سر ورق / ناول / بلاوا خورشید پیرزادہ قسط نمبر 2”

بلاوا خورشید پیرزادہ قسط نمبر 2”

بلاوا

خورشید پیرزادہ

قسط نمبر 2”

کیا ہوا؟-“

”ہوا تو دیکھ ٹائروں کی-“ روہن جیسے چلا سا رہا تھا-

”اوہ مائی گاڈ- کمال ہے- ہاں میں نے موبائل کی لائٹ جلا کر دیکھا تھا- تب تو کسی ٹائر میں ہوانہیں تھی- حد ہوگئی یار- یہاں بھی؟-“

”کیا ہوا بیٹا؟-“ روہن کی چیخ سی سن کر بڈھا لگ بھگ بھاگتا ہوا باہر آیا-

”انکل جی- یہ ہوا- رات کو تو بالکل غائب تھی- اب کہاں سے آگئی؟-“ روہن نے ٹائروں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا-

بڈھے کے چہر ے پر شکن تک نہیں آئی”ہم ایسی باتوں کے عادی ہوچکے ہیں بیٹا- آج رات ہی- شروتی صبح اٹھی تو اس کی قمیص گلے سے پھٹی ہوئی تھی- نیچے تک- برا مت ماننا- لیکن اگر کمرے کی کنڈی بند نہ ہوتی تو میں تم لوگوں کے بارے میں کیا کیا سوچتا- مگر یہاں کسی بھی وقت- کچھ بھی ہو سکتا ہے-“

نتن نے حیرت سے ایک بار پھر روہن کی طرف دیکھا- وہ رات کو سپنے میں آئی نیرو کے بارے میں سوچ رہا تھا- سن کھڑا تھا-

” چلیں ٹھیک ہے انکل جی- اب ہم چلتے ہیں-“ نتن سب کچھ بھول کر جانے کی تیاری کرنے لگا-

”شہر کی طرف ہی جاﺅ گے نا بیٹا-“ بڈھے نے نہایت عاجزانہ لہجے میں سوال کیا-

”ہاں- شہر سے ہوکر ہی گزریں گے- کیوں؟-“ نتن نے جواب دیتے ہوئے سوال کیا-

”نہیں- کچھ خاص بات تو نہیں تھی- لیکن وہ— شروتی کو بھی شہر ہی جانا ہے- کالج میں- اگر تم لوگ لیٹ نا ہو رہے ہوتے تو وہ بھی ساتھ ہی چلی جاتی – — بس کے انتظار میں بہت وقت خراب ہو جاتا ہے- وہ کہہ رہی تھی-“ بڈھے نے کہا-

روہن دل ہی دل میں اچھل پڑا- خوشی سے- لیکن خوشی کو دل میں دبا کر رکھتے ہوئے بولا- ” یہ بھی کوئی کہنے کی بات ہے- ویسے ہمیں کوئی جلدی نہیں ہے‘ اب تو پنکچر بھی نہیں لگوانا- جتنی دیر کہیں ہم رکنے کے تیار ہیں-“

”اچھا بیٹا- ویسے تو اس کا کا لج ابھی دو تین گھنٹے بعد ہے- لیکن میں اس کو کہہ دیتا ہوں- وہ جلدی سے تیار ہوجائے گی-“ بڈھا خوش ہوتے ہوئے بولا-

”نہیں انکل جی- کوئی جلدی نہیں ہے- ہم تب تک ایک کام کر آتے ہیں گھنٹے میں آجا ئیں گے-“

”ٹھیک ہے بیٹا- جیسے تم کہو- میں شروتی کو بول دیتا ہوں-“ بڈھا بہت خوش لگ رہا تھا-

”ہم بس گھنٹے بھر میں آتے ہیں انکل جی-“ نتن یہ کہتے ہوئے گاڑی میں بیٹھ گیا- روہن بھی اس کے ساتھ بیٹھا- لیکن اس کی سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ یہ نتن آخر جا کہاں رہا ہے- نتن نے بڈھے کے اندر جاتے ہی گاڑی اسٹارٹ کرکے گھما دی-

”کیوں بے- اب تو خوش ہوجا- تیرے دل کی خواہش پوری ہوگئی- جی بھر کر بات کر لینا- مجھ سے تو بات کی نہیں ڈھنگ سے-“ کہہ کر نتن نے بتیسی نکال دی-

”لیکن ابھی تم واپس کہاں جا رہے ہو؟-“ روہن نے پوچھا-

”پرانے ٹیلے پر- دیکھیں تو سہی آخر کیا ڈرامہ ہے وہاں-“ نتن نے گاڑی کی اسپیڈ تیز کر دی-

”تم پاگل ہوگئے ہو کیا؟— مجھے نہیں جانا وہاں-“ روہن لگ بھگ اچھلتے ہوئے بولا-

”تمہیں لگتا ہے کہ کوئی دم ہے بڈھے کی باتوں میں- مجھے تو بہت بڑا ناٹک لگ رہا ہے- اور مجھے لگتا ہے کہ بڈھا بھی اس ناٹک میں شامل ہے- دیکھا- اس کو گاڑی میں اپنے آپ ہوا بھری جانے پر بھی حیرت نہیں ہوئی- الٹا کہانی بنانے لگا- بیٹی کی قمیص پھٹ گئی رات کو- ہونہہ- اور اب دیکھ- کیسے اپنی بیٹی کو ہم جوان مسٹنڈوں کے ساتھ بھیج رہا ہے- بھلا اتنا بھی نادان ہے کیا کوئی آج کی دنیا میں- مجھے لگتا ہے کہ وہ شروتی ہی نیرو بن کر تجھے فون کرتی ہوگی- کچھ نہ کچھ چکر تو ضرور ہے پیارے- کہیں یہ تیری ہمدردیاں سمیٹنے کا تو نہیں سوچ رہے- تمہیں الو بنا کر-“ نتن بولتا ہی جا تا اگر روہن اس کو بیچ میں ہی نہ ٹوکتا-

”چپ ہو جاﺅ یار- ایسا کچھ نہیں ہے- یہ سب محض اتفاق ہے- تم گاڑی واپس موڑ لو-“ روہن جھلایا-

”گاڑی تو اب خونی تالاب پر ہی جا کر رکے گی بیٹا- مجھے وہ پیپل کا پیڑ دیکھ کر آنا ہے- اور اس بچے کو بھی ڈھونڈتا ہے- تمہیں اترنا ہے تو اتر جاﺅ- روکوں کیا-“

روہن کچھ بھی نہیں بولا- سوچتا ہوا گاڑی کے باہر دیکھنے لگا-

”لیٹ نہیں ہوجائیں گے کیا— اب پیدل چلنا پڑے گا-“ روہن نے آگے راستے پر گہرا گڑھا دیکھتے ہوئے کہا-

”یہاں سے گاڑی کو راستے سے نیچے اتار کر ٹرائی کرتا ہوں- اس کے بعد زیادہ دقت نہیں آئے گی- شاید نکل جائیں- چلو یہاں سے تو پار ہوئے- اب تم بتاﺅ کیا چکر ہے تیرا شروتی کے ساتھ- اب تو مجھے لگ رہا ہے کہ آج تم کنوارے نہیں رہو گے- تمہیں کیا لگتا ہے؟-“ وہ گاڑی سمیت دھیرے دھیرے چلتے ہوئے بڑھتے جا رہے تھے-

”کچھ نہیں لگتا بھائی- میری سمجھ میں تو کچھ نہیں آرہا ہے- اب میں تمہیں کیسے بتاﺅں-“ روہن نے اس کی طرف دیکھتے ہوئے کہا-

”کیوں- مجھے نہیں بتائے گا تو کس کو بتائے گا-ابے دوست ہوں میں تیرا- بھائی ہوں-“ نتن نے اس پر بتانے کے لئے زور ڈالا-”اگر آج تم نے سب کچھ نہیں بتایا تو سمجھ لے- پھر تیرا میرا معاملہ یہیں ختم ہے–“

”تو یہ تالاب ہے وہ- اس میں تو اچھا خاصا صاف ستھرا پانی ہے- رات کو لال کیسے ہو جاتا ہوگا-“

نتن تالاب کو دیکھتے ہی روہن سے کچھ بھی پوچھنا بھول گیا اور گاڑی روک کر وہیں اتر گیا- روہن بھی ساتھ ہی نیچے آ گیا-

”چل نا یار- واپس چلتے ہیں-“

”ارے کیوں ڈر رہے ہو- بڈھے کی بات مان بھی لیں تو دن میں تو یہاں کچھ نہیں ہوتا- چل آجا-“ کہہ کر نتن ایک راستہ دیکھ کر دائیں طرف بڑھ گیا-

”یہ بات نہیں ہے یار- لیکن میرا دل نہیں کر رہا آگے چلنے کا- موڈ آف ہے-“ روہن اس کے پیچھے پیچھے چلتا رہا-

”کمال ہے یار- اب تو کیچڑ بھی نہیں ہے- لگتا ہے ہم دوسرے راستے آئے ہیں آج-“

روہن کچھ نہیں بولا- اس کے دماغ میں نیرو کی باتیں گونج رہی تھیں- اگر سپنے میں کچھ سچائی ہے تو وہ اس کو دیکھ رہی ہوگی ضرور- کم سے کم اس کو پتہ تو چل ہی گیا ہوگا کہ میں آیا ہوں- سوچ کر ہی روہن چوکنا ہوگیا- چلتے ہوئے وہ تالاب کے پار جاکر اسی جگہ کھڑے ہوگئے جہاں کل رات وہ اس بچے سے ملے تھے- سونا پن وہاں اب بھی ویسا ہی موجود تھا لیکن وہ سونا پن اب دن کی روشنی میں بھیانک نہیں لگ رہا تھا-اس کے برعکس عجیب سا سکون پھیلا ہوا تھا- ہولے ہولے چلتی ہوئی ہوا ماحول کو اور بھی دلفریب بنا رہی تھی- ایسا لگتا تھا کہ پہلے یہاں کوئی گاﺅں بستا ہوگا- لیکن اب وہاں کچھ نہیں تھا- سوائے پرانی اینٹوں کی گلیوں کے- ٹوٹی پھوٹی آدھی گری ہوئی دیواروں اور کچھ آوارہ جانوروں کے-

”کہاں مل سکتا ہے وہ بچہ-سالے نے رات کو خوب الو بنایا- سچ میں ڈر گیا تھا میں-“ نتن ایک جگہ جاکر کھڑا ہوگیا-

”میں بھی-“ روہن کے منہ سے نکلا-

” میرا خیال ہے وہ کسی خانہ بدوش قبیلے کا ہوگا- یہ لوگ ایسے ہی جگہوں پر جاکر رہتے ہیں-“ نتن بچے کے بارے میں خیال پیش کرنے لگا-

”تمہیں وہ خانہ بدوش لگتا ہے- کتنا پیارا تھا دیکھنے میں- کیا پتہ وہ بھی کوئی روح ہی ہو-“ روہن دھیرے دھیرے اس کو لائن پر لانا چاہتا تھا- تاکہ جب وہ اس کی کہانی سنے تو ہنسے نہیں-

”اب تم بھی شروع ہوگئے بڈھے کی طرح- اور مجھے جینیٹکس مت سکھا- خانہ بدوش خوبصورت نہیں ہوسکتے کیا- کیا پتہ کسی اچھے گھرانے کے آدمی کا ٹانکا فٹ ہوگیا ہو خانہ بدوش عورت کے ساتھ- ہوتا ہے یار- لیکن اب کہاں گئے وہ؟-“ نتن چاروں طرف گھوم گھوم کر کچھ تلاش کر رہا تھا-

”کون؟-“ روہن نے پوچھا-

”خانہ بدوش یار- اور کون ملے گا یہاں- ارے دیکھ وہی پیپل کا پیڑ‘ جس کے بارے میں وہ بڈھا بات کر رہا تھا-آ-“ نتن درخت کی طرف بڑھنے لگا-

”رہنے دے اب- چل واپس چل- لیٹ ہو رہے ہیں-“ روہن وہاں کھڑ ے کھڑے بولا- دل ہی دل میں نیرو کی یاد اور اس کی بتائی گئی وہ جگہ روہن کو عجیب سا احساس دلا رہی تھی- اس کادل نہیں کر رہا تھاایک پل بھی وہاں کھڑا رہنے کو-

”ابے آ نا- دو منٹ میں کچھ نہیں ہوتا-“ نتن نے واپس آکر روہن کا ہاتھ پکڑ کر اپنے ساتھ کھینچ لیا-”ویسے بھی دیر کس بات کی- ہم کو آج توکالج بھی نہیں جانا ہے- تم سے تو آج وہ ملے گی- پیار بھری باتیں کرے گی- سچ میں بہت پیاری ہے- اگر اس کی طرف سے کوئی سازش نہ ہوئی تو تم بے شک اس سے شادی کر لینا- “ یہ کہہ کر نتن ہلکا سا ہنس پڑا-

”مجھے نہیں جانا یار آگے-تمہیں جانا ہے تو جاﺅ-“ روہن اپنا ہاتھ چھڑا کر وہیں کھڑا ہوگیا-

نیرو کی باتیں اب اس کے دماغ میں ہتھوڑے کی طرح بجنے لگی تھیں- اس کا سر بھاری سا ہونے لگا- ”میںیہیں رک جاتا ہوں-“

”ارے ڈرپوک— مجھے نہیں پتہ تھا کہ تم— چلو ٹھیک ہے تم یہیں رک جاﺅ- میں ابھی آیا‘ دیکھوں تو سہی کیسا پیڑ ہے اور کتنے واٹ کا بلب ٹنگا ہوا ہے اس پر‘ جو ساری رات اس پر روشنی رہتی ہے-“ یہ کہتے ہوئے نتن روہن کو وہیں چھوڑ کر آگے بڑھ گیا- روہن اب اکیلا رہ گیا تھا- لیکن پتہ نہیں کیوں اس کو ہوا کی سائیں سائیں میں سے چھن چھن کر آرہی کچھ عجیب سے ہلچل سنائی دے رہی تھی- وہ سچ میں ہی ماننے لگا تھا کہ کچھ نہ کچھ تو ضروری گڑبڑ ہے اس کی زندگی میں- نیرو کی رات کو کہی گئی باتیں رہ رہ کر اس کے دماغ میں گونج رہی تھیں- بے شک روہن کو وہاں ڈر نہیں لگ رہا تھا‘ لیکن دماغ میں لگاتار عجیب و غریب طریقے سے رات کی یادوں کا بھنور اس کے دل و دماغ کو بے چین سا کر رہا تھا- اچانک روہن کو محسوس ہوا کہ کسی نے پیچھے سے اس کو چھو لیا ہے- گھبرا کر اس نے پیچھے پلٹ کر دیکھا مگر وہاں کچھ نہیں تھا‘ کچھ بھی نہیں-

”شٹ ‘ یہ مجھے کیا ہوگیا ہے؟-“ روہن دل ہی دل میں بڑبڑایا اور واپس مڑ کر نتن کی راہ دیکھنے لگا- نتن پیڑ کے پاس ہی کھڑا تھا- تبھی چھوٹی سی دیوار پر رکھا پتھر وہاں سے لڑھک کر نیچے گر گیا- اتفاق سے روہن ادھر ہی دیکھ رہا تھا‘ اپنے آپ ہی روہن کے دل کی دھڑکن بڑھ گئی- دھیرے دھیرے آگے بڑھتے ہوئے اس نے دیوار کی دوسری طر ف جھانکا- مگر وہاں کچھ نہیں تھا- سب کچھ عجیب تھا- لیکن روہن کو اب وہ سب عجیب نہیں بلکہ ایک اشارہ لگ رہا تھا- نیرو کی طرف سے‘ اس کے وہاں پر ہونے کا-

”تم – یہیں ہو کیا؟-“ روہن نے دھیرے سے کہا-مگر اسے کوئی جواب نہیں ملا-”نیرو – نیرو- اگر تم یہاں ہو تو جواب دو–“ روہن نے پھر پکار کر دیکھا- اگر کوئی ہوتا تو جواب ملتا نا- تبھی اس کو نتن اپنی طرف آتا دکھائی دیا- روہن چپ ہوگیا اور اس کی طرف دیکھنے لگا-

”مجھے یقین نہیں تھا کہ تم یہاں آﺅگے-“نتن آکر اس کے پاس کھڑا ہوگیا-

”ہاں- میں آنا نہیں چاہتا تھا- لیکن تم زبردستی لے آئے- چلیں اب-“ روہن نے گھومتے ہوئے جواب دیا اور چلنے لگا-

”یعنی تم میرے لئے یہاں نہیں آئے-“ نتن وہاں کھڑا ہوگیا-

”اب چل یار- تیرے لئے ہی تو آیا ہوں- ورنہ تم منہ پھلا لیتے- اور مجھے اگلی بار کام پڑتا تو نخرے دکھاتے- چل اب-“ روہن واپس آکر اس کے پاس کھڑا ہوگیا-

”لیکن تم نے یہ نہیں سوچا کہ میرا کیا ہوگا- نتن اپنی جگہ سے ہلا نہیں‘ وہیں کھڑابولتا رہا-

”کیا اناپ شناپ بک رہا ہے- اب چل بھی-“ روہن جھلا اٹھا- اس کو وہاں سے نکلنے کی جلدی تھی-

”تم سمجھنے کی کوشش کیوں نہیں کرتے دیو-“ نتن کے منہ سے ”دیو“ نکلتے ہی روہن اچھل پڑا-

”کک- کیا- کیا کہا تم نے؟–“

”میرا کیا ہوگا دیو- تمہارے وعدے کا کیا ہوگا- بولو-“

اوہ مائی گاڈ- نیرو-“ روہن کی حیرت کا کوئی ٹھکانہ نہ تھا-

”ہاں دیو- میں اب بھی تمہارا انتظار کر رہی ہوں- تم نیرو کو لے آﺅ یہاں-مجھے مکتی دے دو- پھر جو دل میں آئے کرنا- میں کب سے تمہارے انتظار میں تڑ پ رہی تھی- کم سے کم— مجھے— یہاں سے — نکال تو دو-“ کہتے ہی نتن دھڑام سے پیٹھ کے بل گر پڑا-

”دیو- مجھے واپس لے چلو پیپل کے پاس-“

”نتن کیا ہوگیا ہے تمہیں؟-“ روہن نے گھٹنوں کے بل بیٹھ کر اس کا سر اپنے ہاتھوں میں اٹھا لیا-سب کچھ پلٹتا دکھائی دیا اس کو‘ زمین گھومتی سی لگنے لگی تھی-

”مجھے واپس لے چلو دیو- دھوپ میں مجھے—انفیکشن ہوجاتا ہے- اس کا زہر تمہارے دوست کی رگوں میں پھیلنا شروع ہوگیا ہے— مجھے جلدی سے- وہیں لے چلو- میں واپس — چلی جاﺅں گی-“ نتن اٹک اٹک کر بول رہا تھا- اس کی سانسیں پھولتی جا رہی تھیں- روہن کی سمجھ میں اور کچھ نہ آیا- اس نے بڑی مشکل سے نتن کو اٹھا کر کندھے پر ڈالا اور پیپل کی طرف دوڑ پڑا-

”ہاں- یہیں لٹا دو- پیڑ کے پاس-“ روہن نے ویسا ہی کیا-

”مجھے مکتی دلانا دیو- — اس کو لے جاﺅ یہاں سے-“ کہتے ہوئے نتن کی آنکھیں بند ہوگئیں اور روہن نے ویسا ہی کیا جیسے اس کو ہدایت ملی تھی- وہ پہلے کی طرح کندھے پر اٹھاکر تیزی سے چلنے لگا-

”ارے مجھے کندھے پہ کیوں اٹھا رکھا ہے الو کی دم- اتار نیچے- نتن کے بولتے ہی روہن کی جان میں جان آئی اور اس نے نتن کو کندھے سے اتار کر کھڑا کر دیا- نتن کی سانسیں تیزی سے چل رہی تھیں- ایسا لگتا تھا جیسے بہت لمبی دوڑ لگا کر آیا ہو-

”کیا تھا یہ- کہاں اٹھا کر لے جا رہا تھا مجھے-“

”تمہیں معلوم بھی تم کہاں ہو؟-“ روہن نے اس کا ہاتھ پکڑ کھینچ لیا اور آگے بڑھنے لگا-

”بتا تو کیا ہوا؟-“ نتن کی سانسیں اب اعتدال پر آنے لگی تھیں-

”چل باہر چل کر بتاتا ہوں-‘ روہن نے کہا اور کچھ دیر بعد ہی وہ گاڑی کے پاس تھے-

”تمہارے اندر بھوت سما گیا تھا-“ روہن نے اس کی طرف دیکھتے ہوئے کہا-

”ہا ہا ہا— تجھے پتہ نہیں — میں اب بھی بھوت ہی ہوں-خوفناک بھوت-“ نتن نے غرا کر کہا اور پھر بولا-”چپ بے- مجھے ایسے مذاق ایک دم گھٹیا لگتے ہیں-چل گاڑی میں بیٹھ-“کہہ کر نتن ڈرائیونگ سیٹ پر آگیا-

”تمہیں یقین نہیں آرہا نا- تمہیں پتہ بھی ہے کہ میں تمہیں کہاں سے لایا ہوں-“ روہن اس کے ساتھ والی سیٹ پر بیٹھتا ہوا بولا-

”ہاں پتہ ہے- میں پیڑ کے پاس لیٹا ہوا تھا جب تم نے مجھے اٹھایا-“ نتن نے گاڑی اسٹارٹ کرکے جواب دیا-

”کیوں- کیوں لیٹے ہوئے تھے تم وہاں-“ روہن نے پھر سوال کیا-

نتن ایک پل کے لئے چپ ہوگیا- پھر روہن کے چہرے پر نظریں جما کر بولا- ”پتہ نہیں- کمال ہے یار- اب بھی یقین نہیں آرہا ہے- کیا نیند آگئی ہو- چھاﺅں دیکھ کر-“

”ہوں- ہوسکتا ہے-“ روہن نے بات کو بڑھانا نہیں چاہا- اس کو نتن کی فطرت کا پتہ تھا- اگر وہ ابھی نتن کو وہ باتیں بتا دیتا جو ابھی تھوڑی پہلے ہوئی تھیں تو نتن دوبارہ وہیں جا کر چھان بین شروع کر دیا-

”اب تو سیدھے چل رہے ہیں نا شروتی کے گھر-“

”آئے ہائے- کیا بات ہے میری جان— تم تو بڑے بے چین ہو رہے ہو- فکر مت کرو- آج سارا دن وہ تمہارے ساتھ رہے گی- بس ہلکا سا اشارہ کر دینا اس کو-“ نتن شرارتی انداز میں بولتے ہوئے مسکرانے لگا-

”تمہیں وہ کیسی لگتی ہے-“ روہن نے نتن سے پوچھا-

”کیا مطلب؟-“

”بس ایسے ہی- بتا نا– کیسی لگتی ہے-“ رو ہن نے پھر زور دیتے ہوئے کہا-

”سوئیٹ سی ہے- خوبصورت ہے- شرمیلی ہے- یہ سارے پوائنٹس ملا کر میری بھابھی بننے کے لائق ہے وہ- لیکن اگر ٹیلے پر بلا کر ڈرانے کی سازش میں اس کا یا اس کے باپ کا کچھ ہاتھ ملا تو میں ان کو چھوڑوں گا نہیں- پہلے بتا رہا ہوں- مجھے دھوکے بازی سے سخت نفرت ہے-“ نتن نے سامنے آ گئے گدھے کو دیکھ کر گاڑی نیچے اتار دی-

”میں کیا پوچھ رہا ہوں اور تم کیا جواب دے رہے ہو-“ روہن نے کہا-

”ابے دے تو دیا جواب- پٹاخہ ہے ایکدم- آج بانہوں میں لے ہی لینا- ہا ہا ہا-“ نتن نے مسکرا کر کہا-

”او ر اگر مجھے کسی اور سے پیار ہو تو-“ روہن نے اس کے چہرے کی طرف دیکھتے ہوئے کہا-

”ارے بھائی اپنے ساتھ میری مٹی بھی کیوں پلید کروا رہا ہے-کتنی معشوقائیں ہیں تیرے پاس- کل شروتی کے لئے مرا جا رہا تھا اور- اب مجھے مت بتانا کہ وہ نئی لڑکی کون ہے- سمجھا-“ نتن نے جھلا کر بناوٹی غصے سے اس کی طرف دیکھا-

”میں تو مذاق کر رہا ہوں یار-“ روہن نے ہچکچاتے ہوئے بات کہی اور باہر دیکھنے لگا- گاﺅں قریب آگیا تھا-

”مذاق کر رہا ہوں-ہونہہ-“ نتن نے عجیب سی شکل بنا کر اس کی نقل اتاری اور گھر کے سامنے گاڑی روک کر ہارن بجانے لگا-

بڈھا لگ بھگ بھاگتا ہوا باہر آیا-

”وہ تیار ہوگئی کیا انکل جی-“ نتن نے گاڑی کا شیشہ نیچے کرتے ہوئے پوچھا-

”ہاں بیٹا- وہ تو تیار ہے- تم کھانا تو کھا لو- شروتی نے بنا کر رکھا ہے تم دونوں کے لئے-“ روہن کچھ بولنے ہی والا تھا کہ نتن نے پہلے ہی بول دیا-

”ٹھیک ہے انکل جی- ایک بار اور سہی-“

اس کے بعد دونوں گاڑی سے اتر کر بڈھے کے ساتھ اندر آگئے- اندر جاتے ہوئے ‘ کھانا کھاتے ہوئے اور پھر باہر آتے ہوئے روہن نہایت باریک بینی سے رات کو بیتے ہوئے واقعے سے جڑے کسی بھی سراغ کی تلاش میں رہا – لیکن کچھ ہوتا تو ملتا- آخر کار چاروں گھر سے باہر نکل آئے- شروتی کے لئے روہن نے پچھلا دروازہ کھول دیا اور وہ چپ چاپ گاڑی میں بیٹھ گئی-

”اچھا بابا- میں چار بجے تک آجاﺅں گی-“

”ٹھیک ہے بیٹی-“اور پھر نتن سے مخاطلب ہوتے ہوئے بولا- ”اچھا بیٹا- آرام سے جانا- اور اس کو بس اسٹیند پر اتار دینا- وہاں سے چلی جائے گی اپنے آپ-“

”آپ کیوں فکر کر تے ہو انکل جی- ہم کالج ہی چھوڑ جائیں گے- اچھا اب اجازت دیں-“

’ ’بھگوان تمہارا بھلا کرے بیٹا-“ بڈھے کے اتنا کہتے ہی نتن نے کار آگے بڑھا دی-

وہاں سے روانہ ہونے کے بعد جب روہن اور شروتی میں سے کوئی کچھ نہیں ہولا تو مجبوراً نتن کو ہی اپنا منہ کھولنا پڑا- ”جا روہن پیچھے بیٹھ جا-“

”میں— کیوں؟-“ روہن ہکلا سا گیا-

نتن نے بیک ویو مرر کو سیٹ کرکے شروتی کے چہرے پر نظر ڈالی- لگتا تھا اس پر نتن کی بات کا کوئی اثر نہیں ہوا تھا- یا شاید اس کا دھیان ان پر تھا ہی نہیں – اپنی لمبی کالی زلفوں کو بار بار کانوں کے پیچھے لے جانے کی کوشش سی کرتی ہوئی وہ باہر دیکھ رہی تھی- اس کا چہرہ ایک دم پرسکون تھا- ٹھہرے ہوئے پانی کی طرح‘ نہ تو مسکان تھی اس کے چہرے پر اور نہ ہی کوئی شکن-

”ارے تم نہیں تو کیا میں جاﺅں گا- سیٹنگ تمہاری ہے یا میری؟-“ اس بار نتن نے جان بوجھ کر تیز لہجے میں کہا تھا- یہ سنتے ہی شروتی ایک لحظے کے لئے چونک سی گئی اس نے اچانک نظریں گھما کر نتن کو دیکھا اور اپنی گردن جھکا لی-

”بھائی تم گاڑی چلاتے رہو نا- مجھے کہیں نہیں جانا-“ روہن نے کھسیا کر جواب دیا- اس کا شروتی سے بات کرنے کا دل ہی نہیں کر رہا تھا- ہوتا بھی تو انجان لڑکی سے کیا بات کرتا- اب تو ساری بات صاف ہو ہی چکی تھی- کم سے کم روہن کے دماغ کی حد تک-

”عجیب قسم کے آدمی ہو تم- دو دن سے مجھے گدھے کی طرح ہانک رہے ہو اور اب کہتے ہو کہ— دیکھ لے- اگر تمہیں کوئی پرابلم نہیں ہے تو میں شروع ہوجاتا ہوں-“ نتن اپنی بات کا مطلب آنکھوں ہی آنکھوں میں روہن کو سمجھاتا ہوا بولا- اس کو اس طرح کی باتیں کرتے دیکھ کر شروتی کے کان کھڑے ہوئے تھے- اس کا چہرہ کچھ پھیکا سا پڑ گیا تھا- جب اس سے رہا نہ گیا تو وہ ان کی طرف دیکھ کر دھیان سے سننے لگی-

”تم چلتے رہو نا بھائی- بتا تو رہا ہوں- ایسا کچھ نہیں ہے- وہ میری غلط فہمی تھی- تم جو سمجھ رہے ہو یہاں وہ مسئلہ نہیں ہے-“ روہن نے اس کو چپ کرانے کی کوشش کرتے ہوئے کہا-

”ٹھیک ہے- اگر یہ تیرا معاملہ نہیں ہے تو پھر میں اسے اپنا معاملہ بنا لیتا ہوں- اب بیچ میں مت بولنا–“ شہر کو نزدیک آتے دیکھ کر نتن نے اچانک نہر کے ساتھ بنے کچے راستے پر گاڑی موڑ دی- شروتی کانپ اٹھی اور لرزتی ہوئی آواز میں بولی- ”یہ- یہ کہاں لے کر جا رہے ہیں آپ- گاڑی روکئے-“

”فکر نہ کریں نیرو جی- یہ راستہ شارٹ کٹ ہے- سیدھا وہیں جاتا ہے جہاں آپ جانا چاہتی ہیں- ہا ہاہا-“ کہہ کر نتن نے سیٹی بجانی شروع کر دی- شروتی بدحواسی میں کار کے شیشے پیٹنے لگی-

”مجھے اتار دو- میں چلی جاﺅں گی اپنے آپ-“ روہن کو نتن کی اس حرکت پر تعجب ہو رہا تھا- اتنی بچکانہ حرکت نتن بھی کرسکتا ہے‘ روہن کو قطعی امید نہیں تھی-

”کیا کر رہا ہے یار- یہ وہ لڑکی نہیں ہے- سمجھا کر- اس کا کوئی قصور نہیں ہے-“

‘ نتن نے روہن کو دیکھتے ہوئے اپنی دائیں آنکھ دبائی‘ مجبوراً روہن کو چپ ہوجانا پڑا- جانے کیا کرنا چاہتا ہے یہ نتن-

”یہ آپ لوگ کہاں لے جا رہے ہیں مجھے- کارروکیں پلیز-“ شروتی گڑگڑانے لگی-

نتن نے اس کی بات پر کوئی دھیان نہیں دیا- گاڑی اسی رفتار سے آگے دوڑتی رہی-

”ہم نے سنا ہے کسی نے تمہاری قمیص پھاڑ دی تھی رات کو- کون عاشق تھا بھلا-“

شروتی کواس کی باتوں سے زیادہ اپنی جان کی فکرہو رہی تھی- ”مجھے نہیں پتہ- آپ گاڑی روکیںپلیز-“

”بتایئے تو سہی- پھر میں آپ کو واپس چھوڑ آﺅں گا- وعدہ رہا- ویسے کسی کا بھی قصور نہیں ہے- آپ ہیں ہی اتنی خوبصورت کہ آپ کے ساتھ زبردستی کرنے کا موقع ملے تو کوئی پھانسی کی بھی پرواہ نہیں کرے گا- کیوں روہن؟-“

روہن نے اس کی طرف دیکھ کر برا سا منہ بنایا- اسے شروتی پر بہت رحم آرہا تھا-

”گاڑی روکیں پلیز- واپس لے چلیں- میں- میں آپ کے ہاتھ جوڑتی ہوں-“ سچ میں ہی شروتی ہاتھ جوڑ کر رونے لگی تھی-

”دیکھیں مس- مجھ پر آنسو اثر نہیں کرتے- لڑکیوں کا تو شکاری ہوں میں- چارپانچ ریپ کیس بھی ہیں مجھ پر- اس لئے سلامتی اسی میں ہے کہ آپ وہ بولنا شروع کر دیں جو میں آپ سے پوچھ رہا ہوں- ورنہ- مجھے اپنے جذبات پر قابو رکھنے کی عادت نہیں ہے- اور آپ کے معاملے میں تو میں رعایت دینے کے موڈ میں قطعی نہیں ہوں-“ نتن نے فلمی لہجے میں ڈائیلاگ بولتے ہوئے کہا-

شروتی کا گلہ سوکھ رہا تھا نتن کی باتیں سن کر- دھیرے دھیرے اپنی سسکیوں پر قابو پاتی ہوئی بولی-”کیا؟-“

”کیا یہ سچ ہے کہ رات کو کسی نے آپ کی قمیص پھاڑ دی تھی-“ نتن نے پوچھنا شروع کیا-

شروتی کا سر شرم کے مارے جھک گیا- لیکن اس نے اپنی گردن ہاں میں ہلا ہی دی- نتن نے حالانکہ اس کا ہلتا ہوا سر دیکھ لیاتھا- لیکن پھر بھی بولا- ”بولو-“

”ہاں-“ بڑی مشکل سے شروتی کے گلے سے آواز نکلی-

” کس نے؟-“ نتن کا اگلا سوال تھا-

”پتہ نہیں-“ شروتی نے سر جھکائے ہوئے ہی جواب دیا-

”مطلب کسی نے آپ کے کپڑے پھاڑ دیئے اور آپ کو پتہ بھی نہیں چلا- آپ کو کیا لگتا ہے کہ میں آپ کی اس بات پر یقین کر لوں گا-“

”وہ ہمارے گاﺅں میں اکثر کچھ بھی عجیب ہو جاتا ہے- اس لئے ہمیں عادت ہوگئی ہے-“ شروتی نے جواب دینے میں ہی بھلائی سمجھی-

”عادت— کپڑے پھاڑنے کی؟-“

شروتی نے اس بات کا کوئی جواب نہیں دیا اور سبکنے لگی- اس کے پاس بولنے کے لئے کچھ نہیں بچا تھا-

”چلیں چھوڑیں- یہ بتا دیں کہ میرے شیر سے آپ کب ملی تھیں-“ نتن نے اپنا لہجہ کسی قدر نرم کرتے ہوئے پوچھا-

”جی؟-“ شروتی کچھ نہیں سمجھی-

”اس سے- روہن سے- آپ کی ملاقات کب ہوئی تھی-“ نتن نے روہن کی کمر پر ہاتھ مارتے ہوئے پوچھا-

”میری-“ وہ حیرت سے بولی- ”میں نے تو اب سے پہلے ان کو کبھی دیکھا بھی نہیں -“ اگر چہ شروتی کا سبکنا اب کم ہو گیا تھا لیکن انجانے ڈر سے وہ اب بھی کانپ رہی تھی-

”اچھا- تمہیں پتہ نہیں کہ یہ تمہارا کتنا دیوانہ ہے- تمہارے پاس جانے کے لئے یہ مجھے رات کو اس پرانے ٹیلے پر لے گیا- اتنا پاگل ہوچکا ہے یہ- اور تم کہتی ہو کہ اس سے پہلے تم کبھی مل ہی نہیں- یہ کیسے ہو سکتا ہے؟-“ نتن نے ذرا سخت لہجے میں کہا-

شروتی نے حیرانی سے روہن کے چہرے کی طرف غور سے دیکھا- لیکن کبھی ایک بار بھی کہیں اسے دیکھ لینے کا احساس اپنے دل میں نہیں لا پائی-

”میرا یقین کیجئے- میں نے ان کو پہلے کبھی دیکھا ہی نہیں ہے- میں تو اس شہر کے علاوہ کبھی کہیں گئی ہی نہیں-“

”میں کہہ تو رہا ہوں یار کہ یہ وہ لڑکی نہیں ہے- مجھے غلط فہمی ہوگئی تھی- وہ کوئی اور ہے-“ روہن سے چپ بیٹھا نہیں گیا-

”تم چپ ہوجاﺅ بس- آج کے بعد تمہاری شکل بھی نہیں دیکھنی مجھے- اب کون سے ٹیلے پر لے جانے کی سوچ رہا ہے مجھے-تمہارا دماغ تو خراب ہو ہی گیا ہے- مجھے بھی پاگل کرکے چھوڑو گے- — لیجئے مس شروتی- آپ کا کالج آگیا- یہی ہے نا-“

سنتے ہی شروتی کی خوف کے ماری سکڑ ی ہوئی آنکھوں میں چمک سی آ گئی- اپنا چہرہ اٹھا کر اس نے چونک کر باہر کی طرف دیکھا-

”ہاں— آپ— اوہ- لیکن آپ کو کیسے پتہ میرے کالج کا-“ دروازہ کھولنے کی کوشش کرتی وہ بولی- مگر دروازہ نہیں کھلا-

”اس شہر میں یہی ایک کالج ہے میرے خیال سے- خیر معاف کرنا میں کچھ جاننا چاہتا تھا- اس لئے مجھے آپ کو ڈرانے کے لئے گھٹیا باتیں کہنی پڑیں- پچھلے دروازے کا لاک کھولنا روہن-“

شروتی کچھ نہ بولی-اس کا من اب بھی اچھل رہا تھا- بچنے کی کم ہی امید تھی اس کو- دروازہ کھلتے ہی وہ تیزی سے باہر نکلی اور بنا بولے روڈ پارکرنے لگی-

”یہ سب کیا بکواس تھی نتن- چل اب-“ روہن کی آنکھیں کالج کے گیٹ کی طرف بڑھتی ہوئی شروتی کا پیچھا کر رہی تھیں-

”ابے رک تو سہی-“ نتن بھی بڑے غور سے شروتی کو دیکھے جا رہا تھا- گیٹ پر پہنچ کر شروتی ٹھٹھکی اور پیچھے مڑ کر دیکھا‘ کار کی طرف- نتن مسکرانے لگا اور اس کی طرف اپنا ہاتھ ہلا دیا- شروتی اپنی نظریں جھکاتی ہوئی مڑی اور سیدھی آگے بڑھ گئی-

”یہ کیا تھا بھائی- تم ایسے بھی ہو کیا؟—- کیا کر رہے تھے تم-“ روہن نے شروتی کے نظروں سے اوجھل ہوتے ہی پوچھا-

”ایک تیر سے دو شکار-“ یہ کہہ کر نتن روہن کی طرف دیکھ کر مسکرایا اور گاڑی چلا دی-

”کیا مطلب؟-“روہن اس کی بات سمجھ نہیں پایا-

”تم اب میری باتوں کا مطلب پوچھنا چھوڑو اور اپنے اس واہیات ناٹک کی کہانی بتا- پہلے تم ضد کرکے مجھے وہاں لے گئے جہاں آدمی تو کیا آدمی کی ذات بھی نہیں رہتی- پھر واپس آتے ہوئے تمہیں وہ لڑکی مل بھی گئی- اب اس لڑکی نے انکار کر دیا تو تم کہہ رہے ہو کہ وہ یہ نہیں کوئی اور ہے- مطلب کیا ہے تیری ان باتوں کا-بے وقوف سمجھا ہوا ہے کیا؟-“ نتن اس کی طرف گھورتا ہوا بولا-

”نہیں بھائی میں تم سے جھوٹ کیوں بولوں گا- ہمیشہ میں نے تمہیں بڑے بھائی کی طرح مانا ہے- لیکن سچ میں- میری خود سمجھ میں نہیں آرہا ہے کہ یہ سب آخر ہو کیا رہا ہے- یہ باتیں سوچ سوچ کر میرا سر چکرانے لگتا ہے- تم ہی بتاﺅں میں کروں تو کیا کروں-“ روہن نے سیٹ سے سر ٹکا کر اپنی آنکھیں بند کرلیں-

”ہوں- مگر تم کس وجہ سے کہہ رہے ہو کہ وہ لڑکی کوئی اور ہے- پھر اس کا فون آیا تھا کیا-؟“ نتن نے اس سے پوچھا-

”آں– ہاں-“ روہن نے یونہی کہہ دیا-

”دفعہ کر ان باتوں کو- یہ لڑکی بھی پٹاخہ ہے بالکل- تم کہو تو اس کو تمہارے لئے پٹا لوں- چلے گی نا؟-“ نتن نے ساری باتیں چھوڑ کر شروتی کی بات پکڑ لی-

”کیسے؟-“ روہن آنکھیں بند کئے ہوئے ہی بولا-

”وہ تم مجھ پر چھوڑ دو- صرف یہ بتاﺅ کہ اس کے بعد تو تم ٹھیک ہو جاﺅ گے نا- مطلب تمہارے دماغ کو فتور دور ہوجائے گا نا-“ نتن نے گاڑی روک کر اس کے کندھے پر ہاتھ رکھ دیا-

روہن کچھ دیر چپ بیٹھا رہا‘ پھر بولا”نہیں یار- مجھے اس سے ملنا ہے ایک بار- اس کے بعد تم جو کہو گے میں کر لوں گا-“

”اس لڑکی کو دیکھا ہے تم نے-“نتن نے سوال کیا-

”نہیں-“ روہن نے پھر آنکھیں بند کرلیں-

” یہی بات- اسی بات پر اتنا غصہ آتا ہے مجھے- کیوں اپنی اچھی خاصی زندگی کو گدھے پر لادنا چاہتا ہے- تم نے اس کو دیکھا تک نہیں ہے- پھر کیوں اس کے پیچھے پاگل ہوئے جا رہے ہو- میں شرط لگا کر کہہ سکتا ہوں کہ وہ لڑکی شرطیہ شروتی سے خوبصورت نہیں ہوسکتی- کبھی ا سکو نظر بھر کر دیکھا ہے- کتنی ٹھنڈک ملتی ہے کلیجے کو-“ نتن نے کہتے ہوئے دل پر ہاتھ رکھ دیا-

”بھائی اگر تمہیں ٹھنڈک ملتی ہے تو تم ہی لے آﺅ نااسے-“ روہن اس کی باتوں سے تنگ آگیا- اس کا دماغ تو اب وہیں گھوم رہا تھا- ”عمر کوٹ “ میں-

”تم کیا سمجھتے ہو -آج بھی میں اس لئے چپ رہا کہ یہ تیری ہے- ورنہ میں تو بلو کے گھر کا ٹکٹ کٹا کر ہی رہوں گا- کم سے ایک بار-“ نتن نے یقین کے ساتھ کہا-

”ہونہہ- بڑے چپ رہے تم آج— باتوں ہی باتوں میں تم نے تو جان ہی نکال دی تھی اس بیچاری کی- اور کہہ رہے ہو کہ میں چپ تھا- اپنے ساتھ میری بھی بے عزتی کروادی اس کے سامنے- تمہیں کیا لگتا ہے کہ اب وہ لڑکی تمہاری طرف دیکھنا بھی پسند کرے گی؟-“ روہن نے قدرے احتجاجی لہجے میں کہا-

”تم نے مجھے کیا اپنی طرح الو سمجھ رکھا ہے- ایک ایک دن میں دو دو لڑکیاں پٹائی ہیں میں نے-اور یہ تو بیچاری بہت نادان ہے-یہ تو گھنٹے بھر کا بھی کام نہیں ہے- لڑکیوں کی سائیکولوجی- جیوگرافی‘ کیمسٹری سب جانتا ہوں میں-“ نتن نے سینہ پھلاتے ہوئے کہا-

روہن ‘ نتن کی اس بات پر ہنسے بنا نہیں رہ سکا- نتن نے غلط نہیں کہا تھا- روہن کی فطرت کے عین برعکس وہ ایک دم ٹی ٹوئئنٹی اسٹائل کا کھلاڑی تھا- جس لڑکی پر دل آگیا‘ اس کو پٹانا اس کے لئے کوئی بڑی بات نہیں ہوتی تھی- اور پھر وہ دوسرے میچ کی تیاری شروع کر دیتا-بس اسی بات پر روہن اور نتن میں زمین آسمان کا فرق تھا-

”چلو جو تمہاری مرضی ہو کر لینا-مگر میرا بھی تو کچھ خیال کرو-“

”اب وہ لڑکی کہاں ملے گی؟-“ نتن فوراً سنجیدہ ہوتے ہوئے بولا-

”عمر کوٹ میں-“ روہن نے بھی فوراً ہی جواب دیا-

”کس کا کوٹ؟-“ نتن نے شاید نام ڈھنگ سے نہیں سنا تھا-

”کسی کا کوٹ نہیں- عمر کوٹ- تھرپارکر- اور ہم کبھی ملے بھی نہیں ہیں-“ روہن نے دھیمے لہجے میں کہا-

”یہ لو- تو کیا خواب دیکھا تھا؟-“ نتن نے مذاق میں کہا-

”سچ بتاﺅں یا جھوٹ؟-“ روہن نے آنکھیں کھول کر اس کی طرف دیکھا-

”اب بھی جھوٹ بولے گا تو دوں گا ایک کان کے نیچے- سمجھا کیا ہے مجھے- چلو شروع ہوجاﺅ-“ نتن نے اس کو پیار سے جھڑکتے ہوئے کہا-

”ہاں خواب آیا تھا- “ روہن نے بنا رکے کہہ دیا-

”کیا؟-“ نتن کو اس کی بات مذاق لگی تھی-

”خواب دیکھا تھا بھائی- تمہاری قسم- “ روہن کو آخر کسی نہ کسی سے تو اپنا یہ مسئلہ شیئر کرنا ہی تھا‘ اس لئے اس نے اپنے سب سے اچھے دوست سے شیئر کرنا ہی بہتر سمجھا-

”لگتا ہے تمہارے دماغ میں گرمی چڑھ گئی ہے- چلو کولڈ ڈرنک پیتے ہیں بعد میں بات کریں گے–“ نتن نے ہنستے ہوئے کہا-

٭٭٭٭٭٭٭

”یہ سب کیا ہے یار- تم نے مجھے پہلے کیوں نہیں بتایا- تمہیں اس لڑکی کو نہیں بلکہ کسی اچھے ماہر نفسیات کو تلاش کرنا چاہئے-“ ساری بات سننے کے بعد نتن نے اپنا قیمتی مشورہ اسے دیا-

دونوں ایک ڈھابے پر بیٹھے کولڈ ڈرنکس پی رہے تھے-

”تم ایسا بول سکتے ہو بھائی- کیونکہ تمہارے ساتھ ایسا کچھ نہیں ہوا ہے- تم نہیں سمجھ سکتے- اگر یہ سب میرے دماغ کا فتور ہوتا تو بتا وہی لڑکی جو مجھے خوابوں میں دکھائی دیتی ہے وہ اصلیت میں کیسے مل گئی- جبکہ ہم دونوں نے کبھی ایک دوسرے کو دیکھا تک نہیں ہے- پھر انکل جی نے جو کچھ پرانے ٹیلے کے بارے میں بتایا- اس لڑکی نے بھی تو مجھے وہیں بلایا تھا- ہماری گاڑی کے ٹائروں کی اپنے آپ ہوا نکل گئی- صبح اپنے آپ بھر گئی- خواب میں اس نے میرے سامنے اپنی قمیص پھاڑ دی اور صبح وہ بھی سچ تھا- سب سے بڑی بات تو یہ کہ میں نے تمہارے منہ سے بھی نیرو کی آواز سنی ہے- جب ہم ٹیلے پر گئے تھے- کیا اب بھی تم کہو گے کہ یہ سب محض وہم ہے-“ روہن نے اپنی بات کو پختہ کرنے کے لئے پھر سے ان باتوں کو دوہرایا-

”ہوں- تبھی تو مجھے لگ رہا ہے کہ اس میں باپ بیٹی کی سازش کی بو آرہی ہے- تمہارے ہر خواب کا اسی لڑکی سے تعلق ہے- اور جس نے کہانی سنائی وہ اس کا باپ ہے- ٹیلہ بھی ان کے گاﺅں کا ہی ہے- بچہ وہ کھڑا کر سکتے ہیں وہاں- اور ٹائروں کی ہوا بھی نکال سکتے ہیں- کیونکہ انہیں یقین ہوگا کہ واپس آتے ہوئے ہم ان کا ہی دروازہ کھٹکھٹائیں گے- صبح ہمارے جاگنے سے پہلے ٹائروں میں ہوا بھی بھر سکتے ہیں وہ لوگ- تمہیں یاد ہے جب ہم نے ان کا دروازہ کھٹکھٹایا تو شروتی نے کیا کہا تھا- بابا وہ آگئے- کیا مطلب ہے اس کا؟- یہی نا کہ وہ ہمارا انتظار کر رہے تھے- شرطیہ کہہ سکتا ہوں کہ یہ انہی کی سازش ہے- تم مانو یا نہ مانو-“ نتن نے ان تمام باتوں کا نچوڑ نکالتے ہوئے کہا-

”اور تم جو مجھے دیو- دیو کہہ کر پکار رہے تھے- وہ؟-“ روہن اس کی ساری بات سننے کے بعد بولا-

”اب تمہاری دماغی حالت ہی ایسی ہوگئی ہے تو یہ تمہارا وہم بھی ہو سکتا ہے – مجھے تو یہی یاد آرہا ہے کہ پیپل کے پیڑ کی ٹھنڈی چھاﺅں دیکھ کر ایک بار لیٹنے کا دل ہوا تھا- پھر تم مجھے وہاں سے کندھے پر اٹھا کر بھاگ لئے-“ نتن اب بھی روہن کی پچھلے جنم اور روح والی بات پر یقین کرنے کو تیار نہیں تھا-

”تم سے اس بار ے میں بات کرنا ہی بیکار ہے- اسی لئے تو میں نے اتنے دنوں تک تمہیں کچھ نہیں بتایا- صرف روکی کو ہی بتایا تھا مگر وہ ڈر گیا اور ساتھ آنے سے انکار کر دیا-“ کچھ رک کر روہن نے پھر بولنا شروع کیا-“ چلو تمہاری بھی میں مان لیتا ہوں- مگر ایک بار عمر کوٹ جاکر اس لڑکی کا پتہ لگانے میں کیا حرج ہے- اگر کوئی نیرو وہاں مل گئی تو پھر تو تمہیں یقین ہو جائے گا نا-“ روہن اس کو سمجھا سمجھا کر تھک چکا تھا- مگر نتن اس کو اب بھی کوئی سازش سمجھ رہا تھا-

”دیکھو اول تو کوئی لڑکی تمہیں وہاں ملنی نہیں ہے- انہوں نے سوچا ہوگا کہ بس تم ایک بار یہاں تک آجاﺅ- اس کے بعد شرافت اور نزاکت کا چولہ پہن کر شروتی تمہیں پھنسا ہی لے گی- لیکن اگر کوئی لڑکی وہاں مل بھی گئی تو کون سی بڑی بات ہے اتنا بڑا ناٹک کرنے والوں کے لئے- بول- ہوسکتا ہے کہ وہاں بیٹھی نیرو بھی اس سازش میں شامل ہو-“

”مگر تم یہ کیوں بھول رہے ہو کہ خواب تو خود مجھے ہی آتے ہیں نا- اب میرا خواب بھی کیا کسی سازش کا نتیجہ ہو سکتا ہے؟- یا کہیں تمہیں یہ بھی تو نہیں لگ رہا کہ میں بھی اس سازش میں شامل ہوں اور جھوٹ بول رہا ہوں خواب کے بارے میں-“ روہن نے جھلاتے ہوئے کہا-

”نہیں- تم سازش کا حصہ کیسے ہو سکتے ہو- اگر کوئی سازش ہے تو تمہارے ہی خلاف ہے- لیکن مجھے لگتا ہے کہ خواب سازش کا حصہ ہوسکتا ہے- ہمیں کسی نیورولوجسٹ سے بات کرنی پڑے گی-“ نتن ایک اور منطق جھڑ دی-

”شٹ- یار تم بات کو بار بار وہیں لاکر چھوڑ دیتے ہو- آخری بات یہ ہے کہ کسی کو اور خاص طور سے ان باپ بیٹی کو میرے خلاف سازش سے ملے گا کیا؟-“ روہن کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوتا جا رہا تھا-

”تمہاری بے تحاشہ دولت- تمہیں پیار کے جال میں پھنسا کہ یہ شروتی یا وہ نیرو تم سے شادی کر سکتی ہیں- اور پھر آدھی جائیداد کی مالک بن سکتی ہیں- اس میں کسی اور کا حصہ بھی ہوسکتا ہے- مثلاً کسی خاص دوست یا رشتے دار کا – کیونکہ اتنی بڑی پلاننگ صرف ان باپ بیٹی کے بس کی بات نہیں ہے- ہمیں اس کی جڑ ٹٹولنی ہے- کوئی نہ کوئی تو ضرور ہے اس سب کے پیچھے- اور میں آج ہی پتہ لگا کر رہوں گا-“ نتن نے بوتل خالی کرتے ہوئے کہا-

روہن نے اپنا ماتھا پیٹ لیا-”اچھا آج ہی پتہ کر لے گا- پوچھ سکتا ہوں کیسے؟-“ روہن پوچھ بیٹھا-

”ٹائم کیا ہوا ہے-“ الٹا نتن نے پوچھا-

”ڈیڑھ بجنے والا ہے- کیوں؟-“

”شروتی آتے ہوئے بول رہی تھی کہ وہ چار بجے تک آئے گی گھر- بس سے جانے میں اس کو ڈیڑھ گھنٹہ تو لگتا ہی ہوگا- جلدی سے ایک ایک بوتل اور منگوا لے- پھر کالج کے سامنے چلتے ہیں؟-“ نتن نے ویٹر کو اشارہ کیا-

”آخر کیا کرنے کا سوچ رہے ہو بھائی؟-“ روہن عجیب نظروں سے اسے دیکھتے ہوئے بولا-

”شروتی کو سب کچھ بتانا ہی پڑے گا-“

”تو کیا پھر سے شروتی کو زبردستی گاڑی میں ڈالنے کا سوچ رہے ہو بھائی؟-“ روہن نے حیرت سے پوچھا-

”شش-“ نتن نے اپنے ہونٹوں پر انگلی رکھ دی-

یہ سوچ کر ہی روہن کے رونگٹے کھڑے ہوگئے-”اور اگر وہ بے قصور نکلی تو-“

”تو کیا- صبح اس کو واپس کالج چھوڑ دیں گے- ہمیں کون جانتا ہے-“ نتن نے لاپرواہی سے کہا- جیسے کسی لڑکی کو اٹھانا کوئی بڑی بات ہی نہ ہو-

”تمہاری گاڑی کا نمبر؟-“روہن کسی طرح اس کو اس حرکت سے باز رکھنا چاہتا تھا-

”میں نے آج تک اپنی گاڑی پر اوریجنل نمبر پلیٹ لگائی ہے کیا-“ نتن نے اپنی مسکراہٹ بکھیرتے ہوئے کہا-

”میرا خیال ہے اب ہمیں گھر چلنا چاہئے- ممی بھی فکرمند ہو رہی ہوں گی-“

روہن اس کے خرافاتی چکروں میں نہیں پڑنا چاہتا تھا-

”یہ تو اور بھی اچھا رہے گا- ویسے بھی مجھے آج تمہیں واپس بھیجنا ہی تھا گاڑی دے کر- مگر اب تو تمہیں ٹیکسی کرنا پڑے گی-“ نتن نے خوش ہوتے ہوئے کہا-

” یہ کوئی اتنا بڑا مسئلہ نہیں ہے- بس تم دھیان رکھنا- اس کا ناجائز فائدہ اٹھانے کی کوشش مت کرنا- بیچاری بہت معصوم ہے-“ روہن نے اٹھتے ہوئے کہا-

”تم چپ ہی رہو یار میں کون سا کسی برے مقصد سے اسے اغوا کرنا چاہتا ہوں- کچھ پوچھنا ہی تو ہے- ہاں- اگر وہ اپنی مرضی سے میرے ساتھ سیٹ ہوجاتی ہے تو پھر تم کوئی اعتراض مت کرنا- ٹھیک ہے نا- نتن ہنستے ہوئے بولا-

روہن نے کوئی جواب نہیں دیا وہ چپ چاپ نتن کی طرف دیکھتا رہا-بے شک نتن نے کوئی غلط کام نہ کرنے کا وعدہ کیا تھا- مگر اس کو زبردستی رات بھر روکے رکھنا بھی تو اغوا ہی کے زمرے میں آسکتا ہے- کتنی نازک اور کمسن ہے بیچاری- سوچ کر ہی روہن کا دل کر رہا تھا کہ وہ نتن کو نہ جانے دے- مگر نیرو کی سچائی جاننے کی جستجو اس کو کچھ بھی کرنے یا کہنے سے روک رہی تھی- نتن نے اس سازش کو جاننے کے لئے جو راستہ دکھایا تھا اس کے دل میں اس بات کو لے کر کسی گڑبڑ کا احساس ہو رہا تھا-

” پھر بھی یار-“ روہن اب بھی نتن کی ضد کے خلاف تھا-

”فکر مت کرو- تمہیں پتہ ہے کہ میں دل کا برا نہیں ہوں-” نتن نے روہن سے ہاتھ ملایا اور کار اسٹارٹ کر دی-

٭٭٭٭٭٭٭

نتن نے کچھ ضروری انتظامات کئے اور پھر واپس آگیا-کالج کے گیٹ پر گھنٹہ بھر انتظار کرنے کے بعد اس کو شروتی باہر آتی دکھائی دی-

”اوئے آ گئی-“ نتن نے دل ہی دل میں کہا اور گاڑی اسٹارٹ کرکے آگے کی طرف لے گیا جہاں شروتی روڈ پار کرکے آنے والی تھی- شروتی نے گیٹ سے باہر نکلتے ہوئے ہی گاڑی پہچان لی تھی اور نتن کو بھی اپنی طرف تکتے دیکھ لیا تھا- اس نے اپنا سر جھکایا اور اسے نظرانداز سا کرکے کالج سے تھوڑا آگے گئی ہی تھی کہ نتن نے گاڑی اس کے برابر میں روک دی-

”ہائے شروتی-“

شروتی نے ترچھی نظروں سے نتن کو دیکھا اور بنا کچھ بولے آگے بڑھ گئی- نتن نے ایک پل بھی نہیں گنوایا- فٹافٹ گاڑی سے اترا اور تیزی سے چل کر اس کا راستہ روک کر کھڑا ہوگیا-

”میں بھی گاﺅں ہی جا رہا ہوں- آﺅ نا- بیٹھ جاﺅ-“

شروتی نے آنکھیں اٹھا کر نتن کو گھورا-

”مجھے جانے دو- میں بس میں چلی جاﺅں گی- ہٹو میرے راستے سے-“

”تم تو بے وجہ اس بات کو دل پر لے رہی ہو- وہ صرف ہلکا سا مذاق تھا- اگر میں سرئیس ہوتا تو تمہیں یہاں کیوں چھوڑتا- مان بھی جاﺅ- میں وہیں جا رہا ہوں- گاﺅںمیں-“ نتن نے اس کو پیار سے منانے کی کوشش کی- نتن کو اپنا باتوں کا ہلکا سا اثر شروتی پر ہوتا ہوا دکھائی دیا‘ اس کی آنکھوں کے جھک جانے سے-

”تم سمجھ کیوں نہیں رہے ہو- یہ میرا کالج ہے- یہاں سب مجھے جانتے ہیں- کوئی کیا سوچے گا؟- پلیز ہٹ جاﺅ اور جہاں جانا ہے چلے جاﺅ- میں بس سے جا سکتی ہوں- روز ہی جاتی ہوں- پلیز مجھے جانے دو-“ کہتے ہوئے شروتی نے التجائی لہجے میں-

نتن کو بھی اس کی باتوں سے بات بنتی دکھائی دی-

”مجھے معلوم نہیں تھا کہ تم اتنے نازک دل کی ہو کہ ذرا سے مذاق کو بھی برداشت نہیں کرپاﺅں گی- میں نے تو صرف اپنا مان کر مذاق کیا تھا- یونہی— تمہارے اس پیارے سے چہرے پر غصہ بالکل بھی اچھا نہیں لگ رہا- کہوتو یہاں سب کے سامنے کان پکڑ کر مرغا بن جاﺅں- مگر پلیز- معاف کر دو- اور مان جاﺅ- آئندہ کبھی ایسی غلطی نہیں کروں گا- تمہاری قسم-“ اور نتن نے سچ میں ہی اپنے کان پکڑ لئے- شروتی شرمندہ سی ہوگئی- حالانکہ نتن کی کہی باتوں نے اس کا دل چھو لیا تھا- پھر بھی- وہاں سب کے سامنے گاڑی میں بیٹھنا اسے اچھا نہیں لگ رہا تھا- جانے کیا سوچ کر شروتی نے کہا-

”تھوڑا آگے آجاﺅ پلیز- یہاں اس طرح میرا تماشہ مت بناﺅ- “ یہ کہہ کر شروتی آگے بڑھ گئی-

نتن خوشی سے اچھلتا ہوا گاڑی کی طرف بڑھا‘ اور پھر آہستہ آہستہ گاڑی چلاتا رہا- بس اسٹینڈ آتے ہی شروتی کی چال دھیمی پڑ گئی تھی- شاید اس نے فیصلہ کر ہی لیا تھا گاڑی میں بیٹھنے کا- یہ فیصلہ کرنے میں اس بات کا بھی اہم دخل تھا کہ صبح انہوں نے صحیح سلامت اسے کالج چھوڑ دیا تھا-

”اب آ بھی جاﺅ-“ نتن نے گاڑی اس کے برابر میں روکتے ہوئے کہا-

شروتی نے جھجھکتے ہوئے سڑک پار لوگوں پر نگاہ ڈالی- کسی کی توجہ بھی اپنی طرف نہ پاکر وہ فٹ سے دروازہ کھول کر اندر آ بیٹھی-

”جلدی چلو یہاں سے-“ ایک لمبی سانس لیتے ہوئے شروتی نے کہا اور آگے والی سیٹ سے سر ٹکا کر بیٹھ گئی-

نتن نے موقع دیکھتے ہی آگے سے یو ٹرن لیا اور اپنے پہلے سے دیکھے گئے ٹھکانے کی طرف کار دوڑا دی‘ بدقسمتی سے سر کو سیٹ سے ٹکائے ‘ آنکھیں بند کئے بیٹھی شروتی کو سمت بدلنے کی بھنک بھی نہیں پڑ سکی-

” کون سا سال چل رہا ہے تمہارا-“ نتن نے شروتی کے ساتھ باتوں کا سلسلہ شروع کر دیا-

کچھ دیر تک شروع یونہی بن بولے بیٹھی رہی- پھر جب کافی دیر تک نتن کی طرف سے دوسرا سوال نہیں داغا گیا تو اس نے منہ کھول ہی دیا-

”بیسواں-“

”ہا ہا ہا- میں تمہاری عمر نہیں پوچھ رہاتھا- پھر بھی شکریہ- ویسے کالج میں کون سا ایئر ہے؟-“

”جی فرسٹ ایئر-“ شروتی نے نظریں جھکائے ہوئے ہی جواب دیا-

”شادی کب کر رہی ہو-“

نتن نے پہلے سوال کا جواب ملتے ہی دوسرا سوال کر دیا-لیکن شروتی نے اس سوال کا جواب دینا ضروری نہیں سمجھا-

” کوئی لڑکا دیکھ رکھا ہے یا میں اپنے لئے کوشش کروں؟-“ نتن نے رومانٹک لہجے میں پوچھا-

شروتی اس طرح کی باتیں سن کر شرما سی گئی- اس کو اس طرح کی باتوں کی عادت نہیں تھی شاید-

”کیا بات ہے؟— ابھی تک ناراض ہو کیا-“ نتن کی اگلی بات بھی سوال ہی تھی-

”گھر پہنچے میں اور کتنا وقت لگے گا-“ شروتی نے اس بات پلٹ کر سوال کیا-

وہ نتن کے بے ڈھنگے سوالوں کارخ موڑنا چاہ رہی تھی-بے شک وہ اپنی مرضی سے کار میں بیٹھی تھی مگر ابھی تک بھی اپنے اس فیصلے پر اس کو حیرت ہو رہی تھی-پتہ نہیں کس ذہنی دباﺅ کے تحت وہ نتن کی بات ماننے پر مجبور ہو گئی تھی- اس کے گورے چٹے چہرے پر شکن اس بات کا ثبوت تھی کہ وہ اپنے آپ سے خوش نہیں تھی-

”اتنا ہی—– جتنا تمہیں بس سے لگتا ہے-“ کچھ رکتے ہوئے نتن نے اپنی بات پوری کی- ”اگر سب کچھ ٹھیک طریقے سے ہوگیا تو-“

شروتی کا ماتھا ٹھنکا‘ اس نے فوراً چہرہ اٹھا کر بیک ویو مرر سے اس کی طرف دیکھ رہے نتن سے نظریں ملائیں-

”کیا مطلب؟-“

”تم گھبرا بہت جلدی جاتی ہو- کبھی کچھ ایسا ویسا کیا نہیں ہے کیا؟-“ نتن کے چہرے پر شرارتی مسکراہٹ ابھر آئی- شروتی کو احساس بھی نہیں تھا کہ وہ اس کے گاﺅں سے الٹی سمت میں کسی نامعلوم جگہ کی طرف جا رہے ہیں-

”پلیز ایسی باتیں مت کرو- مجھے بہت ڈر لگتا ہے- جلدی سے مجھے گھر پہنچا دو-“ سچ میں وہ ڈری ہوئی تھی- بار بار اپنے رومال سے چہرہ پونچھتی ہوئی وہ دل ہی دل میں اپنے کار میں بیٹھنے کے فیصلے پر خود کو کوس رہی تھی-

”کون سا گھر؟— پرانے ٹیلے والا-“ نتن نے اب کی بار تو اس کی جان ہی نکال دی-

”ایسا مذاق نہ کریں- مجھے رونا آجائے گا-“

اس کی اس بات پر نتن نے عجیب لہجے میں قہقہہ لگایا-”پہلی رات تو ہر لڑکی روتی ہے-“

شروتی کے چہرے پر کچھ خوف کی پرچھائیاں چھلکنے لگیں-

”یہ — یہ – — یہ کیا بکواس کر رہے ہیں آپ- میں نے آپ پر بھروسہ کرکے بہت بڑی غلطی کی ہے- مجھے کسی بھی بس اسٹینڈ پر اتار دو- میں اپنے آپ چلی جاﺅں گی بس پکڑ کر- “ شروتی کے لہجے میں غصہ تھا- مگر اس کی زبان ڈر کے مارے لڑکھڑا رہی تھی-

”ڈونٹ ووری سوئیٹ ہارٹ- غلطی تو ہم نے کی تھی تم پر بھروسہ کرکے- روہن کے ساتھ تم نے جو کچھ کرنے کی کوشش کی- اب کیا اس کا بدلہ بھی نہ لیں- — آج رات تم میرے ساتھ گزارو گی- اور تمہاری قسم آج تک میں نے تمہاری جیسی خوبصورت لڑکی کے ساتھ رات نہیں گزاری- میرا تو سوچ سوچ کر ہی برا حال ہو رہا ہے- دم نکلا جا رہا ہے میرا- -“ نتن بات بات پر ایک نیا انکشاف سے باز نہیں آرہا تھا-

شروتی کی حالت صبح کے جیسی ہی ہوگئی- پہلی بار اس نے گردن گھما کر باہر کا جائزہ لیا- سب راستے انجانا تھا- انجان راستے- انجان مرد- اور انجان صورتحال- شروتی اندر تک کانپ گئی-

”کہاں جارہے ہو تم-؟— مجھے اتار دو پلیز- میں تمہارا ہاتھ جوڑتی ہوں-“ اب اس کی آواز میں روکھا پن اور غصہ نہیں بلکہ بے بسی اور اور کپکپاتا ہوا لہجہ تھا-

”اب تمہیں میرا مقصد جاننے میں زیادہ وقت نہیں لگے گا سوئیٹ ہارٹ- منزل بہت قریب ہے-“ نتن کے چہرے پر تیکھی مسکراہٹ تیر رہی تھی او ر یہ مسکراہٹ شروتی کے لئے ماحول کو اور بھی خوفناک بنا رہی تھی-

” مجھے نہیں چلنا تمہارے ساتھ-اس وقت جہاں بھی ہوں- یہیں اتار دو- میرا بابا مر جائے گا اگر میں وقت پر گھر نہیں پہنچی تو-“ شروتی نے گڑگڑاتے ہوئے کہا اور نتن کے کندھے پر ہاتھ رکھ دیا-

”آہ ہ ہ ہ – کتنا پیار ا لمس ہے تمہارے ہاتھوں کا- کیا بات ہے تمہاری جوانی کی- میرے آفس میں نوکری کرو گی- دونوں کو رکھ لوں گا ساتھ میں- اور تو کوئی ہے نہیں تم باپ بیٹی کا- سوچ لو-“

شروتی نے اب باقاعدہ رونا شروع کر دیا تھا- اس کو احساس ہوچکا تھا کہ وہ بہت بڑے خطرے میں گر چکی ہے- کم از کم اس کی جوانی اور عزت تو خطرے میں تھی ہی ‘ اس کو اس بات کا پورا یقین ہوچلا تھا-

نتن نے گاڑی کو ہائی وے سے اتار کر چھوٹے کچے راستے پر اتار لیا- شروتی کو کچھ نہیں سوجھ رہا تھا سوائے سبکنے کے- اس کو معلوم تھا کہ وہ چلانے کی کوشش بھی کرتی ہے تو بھی گاڑی کے تیز میوزک میں اس کی آواز گھٹ کر رہ جائے گی اور پھر اس کو نتن کے اور زیادہ غصے میں آنے کا بھی ڈر تھا– فی الحال اپنی ناسمجھی پر آنسو بہانے کے علاوہ اس کے پاس کوئی راستہ نہیں تھا- اور وہ اس وقت یہی کر رہی تھی- اچانک گاڑی تیزی سے مڑی اور ہلکی سی چڑھائی چڑھ کر ایک پرانی سی عمارت میں گھس گئی-

شروتی کا دل اونچے نیچے راستوں پر اچھلتے ہوئے بڑے زور زور سے دھڑک رہا تھا- گاڑی عمارت میں کافی اندر جاکر بنے گیراج پر جاکر رکی- نتن فوراً گاڑی سے اتر گیا –

”آجا میری جان- شرما کیوں رہی ہو؟— “ کہتے ہوئے نتن نے دروازہ کھول کر شروتی کو گاڑی سے باہر کھینچ لیا-

”آﺅ-“ نتن شروتی کا ہاتھ پکڑ ے ہوئے آگے بڑھ گیا- بیچاری کسی معصوم جانور کی طرح اس کے ہاتھوں کی کٹھ پتلی بنی اس کے ساتھ ساتھ کھچتی چلی گئی- بہت ہی تنگ اور بنا روشنی والے چھوٹے ٹکڑے کو پار کرکے نتن ‘ شروتی کا ہاتھ پکڑے نیچے کی طرف جاتے ہوئے ایک زینے پر اترنے لگا- قریب قریب تیرہ چودہ گھماﺅ دار پائیدانوں سے ہوتے ہوئے وہ دونوں ایک لابی میں آگئے- جس کے دونوں طرف کمرے بنے ہوئے تھے- باہرسے کسی قدر پرانی نظر آنے والی عمارت کا یہ اندرونی حصہ کافی بہتر حالت میں معلوم ہو رہا تھا-

”تم کو جو چاہئے میں دے دوںگی‘ جو پوچھو گے ‘ سب بتادوں گی‘ پلیز مجھ ہاتھ مت لگانا-“ ساتھ چلتے ہوئے شروتی رہ رہ کر گڑگڑا رہی تھی- لیکن لگتا تھا اس وقت نتن کو باتیں کرنے میں زیادہ دلچسپی نہیں رہی تھی- لابی پار کرکے وہ دائیں طرف مڑا اور سب سے آخر میں جاکر ایک بڑے اور سجے سجائے کمرے میں آکر رک گیا-

”کسی بات کی فکر مت کرو- جب تک تم میرا کہا مانو گی‘ تمہیں کچھ نہیں ہوگا- لیکن چالاک بننے یا نخرے دکھانے کی کوشش کی تو تمہارا بھی وہی حال ہوگا جو ان کا ہوا تھا-“ یہ کہتے ہوئے نتن نے کسی جگہ چابی گھمائی اور بیڈ روم کے اندر بنی دیوارکے ایک خاص حصے کو کھسکا کر آرام سے کھول دیا-

”آہ ہ ہ ہ-“ بدحواس سی آنکھیں پھیلاتے ہوئے شروتی صرف اتنا ہی کہہ پائی تھی کہ بے ہوش ہوگئی- اس نے تو کمرے کے اندر پڑی پانچ چھ لڑکیوں کی برہنہ لاشوں کو ٹھیک طریقے سے دیکھا بھی نہیں تھا- ان کے جسموں نے نکل کر کمرے میں پھیلی ہوئی تیز بو نے ہی اس کو اتنا لاچار کر دیا کہ وہ اپنے پیروں پر کھڑی نہ رہ سکی اور نتن کی بانہوں میں جھول گئی-نتن نے اس کو بانہوں میں اٹھایا اور بیڈ پر لے جاکر پٹخ دیا‘ اور پاس بیٹھ کر اس کے نازک گلابی ہونٹوں پر اپنی انگلی پھیرنے لگا- نتن حسن کی کو دولت کو اپنے ان چھوئے بدن میں سموئے بستر پر لیٹی شروتی کو دیکھ دیکھ کر بے حال ہو رہا تھا- اس کا حلق خشک ہو رہا تھا اور وہ بار بار اپنے ہونٹوں پر زبان پھیر کر انہیں تر کر رہا تھا- مگر وہ صرف حسن کے اس جیتے جاگتے پتلے کو دیکھے ہی جا رہا تھا- ابھی تک اس نے اسے چھونے کی کوشش نہیں کی تھی-اچانک وہ اٹھا اور کمرے سے باہر نکل گیا-

کمرہ بند ہونے کی آواز پر شروتی کسمسانے لگی اور دھیرے سے اپنی آنکھیں کھول دیں- اپنی سانسوں پر قابو پانے کی کوشش کرتی ہوئی شروتی نے گردن گھما کر کمرے کا جائزہ لیا- وہاں کوئی نہیں تھا- لیکن کمرے میں پھیلا ہوا سناٹا ہی کسی کی موجود گی سے بھی زیادہ بھیانک تھا- شروتی کی آنکھوں کے سامنے لمحے بھر پہلے کا خوفناک منظر رہ رہ کہ کوند رہا تھا- اس دیوار کی طرف دیکھنے کی ہمت تک نہیں کر پا رہی تھی وہ– پھر وہ اچانک اٹھی اور بیرونی دروازے کی طرف بڑھی- لیکن اس کی یہ تیزی رائیگاں گئی کیونکہ دروازہ باہر سے بند تھا-

”ہائے بھگوان- اب میں کیا کروں؟-“ شروتی وہیں گھٹنوں کے بل بیٹھ کر رونے لگی ‘ اس کے پاس اس کے سوا کوئی چارہ بھی تو نہیں تھا-

”ابھی آیا میم صاحب-“

اچانک کمرے میں گونجتی مردانہ آواز نے لگ بھگ اسے اچھلنے پر مجبور کر دیا-

”کک – کون ہے؟-“ خوف کے مارے شروتی کا کلیجہ اور آنکھیں دونوں باہر نکلنے کو بے تاب ہو رہے تھے- مگر اس کے بعد کوئی آواز اسے سنائی نہیں دی- ان حالات میں تو بڑے سے بڑے تیس مار خان بھی تھرتھرانے پر مجبور ہوجاتے- شروتی تو پھر بھی ایک نازک سی لڑکی تھی- بدحواس سی کمرے میں ادھر ادھر دیکھتی وہ ایک دیوار کے ساتھ چپک کر کھڑی ہوکے ہانپنے لگی-

اچانک دروازہ کھلا اور تقریباً پینتیس چالیس برس کا ایک بھدی شکل کا لمبا تگڑا آدمی کمرے میں داخل ہوا- شروتی دہشت کے مارے سمٹ کر کونے میں جاکر کھڑی ہوگئی-

”کچھ چاہئے میم صاحب- “ اس آدمی کی آواز میں احترام پایا جاتا تھا- لیکن شروتی کے لئے اس وقت کوئی بھی آواز موت کی آواز سے کم نہیں تھی-

”کون ہو تم؟- مجھے یہاں سے جانے دو پلیز-“ شروتی کونے میں چپکی کھڑی ہوئی ہی دونوں ہاتھ جوڑتے ہوئے بولی-

”میں بھگوان ہوں میم صاحب- بھگوان داس- صاحب کا غلام ہوں اور ان کے مہمانوں کا بھی- ابھی صاحب یہاں نہیں ہیں- کچھ چاہئے تو پھر سے مجھے آواز دے دینا- ابھی کچھ چاہئے کیا آپ کو؟-“

”مجھے جانے دو پلیز- مجھے جانا ہے یہاں سے-“ شروتی گڑگڑاتے ہوئے بولی-

”مگر یہاں سے تو واپس جاتا ہی نہیں ہے کوئی- جب صاحب کا کام ہوجائے گا تو وہ آپ کو مجھے گفٹ کر دیں گے- ہی ہی ہی- تب تک آپ میری مالکن ہیں-اور میرے سامنے دوبارہ جانے کا ذکر مت کرنا میم صاحب- اگر آپ یہاں سے جانے کی کوشش کرو گی تو صاحب نے بتا رکھا ہے کہ مجھے کیا کرنا ہے- ہی ہی ہی -“ بھگوان داس یہ کہتے ہوئے باہر نکل گیا اور دروازے کی کنڈی لگا دی- شروتی کونے میں کھڑی کھڑی سوکھے پتے کی طرح کانپ رہی تھی- خوف کے مارے اس کا گورا چہرہ پیلا پڑنے لگا تھا- رہ رہ کر اس کو گھر میں اس کا انتظار کر رہے اپنے بابا کی یاد آجاتی اور وہ سسکنے لگتی- اب وہ تو اس کے لئے فکر مند بھی ہونے لگے ہوں گے-

” میم صاحب- کھانا-“ دروازہ کھول کر اندر آتے ہوئے بھگوان داس نے ایک ٹرے میز پر رکھتے ہوئے کہا-

ایک پل کے لئے شروتی کے دل میں آیا کہ بھاگنے کی کوشش کرے- لیکن اس کے قدموں نے اس کا ساتھ نہیں دیا- اس کو بھگوان داس کی بات یاد آ گئی- ”اگر تم نے بھاگنے کی کوشش کی تو صاحب نے مجھے سمجھا دیا ہے کہ مجھے کیا کرنا ہے-“

سہمی ہوئی شروتی نے کھانے کی طرف دیکھا تک نہیں- بھگوان داس کے واپس جاتے ہی وہ اپنے آنسو پونچھتے ہوئے بستر پر جاکر بیٹھ گئی-

٭٭٭٭٭٭٭

”تو کیا بات ہوئی اس لڑکی سے؟-“ روہن ‘ نتن کے پاس اکیلے میں بیٹھا تھا-

” کچھ خاص حاصل نہیں ہوپایا- اس کو گھر جانے کی جلدی تھی اور وہ گڑگڑانے لگی- مجھے اس پر رحم آگیا اور میں نے اس کو جانے دیا- پھر ملنے کا وعدہ لے کر-“ نتن نے بڑی صفائی سے جھوٹ بولا-

”مجھے اب اور انتظار نہیں ہوتا میرے بھائی- میں کل صبح ہی عمر کوٹ جا رہا ہوں- چل نا میرے ساتھ- میں نے ممی پاپا سے بھی پوچھ لیا ہے-“ روہن نے نتن سے ساتھ چلنے کی فرمائش کرتے ہوئے کہا-

” کیا بتایا تم نے انہیں؟— تمہیں خوابوں میں ان کی بہو مل گئی ہے-“ یہ کہہ کر نتن زور سے ہنسنے لگا-

”میں پاگل ہوں کیا- “ روہن نے برا سا منہ بنا کر کہا-

”تو؟-“

”بس بول دیا ایسے ہی کچھ-تم بتاﺅ ساتھ چل رہے ہو یا نہیں-“ روہن نے پھر سے پوچھا-

”کیوں؟- وہاں بھی بھوت ملنے کے چانس ہیں کیا-“ نتن پھر سے ہنسا-

”میرا مذاق مت اڑاﺅ یار- تمہیں پتہ ہے کہ مجھ سے اتنی لمبی ڈرائیو نہیں ہوگی اور ڈرائیور کو میں ساتھ لے جانا نہیں چاہتا – چلو نا بھائی-“ روہن نے اصل وجہ بتاتے ہوئے کہا-

”دیکھ میرے پاس ایک دن سے زیادہ کا ٹائم نہیں ہے- تمہیں خود ہی کچھ کرنا پڑے گا-“ نتن نے صاف منع کرتے ہوئے کہا-

” ویسے تو میں نے رویندر کو ساتھ چلنے کے لئے منا رکھا ہے- مگر جانا پڑے گا بس سے یا ٹرین میں-“

”تو کون سا پہاڑ ٹوٹے پڑے گا- چلا جا- ڈرائیونگ کا جھنجھٹ ہی ختم- اچھا ابھی میں چلتا ہوں- صبح جلدی اٹھ کر ایک کام نمٹانا ہے-“ نتن یہ کہتے ہوئے اٹھ گیا-

 روہن اس کو دروازے تک چھوڑ کر آیا اور واپس اپنے کمرے میں آکر اپنے بستر میں دبک گیا-

٭٭٭٭٭٭٭

رات کے تقریباً نو بج چکے تھے- اس دوران وہ جانے کتنی بار دل پکڑے ہوئے روئی تھی- جانے کتنی ہی بار اس کا کلیجہ منہ کو آنے کو ہوا تھا- جانے کتنی ہی بار اپنے بابا کے بار ے میں سوچ کر وہ سسک اٹھی تھی- اتنا تو اس کا دل بھی مان چکا تھا کہ اس کی عزت تار تار ہونے سے اب کوئی کرشمہ ہی اس کو بچا سکتا ہے-اس کے بعد وہ زندہ واپس چلی جائے ‘ غنیمت ہے- جان بچانے کے لئے نتن کی ہر بات مان لینے کے لئے وہ خود تیار کر چکی تھی- یہی سوچ کر بار بار اس کا کلیجہ پھٹ پڑتا تھا اور آنسو رہ رہ کر اس کے گالوں پر نشان چھوڑ جاتے تھے- یونہی لیٹی لیٹی اپنی قسمت کو روتی شروتی نے جیسے ہی باہر سے نتن کی آواز سنی تو اس نے اپنے آنسو پونچھے اور آنکھیں بند کرکے دم سادھ کر سونے کا ناٹک کرنے لگی-

نتن دروازہ کھول کر جیسے ہی اندر آیا‘ اس نے شروتی کو بکھرے ہوئے بالوں میں بستر پر سوتے ہوئے پایا- میز پر دوپہر کا کھانا جوں کا توں پڑا تھا- وہ مڑ کر باہر نکلنے کو ہوا تو بھگوان داس دروازے پر حاضر ہوا-

”اس نے کھانا نہیں کھایا؟-“ نتن نے بھگوان داس سے پوچھا-

”نہیں صاحب- میں نے تو آپ کے کہنے کے مطابق بڑی محنت سے بنایا تھا میم صاحب کی خاطر- ہی ہی ہی-“ بھگوان داس نے بتیسی نکالتے ہوئے کہا-

”ادھر آﺅ-“ یہ کہتے ہوئے نتن نے باہر نکل کر دروازہ بند کر دیا- اور کمرے سے دور جانے لگا- بھگوان داس اس کے پیچھے پیچھے ہی تھا-

”اس کو کچھ شک تو نہیں ہوا-“ نتن نے بھگوان داس سے پوچھا-

 ” نہیں صاحب- ڈر کے مارے اس کی تو جان ہی نکلی جا رہی تھی- آپ کے کہنے کے مطابق میں نے رٹے رٹائے ڈائیلاگ بولنے شروع کئے ہی تھے کہ اس کا برا حال ہوگیا- مجھے اس پر ترس آنے لگا صاحب- مجھ سے سارے ڈائیلاگ بولے نہیں گئے-“ بھگوان داس سر جھکا کر بولا-

”کوئی بات نہیں- ڈر تو پوری طرح گئی ہے نا-“

”ڈرنے کی چھوڑو صاحب- یہ تو مر ہی جاتی اگر تھوڑی دیر اور میں اس کے سامنے رہتا-“

”اوکے ٹھیک ہے- ویسے وہ لاشوں والا کام تم نے بہت اچھا کیا تھا- ایک دم اصلی لگ رہی تھیں- گوشت کس چیز کا تھا؟-“ نتن نے مسکراتے ہوئے پوچھا-

”ہی ہی ہی- بکرے کا کچا گوشت تھا صاحب- آپ کا فون آتے ہی میں بکرا لے آیا تھا- اور کاٹ کر ڈال دیا تھا اندر-“

”ویری گڈ- اب دوسری طرف سے جاکر وہ ربر کے پتلے بھی وہاں سے ہٹا دو اور کمرہ اچھی طرح صاف کردو-“

”جی اچھا صاحب-“ بھگوان داس نے ادب سے سر جھکایا اور وہاں سے چلا گیا-

پھر نتن دوبارہ کمرے کے اندر آیا اور اندر آتے ہی اس نے شروتی کو تیزی سے اپنی آنکھیں بند کرتے دیکھ لیا-

”اچھا – تو اب میرے چہرے سے اتنی نفرت ہوگئی ہے کہ میری طرف دیکھنا بھی نہیں چاہتیں-“ کہتے ہوئے نتن بستر کے پاس جاکر کھڑا ہوگیا- شروتی ڈر کے مارے سر سے پاﺅں تک کانپنے لگی- اس کی آنکھیں بند تھیں- نتن کا ہر لفظ اس کو اپنے دل میں چبھتا ہوا محسوس ہو رہا تھا- وہ چپ چاپ لیٹی رہی-

”میں صرف تین تک گنوں گا-“ نتن نے اپنی بات پوری بھی نہیں کی تھی کہ شروتی اچانک آنکھیںکھول کر اٹھ بیٹھی اور کمرے کے سب سے دور والے کونے میں جاکر نتن کو گھورنے لگی-

”بڑی سمجھدار ہو جان من- اب کیا ارادہ ہے؟-“ نتن نے بچکانہ انداز میں اس کو اور ڈرانے کی کوشش کی- شروتی کچھ نہیں بولی‘ بس چپ چاپ کسی معصوم میمنے کی طرح اس کو آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر دیکھتی رہ جیسے خود پر رحم کرنے کی بھیک مانگ رہی ہو- حالانکہ چہرے کے اڑے ہوئے رنگ سے صاف تھا کہ اس کو رحم کی امید نہیں تھی-

”زندہ رہنا چاہتی ہو-“ نتن نے اسی روکھے انداز میں پوچھا- شروتی نے فوراً اپنا سر ہلا دیا- کیونکہ اب تو بس زندگی بچنے کی ہی آس تھی- عزت کے ساتھ تو وہ کب کا سمجھوتہ کر چکی تھی-

”شاباش- لیکن اس کے لئے بہت ضروری ہے کہ میں جو کچھ بھی کہوں ‘ جو کچھ بھی پوچھوں- اس کا فوراً جواب ملنا چاہئے- اگر ایک بات بھی تم نے نہیں مانی- یا ایک بار بھی جھوٹ بولا‘ تو سمجھ لینا‘ کمرے میں پڑی لاشوں کی طرح تمہیں بھی دوسرا موقع نہیں ملے گا-“

جاری ہے

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

چلو عشق کا رستہ چنتے ہیں۔۔ آسیہ مظہر چوہدری۔۔قسط نمبر 4 آخری قسط

چلو عشق کا رستہ چنتے ہیں آسیہ مظہر چوہدری قسط نمبر 4 آخری قسط شاہ …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے