی مگر اس نے اَن سنی کر دی، ریحاب کو کشمکش میں مبتلا کر کے۔

اُس دن اس نے جو کہا وہ طالب نے اتنی شدت سے نوٹ کیا تھا۔ خود اسے یاد بھی نہیں تھا کہ اس نے کہا کیاہے۔ دوبارہ ریحا نے بھی کچھ نہیں پوچھا۔ دونوں ایک دوسرے کے ساتھ بولتے تھے، ہنسی مذاق بھی کرتے تھے مگر ایک انجانا سا فاصلہ دونوں کے بیچ حائل تھا۔ ریحاب اپنے الفاظ پر نادم تھی اور شاید وہ خفا تھا اور حیرت کی بات یہ تھی کہ کسی کو اب تک شک نہ ہوا تھا۔

ض……..ض……..ض

انہی دنوں اشعر آ گیا اسلام آباد سے۔ اشعر ان کی بڑی پھوپو کا اکلوتا، تین بہنوں کا بھائی تھا۔ ان کی بڑی پھوپو قسمت والی تھیں۔ یہ خیال ریحا کا تھا کیونکہ ان کی مالی حیثیت بہت مضبوط تھی اور بقول ریحا کے کہ اس دور میں زندگی گزارنے کے لیے سب سے اہم چیز صرف پیسہ ہے اور بنا پیسے کے زندگی کچھ بھی نہیں۔

اشعردوسرے دن ہی ان دونوں کی معمول سے زیادہ خاموشی بھانپ گیا کیونکہ وہ ان دونوں کا ہی اچھادوست تھا۔

”خیریت ہے ناں ڈیئر کزنز۔ تم دونوں ایک دوسرے سے خفا ہو کیا۔“

”نہیں۔“ طالب نے فوراً نفی کی۔ ”اور اگر ایسا ہوتا تو ہم دونوں ایک ساتھ بیٹھے نظر آتے تمہیں۔“

”ہاں! لیکن کچھ نہ کچھ ہے ضرور۔ تم دونوں ایسے ہو نہیں جو ان دو دنوں میں مجھے نظر آئے ہو۔“ اس نے سوچتی نظروں سے انہیں دیکھا۔ ریحا تادیر چپ نہ رہ سکی۔ اس نے ساری بات اشعر کو بتا دی۔ ”بس اسی دن سے یہ خاموش رہتاہے۔“

”ریحا، سوری ڈیئر، لیکن تم نے طالب کو ہرٹ کیا تھا۔ اس نے جب تم سے محبت کی، تمہاری ذات کی سب ہی خامیوں، خوبیوں، تمہاری عادات اور تمہاری تمام تر کمزوریوں سمیت تمہیں دل سے اپنایا۔ اس نے نہ تمہاری ظاہری حیثیت دیکھی، نہ تمہاری مالی حیثیت اور پھر طالب جیسا انسان ہر لڑکی کا مقدر نہیں ہوتا۔ تم نے اس کی کیا کمزوری بتائی کہ یہ ایک ایماندار انسان ہے، اصولوں پر سمجھوتا نہیں کرتا، اپنا ضمیر مارکر تمہاری سو کالڈ خواہشات پوری نہیں کرے گا مگر اس کی چاہت…. جو اِن تمام چیزوں سے بڑھ کر تھی، اسے تم نے اِگنور کر دیا۔ ویری بیڈ۔“ اشعر نے بھی اسے ہی لتاڑاتھا۔

”دفع کر ناں اشعر، میں یہ ٹاپک کلوز کر چکا ہوں۔“ طالب نے اشعر کو خاموش کرانا چاہا۔

”اور یہاں تُو سب سے بڑی غلطی کر گیا اگر وہ غلط ہے تو تم اسے بتاﺅ، روگ بنا کر دل میں مت بٹھاﺅ۔ دیکھو طالب تم دونوں نے زندگی ساتھ گزارنی ہے یار، یوں ایک دوسرے کے لیے دل میں فاصلے اور شکوے جمع کر کے کیا تم عمر بھر ایک دوسرے کے ساتھ رہ سکتے ہو۔“

”کتنے لوگ ایسی دوغلی زندگی گزار رہے ہیں جن کے دلوں میںایک دوسرے کے لیے بہت گِلے ہیں مگر وہ زبان پر نہیں لاتے اور ایک ساتھ رہتے ہیں، ہم بھی جی لیں گے۔“ طالب نے سرسری انداز اپنایا۔

”آف کورس جیتے ہیں۔ پھر تم میں اور ان لوگوں میں کیا فرق رہ جائے گا۔ تمہارے دل کی سچائی اور تمہاری صاف گوئی ہی تو تمہیں دوسروں سے الگ کرتی ہے طالب۔“

”آج کل دل کی سچائی دیکھتا کون ہے اشعر۔ پھر فائدہ کیا۔“

”برا مانو یا اچھا مانو مگر یہ غلط ہے۔ دل صاف نہیں ہے تو اس رشتے کو نبھانے کا کوئی فائدہ نہیں اور جب ریحا اپنے کہے پر شرمندہ ہے تو تمہیں اسے دل سے معاف کر دینا چاہیے۔“

”میں اس سے خفا کب ہوں۔“ اس نے کندھے اچکائے۔

”میں دل سے شرمندہ ہوں اس سے۔ کتنی بار معافی مانگ چکی ہوں مگر….“

”ریحا دکھ ہوتا ہے جب ہمیں علم ہو کہ جس کے لیے ہم ساری کائنات کی خوشیاں ڈھونڈتے پھرتے ہیں، وہ صرف مادی چیزوں پر جان دیتا ہے۔ تم کب تک پیسے کے ساتھ خوشی سے جی لو گی۔ زندگی گزارنے کے لیے رشتے ناطے، چاہت، ایک دوسرے کا ساتھ بھی اہم ہے۔ اگر دولت کے ساتھ اکیلے جیا جاتا تو کوئی پیسے والا، رشتے نبھاتا نظر نہ آتا تمہیں۔انسانوں کے لیے جینا سیکھو، دولت تمہیں ان رشتوں میں خود مل جائے گی، جن سے تم وابستہ ہو۔ محبت کی دولت۔“ وہ ڈائریکٹ اس سے مخاطب ہواتھا۔

”میںنے کبھی صرف دولت کو زندگی نہیں سمجھا طالب۔ ہاں میں یہ ضرور کہتی ہوں کہ زندگی گزارنے کے لیے دولت اہم ہے۔ جس طرح ہم اپنے رشتے ناتوں کے بنا نہیں جی سکتے، اسی طرح زندگی کی ایک اہم ضرورت پیسہ بھی ہے۔ اس سے تم انکارنہیں کر سکتے۔“

”میں نے انکار کیا بھی نہیں ہے۔ میرے نزدیک پیسہ بہت کچھ ہے، سب کچھ نہیں اور تم نے یہ اندازہ کیسے لگا لیا کہ تمہیں میرے ساتھ گھٹ گھٹ کر، اپنی خواہشات مار کر جینا پڑے گا۔ ابھی تو تم صرف کزن ہو میری۔ تمہارے منہ سے نکلی ہر خواہش میں اپنے تمام کاموں کو پس پشت ڈال کر پوری کرتا ہوں ریحا۔ جب تمہاری خوشی، تمہاری خواہش میرے لیے اب اتنی اہم ہے تو پھر جب تمہاری ہر ضرورت، ہر خواہش مجھ سے وابستہ ہو گی تو کیا میں پوری نہیں کروں گا۔“

”سوری طالب! میں مانتی ہوں کہ میں بہت سیلفش ہوں۔تمہیں بہت ہرٹ کرتی ہوں مگر یہ بھی طے ہے کہ تمہارے بنا مجھے کچھ نہیں چاہیے۔ نہ دولت، نہ خوشی، میری ہر خوشی تم، تمہاری ذات ہے اور بس۔“ اس کی آنکھوں کے گوشے نم ہوئے تو وہ بھی لب کاٹنے لگا۔

اس کی اپنی ہر خوشی ریحاب ضیاءکے نام سے شروع ہو کر اسی کے نام پر ختم ہو جاتی تھی۔ اتنے دن سے پتا نہیں کیسے وہ دل پر پتھر رکھے ہوئے تھا۔

”اچھا بس کرو اب اور اٹھو دونوں، مجھے اپنے شہر کی سیر کراﺅ اور کچھ کھلاﺅ پلاﺅ یار۔ میں مہمان ہوں تمہارا۔“ اشعر نے ان دونوں کے چہرے دیکھے اور خوشگوار موڈ میں کہا۔ طالب اور ریحا فوراً مان گئے۔

ض……..ض……..ض

ان کے دل کا موسم پھر سے حسین ہوا تو ہر موسم خوبصورت لگنے لگا۔ ہر کام میں دل لگنے لگا۔ پھر وہی روز و شب تھے، ہنستے مسکراتے اور یہ دن یوں گزر رہے تھے جیسے ہوا کے ساتھ اُڑ رہے ہوں۔ اسکا ماسٹرز مکمل ہو چکا تھا۔ طالب اب سیٹل تھا اور کامیاب زندگی کی طرف گامزن، ہاں وہ محنت ڈبل کر رہا تھا۔ طلال کا یونیورسٹی میں لاسٹ ایئرتھا۔

ارشد بھائی کو پروموشن ملی تو کچھ گھر کے حالات مزید بہتر ہوئے اور پھر بابا کی ریٹائرمنٹ۔ بس زندگی کے چکر تھے اور سب اس میںمگن تھے کیونکہ ریحاب ضیاءاب یہ بات سیکھ چکی تھی کہ وقت سے پہلے اور قسمت سے زیادہ کبھی کچھ نہیں ملتا، یوں بھی وہ بہت سے لوگوں سے اچھی زندگی گزار رہے تھے۔

ریحاب کا تعلیمی کیریئر ختم ہوا تو پھوپو کو بھی اپنے گھر میں بہو لانے کی جلدی ہو گئی۔ یوں بھی طالب اپنے تینوں بھائیوں میں بڑا تھا۔ بابا بھی راضی تھے۔ یوں جلد ہی ان کی شادی کی ڈیٹ فکس ہوگئی۔

”بس آج لاسٹ ٹائم تم ہمارے گھر آئے ہو۔ اب صرف بارات لے کر آنا سمجھے۔“

”یہ سراسر غلط ہے۔“ طالب نے معصوم چہرہ بنایا۔ ان کی تاریخ طے ہوئی تھی اور اس وقت گھر میں سب جمع تھے، موج مستی کر رہے تھے۔

”کیوں! یہ ہی رواج ہے۔“

”یہ میرے ماموں کا گھر ہے۔“

”سو واٹ! لیکن تم اب اس گھر کے داماد بننے بھی جا رہے ہو، اچھا۔“ بھابی نے مسکرا کے کہا۔

”ارشد بھائی۔“ اس نے دہائی دی لیکن ارشد بھائی نے بھی اپنی بیگم کی سائیڈ لی۔

”رسم و رواج بھی ہمارے سماج کا حصہ ہیں۔ طالب ہمیں ان کی قدر کرنی چاہیے اور پھر کچھ دنوں کی تو بات ہے۔“ ان کی بات پر اس کے منہ کے زاویہ بگڑے۔

”اچھا چلیں صرف آج ہمیں جانے دیں، آئس کریم کھا کے آ جائیں گے۔“

”نہیں ہرگز نہیں۔ ہمارے گھرں میں تاریخ طے کرنے کے بعد لڑکی گھر سے باہر نہیں جاتی۔“

”بھابی پلیز یار!!“ وہ تڑپ کے چیا۔

”چلو ایک فیور میں تمہیں دیتا ہوں، تم ریحا کے لیے یہیں آئس کریم لے آﺅ پیک کرا کے۔“

”خاک مزہ آئے گا۔“ وہ بڑبڑایا۔

”تمہاری مرضی۔“ یعنی اجازت ملنا ممکن نہیں تھا۔

”طالب یہیں لے آﺅ نا، سب مل کر کھائیں گے۔“ ریحا نے فرمائش کی اور خلاف معمول وہ مان بھی گیا۔

”طالب رہنے دو بیٹا۔“ امی بھی آ گئیں۔

”مامی، میں اکیلا جا رہا ہوں۔“

”میں جانتی ہوں لیکن وقت تو دیکھو، دس بج چکے ہیں اور آج کل حالات بہت خراب ہیں شہرکے۔ مجھے ڈر لگتاہے۔“

”او گاڈ!!“ اس نے سر تھاما۔

”امی ٹھیک ہی تو کہہ رہی ہیں۔ طیب کی بائیک چھنے ابھی زیادہ دن نہیں گزرے۔“ ارشد بھائی بولے۔

”اور کل جو میرا موبائل چھِن گیا وہ۔“ طلال نے صدمے سے کہا۔

”میں سب کچھ یہیں رکھ جاتا ہوں۔“

”نہیں طالب رہنے دو۔“ ریحا یکدم بولی جس طرح کے حالات آج کل چل رہے تھے سب ہی ڈرنے لگے تھے۔ روز ہی کچھ نہ کچھ سننے کو مل جاتا تھا۔ دل سہم سے گئے تھے۔

”وقعی اب تو ڈر لگتا ہے باہر نکلتے ہوئے۔ تم مت جاﺅ رات کا ٹائم ہے۔“

”یار آج میری شادی کی ڈیٹ فکس ہوئی ہے۔ تم لوگ انجوائے کرنے کے بجائے ایویں مجھے بھی ڈرا رہے ہو۔“

”تم نے آئس کریم ہی کھانی ہے۔ صبح سنڈے ہے تم صبح لے آنا۔“

سب کے سمجھانے پر وہ مان گیا اور خاموش ہو گیا۔

ض……..ض……..ض

شہر کے حالات بہت زیادہ بگڑ گئے تھے۔ گھر سے باہر نکلنا بھی دشوار تھا۔ ایسے میں صبح نوکری پر جانے والے شام میں لیٹ ہو جاتے تو دل ڈرنے لگتا تھا۔ ہزاروں وہم ستانے لگتے تھے۔ پھر طیب کی بائیک اور طلال کے موبائل کے حادثے کے بعد کچھ اور زیادہ ہی سب وہمی سے ہو گئے تھے۔

آج بابا کو تھوڑی سی دیر ہو گئی تو سب پریشان ہو گئے۔ اوپر سے بابا کا موبائل بھی آف تھا۔

پھوپو بھی آ گئیں اور جب نو بجے بابا لوٹے تو سب کی جان میں جان آئی۔

”کہاں چلے گئے تھے آپ؟“

”ارے بھئی وہ صدیقی صاحب مل گئے تھے۔ زبردستی گھر لے گئے، بس وہیں دیر ہو گئی۔“

”بھائی جان آپ جانتے بھی ہیں کہ آج کل سب کتنے سہم گئے ہیں۔ پھر بھی کم از کم فون کر دیتے تو اتنی پریشانی نہ ہوتی۔“

”ارے بھئی موبائل تو یہیں چارجنگ پر لگا ہے اور پھر قریب ہی تو گیا تھا۔ آ پ لوگ بھی۔“ بابا ہنس دیے۔

مگر صرف ان کے ساتھ ہی نہیں، شہر کے ہر گھر میں یہ خوف سا پھیلا ہوا تھا۔ ایک ماہ میں دو بلاسٹ، پھر فائرنگ، ڈکیتی…. کتنے واقعات ہو گئے تھے۔ اللہ جانے یہ قوم میں فرقہ پرستی کیو ںاتنی زور پکڑ رہی تھی۔ ہر کسی کو یہ پتا رہ گیا تھا کہ وہ پٹھان ہے، مہاجر ہے، پنجابی، یہ بات سب بھول گئے تھے کہ ہم مسلمان ہیں، پاکستانی ہیں۔

گھر میں شادی کی تیاریاں بھی تیزی سے ہو رہی تھیں، روز ہی مارکیٹ جانا پڑتا تھا۔ سب سے زیادہ بھابی پر کام کا زور تھا۔ ان کی اتنی مصروفیت دیکھتے ہوئے ریحاب آج کل کچن سنبھال رہی تھی اور طلال نے یہ رپورٹ طالب کو دے دی تھی، تب ہی شام میں اس کا فون آیا تھا۔

”سنا ہے آج کل گھر والوں کا پیٹ خراب کرنے کی ذمہ داری سنبھال لی ہے تم نے۔“ اس نے چھیڑا، وہ قطعی برا نہیں مانی تھی۔

”ہاں، ظاہر ہے تجربہ حاصل کر رہی ہوں۔ تمہارا پیٹ بھی تو خراب کرنا ہے۔“

”میرا تو تم نے خانہ خراب کرنا ہے ڈیئر۔“ وہ ہنسا تھا۔ ”یار آج تم سے ملنے کا بڑا دل چاہ رہا ہے۔“

”آجاﺅ۔ بھیا اور بھابی کے جوتے فری مل جائیں گے۔“ اس نے مزید دل جلایا۔

”ایسے حالات بھی نہیں ہے۔ میں اپنے ماموں کی فیور لے لوں گا۔“

”بہانہ چاہیے تو میرے لیے دہی بڑے لا دو۔“ ریحا نے فرمائش جھاڑی۔

”یار بڑی فضول خرچ بیوی مل رہی ہے۔ سیونگ تو ناممکن ہو گی میری۔“ اس نے سر پیٹا۔

”پھر وہیں رہو۔ ایک تو میں گھر آنے کا ریزن بنا رہی ہوں تمہارے لیے اور تم الٹا مجھے ہی طعنے دینے لگے۔“

”ارے سویٹ ریحا، جانو! آپ تو بُرا مان گئیں۔ میں ابھی لاتا ہوں دس منٹ میں۔“

”اتنی جلدی بھی نہیں ہے۔ بائیک آہستہ اڑانا، او کے۔“

”جو حکم سرکار۔“ اس نے بشاش لہجے میں کہہ کر فون بند کر دیا۔

دس منٹ بعد وہ نہیں آیا تھا بلکہ ان کے سروں پر آسمان ٹوٹ پڑا تھا۔

بم بلاسٹ کی اطلاع نے شہر بھر میں قیامت مچا دی تھی۔ بابا نے ارشد بھائی اور طلال کو فون کیا۔ وہ دونوں خیریت سے تھے لیکن جب ہی حواس باختہ طیب نے آ کر ان کے پیروں تلے سے زمین کھینچ لی تھی۔

”طالب کا فون بند جا رہا ہے اور….“ اسے خود اپنا ہوش نہیں تھا۔

”ہو سکتا ہے چارجنگ نہ ہونے کی وجہ سے فون بند ہو، آ جائے گا۔“

”بابا، دس منٹ پہلے اس نے فون کیا تھا مجھے۔ وہ چورنگی تک جانے کا کہہ رہا تھا۔“ اس کا اپنا دل بیٹھاجا رہا تھا۔

”اچھا پریشان نہ ہو، میں دیکھتا ہوں۔“ بابا نے انہیں تسلی دی۔ طیب نے اس کے فرینڈز کو فون کر کے معلوم کیا۔ اتنے میں طلال اور ارشد بھائی آ گئے۔ ارشد بھائی کو جیسے ہی معلوم ہوا وہ طیب کو لے کر فوراً چلے گئے اور طلال اسے چورنگی پر دیکھنے چلا گیا۔

آسمان کیسے سر پر ٹوٹ پڑتا ہے۔ یہ اسے اب پتا چلا تھا۔ جب ابوطالب کی لاش بہت بری حالت میں ان کے سامنے تھی۔ یوں لگتا تھا قیامت آ گئی ہے۔

پھوپو، امی، بابا، طیب…. جسے دیکھو بے حال تھا۔ ایک بے یقینی کاسا عالم تھا۔ سامنے وہ ساکت تھا۔ آنکھوں کے سامنے تھا مگر یقین نہ تھا کہ وہ چلا گیا ہے انہیں چھوڑ کر…. ریحا کی آنکھیں ابوطالب کے وجود کی طرح ساکت تھیں۔ اس کا جسم جیسے پتھر کا بن چکا تھا۔

کب ابوطالب کی آخری رسومات ہوئیں، اسے کب اس کی آخری آرام گاہ لے گئے، ریحاب ضیاءکو کچھ ہوش نہ تھا۔ اس کی آنکھیں اب تک کھلی تھیں، ابوطالب کے انتظار میں کہ کب وہ آئے گا۔ اس کی فرمائش پر ہی تو وہ گیا تھا۔ وہ ضرور آئے گا۔ ا سکا دل چاہ رہا تھا ریحا کودیکھنے کا تو آئے گا وہ۔ اب تو اس کے پاس ریزن بھی تھاناں۔ وہ منتظر دروازے پر نگاہیں جمائے بیٹھی تھی۔ پر اب ابوطالب نے نہیں آنا تھا۔ وہ چلا گیا تھا۔ اسے چھوڑ کر ہمیشہ کے لیے۔ یہ بات سب نے قبول کرلی تھی۔ ہاں دل کو ایک بے یقینی سی تھی کہ جیسے ابھی کہیں سے وہ آ جائے گا، ہنستا ہوا اور کہے گا کہ کیسا رہا میرا مذاق۔ جان نکل گئی تھی ناں۔“

لیکن یہ امید…. امید بھی نہ رہی، اس کی قُل خوانی ہو گئی اور پھر د س دن کا ختم بھی ہو گیا لیکن ریحا کا سکتہ جوں کا توں تھا۔ سب کی کوششیں بے سود ہو گئی تھیں۔ وہ نہ روتی تھی اور نہ ہی کچھ بولتی تھی۔ بڑی پھوپو، اشعر اور دوسرے رشتے دار جو دوسرے شہر سے آئے تھے، ریحا کی حالت کی وجہ سے ازحد فکرمند تھے۔

ڈاکٹرز کو دکھایا مگر نتیجہ کیا نکلا۔ اس کا سکتہ کومے میں بدل گیا۔

یہ سب کے لیے ایک اور صدمہ تھا۔ ابوطالب کی جواں موت کا صدمہ تو دل میں روگ کی طرح بیٹھ گیا تھا اور اب ریحاب ضیاءکی حالت…. سب کو ایک اور صدمہ دے گئی۔ ڈاکٹرز نے انہیں قطعی جھوٹی تسلی نہیں دی تھی کہ وہ جلد ٹھیک ہو جائے گی۔ وہ بھی کچھ خاص پُرامید نہیں تھے ریحا کی پوزیشن سے۔

ض……..ض……..ض

ابوطالب کیا گیا، ان کے خاندان کی ہر خوشی اور زندگی سے جیسے مسرت کا وجود ختم سا ہو گیا تھا۔ دن رات ہنسنے، چھیڑچھاڑ کرنے والے طلال اور طیب کے لبوں پر ایک سخت سی خاموشی چھائی تھی۔ سحرش، سحاب اور کاشف چھوٹے تھے مگر ظاہر ہے ابوطالب تو گھر کے ہر فرد کے دل میں بستا تھا۔ وہ تو ہر شخص کے لیے جیتا تھا، تو اس کی موت کا یہ بھیانک سچ سب کو دل سے قبول کرنے میں بہت وقت درکار تھا۔ ارشد بھائی اور بھابی بظاہر سب کے سامنے خود کو بہت مضبوط پوز کرتے تھے مگر یہ تو سچ تھا ناں کہ طالب ان کے وجود کی دیواریں ہلا گیا تھا لیکن اگر وہ بھی بکھر جاتے تو اتنے سارے لوگوں کو کون سنبھالتا اور ریحا کی حالت نے تو انہیں مزید توڑ کر رکھ دیا تھا۔

اس کی روح پرواز کر گئی۔ اس کی آخری رسومات، ان سب کا تو ہوش بھی نہ تھا۔

دن، ہفتے اور ہفتے مہینوں میں بدل گئے تھے لیکن ریحاب ضیاءکی وہی حالت تھی۔ اب تو سب کو تشویش ہونے لگی تھی۔ ڈاکٹرز مایوس ہونے لگے تھے۔ جانے والا تو چلا گیا تھا، سب کو اس کی موت پر صبر آ گیا تھا مگر ریحاجو نہ زندگی کی طرف لوٹ رہی تھی نہ ہی مُردوں میںاس کا شمار کیا جا سکتا تھا۔ آخر کب تک وہ لوگ اس تسلی کے سہارے زندگی گزارتے کہ وہ ٹھیک ہو جائے گی۔ امی روز اسے جھنجھوڑتی تھیں لیکن وہ صرف ان کی باتیں سن سکتی تھی۔ ہاں اب کبھی کبھار امی نے اس کی آنکھوں کے گوشے گیلے دیکھے تھے۔ وہ اپنی بیٹی کی اس حالت پر صرف اللہ کے حضور دعا ہی کر سکتی تھیں۔ جو دن رات وہ کر رہی تھیں۔

ض……..ض……..ض

آج اس کا نکاح تھا اشعر رضا کے ساتھ۔ وہ سچ ہی تو کہتا تھا کہ وقت سے پہلے اور قسمت سے زیادہ کبھی نہیں ملتا۔ وہ اس کا سب کچھ تھا مگر اس کی قسمت نہیں تھا۔ وہ خود تو چلا گیا۔ ریحاب ضیاءکے لیے دنیا جیسے ختم کر گیا تھا۔ اس کا خود کا بس چلتا تو وہ کب کا خود بھی ختم ہو جاتی لیکن رضائے الٰہی تھی کہ اس نے جینا ہے۔

آٹھ ماہ زندگی اور موت کی کشمکش میں گزار کر وہ زندگی کی طرف لوٹ آئی۔ پھر اسے اسی دنیا میں جہاں سب کچھ تھا مگر اس کے لیے کچھ نہ رہا تھا۔ ہاں جس زندگی میں ابوطالب نہ رہا، وہاں بچا ہی کیا تھا۔ ہاسپٹل سے گھر آ کر بھی کوئی خاص فرق نہیں پڑا۔ وہ بولنا تو شاید بھول ہی گئی تھی، ہنسنا تو دور کی بات تھی۔

سب کا خیال تھا شاید وہ دھیرے دھیرے سنبھل جائے مگر اب تو ایک سال ہو چکا تھا اور وہ ویسی ہی تھی۔ سب کے ساتھ بیٹھ کر بھی وہ انجان بنی بیٹھی ہوئی تھی۔ ٹی وی پر کوئی ایسی ویسی خبرسنتی تو گھنٹوں روتی رہتی۔ یوں لگتا جیسے ابوطالب آج ہی انہیں چھوڑ گیا ہو۔

اشعر نے اسے اپنانے کا فیصلہ ازخود کیا تھا کیونکہ اس کا خیال تھا ریحا یہاں سے دور جا کر شاید سنبھل جائے۔ مختلف ماحول میں اس کا من بہل جائے مگر وہ ریحاب ضیاءتھی، کوئی بچی نہیں جو بہل جاتی۔

”ریحا میرے فیصلے کو میری نیت کا کھوٹ مت سمجھنا۔ آئی نو، بہت پہلے میں تمہاری خواہش رکھتا تھا مگر طالب اور تم، دونو ںمیرے لیے، میری خواہش، میری چاہت سے بڑھ کر ہو لیکن آج اگر میں نے یہ فیصلہ کیا ہے تو صرف تمہاری بہتری کے لیے پلیز ریحا….!“

”میرے لیے زندگی کی ہر خوشی، ہر جذبہ بے معنی ہو چکا ہے۔ تم اگر پھر بھی یہ چاہتے ہو تو کل کو مجھے بلیم مت کرنا۔ مجھ سے کسی قسم کی امید مت رکھنا۔“ گھر والوں اور اشعر کی اس ضد پر وہ صرف خاموشی سے مان گئی تھی۔

یوں بہت سادگی سے ان کے نکاح کی سادہ و پُروقار تقریب ہوئی اور وہ اسلام آباد آ گئی۔ لیکن اس کی روٹین نہیں بدلی۔ اشعر رضا کے اس کو بدلنے اور زندگی کی طرف لانے کے تمام دعوے پست ہونے لگے تھے۔

وہ گھرکے تمام کام کرتی تھی۔ اشعر کے تمام کام بھی خود سے سنبھال چکی تھی مگر وہ صر ف ایک روبوٹ کی مانند۔ جذبات و احساسات سے قطعی عاری۔ اشعر اس سے کبھی گلہ نہیں کرتا تھا کیونکہ وہ تو خود کہہ چکی تھی کہ یہ فیصلہ سراسر اس کاہے۔

وہ فارغ اوقات میں جانے کن سوچوں میں کھوئی رہتی۔ اسے اشعر کی موجودگی یا غیرموجودگی سے کوئی سروکارنہیں تھا۔ اشعر زبردستی اسے باہر کہیں لے جاتا۔ اسے باتو ں میں مصروف رکھنے کی کوشش کرتا۔

کبھی ان تمام آسائشات کی وہ خواہش مند تھی اور اب اسے ہر آسائش حاصل تھی۔ ایک بہت بڑا خوبصورت ویل ڈیکوریٹڈ گھر، گاڑی، بینک بیلنس…. اسے زندگی کی ہر سہولت حاصل تھی لیکن اس کے لیے سب بے معنی۔ اس کے لیے تو ہر خوشی ہرآسائش صرف ابوطالب کے سنگ حسین تھی۔ جب وہ نہیں رہا تو ان تمام مادی چیزوں کا کیا حسن، کیا معنی تھے۔

بڑی پھوپو جب تک حیات رہیں اسے سمجھاتی رہیں۔ پھر وہ بھی زندگی کی بازی ہار گئیںاور اب اتنے بڑے گھرمیں وہ تنہا تھی۔ اشعر صبح کا گیا شام میں آتا۔ کیا اس نے یہ تنہائی مانگی تھی قسمت سے۔ وہ تو اتنی خوش مزاج، ہنسنے بولنے والی لڑکی تھی لیکن….

وقت اس کے زخموں پر مرہم رکھتا رہا مگر طالب کی موت کے زخم بھرنہ سکے۔ آج بھی اسی طرح ہرے تھے۔ چار سال اشعر کی سنگت میں گزارکر بھی وہ ویسی ہی تھی، جیسے کبھی اس شہر سے گئی تھی۔

اشعر رضا بھی شاید تھک گیاتھا۔ اس کا خیال تھا کہ کچھ وقت لگے گا ریحا سنبھل جائے گی، اسے قبول کر لے گی مگر نہیں، شاید اس نے غلط فیصلہ کیا تھا۔ کیونکہ وہ سمجھ چکا تھا کہ ریحا اسے کبھی قبول نہیں کرے گا۔ اس نے ریحا سے کچھ کہنا سننا چھوڑ دیا۔ پہلے کی طرح سمجھانا ترک کر دیا۔ چار سال وہ کراچی نہیں گئی لیکن اسلام آباد کے رنگ بھی اسے بدل نہ سکے۔ اس کے من سے کراچی اور اس سے وابستہ یادیں نہ نکال سکے تھے۔

تب اس نے خود کو اور ریحا کو حالات کے سپرد کر دیا اور خود ہی اسے کچھ دن کے لیے کراچی بھیج دیا۔

ض……..ض……..ض

”تم ہمیں اپنا دشمن سمجھتی ہو ریحا۔ کیا ہمیں تمہیں خوش دیکھنے کا، بھرپور اور خوش زندگی گزارتے دیکھنے کا حق نہیں ہے؟ دیکھو بچے! ہم تمہاری اچھی زندگی کے لیے، تمہارے آنے والے کل کے لیے تمہیں سمجھاتے ہیں۔“

”بھابی! میری زندگی تو طالب کی سانسوں کے ساتھ ختم ہو گئی تھی۔ اب تو صرف….“

”ایسا نہیں ہے ریحا، اگر ایسا ہوتا تو ایک سال زندگی اور موت کی کشمکش میں گزار کر تم واپس ہم میں نہ لوٹتیں بلکہ اپنی سانسیں ہار چکی ہوتیں۔“

”کاش ایسا ہو جاتا۔“ اس نے آہ بھری۔

”تم سدا سے ناشکری ہو، اسی بات پر طالب تم سے خفا ہوتا تھا۔ زندگی اللہ کا دیا ہوا انمول تحفہ ہے ریحا۔ اس کا شکر ادا کرو کہ اس نے تمہیں نئی زندگی عطا کی اور الٹا تم اس کی ناشکری کر رہی ہو۔ ارے ان لوگوں سے پوچھو جاکر جن کے پاس زندگی کم ہے اور وہ بہت کچھ کرنا چاہتے ہیں۔ گڑگڑاتے ہیں کہ ہمیں اتنی مہلت مل جائے کہ ہم جوکرنا چاہتے ہیں وہ کر لیں، ایک تم ہو، اتنی بڑی نعمت کو یوں ضائع کر رہی ہو۔ ا سکی جتنی زندگی تھی اس نے جی اور بھرپور اندازمیں جی۔ اس نے انسانیت کے لیے سوچا، وہ تعلیم کا بہت بڑا حامی تھا۔ وہ ان لوگوں کے لیے ہمدردی رکھتا تھا، ان کے لیے بہت کچھ کرنا چاہتا تھا جو تعلیم سے محروم ہیں۔ اس کے پاس کرنے کے لیے بہت کچھ تھا لیکن زندگی نہیں اور وہ اپنے خواب اپنے من میں لیے چلا گیا۔“

”وہ گیا نہیں ہے بھابی، اس شہر پر قربان ہوا ہے۔ اس شہر، اس ملک پر جس پر وہ جان دیتا تھا۔ اسی ملک نے اس کی سانسیں چھین لیں۔ یہ تحفہ دیا اسے حب الوطنی اور ایمانداری کا۔“

”ریحا اپنے وطن کے لیے قربان ہونے کا اعزاز بھی ہر انسان کو نہیں ملتا۔“

”وہ اگر ملک کی سرحد پر دشمنوں کے ہاتھوں شہادت پاتا تو میرے دل کو صبر آ جاتا مگر اسے مارنے والے تو اسی ملک کے لوگ ہیں۔ ہمارے اپنے وطن میں رہنے والے، کوئی باہر سے نہیں آئے تھے۔“

”گڈ! ریحا تم بالکل ٹھیک کہہ رہی ہو۔ ہم اس بات سے بھی انکار نہیں کرتے کہ طالب کو مارنے والے کوئی باہر سے نہیں آئے تھے۔ وہ اسی ملک کے تھے، ہم میں سے ہی تھے۔“

”سب کچھ ختم ہو جانے کے بعد، اب کیا مقصد ہے میرے جینے کا۔“

”مقصد ہے ریحا، طالب تمہیں عزیز تھا اور آج بھی تم اس کا نام لے کر جیتی ہو۔ تو تم اپنی زندگی کا مقصد، اس کے وہ ،خواب بنا لو جو اسے عزیز تھے۔ جن کے لیے وہ جیتا تھا مگر وہ زندگی ہی اتنی مختصر لے کر آیا تھا کہ وہ خواب مکمل نہ ہو سکے۔ لیکن یہ موقع تمہیں ملا ہے۔ اس کی محبت کا فرض ادا کرو۔ اس خواب کے لیے جیو۔“

”مگر میں کیسے، یہ سب اکیلے کروں گی۔“

”نہیں ریحا تم اکیلے نہیں، ہم سب مل کر تمہارے ساتھ کام کریں گے۔“

”بھیا! اس کے لیے ہمیں فنانشلی سپورٹ چاہیے ہو گی، وہ۔“

”اشعر ہے ناں، ریحا ڈیئر تم پہلا قدم تو اٹھاﺅ، دیکھنا دھیرے دھیرے کتنے قدم تمہارے ساتھ اٹھیں گے۔“

”اشعر ہمارا ساتھ دے گا۔“

”تمہاری خوشی کے لیے وہ تمہاری ہر بات مان لے گا۔ دیکھو ریحا ان چار سالوں میں صرف ہم نہیں، وہ بھی تمہاری طرف سے بہت مایوس ہوا ہے۔ وہ تمہارا شوہر ہے اور تمہارا بہت خیال بھی رکھتا ہے۔ آج تک اس نے تمہیں کسی چیز سے انکار کیا ہے؟ نہیں ناں! تم اگر خوش رہو گی، ہنسو گی، بولو گی، زندگی کو بھرپور انداز میں جیو گی تو وہ یقینا خوش ہو گا۔ اپنی زندگی کا مقصد تمہیں مل گیا ہے۔ آئی بلیو کہ اشعر بھی خوشی خوشی تمہارا ساتھ دے گا۔ کیونکہ جو تم کرنا چاہتی ہو اس سے ہمارے اپنے لوگوں کو فائدہ ہو گا۔“ بھابی نے پیار سے اسے سمجھایا تھا اور شاید اسے سمجھ آ گئی تھی تب ہی تو مسکرائی تھی۔ کتنے سالوں سے گھر والے اس کی مسکراہٹ کو ترس گئے تھے اور آج دیر سے سہی وہ لوٹ آئی تھی زندگی کی طرف۔ وہ اٹھ کر کمرے میں آئی تھی، اشعر کو فون کرنے۔

ض……..ض……..ض

اس نے صرف سنا تھا کہ قطرے قطرے سے سمندر بنتا ہے۔ مگر آج ایک سال کے بعد یہ مثال حقیقت بن کر اس کے سامنے جگمگا رہی تھی۔

ایک ایک کر کے اٹھایا ہوا قدم آج اس کے خوابوں کی تعبیر بنا، اس کی نگاہوں کے سامنے تھا اور اس سفر میں وہ قطعی اکیلی نہیں رہی تھی۔ سب نے اس کا ساتھ دیا تھا۔ اس کا حوصلہ بڑھایا تھا اور جو عزم لے کر وہ کراچی سے اسلام آباد لوٹی تھی، وہ اس پر ثابت قدم رہی تھی۔ اس نے کوشش کی تھی کہ ابوطالب کے ان خوابوں کو حقیقت کا روپ دے جو کبھی زندگی بن کر اس کے ساتھ جیا کرتے تھے۔ سو اب خوابوں کو حقیقت میں بدلنے تک یہ پہلا قدم اس نے کامیابی سے طے کیا تھا۔

”ابوطالب“ کے نام سے منسوب کر کے اس نے ایک اسکول بنایا تھا۔ جس میں وہ تمام بچے علم کی روشنی سے مالامال ہو سکتے تھے جو اپنی محرومیوں اور مجبوریوں کی وجہ سے تعلیم حاصل نہیں کر سکتے تھے۔

ایک ایسا ادارہ جو اس ملک کے ان بے شمار اسکولوں کی طرح نہیں تھا جو صرف نام کی مفت تعلیم کہہ کر غریب لوگوں سے پیسہ لوٹتے تھے پھر بھی ایمانداری کے ساتھ اپنا حق ادا نہیں کر رہے تھے۔ یہ قدم تھا صرف ان لوگوں کے لیے جو واقعی حقدار تھے۔ اس تعلیم کے اور اس ادارے میں صرف وہ لوگ اپنا فرض ادا کر رہے تھے جن کے لیے پیسے سے زیادہ علم کی اہمیت تھی۔

ابوطالب اب بھی اس کے لیے اتنا ہی اہم تھا۔ اس کی زندگی کا ہر باب اس کے نام سے منسوب تھا لیکن اب اس نے زندگی کو بے معنی نہیں گزارنا تھا۔ جب اس نے یہ زندگی ابوطالب کے نام کر دی تھی تو پھر جب تک سانسیں تھیں، اس نے ابوطالب کے خوابوں کے لیے خود کو وقف کر دیا تھا اور یہ سب کرنے میں وہ پھر ریحاب بن گئی تھی۔ اب وہ ہنستی بھی تھی، بولتی بھی تھی۔ اسے یوں لگتا تھا کہ اس کے قدم قدم پر ابوطالب آج بھی اس کے ہمراہ ہے۔ جب وہ ہنستی ہے تو وہ اس کے ساتھ خوش ہوتا ہے۔ اس کے کام میں اسے حوصلہ دیتا ہے اور اسے آگے برھنے کے عزم میں وہ اس کے برابر کھڑا ہے۔ ہنستا مسکراتا اور بہت خوش۔ جیسے کہہ رہا ہو، ریحا میں تمہارے ساتھ ہوں اور اس طرح اسے مزید حوصلہ ملتا۔

اس بات سے بھی وہ کبھی انکار نہیں کر سکتی تھی کہ اس کے حوصلوں، اس کے جذبوں میں اشعر رضا بھی اس کے ہمقدم رہا تھا۔ دن رات جب بھی ریحا کو اس کی ضرورت محسوس ہوئی، وہ اس کا ہاتھ تھامے اس کے ساتھ کھڑا تھا اور جب آج اس کے خوابوں کو تعبیر ملی تھی تو شکریہ کا پہلا حقدار بھی وہی تھا۔ اپنے اسکول کا افتتاح کرتے ہوئے اس کی آنکھیں نم ہو گئی تھیں۔

”کانگریجولیشن…. ڈیئر۔“ اس کا چہرہ ہاتھوں میں تھامے اسے وِش کرنے والا یہ اشعر رضا تھا۔

”تھینکس، مگر اشعر اگر تم میرے ہمقدم نہ ہوتے تو شاید یہ سب کبھی نہ ہوتا۔“

”ریحا! عزم پکا ہونا چاہیے۔ منزل تو خودبخود قریب آ جاتی ہے۔ یہ خواب جس کا تھا، آج وہ ہم میں نہیں لیکن یہ اسکول اس کے خوابوں کی حقیقت بن کر ہمارے سامنے ہے۔“

”اور یوں لگتا ہے اشعر، جیسے وہ خود ہمارے سامنے ہے اور بہت خوش ہے۔ وہ یہاں نہ ہو کر بھی ہمارے ساتھ رہے گا اشعر۔“

”مجھے تو ابوطالب کا شکرگزار ہونا چاہیے۔“ وہ مسکرا کر بولا۔

”کیوں؟“

”اس کے بعد جس طرح تم لائف گزار رہی تھیں لیکن جب تم نے اس کی خواہشوں کو اپنے جینے کا مقصد بنایا تو تمہاری زندگی بدل گئی اور یہ بدلاﺅ، مجھے اس کے لیے اچھا لگا کہ تم زندگی کی طرف واقعی لوٹ آئیں اور پھر ہم سب کی طرف بھی۔“

”ریحا! کاش ہم سب پاکستان بن کر سوچیں، پاکستان کے لیے سوچیں، کیونکہ اچھی اور مثبت سوچ ہی تو مثبت تبدیلی لاتی ہے۔ تبدیلی، تغیر ایک دم سے برپا نہیں ہوتے، یہ عمل قدم بہ قدم ہوتا ہے مگر ارادے مضبوط ہونے چاہئیں۔ صرف بیٹھ کر باتیں بنانے سے اس ملک میں کوئی تبدیلی نہیں آ سکتی۔ ہم سب کو اپنی ذاتی کاوش اور کوششوں سے عمل کرنا پڑے گا۔ تب ہی کچھ ہو گا۔ اگر ہماری سوچ ایک ہو جائے تو بہت جلد ہم بھی بہت آگے ہوں گے لیکن اس کے لیے ہمیں ایک ہو کر قدم بڑھانے ہوں گے۔“

”ہاں اشعر! ہم نے اسی لیے یہ قدم اٹھایا ہے۔ اس امید کے ساتھ کہ ہمارے اس عزم میں ہمارے ملک کے ہر گوشے سے اگر ایک ایک فرد بھی ہمارا ساتھ دے تو ہم ضرور اپنے مقصد میں کامیاب ہوں گے۔

”ان شاءاللہ!“ اس نے ایک عزم کے ساتھ کہا تھا اور اشعر نے ان شاءاللہ کہہ کے اس کا ہاتھ مضبوطی سے تھام لیا تھا۔

ض……..ض……..ض

تیری خوشبو نہیں ملتی

طلحہ یار! نکل بھی آ باہر، کہیں مر تو نہیں گیا واش روم میں ہی۔“ روز کی طرح صبح صبح ہی وہی آوازیں، شورہنگامہ، کہنے کو تو اس گھر میں صرف دو فرد تھے، مگر ان کا شور دو سو کے برابر ہوتا تھا اور حرمین کو ان کے اس ہنگامے سے سخت الجھن ہوتی تھی۔ تنگ تو امی بابا بھی ہوتے تھے، مگر اس کے علاوہ گھر کا کوئی فرد اظہار نہیں کرتا تھا۔ صرف ایک ماہ ہوا تھا انہیں ان کے برابر آئے ہوئے۔

”پہلے اچھی خاصی فیملی رہتی تھی۔ اللہ جانے انہیں کیا مصیبت آئی تھی کہ ان میراثیوں کو بیچ دیا ہے یہ گھر۔“ ادھر سے پھر آواز آئی تھی۔ وہ بڑبڑانے لگی۔ صحن میں بیٹھ کر اخبار پڑھنے کا خیال دل سے نکال دیا۔

”تم تو ٹھہرے پردیسی وعدہ کیا نبھاﺅ گے۔“

”اے بھیا! پردے بعد میں سی لینا، ناشتہ دے تاکہ ہم اس منحوس باس کے متھے لگیں سویرے سویرے۔“ طلحہ نے حارش کو گاتے میں ٹوکا، ساتھ ہی گانے کا بھی ستیاناس کیا، حارش نے مگ اس کے سامنے پٹخا۔

”میں تیرا باوا کا نوکر نہیں ہوں روز ناشتہ بناﺅں، بس کل سے تو ناشتہ بنائے گا۔ شام کا میں کچھ نہ کچھ کر لوں گا۔“ حارش کئی دن برداشت کرتا رہا۔ وہ صرف بیٹھ کر کھاتا تھا۔ کچن اس نے سنبھال رکھا تھا، جیسے وہ اس کی سگھڑ بیوی ہو۔

”کیا یار حارش! یُو نو ، مجھے کتنی الرجک ہے ان لیڈیز کاموں سے۔“ وہ معصومیت سے بولا۔

”کمینے، ذلیل، پاجی…. تجھے کھانے سے الرجی نہیں ہے صرف پکانے سے ہے، اور میں تجھے کوئی لیڈی نظر آتا ہوں جوسارے ایسے کام مجھ سے کراتا ہے۔ بس انیف آج سے بائیکاٹ۔“ وہ جذبات میں اٹھ کھڑا ہوا۔

”اچھا یار! ناشتہ تو کر لے۔ اب تو نے اتنی محنت سے یہ جلا ہوا آملیٹ اور سوکھے ہوئے پراٹھے بنائے ہیں، ان کو حلق سے اتار کر بھی دکھا ناں۔“ طلحہ اس کی بنائی اتنی پیاری پیاری آملیٹ اور پراٹھوں کی بے عزتی کرتا رہا۔ وہ کڑھ کر ناشتہ کرتا رہا۔ یہ اس بات کی نشانی تھی کہ اب حارش عالم کو سنجیداً غصہ آ گیا ہے تب طلحہ کو بھی بریک لگ گئی اور وہ جلدی جلدی ناشتہ ختم کرنے لگا۔ لیکن حارش پھر بھی اس سے پہلے ہی بائیک باہر نکال چکا تھا اور جب تک وہ تالے لگا کر باہر آیا وہ جا چکا تھا۔ یعنی آج آفس جانے کے لیے بس یا رکشے کے دھکے کھانے تھے۔ خیر اس نے چابیاں پڑوس میں دیں تاکہ ماسی آ کے صفائی وغیرہ کر جائے اور خود بھی اللہ کا نام لیتا آفس چل دیا۔

ض……..ض……..ض

یہ دو لڑکے مہینہ بھر پہلے ہی یہاں شفٹ ہوئے تھے۔ ان کے ساتھ کوئی لیڈیز یا بچے وغیرہ نہیں تھے۔ یعنی دونوں چھڑے چھانٹ کنوارے تھے، اور ایک نمبر کے بدتمیز، نالائق اور چھچھورے۔ خیر اسے تو آج تک کچھ نہیں کہا مگر آپس میں ان دونوں کی گفتگو اور مذاق اس قدر بھونڈے ہوتے تھے کہ وہ بعض دفعہ کانوں کو ہاتھ لگانے لگتی۔ صبح ان کی بک بک اس نے ساری سنی تھی اور پھر جب وہ چابیاں دینے آیا تو اسے ہنسی آ گئی۔

آج اس نے بڑے نمونے کو خفا کر دیا تھا اور سزا کے طور پر اس نے اپنی بائیک پر اسے لفٹ نہیں دی تھی۔ ویسے یہ بھی سچ تھا کہ یہ طلحہ نام کا نمونہ ایک نمبر کا کام چور اور پیٹو تھا۔ کھانے کو جو مرضی دے دو، سب ہضم اور پکانے کی باری میں اسے یہ کام خالصتاً عورتوں کا لگتا تھا۔ دوسرا بے چارہ صبح شام عورتوں کی طرح کچن بھی سنبھالتا اور نوکری بھی کرتا۔ کسی دن وہ لیٹ ہو جاتا تو کھانا بازار سے آ جاتا تھا مگر وہ پیٹو نہیں ہلتاتھا۔ پتہ نہیں یہ شخص کیسے برداشت کرتا ہے ایسے انسان کو….؟ اسے تو یہ بھی نہیں علم تھا ان دونوں میں رشتہ کیا ہے اور ان کا کوئی آگے پیچھے بھی ہے یا نہیں۔

مئی کا آغاز تھا اور گرمی اچھی خاصی شروع ہو جاتی تھی اس لیے شام کو صحن میں بیٹھنا سب کو اچھا لگتا تھا۔ پھر ان کے صحن میں دو تین درخت تھے جن کی ہوا میں بیٹھ کر سکون ملتا تھا، اور وہ سب شام کی چائے یہیں بیٹھ کر انجوائے کرتے تھے۔ اس وقت بھی نرمین کے علاوہ وہ سب چائے پی رہے تھے۔ نرمین کچن میں شام کے کھانے کی تیاری کر رہی تھی، تب ڈور بیل ہوئی۔ باہر ان دونوں میں سے ایک نمونہ تھا جو چابی لینے آیا تھا۔ ابو نے اخلاقاً اسے بھی چائے کی دعوت دی تھی۔

”تھینک یو سو مچ انکل! مگر اس وقت گرمی سے برا حال ہے۔ آپ پلیز انجوائے کریں ٹی۔“ واہ بھئی واہ، یہ لوگ اتنے مہذب انداز میں بھی بول سکتے ہیں۔ بڑی حیرت کی بات ہے۔ یہ یقینا حارش تھا۔ اگر طلحہ ہوتا تو کبھی انکارنہ کرتا۔ اسے اپنی بات سوچ کر خود ہی ہنسی آ گئی اور کچھ دیر بعد ہی ادھر آوازیں آنا شروع ہو گئی تھیں۔

”حارش یار! چائے تو پلا دو، سچ سر میں شدید درد ہے۔“ پھر وہی پیٹو، جواباً کوئی آواز نہیں آئی تھی۔ شاید وہ اب تک ناراض تھا۔

”تھینک یو برادر۔“ یعنی چائے بھی اسی بے چارے نے بنائی تھی۔ کچھ دیر خاموشی رہی، پھر طلحہ کی پریشانی بھری آواز آئی تھی۔

”حارش! یہ کیا ہوا تجھے، او گاڈ یہ ہوا کیا ہے….؟“

”ایکسیڈنٹ….“ مدھم آواز گونجی۔

”کیا اور تو مجھے اب بتا رہا ہے، کب ہوا؟ اور زیادہ تو نہیں لگی چوٹ۔“ فکر، پریشانی، دکھ، ہر احساس نمایاں تھا آواز میں۔

”صبح ہی ہو گیا تھا، آج آفس گیا ہی نہیں ہاسپٹل تھا، وہاں سے گھر آ گیا۔“

”حارش‘ سارا دن تو اتنی تکلیف برداشت کرتا رہا اور مجھے فون تک نہ کیا، اتنا بُرا ہوں میں!“ وہ روہانساہوگیا۔

”یار طلحہ! ایسا نہیں ہے۔ میں نے سوچا تو پریشان ہو گا۔ دوپہر میں آفس سے بھاگے گا گرمی میں، بس اس لیے۔“

”تجھے میری اتنی فکر ہے اور میں کتنا خودغرض اتنی تکلیف کے باوجود چائے بھی تو نے بنائی، تو اب تو مجھے بتا سکتا تھا ناں۔ حارش یہاں کون ہے ہمارا۔ ایک دوسرے کے علاوہ۔ پڑوس بھی نیا ہے۔ کون جانتا ہے ہمیں۔ ہم نے خود ہی ایک دوسرے کا خیال رکھنا ہے۔ آئندہ تو نے ایسے کیا ناں تو میں گھر چھوڑ کے چلا جاﺅں گا، پھر سڑنا اکیلے۔ اس محلے میں تو کوئی ہم جیسوں کو پانی کا بھی نہ پوچھے۔ بیماری میں تڑپ تڑپ کے مر جائیں گے اور کسی کو خبر بھی نہ ہو گی۔“ کتنا جذباتی ہو رہا تھا وہ۔

”یو نو طلحہ! میں کبھی کسی سے بھی کوئی امید وابستہ نہیں رکھتا۔ انسانوں سے امیدیں باندھنا چھوڑ دی ہیں میں نے۔ پھر چاہے وہ پڑوسی ہوں یا اپنے اور ویسے بھی اس جہاں میں اپنا ہے ہی کون….؟ تنہا آئے تھے، تنہا چلے جائیں گے۔“ اس کا جواب پہلے والے سے بھی زیادہ چھو لینے والا تھا۔

”یعنی تو مجھے بھی ان اپنوں کی کیٹیگری میں کھڑا کر رہا ہے۔“ طلحہ بُرا مان گیا۔

”ایسانہیں ہے طلحہ! تو اچھی طرح جانتا تھا، میری زندگی کے ہر باب کو…. پھر تجھے اتنا اندازہ بھی ہو گا کہ میں نے اپنا ناطہ تعلق ختم کر ڈالا ہے سب سے، اور تو اگر میرے سامنے بیٹھا ہے تو صرف اس لیے کہ میں تجھے اور پھوپھو کو ان جیسا نہیں سمجھتا۔“

”اچھا چل دفع کر۔“ طلحہ نے اس کا موڈ آف دیکھ کر کہا۔

”تو ریسٹ کر۔“ اس نے حارش کو پکڑ کر کھڑا کیا۔ اس کے لیے صحن میں چارپائی ڈالی، بستر لگایا۔

”چل لیٹ جا، میں تیرے لیے کچھ لاتا ہوں کھانے کو۔“

”طلحہ! مجھے بھوک نہیں ہے یار! تو صرف اپنے….“

”اچھا بس، مجھے پتہ ہے۔ اب خوامخواہ پرانی باتوں کو ذہن پر سوار مت کرنا۔“ وہ اچھی طرح جانتا تھا کہ ان کے ذکر پر وہ کس قدر ڈسٹرب ہوجاتا تھا۔ حارش نے اسے کوئی جوا ب نہیں دیا تھا، بس آنکھیں موند لیں۔ ذہن خودبخود ہی پیچھے چلا گیا۔

ض……..ض……..ض

”اُف او…. ایک تو یہ منحوس بچہ ہر وقت ندیدوں کی طرح میر بچوں کو کھاتے پیتے دیکھتا ہے۔ چار دن ماں کے گھر رہنے کیا آ گئی جان عذاب میں آ گئی میری۔ اللہ جانے بھابی اس عذاب مسلسل کو اپنے باوا کے گھر ہی کیوں چھوڑ کر نہیں آئیں۔“ دس سال کے اس معصوم بچے کو دیکھتے ہی ثمینہ باجی بولنے لگ گئیں اور شگفتہ آنکھوں میں آنسو بھرے اس بچے کا ہاتھ تھامے اندر آئیں اور اسے پٹخ دیا۔

”کتنی بار منع کیا ہے تجھے مت نکلا کر باہر۔ جو چاہیے مجھے کہہ دیا کرمیں یہیں لا دوں گی، مگر تو نہیں مانتا ناں میری۔“ ان کا غصہ اس معصوم پر نکلا تھا۔ دو تھپڑ اور ہزاروں دفعہ کی ڈانٹ اسے رُلا گئی اور وہ بے چارہ بیڈ پر اوندھا لیٹ گیا۔ خود وہ باہر چلی گئی تھیں۔ کتنی دیر بعد کمرے میں آئیں تو وہ اسی طرح لیٹا تھا۔ ان کا دل بر آیا۔ روتے روتے سو گیا۔ کیسی ماں تھیں وہ….؟ ایک طرف وہ معصوم سارے گھر والوں کی پھٹکار سہتا تھا، پھر رونے کوماں کا آنچل بھی نصیب نہ ہوتا۔ وہ کٹھور ہو جاتیں اور نہ چاہتے ہوئے بھی سارا قصور اس کا ہی نکال دیتیں۔ زیادہ غصہ آتا تو دو چار لگا دیتیں۔ ایسے میں وہ بالکل تنہائی پسند ہوتا جا رہا تھا۔ اس گھر میں صرف ایک ماں کا رشتہ ہی تو سگاتھا، ورنہ تو ہر رشتہ سوتیلا تھا، حتیٰ کہ اس کے چھوٹے بھائی بہن تک اسے سوتیلا کہتے تھے، آخر تھے جو سوتیلے۔

اعظم علی سے ان کا دوسرا نکاح تھا اور حارش ان کے پہلے شوہر سے تھا۔ اعظم علی کی پہلی بیوی سے اولاد نہیں تھی اور صرف اولاد کی وجہ سے انہوں نے شگفتہ سے دوسرا نکاح کیاتھا۔ ان کے پہلے شوہر کا انتقال ہو گیا تھا اور وہ ایک بچے سمیت ماں باپ کے گھر بیٹھی تھیں۔ لیکن بھابیوں نے ان کا وقت گزارنا عذاب کیا ہوا تھا۔ پھر جب اعظم علی سے نکاح ہوا تو انہوں نے سوچا شاید ان کے برے دن ختم ہوئے لیکن حارش کا مسئلہ تھا۔ نانا، نانی معصوم نواسے کو رکھ بھی لیتے لیکن ماموں، ممانیاں بالکل راضی نہ تھیں۔ دوسرا حارش کو اعظم علی نے خود بھی کہہ دیا تھا وہ اگر شگفتہ کے ساتھ آ جائے گا تو ہمیں کوئی مسئلہ نہ ہو گا۔ شگفتہ نے سکھ کا سانس لیا، لیکن اعظم کے ماںباپ اور بہن بھائیوں نے حارش کو دل سے قبول نہ کیا۔ ان کا رویہ بہت سرد اور روکھا تھا۔ وہ حارش کو اپنے سامنے تک بیٹھا برداشت نہ کرتے تھے۔ اعظم علی البتہ اکثر اس کے لیے باہر سے کوئی چیز لے آتے۔ کبھی کبھار پیار سے بلا لیتے تھے لیکن ان کے رویے میں بھی سوتیلا پن نمایاں ہوتا تھا۔ ایسے میں ان کا دل کٹ جاتا۔ سگے نانا، نانی، ماموں نے نہیں رکھا تو پھر ظاہر ہے کہ یہاں تو رشتہ سوتیلا تھا۔

حارش یہاں آ کر بہت گم صم رہنے لگا تھا۔ ان کی توجہ بھی کم ہو گئی تھی۔ سارا دن کام میں گزر جاتا تھا۔ بھرا پُرا گھر تھا۔ صبح سے کام میں لگتیں تو شام میں بھی فارغ نہ ہوتیں۔ پھر تھوڑی دیر حارش کے ساتھ گزارتیں۔ رات کو وہ اعظم کی اماں کے کمرے میں سوتا تھا۔

سال یوں ہی گزر گیا۔ حارش سب کے رویے محسوس کرتا لیکن جب ماں کا آنچل ملتا تو سب بھول جاتا۔ لیکن جب اعظم علی کی پہلی اولاد ہوئی تو حارش مزید تنہائی کا شکار ہو گیا۔ اعظم علی کبھی کبھار جو توجہ اسے دے دیتے تھے اب وہ بھی ان کی آنکھوں میں چبھنے لگا۔ کیونکہ اب اللہ نے انہیں بیٹا عطا کر دیا تھا۔ وہ تمام گھر والے اس معصوم بچے کو مزید تکلیف دیتے اور شگفتہ کی توجہ بھی اب اس پر سے بالکل ختم ہو گئی۔

گھر کے کام اور ننھے ریان میں لگ کر وہ حارش کو خود سے بہت دور محسوس کرنے لگی تھیں۔ انہیں اپنے معصوم کی فریاد اور شکوہ کرتی نگاہیں بے کل کرتیںاور اگر کبھی ریان سے ہٹ کر وہ حارش کے پاس بیٹھ جاتیں اور ننھا رونے لگ جاتا تو اس کی ساس بہت زیادہ برا مناتیں۔ حد تو جب ہو جاتی جب وہ ریان کی وجہ سے حارش کو مارنے بھی لگ گئی تھیں اور یہ بات ان کا دل چیر دیتی۔ انہوں نے حارش کو سمجھایا بھی تھا کہ وہ زیادہ وقت کمرے میں گزارا کرے۔ مگر وہ بچہ تھا ہنسنے کھیلنے کو مچلتا تھا۔ کبھی ریان کے پاس آ بیٹھتا تو دادی، پھپھو ڈانٹ کر اٹھا دیتیں اور وہ آنکھوں میں آنسو لیے کمرے میں جاتا اور لیٹ کر رونے لگتا۔ اسے دل کا بوجھ ہلکا کرنے کا یہ ہی ایک طریقہ آتا تھا۔

اسکول سے شکایت آئی تو اعظم علی نے اسے ڈانٹا بھی اور مارا بھی۔ اس دن وہ بھی رو دی تھیں۔ شاید ان کے آنسوﺅں کی وجہ سے اعظم نے اسے ٹیوشن ڈال دیا۔ آفٹر آل شگفتہ بیگم کی وجہ سے آج وہ صاحب اولاد تھے۔ اتنی تو قدر تھی انہیں اپنی بیوی کی۔ ٹیوشن کیا رکھی کہ حارش اب بالکل بھی ان کے پاس نہیں رہتا تھا۔ اسکول سے مدرسے اور شام میں ٹیوشن، رات کو آتے ہی سو جاتا۔ اکثر اب وہ رات میں کھانا بھی نہیں کھاتا تھا۔ گھر کا کوئی فرد یہ بات محسوس کرے نہ کرے انہیں تو پتہ تھا ناں کہ ان کا بچہ بھوکا سویا ہے۔ وہ اپنے آنسو پی کر رہ جاتیں۔ اتنی بے قدری تھی ان کے بچے کی۔ اگر یہ لوگ سمجھ بوجھ والے ہوتے تو حارش کو آنکھوں پر بٹھا کر رکھتے کہ اس کے نصیب سے ہی ان کے سونے گھر میں بچے کے قلقاریاں گونجی ہیں۔ یہ اس قدر جاہل لوگ تھے کہ بس۔ دوسری طرف ان کے اپنے ماں باپ، بھائی بھابیاں ان کے بیٹے کی شکل دیکھنے کو راضی نہ تھے۔ آخر وہ کیا کرتی….؟ حارش کا کیا مستقبل ہو گا….؟ یہ سوچ سوچ کر گھلتی رہتیں۔

وقت تیزی سے گزر رہا تا اور جیسے جیسے حارش بڑا ہو رہا تھا اتنا ہی حساس ہو رہا تھا، لیکن پے درپے چار بچوں کی پیدائش نے ان کو ضرورت سے زیادہ مصروف کر دیا تھا، اور جیسے جیسے بچوں کو شعور آ رہا تھا وہ بھی حارش سے دور ہوتے جا رہے تھے۔ حارش چوری چھپے ان کے ساتھ کھیلتا، خوب خوش ہوتا، مگر اب ان کے ذہنوں میں بھی یہ بات بٹھا دی گئی تھی کہ حارش سے ان کا کوئی رشتہ نہیں ہے اور وہ ان کا سوتیلا بھائی ہے۔ یہ بات ریان نے سب سے پہلے سیکھی۔ اب وہ بھی حارش کو دیکھتے ہی چڑجاتا اور اگر وہ مخاطب کرتا تو بدتمیزی سے پیش آتا۔ پہلے پہل انہوں نے ریان کو پیار سے سمجھایا مگر اس پر اثر نہ ہوا کہ اس کی فیور میں سارا خاندان تھا۔ آخر انہوں نے حارش کو ہی منع کر دیا اور پہلی بار انہوں نے حارش کے منہ سے کوئی ایسی بات سنی تھی کہ اندازہ ہو گیا کہ صرف گھر والوں سے ہی نہیں خود اپنی ماں سے بھی وہ بدگمان ہو چکا ہے۔

”آپ کو میری ضرورت نہیں تھی تو آپ مجھے مار دیتیں۔ آج مجھے اتنی اذیت نہ سہنی پڑتی۔“ کتنے آنسو اترے تھے اس کی آنکھوں میں، مگر اب اس نے آنسوﺅں کو پینا سیکھ لیا تھا۔ اس دن کے بعد اس نے ماں کو مخاطب تک کرنا چھوڑ دیا۔ اس کا میٹرک کا سال تھا لیکن وہ دیکھ رہی تھیں کہ وہ اب سارا دن باہر رہتا تھا۔ کہاں جاتا ہے؟ کیا کرتا ہے؟ انہیں علم نہ تھا۔ پھر آہستہ آہستہ اس نے رات میں بھی آنا کم کر دیا تو وہ پریشان ہوئیں، لیکن اس کا اظہار وہ کس سے کرتیں کہ اعظم علی نے پھر اسے مارنا پیٹنا تھا۔انہیں پرواہ کب تھی۔ ظاہر ہے وہ صرف ان کا بیٹا تھا۔ یوں بھی اپنے چار بچوں کے بعد حارش کو وہ کچھ نہیں سمجھتے تھے۔ اگر وہ اس کی ضروریات پوری کرتے تھے تو صرف شگفتہ کی وجہ سے، ورنہ گھر والوں کے کہنے میں آ کر وہ کب کا اسے گھر سے پھینک چکے ہوتے۔

اس کے ایگزام کے لیے فیس جمع کرانی تھی لیکن پتہ نہیں وہ گھر کیوں نہیں آ رہا تھا۔ کہیں ایسا نہ ہو اس نے اسکول چھوڑ دیا ہو….؟ غلط دوست نہ بنالیے ہوں….؟ جانے کیسے کیسے وہم ہر وقت پریشان کر کے رکھتے تھے۔

آج کئی دن کے بعد وہ آیا تھا۔ دوپہر کا وقت تھا۔ تقریباً سب لوگ اپنے اپنے کمروں میں تھے۔ دروازہ انہوں نے ہی کھولا تھا۔ اسے دیکھتے ہی جان میں جان آئی۔ لیکن وہ اس سے یہاں کوئی بات نہیں کرنا چاہتی تھیں اس لیے ہاتھ پکڑ کر اسے اپنے کمرے میں لے آئیں۔

”کہاں تھے تم اتنے دن سے؟ اور کن لوگوں میں رہنے لگے ہو؟ جانتے ہو میں کتنی پریشان تھی۔“

”آپ کو بھی فکر ہوتی ہے میری….؟ کتنا کاٹدار لہجہ تھا۔

”حارش! زبان درازی مت کرو۔ آج کے بعد تم مجھے بتائے بنا کہیں نہیں جاﺅ گے۔ تمہارے پیپرز ہونے والے ہیں اور تمہیں پرواہ….“

”اس کی پرواہ ہے مجھے لیکن میں اب آپ کے شوہر کا مزید احسان لینا نہیں چاہتا اسی لیے میں نے خود اپنا بوجھ اٹھانا سیکھ لیا ہے۔ آپ برائے مہربانی میری فکر چھوڑ دیں اور صرف اپنے بچوں کی فکر کریں۔ میں اب الحمدللہ اپنا خیال رکھ سکتا ہوں اور میں آپ کو صرف یہ ہی بتانے آیا تھا کہ اب میں یہاں نہیں رہوں گا۔ اپنے کپڑے اور کتابیں اٹھانی تھیں، سو اس لیے آیا تھا۔“ اس نے اپنی بات مکمل کی اور اٹھ کر اپنی چیزیں سمیٹنے لگا۔ بُت بنی شگفتہ کی طرف دیکھا تک نہیں۔

”تم اتنے بڑے ہو گئے ہو حارش کہ اپنے فیصلے خود کر لو۔“

”بڑا تو میں اسی دن ہو گیا تھا جس دن اعظم علی کا بیٹا اس دنیا میں آیا تھا،بس اب تو آپ کو علم ہوا ہے۔ اتنے سال ہو گئے ہیں آپ نے کبھی میرے بارے میں سوچا بھی ہے۔ میں اپنے فیصلے خود ہی کرتا آ رہا ہوں۔ آپ کو آج خیال آیا ہے۔“ اس نے تمام چیزیں اٹھائیں، ان کو جواب دیا اور پھر بنا ان کی شکل دیکھے وہ تیزی سے باہر نکل گیا۔ وہ گم صم کھڑی تھیں جب وہ نکلا تو تیزی سے اس کے پیچھے لپکیں لیکن تب تک وہ دروازہ کراس کر گیا تھا۔ وہ وہیں ڈھے گئیں اور رو پڑیں۔

ض……..ض……..ض

جاری ہے۔۔۔۔۔۔

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

ڈھل گیا ہجر کا دن نادیہ احمد آخری قسط

۔ ڈھل گیا ہجر کا دن نادیہ احمد قسط نمبر12 ابھی کچھ دن مجھے میری …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے