سر ورق / کہانی / ملبے کا مالک موہن راکیش /عامرصدیقی

ملبے کا مالک موہن راکیش /عامرصدیقی

ملبے کا مالک

موہن راکیش /عامرصدیقی

ہندی کہانی

…………….

موہن راکیش۔پیدائش: ۸ جنوری،۵۲۹۱ ئ، امرتسر (پنجاب)۔میدان: ناول، کہانی، ڈرامہ، مضامین، ڈائری، سفرنامے۔اہم تخلیقات:ناول: اندھیرے بند کمرے، انترال، نہ آنے والا کل،کہانیوں کے مجموعے: کوارٹر اور دیگر کہانیاں، پہچان اور دیگر کہانیاں، وارث اور دیگر کہانیاں، نئے بادل، موہن راکیش کی سنپورن کہانیاں۔ڈرامہ: اشاڑھ کا ایک دن، لہروں کے راج ہنس، آدھے ادھورے۔ڈائری: موہن راکیش کی ڈائری۔سفرنامہ: آخری چٹان تک۔مضامین: پرویش۔انتقال:۳ جنوری ، ۲۷۹۱ ئ، دہلی۔

…………

ساڑھے سات سال کے بعد وہ لوگ لاہور سے امرتسر آئے تھے۔ ہاکی کا میچ دیکھنے کا تو بہانہ تھا، انہیں زیادہ اشتیاق اپنے گھروں اور بازاروں کو دوبارہ دیکھنے کا تھا، جو ساڑھے سات سال پہلے ان کےلئے پرائے ہو گئے تھے۔ ہر سڑک پر مسلمانوں کی کوئی نہ کوئی ٹولی گھومتی نظر آ جاتی تھی۔ ان کی آنکھیں اس ستائش کے ساتھ وہاں کی ہر ایک چیز کو دیکھ رہی تھیں، جیسے وہ شہر کوئی عام شہر نہ ہو بلکہ ایک اچھاخاصاپر کشش شہر ہو۔

تنگ بازاروں میں سے گزرتے ہوئے وہ ایک دوسرے کو پرانی چیزوں کی یاد دلا رہے تھے،”دیکھ فتح دینا، مصری بازار میں اب مصری کی دکانیں پہلے سے کتنی کم رہ گئی ہیں۔“

“ اُس نکڑ پر سکھی بھٹیارن کی بھٹی تھی، جہاں اب وہ پان والا بیٹھا ہے ،یہ نمک منڈی دیکھ لو، خان صاحب۔ یہاں کی ایک ایک لالائن وہ نمکین ہوتی ہے کہ بس ۔۔۔۔“

بہت دنوں کے بعد بازاروں میں طرے دار پگڑیاںاور سرخ ترکی ٹوپیاں نظر آ رہی تھیں۔ لاہور سے آئے مسلمانوں میں کافی تعداد ایسے لوگوں کی تھی، جنہیں تقسیم کے وقت مجبور ہوکر امرتسر سے جانا پڑا تھا۔ ساڑھے سات سالوں میں آئی اساسی تبدیلیوں کو دیکھ کر ،کہیں ان کی آنکھوں میں حیرانی بھر جاتی اور کہیں اداسی طاری ہو جاتی۔

”واللہ۔ کٹرا جیمل سنگھ اتنا چوڑا کیسے ہو گیا؟ کیا اس طرف کے سب کے سب مکان جل گئے تھے؟ “

”یہاں حکیم آصف علی کی دکان تھی نہ؟ اب یہاں ایک موچی نے قبضہ کر رکھا ہے۔“

اور کہیں کہیں ایسے بھی جملوں سنائی دے جاتے،” ولی، یہ مسجد جوں کی توں کھڑی ہے؟ ان لوگوں نے اس کا گرودوارہ نہیں بنا دیا۔“

جس راستے سے بھی پاکستانیوں کی ٹولی گزرتی، شہر کے لوگ بہت اشتیاق سے اس طرف دیکھتے رہتے۔ کچھ لوگ اب بھی مسلمانوں کو آتے دیکھ کر خدشے سے راستے سے ہٹ جاتے، جبکہ دوسرے آگے بڑھ کر ان سے بغل گیر ہونے لگتے۔ زیادہ تر وہ ،ان سے ایسے سوال پوچھتے جیسے۔

” آج کل لاہور کا کیا حال ہے؟ انارکلی میں اب پہلے جتنی رونق ہوتی ہے یا نہیں؟“

” سنا ہے، شاہ عالمی گےٹ کا بازارپورا نیا بنا ہے؟“

” کرشن نگر میں تو کوئی خاص تبدیلی نہیں آئی؟ وہاں رشوت پورہ کیا واقعی رشوت کے پیسے سے بنا ہے؟“

”کہتے ہیں، پاکستان میں اب برقع بالکل اڑ گیا ہے، یہ ٹھیک ہے؟ “

 ان سوالات میں اتنی اپنائیت جھلکتی تھی کہ لگتا تھا، لاہور ایک شہر نہیں، ہزاروں لوگوں کا سگا سمبندھی ہے، جس کا حال جاننے کےلئے وہ متجسس ہیں۔ لاہور سے آئے لوگ اس دن شہر بھر کے مہمان تھے، جن سے مل کر اور باتیں کرکے لوگوں کو بہت خوشی ہو رہی تھی۔

بازار بانساں، امرتسرکا ایک اجڑا سا بازار ہے، جہاں تقسیم سے پہلے زیادہ تر نچلے طبقے کے مسلمان رہتے تھے۔ وہاں زیادہ تر بانسوں اور شہتیروں کی ہی دکانیں تھیں، جو سب کی سب ایک ہی آگ میں جل گئی تھیں۔ بازار بانساں کی وہ آگ امرتسر کی سب سے زیادہ خوفناک آگ تھی ،جس سے کچھ دیر کےلئے تو سارے شہر کے جل جانے کا اندیشہ پیدا ہو گیا تھا۔ بازار بانساں کے ارد گرد کے کئی محلوں کو تو اس آگ نے اپنی لپیٹ میں لے ہی لیا تھا۔ خیر، کسی طرح وہ آگ قابو میں آ گئی تھی، پر اس میں مسلمانوں کے ایک ایک گھر کے ساتھ ہندوو ¿ں کے بھی چار چار، چھ چھ گھر جل کر راکھ ہو گئے تھے۔ اب ساڑھے سات سال میں ان میں سے کئی عمارتیں دوبارہ کھڑی ہو گئی تھیں، مگر جگہ جگہ ملبے کے ڈھیر اب بھی مو جود تھے۔ نئی عمارتوں کے بیچ بیچ میں، وہ ملبے کے ڈھیر ایک عجیب تاثر پیش کرتے تھے۔

بازار بانسا ںمیں اس دن بھی چہل پہل نہیں تھی ،کیونکہ اس بازار کے رہنے والے زیادہ تر لوگ تو اپنے مکانوں کے ساتھ شہید ہو گئے تھے، اور جو بچ کر چلے گئے تھے، ان میں سے شاید کسی میں بھی لوٹ کر آنے کی ہمت نہیں رہی تھی ۔ صرف ایک دبلا پتلا بڈھا مسلمان ہی اس دن اس ویران بازار میں آیا اور وہاں کی نئی اور جلی ہوئی عمارتوں کو دیکھ کر جیسے بھول بھلیوں میںگم ہو گیا۔ بائیں طرف جانے والی گلی کے پاس پہنچ کر اس کے پاو ¿ں اندر مڑنے کو ہوئے، مگر پھر وہ ہچکچاکر وہاں ہی کھڑا رہ گیا۔ جیسے اسے یقین نہیں ہوا کہ یہ وہی گلی ہے جس میں وہ جانا چاہتا ہے۔ گلی میں ایک طرف کچھ بچے کیڑی کیڑا کھیل رہے تھے اور کچھ فاصلے پر دو عورتیں اونچی آواز میں چیختی ہوئی ایک دوسری کو گالیاں دے رہی تھیں۔

”سب کچھ بدل گیا، مگر بولیاں نہیں بدلیں۔“بڈھے مسلمان نے دھیمے لہجے میں خود کلامی کی اور چھڑی کا سہارا لیے کھڑا رہا۔ اس کے گھٹنے پاجامے سے باہر کو نکل رہے تھے۔ گھٹنوں سے تھوڑا اوپر شیروانی میں تین چار پیوند لگے تھے۔ گلی سے ایک بچہ روتا ہوا باہر آ رہا تھا۔ اس نے اسے پچکارا،”ادھر آ، بیٹے۔ آ، تجھے چجی دیں گے، آ۔“اور وہ اپنی جیب میں ہاتھ ڈال کر اسے دینے کے لئے کوئی چیز ڈھونڈنے لگا۔ بچہ ایک لمحے کے لئے چپ کر گیا، لیکن پھر اسی طرح منہ بسورکر رونے لگا۔ ایک سولہ سترہ سال کی لڑکی گلی کے اندر سے دوڑتی ہوئی آئی اور بچے کو بازو سے پکڑ کر گلی میں لے گئی۔ بچہ رونے کے ساتھ ساتھ اب اپنے بازو چھڑانے کے لئے مچلنے لگا۔ لڑکی نے اسے اپنی بانہوں میں اٹھا کرخود سے چپکا لیا اور اس کا منہ چومتی ہوئی بولی،” چپ کر، خسم کھانے۔ روئے گا، تو وہ مسلمان تجھے پکڑ کر لے جائے گا۔ کہہ رہی ہوں، چپ کر۔“

بڈھے مسلمان نے بچے کو دینے کے لئے جو پیسہ نکالا تھا، وہ اس نے واپس جیب میں رکھ لیا۔ سر سے ٹوپی اتار کر وہاں تھوڑا سا کھجلایا اور ٹوپی اپنی بغل میں دبا لی۔ اس کا گلا خشک ہو رہا تھا اور گھٹنے تھوڑا کانپ رہے تھے۔ اس نے گلی کے باہر کی ایک بند دکان کے تختے کا سہارا لے لیا اور ٹوپی پھر سے سر پر لگا لی۔ گلی کے سامنے جہاں پہلے اونچے اونچے شہتیر رکھے رہتے تھے، وہاں اب ایک تین منزلہ مکان کھڑا تھا۔ سامنے بجلی کے تار پر دو موٹی موٹی چیلیں بالکل جڑی ہوئی سی بیٹھی تھیں۔ بجلی کے کھمبے کے پاس تھوڑی دھوپ تھی۔ وہ کئی پل دھوپ میں اڑتے ذرات کو دیکھتا رہا۔ پھر اس کے منہ سے نکلا،”یا مالک۔“

ایک نوجوان چابیاں کے گچھا گھماتا گلی کی طرف آیا۔ بڈھے کو وہاں کھڑے دیکھ کر اس نے پوچھا،”کہیے میاںجی، یہاں کس لئے کھڑے ہیں؟“

بڈھے مسلمان کو سینے اور بازوﺅں میں ہلکی سی کپکپی محسوس ہوئی۔ اس نے ہونٹوں پر زبان پھیری اور نوجوان کو دھیان سے دیکھتے ہوئے کہا،”بیٹے، تیرا نام منوری ہے نہ؟“

نوجوان نے چابیوں کے گچھے کو ہلانا بند کرکے اپنی مٹھی میں لے لیا اور کچھ حیرت کے ساتھ پوچھا،”آپ کو میرا نام کیسے معلوم ہے؟“

”ساڑھے سات سال پہلے تو اتنا سا تھا۔“ کہہ کر بڈھے نے مسکرانے کی کوشش کی۔

”آپ آج پاکستان سے آئے ہیں؟“

” ہاں ۔ پہلے ہم اسی گلی میں رہتے تھے۔“بڈھے نے کہا،” میرا لڑکا چراغ دین تم لوگوں کا درزی تھا۔ تقسیم سے چھ مہینے پہلے ،ہم لوگوں نے یہاں اپنا نیا مکان بنوایا تھا۔“

”او، غنی میاں۔“منوری نے پہچان کہا۔

” ہاں ، بیٹے میں تم لوگوں کا غنی میاں ہوں۔ چراغ اور اسکے بیوی بچے تو اب مجھے مل نہیں سکتے، مگر میں نے سوچا کہ ایک بار مکان کی ہی صورت دیکھ لوں۔“بڈھے نے ٹوپی اتار کر سر پر ہاتھ پھیرا اور اپنے آنسوو ¿ں کو بہنے سے روک لیا۔

”تم تو شاید کافی پہلے یہاں سے چلے گئے تھے۔“ منوری کے لہجے میں معذرت بھر آئی۔

” ہاں ، بیٹے یہ میری بدبختی تھی کہ میں اکیلا ہی پہلے نکل کر چلا گیا تھا۔ یہاں رہتا، تو اس کے ساتھ میں بھی ۔۔۔“کہتے ہوئے اسے احساس ہوا کہ یہ بات اسے نہیں کہنی چاہیے۔ اس نے بات کو منہ میں روک لیا، پر آنکھوں میں آئے آنسوو ¿ں کو نیچے بہہ جانے دیا۔

”چھوڑو غنی میاں، اب ان باتوں کو سوچنے میں کیا رکھا ہے؟“منوری نے غنی کا بازو اپنے ہاتھ میں لے لیا۔ ”چلو، تمہیں تمہارا گھر دیکھا دوں۔“

گلی میں خبر اس طرح پھیلی تھی کہ گلی کے باہر ایک مسلمان کھڑا ہے ،جو رام داسی کے لڑکے کو اٹھانے جا رہا تھا۔اس کی بہن وقت پر اسے پکڑ لائی، نہیں تو وہ مسلمان اسے لے گیا ہوتا۔ یہ خبر ملتے ہی جو عورتیں گلی میں پِیڑھے بچھا کر بیٹھی تھیں، وہ پِیڑھے اٹھا کر گھروں کے اندر چلی گئیں۔ گلی میں کھیلنے والے بچوں کو بھی انہوں نے پکار پکار کر گھروں کے اندر بلا لیا۔ منوری، غنی کو لے کر گلی میں داخل ہوا، تو گلی میں صرف ایک پھیری والا رہ گیا تھا یا رکھا پہلوان جو کنوئیں پر اگے پیپل کے نیچے بکھرا سویا تھا۔ ہاں ، گھروں کی کھڑکیوں میں سے اور کِواڑوں کے پیچھے سے بہت سے چہرے گلی میں جھانک رہے تھے۔ منوری کے ساتھ غنی کو آتے دیکھ کر ان میں ہلکی سی چہ مےگوئیاں شروع ہوگئیں۔ داڑھی کے تمام بال سفید ہو جانے کے باو جود چراغ دین کے باپ عبدالغنی کی شناخت میں لوگوں کو دقت نہیں ہوئی۔

”وہ تھا تمہارا مکان۔“ منوری نے دور سے ایک ملبے کی طرف اشارہ کیا۔ غنی لمحے بھر کےلئے ٹھٹک کر پھٹی پھٹی آنکھوں سے اس کی طرف دیکھتا رہا۔ چراغ اور اسکی بیوی بچوں کی موت کو وہ کافی پہلے قبول کر چکا تھا۔ مگر اپنے نئے مکان کو اس شکل میں دیکھ کر اس کے جو جھرجھری ہوئی، اس کے لئے وہ تیار نہیں تھا۔ اس کی زبان پہلے سے اور زیادہ خشک ہو گئی اور گھٹنے بھی مزید کانپنے لگے۔

”یہ ملبہ؟“اس نے غیر یقینی کے ساتھ پوچھ لیا۔

منوری نے اس کے چہرے کے بدلے ہوئے رنگ کو دیکھا۔ اسکے بازو کو تھوڑا مزید سہارا دے کر کھوکھلی آواز میں جواب دیا،”تمہارا مکان انہی دنوں جل گیا تھا۔“

غنی چھڑی کے سہارے چلتا ہوا کسی طرح ملبے کے پاس پہنچ گیا۔ ملبے میں اب مٹی ہی مٹی تھی ،جس میں سے کہیں کہیں ٹوٹی اور جلی ہوئی اینٹیں باہر جھانک رہی تھیں۔ لوہے اور لکڑی کا سامان اس میں سے کب کا نکالا جا چکا تھا۔صرف ایک جلے ہوئے کواڑ کی چوکھٹ نہ جانے کیسے بچی رہ گئی تھی۔ پیچھے کی طرف دو جلی ہوئی الماریاںتھیں ،جن کی کالک پر اب سفیدی کی ہلکی ہلکی تہ ابھر آئی تھی۔ اس ملبے کو قریب سے دیکھ کر غنی نے کہا،”یہ باقی رہ گیا ہے، یہ؟“اور اس کے گھٹنے جیسے جواب دے گئے اور وہ وہیں جلی ہوئی چوکھٹ کو پکڑ کر بیٹھ گیا۔ لمحے بھر بعد اس کا سر بھی چوکھٹ سے جا لگا اور اس کے منہ سے بلکنے کی سی آواز نکلی،”ہائے اوئے چراغ دینا۔“

جلے ہوئے کواڑ کی وہ چوکھٹ، ملبے میں سے سر نکالے ساڑھے سات سال کھڑی تو رہی تھی، پر اس کی لکڑی بری طرح بھربھرا گئی تھی۔ غنی کے سر کے چھونے سے اس کے کئی ریشے جھڑکر دھر ادھر بکھر گئے۔ کچھ ریشے غنی کی ٹوپی اور بالوں پر آچپکے۔ ان ریشوں کے ساتھ ایک کینچوا بھی نیچے گرا، جو غنی کے پاو ¿ں سے چھ اٹھ انچ دور نالی کے ساتھ ساتھ بنی اینٹوں کی پٹری پریہاں وہاں سرسرانے لگا۔ وہ چھپنے کےلئے سوراخ ڈھونڈتا ہوا ذرا سا سر اٹھاتا، لیکن کوئی جگہ نہ پا کر دو ایک بار سر پٹخنے کے بعد دوسری طرف مڑ جاتا۔

کھڑکیوں سے جھاکنے والے چہروں کی تعداد اب پہلے سے کہیں زیادہ ہو گئی تھی۔ ان میں چہ مےگوئیاں چل رہی تھیں کہ آج کچھ نہ کچھ ضرور ہوگا چراغ دین کا باپ غنی آ گیا ہے، اس لئے ساڑھے سات سال پہلے کا وہ سارا حادثہ آج اپنے آپ کھل جائے گا۔ لوگوں کو لگ رہا تھا جیسے وہ ملبہ ہی غنی کو ساری کہانی سنا دے گاکہ شام کے وقت چراغ اوپر کے کمرے میں کھانا کھا رہا تھا، جب رکھے پہلوان نے اسے نیچے بلایا اور کہا کہ وہ ایک منٹ آکر اس کی بات سن لے۔ پہلوان ان دنوں گلی کا بادشاہ تھا۔ وہاں کے ہندوو ¿ں پر ہی اس کا کافی دبدبہ تھا،چراغ تو پھر مسلمان تھا۔ چراغ ہاتھ کا نوالہ درمیان میں ہی چھوڑکر نیچے اتر آیا۔ اس کی بیوی زبیدہ ا اور دونوں لڑکیاں،کشور اور سلطانہ، کھڑکیوں سے نیچے جھانکنے لگیں۔ چراغ نے ڈیوڑھی سے باہر قدم رکھا ہی تھا کہ پہلوان نے اسے قمیض کے کالر سے پکڑ کر اپنی طرف کھینچ لیا اور گلی میں گرا کر اس کے سینے پر چڑھ بیٹھا۔ چراغ اس کا چھری والا ہاتھ پکڑ کر چلایا،”رکھے پہلوان، مجھے مت مارو۔ہائے، کوئی مجھے بچاﺅ۔“اوپرسے زبیدہ،کشور اور سلطانہ بھی مایوس لہجے میں چلائیں اور چیختی ہوئی نیچے ڈیوڑھی کی طرف دوڑیں۔ رکھے کے ایک شاگرد نے چراغ کی مزاحمت کر تے ہاتھ پکڑ لئے اور رکھا اسکی جانگھوں کو اپنے گھٹنوں سے دبائے ہوئے بولا،”چیختا کیوں ہے، بھین کے ۔۔۔تجھے میں پاکستان دے رہا ہوں، لے پاکستان۔“اور جب تک زبیدہ، کشور اور سلطانہ نیچے پہنچیں، چراغ کو پاکستان مل چکا تھا۔

آس پاس کے گھروں کی کھڑکیاں تب تک بند ہو گئی تھیں۔ جو لوگ اس منظر کے گواہ تھے، انہوں نے دروازے بند کر کے خودکو اس واقعے کی ذمہ داری سے آزاد کر لیا تھا۔ بند کواڑوں میں بھی انہیں دیر تک زبیدہ، کشور اور سلطانہ کے چیخنے کی آوازیں سنائی دیتی رہیں۔ رکھے پہلوان اور اس کے ساتھیوں نے انہیں بھی اسی رات پاکستان دے دیا، مگر دوسرے طویل راستے سے۔ ان کی لاشیں چراغ کے گھر میں نہ ملیں بعد میں نہر کے پانی میں پائی گئیں۔

دو دن چراغ کے گھر کی چھان بین ہوتی رہی تھی۔ جب اس کا سارا سامان لوٹا جا چکا، تو نہ جانے کس نے اس گھر کو آگ لگا دی تھی۔ رکھے پہلوان نے تب قسم کھائی تھی کہ وہ آگ لگانے والے کو زندہ زمین میں گاڑ دے گا، کیونکہ اس مکان پر نظر رکھ کر ہی اس نے چراغ کو قتل کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ اس نے اس مکان کو پاک کرنے کےلئے ہون کا سامان بھی لا کررکھا تھا۔ مگر آگ لگانے والے کا تب سے آج تک پتہ نہیں چل سکا تھا۔ اب ساڑھے سات سال سے، رَکھا اس ملبے کو اپنی جاگیر سمجھتا آ رہا تھا، جہاں نہ وہ کسی کو گائے بھینس باندھنے دیتا تھا اور نہ ہی ٹھیلا لگانے دیتا تھا۔ اس ملبے سے بغیر اس کی اجازت کے کوئی ایک اینٹ بھی نہیں نکال سکتا تھا۔

لوگ امید کر رہے تھے کہ یہ ساری کہانی ضرور کسی نہ کسی طرح غنی تک پہنچ جائے گی ۔جیسے ملبے کو دیکھ کر ہی اسے سارے حادثے کا پتہ چل جائے گا۔ اور غنی ملبے کی مٹی کو ناخنوں سے کھود کھود کر اپنے اوپر ڈال رہا تھا اور کواڑ کی چوکھٹ کو بازو میں لئے ہوئے رو رہا تھا،”بول، چراغ دینا بول۔ توُ کہاں چلا گیا، اوئے؟ او کشور۔ او سلطانہ۔ہائے، میرے بچے اوئے۔ غنی کو پیچھے کیوں چھوڑ دیا، اوئے۔“

اور بھربھرے کواڑ سے لکڑی کے ریشے جھڑتے جا رہے تھے۔

پیپل کے نیچے سوئے رَکھے پہلوان کو جانے کسی نے جگا دیا، یا وہ خود ہی جاگ گیا۔ یہ جان کر کہ پاکستان سے عبدالغنی آیا ہے اور اپنے مکان کے ملبے پر بیٹھا ہے، اس کے گلے میں تھوڑا جھاگ اٹھ آیا، جس سے اسے کھانسی آ گئی اور اس نے کنوئیں کے فرش پر تھوک دیا۔ ملبے کی طرف دیکھ کر اس کے سینے سے دھونکنی کی سی آواز نکلی اور اس کا نچلا ہونٹ تھوڑا سا باہر کو پھیل آیا۔

”غنی اپنے ملبے پر بیٹھا ہے،” اس کا شاگرد لچھے پہلوان نے اس کے پاس آکر بیٹھتے ہوئے کہا۔

”ملبہ اس کا کیسے ہے؟ ملبہ ہمارا ہے۔“پہلوان نے جھاگ سے گھرگھراتی آواز میں کہا۔

”مگر وہ وہاں بیٹھا ہے۔“لچھے نے آنکھوں میں ایک پراسرار سااشارہ لا کر کہا۔

”بیٹھا ہے، بیٹھا رہے۔ توُ چلم لا۔“رکھے کی ٹانگیں تھوڑی پھیل گئیں اور اس نے اپنی ننگی جانگھوں پر ہاتھ پھیر لیا۔

”منوری نے اگر اسے کچھ بتا وتا دیا تو ۔۔۔؟“لچھے نے چلم بھرنے کے لئے اٹھتے ہوئے اسی پراسرار انداز میں کہا۔

”منوری کی کیا شامت آئی ہے؟“

لچھا چلا گیا۔

کنوئیں پر پیپل کی کئی پرانی پتیاں بکھری تھیں۔ رکھا ان پتیوں کو اٹھا اٹھا کر اپنے ہاتھوں میں مسلتا رہا۔ جب لچھے نے چلم کے نیچے کپڑا لگا کر چلم اس کے ہاتھ میں دی، تو اس نے کش کھینچتے ہوئے پوچھا،”اور تو کسی سے غنی کی بات نہیں ہوئی؟“

”نہیں۔“

”لے۔“ اور اس نے کھانستے ہوئے چلم لچھے کے ہاتھ میں دے دی۔ منوری غنی کا بازو پکڑے ملبے کی طرف سے آ رہا تھا۔ لچھا اکڑو ںہوکر چلم کے لمبے لمبے کش کھینچنے لگا۔ اس کی آنکھیں ایک پل رَکھے کے چہرے پر ٹکتیں اورپھر دوسرے ہی پل غنی پر لگ جاتیں۔

منوری، غنی کا بازو تھامے اس سے ایک قدم آگے چل رہا تھا، جیسے اس کی کوشش ہو کہ غنی کنوئیں کے پاس سے بِنا رَکھے کو دیکھے ہی نکل جائے ۔ مگر رکھا جس طرح بکھرکر بیٹھا تھا، اس سے غنی نے اسے دور سے ہی دیکھ لیا۔ کنوئیں کے پاس پہنچتے نہ پہنچتے اس کی دونوں بانہیں پھیل گئیں اور اس نے کہا،”رکھے پہلوان۔“

رکھے نے گردن اٹھا کر اور آنکھیں ذرا چھوٹی کر کے اسے دیکھا۔ اس کے گلے میں مبہم سی گھرگھراہٹ ہوئی، پر وہ بولا نہیں۔

”رکھے پہلوان، مجھے پہچانا نہیں؟“غنی نے بانہیں نیچی کر کے کہا،” میں غنی ہوں، عبدالغنی، چراغ دین کا باپ۔“

پہلوان نے اوپر سے نیچے تک اس کا جائزہ لیا۔ عبدالغنی کی آنکھوں میں اسے دیکھ کر ایک چمک سی آ گئی تھی۔ سفید داڑھی کے نیچے اس کے چہرے کی جھریاں بھی کچھ پھیل گئی تھیں۔ رَکھے کا نچلا ہونٹ پھڑکا۔ پھر اس کے سینے سے بھاری سی آواز نکلی،”سنا، گنیا۔“

غنی کی بانہیں پھر پھیلنے کو ہوئیں، پر پہلوان کا کوئی رد عمل نہ دیکھ کر اسی طرح رہ گئیں۔ وہ پیپل کا سہارا لے کر کنوئیں کی منڈیر پر بیٹھ گیا۔

اوپر کھڑکیوں میں چہ مےگوئیاں مزیدتیز ہوگئیں کہ اب دونوں آمنے سامنے آ گئے ہیں، تو بات ضرور کھلے گی۔پھر ہو سکتا ہے دونوں میں گالی گلوچ بھی ہو۔اب رَکھا ،غنی کو ہاتھ نہیں لگا سکتا۔ اب وہ دن نہیں رہے۔بڑا ملبے کا مالک بنتا تھا۔اصل میں ملبہ نہ اس کا ہے، نہ غنی کا۔ ملبہ تو حکومت کی ملکیت ہے۔ مردود کسی کو وہاں گائے کاکھونٹا تک نہیں لگانے دیتا۔منوری بھی ڈرپوک ہے۔ اس نے غنی کو بتا کیوں نہیں دیا کہ رَکھے نے ہی چراغ اور اس بیوی بچوں کو مارا ہے۔رَکھا آدمی نہیں سانڈ ہے۔ دن بھر سانڈ کی طرح گلی میں گھومتا رہتا ہے۔غنی بیچارہ کتنا دبلا ہو گیا ہے۔ داڑھی کے سارے بال سفید ہو گئے ہیں۔

غنی نے کنوئیں کی منڈیر پر بیٹھ کر کہا،”دیکھ رَکھے پہلوان، کیا سے کیا ہو گیا ہے۔ بھرا پورا گھر چھوڑ کر گیا تھا اور آج یہاں یہ مٹی دیکھنے آیا ہوں۔ آباد گھر کی آج یہی نشانی رہ گئی ہے۔ تو ُسچ پوچھے تو میرا یہ مٹی بھی چھوڑ کر جانے کومن نہیں کرتا۔“اور اس کی آنکھیں پھرجھلملا گئیں۔

پہلوان نے اپنی ٹانگیں سمیٹ لیں اور انگوچھا کنوئیں کی منڈےر سے اٹھا کر کندھے پر ڈال لیا۔ لچھے نے چلم اس کی طرف بڑھا دی۔ وہ کش کھینچنے لگا۔

”توُ بتا، رَکھے، یہ سب ہوا کیسے؟“غنی کسی طرح اپنے آنسو روک کر بولا،” تم لوگ اس کے پاس تھے۔ سب میں بھائی بھائی کی سی محبت تھی۔ اگر وہ چاہتا، تو تم میں سے کسی کے گھر میں نہیں چھپ سکتا تھا؟ اس میں اتنی بھی سمجھداری نہیں تھی؟“

”ایسے ہی ہے۔“ رکھے کو خودہی محسوس ہوا کہ اس کی آواز میں ایک غیر فطری سی گونج ہے۔ اس کے ہونٹ گاڑھے لعاب سے چپک گئے تھے۔ مونچھوں کے نیچے سے پسینہ اس کے ہونٹ پر آ رہا تھا۔ اس کی پیشانی پر کسی چیز کا دباو ¿ محسوس ہو رہا تھا اور اس کی ریڑھ کی ہڈی سہارا چاہ رہی تھی۔

”پاکستان میں تم لوگوں کے کیا حال ہیں؟“اس نے پوچھا۔ اس کے گلے کی رگوں میں ایک تناﺅ آ گیا تھا۔ اس نے انگوچھے سے بغلوں کا پسینہ پونچھا اور حلق کے جھاگ کو منہ میں کھینچ کر گلی میں تھوک دیا۔

”کیا حال بتاو ¿ں، رَکھے۔“غنی دونوں ہاتھوں سے چھڑی پر بوجھ ڈال کر جھکتا ہوا بولا،”میرا حال تو میرا خدا ہی جانتا ہے۔ چراغ وہاں ساتھ ہوتا، تو اور بات تھی۔میں نے اسے کتنا سمجھایا تھا کہ میرے ساتھ چلا چل۔ پر وہ ضد پر اڑا رہا کہ نیا مکان چھوڑکر نہیں جاو ¿ں گا،یہ اپنی گلی ہے، یہاں کوئی خطرہ نہیں ہے۔ بھولے کبوتر نے یہ نہیں سوچا کہ گلی میں خطرہ نہ ہو، پر باہر سے تو خطرہ آ سکتا ہے۔ مکان کی حفاظت کےلئے کے چاروں نے اپنی جان دے دی۔رَکھے، اسے تیرا بہت بھروسہ تھا۔ کہتا تھا کہ رَکھے کے ہوتے میرا کوئی کچھ نہیں بگاڑ سکتا۔ مگر جب جان پر بن آئی تو رکھے کے روکے بھی نہ رکی۔“

رکھے نے سیدھا ہونے کی کوشش کی ،کیونکہ اس کی ریڑھ کی ہڈی بہت درد کر رہی تھی۔ اپنی کمر اور جانگھوں کے جوڑ پر اسے سخت دباو ¿ محسوس ہو رہا تھا۔ پیٹ کی انتڑیوں کے پاس سے جیسے کوئی چیز اس کی سانسوں کو روک رہی تھی۔ اس کا سارا جسم پسینے سے بھیگ گیا تھا اور اس کے تلووں میں چنچناہٹ ہو رہی تھی۔ بیچ بیچ میں نیلی پھلجھڑیاں سی اوپر سے اترتی اور تیرتے ہوئی اس کی آنکھوں کے سامنے سے نکل جاتیں۔ اسے اپنی زبان اور ہونٹوں کے درمیان ایک فاصلہ سا محسوس ہو رہا تھا۔ اس نے انگوچھے سے ہونٹوں کے کونوں کو صاف کیا۔ ساتھ ہی اس کے منہ سے نکلا،”ہے پربھو، توُ ہی ہے، توُ ہی ہے، توُ۔ ہی ہے۔“

غنی نے دیکھا کہ پہلوان کے ہونٹ سوکھے ہیں اور اس کی آنکھوں کے گرد حلقے مزید گہرے ہو گئے ہیں۔ وہ اس کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر کہا،”جو ہونا تھا، ہو گیا رَکھا۔ اسے اب کوئی لوٹا تھوڑے ہی سکتا ہے۔ خدا نیک کی نیکی بنائے رکھے اور بد کی بدی معاف کرے۔ میں نے آکر تم لوگوں کو دیکھ لیا، سو سمجھوں کہ چراغ کو دیکھ لیا۔ اللہ تمہیں صحت مندرکھے۔“اور وہ چھڑی کے سہارے اٹھ کھڑا ہوا۔ چلتے ہوئے اس نے کہا،”اچھا رَکھے پہلوان۔“

رَکھے کے گلے سے مدھم سی آواز نکلی۔انگوچھا لئے ہوئے اس کے دونوں ہاتھ جڑگئے۔ غنی حسرت بھری نظر وںسے چاروں جانب دیکھتا ہوا دھیرے دھیرے گلی سے باہر چلا گیا۔

اوپر کھڑکیوں میں تھوڑی دیرچہ مےگوئیاں چلتی رہیںکہ منوری نے گلی سے باہر نکل کر ضرور غنی کو سب کچھ بتا دیا ہوگا کہ غنی کے سامنے رَکھے کا تالو کیوں خشک ہو گیا تھا۔رَکھا اب کس منہ سے لوگوں کوملبے پر گائے باندھنے سے روکے گا؟ بیچاری زبیدہ۔ کتنی اچھی تھی وہ۔ رَکھے مردود کا گھرنہ گھاٹ، اسے کسی کی ماں بہن کا کیالحاظ تھا؟

تھوڑی دیر بعد عورتیں گھروں سے گلی میں اتر آئیں۔ بچے گلی میں گلی ڈنڈا کھیلنے لگے۔ دو بارہ تیرہ سال کی لڑکیاں کسی بات پر ایک دوسری سے گتھم گتھا ہو گئیں۔

رکھا ،گہری شام تک کنوئیں پر بیٹھ کھنکھارتا اور چلم پھوکتا رہا۔ بہت سے لوگوں نے وہاں سے گزرتے ہوئے اس سے پوچھا،”رَکھے شاہ، سنا ہے آج غنی پاکستان سے آیا تھا؟“

” ہاں ، آئے تھے۔“ رَکھے نے ہر بار ایک ہی جواب دیا۔

”پھر؟“

”پھر کچھ نہیں۔ چلا گیا۔“

رات ہونے پر رَکھا روز کی طرح گلی کے باہر بائیں طرف کی دکان کے تختے پر آ بیٹھا۔ روز وہ رستے سے گزرنے والے جان پہچان کے لوگوں کو آواز دے دے کر پاس بلا لیتا تھا اور انہیں سٹے کے گُر اور صحت کے نسخے بتاتا رہتا تھا۔ مگر اس دن وہ وہاں بیٹھا، لچھے کو اپنی وےشنو دیوی کی اس یاترا کا بیان سناتا رہا، جو اس نے پندرہ سال پہلے کی تھی۔ لچھے کو بھیج کر وہ گلی میں آیا تو ملبے کے پاس لوکُو پنڈت کی بھینس کو دیکھ کر وہ عادت کے مطابق اسے دھکے دے دے کر ہٹانے لگا،”تت،تت،تت ۔۔۔تت،تت ۔۔۔ ۔۔“

بھینس کو ہٹا کر وہ سستانے کےلئے ملبے کی چوکھٹ پر بیٹھ گیا۔ گلی اس وقت سنسان تھی۔ کمیٹی کی بتی نہ ہونے سے وہاں شام ہی سے اندھیرا ہو جاتا تھا۔ ملبے کے نیچے نالی کا پانی ہلکی آواز کرتا بہہ رہا تھا۔ رات کی خاموشی کو کاٹتی ہوئی کئی طرح کی ہلکی ہلکی آوازیں ملبے کی مٹی میں سے سنائی دے رہی تھیں ۔۔۔چیو۔چیو۔چیو۔۔۔۔۔۔۔رررر،رررر،رچرچرچر۔۔چرررر …. ایک بھٹکا ہوا کوا نہ جانے کہاں سے اڑکر اس چوکھٹ پر آ بیٹھا۔ اس لکڑی کے کئی ریشے ادھر ادھر بکھرگئے۔ کوے کے وہاں بیٹھتے ہی ملبے کے ایک کونے میں لیٹا ہوا کتا غراکر اٹھا اور زور زور سے بھونکنے لگا۔اوو۔اوو۔ کوا کچھ دیر سہما سا چوکھٹ پر بیٹھا رہا، پھر پر پھڑپھڑاتا ہوا کنوئیں کے پیپل پر چلا گیا۔ کوے کے اڑ جانے پر کتا اور نیچے اتر آیا اور پہلوان کی طرف منہ کرکے بھونکنے لگا۔ پہلوان اسے ہٹانے کےلئے بھاری آواز میں بولا،”در دردر ۔۔۔درے۔“مگر کتے اور پاس آکر بھونکنے لگا۔اوو۔ا۔و۔و۔و۔اووو۔۔۔۔

پہلوان نے ایک ڈھیلا اٹھا کر کتے کی طرف پھینکا۔ کتا تھوڑا پیچھے ہٹ گیا، پر اس کا بھونکنا بند نہیں ہوا۔ پہلوان ،کتے کو ماں کی گالی دے کر وہاں سے اٹھ کھڑا ہوا اور دھیرے دھیرے جاکر کنویں کی منڈیر پر لیٹ گیا۔ اسکے وہاں سے ہٹتے ہی کتا گلی میں اتر آیا اور کنوئیں کی طرف منہ کرکے بھونکنے لگا۔ کافی دیر بھونکنے کے بعد جب اس گلی میں کوئی اور مخلوق اسے چلتی پھرتی دکھائی نہیں دی، تو وہ ایک بار کان جھٹک کر ملبے پر لوٹ گیا اور وہاں کونے میں بیٹھ کرغرانے لگا۔

٭٭٭

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

 کھڑکی خوابوں کی حمیرا تبسم حصہ دوم

 کھڑکی خوابوں کی حمیرا تبسم حصہ دوم میں کچھ نہیں جانتا بس تم چاہو تو …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے