سر ورق / ناول / ساڈا چڑیا دا چنبا..نفیسہ سعید..قسط نمبر 9

ساڈا چڑیا دا چنبا..نفیسہ سعید..قسط نمبر 9

ساڈا چڑیا دا چنبا

نفیسہ سعید

قسط نمبر 9

اپنے ہاتھ میں پکڑے اس سبز پاسپورٹ کو اس نے کئی بار الٹ پلٹ کر دیکھا، کوئی دس بار اندر سے کھول کر اپنی تصویر دیکھی نبیرہ احتشام جانے کتنی بار اس نام کو دل ہی دل میں دہرایا پھر بھی اسے یقین ہی نہ آیا یہ اس کا اپنا پاسپورٹ ہے جو آج دو ماہ کی خواری کے بعد اس کے ہاتھ میں تھا، جس کے خاطر اس نے پتا نہیں کتنے دھکے کھائے تھے، کیسی کیسی نظروں کا سامنا کیا تھا بے یقینی کی اس کیفیت میں اس نے اپنے ہاتھ پر چٹکی بھی کاٹ کر دیکھ لی، یقینا یہ پاسپورٹ اس کا اپنا ہی تھا۔

”تم اگر دیس واپس جانا چاہو تو میں ٹکٹ اور ویزا لگوا دوں گا بصورت دیگر تمہیں تمہارا پاسپورٹ بھی نہیں ملے گا اور میں دیکھوں گا بغیر پاسپورٹ کے تم ہمارے ملک میں کس طرح رہ پاﺅ گی، میں یہاں تمہارا جینا دشوار کر دوں گا۔“

بڑے کروفر کے ساتھ بولے گئے فرعونی الفاظ اس کی سماعت میں تازہ ہو گئے۔

”کاش سکندر حیات آج تم میرے سامنے ہوتے اور میں تمہیں بتا سکتی کہ کس طرح میں نے تمہارے منہ سے نکلے ہوئے تمہارے الفاظ کو جھوٹ ثابت کر دیا آج میں ابوذر کے ساتھ تمہاری ہی سرزمین پر موجود ہوں اور بالکل صحیح سلامت، تمہارے کمرے کے کسی لاک میں رکھا ہوا میرا پاسپورٹ اب کاغذ کے ایک حقیر ٹکڑے سے زیادہ کوئی اہمیت نہیں رکھتا۔“

اپنے پاسپورٹ کو مضبوطی سے تھام کر وہ اٹھ کھڑی ہوئی، باہر گاڑی میں فردوس کے ساتھ شمریز بھی موجود تھا، نبیرہ نے بنا کوئی بات کئے اپنا پاسپورٹ فردوس کے ہاتھ میں دے دیا، پاسپورٹ کا حصول کامیابی کی طرف بڑھنے والے راستے پر رکھا جانے والا پہلا قدم تھا اسی سوچ سے اس کی آنکھیں نم ہو گئیں۔ بے شک ایک طویل جدوجہد کے بعد وہ سبز پاسپورٹ کی مالک بن چکی تھی اس پاسپورٹ نے اسے پاکستانی ہونے کی شناخت عطا کر دی تھی وہ شناخت جو اس کےلئے باعث فخر تھی ورنہ تو وہ بے نام نشان تھی۔

”پاسپورٹ اچھی طرح اپنے ہینڈ بیگ میں رکھو میں تمہیں اسٹیشن چھوڑ دیتا ہوں تم وہاں سے سیانگ چلی جاﺅ کیونکہ مجھے ابھی ایک ضروری کام سے کہیں اور جانا ہے شام کو واپسی میں، میں تمہیں عبدالوہاب کے گھر سے پک کر لوں گا، اپنی رقم اور زیور یاد سے لے لینا اب تمہارا پیسہ خرچ کرنے کا وقت آگیا ہے۔ تمہیں قدم قدم پر پیسوں کی ضرورت پڑے گی اور ہاں اپنے زیور کے ساتھ وہاں سے اکیلی مت نکلنا تم جانتی ہو یہاں نیگرو جگہ جگہ عورتوں کو زدو کوب کرکے لوٹ لیتے ہیں اس لئے فارغ ہوتے ہی میں تمہیں پک کر وں گا۔“ فردوس خان اسے ہر بات اچھی طرح سمجھاتے ہوئے بولاچونکہ آج اس نے ربیعہ کے گھر جانا تھا اس لئے ابوذر اس کے ساتھ ہی تھا، تیس منٹ بعد وہ ربیعہ کے اپارٹمنٹ کے باہر کھڑی کال بیل بجا رہی تھی۔

”کون….؟“ ملائی میں سوال کرتے ہی ربیعہ نے ایک جھٹکے سے دروازہ کھول دیا، بیکنگ کی خوشبو اس کے پورے گھر میں پھیلی ہوئی تھی یہاں بیکنگ کا رواج بہت زیادہ تھا جس کے سبب ربیعہ بھی اچھی خاصی بیکنگ کرنے لگی تھی۔

”آپ کون….“ ربیعہ نے حیرت سے اپنے سامنے کھڑی ملائی عورت کو دیکھا دھوتی، لمبی سی شرٹ سر پر اسکارف بڑے سے چشمہ نے اس کا آدھا چہرہ چھپا رکھا تھا ساتھ ہی ایک تقریباً دو سالہ بچی، کسی سے ملنا ہے وہ پھر بولی۔

”دروازے پر ہی سب سوال کر لو گی یا اندر بھی آنے دو گی۔“

نبیرہ اسے اپنے سامنے سے ہٹاتی اندر داخل ہو گئی۔

”او میرے خدایا یہ تم ہو مائی گاڈ مجھے تو یقین ہی نہیں آرہا۔“

ربیعہ نے بمشکل اپنی آواز کو دباتے ہوئے کہا، وہ نبیرہ کے اندر داخل ہوتے ہی دروازہ لاک کر چکی تھی اگر وہ نبیرہ کی آواز نہ پہچانتی تو کبھی یقین نہ کرتی کہ سامنے کھڑی ملائی عورت حقیقت میں نبیرہ ہے۔

”دوبارہ سکندر نے تنگ تو نہیں کیا تم لوگوں کو۔“

نبیرہ اس سے مل کر اپنا اسکارف اتارتی صوفے پر بیٹھ گئی ربیعہ اس کیلئے جوس لے آئی تھی ابوذر ربیعہ کی بیٹی کے پاس تھا جب اسے سکندر کا خیال آیا جس نے ان دونوں میاں بیوی کو نبیرہ کے مسئلے میں بہت تنگ کیا تھا۔

”ارے ہاں یاد آیا دو دن قبل ہی اس نے عبدالوہاب کو فون کیا تھا۔“ ربیعہ اس کے قریب ہی بیٹھ گئی، نبیرہ کا دل تیزی سے دھڑک اٹھا۔

”کہہ رہا تھا کہ تمہاری اس سے صلح کروا دی جائے۔“

”واٹ….“ ربیعہ کی بات بالکل ہی غیر متوقع تھی، نبیرہ سن کر شاک ہی رہ گئی۔

”واٹ نان سینس طلاق کے بعد صلح بہت ہی بے غیرت آدمی ہے۔“ نبیرہ کی سمجھ میں نہ آیا وہ سکندر کیلئے کون سا ایسا لفظ استعمال کرے جو اس کے گھٹیا ذہن کی درست نشاندہی کر سکے۔

”وہ کہتا ہے اس نے تمہیں طلاق ہی نہیں دی۔“ ربیعہ ہنستے ہوئے بولی۔

پہلی بات کی طرح یہ بھی بالکل ناقابل برداشت بات تھی، جسے سنتے ہی نبیرہ ایک دم غصے میں آگئی۔

”پتا نہیں لوگوں نے مذہب کا اس قدر مذاق کیوں بنا رکھا ہے اور تم لوگ تو اچھی طرح جانتے ہو اس الو کے پٹھے نے مجھے ایک ایک ماہ کے وقفہ سے تین طلاقیں دی، جس کے گواہ اس کی ماں، ایدھا، انکل صالح، عمر، روزینہ، تم، عبدالوہاب سب ہی لوگ ہومیں نے اس کے گھر اپنی عدت کے سوا چارہ ماہ پورے کئے، اب جب میں اس کے منہ پر جوتا مار کر ابوذر کو لے آئی ہوں تو اسے مجھ سے صلح کرنا یاد آگیا بہت خوب کیا بات ہے۔“

”دراصل وہ یہ سمجھتا ہے کہ تم ہمارے پاس ہو اس لئے عبدالوہاب اور مجھے رام کرنے کیلئے وہ یہ چالیں چل رہا ہے سمجھتا ہے اس طرح ہم تمہیں اس سے ملوا دیں گے یہ اس کی گھٹیا ترین چال ہے جس سے ہم سب بھی واقف ہیں تم خوا مخواہ اتنے جوش میں مت آﺅ۔“ ربیعہ نے پیار سے اس کے ہاتھ تھام لئے۔

اس کا بیان کردہ تجزیہ سو فیصد درست تھا صرف ابوذر کے حصول کےلئے سکندریہ سب چالیں چل رہا تھا اپنی ان چالوں سے اسے اب کوئی فائدہ پہنچنے والا نہ تھا کیونکہ نبیرہ اتنی ناسمجھ نہ تھی جو طلاق کے مذہبی تقاضے نہ سمجھتی ۔

”دراصل اس نے طلاق مجھے لکھ کر کورٹ کے ذریعے نہیں دی مجھے لگتا تھا وہ یہ گیم اپنی کسی چال میں ضرور کھیلے گا میں جانتی ہوں اگر آج میں ابوذر اس کے حوالے کر دوں تو وہ مجھے طلاق کے پیپرز بھی دے دے گا بہرحال مٹی ڈالو سکندر اور اس کی کمینی چالوں پر یہ بتاﺅ تم اس وقت میرے ساتھ کے ایل سی سی چل سکتی ہو مجھے شوبھا سے ملنا ہے اور ساتھ ہی ایک آخری بار حماد کو بھی دیکھ لوں پھر پتا نہیں زندگی میں دوبارہ اسے دیکھنا نصیب ہو یا نہ ہو۔“

”پاگل ہو گئی ہو اگر وہاں تمہیں کسی نے دیکھ لیا تو پولیس کے حوالے کر دے گا تمہاری ایف آئی آر درج ہے وہاں کے تھانے میں ہوش کے ناخن لو زیادہ جذباتی مت بنو شوبھا کا نمبر میرے پاس ہے اس سے فون پر رابطہ کر لو اور ہاں کل شفا کا فون آیا تھا وہ عمرہ کرنے گئی ہے تمہارے لئے بہت پریشان تھی میں نے اسے بتا دیا ہے کہ تم خیریت سے ہو یہ نہیں بتایا کہ کس شہر میں ہو بہرحال فردوس خان کے بارے میں بھی بتا دیا ہے ساتھ ہی یہ ہدایت کر دی تھی کہ وہ سب کچھ کسی تیسرے شخص سے شیئر نہ کرے۔“ ربیعہ نے اسے سب کچھ تفصیل سے بتا دیا شام میں نیچے فردوس خان آگیا اس کا فون آتے ہی نبیرہ اٹھ کھڑی ہوئی، ربیعہ نے تمام رقم اور زیور اس کے حوالے کر دیا جسے وہ اپنے بیگ میں محفوظ کر چکی تھی، عبدالوہاب بھی گھر آگیا تھا ان دونوں سے ملتے ہوئے وہ آب دیدہ ہو گئی۔

”تم دونوں نے ہر مشکل گھڑی میں میرا ساتھ دیا خدا تمہیں اس اجر ضرور دے گا اور اب دعا کرنا میں خیر خیریت کے ساتھ یہاں سے نکل جاﺅں۔“ جاتے سمے اس نے ربیعہ کے گلے لگتے ہوئے اس کا شکریہ ادا کیا۔

”ہماری دعائیں ہر وقت تمہارے ساتھ ہیں۔“ عبدالوہاب نے اس کے سرپردست شفقت رکھا۔

”یہ بہت زیادہ تو نہیں مگر کچھ رقم ہے جو ہو سکتا ہے تمہارے کسی کام آجائے ایک بھائی کی طرف سے تحفہ سمجھ کر اپنے پاس رکھ لو۔“

نبیرہ نے عبدالوہاب کے ہاتھ میں تھما لفافہ خاموشی سے لے کر اپنے ہینڈ بیگ کی اندرونی جیپ میں رکھ لیا دونوں میاں بیوی اسے نیچے چھوڑنے آئے جہاں فردوس خان پہلے سے موجود تھا اور پھر روڈ کے آخری سرے تک نبیرہ نے کئی بار پیچھے مڑ کر دیکھا دونوں اپنے اپارٹمنٹ کی عمارت کے باہر روڈ پر کھڑے تھے جب تک گاڑی موڑ نہ مڑ گئی وہ دونوں اسے ہاتھ ہلاتے رہے۔ ربیعہ اور عبدالوہاب اس کے ملائیشیا قیام کی چند اچھی یادوں میں سے ایک تھے وہ ان ہی کے خیالوں میں گم تھی جب اسے فردوس خان کی آواز سنائی دی۔

”تمہارا پاسپورٹ تو بن چکا مگر ابوذر کا ابھی باقی ہے اور یقینا تمہارے پاس اس کا برتھ سرٹیفکیٹ بھی نہیں ہو گا اور وہ ہے بھی ملائی شہری۔“

گاڑی ہائی وے پر آگئی جب فردوس خان نے اپنے سامنے والا مرر سیٹ کرکے اس پر ایک نظر ڈالی، وہ جو پچھلی سیٹ پر بہت ہی آرام دہ حالت میں بیٹھی تھی فردوس خان کے مخاطب کرتے ہی ایک دم سیدھی ہو بیٹھی۔ ابوذر کے پاسپورٹ کا تو اس نے سوچا بھی نہ تھا وہ تو اپنے پاسپورٹ کو ہی فتح و کامرانی کی نشانی سمجھ بیٹھی تھی ایک دشوار ترین مرحلہ تو ابھی باقی تھا جس کا احساس اسے ابھی ابھی فردوس خان کی زبانی ہوا۔

”آپ ٹھیک کہہ رہے ہیں میرے پاس اس کا کوئی بھی کاغذ نہیں ہے یہاں تک کہ میں کسی کورٹ میں یہ بھی ثابت نہیں کر سکتی کہ وہ میرا سگا بیٹا ہے۔“ وہ بے بسی سے بولی۔

”دراصل میں سفارتخانے سے سیدھا اپنے ایک جاننے والے کے پاس گیا تھا، تمہیں نہ سہی مگر مجھے پتا تھا کہ اگلا قدم ابوذر کا پاسپورٹ ہے اس کے بغیر تمہارا ویزا تو لگ جائے گا مگر تمہارے بیٹے کا نہیں میرا یہ جاننے والا پاسپورٹ ایجنٹ ہے میں اس سے ساری بات کر آیا ہوں بغیر برتھ سرٹیفکیٹ کے پاسپورٹ بنانے کی فیس وہ 2000 رنگیٹ لے گا اگر تم افورڈ کر سکتی ہو تو میں اس سے رابطہ کر لوں تاکہ وہ ابوذر کا پاسپورٹ بنوا دے ضرورت ہوئی تو وہ برتھ سرٹیفکیٹ بھی بنوا دے گا۔“

اپنی بات ختم کرکے فردوس خان نے اس کی جانب سوالیہ نظروں سے دیکھا، اس نے دل ہی دل میں حساب لگایا 2000 رنگیٹ کا مطلب پاکستانی تقریباً پینتالیس ہزار روپے، اتنی رقم تو ابھی بھی شاید اس کے پرس میں تھی جو اسے احتشام صاحب نے پیسے بھیجے تھے وہ تو اس نے آج تک ربیعہ سے لئے بھی نہ تھے، باقی اپنی جمع کردہ رقم وہ اب تک خرچ کر چکی تھی، احتشام صاحب کی بھیجی ہوئی رقم کے علاوہ عبدالوہاب کا دیا ہوا لفافہ بھی اس کے پرس میں ہی تھا اور اگر نہ بھی ہوتا تو بھی وہ اپنا زیور بیچ دیتی کیونکہ اسے واپس تو ہر حال میں جانا تھا اور اس کا کوئی بھی زیور ابوذر سے زیادہ قیمتی نہ تھا۔

”کیا سوچنے لگیں؟“ اسے خاموش دیکھ کر فردوس خان نے پھر سے پکارا۔

”کچھ نہیں پیسوں کا حساب لگا رہی تھی آپ اپنے دوست کو فون کر دیں میں اس کی منہ مانگی فیس دوں گی بس وہ کسی بھی طرح مجھے ابوذر کا پاسپورٹ بنوا دے۔“

”ٹھیک ہے ابھی گھر آنے والا ہے تم چل کر کھانا وغیرہ کھاﺅ میں اس سے بات کرتا ہوں تاکہ وہ جلد از جلد ہمیں ابوذر کا پاسپورٹ بنوا دے میں چاہتا ہوں جتنی جلدی ممکن ہو تمہیں یہاں سے نکال دیا جائے اور یہ ہی ہم سب کیلئے بہتر ہے۔“

گاڑی فردوس خان کے گھر کے سامنے رک گئی، اندر جاتے ہی اس نے پرس سے بیس ہزار رنگیٹ نکال کر اسے اپنے اٹیچی کیس میں رکھ کر لاک کر دیا کیونکہ اس پرس میں نہ صرف رقم بلکہ کل زیور بھی تھا جو جانے کس کس جگہ اس کے کام آنے والا تھا بیس ہزار رنگیٹ لے کر وہ فردوس خان کے پاس پہنچ گئی جو کھانا کھانے کے بعد کسی سے فون پر مصروف گفتگو تھا وہ وہیں قریب رکھی کرسی پر بیٹھ کر اس کے فارغ ہونے کا انتظار کرنے لگی۔

”یہ آپ کی مطلوبہ رقم۔“ اس کے فون بند کرتے ہی نبیرہ نے رقم کا لفافہ اس کی سمت بڑھایا۔

”گن لیں پورے بیس ہزار میں پلیز اپنے دوست سے کہیں جیسے بھی ہو جلد از جلد میرا کام کر دے تاکہ ہم یہاں سے نکل سکیں۔“ وہ ملتجی لہجے میں بولی۔

”میری بات ہو گئی ہے تم کل صبح تیار رہنا فراز اور شمریز تمہیں ملایشین ایمبیسی لے جائیں گے جہاں سے ابوذر کا پاسپورٹ بننا ہے۔“

”ملایشین ایمبیسی۔“ وہ خوفزدہ ہو گئی۔

”اگر وہاں کسی نے مجھے پکڑ لیا تو….“

کوئی نہیں پکڑے گا۔ ایسے کیس روز جانے کتنے ہوتے ہیں ایمبیسی والوں کا کیا لینا دینا بہرحال تمہارا بیٹا یہاں کا شہری ہے اس کا پاسپورٹ بھی اسی ملک سے جاری ہو گا کل تمہارے ساتھ اس کا جانا بھی ضروری ہے اسے لڑکوں والے کپڑے پہنا لینا اور یاد سے جاتے ہوئے اس کے بال بھی چھوٹے کروا دینا تاکہ وہ لڑکا نظر آئے ان دونوں کے علاوہ میرا ایک دوست بھی تم لوگوں کے ساتھ ہو گا میں خود پارکنگ میں موجود رہوں گا کسی بھی خطرے کو محسوس کرتے ہی وہاں سے نکل آنا اس کے آگے جو ہو گا دیکھا جائے گا۔“

فردوس خان نے تمام باتیں اسے تفصیل سے سمجھا دیں۔

”اب تم جاﺅ جا کر آرام کرو اور صبح ٹائم پر ہی اٹھ جانا تم یہاں سے فراز اور شمریز کے ساتھ نکل جانا میں اپنے ایک دوست کے ساتھ تم سے پہلے ہی وہاں پہنچ جاﺅں گا پارکنگ میں موجود رہوں گا تاکہ خدا ناخواستہ اگر کوئی خطرے والی بات ہو تو تمہیں وہاں سے نکالنا آسان رہے اور ہاں وہ پاسپورٹ ایجنٹ بھی تمہیں مل جائے گا، اس نے اپنا مرتب کردہ پروگرام اسے اچھی طرح سمجھا دیا۔

فردوس خان کی دی ہوئی اتنی تسلی کے باوجود وہ ساری رات خوفزدہ رہی خوف کے سبب وہ سوبھی نہ پائی فجر کی نماز پڑھتے ہی تیار ہو کر شمریز اور فراز کا انتظار کرنے لگی ابوذر کو اس نے سوتے میں ہی تیار کر دیا تھا اب وہ فراز اور شمریز کے انتظار میں ایک ایک پل گن کر گزار رہی تھی، 9 بجے شمریز گاڑی لے کر پہنچ گیا پچھلی سیٹ پر فراز کے ساتھ ایک اجنبی شخص موجود تھا جسے اس نے آج پہلی بار دیکھا تھا وہ خاموشی سے گاڑی کا فرنٹ ڈور کھول کر شمریز کے ساتھ والی سیٹ پر بیٹھ گئی، راستہ میں وہ تینوں آپس میں کچھ اپنی ہی باتیں کرتے رہے جس پر نبیرہ نے کوئی دھیان نہ دیا اس وقت وہ مکمل طور پر ٹینشن میں تھی اور دل ہی دل میں آیت الکرسی کا ورد کر رہی تھی کچھ دیر بعد گاڑی رک گئی اس نے کھڑکی سے باہر جھانکا بالکل سامنے ملایشین ایمبیسی کی پرشکوہ عمارت کھڑی تھی۔

”تم اندر چلو ہم تینوں تمہارے ساتھ ہی ہوں گے اگر کہیں خطرہ محسوس کرو تو فوراً وہاں سے نکلنے کی کرنا۔“ شمریز نے عمارت کے اندر داخل ہونے سے قبل اسے ہدایت کی اس نے صرف اثبات میں سر ہلا دیا اس کا حلق خشک ہو گیا کچھ بولا ہی نہ گیا۔

وہ آہستہ آہستہ چلتی ایک بڑے سے ہال نما کمرے میں داخل ہو گئی، شمریز اور اس کا دوست کچھ فاصلہ رکھتے ہوئے اس کے ساتھ تھے جبکہ فراز جانے کہاں تھا، گیٹ کے قریب ہی جینز ٹی شرٹ میں چھوٹی چھوٹی داڑھی والا نوجوان کھڑا تھا، جو انہیں دیکھتے ہی تیزی سے ان کی جانب لپکا غالباً وہ ہی پاسپورٹ ایجنٹ تھا اسے اپنی طرف آتا دیکھ کر نبیرہ رک گئی۔

”نبیرہ احتشام۔“ وہ اس کے قریب آکر آہستہ سے بولا نبیرہ نے صرف اثبات میں سر ہلا کر اس کے اندازے کی تصدیق کی، اس کے رکتے ہی شمریز بھی اپنی جگہ تھم گیا۔

”آج تمہارے بچے کا یہاں آنا بہت ضروری تھا کیونکہ اس کی تصویر چاہئے تھی ایک دفعہ تم سب کام کروا جاﺅ پھر تمہیں دوبارہ نہیں آنا پڑے گا، آگے کے سب کام میں خود ہی کر لوں گا صرف اس کی تصویر کا مسئلہ تھا جس کےلئے تمہیں آنا پڑا مکمل اعتماد کے ساتھ کاﺅنٹر پر جاﺅ گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے ”اوکے اوکے“ وہ آہستہ سے کہہ کر دھڑکتے دل کے ساتھ کاﺅنٹر کی جانب بڑھ گئی۔

”مجھے اپنے بیٹے کا پاسپورٹ بنوانا ہے۔“ کاﺅنٹر پر موجود نوجوان سے اس نے ملائی زبان میں اپنا مدعا بیان کیا راستے میں آتے ہوئے وہ ابوذر کے بال بھی چھوٹے کروا لائی تھی نوجوان نے بنا کوئی جواب دیئے خاموشی سے اس کے ہاتھ میں نمبر کا ٹوکن تھما دیا جسے لے کر وہ اندر انتظار گاہ میں رکھی کرسیوں میں سے ایک پر جا بیٹھی، شمریز یا فراز دونوں میں سے کوئی بھی اس کے آس پاس موجود نہ تھا جانے کہاں تھے تقریباً پندرہ منٹ بعد اس کا نمبر کال ہوا، وہ جلدی سے اٹھی اور نمبر کال کرنے والی لڑکی کے کاﺅنٹر کے قریب جا پہنچی، لڑکی نے اس کی جانب دیکھتے ہوئے سوال کیا۔

”کس کا پاسپورٹ بنوانا ہے؟“ اس کا یہ سوال ملائی میں ہی تھا وہاں کہیں انگلش نہیں بولی جاتی تھی۔

”اپنے بیٹے کا۔“ نبیرہ نے ابوذر کو اس کے سامنے کر دیا۔

”اوکے ابھی جا کر سامنے سے اس کی ایک تصویر بنوالاﺅ۔“ لڑکی کی ہدایت سنتے ہی اس نے کاﺅنٹر چھوڑ دیا اور تیزی سے باہر کی جانب چل دی۔

”کیا ہوا؟“ باہر نکلتے ہی جانے کہاں سے شمریز یکدم اس کے سامنے آگیا۔

”کچھ نہیں ابوذر کی تصویر بنوانے جا رہی ہوں۔“ وہ سامنے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے آگے کی جانب بڑھ گئی۔ کچھ ہی دیر بعد وہ تصویر بنوا کر واپس پہلے کاﺅنٹر پر آگئی جہاں موجود لڑکی کمپیوٹر پر مصروف تھی۔

”تصویر۔“ اس نے نبیرہ کی طرف دیکھ کر اپنا ہاتھ آگے بڑھایا، نبیرہ نے تصویر تھما دی۔

”بچے کا نام۔“ اس کی انگلیاں کی بورڈ پر چل رہی تھیں۔

”ابوذر۔“ نبیرہ نے حلق سے تھوک نگلا، غالباً لڑکی ابوذر کا کمپیوٹر ڈیٹا چیک کر رہی تھی۔

”باپ کا نام۔“ ظاہر ہے یہ سوال تو پوچھا جانا تھا۔

”سکندر حیات۔“ جواب دیتے ہوئے نبیرہ کا حلق اندر تک کڑوا ہو گیا۔

”ماں کا نام۔“ لڑکی مسلسل کمپیوٹر پر مصروف تھی

”نبیرہ احتشام۔“ اس نے آہستہ سے جواب دیا۔

”برتھ سرٹیفکیٹ۔“ بالآخر لڑکی نے وہ سوال بھی کر دیا جس سے نبیرہ خوفزدہ تھیں۔

”اوہ وہ تو میں بھول آئی۔“ پرس میں ہاتھ ڈال کر چیک کرنے کے بعد اس نے فردوس خان کی ہدایت کے مطابق جواب دیا۔

”ضروری ہے تو کل لیتی آﺅں گی۔“ لڑکی بنا کوئی جواب دیئے کمپیوٹر پر مصروف رہی۔

کچھ سیکنڈ بعد اس نے اپنا سر اٹھا کر نبیرہ کے چہرے پر ایک نظر ڈالی جانے اس نظر میں کیا تھا جس نے نبیرہ کو تھوڑا سا خوف زدہ کر دیا، لڑکی نے پاس رکھے فون سے کوئی نمبر ملایا اور صرف ایک سیکنڈ کوئی بات کی جو نبیرہ سن نہ سکی، وہ یہ سب کام بظاہر لاپرواہی سے کر رہی تھی مگر اس کی ہر حرکت نبیرہ کو کچھ غلط ہونے کا احساس دلا رہی تھی اس کی چھٹی حس اسے خطرے کا سگنل دے رہی تھی۔

اسے محسوس ہوا جیسے کچھ ہونے والا ہے وہ تھوڑی سی الرٹ ہو گئی یہاں وہاں نظر دوڑائی شمریز انتظار گاہ میں ہی موجود تھا اس کی تھوڑی سی تسلی ہو گئی لڑکی کے فون رکھتے ہی، کچھ سیکنڈ میں ہی کمرے میں دو، تین افراد داخل ہوئے اور تیزی سے چلتے ہوئے سیدھے اسی کاﺅنٹر پر چلے آئے جہاں نبیرہ پہلے سے موجود تھی، اسے اپنے آس پاس خطرے کی گھنٹیاں صاف سنائی دے رہی تھیں یقینا وہ پھنس چکی تھی ان دونوں مردوں کے چہرے پر چھائی کرختگی نے اس کی سانس بند کر دی، رفتہ رفتہ اس کے پاﺅں تلے سے زمین سرک رہی تھی وہ سمجھ گئی کچھ دیر قبل کاﺅنٹر پر موجود لڑکی کی کال کے نتیجہ میں ہی یہ مرد کمرے میں داخل ہوئے ہیں۔

ان کے تیور دیکھتے ہی نبیرہ کو احساس ہوا کچھ غلط ہو گیا وہ دونوں افراد کاﺅنٹر کے دوسری جانب چلے گئے لڑکی کے ہاتھ سے تصویر لے کر کمپیوٹر سے دو تین بار چیک کیا ساتھ ہی ساتھ وہ آپس میں کچھ ڈسکس بھی کر رہے تھے۔

”تمہارا پاسپورٹ کہاں ہے؟“ ان میں سے ایک مرد سیدھا ہوا اور ڈائریکٹ نبیرہ سے سوال کیا وہ اس اچانک سوال کیلئے تیار نہ تھی فوراً ہی گھبرا گئی۔

”میرے پاس کیوں؟“ اپنی گھبراہٹ پر قابو پاتے ہوئے اس نے جواب دیا۔

”تمہارے خلاف کوئی پولیس وارنٹ نکلے ہیں کیا؟“

دوسرے مرد نے کمپیوٹر سے نگاہیں ہٹا کر اس سے سوال کیا۔

”تمہارا کوئی پولیس کیس بھی چل رہا ہے نبیرہ احتشام زوجہ سکندر حیات۔“ ابوذر کے ساتھ ساتھ، یقینا اس کا ریکارڈ بھی چیک کیا گیا تھا اب مزید کوئی بات کرنا بے کار تھی۔

”تمہارے بیٹے کے برتھ سرٹیفکیٹ کی سیریل بلاک ہے، اس کا پاسپورٹ نہیں بن سکتا۔“ اب اس کیلئے وہاں کھڑا رہنا اپنی موت کو آپ دعوت دینے کے مترادف تھا وہ پیچھے کی طرف پلٹی شمریز اس کے عین پیچھے تھا۔

”مجھے کسی بات کا علم نہیں ہے جو کچھ پوچھنا ہے ان سے پوچھو یہ میرے ساتھ ہیں۔“ بدحواسی میں کہتی ہوئی وہ باہر کی جانب بھاگی۔

اور تیز تیز سیڑھیاں اترتی پارکنگ میں داخل ہو گئی، فردوس خان گاڑی اسٹارٹ کرکے اندر ہی بیٹھا تھا اسے گھبراہٹ میں آتا دیکھ کر اس نے پچھلا دروازہ کھول دیا وہ تیزی سے اندر جاگری خوف کے مارے اس کی آواز بند ہو گئی۔

”یہاں سے نکلو فوراً۔“ وہ حلق کے بل چلائی اسے خطرہ تھا کہیںاس کے پیچھے پولیس نہ آجائے ، گاڑی ایک جھٹکے سے مین روڈ پر آگئی غالباً فردوس خان اور اس کے ساتھی ایسی کسی بھی صورتحال سے نبٹنا جانتے تھے، اسے ابھی بھی خطرہ تھا کہیں پولیس ان کا پیچھا نہ کر رہی ہو فردوس خان مختلف راستوں سے گاڑی گزارتا بالآخر گھر پہنچ گیا سارے راستے پولیس کا خوف ان کے ساتھ رہا مگر ایسا کچھ نہ ہوا نبیرہ نے راستے میں ہی فردوس کو ساری بات بتا دی وہ شمریز کےلئے بھی پریشان تھی۔

”تم شمریز کی فکر نہ کرو انشاءاللہ وہ خیریت کے ساتھ وہاں سے نکل آئے گا اس کے ساتھ میرا دوست ملک نواز بھی ہے اس کی کافی جان پہچان ہے سفارتخانے میں، اصل مسئلہ تمہارااور تمہارے بچے کا تھا تم خیریت کے ساتھ وہاں سے نکل آئی ہو اب کوئی اور مسئلہ ہمارے لئے اتنا بڑا نہیں ہے۔“ فردوس خان کی بات درست ثابت ہوئی گھر پہنچنے کے ایک گھنٹہ تک شمریز اور فراز بھی آگئے اس ایک گھنٹہ میں فردوس خان مسلسل اپنے فون پر مصروف رہا وہ کسی شخص کو تلاش کر رہا تھا ان کے آتے ہی نبیرہ جاننا چاہتی تھی کہ شمریز وہاں سے کس طرح نکلا۔

”پانچ منٹ تک میں ان دونوں کو یہ تاثر دیتا رہا جیسے تم میرے ساتھ ہو پھر وہاں ملک صاحب آگئے انہوں نے بتایا کہ میں پاکستان سے کچھ دن قبل آیا ہوں اور مجھے ملائی بالکل بھی سمجھ نہیں آتی آج بھی میں ان کے بیٹے کے ویزے کے سلسلے میں ملک صاحب کے ساتھ ہی ایمبیسی آیا تھا اب جانے وہ انجان لڑکی میرا نام لے کر مجھے وہاں کیوں پھنسا گئی وغیرہ وغیرہ یہ سب سنتے ہی دونوں آفیسرز نے مجھ سے معذرت کی اور تمہاری تلاش میں اپنے بندے دوڑا دیئے میں جانتا تھا اتنے ٹائم میں تم لوگ وہاں سے کافی آگے نکل چکے ہو گے۔“ شمریز نے اس کے وہاں سے نکلنے کے بعد کے واقعات تمام جزئیات کے ساتھ بیان کر دیئے، فردوس خان فون بند کرکے شمریز کی جانب متوجہ ہوا۔

”یہ یہاں سے قانونی طور پر نہیں نکل سکتی۔“

”میں نے آپ سے پہلے ہی کہا تھا اس سلسلے میں کاشف سے بات کر لیں مگر آپ ہی نہ مانے۔“

”ہاں تم نے ٹھیک کہا تھا مگر نہ صرف یہ خود تنہا نوجوان اور ایک خوبصورت لڑکی ہے بلکہ اس کے ساتھ ایک چھوٹا بچہ بھی ہے ان ہی حالات کو دیکھتے ہوئے میں نے کوشش کی تھی یہ بنا کسی دشواری کے آسانی کے ساتھ یہاں سے نکل جائے مگر میری یہ کوشش چونکہ ناکام ہو چکی ہے اس لئے اب مجھے دوسرا راستہ اختیار کرنا ہو گا جو ہے تو غیر قانونی اور مشکل مگر اس کے سوا کوئی اور چارہ بھی نہیں ہے۔“

نبیرہ کو مسلسل نظر انداز کیے وہ دونوں آپس میں ہی گفتگو کر رہے تھے۔

”اور چونکہ یہ کام کاشف سے بہتر کوئی نہیں کر سکتا اسی لئے میں اس سے رابطہ کرنے کی کوشش کر رہا ہوں جیسے ہی میری اس سے بات ہو اگلا لائحہ عمل تیار کرتے ہیں۔ وہ صبح چھ بجے سے جاگی ہوئی تھی سوائے ناشتے میں دو بریڈ کے سلائس اور ایک کپ چائے کے اس نے اب تک کچھ نہ کھایا تھا مگر خوف اور ذہنی پریشانی نے اس کی بھوک و پیاس کو یکسر ختم کر دیا تھا البتہ ابوذر مسلسل ریں ریں کر رہا تھا جس کا صاف مطلب تھا کہ اسے بھوک لگی ہے، فردوس خان نے اپنی مصروفیت کے باوجود ابوذر کے اس مسلسل آہستہ آواز میں رونے کو محسوس کر لیا۔

”تم باہر جا کر کھانا وغیرہ کھاﺅ اور اسے سلا دو۔“ اس کا اشارہ ابوذر کی طرف تھا، نبیرہ فردوس خان کی بات سنتے ہی اٹھ کھڑی ہوئی تھی، ابھی وہ دروازے تک ہی پہنچی تھی کہ اسے پیچھے سے فردوس نے پکارا۔

”اور تم کھانا کھاتے ہی کمرے میں واپس آﺅ تمہارا جو کچھ کرنا ہے اب جلد از جلد کرنا ہے ایسا نہ ہو پولیس تمہیں تلاش کرتی یہاں تک آجائے حالانکہ ایسا ممکن نہیں ہے پھر بھی احتیاط بہت ضروری ہے ویسے بھی اب مزید دیر تمہارے سارے راستہ بند کر دے گی۔“ وہ اثبات میں سر ہلاتی باہر نکل گئی، ابوذر کو کھانا کھلا کر سلاتے ہی وہ واپس اسی کمرے میں آئی جہاں فردوس خان اور شمریز موجود تھے وہ کرسی پر جا کر بیٹھی ہی تھی کہ فردوس خان کا فون بج اٹھا۔

”پاک سرزمین شادباد۔“ قومی ترانے کی خوبصورت دھن کمرے میں پھیل گئی۔

”السلام علیکم۔“ فردوس خان فون پر ہمیشہ سلام ہی کرتا تھا۔

دوسری طرف جو بھی تھا اس کی آواز سنتے ہی فردوس خان کا چہرہ خوشی سے دمک اٹھا کچھ دیر بات کرکے اس نے فون بند کر دیا اس کی یک طرفہ گفتگو سے نبیرہ اندازہ لگا چکی تھی دوسری جانب یقینا کاشف تھا جس کا ذکر ابھی کچھ دیر قبل ہی فردوس خان نے کیا تھا اور جس سے وہ پچھلے آدھے گھنٹے سے رابطہ کرنے کی کوشش کر رہا تھا اور بالآخر اپنی اس کوشش میں کامیاب بھی ہو گیا تھا۔

”اتفاق کی بات دیکھو کاشف آج ہی تھائی لینڈ واپس جا رہا ہے وہ پچھلے تین دنوں سے ملائیشیا میں ہے اب وہ سنبھرن کے باہر کسی ہوٹل میں ہے جہاں ہمیں دس منٹ تک اس کو تمام کاغذات پہنچانے ہوں گے، دس منٹ بعد وہ تھائی لینڈ کےلئے نکل جائے گا پھر یا تو کاغذات وہاں جا کر دینے ہوں گے یا پھر انتظار کرنا ہو گا کہ وہ دوبارہ ملائیشیا کب آئے اس لئے بہتر یہ ہے کہ ہم یہ کاغذات اسے آج اور ابھی پہنچا دیں۔“ بات کرتے کرتے وہ اٹھ کھڑا ہوا شمریز بھی اس کی تقلید میں اپنی جگہ سے اٹھ گیا نبیرہ کا پاسپورٹ فردوس خان کے پاس ہی تھا۔

”کاشف کا کہنا ہے ہمارا کام ہو جائے گا اس سلسلے میں ویزے کی فیس بائیس سو رنگیٹ اور کرایہ 2000 ہو گا اور یہ رقم وہ کام کرنے بعد ہم سے لے گا۔“ یہ تفصیل اس نے نبیرہ کو بتائی تاکہ وہ رقم کا انتظار کر سکے فردوس خان کی بتائی ہوئی رقم اس کی اور ابوذر کی زندگی سے زیادہ قیمتی نہ تھی اس کے ہامی بھرتے ہی فردوس خان اور شمریز تیزی سے گاڑی نکالتے کاشف سے ملنے اس کے بتائے ہوئے پتے پر پہنچ گئے اس دوران وہ مسلسل دعا کرتی رہی کہ کاشف انہیں مل جائے کیونکہ اس کی تھائی لینڈ واپسی کی صورت میں اس کا کام مزید لیٹ ہو جاتا جو وہ بالکل نہ چاہتی تھی اس کے دل کی گہرائیوں سے نکلی ہوئی دعا قبول ہوئی کاشف اور فردوس خان کی ملاقات ہو گئی وہ نبیرہ کا پاسپورٹ اس کے حوالے کر آیا اب ان سب کو انتظار تھا کاشف کے فون جس کے ذریعے انہیں پتا چلتا کہ نبیرہ کا کام کہاں تک پہنچا اور اسے ملائیشیا سے کب نکلنا تھا۔

QQQQ

نبیرہ نے جب سے احتشام صاحب کو اپنا نمبر دیا تھا وہ ہفتے میں ایک بار اس سے بات کر لیتے تھے صرف چند سیکنڈ کی گفتگو میں وہ انہیں اپنی خیریت سے آگاہ کرتی اس کے علاوہ وہ کہاں ہے؟ کس حالات میں گھری ہوئی ہے؟ پاکستان کب تک واپس پہنچے گی؟ ان میں سے کسی بھی سوال کا جواب ابھی تک انہیں نہ ملا تھا یہ گفتگو بھی ان کی صرف دوبار ہی ہوئی تھی تیسری بار فون کرنے پر اس کا نمبر آف ملا احتشام صاحب گھبرا گئے، وقفہ وقفہ سے انہوں نے کئی بار نمبر ملایا مگر دوسری طرف شاید آنسرنگ مشین لگی تھی، تین چار بیل جانے کے بعد ہی کمپیوٹر آپریٹر ملائی زبان میں کچھ کہنے لگی آخر کار احتشام صاحب تھک گئے، آفس میں بیٹھنا ان کیلئے مشکل ہو گیا وہ سارا کام امان کے حوالے کرکے گھر چلے آئے وہ سخت پریشانی میں مبتلا تھے اور اپنی اس پریشانی کو وہ کسی سے بیان بھی نہ کر سکتے تھے یہاں تک کہ ردا سے بھی نہیں، دو دن اسی پریشانی میں گزرے جب تیسرے دن انہیں کسی انجان نمبر سے ایک پیغام موصول ہوا یہ پیغام ان کے سیل فون پر آیا تھا۔

”نبیرہ بحفاظت تھائی لینڈ پہنچ گئی ہے وہاں سے وہ جلد ہی پاکستان پہنچ جائے گی آپ اس کیلئے زیادہ سے زیادہ دعا کریں اس وقت اسے آپ کی دعاﺅں کی ضرورت ہے۔“ نیچے فردوس خان کا نام اور نبیرہ کا نیا نمبر بھی درج تھا، جس کا کوڈ پہلے والے سے مختلف تھام احتشام صاحب سمجھ گئے اس کی پرانی سم تھائی لینڈ کی حدود میں داخل ہوتے ہی بے کار ہو گئی تھی اس لئے ہی اس کا فون بند تھا انہوں نے اللہ تعالیٰ کا لاکھ لاکھ شکر ادا کرنے کے ساتھ ہی اپنی بیٹی کے بحفاظت گھر پہنچنے کی دعا دل کی گہرائیوں سے کی۔

QQQQ

نبیرہ فردوس خان کے ساتھ جا کر اپنی گولڈ کی چوڑیاں اور سونے کا ایک عدد سیٹ بیج آئی، اسے تقریباً 5000رنگیٹ کاشف کو دینا تھے اس کے علاوہ ابھی اس نے فردوس خان کی فیس کا ایک روپیہ بھی ادا نہ کیا تھا یہ رقم بھی تھائی لینڈ پہنچ کر اس نے فردوس خان کو دینا تھی، تھائی لینڈ میں بھی اسے کافی رقم کی ضرورت پڑ سکتی تھی جس کی بنا پر اس نے اپنا زیور بیچنے کا فیصلہ کیا کاشف کے تھائی لینڈ جانے کے تیسرے دن اس کا فون آگیا ان تین دنوں کا ایک ایک پل نبیرہ نے جس طرح امید و نامیدی کے درمیان لٹک کر گزارا وہ ہی جانتی تھی کاشف کے فون نے اس کے جسم میں زندگی کی لہر دوڑا دی۔

”تم لڑکی کو لے کر فوراً تھائی لینڈ پہنچو اس کے ویزے کا کام ہو گیا ہے۔“ کاشف کی بات سن کر فردوس خان تھوڑا سا پریشان ہو گیا، فون بند کرنے کے بعد وہ کچھ دیر سوچتا رہا پھر اس نے شمریز کو فون کرکے فوراً اپنے گھر پہنچنے کی ہدایت کی، اس کے بعد وہ کچن میں مصروف نبیرہ کے پاس آیا۔

”سب کام چھوڑو اپنا سامان پیک کر لو اپنی تمام رقم ہینڈ بیگ میں رکھ لو ہمیں ابھی کچھ دیر میں یہاں سے تھائی لینڈ کیلئے نکلنا ہے تمہارا ویزا لگ گیا ہے۔“

یہ خبر سنتے ہی نبیرہ کے اندر توانائی سی بھر گئی وہ جلدی سے اس کمرے میں گئی جہاں اس کا سامان رکھا تھا اپنے سامان کی پیکنگ کرتے ہوئے کافی ایسی چیزیں جو اس کے استعمال میں نہ تھیں اس نے زرین اور اس کی بچیوں کو دے دیں مختلف این جی اوز کے دیئے ہوئے بے تحاشا گفٹ پیک اس کے پاس جوں کے توں رکھے تھے اس نے وہ سب بھی زرین کے حوالے کر دیئے اس کی واپسی کی خبر نے زرین کو اداس کر دیا تھا آخر اس نے ڈھائی ماہ کا عرصہ اس گھر کے مکینوں کے ساتھ گزارا تھا جنہوں نے اسے بغیر کسی رشتہ ناتے کے سگی بہن کا مان دیا جہاں اپنے گھر اپنے دیس اور اپنے پیاروں کے پاس واپس پہنچنے کی خوشی وہ محسوس کر رہی تھی وہاں بہت کچھ کھونے کا دکھ بھی اس کے ساتھ تھا۔

حماد کی یاد آنسو بن کر اس کی آنکھ سے بہہ نکلی، زرین ایک ماں تھی اس کا دکھ بنا کہے ہی جان گئی اسے گلے لگا کر تسلی دی اس لمحہ اسے ربیعہ، عبدالوہاب، شوبھا، آنٹی نوما، سہتی غرض ہر وہ شخص یاد آیا جس سے اس کا کوئی نہ کوئی واسطہ رہا تھا یہاں تک کہ اسے مایا بھی یاد آئی جو اس کے پیچھے جانے کتنا عرصہ WAO آکر خوار ہوتی رہی اس کا کہنا تھا ”تمہارے پیپرز تیار ہو گئے ہیں تم میرے ساتھ چلو میں تمہیں تمہارے دیس بھیج دوں گی۔“ مگر اس عورت کی تمام حقیقت نبیرہ جان چکی تھی۔

اس نے اپنے رب کا شکر ادا کیا جس کی بدولت اس کا یہاں تک کا سفر آسان ہوا تھا زرین نے بھی اسے ایک جوڑا گفٹ کیا جو اس نے اپنے سامان کے ساتھ پیک کر لیا فردوس خان باہر گاڑی میں بیٹھا اس کا منتظر تھا وہ سب سے مل کر باہر نکلی اگلی سیٹ پر فردوس اور شمریز دونوں تھے، ملائیشیا سے تھائی لینڈ کا سفر خاصا طویل تھا جس کے بارے میں اسے زرین نے بتایا تھا بقول اس کے یہاں سے تھائی لینڈ بارہ یا تیرہ گھنٹے کی مسافت پر تھا اس بنا پر اس نے ابوذر کے کھانے کا کچھ سامان اپنے ساتھ رکھ لیا اس کے بیٹھتے ہی گاڑی اسٹارٹ ہو گئی بے اختیار اس نے اپنے موبائل فون پر ٹائم چیک کیا شام کے تقریباً پانچ بجے تھے اگر زرین کی کہی ہوئی بات درست تھی تو اسے آج کی ساری رات دو مردوں کے ساتھ تنہا سفر کرنا تھا وہ دو مرد جو اسے اپنی بہن مانتے تھے مگر پھر بھی وہ دل ہی دل میں خوفزدہ ہو گئی شیطان کہیں بھی، کسی بھی جگہ آسکتا ہے اس سوچ نے اس کے حواس مکمل طور پر بحال کر دیئے اور وہ خاصی الرٹ ہو کر بیٹھ گئی فردوس شمریز سے کچھ کہہ رہا تھا وہ گاڑی سے باہر بھاگتے دوڑتے مناظر دیکھنے میں مصروف تھی جب اسے شمریز نے پکارا۔

”نبیرہ جانتی ہو فردوس بھائی کیا کہہ رہے ہیں۔“ وہ گردن موڑ کر پوچھ رہا تھا۔

”نہیں….“ ظاہر ہے نبیرہ نے ان کے درمیان ہونے والی گفتگو نہ سنی تھی۔

”یہ ڈرا رہے ہیں کہیں تم کسی مصیبت میں نہ پھنس جاﺅ جب کہ میرا کہنا یہ ہے کہ مصیبتیں تم جیسی بہادر اور دلیر عورتوں کےلئے نہیں ہوتیں اس کا عملی مظاہرہ میں اس دن سفارتخانے میں دیکھ چکا ہوں تمہاری جگہ کوئی عام سی لڑکی ہوتی تو ضرور اسی دن دھر لی جاتی مگر تم جس کمال ہوشیاری سے وہاں سے نکلی تھیں وہ قابل تحسین ہے اب بتاﺅ فردوس بھائی کو میں درست کہہ رہا ہوں یا ان کا حدشہ صحیح ہے۔“

ظاہر ہے وہ درست کہہ رہا تھا مگر فردوس خان کا خدشہ بھی اپنی جگہ صحیح تھا وہ بنا کوئی جواب دیئے مسکرا دی، شمریز اور فردوس پھر سے گفتگو میں مصروف ہو گئے ابوذر چپس کھا کر اس کی گود میں ہی سو گیا وہ کھڑکی سے سر ٹکائے باہر بھاگتے دوڑتے نظارے دیکھ رہی تھی لمحہ بہ لمحہ آگے بڑھتی گاڑی کے ساتھ باہر اندھیرا اترتاآرہا تھا رنگ و روشنی کا سیلاب چاروں طرف امڈا پڑا تھا، سائن بورڈ جل اٹھے تھے باہر زندگی کی رونقیں اپنے عروج پر تھیں، آہستہ آہستہ یہ ساری رونقیں پیچھے رہ گئیں اب کہیں کہیں ٹمٹماتی روشنی دکھائی دے رہی تھی غالباً رات بہت زیادہ ہو چکی تھی یاد وہ شہر کی حدود سے باہر نکل آئے تھے، اس نے کھڑکی کا شیشہ ہٹا کر باہر جھانکنے کی کوشش کی شاید اس وقت وہ کسی ہائی وے پر سفر کر رہے تھے اب گاڑی میں بھی مکمل سناٹا طاری ہو چکا تھا شمریز سو گیا تھا فردوس خان نہایت خاموشی سے سامنے دیکھتا ہوا ڈرائیو کر رہا تھا نیند تو اسے بھی آرہی تھی، مگر رات کی تاریکی سانپ کی طرح کنڈلی مارے اس کے دل میں بیٹھ گئی رات کی اس تنہائی کے خوف نے اس کی آنکھوں سے نیند کو یکسر اڑا دیا تھا اسے فردوس خان اور شمریز کی شرافت پر کوئی شک نہ تھا گزرتے وقت نے اسے بہت محتاط کر دیا تھا اور سکندر جیسے رشتوں نے مردوں سے اس کا اعتبار ختم کر دیا تھا، اس نے اپنے مفاد کی خاطر رنگ بدلتے مرد جگہ جگہ دیکھے تھے مگر پھر بھی دنیا میں عبدالوہاب اور فردوس خان جیسے لوگ بھی موجود تھے اور شاید اسی لئے دنیا ابھی تک باقی تھی ورنہ کب کی فنا ہو چکی ہوتی۔

گاڑی ایک جھٹکے سے رک گئی وہ اپنی سوچوں کے سمندر سے ابھر کر باہر نکل آئی کھڑکی سے جھانکا سامنے ایک چھوٹا سا ڈھابے نما ہوٹل تھا، ہوٹل کے باہر رکھی کرسیوں پر لمبے لمبے بالوں والے دو نوجوان بیٹھے گٹار بجا رہے تھے ان میں سے غالباً ایک لڑکی تھی جب اس نے گٹار کی دھن پر کسی اجنبی آواز میں گانا شروع کیا تو نبیرہ کو پتا چلا ورنہ ان دونوں کے حلیے میں اس قدر مماثلت تھی کہ فرق کرنا مشکل تھا گاڑی کے رکتے ہی شمریز بھی جاگ گیا، دونوں گاڑی سے باہر نکل کر ہوٹل کی طرف بڑھ گئے نبیرہ گاڑی میں بالکل تنہا رہ گئی کچھ ہی دیر میں شمریز واپس آیا اس کے ہاتھ میں کھانے کی ایک پلیٹ اور کون کاٹن تھا جو اس نے کھڑکی سے ہی نبیرہ کی سمت بڑھایا تھوڑے سے سفید چاول، چنے چھوٹی چھوٹی مچھلیاں اور لال مرچوں کی چٹنی اس نے شمریز کے ہاتھ سے پلیٹ تھام لی۔

”دراصل میں اور فردوس بھائی جب بھی تھائی لینڈ جاتے ہیں اسی ہوٹل سے کھانا کھاتے ہیں جس کی وجہ حلال کھانا ہے ہمیں اس ہوٹل پر پرانا اعتبار ہے یہاں مسلمانوں کےلئے حلال غذا کا انتظام ہوتا ہے اس کے علاوہ دیگر ہوٹل نیگروز چلا رہے ہیں، کہیں کچھ انڈین بھی ہیں، کچھ تھائی بھی پورے ہائی وے پر واحد ہوٹل ہے جسے ایک مسلمان پاکستانی چلا رہا ہے، آج اتفاق کی بات ہے کھانا تقریباً سارا ہی ختم ہو گیا ہے بس تھوڑا بہت جو کچھ تھا اس نے ہمیں دے دیا اب ظاہر ہے اس سے ہی گزارا کرنا ہو گا۔“

شمریز نے سگریٹ سلگاتے ہوئے اسے تمام تفصیل سے آگاہ کیا۔

”کوئی بات نہیں شمریز بھائی میرے لئے یہ بھی زیادہ ہے۔“

اور یہ سچ بھی تھا اس صورتحال میں کھانا اس سے حلق سے اترنا ناممکن نہیں تو خاصا مشکل امر ضرور تھا، تھوڑا تھوڑا کرکے کھانا زہر مار کرنے لگی شمریز واپس چلا گیا اس نے ایک بار پھر کھڑکی سے جھانکا وہ دونوں سامنے بیٹھے ہوئے جوڑے کے گانوں سے خوب لطف اندوز ہو رہے تھے، فردوس خان کی فرمائش پر وہ لڑکی کوئی گانا گا رہی تھی جس کے بول فاصلے کے سبب نبیرہ کو سنائی نہ دے رہے تھے گانے کے اختتام پر فردوس خان نے نہ صرف تالیاں بجا کر اس کی حوصلہ افزائی کی بلکہ کچھ نقد رقم بھی جیب سے نکال کر اسے دی، تھوڑی دیر میں ہی وہ دونوں واپس آگئے شمریز کے ہاتھ میں اس کیلئے بلیک کافی کا پیپر مگ تھا جسے اس نے شکریہ کے ساتھ تھام لیا اسے واقعی اس وقت شدت سے کافی کی طلب ہو رہی تھی، اب ڈرائیونگ سیٹ شمریز نے سنبھال لی فردوس اپنی سیٹ کو آرام دہ حالت میں کرکے نیم دراز ہو گیا گاڑی کا سفر ایک بار پھر شروع ہوا وہ بیٹھے بیٹھے تھک سی گئی مگر پھر بھی لیٹنا نہ چاہتی تھی نیند کو اپنی آنکھوں سے بھگانے کیلئے اس نے پرس کی زپ کھول کر اندر کپڑے میں لیٹی چھوٹی سی یٰسین شریف نکال لی وہ گھر سے باوضو نکلی تھی اس لئے بغیر کسی قباحت کے خاموشی سے یٰسین شریف پڑھنے لگی تھوڑی دیر میں ہی صبح کی سیپدی دور سے نمودار ہونے لگی شاید دن نکل رہا تھا۔

”کیا ٹائم ہوا ہے؟“ اس نے شمریز کو مخاطب کیا۔

”پانچ بجنے والے ہیں بس اب ہم کچھ ہی دیر میں ترنگانو پہنچ جائیں گے وہ تھائی لینڈ کی اسٹارٹ اور ملائیشیا کی اختتامی حد ہے یوں سمجھ لو ترنگانو ملائیشیا اور تھائی لینڈ کو ایک دوسرے سے جدا کرتا ہے اور یہ دونوں بھی ملکوں کا باڈر بھی ہے۔“

”اوہ…. اچھا….“ وہ شمریز کی بات سمجھ گئی ترنگانو وہ سرحدی مقام تھا جس کے بعد تھائی لینڈ شروع ہو جاتا ہے۔

پندرہ منٹ بعد گاڑی ترنگانو کی حدود میں داخل ہو گئی، فردوس خان بھی بے دار ہو گیا اپنے پاس موجود پانی کی بوتل سے اس نے منہ پر پانی کے چھینٹے مارے اور کلی کی ترنگانو داخل ہونے کے کچھ دیر بعد ہی گاڑی رک گئی سامنے ایک ہوٹل تھا، شمریز اور فردوس خان کے باہر نکلتے ہی وہ بھی باہر آگئی، شمریز اس کا سامان نکال رہا تھا اس نے پلٹ کر ایک نظر دور جاتی سڑک پر ڈالی جو ملائیشیا سے ہوتی ہوئی ترنگانو داخل ہوئی تھی پیچھے دیکھتے ہی اس کا دل لرز اٹھا، وہ ملائیشیا کی سرزمین کو بہت پیچھے چھوڑ آئی تھی اس کے ساتھ ہی اور بھی بہت کچھ پیچھے رہ گیا تھا جسے سوچتے ہی خوف کی ایک سرد لہر اس کے وجود کو چیر گئی ان پیچھے رہ جانے والی اذیت ناک یادوں میں حماد بھی تھا جس کے خوبصورت تصور نے اس کے دل کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا۔

شمریز اس کا سامان لے کر ہوٹل میں داخل ہو گیا، فردوس خان باہر گاڑی کے پاس تھا دس، بارہ گھنٹوں کے مسلسل سفر سے اس کا جسم اکڑ گیا تھا اس وقت اسے آرام کی شدید ضرورت تھی ہوٹل میں اس کا کمرا بک تھا، شمریز نے کاﺅنٹر سے چابی لی اور اس کے ساتھ سیڑھیاں چڑھ کر فرسٹ فلور پر آگیا اس کا سامان اس کے روم میں رکھا اور قریب آکر بولا۔

”کاشف نے تمہیں اسی ہوٹل میں پہنچانے کا کہا تھا، تم تھوڑی دیر تک آرام کر لو میں اور فردوس بھائی کسی ضروری کام سے جا رہے ہیں انشاءاللہ جلدی ہی تم سے دوبارہ ملاقات ہو گی بہرحال اپنا دروازہ اچھی طرح لاک کر لینا۔“

اسے ہدایات دے کر شمریز باہر نکل گیا، نبیرہ نے دروازہ اچھی طرح لاک کر لیا ابوذر سو رہا تھا وہ بھی اس کے ساتھ لیٹ کر سو گئی جانے وہ کتنی دیر تک سوئی جب اس کی آنکھ کھلی سامنے لگے وال کلاک میں ابھی صرف دس ہی بجے تھے وہ اٹھ بیٹھی اس کی سمجھ میں نہ آیا فردوس خان اسے یہاں کیوں چھوڑ گیا ہے، اسی کشمکش میں اس نے اپنے بیگ سے موبائل نکالا صبح ہوٹل میں داخل ہوتے ہوئے اس نے باہر کھڑے تھائی لڑکے سے ایک سم خریدی تھی جسے اس نے فوراً ہی اپنے موبائل میں لگا لیا اس وقت وہ ربیعہ سے بات کرکے اسے تمام صورتحال بتانا چاہتی تھی اجنبی دیس اور ہوٹل کی تنہائی نے اسے پھر سے خوفزدہ کر دیا تھا تیسری یا چوتھی بیل پر ربیعہ نے فون ریسیو کر لیا نبیرہ کی آواز سنتے ہی وہ خوشی سے چیخ پڑی۔

”کہاں ہو تم، کچھ دن سے تمہارا نمبر بند تھا جانتی ہو یہ وقت میں نے کتنی پریشانی اور وسوسوں میں گھر کر گزارا ہے۔“ ربیعہ کی سچائی اس کے لہجے سے چھلک رہی تھی۔

”تم نے اپنا پہلا نمبر کیوں آف کیا ہے؟“ جواب میں نبیرہ نے اسے ملائی سفارتخانے کی پوری کہانی سنائی۔

”دراصل جب میں افراتفری میں وہاں سے نکلی تو مجھے شک ہوا شاید میں نے اپنا سیل نمبر کاﺅنٹر پر موجود لڑکی کو لکھوا دیا ہے بس اس خیال کے آتے ہی میں نے فوراً اپنی سم نکالی اور توڑ کر پھینک دی اور پھر اپنی پریشانی میں تم سے رابطہ بھی نہ کر سکی۔“

”اوہ اچھا مگر اس وقت تم کہاں ہو؟“

”ترنگانو میں….“ وہ بیڈ سے اٹھ کر کمرے کی واحد کھڑکی کے قریب آگئی اور ذرا سا پردہ سرکا کر باہر جھانکا جہاں دن کی رونقیں پورے عروج پر تھیں۔

”ترنگانو….“ ربیعہ نے خیریت سے دہرایا۔

”تم ترنگانو کب پہنچی؟ اب وہاں کس کے ساتھ ہو؟“

”میں صبح ساڑھے پانچ بجے یہاں پہنچ گئی تھی فردوس اور شمریز کے ساتھ اور اب یہاں کے کسی ہوٹل میں بالکل تنہا ہوں وہ دونوں مجھے چھوڑ کر جانے کہاں چلے گئے ہیں۔“

”بے وقوف لڑکی تم نے ان سے پوچھا نہیں وہ تمہیں یہاں کیوں چھوڑ کر جا رہے ہیں نبیرہ کہیں ایسا تو نہیں وہ تمہیں یہاں بیچ گئے ہوں؟“

اس کا لہجہ خدشوں سے پر تھا نبیرہ اس کی بات سن کر خوف سے لرزا اٹھی، اگر ربیعہ کا کہا درست ہوا تو….

”پھر اب بتاﺅ میں کیا کروں؟“ وہ بے بسی کے آخری حدود پر تھی۔

”کسی طرح یہاں سے نکل جاﺅ۔“ ربیعہ نے اپنی سمجھ کے مطابق مشورہ دیا۔

”کیا کروں گی یہاں سے نکل کر، کہاں جاﺅں گی میرا تو پاسپورٹ بھی فردوس بھائی کے پاس ہے اب اگر میرے نصیب میں رلنا ہی لکھا ہے تو میں کیسے اپنا نصیب بدل سکتی ہوں بہرحال جو بھی ہو اپنی قسمت کے فیصلے کا انتظار مجھے اسی کمرے میں رک کر ہی کرنا ہے کیونکہ میرے آگے بھی خندق ہے اور پیچھے بھی اس لئے بہتر یہ ہے کہ جہاں ہوں وہیں رک کر دیکھوں ہو سکتا ہے کچھ بہتری ہی ہو جائے۔“

ربیعہ سے چند ایک باتوں کے بعد اس نے فون بند کر دیا، تقریباً دن کے گیارہ بجے اس کے کمرے میں موجود فون پر بیل ہوئی، فون اٹھاتے ہی دوسری طرف شمریز خان کی آواز سن کر اس کے تن مردہ میں جان پڑ گئی۔

”تم خیریت سے تو ہو نا؟“ اس کے حلق سے نکلی مری مری سی آواز نے شمریز کو اس کی خیریت دریافت کرنے پر مجبور کر دیا۔

”جی بالکل خیریت سے ہی ہوں۔“

”اوکے اب ایسا ہے کچھ دیر تک کاشف تمہارے پاس پہنچ جائے گا، تمہیں وہاں سے اس کے ساتھ ہی نکلنا ہے، اپنے روم کی پے منٹ اور چابیاں کاﺅنٹر پر دے دینا نکلنے سے قبل روم سروس سے ناشتہ منگوا کر لو ساتھ ہی انہیں حلال کی تاکید ضرور کرنا۔“ اس نے شمریز خان کی تمام ہدایات دھیان سے سنیں۔

”اگر اپنی سم فون میں لگا لی ہو تو اس کا نمبر میرے نمبر پرسینڈ کر دو۔“ اس ہدایت کے ساتھ ہی شمریز نے اسے اپنا نمبر لکھوا دیا۔

”آپ فردوس بھائی سے کہہ دیں کہ وہ میرا نیا نمبر پاپا کو بھی دے دیں۔“

اسے یاد آیا آج کئی دنوں سے اس نے احتشام صاحب سے رابطہ کیا تھا وہ یقینا پریشان ہوں گے۔

”ٹھیک ہے میں کہہ دوں گا تم ناشتہ کرکے اپنا تمام سامان پیک کر لو۔“

سامان تو پیک ہی تھا، اس نے روم سروس سے اپنے لئے بلیک کافی منگوائی اس کے ہینڈ بیگ میں کچھ کوکیز اور سینڈوچ رکھے تھے جو اس کے اور ابوذر کیلئے کافی تھے، شمریز کے فون بند کرنے کے تھوڑی دیر بعد ہی اس کے کمرے کا دروازہ کسی نے بجایا اس نے کی ہول سے دیکھا باہر ایک لمبا سا مرد کھڑا تھا جو اپنے حلیے سے ہی پاکستانی دکھائی دے رہا تھا، نبیرہ نے دروازہ کھول دیا ”نبیرہ احتشام“ اس کے دروازہ کھولتے ہی سامنے کھڑے مرد نے پوچھا۔

”جی اور آپ؟“

”میرا نام کاشف ہے مجھے فردوس خان نے تمہارے پاس بھیجا ہے، فردوس کی طرح تم مجھے بھی بھائی کہہ سکتی ہو۔“ اس کے ساتھ ہی آگے بڑھ کر اس نے نبیرہ کا اٹیچی تھام لیا اور بیگ کندھے پر ڈال لیا، نبیرہ ابوذر کی انگلی تھامے اپنا ہینڈ بیگ لئے اس کے پیچھے پیچھے سیڑھیاں اتر کر کاﺅنٹر پر آگئی، جہاں پہنچ کر اس نے روم چھوڑنے کی اطلاع کے ساتھ ساتھ حساب کتاب کرکے اس کمرے کے ایک دن کا کرایہ ان کے حوالے کیا اور کاشف کے ساتھ ہی ہوٹل سے باہر آگئی۔

باہر نکلتے ہی کاشف نے ایک ٹیکسی لی، جس میں بیٹھ کر وہ اس کے ساتھ ایک مارکیٹ آگئی، راستہ بھر کاشف نے کوئی بات نہ کی مارکیٹ کے سامنے پہنچ کر اس نے ٹیکسی چھوڑ دی، نبیرہ کا سامان اٹھا کر وہ مارکیٹ میں داخل ہو گیا نبیرہ بھی خاموشی سے اس کی تقلید میں چلتی ہوئی اندر داخل ہو گئی، سامنے ہی ایک اسٹیشنری کی دکان تھی جہاں سے اس نے انک پیڈ اور کالی سیاہی خریدی نبیرہ خاموشی سے اسے یہ سب کارروائی کرتا دیکھ رہی تھی اپنا مطلوبہ سامان خرید کر کاشف مارکیٹ سے باہر آگیا، وہ ابھی بھی مکمل طور پر خاموش تھا، وہ پیدل ہی فٹ پاتھ پر اس کے آگے چلتا رہا، کچھ دیر بعد وہ ایک بڑے اور با رونق بازار پہنچ گئے جہاں اس کے کسی رشتہ دار کی الیکٹرونس کی دکان تھی ”جلال الیکٹرونکس“ نام دیکھ کر ہی نبیرہ اندازہ لگا چکی تھی اس کا مالک نہ صرف مسلمان بلکہ پاکستانی بھی ہے۔

”تم یہاں بیٹھو۔“ اندر داخل ہوتے ہی کاشف نے سامنے رکھی کرسیوں کی سمت اشارہ کیا اس سارے سفر میں یہ پہلا جملہ تھا جو کاشف کے ہونٹوں سے ادا ہوا نبیرہ بنا کوئی جواب دیئے کرسی پر بیٹھ گھئی۔

کاﺅنٹر پر کھڑا داڑھی والا شخص بھی ان کے قریب آگیا، وہ ہی غالباً کاشف کا رشتے دار تھا کاشف نے اس سے کوئی بات کی اس نے کاشف کو ایک چھوٹا سا کالے رنگ کا چرمی بیگ تھما دیا جس کے اندر کچھ اسیٹمپ تھیں کاشف نے اپنی جیب سے ایک پیڈ نکالا، سامنے رکھے پیپر پر اسیٹمپ لگا کر کچھ چیک کیا، پھر آپس میں کوئی بات کی اور اگلے ہی پل کاشف نے اپنی قیمض کی جیب سے نبیرہ کا پاسپورٹ نکالا، اس کے ساتھ ہی ایک اسیٹمپ بھی نکالی، اسیٹمپ ہاتھ میں لے کر بسم اللہ الرحمن الرحیم با آواز بلند پڑھا اسیٹمپ پر انک لگائی اور اسے پاسپورٹ پر لگا دیا نبیرہ یہ تمام کارروائی بڑی حیرت سے دیکھ رہی تھی اسے سمجھ نہیں آیا کہ کاشف کیا کر رہا ہے۔

اسیٹمپ لگا کر اس نے وہاں سائن بھی کر دیئے، سائن کرنے سے پہلے اس نے دو تین بار سامنے رکھے پیپر پر ان سائن کو چیک کرکے بھی دیکھا۔

”یہ لو تمہارا ویزا لگ گیا ہے، تمہارے ساتھ ہی تمہارے بیٹے کا ویزا بھی ہے اسے الگ سے پاسپورٹ کی ضرورت نہیں ہے۔“

اپنی تمام کارروائی سے فارغ ہو کر اس نے نبیرہ کی جانب اس کا پاسپورٹ بڑھایا جسے اس نے بے یقینی کی کیفیت میں تھام لیا۔

”حیران مت ہو یہ کام میں کوئی پہلی بار نہیں کر رہا تم سے پہلے بھی جانے کتنے لوگوں کو میں یہاں سے اسی طرح نکال چکا ہوں انشاءاللہ تم بھی ضرور نکل جاﺅں گی ویسے مجھے حیرت ہوتی ہے ان پاکستانی والدین پر جو بنا سوچے سمجھے اپنی ہیرے جیسی بیٹیوں کو بے غیرت مردوں کے حوالے کر دیتے ہیں ایسے مرد جنہیں عورت کے عزت و احترام کا بھی پتا نہیں ہوتا، میرا بس چلے تو میں سکندر جیسے تمام مردوں کو سولی پر لٹکا دوں جو تم جیسی جوان عورتوں کو دنیا کی اس بھیڑ میں برباد ہونے کےلئے تنہا چھوڑ دیتے ہیں اور آفرین ہے تم جیسی عورتوں پر جو دنیا کی اس گندگی میں خود کو بچا کر چلتی ہیں۔“ اس کے ساتھ ہی اس نے سکندر کو دو تین گالیاں بھی دیں کاشف کے خراج تحسین نے اسے ایک عجیب سا غرور بخش دیا اس کا سر فخر سے بلند ہو گیا یقینا عورت کی عظمت کو محسوس کرنے والے مرد ابھی اس دنیا میں موجود ہیں۔

”چلو اب تم اندر جا کر ہاتھ منہ دھو لو میں نے کھانا منگوایا ہے آجانے پر کھا کر نکلتے ہیں۔“ کاشف کی بات ختم ہوتے ہی وہ اٹھ کھڑی ہوئی، باتھ روم سے ہاتھ منہ دھو کر باہر نکلی سامنے رکھی چھوٹی سی ٹیبل پر کھانا موجود تھا کھانے میں ”ناسی آئم“ کو دیکھ کر اس کی بھوک چمک اٹھی ناسی آئم ملائیشیا کی وہ واحد ڈش تھی جو نبیرہ کو بے حد پسند تھی چکن کی یخنی میں بنے ہوئے چاول ساتھ ہی فرائی کیا ہوا چکن اور نہایت مزے کی کھٹی میٹھی چٹنی، آج کئی دن بعد نبیرہ نے خوب ڈٹ کر کھانا کھایا کھانے کے بعد کاشف نے چائے منگوائی جسے پی کر نبیرہ کو کافی اچھا لگا۔

”اب ہمیں تھائی لینڈ انٹری پوسٹ جانا ہے یہاں تمہارا پاسپورٹ جمع ہو گا وہاں بالکل بھی گھبرانا نہیں ان کے ہر سوال کا جواب اعتماد سے دینا۔ چائے پینے کے دوران اس نے نبیرہ کو سمجھایا، چائے پی کر وہ اٹھ کھڑا ہوا نبیرہ کا سامان اٹھا کر دکان سے باہر نکل گیا نبیرہ بھی اس کے ساتھ چلتی ہوئی باہر مین روڈپر آگئی جہاں سے ایک ٹیکسی کے ذریعے وہ تھائی انٹری پوسٹ پہنچ گئے۔

جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

خانقاہ قسط نمبر 2 کاوش صدیقی

خانقاہ قسط نمبر 2 کاوش صدیقی ”کیا ہو رہا ہے۔؟“کسی نے میر ے شانے پر …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے