سر ورق / ناول / خوں ریز۔۔امجد جاوید ۔۔۔قسط نمبر 2

خوں ریز۔۔امجد جاوید ۔۔۔قسط نمبر 2

خوں ریز

امجد جاوید

قسط نمبر 2

 مجھے ہو ش آیا تو کچھ دیر تک سمجھ ہی میں نہیں آ یا کہ میں کہاں ہوں ۔کچھ دیر بعد میرا شعور مجھے سمجھانے لگ گیا کہ میں ایک بیڈ پر ہوں ۔وہ جگہ ہسپتال ہے ۔ مجھے ڈرپ لگی ہوئی ہے ۔وہ ہسپتال کا وارڈ تھا ۔ وہاں دوسرے مریض بھی پڑے ہوئے تھے ۔میرے ارد گرد کوئی بھی نہیں تھا ۔میں نے ہلنا چاہا تو سر میں شدید درد اٹھا ۔ ا سکے ساتھ ہی مجھے یاد آ گیا کہ بیرک میں ہونے والی لڑائی کے نتیجے میں یہاںپڑا ہوں ۔ میں نے دوبارہ آ نکھیں بند کر لیں اور درد کو سہنے کی کوشش کرنے لگا ۔کچھ دیر گزری تھی کہ مجھے کسی کا لمس محسوس ہوا تو میں نے آ نکھیں کھول دیں ۔میرے سامنے ایک ادھیڑ عمر پولیس والا سنتری کھڑا تھا ۔میں نے اسے دیکھا تو وہ بولا

” ہوش آ گیا ہے تمہیں ۔“ اس کے کہنے پر میں نے ذرا سا سر ہلا دیا تو اس نے کہا ،” اچھا، ڈاکٹر کو بتاتا ہوں ۔“

یہ کہہ کر وہ وہاں سے اٹھ گیا ۔ تھوڑی دیر بعد ڈاکٹر آ گیا ۔اس نے مجھے دیکھا ، دوا کھانے کی رسمی سی تاکید کی اور واپس چل دیا ۔

مجھے بہرحال یہ احساس ہو گیا تھا کہ میں پولیس کی حراست میں ہوں ۔یہاں اگر کسی کو بھی اپنی طرف متوجہ کرنا تھا تو اس کے لئے مجھے نوٹوں کی ضرورت تھی ۔یہی نوٹ اس وقت میرے پاس نہیں تھے ۔ظاہر ہے مجھے بابا تک یہ پیغام پہنچانا تھا ۔یہاں چودہ دن سہولت سے گزارنے کا مطلب تھا کہ مجھے اس کی ادائیگی کرنا تھی ۔ یہی سوچتے ہوئے میںنے پاس بیٹھے سنتری سے پوچھا

”یار مجھے یہ بتا ، گھر تک پیغام کیسے پہنچ سکتا ہے ؟“

”مجھے گھرکا فون نمبر دو ،میں پیغام بھجوا دیتا ہوں ، لیکن ابھی نہیں جب میری ڈیوٹی ختم ہوئی تب باہر جاﺅں گا اور پیغام دے دوں گا ۔“اس نے ایک ہی بار ساری تفصیل بتا دی ۔

” اچھا جب جاﺅ گے تو مجھے بتانا ۔“ میں نے کہا اور آ نکھیں بند کر کے لیٹ گیا ۔میں ان سارے حالات کے بارے میں سوچنا چاہتا تھا لیکن درد کرتا ہوا دماغ کچھ بھی سوچنے کی اجازت نہیں دے رہا تھا ۔میرا دل چاہ رہا تھا کہ میں سو جاﺅں ۔شاید کسی میڈیسن میں کوئی نیند کی بھی دوا ہو تو ۔میں یہی سوچ رہا تھا کہ مجھے کسی نے پکارا

” علی ، آ نکھیں کھولو۔“

جانی پہچانی آواز تھی ۔ مجھے لگا میں خواب دیکھ رہاہوں اور کوئی خواب ہی میں مجھے پکار رہا ہے ۔فطری طور پرمیںنے آ نکھیں کھولیں تو میرے سامنے ارم کھڑی تھی ۔میری حیرت کی انتہا نہ رہی ۔ میں خود پر شک کرنے لگا ۔ مجھے پھر یونہی لگا جیسے میں کوئی خواب ہی دیکھ رہا ہوں ۔اس کا یہاں ہونا ناممکن تھا ۔وہ یہاں جیل کے ہسپتال میں کیسے آ سکتی تھی ؟میں اسے ہونقوں کی مانند دیکھ رہا تھا ۔

” ایسے کیا دیکھ رہے ہو ، تم ٹھیک تو ہونا علی ؟“ اس بار وہ تشویش زدہ لہجے میں بولی تھی

” تم یہاں کیسے ؟“ میںنے سرسراتے ہوئے بے یقینی سے پوچھا

” یہ ابھی تمہاری سمجھ میں نہیں آ ئے گا اور نہ تمہارے بابا کے ۔ اس پر دماغ مت کھپاﺅ ۔ میں بعد میں تمہیں تفصیل کے ساتھ بتا دوں گی۔ پہلے تم مجھے یہ بتاﺅ کیسے ہو ؟ “ اس نے تیزی سے شکوہ بھرے لہجے میںکہا

 ”میں ٹھیک ہوں ، مگر….“ میں نے کہنا چاہا تو اس کی اوٹ میں میرے بابا بھی کھڑے تھے ۔وہ انتہائی پریشانی میں مجھے دیکھ رہے تھے ۔یکلخت مجھے خیال آ یا کہ بابا کے سامنے مجھے حوصلہ دکھانا ہے ۔میںنے اپنے ہونٹوں پر زبردستی مسکراہٹ لاتے ہوئے کہا

”بابا آ پ ٹھیک ہیں ؟“

” میںتو ٹھیک ہوں بیٹا ،تمہاری یہ حالت ….ٹھیک کہتے تھے کہ وہ تمہیں جیل کیوں بھجوانا چاہتے ہیں ۔انہوں نے ….“ وہ کہتے کہتے یوں رُک گئے جیسے وہ خود پر قابو پارہے ہوں ۔ میں جانتا تھا کہ انہیں بہت دکھ ہو رہا تھا لیکن وہ خود کو میرے سامنے مضبوط رکھنا چاہ رہے تھے ۔

” بابا، کیا پتہ چل گیا ہے کہ اس سارے معاملے کے پیچھے کون ہے ۔“ میں نے تیزی سے پر تجسس لہجے میں پوچھا

” انہیں پتہ نہیں چل سکتا ۔“ ارم نے تیزی سے کہا

” کیوں ، مطلب ؟“ میں نے پوچھنا چاہا

”جب بندہ تلوار کا مقابلہ لاٹھی سے کرتا ہے تو ایسا ہی ہوتا ہے ۔تمہارے بابا میرے لئے بڑے محترم ہیں لیکن جب انہیں چند باتوں کی سمجھ آ ئے گی تو سارے معاملات سامنے آ جائیں گے ۔“ارم نے تیوری چڑھاتے ہوئے قدرے تلخی سے کہا تو مجھے ارم پر غصہ آ گیا ، وہ میرے بابا کے بارے کیسی بات کر رہی تھی ۔ اس سے پہلے میں کچھ کہتابابا بولے

” بیٹی تم ٹھیک کہہ رہی ہو ، لیکن یہ تو ….“ وہ کہتے ہوئے رُک گئے

” انکل ، آپ دیکھ نہیں رہے کہ دشمنوں نے کیسی پلاننگ کی ہے ۔قانون کا ناجائز استعمال کر کے علی کو پھنسا یا گیا ۔“ یہ کہتے ہوئے وہ ایک دم سے رُک گئی ، پھر میرے چہرے کی طرف دیکھتے رہنے کے بعد بولی ،” علی ، مجھے صرف ایک لفظ میں جواب دینا ، صرف ایک لفظ میں ۔ وہ ہوگا ہاں یا ناں…. “ یہ کہہ کر وہ چند لمحے رک کر میرے چہرے پر دیکھتی رہی ، پھر دھیمے سے بولی” بتاﺅ تم نے قتل کیا ؟“

” نہیں ۔“ میںنے فورا جواب دیا تو اس نے طویل سانس لیا ، پھر بڑے پراعتماد لہجے میں بولی

”پھر یہ سمجھ لو کہ تمہیں کچھ نہیں ہوتا ۔“

” تم یہ …. “ میں نے پوچھنا چاہاتو اس نے میرے چہرے پر دیکھتے ہوئے کہا

”جو اب تک ہونا تھا وہ ہوگیا ۔ انہوں نے تمہیں اور انکل کی صاف گوئی ، شرافت اور ایمانداری کو سامنے رکھ کر ہی پلان کیا ہے ۔جو کوئی بھی ہے وہ آ پ کے ارد گرد ہی ہے ۔وہ منافق دشمن ہے ۔یہ بہت خطرناک ہوتا ہے ۔“

” مجھے بھی اب یہی احساس ہو رہا ہے ۔“بابا نے دھیمے سے لہجے میں کہا

”ارم ، تم یہاں تک کیسے پہنچی ہو ….؟“ یہ سوال ابھی تک میرے دماغ میں اٹکا ہوا تھا ۔تبھی وہ ہلکا سا مسکرا دی پھر سکون سے بولی

”میں نے کل کا اخبار دیکھا بھی تھا ، لیکن مجھے پتہ نہیں چلا ۔ مومل نے مجھے تمہارے بارے میں بتایا کہ تم نے کوئی قتل کردیا ہے ۔مجھے یقین نہیں آرہا تھا کہ تم کوئی قتل بھی کر سکتے ہو ۔ میں نے تمہیں فون کیا تو آ نٹی سے بات ہوگئی ، ان سے ساری تفصیلات کا پتہ چلا ۔“

” یہاں تک کیسے ؟“ میںنے پوچھا

” میں تمہارے گاﺅںگئی تھی ، وہاں سے انکل کو لیا ،یہ بہت پریشان تھے ۔ انہیں یہ اطلاع مل چکی تھی کہ تم یہاں زخمی حالت میں پڑے ہو ۔بس میں ان کے ساتھ یہاں آ گئی ۔“ اس نے پھر اسی سکون سے گول مول جواب دیتے ہوئے کہا

” اصل بات تم گول کر رہی ہو ؟یہاں تو کسی کو ….“ میںنے کہنا چاہاتو وہ مسکراتے ہوئے بولی

” میں کوئی غیر قانونی طور پر تو نہیں آئی ۔ہاں لیکن بہت کم لوگوں کو یہ قانونی اجازت ملتی ہے ۔بڑے جگاڑ لگتے ہیں ، اگر کوئی جگاڑ لگانے والا ہو تو ، ویسے میں وزیر ِ جیل خانہ جات کی خصوصی اجازت سے یہاں آ ئی ہوں ۔“

”ارم تمہارا شکریہ کہ تم نے بابا کو ….“میں نے پھر کہنا چاہاتواس نے ٹوکتے ہوئے عجیب سے لہجے میں کہا

” اُو بس اپنی فارمیلٹی اپنے پاس رکھو۔ابھی اس وقت کے بعد تمہاری یہاں پر خصوصی دیکھ بھال ہو گی ۔ مجبوری یہ ہے کہ اب یہ چودہ دن تمہیں یہاں نکالنے ہیں ۔یہ قانون ہے اس کا خیال تو کرنا ہو گا۔کیونکہ ایک ایف آئی آر یہ بھی درج ہو گئی ہے کہ قیدیوں نے تمہیں زخمی کیا ۔“

” بیٹا، میں اب بہت کچھ سمجھ رہا ہوں ۔تم بہر حال اپنا خیال رکھنااور جلدی ٹھیک ہو نے کی کوشش کرنا ۔“ بابا نے کا فی حد تک مضبوط لہجے میں کہا تو میں نے ارم کی طرف دیکھتے ہوئے کہا

” بابا کا خیال رکھنا ۔“

” تم بالکل بھی فکر نہ کرو ۔ میں ادھر گاﺅں ہی میں ہوں ۔ ابھی واپس لاہور نہیں جا رہی ۔مجھے پتہ ہے کہ انکل اور آ نٹی کو بہت ضرورت ہو گی ۔میں تمہارا بھی پتہ کرتی رہوں گی، لیکن ممکن ہے میں دوبارہ یہاں نہ آ سکوں ۔“ یہ کہتے ہوئے وہ تھوڑا پیچھے ہٹ گئی تاکہ بابا میرے پاس آ جائیں ۔انہوں نے مجھ سے کیا بات کرنا تھی ۔ میری حالت ان کے سامنے تھی ۔ کوئی معاملہ واضح نہیں تھا ۔بس کچھ دیر یونہی باتیں کرتے رہے ۔تقریباً آ دھا گھنٹہ وہ میرے پاس رہے ،اس کے بعد وہ واپس چل دئیے ۔جاتے ہوئے بابا نے نوٹوں کی ایک گڈی میرے سرہانے کے نیچے رکھ دی ۔

ارم یہاں پر کیوں آ ئی ؟اس کی مجھے سمجھ تو نہیں آ ئی لیکن یونیورسٹی میں گزرے ان دو برسوں اور اسی دوران کلب میں گزرے ہوئے ڈیڑھ برس میں ارم کے ساتھ ہونے والی ملاقاتوں ، اس کی باتوں اور رویوں پر لاشعوری طور پر سوچتا چلا گیا ۔

ارم لاہور میں میری کلاس فیلو تھی ۔اس کی شخصیت بڑی رعب دار تھی ۔ وہ انتہائی خوبصورت تھی ۔ لیکن کوئی بھی اس کے قریب پھٹکنے کی جرات نہیں رکھتا تھا ۔وہ کسی کو ایسا موقعہ ہی نہیں دیتی تھی ۔اس کا انداز شاہانہ تھا اور وہ شہزادیوں کی طرح رہتی تھی ۔ اس کا حلقہ چند لڑکیوں تک محدود تھا ۔ ہمارے گروپ کا اس کے ساتھ ایسا دوستانہ تعلق تھا کہ وہ ہماری ساتھ ہر طرح کی سرگرمی میں شامل نہیں ہوتی تھی، بس کبھی کبھار جب سارے مل بیٹھتے تھے تو اس سے بات چیت ہو جایا کرتی تھی ۔اگر گہرا دوستانہ نہیں تھا تو کوئی اجنبیت بھی نہیں تھی ۔ کچھ عرصہ بعد جب میں نے کلب جوائین کیا تو وہ مجھے وہاں ملا کرتی تھی ۔ وہاںایک اچھا تعلق ہمارے درمیان بڑھا ۔ہم ایک دوسرے کے ساتھ کافی حد تک بے تکلف بھی ہو گئے تھے لیکن ہمارے درمیان ایک احترام تھا۔ یہ تعلق بہت بھلا لگتا تھا ۔

میں ارم کے خاندانی پس منظر کے بارے میں بالکل بھی نہیں جانتا تھا اور نہ ہی کبھی مجھے اس کی ضرورت پڑی تھی ۔لیکن اس کے شاہانہ انداز سے یہی اندازہ لگایا جا سکتا تھا کہ وہ کسی امیر ترین فیملی سے تعلق رکھتی ہے ۔وہ مہنگی گاڑی میں یونیورسٹی آ تی ،اس کا لباس مہنگا ہوتا ۔ وہ اپنے ارد گرد کی لڑکیوں پر بہت سا پیسہ خرچ کر دیتی تھی ۔میں نے جب پہلی بار اسے دیکھا تو میرے دماغ میں ایک ہی لفظ گونجا تھا ’شہزادی ‘ ۔لمبا سا اٹھتا ہوا قد، گورا سرخی مائل رنگ ، بڑی بڑی آ نکھیں ، جن پر تیکھی چتون تھی ۔اس کا ناک اوپر کی طرف اٹھا ہوا تھا ، پتلے پتلے لب ، گول سا چہرہ ، لانبی گردن ، شولڈر کٹ بال ، بھاری بھاری گداز بدن میں پتلی کمر دور سے ہی دکھائی دے جاتی ۔اس کی لانبی گردن کے نیچے ابھری ہوئی ہڈیاں اور بھاری سینہ فوری متوجہ کر لیتا تھا ۔ بلاشبہ قدرت نے جو اسے حسن نوازا تھا ، وہ ایک عطیہ تھا لیکن اس نے بھی خود کو سنوارنے میں بڑی محنت کی تھی ۔میں کلب میں اسے تقریباً روزانہ ہی دیکھتا تھا ۔وہ اکثر ٹریک سوٹ میں ہوتی ۔بالوں کو پونی سے باندھ لیتی تھی اور بہت محنت کرتی تھی ۔ ہمارے درمیان تھوڑی بہت بات ہو جایا کرتی تھی لیکن اس کے ساتھ بے تکلفی نہیں تھی ۔ ایسے ہی ایک دن جب وہ پسینے میں بھیگی ہوئی کلب کے لان میں آئی تو سیدھی میرے پاس آ کر بیٹھ گئی ۔

” کیا پئیو گی ؟“ میںنے مروت میں پوچھا

” مینگو جوس ۔وہ بھی دو گلا س ۔“ اس نے بے تکلفی سے کہا تو مجھے اچھا لگا ۔ میں نے آ رڈر کیا اور اس کے بھیگے ہوئے بدن کو دیکھ کر پوچھا

” اتنی محنت کیوں کرتی ہو ؟رَبّ نے ویسے ہی تمہیں بڑا خوبصورت بدن دیا ہے ۔باڈی بلڈر بننا چاہتی ہو یا کوئی ماڈل بننے کا ارادہ ہے ؟“

” باڈی بلڈر تو نہیں ہاں مگر ماڈل تو مجھے بننا ہے ، اگر کسی فلم میں چانس مل گیا تو وہ بھی نہیں چھوڑوں گی ۔“ اس نے پر مزاح لہجے میں کہا اور قہقہ لگا کر ہنس دی تھی

”اس میں کوئی شک نہیں کہ تمہارا بدن کسی ماڈل سے کم نہیں ۔“ میںنے اس کی تعریف کی تو وہ چہکتے ہوئے بولی

” کیامیری شکل اس قابل نہیں ہے ؟“

اس کے یوںکہنے پر میں گڑ بڑا گیا ، پھر تیزی سے بولا

” نہیں نہیں ، تم بہت خوبصورت ہو ، میں نے سوچا اگر ایسے کہا تو کہیں تم مائنڈ ہی نا کر جاﺅ ۔“

” شکر ہے میں تمہیں خوبصورت لگتی ہوں ، ویسے اس میں مائنڈ کرنے والی کوئی بات نہیں ، میں خوبصورت ہوں ،تو ہوں ۔آخر اسی بل بوتے پر ماڈل بننا ہے نا ۔“ یہ کہتے ہوئے وہ ہلکا سا ہنس دی تھی ۔پھر ایک دم سے بولی ،” ویسے تم بھی تو کسی ماڈل سے کم نہیں ہو ۔“

” مطلب ….؟“ میں نے اس کی بات نہ سمجھتے ہوئے کہا

”مطلب تم ایک ہنیڈ سم ہو وجہہ ہو ، مردانگی جھلکتی ہے تم سے ؟“اس نے میرے چہرے پر دیکھتے ہوئے کہا تو میںنے اس کے مزاح کا مزہ لیتے ہوئے کہا

”اچھا یہ بتاﺅ ، تمہیں یہ مردانگی کہاں سے دکھائی دے رہی ہے ۔“

” آں ، ہاں ….“ اس نے آ نکھیں پھیلا تے ہوئے کہا ، پھر بولی،” دراز قد ، گول سا بھرا بھرا چہرہ ، یہ موٹی موٹی آ نکھیں ، یہ لمبا ناک ، یہ درمیانے سے بھرے بھرے ہونٹ ، یہ ٹھوڑی میں ذرا سا خم ، چوڑا سینہ بالوں سے بھرا ہوا ، مضبوط کسرتی بدن ،اور خاص طور پر یہ اوپری ہونٹ پر مونچھیں اور اس میں ہر وقت شرارتی سی مسکراہٹ ، یہی مردانگی ہے ، بہت اچھے لگتے ہو ۔“

” وللہ، پہلی بار کسی لڑکی نے اتنی تعریف کی ہے مجھے اپنا آ پ اچھا لگنے لگا ہے ، سچی ۔“ میں نے ہنستے ہوئے کہا ۔میں جانتا تھا کہ میں، میں ہی ہوں لیکن میں نے اب بھی اس کی بات کو مذاق ہی میں لیا تھا ۔ وہ کبھی اس طرح کھلی ہی نہیں تھی میرے ساتھ ۔

”تم نے میری آ نکھ سے کبھی اپنے آپ کو نہیں دیکھا ، یقین جانو بالکل شہزادے لگتے ہو ۔“ اس نے کہا تو میں ایک دم سے چونک گیا اور حیرت سے اسے دیکھنے لگا ۔ میرے چہرے پر یوں حیرت دیکھ کر اس نے پریشان ہو تے ہوئے پوچھا ” اس طرح کیا دیکھ رہے ہو ؟“

” تم نے مجھے شہزادہ کہا ؟“ میں نے پوچھا

” ہاں کہا ، تم ہو شہزادے ۔“ اس نے اپنی بات کا مزہ لیتے ہوئے کہا

”کیا تم یقین کرو گی ، میں نے جب بھی تمہیں دیکھا ، تمہارے لئے میرے ذہن میں ایک ہی تصورہے اور وہی میرے ذہن میں آ تا ہے ، وہ ہے شہزادی ۔“ میںنے پوری سنجیدگی سے کہا تو میری طرف حیرت سے دیکھنے لگی ، پھر ایک دم سے قہقہ لگا کر ہنس دی ۔ کچھ لمحے بعد بولی

”لیکن یار اتنے خیالات ملنے کے باوجود ہم ایک دوسر ے سے بے تکلف ہی نہیں ہوئے ، ہے نا حیرت کی بات ۔“

” تم نے کبھی لفٹ ہی نہیں کرائی ، سو ہم نے بھی لفٹ مانگنا اپنی شان کے خلاف سمجھا ۔“ میںنے کاندھے اچکاتے ہوئے مذاق میں کہا تو وہ پھر سے قہقہ لگا کر ہنس دی ۔

” میں سمجھی تم مجھے بھی لفٹ نہیں کراﺅ گے جیسے دوسری لڑکیوں کو نہیں کراتے۔“ اس نے کہا پھر اچانک میری طرف اپنا ہاتھ بڑھاتے ہوئے بولی ،” فرینڈز۔“

میںنے اس کا گلابی بڑھا ہو اہاتھ دیکھا اور اسے تھام کر کہا

” فرینڈر ۔“

 میں نے اس کا ہاتھ چھوڑ دیا تو وہ بولی

 ” ایک بات کہوں علی ۔کلاس میں ہمارا یہ تعلق سامنے نہیں آ نا چاہئے ۔سو باتیں بنیں گی ۔ایویں خواہ مخواہ کے قصے ۔“

” تم بالکل ٹھیک کہتی ہو ، ہم یہاں ملتے ہیں ، بس ٹھیک ہے ۔“ میںنے کہا تو ویٹر ہمارا آ رڈر لے آ یا ۔

ہماری یہ دوستی یونیورسٹی سے ہٹ کر تھی ۔وہ زیادہ تر مجھے جم میں ملتی ۔ ہم اکھٹے ایکسرسائیز کرتے ۔ مجھے خود اس کا سڈول بدن بہت اچھا لگتا تھا ۔ جب وہ بہت موڈ میں ہوتی تو ٹائٹس کے ساتھ سلیولیس پہنتی ، وہ بھی سیاہ رنگ کا ۔ اس دن وہ غضب ڈھاتی تھی ۔ ایکسائر کرتے ہوئے جب وہ پسینہ پسینہ ہو جاتی ، اس لمحے وہ مجھے بہت اچھی لگی تھی ۔شوٹنگ میں وہ میرے ساتھ مقابلے لگاتی ۔ اس کا نشانہ بھی بہت اچھا تھا ۔میںنے کبھی اسے فائٹ کرتے نہیں دیکھا تھا ۔نہ ہی میںنے اس بارے اس سے پوچھا تھا ۔

 کلب کی ان ملاقاتوں میں ہمارا اچھا تعلق پروان چڑھا تھا ۔جو وقت کے ساتھ اچھا ہوتا گیا ۔جسے دوستی کا نام دیا جا سکتا تھا ۔کیونکہ کلب کے علاوہ ہم کبھی کسی جگہ نہیں ملے تھے ۔یہاں تک کہ کسی ریستوران میںبھی نہیں ۔

کہیں پر جہاں بہت سارے لو گ ہوں جیسے ہماری یونیورسٹی کی کلاس ۔سب کے ساتھ ایک جیسا تعلق نہیں ہو سکتا۔لیکن چند لوگ ہوتے ہیں جن کی آ پس میں دوستی ہو جاتی ہے ۔ ایسا ہی ہم پانچ لوگوں کا گروپ تھا ۔ہم نے الوداعی کھانا فائیوسٹار میں رکھا تھا ، اس رات ارم بھی میرے کہنے پر ہمارے ساتھ شامل تھی ۔پھر اس رات کے بعد ہم نہیں ملے ۔دو ہفتے اتنا طویل دورانیہ تو نہیں ہو سکتا لیکن اس وقت سب سے اہم یہ بات تھی کہ ارم یہاں میرے لئے کیوں آ گئی ہے ؟ ویسے یہ کوئی اتنی بڑی بات بھی نہیں تھی ۔ وہ مجھے اگر دوست سمجھتی تھی تو اس کا آنا اتنا بھی پر تجسس نہیں تھا ۔تاہم حیرت والی بات یہ تھی کہ وہ میرے بابا اور اماں کے ساتھ گاﺅں میں ٹھہر گئی تھی ۔ ارم نے ٹھیک کہا تھا ۔ ان کے جانے کے بعد ، میرا بہت زیادہ خیال رکھا جانے لگا تھا ۔اس نے ایسا کیا کیا تھا ؟ اس کی اتنی رسائی تھی ؟وہ اتنا بڑا جگاڑ لگا سکتی تھی ؟ جو کچھ بھی اس نے کیا تھا یہ وہی بتا سکتی تھی ۔

٭….٭….٭

وہی میرے شہر کی عدالت تھی جہاں سے چودہ دن پہلے مجھے ریمانڈ پر جیل بھیج دیا گیا تھا ۔ مجھے پولیس گاڑی سے نکالا گیا تو میرے ہاتھ میں ہتھکڑی لگی ہوئی تھی ۔عدالت میں ویسے ہی بہت سارے لوگ تھے جیسے معمول کی گہما گہمی ہوتی ہے ۔میں نے کھلی فضا میں ایک طویل سانس لیا ۔ میرا زخم ابھی پوری طرح ٹھیک نہیں ہوا تھا لیکن میں خود کو بالکل ٹھیک محسوس کرتا تھا ۔میں نے شلوار قمیص پہنی ہوئی تھی جو کل مجھ تک پہنچ گئی تھی ۔جج صاحب کی عدالت کے سامنے کافی رش تھا ۔میں نے دیکھا ، بابا سمیت کوئی بھی وہاں موجود نہیں تھا ۔ہمیں وہاںکھڑے چند منٹ ہی ہوئے تھے کہ بلاوی نے آ واز دے دی ۔ ہم عدالت کے اندر چلے گئے ۔وہاں پر ایک جانب بابا ، انکل فہیم اور دوسرے گاﺅں کے بزرگ تھے ۔ان کے ساتھ ذرا فاصلے پر اسلم اے ایس آئی کھڑا تھا ۔ آج اس کے چہرے پر خباثت نہیں تھی ۔

جج صاحب کے آتے ہی خاموشی چھا گئی ۔ کاروائی کا آ غاز ہوا ۔ انکل فہیم میری وکالت کر رہے تھے ۔ انہوں نے پہلا نکتہ یہ دیا کہ فرانزک رپورٹ کے مطابق ، آ لہ قتل پر دو لوگوں کے فنگر پرنٹ تھے ۔خنجر نکالنے والا قاتل نہیں ہو سکتا ۔اس پر بحث مزید بڑھتی کہ پھتّو مسلّی اپنے بیان سے بدل گیا ۔ اس نے شک ہی نہیں یقین سے کہا کہ علی وہاں پر اس وقت پہنچا جب روشن مسلّی مر چکا تھا ۔اسی طرح فیروز نے بھی اپنے بیان میں تبدیلی کر لی جس سے مجھے شک کا فائدہ مل رہا تھا ۔تفتیش میں مزید کئی ایسے نکات تھے جو مجھے بے گناہ ثابت کر رہے تھے ، لہذا جج صاحب نے مجھے باعزت بری کر دیا ۔ میری ہتھکڑی کھول دی گئی ۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ انکل فہیم ایک قابل وکیل تھے ۔انہوںنے بڑے زور دار نکات پیش کئے تھے ۔لیکن میرے لئے یہ حیرت کی بات نہیںرہی تھی ۔ مجھے یہ گمان ہو نے لگا تھا کہ ضرور اس میں ارم کا بھی کمال رہا ہوگا ۔ اس کی رسائی جیل کے اندر ہو سکتی ہے تو یہاں بھی اس نے کوئی نہ کوئی جگاڑ ضرور لگا لیا ہوگا ۔ اس نے ایسا کیا کیا تھا ، اس کی تفصیل میں اسی وقت پوچھ سکتا تھا ، جب میں اس سے اکیلے میں بیٹھ کر بات کرتا ۔بہرحال مجھے ارم کی وجہ سے بہت مدد ملی تھی ۔ممکن ہے بابا کو اس نے ایسے مشورے دئیے ہوں ، جس سے پھتّو مسلّی جیسوں کا اپنا بیان بدلنا پڑا۔ عدالت میں مجھے ارم دکھائی نہیں دی تھی ۔ میںنے گاﺅں جانے کے لئے کار میں بیٹھتے ہوئے بابا سے پوچھا

” بابا، وہ ارم نہیں آ ئی یہاں ؟“

” وہ کل شام واپس لاہورچلی گئی تھی ۔“ انہوں نے سر سر ی سا بتایا ۔میں یہ پوچھنا چاہتا تھاکہ وہ مجھے ملے بنا ہی کیوں چلی گئی مگر بابا اس کا کیا جواب دیتے، سو میں خاموش ہو گیا ۔

 حویلی میں میری اماں میری منتظر تھی ۔ وہ ماں تھی اور میں جانتا تھا کہ وہ اتنے دنوں سے سوئی بھی نہیں ہوگی ۔انہوں نے بڑے سارے کھانے بنوائے ہوئے تھے جیسے انہیں یقین تھا کہ میں آج واپس گھر آ جاﺅں گا۔

کھانے پر بابا، اماں اورمیں ہی تھے ۔ ایسا ممکن نہیں تھا کہ اسی قتل کے حوالے سے باتیں نہ چلتیں ۔لیکن کھانا شروع کرتے ہی اماں نے کہہ دیا کہ اس موضوع پر کوئی بات نہیں ہوگی ۔سو ادھر اُدھر کی باتوں میں کھانا کھا لیا تو میں لاﺅنج میں آ گیا ۔گاﺅں کے بہت سارے لوگ مجھے ملنے آ ئے تھے ۔ تھوڑی دیر بعد وہ بھی چلے گئے ۔میں اس وقت حویلی کے اندرونی کاریڈور میں بیٹھا ہوا تھا جب مجھے ارم کا خیال آ یا ۔ میں نے اپنا فون منگوایا اور اسے کال کر دی۔

”تم فوراً چلی گئی ، ایک دن مزید ٹھہر جاتی ۔“ میں نے پوچھا

” ارے یار،بارہ دن رہی ہو ں میں تمہارے ہاں ، مجھے واپس لاہور بھی تو آنا تھا ۔اب وہیں تو نہیں رہ سکتی تھی ۔“اس نے خوشگوار لہجے میں کہا

”میں تم سے بہت کچھ پوچھنا چاہتا تھا ،یہ سب ….“ میں نے کہنا چاہا تو وہ میری بات قطع کرتے ہوئے بولی

” کیا تمہیں یہ احساس نہیں ہو گیا کہ تمہارے ساتھ سازش ہوئی ہے ؟“

” ارم ، میں تو سازش کا شکار ہو گیا ، لیکن اس سازش کا جال ٹوٹا کیسے ؟“میں نے تیزی سے پوچھا تو وہ سکون سے بولی

” مجھے آنٹی نے سارے واقعے کی تفصیل بتا دی تھی ۔اس کے مطابق یہ جو تمہاری ایف آئی آر درج ہو ئی تھی نا ، اسی میں سب کچھ دکھائی دے رہا تھا ۔فیروز اور پھتّو مسلّی نامی دونوں بندے ٹھیک نہیں تھے ۔انکل بھی یہی بات سمجھ رہے تھے ۔ ریمانڈ ہونے تک وہ بھی غائب تھے ۔وہ کیوں غائب ہوئے ؟ظاہر ہے ان کے پیچھے کوئی نہ کوئی تو دشمن ہے ؟ اب یہی بندے بتا سکتے تھے کہ انہوں نے ایسا کیوں کیا ؟دوسرا تفتیشی اسلم ، اس نے جو مسل جج صاحب کے سامنے رکھی تھی۔ اس میں وہ جانب دار نظر آ یا ۔ظاہر ہے وہ بھی ان سے ملا ہوا تھا ۔ان تینوں پر مختلف طرح سے دباﺅ ڈالا گیا۔وہ اس پر تو راضی ہو گئے کہ وہ درست حقائق سامنے لے آ ئیں گے لیکن یہ کس کے ایماءپر ہوا اس پر انہوں نے ایک لفظ نہیں کہا۔“

” مطلب ، ان تینوں کو معلوم ہے کہ میرا دشمن کون ہے ؟“ میں نے بات سمجھتے ہوئے کہا

” کیاتم نے اب تک سوچا، یہ سب کیوں ہوا ؟ بلکہ وہ روشن مسلّی ہی قتل کیوں ہوا تھا ؟“ اس نے پوچھا تو میں تیزی سے کہا

” بہت سوچا، جیل میںسوچنے کے علاوہ میرے پاس تھا کیا؟“

”کسی نتیجے پر پہنچے ہو ؟“ اس نے پوچھا

” نہیں، شاید میں اسے اتفاق ہی سمجھتا، اگر پہلے دن سے لیکر اب تک کچھ باتیں سامنے نہ آ جاتی ، ہے تو یہ سازش ہی ، اور یہ سازش صرف مجھے ذلیل کرنے کے لئے کی گئی ۔میں سوچتا ہوں اگر میرا جسمانی ریمانڈ ہو جاتا تو میں ذہنی طور پر مفلوج ہو کر رہ جاتا۔“ میں نے کہا تو وہ بولی

” اس کی کسر انہوں نے بیرک میں نکالنا چاہی ۔خیر اب تم بہت محتاط ہو کر رہنا۔دشمن کسی دوسری طرح بھی تجھے نقصان پہنچا سکتے ہیں ۔ یہ واقعہ تمہارا معمول دیکھ کر ہی ہوا ہے ، تم کب جاگنگ کے لئے نکلتے ہو، کدھر جاتے اور سارا دن کیا کرتے ہو۔“

” اب یہی پتہ کرنا ہے کہ کون ہے میرا دشمن ؟“ میں نے کسی حد تک معاملہ سمجھتے ہوئے لہجے میں کہا تو ہنستے ہوئے بولی

” مجھے معلوم ہوتا نا تو ابھی تمہیں بتا دیتی ۔ مگر مجھے اتنا اندازہ ہے ،وہ جو کوئی بھی ہے، تیرے ارد گرد ہے ۔اسے تلاش کرنا اب تمہارا کام ہے ۔کہا نا ایسا منافق دشمن بہت خطرناک ہوتا ہے ۔“

” ہاں یہ تو ہے ۔“میںنے سر ہلاتے ہوئے کہا

” دیکھو، وہ وجہ تلاش کرو ، جس کی بنا پر کوئی تیرا دشمن ہوا ہے ۔“اس نے کہاتو میں بولا

” یار ایک دن مزید رہ لیتی ، تھوڑا گپ شپ ہی کر لیتے ۔“

” آ جانا لاہور ، کر لیں گے گپ شپ ۔“ اس نے ہنستے ہوئے آفر کی

” ٹھیک ہے میں ایک دو دن میں آ تا ہوں ، اپنا چیک اپ بھی کروا لوں گا اچھی طرح سے ۔“ میں نے کہا تو اس نے میری ہاں میں ہاں ملائی ، باقی دوستوں کے بارے میں تھوڑی دیر باتیں کرتے رہنے کے بعد ہمارے درمیان فون کا رابطہ منقطع ہوگیا ۔

ارم نے یہ تو کہہ دیا تھا کہ پھتّو مسلّی ، فیروز اور اسلم تفتیشی پر دباﺅ ڈالا ، لیکن کس طرح یہ دباﺅ ڈالا ، کن کے ذریعے یہ دباﺅ ڈالا ،انہوں نے میرا دشمن بتایا بھی نہیں اور سارا معاملہ سیدھا ہو گیا ؟ یہ سوال میرے ذہن میں گونج رہا تھا ۔جب اس نے یہ بات بتائی تو میں نے اسے اتنا سنجیدہ نہیں لیا تھا لیکن کچھ دیر تک سوچتے رہنے کے بعد یہ سوال مجھے بے چین کرنے لگا ۔ایک تو ابھی تک دشمن نا معلوم تھا ، دوسرادباﺅ والی بات ابھی تک سمجھ میں نہیں آ رہی تھی ۔بابا نے بھی اس پر بات نہیں کی تھی ۔ وہ اس واقعہ کو دہراتے ہی نہیں تھے جیسے وہ اس کا ذکر بھی پسند نہ کرتے ہو ۔آخر یہ معمہ تھا کیا ؟

یہ معمہ اپنی جگہ تھا لیکن ان گزرے دنوں میں جس اذیت سے میں گزرا تھا وہ میں ہی جانتا تھا ۔مجھے سب سے زیادہ اپنی بے عزتی کا احساس تھا ، کس قدر غلیظ انداز میں مجھے ذلیل کرنے کی کوشش کی گئی تھی ۔ میںیہ لمحات چاہتے ہوئے بھی نہیں بھول سکتا تھا ۔ میرے اندر لمحہ بہ لمحہ آ گ بھڑکنے لگی تھی ۔میراجی چاہتا کہ میرا دشمن میرے سامنے ہو تو میں اسے چیر پھاڑ دوں ۔جس طرح مجھے ذلیل کیا گیا تھا میں اس سے کئی گنا اسے ذلیل کر کے ہی سکون کا سانس لے سکتا تھا ۔میں نے کسی کو تنگ نہیں کیا تھا،نہ کسی پر ظلم کیا تھا ، لیکن مجھے نشانے پر کیوں رکھا گیا۔اگر کسی کو مجھ سے دشمنی کرنا ہی تھی تو سامنے آ کر للکارتا ۔چھپ کر وار کرنے والا جو بھی تھا ، اب اسے تلاش تو میں نے کرنا ہی تھا ۔ وہ چودہ دن جو میں نے جیل کے ہسپتال میں گزارے تھے ، اسی سوچ میں ہی گزرے تھے ۔ میں نے کیا کرنا تھا ،یہ میںنے انہی دنوں میں سوچ کر فیصلہ کر لیا تھا ۔میرے اندر کی آگ نے مجھے بدل کر رکھ دیا تھا۔پندرہ دن پہلے والا علی احسن نہیں رہا تھا ۔

٭….٭….٭

اسی رات میں اپنے کمرے میں تھا اور اپنے حالات کے بارے میں سوچ رہا تھا کہ ملازمہ نے تنّی کے آ نے کے بارے میں بتایا ۔میںنے ملازمہ کو چائے بھجوانے کا کہااور مہمان خانے کی جانب چل دیا۔ تنّی میرے بچپن کا دوست تھا۔ نا م تو اس کا تنویر تھا ۔لیکن وہ تنّی کے نک نیم سے مشہور تھا۔وہ ہمارے گاﺅں کا ہی رہنے والا تھا ۔اس کا والد جس قدر شریف النفس انسان تھے، تنّی اتنا ہی تیز ، شرارتی اورلاپرواہ ذہن کا مالک نکلاتھا ۔اس کے دونوں چھوٹے بھائی پڑھ لکھ کر اسکول ٹیچر بھرتی ہو گئے تھے لیکن تنّی بہ مشکل میٹرک ہی کر سکاتھا ۔ وہ عجیب دماغ کا تھا ۔اس کی مجھے سمجھ نہیں آتی تھی ۔ اس کی اپنے گھر والوں سے بنی ہی نہیں تھی ۔وہ اپنے گھر والوں پر بوجھ نہیں بنا بلکہ ایسے ہی چھوٹا موٹا بیوپار کرنا شروع کر دیا ۔اب بھی وہ اپنے گزارے لائق کما لیتا تھا ۔اس کا کوئی مستقل ٹھکانہ نہیں تھا ۔ صرف ایک فون تھا ، جس پر اس سے رابطہ ہو جاتا تھا ۔وہ ایک بار لاہور آیا تو میرے پاس ٹھہراتھا ۔ میرے جیل جانے سے پہلے ایک دوبار اس سے ملاقات ہو ئی تھی ۔وہ بھی جب میںنے اپنے پرانے سنگی ساتھیوں کو اپنے ڈیرے پر بلا یا تھا ۔لاہور کی رونق چھوڑ کر یہاں آیا تو کافی تنہائی محسوس کی تھی ۔ سوچ میں یہی تھا کہ پرانے سنگی ساتھیوں کے ساتھ محفلیں جمایا کروں گا ۔اس طرح دل بہلا رہے گا ۔انہی دنوں تنّی کے بارے میں پتہ چلا تھا کہ وہ کیا کرتا ہے ۔

 کچھ دیر بعد جب میں مہمان خانے میں پہنچا تو وہ اکیلا ہی بیٹھا ہوا تھا ۔سردی کی وجہ سے اس نے کافی قیمتی چادر اوڑھی ہوئی تھی ۔ اس کے سر پر کوہاٹی ٹوپی لی ہوئی تھی اور پیروں میں جاگر پہنے ہوئے تھے ۔ مجھے دیکھتے ہی اٹھ کر میرے ساتھ مصافحہ کیا اور سامنے والی کرسی پر بیٹھ گیاتو میںنے بے تکلفانہ لہجے میں پوچھا

” خیر ہے اس وقت آ ئے ہو ؟“

”مجھے کچھ دیر پہلے پتہ چلا کہ تم جیل سے واپس آ گئے ہو، بس اس لئے ملنے آ گیا ۔“ اس نے دھیمی سی آ واز میں افسردہ لہجے میںکہا ۔وہ اچھا خاصا دراز قد ، مضبوط جسم کا نوجوان تھا۔ اس کے نین نقش تیکھے تھے ۔ آ نکھیں میں ایک خاص چمک ہر وقت رہتی تھی جو اس کی اند رکی بے چینی کو ظاہر کرتی رہتی تھیں ۔اس کا ماتھا چوڑا تھا جس پر سیاہ بالوں کی لٹ آجاتی تھی ۔ لمبی سی ناک کے نیچے بھاری مونچھ تھی ۔ اس کی ہلکی ہلکی داڑھی تھی ، جسے وہ بہت سنوار کر رکھتا تھا ۔اس کا رنگ گندمی تھا لیکن حالات نے اسے جلا کر رکھ دیا ہوا تھا ۔اس میں جو ایک تیکھا پن تھا ، جو اس کی شخصیت کا لازمی جز تھا، وہ دکھائی نہیں دے رہا تھا اس لئے میں نے اسے غور سے دیکھتے ہوئے پوچھا

” تمہیں خیرہے ، تم اس قدر مرجھائے ہوئے ہو ؟“

”یا ر میں سارے حالات جانتے ہوئے بھی تمہاری کوئی مدد نہیں کر سکا ۔ یہاں تک کہ تجھے ملنے بھی نہیں آیا ۔میں تم سے شرمندہ ہوں یار ۔“ اس نے اسی شرمندگی بھرے لہجے میں کہا

”اچھا تم ایسا کر بھی لیتے تو کیا کرتے ، مجھے خود ابھی تک پتہ نہیں چلا کہ اس کے حالات پیچھے کون ہے ؟“ میں نے اسے تسلی دیتے ہوئے کہا

” حالات کو سمجھنے ہی سے وہ چھپا ہوا دشمن سامنے آ ئے گا نا ، اب دیکھو روشن مسلّی تو ادھیڑ عمر تھا، چھوٹی موٹی چوری چکاری کرتا تھا ، معاشرے کا کوئی اچھا فرد تو نہیں تھا لیکن وہ انسان تو تھا ۔اسے کیوں مارا گیا ؟ پہلا سوال یہ بنتا ہے نا ؟ سوچو، بنتا ہے نا ؟ “ اس نے میری طرف دیکھ کر پوچھا

” چلو یونہی سہی ،تم بات کرو ۔“ میں نے اس کی بات میں دلچسپی لیتے ہوئے کہا

” لیکن یہ پھتّو مسلّی کون سا اچھا بندہ ہے ۔یہ روشن مسلّی کی بیٹی سے شادی کرنا چاہتا تھا ،لیکن روشن نے اسے اپنی بیٹی نہیں دی ۔چلو یہ ایک الگ معاملہ ہے مگر پچھلے ایک برس سے وہ چوہدری سلطان کے ساتھ جڑا ہوا ہے ۔ اس کے لئے کام کررہا ہے ۔ یہ جو چند دن پہلے غائب ہو گیاتھا اور اب بھی چھپا ہوا ہے ،میری اطلاع کے مطابق ، وہ چوہدری سلطان کے پاس ہے ۔“ اس نے مجھے سمجھاتے ہوئے کہا

” یہ چوہدری سلطان وہی ہے نا ، چوہدری لطیف کا بیٹا، جو باپ کے مرجانے کے بعد اپنے پر پرزے نکال رہا ہے ؟“ میںنے کریدتے ہوئے پوچھا

” پر پر زے نکال نہیں رہا ، اب تک توکافی نکال چکا ہے ۔وہ علاقے میں پوری پوری بد معاشی کرنے کے چکر میں ہے ۔ وہ کسی کو اپنے سامنے کچھ بھی نہیں سمجھتا ۔“ تنّی نے جو ش بھرے لہجے میں بتایا

” تمہارے کہنے کا مطلب ہے کہ اس کا ہمارے معاملے سے کوئی نہ کوئی تعلق ہے ؟“ میں نے دلچسپی لیتے ہوئے پوچھا

”مجھے لگتا ہے ۔کیونکہ پھتّو مسلّی ہی نہیں فیروز بھی اسی کے پاس جاتا ہے ۔سمجھو اسی کے کیمپ کا بندہ ہے ۔ان دونوں بندوں کی پشت پر وہی چوہدری سلطان ہے ۔ اب وہ دونوں ہی غائب ہیں ۔“ اس نے تیزی سے کہا

”میں تمہاری بات مان لیتا ہوں ۔لیکن مجھ سے سلطان کی کیا دشمنی ، میرا خیال ہے ہمارا آ منا سامنا ہوئے کوئی چار پانچ برس تو ہو ہی گئے ہوں گے ۔“ میں نے سوچتے ہوئے کہا

”یہ مجھے نہیں معلوم ، لیکن تمہارے معاملے کے سارے ”کھرے“ اس کی طرف ہی جاتے ہیں ۔ان حالات میں تو چوہدری سلطان کو چاہئے تھا کہ وہ پھتّو مسلّی اور فیروز کو قریب نہ پھٹکنے دیتا مگر اس نے ان دونوں کو ڈیرے پر رکھا ہوا ہے ۔“ تنّی نے پھر مجھے سمجھانے والے انداز میں کہا تو میں چند لمحے سوچتا رہا پھر بڑے ٹھہرے ہوئے انداز میں بولا

” دیکھ تنّی، میں کچی بنیاد پر یونہی کسی پر چڑھ دوڑنا نہیں چاہتا ، نہ ہی خواہ مخواہ کی مخالفت مول لینا چاہتا ہوں ۔ہاں اگر مجھے پکے ثبوتوں کے ساتھ یہ پتہ چل گیا کہ یہ ساری بے غیرتی چوہدری سلطان کی ہے تو پھر اس کا حشر دیکھنا ، میں اس کے ساتھ کیا کرتا ہوں ۔“

” میں جانتا تھا کہ تم یہی کہو گے ۔میں اسی لئے تمہارے پاس اس وقت اکیلا آ یا ہوں ۔ چند دن صبر کرو ، میں سارے ثبوت تمہارے سامنے رکھ دوں گا ۔ شاید میں اسی طرح اپنے یار کی مدد کر سکوں ۔“ اس نے جوش بھرے عزم سے کہا تو میںنے سرہلاتے ہوئے کہا

” ٹھیک ہے ڈن ہو گیا ، تم یہ کام کرو، میں بھی کوشش کرتا ہوں ۔میرا دشمن میرے سامنے آ جائے تو میں اسے چھوڑوں گا نہیں ۔“

” یہ کام اب تم مجھ پر چھوڑ دو ۔“ اس نے دھیمے سے لہجے میں یوں کہا جیسے اسے کوئی من پسند کام مل گیا ہو ۔ اتنی دیر میں چائے آ گئی ۔اس دوران تنّی سے علاقے کے بارے میں باتیں ہوتی رہیں ۔ میری کوشش تھی کہ میں علاقے میں موجود لوگوں کے بارے میں زیادہ سے زیادہ معلومات لے لوں ۔یہ میرے لئے بہت ضروری تھا ۔ جس طرح چوہدری سلطان بارے مجھے اب پتہ چلا تھا کہ وہ علاقے میں بدمعاشی پر اتر آ یا ، اس طرح نجانے کتنے چھپے ہوئے لوگ تھے ۔میں اب واپس گاﺅںآ گیا تھا اور اب مجھے یہیں رہ کر زمیندارہ کرناتھا ۔ اس لئے مجھے علاقے کی خبر ہو نی چاہئے تھی ۔ شاید میں اس بابت جاننے کی اتنی جلدی نہ کرتا لیکن میرے ساتھ جو حالات بن گئے تھے ۔ان حالات کا تقاضا تھا کہ میں اپنے ارد گرد سے باخبر رہوں ۔وہ تقریبا ً دو گھنٹے میرے پاس رہنے کے بعد چلا گیا ۔میں تنّی پر اعتبار نہیں کر سکتا تھا ۔ اگرچہ اس نے کبھی میرے ساتھ کوئی فضول مذاق نہیں کیا تھا لیکن اس کی بات پر آنکھیں بند کر کے اعتما د بھی تو نہیں جا سکتا تھا ۔ بچپن کی دوستی اپنی جگہ لیکن اب مجھے کسی پر بھی بھروسہ نہیں رہا تھا ۔میں بچپن سے اب نکل آ یاتھا ، مجھے پورے ہوش سے رہنا تھا ۔

٭….٭….٭

اگلے دن میں ناشتہ کر چکا تھا کہ میرا فون بج اٹھا ۔وہ کوئی اجنبی نمبر تھے ۔ میں کچھ دیر سمجھنے کی کوشش کرتا رہا پھر میں نے کال رسیو کر لی ۔دوسری جانب کوئی بھاری آواز میں بات کر رہا تھا ۔ اس نے میرا نام لے کر تصدیق کی

” ہاں بولو ، میں ہی بات کر رہا ہوں ۔“ میں نے کہا تو دوسری طرف سے طنزیہ لہجے میں کہا گیا

”اور میں اُن لوگوں میں سے ایک ہوں جنہوںنے تمہیں بیرک میں بری طرح مارا تھا ۔“

” اُوہ اچھا ، کیا تم باہر آ گئے ہو ؟“میں نے بے صبری سے پوچھا کیونکہ اس کے بارے میں جانتے ہی میرے دماغ میں ایک دم سے آ گ بھڑک اٹھی تھی ۔

” اسی لئے تمہیں فون کر رہا ہوں سوہنے منڈے ۔سنو میری بات ۔“ اس نے تیزی سے کہا اور لمحہ بھر کے لئے رُک گیا ، پھر بولا ،”تمہیں زخمی کرنے کی وجہ سے ہم پر جو ایف آئی آر درج ہو ئی ہے ۔ اب اس کی پیشی ہے ۔اگر تم اپنی جان چھڑوانا چاہتے ہو ۔ بلکہ سکون سے جینا چاہتے ہوتو جیسا ہم کہیں ویسے بیان دینا ۔“

” ورنہ کیا ہوگا ؟“ میںنے سلگتے ہوئے پوچھا

” ورنہ ، یہ تو ہم بھی نہیں جانتے کہ تیرے ساتھ کیا ہو سکتا ہے ۔بس ہوگا یوں کہ تم مرنا چاہو گے لیکن مر نہیں سکو گے ۔“ اس نے انتہائی حقارت سے کہا

”اور میں تم لوگوں کا منتظر ہو ں کہ میرے سامنے آ جاﺅ ۔مجھے یہ تو پتہ چل ہی گیا ہے کہ تم کون کون ہو ۔ یہ سن لو کہ میں اسی انتظار میں ہوں کہ کب تم لوگ جیل سے باہر آ تے ہو اور میں تمہیں تمہاری بد معاشی کا سبق سکھاﺅں ۔ تم سن لو اور اپنے ساتھیوں کو بھی بتا دینا،اس کے بعد تم بدمعاشی نہیں کر سکو گے ۔“ میںنے اپنے غصے پر قابو رکھتے ہوئے کہا تو وہ دوسری طرف سے وہ قہقہ لگا کر ہنس دیا پھر سرد سے لہجے میں بولا

”اوئے چڑی بچے ، ہماری بے غیرتی سے تو بڑے بڑے پناہ مانگتے ہیں، تم کیا شے ہو ۔اچھا ہے ، تم ہمارے بارے میں جان لو ، کیونکہ جیسے ہی تمہیں ہمارے بارے میں پتہ چلے گا ، تمہیں ہارٹ اٹیک ہو جائے گا ۔“

”میں جانتا ہوں کہ تمہاری حیثیت کتوں سے زیادہ نہیں ، جو مجھ پر کسی نے چھوڑے تھے ۔مجھے دھمکیاں مت دو ۔بلکہ میرے سامنے آ نے کی ہمت ابھی سے پیدا کرنے کی کوشش کرو ۔مجھے کتوں کا علاج کرنا آ تا ہے ۔“ میںنے غصے میں کہا

” مطلب تم چاہتے ہو کہ ہمارا اور تمہارا سامنا ہو ۔“ اس نے حتمی لہجے میں پوچھا تو میں بولا

” اوئے میں تو تم لوگوں کا انتظار کر رہا ہوں ۔“

” چل ٹھیک ہے ۔“ اس نے کہا اور فون کال بند کر دی ۔میںنے وہ نمبر محفوظ کر لیا ۔ نجانے کیوں مجھے یہ احساس ہونے لگا تھا کہ اب مجھے یہ لڑائی لڑنا ہی پڑے گی ۔ بابا اپنے کمرے میں تھے اور اماں اندر کہیں مصروف تھی ۔ میں انہیں اس فون کال کے بارے میں بتا کر انہیں پریشان نہیں کرنا چاہتا تھا ۔ اس لئے وہاں سے اٹھ گیا ۔

میں حویلی سے باہر نکلا تو اچھی خاصی دھوپ نکلی ہوئی تھی ۔میں لان میں تھوڑی دیر بیٹھ کر اسی فون کال کے بارے میں سوچنا چاہتا تھا جو ابھی تھوڑی دیر پہلے کسی نے مجھے کی تھی ۔مجھے یہ فیصلہ کرنا تھا کہ اس کال کے بارے مجھے انکل فہیم کو بتانا چاہئے یا نہیں ؟ میں ابھی اسی فیصلے میں الجھا ہوا تھا کہ بڑے گیٹ پر چند عورتیں نمو دار ہوئیں ۔ وہ مختلف عمر کی تھیں ۔وہ گیٹ پر کھڑی اندر کی جانب دیکھ رہی تھیں ۔ میںنے ان کی طرف دیکھا اور کچھ دور کام کرتے ہوئے ملازم سے کہا کہ ان سے پوچھیں کہ کیابات ہے ۔ ملازم نے انہیں دیکھا اور چونکتے ہوئے تیر کی مانند میری طرف آ یا ۔

’ ’ یہ تو رُوشن مسلّی کی بیوی اور اس کی بیٹی ہے ، ان کے ساتھ ان کی رشتے دار عورتیں ہیں۔“ملازم نے تیز تیز انداز میں بتایا

” یہ یہاں کیا کرنے آ ئی ہیں ؟“ میںنے بے ساختہ پوچھا

” جی مجھے کیا پتہ ۔“ اس نے بے چارگی سے کہا

” تو جاﺅ جا کر پتہ کرو ۔“ میں نے تیزی سے کہا تو ملازم گیٹ کی جانب بڑھ گیا ۔ وہ ان سے کچھ دیر باتیں کرتا رہا پھر واپس پلٹ کر مجھے بتایا

” وہ بڑے میاں صاحب سے بات کرنا چاہتی ہیں ۔“

” کس معاملے میں ؟“میںنے پوچھا

” یہ تو میںنے نہیں پوچھا ۔“ اس نے کان کھجاتے ہوئے کہا تو میںنے بھناتے ہوئے اس کی طرف دیکھا اور پھر گیٹ میں کھڑی عورتوں کو اندر آ نے کا اشارہ کیا ۔ وہ جھجکتے ہوئے اندر آ گئیں ۔وہ ساری میرے سامنے کھڑی ہو گئی تھیں ۔ تبھی میں نے پوچھا

” بی بی کیا بات ہے ؟کیوں بڑے میاں صاحب سے ملنا چاہتی ہو ؟“

میرے کہنے پر ایک ادھیڑ عمر عورت ذرا سا آ گے بڑھی اور شرمندہ سے لہجے میں بولی

”ہم لوگ آپ سے شرمندہ ہیں لیکن کوئی دوسرا دروازہ ایسا نہیں جہاں سے ہمیں مدد مل سکے ۔ہمارے ساتھ بہت بڑا دھوکا ہو گیا ہے ۔“

” کیسی مدد اور کیسا دھوکا؟“ میںنے پوچھا

”دیکھیں ، میں آپ کو بتاتی ہوں ۔“ اس عورت نے کہا پھر طویل سانس لے کر کہتی چلی گئی ،” پھتّو ہمارا رشتے دار ہے مگر وہ کوئی اچھا بندہ نہیں ہے ۔بہت عرصے سے اس کی میری بیٹی پر نگاہ تھی ۔میں نے اسے بہت دفعہ منع بھی کیا لیکن وہ سنی ان سنی کرتے ہوئے رشتہ بھیجتا رہا ۔ اس کی سب سے زیادہ مخالفت میرا شوہر روشن ہی کرتا تھا ۔روشن کے قتل کے بعد ہمیں تو اپنی ہی پڑگئی ۔لیکن آج صبح سے میری بیٹی غائب ہے ۔ ہمیں پکا یقین ہے کہ اسے پھتّو نے ہی اغوا کیا ہے ۔خدا کے لئے ہمیں ہماری بیٹی واپس دلا دیں ۔ہم یہی عرض کرنے بڑے میاں صاحب کے پاس آ ئی ہیں ۔“

” دیکھو بی بی ، یہ گھر ہے کوئی تھانہ نہیں ۔ تم جاﺅ تھانے وہاں جا کر رپٹ درج کراﺅ۔ پھر اس کے بعد دیکھتے ہیں ۔“ میں نے انہیں یہ کہہ کر ٹالنے کی کوشش کی ۔ مجھے لگا کہ وہ ہمیں پھانسنے کے لئے کوئی چال چل رہے ہیں ۔

” وہاں ہماری کون سنتا ہے جی ، کوئی ہمارے ساتھ ….“اس نے کہنا چاہا تو میںنے کہا

”تمہارے گھر والے ہیں ، رشتے دار ہیں انہیں ساتھ لو چلی جاﺅ شہر تھانے ۔وہ اگر بات نہیں سنیں گے تو آ کر بتانا۔“ میں نے پھر ٹال دیا ۔وہ مایوس ہو چکی تھیں ۔انہی لمحوں میں تنّی موٹر سائیکل پر گیٹ پار کرے اندر آ گیا ۔اس نے موٹر سائیکل کھڑی کی، پھر ان عورتوں کی طرف دیکھتا ہوامیرے پاس آ گیا ۔ اس نے کسی علیک سلیک کے بغیر پوچھا

” یہ روشن کی بیوی اپنی بیٹی کے سلسلے میں آ ئی تھی نا ؟“

” ہاں ، کہہ رہی ہے کہ ان کی مدد کی جائے اور تھانے جایا جائے ۔“ میں نے اسے بتایا تو وہ بولا

”ہاں ، مدد تو ان کی بنتی ہے ۔لیکن یہ مدد مانگنے غلط جگہ پر آ گئی ہیں ۔“ یہ کہہ کر اس نے روشن کی بیوی سے کہا،” اماں تمہیں یہ خیال نہیں آ یا کہ کل تو تم لوگ ان پر قتل کا الزام لگارہے تھے اور آج ان سے مدد مانگ رہے ہو؟“

” پھر پتر کیا کروں میں ، کوئی بھی میرے ساتھ چلنے کو تیار نہیں ۔“ اس نے ایک دم سے روتے ہوئے کہا

”تمہارے رشتے داروں میں کوئی بھی تیرا ساتھ دینے کو تیار نہیں ؟“ اس نے پوچھا تو وہ انکار میں سر ہلاتے ہوئے بولی

” کوئی نہیں جا رہا ہے ، سبھی پھتّو سے ڈرتے ہیں ۔“

” وہ اتنا بڑا بد معاش بن گیا ہے ۔“ میں نے سرسراتے ہوئے پوچھا

”ہاں ، وہی چوہدری سلطان کی پشت پناہی کی وجہ سے ۔“ تنّی نے دھیمے سے کہا ،پھر چند لمحے سوچ کر بولا،” چل میں چلتا ہوں تیرے ساتھ ، لیکن بعد میں اگر تم لوگ مکر گئے تو مجھ سے برا کوئی نہیں ہوگا ۔“

” بس میری بیٹی مل جائے ، مجھے اور کیا چاہئے ۔“ اس نے روتے ہوئے کہا

” چل سٹاپ پر جا ، وہاں سے ویگن میں بیٹھ کر شہر چل ، میں آتا ہوں موٹر سائیکل پر ۔“ تنّی نے کہا تو وہ چند لمحے کھڑی رہیں پھر ساری پلٹ گئیں ۔

” تم کیوں یہ سر دردی لے رہے ہو ؟“ میں نے تجسس سے پوچھا

” یہ سردردی لینی پڑے گی ، ورنہ دشمن انہیں استعمال کر جائیں گے ۔“ تنّی نے کہا تو مجھے ایک دم سے غصہ آ گیا مگر میںنے خود پر قابو رکھتے ہوئے کہا

”میرا کون سا دشمن ، ابھی مجھے اپنے دشمن کا پتہ ہی نہیں اور تم خواہ مخواہ میرا دشمن میرے سامنے کھڑا کر رہے ہو ۔“

” تم ٹھیک کہتے ہو ۔“ اس نے مر جھائے ہوئے لہجے میں کہاتو میں اس پر برس پڑا

”دیکھ تیرا اگر کوئی چوہدری سلطان سے پھڈّا ہے نا تو اسے خود ہی نپٹ، اس طرح بہانے سے میرا اس کا آ منا سامنا مت کر وا۔ہاں اگر اس نے تیرے ساتھ زیادتی کی ہے کوئی ظلم کیا ہے تو بتا ، پھر کر لیتے ہیں بات ۔“

”میں تم سے بحث نہیں کروں گا ،بس ایک بات کہوں گا ، جس دن تمہیں یہ پتہ چل گیا کہ وہی تمہارا دشمن ہے، میں تمہارے ساتھ کھڑا ہوں گا ۔“ یہ کہہ کر وہ تیزی سے اٹھا اور موٹر سائیکل کی جانب بڑھ گیا۔میں نے اسے آ واز دینا بھی مناسب نہیں سمجھا ۔ وہ موٹر سائیکل سٹارٹ کر کے وہاں سے نکلتا چلا گیا ۔ مجھے اس پر بہت غصہ آ رہا تھا ۔

کچھ دیر بعد میں خود پر قابو پا کرمعمول پر آ چکا تھا ۔ پھتّو مسلّی اور فیروز دونوں ہی غائب تھے ۔لیکن اسلم اے ایس آئی تو یہیں تھا ۔ مجھے اس تک رسائی حاصل کر کے اسے پکڑنا چاہئے ۔زیادہ امکان یہی تھا کہ و ہ انکار کرے گا لیکن مجھے اس سے بدلہ بھی تو لینا تھا ۔اس کے لئے نفرت میرے دل میں بڑھ رہی تھی ۔اسی لمحے میرے اندر یہ ضد بڑھتی چلی گئی کہ اگر کوئی نہیں ملتا تو اسلم اے ایس آ ئی کو پکڑ لوں ، اسی سے مجھے اپنے دشمن کا پتہ چلے گا ۔ یہ فیصلہ کرتے ہی میں اپنے آپ کو روک ہی نہیں سکا ۔میں اٹھا اور اپنی جیپ کی جانب بڑھ گیا ۔ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھتے ہی میں نے ڈیش بورڈ میں پڑا پسٹل دیکھا ، فالتو میگزین چیک کئے اور پھر ڈیش بورڈ بند کر دیا ۔ملازم سے شہر جانے کا کہہ کر میں جیپ لے کر حویلی سے نکل گیا۔

تھانے کے اندر جانے سے پہلے میںنے پسٹل اپنی دائیں جانب نیفے میں اڑس لیا۔ میں نے جیپ پارک کی اور تھانے کے اندر چلا گیا ۔ تھانے کے صحن میں مجھے روشن کی بیوی اوراس کے ساتھ وہی عورتیں دکھائی دیں ۔ ان کی نگاہ بھی مجھ پر پڑ چکی تھی ۔ان کی طرف جانے کی بجائے میں حوالات کی جانب گیا ۔ میں دیکھنا چاہتا تھا کہ وہی ادھیڑ عمر ابھی وہی پر ہے یا چلا گیا ہے ۔وہ وہاں پر نہیں تھا ۔میںنے ایک طویل سانس لی اور راﺅ ظفر کے کمرے کی جانب چل دیا ۔

راﺅ ظفر اپنے آ فس ہی میں تھا ۔ مجھے یوں تھانے میں دیکھ کر چونک گیا ۔پھر بڑی خوش اخلاقی سے اٹھ کر میرے ساتھ ہاتھ ملایا اور بیٹھنے کا اشارہ کرتے ہوئے بولا

” کہئے کیسے آ نا ہوا ؟“

” ایک نمبر لکھیں ۔“ میںنے اپنا سیل فون نکالتے ہوئے کہا ،” اس سے مجھے دھمکیاں ملی ہیں کہ میںبیرک میں ہونے والی لڑائی بھول جاﺅں ۔ “

” اوہ ، مجھے پتہ چلا تھا کہ آپ کی وہاں لڑائی ہو گئی تھی ۔“ اس نے ہمدردی بھرے لہجے میں کہا تو میں نے تصیح کر دی ۔

” لڑائی نہیں ، مجھ پر حملہ ہوا تھا، قاتلانہ حملہ ….اور اب یہ دھمکی دی ہے مجھے ۔“

” نمبر لکھوائیں ۔“ اس نے مزید بات کرنے کی بجائے پینسل لے کر لکھنے کو تیار ہوگیا تو میںنے اسے نمبر لکھو ادیا ۔وہ نمبر لکھ چکا تو میںفوراً ہی اپنے اس مقصد پر آ گیا جس کے لئے میں یہاں آ یا تھا ۔

” وہ اسلم اے ایس آ ئی کدھر ہے ، اسے تو ذرا بلوائیں ، میں اس سے ملنا چاہتا ہوں ۔“ میںنے سکون سے کہا

” وہ کل ہی سے دو ماہ کی چھٹی پر چلا گیا ہے ۔“ راﺅ ظفر نے دھیمے سے کہا تو میں ہنس دیا پھر بولا

” اس کا مطلب ہے اسے بھی …. خیر ، کب تک ۔“

 ”علی ، ایک بات سنو ، آپ کا جو بھی دشمن ہے ایک نہ ایک دن سامنے تو آ ہی جائے گا لیکن وہ تمہیں جس ٹریک پر ڈالنا چاہتا ہے ، وہ بہت ہی خطرناک ہے ۔ اس سے بچ جاﺅ ۔“ اس نے ہمدردی سے کہا

”میں سمجھتا ہوں ۔اس ٹریک کے بارے میں بھی جانتا ہوں ۔لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ کوئی بھی مجھے ذلیل کر کے صاف بچ جائے گا ۔“نہ چاہتے ہوئے بھی میرا لہجہ تلخ ہو گیا تھا

”دیکھو ، اوپر سے سارے معاملات ہوئے ، اس تھانے میں ….“ اس نے کہنا چاہا تو میںنے تلخی سے کہا

” ٹھیک ہے ، میں کوئی تفتیش تو نہیں کر رہا ، بس یونہی اسلم اے ایس آئی کے بارے میں پوچھا تھا ، آخر ایک دن وہ ملے گا تو ضرور۔“

 میںنے اتنا کہا ہی تھا کہ وہ عورتیں دروازے پر آ کر کھڑی ہوگئیں ۔ دروازے پر کھڑا سنتری انہیں وہاں سے جانے کا کہنے لگا تھا ۔ ان کے ساتھ تنّی بھی تھا ۔ میںنے ایک نگاہ انہیں دیکھا پھر راﺅ ظفر سے کہا

” ان عورتوں کی رپورٹ کیوں نہیں لکھتے ؟یہ بھی اوپر سے آرڈر آ ئیں گے تو لکھیں گے ؟“ میرے لہجے میں تلخی ابھی تک موجود تھی ۔ جس پر راﺅ ظفر نے میری طرف دیکھا ۔ شاید اس نے خون کے گھونٹ پیئے تھے ۔ وہ چند لمحے خاموش رہا پھر ان عورتوں کو اندر بلا لیا ۔ان سے مسئلہ پوچھتا رہا ، یہ وہی تھا وہ جو پہلے مجھے بتا چکی تھیں ۔ کچھ دیر بعد اس نے انہیں تھانے کے منشی کے حوالے کیا تو میں اٹھ گیا ۔تنّی میری طرف دیکھتا رہا تھا ۔ اس کے چہرے پر کسی قسم کے جذبات نمودار نہیں ہوئے تھے ۔ رپورٹ لکھ کر ایک اے ایس آ ئی کے حوالے کر دی گئی تو میں تھانے سے گاﺅں جانے کے لئے اُٹھ گیا۔

 واپسی پر دبا دبا سا غصہ میرے دماغ میں پھیلا ہوا تھا ۔ دشمن ضرب لگا کر چھپ گیا تھا ۔بلاشبہ وہ میری بے بسی کا تماشہ کر رہا تھا۔میں یہ بات اچھی طرح سمجھتا تھا جو راﺅ ظفر نے کہی تھی ۔ دشمن مجھے اپنے ٹریک پر ڈال رہا تھا ۔میں یہ بھی سمجھ رہا تھا کہ میں آ ہستہ آ ہستہ اس ٹریک پر چل پڑا تھا ۔ اگر میں سکون سے گھر بیٹھ جاتا، گھبرا کر ،ڈراکے، خوف زدہ ہو جاتا تو شاید وہ بھی مجھے بھلا دیتے ۔ لیکن سوال یہ تھا کہ واقعی ہی بھلا دیتے ؟ جس مقصد کے لئے انہوں نے مجھ پر وار کیا تھا کیا اس طرح اس کا مقصد حل ہو جاتا ؟ کیا ان کا یہی مقصد ہے کہ میں خوف زدہ ہوجاﺅں ؟ آخر وہ چاہتے کیاہیں ؟ نہ دشمن کا پتہ نہ دشمن کے مقصد کا پتہ ؟ اس سے بڑی بے بسی اور کیا ہو سکتی تھی ۔

میرا دماغ کئی حصوں میں بٹ چکا تھا ۔میں ایسے بٹے ہوئے دماغ کے ساتھ ڈرائیونگ کرتا ہوا گاﺅں واپس جا رہا تھا ۔میرے دونوں طرف کھیت تھے ۔درمیان میں ایک پتلی سی تارکول کی سڑک تھی ۔آگے تھوڑے سے فاصلے پر ریتلا علاقہ تھا ۔ تقریبا آ دھا کلو میٹر وہ ریتلا ٹکڑا بے آ ب و گیا تھا ۔پھر اس کے بعد ایک نہر آ تی تھی اور آ گے میرے گاﺅ ںتک سارا علاقہ زر خیز تھا ۔میں اس ریتلے علاقے کے پاس آ گیا تھا ۔سڑک کے دونوں طرف ریت تھی اور چھوٹے چھوٹے ٹیلے بنے ہوئے تھے ۔ ہوا سے اُڑ کر ریت سڑک پر بھی آ جاتی تھی ۔انہی لمحات میں مجھے اپنے پیچھے ایک جیپ آتی دکھائی دی ۔

 بلاشبہ اس کی رفتار مجھ سے زیادہ تھی ۔میں سائیڈمرر میں دیکھ رہا تھا۔ وہ جیپ لمحہ بہ لمحہ میرے نزدیک آ تی چلی جا رہی تھی ۔ انہیں اصولی طور پر راستہ لینے کے لئے ہارن دینا چاہئے تھا ۔لیکن سر پر پہنچ کر بھی انہوں نے ہارن نہیں دیا تھا ۔میں انہیں راستہ دینے کے لئے تیار تھا ۔ نجانے کیوں مجھے خطرہ سا محسوس ہوا ۔ ان جیپ والوں کا انداز مشکوک تھا ۔ وہ جیسے ہی میرے برابر پر آئے ، میں نے لاشعوری طور پر ان کی طرف دیکھا ، میری سائیڈ پر بیٹھے ہوئے ایک شخص نے پسٹل سیدھا کیا ہوا تھا اور نشانہ لگانے کی تاک میں تھا ۔ مجھے کچھ نہیں سوجھا تو میںنے اپنی جیپ کو ذرا سا سائیڈ میں کر کے ایک دم سے رفتار کم کر دی ۔ وہ اپنی جونک میں آ گے نکل گئے ۔ اسی اثناءمیں وہ فائر کر چکے تھے ۔فائر میری جیپ کے بونٹ پر لگا تھا ۔میرے اچانک رکنے سے وہ کئی گز دور آ گے نکل چکے تھے ۔ ہمارا درمیانی فاصلہ کوئی سو قدم کا رہا ہوگا ۔ تب تک میں بھی سرعت سے اپنا پسٹل نکال چکا تھا ۔میںنے سیفٹی کیچ ہٹایا اور سامنے فائرنگ کرنے لگا ۔میرا پہلا نشانہ ان کے ٹائر پر تھا ، جیسے ہی فائر ٹائر میں لگا ایک دھماکا ہوا ۔تبھی سامنے سے کئی فائر ہو ئے ۔ میں نہیں جانتا تھا کہ وہ کتنے لوگ تھے ۔ لیکن فائرنگ ایک دم سے ہوئی تھی ۔مجھے بہت محتاط ہوکر ان کی فائرنگ کا جواب دینا تھا ۔میں جیسے ہی سر اٹھاتا ، سامنے سے ایک دم فائرنگ ہو جاتی ۔ وہ میری تاک میں تھے ۔

اس وقت میں اکیلا تھا ۔ اس لئے مجھے مشکل ہو رہی تھی ۔میں گھیرا جا چکا تھا ۔و ہ جو کوئی بھی تھے انہیں خبر تھی کہ میں شہر سے گاﺅں جا رہا ہوں ۔ مگر یہ وقت ان سوچوں کا نہیں تھا ۔مجھے ایک ایک گولی ، درست طرح سے استعمال کرنا تھی ۔شدید فائرنگ سے میری جیپ کا سامنے والا حصہ بے کار ہو چکا تھا لیکن انجن ابھی تک سٹارٹ تھا ۔میں نے محتاط انداز میں سر نکالا اور سامنے ایک شخص کو دیکھ کر تاک کے نشانہ لیا ۔ فائر کے ساتھ ہی ایک چیخ بلند ہوئی ۔ اس کے ساتھ ہی سامنے سے زوردار فائرنگ ہو نے لگی ۔

اچانک مجھے یہ احساس ہوا کہ میرے دائیں جانب سے بھی فائرنگ ہو نے لگی ہے ۔میں نے تھوڑا غور کیا تو ایک ٹیلے کی اوٹ میں کوئی شخص سامنے کھڑی جیپ کا نشانہ لے کر فائرنگ کر رہا تھا ۔وہ کون تھا ؟ میں اس پر فوری طور پر دماغ نہیں کھپایا بلکہ اس کا فائدہ اٹھا لیا ۔ وہ جیسے ہی فائر کرتا ، سامنے سے لمحہ بھر کو فائر رک جاتا، تبھی میں فائر کر دیتا ۔ دو میگزین خالی ہو چکے تھے اور میں تیسرا لوڈ کر رہا تھا ۔ تبھی مجھے احساس ہو اکہ یہ کھیل اب ختم ہونا چاہئے ، وہ جو سائیڈ میں سے فائرنگ کر رہا ہے اگر اس کے پاس گولی نہ رہی تو وہ کیا کرے گا ؟ مجھے اس کا فائدہ چند لمحوں میں اٹھانا تھا ۔ اس نے جیسے ہی فائر کیا ، میںنے تاک کر نشانہ لیا ، دوسری چیخ بلند ہوئی تو اس کے ساتھ ہی سامنے والی جیپ میں حرکت ہوئی ، وہ پھٹے ہوئے ٹائر کے ساتھ ہی چل پڑے تھے ۔ میں ٹیلے کی اوٹ ،میں موجود اپنے محسن کو دیکھنا چاہتا تھا ۔ جیسے ہی وہ جیپ دور ہوئی ، ٹیلے میں سے وہ شخص سامنے آ گیا مجھے یہ دیکھ کر خوشگوار حیرت ہوئی کہ وہ تنّی تھا ۔ میں نے مڑ کر دیکھا،سڑک کے بالکل بیچ اس کا بائیک اوندھا پڑا ہوا تھا۔ میں اس کی طرف دیکھ رہا تھا لیکن اس نے میری طرف دیکھا بھی نہیں تھا ۔وہ اپنی بائیک کی جانب بڑھا اور اس پر سوار ہو گیا ۔ میں اپنی جیپ سے نیچے اتر آ یا ۔ میں اس کی راہ روکنا چاہتا تھا ۔لیکن اس نے تیزی سے کہا

” ابھی خطرہ ہے ، وہ نہر پر ہو سکتے ہیں ۔“ یہ کہتے ہی وہ چل پڑا۔ میں تیزی سے جیپ میں بیٹھا اور چل دیا ۔ میں نہر کے پل پر جا کر رک گیا ۔ وہاں نہر کے پل کے آپ پاس چند دوکانیں تھیں ۔ ایک درخت کے نیچے حجام بیٹھا ہوا تھا ۔تنّی اس کے پاس کھڑاسے پوچھا رہا تھا

” اُو یار پیچھے بڑی فائرنگ ہوئی ہے ، تم لوگوں نے سنی ؟“

”ہاں آ واز تو ہم نے بھی سنی ،پر یقین اس وقت ہوا جب ایک پھٹے ہوئے ٹائر والی جیپ ادھر گئی ہے ۔“ اس نے نہر کے ساتھ ساتھ جانے والے راستے کی جانب اشارہ کیا ۔بلاشبہ وہ سڑک سے ہٹ گئے تھے ۔ انہیں ٹائر بدلنا تھا ۔ ان میں کوئی نہ کوئی زخمی ہوگیا تھا ،انہیں بچانا ان کی مجبوری تھی ۔وہ نہر کے ساتھ ساتھ جا کر اگلے پل سے دوسری سڑک پر چڑھ سکتے تھے ۔ یہ فاصلہ کوئی تین کلو میٹر کا فاصلہ تھا ۔میرا اس طرح ان کا پیچھا کرنا بہت خطرناک تھا ۔ تنّی نے میری جانب دیکھا اور آ نکھ کے ہلکے سے اشارے سے جانے کو کہا ۔ میں کوئی بات کئے بنا چل دیا ۔ کچھ دیر بعد وہ بھی میرے پیچھے پیچھے آ نے لگا ۔بلاشبہ وہاں پل پر موجود لوگوں نے میری جیپ کی حالت بھی دیکھی ہوگی ۔کسی نے مجھ سے پوچھا نہیں تھا لیکن وہ سمجھ گئے تھے ۔

جاری ہے ۔۔۔۔۔

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

خانقاہ قسط نمبر 2 کاوش صدیقی

خانقاہ قسط نمبر 2 کاوش صدیقی ”کیا ہو رہا ہے۔؟“کسی نے میر ے شانے پر …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے