سر ورق / یاداشتیں / ڈائجسٹوں کی الف لیلہ : سید انور فراز  قسط نمبر 42

ڈائجسٹوں کی الف لیلہ : سید انور فراز  قسط نمبر 42

آنکھوں میں اُڑ رہی ہے لٹی محفلوں کی دُھول
عبرت سرائے دہر ہے اور ہم ہیں دوستو!
ڈائجسٹوں کی الف لیلہ :

سید انور فراز

 قسط نمبر 42
مسافر بالآخر اپنی حقیقی منزل تک پہنچ گیا، اس نے اپنے سفر کا آغاز 5 اگست 1942 سے کیا تھا، 22 فروری 2019 ء کو یہ تقریباً 77 سال پر محیط طویل سفر اپنے اختتام کو پہنچا، جاسوسی ڈائجسٹ پبلی کیشنز کے بانی اور روح رواں جناب معراج رسول اس فانی دنیا سے ہمیشہ کے لیے منہ موڑ گئے، انا للہ وانا الیہ راجعون۔
حقیقت یہ ہے کہ معراج صاحب کی زندگی کا اصل سفر تو اپریل 2004 ء ہی میں ختم ہوگیا تھا، جب انھیں پہلی مرتبہ دماغی مفلوجیت کا شکار ہونا پڑا، ان کی یادداشت ختم ہوگئی تھی، کسی کو پہچاننا ان کے لیے ممکن نہیں رہا تھا، کوئی پرانی بات انھیں یاد نہیں رہی تھی لیکن حیرت انگیز طور پر ڈاکٹر اعجاز حسین انھیں یاد تھے، ان کے ساتھ ہر جمعہ کو ایک نشست رہا کرتی تھی، یہ کہنا تو غلط ہوگا کہ ان کا دماغی مرض اچانک نمودار ہوا تھا، اس حوالے سے اصل بیماری کا آغاز تو شاید 1997-98 ء سے ہوچکا تھا، وہ بہت سی باتیں بھولنے لگے تھے اور اس سلسلے میں ضروری علاج معالجہ بھی کرتے رہتے تھے، حکمت کے علاوہ ہومیو پیتھی انھیں بہت مرغوب تھی، جب کسی اچھے اور قابل حکیم یا ہومیوپیتھ کا نام سامنے آتا تو وہ اس سے رابطہ کرنے کے لیے بے چین ہوجاتے، ہومیو پیتھی کے حوالے سے ان کا ذاتی مطالعہ بھی خاصا وسیع تھا، ہومیو پیتھک کُتب کا ایک بڑا ذخیرہ انھوں نے اکٹھا کر رکھا تھا جن میں سے چند نادرو نایاب کُتب بعد میں ہمیں گفٹ کردیں جو آج بھی ہمارے پاس محفوظ ہیں۔
معراج رسول صاحب کی زندگی میں خرابئ صحت کا آغاز اگرچہ ذیا بطس کے موذی مرض کے سبب بہت پہلے ہوچکا تھا، یہ ان کی خاندانی بیماری تھی، ان کے والد اور چھوٹے بھائی اعجاز رسول بھی اس مرض میں مبتلا رہے، اعجاز رسول پرہیز سے بچنے کے لیے انسولین کا انجکشن لیا کرتے تھے جس کا سائیڈ افیکٹ یہ ہوا کہ دیگر جسمانی اعضا کے ساتھ دل بھی بڑھ گیا تھا لیکن وہ ان باتوں کی زیادہ پروا نہیں کرتے تھے، البتہ معراج صاحب اپنی صحت کے حوالے سے بہت زیادہ احتیاط کے قائل تھے، انھوں نے شوگر کو کنٹرول کرنے کے لیے کبھی انسولین سے مدد نہیں لی اور جب انھیں معلوم ہوا کہ اس بیماری کو کنٹرول کرنے والی دیگر ایلوپیتھک ادویات بھی طویل عرصہ استعمال کے بعد کچھ نہ کچھ مضر اثرات پیدا کرتی ہیں تو انھوں نے طب یونانی اور ہومیوپیتھی سے مدد لی کیوں کہ دونوں طریقہ ء علاج میں استعمال ہونے والی ادویہ بے ضرر ہوتی ہیں، انھوں نے ہومیو پیتھک ادویہ کا ایک ایسا امتزاج تیار کیا تھا جو نہایت لاجواب تھا، ہمارے استاد مرحوم ڈاکٹر اعجاز حسین بھی اس نسخے کی تعریف کرتے تھے ۔
ایک بار وہ لندن کے کسی بازار سے گزر رہے تھے جہاں شاید انڈین آیور ویدک ادویات کسی اسٹور میں موجود تھیں، ان میں شوگر کے لیے بھی ایک دوا موجود تھی، معراج صاحب نے اس کے چند پیکٹ خرید لیے اور تجرباتی طور پر انھیں استعمال کیا، وہ بہت مؤثر ثابت ہوئے، ایسے مؤثر کہ انھوں نے معراج صاحب کو حیران کردیا، جب وہ کراچی واپس آئے تو فوراً اس دوا کا ہم سے ذکر کیا اور وہ پیکٹ بھی ہمارے سامنے رکھ دیا اور کہا ’’بھئی! اس نسخے کے بارے میں معلومات کرو، یہ کون سی جڑی بوٹیاں ہیں اور کہاں ملیں گی؟‘‘
ہمارے لیے یہ کوئی مشکل کام نہیں تھا، ہمارے بہت ہی عزیز ترین دوست حکیم شمیم احمد جو ہومیوپیتھی میں بھی مہارت رکھتے ہیں ہمارے لیے طب یونانی کا ایک روشن مینار ہیں، ان دنوں ہفتے میں ایک دو ملاقاتیں ان سے ضرور ہوتی تھیں کیوں کہ ہومیو پیتھک صلاح و مشورے کے لیے وہ نہایت پابندی سے ڈاکٹر اعجاز حسین صاحب کی ہر جمعہ کی نشست میں آیا کرتے تھے اور ہم بھی پابندی سے اس نشست میں شریک ہوتے تھے، ہم نے معراج صاحب سے کہا ’’آپ فکر ہی نہ کریں، اسی جمعہ کو یہ مسئلہ حل ہوجائے گا‘‘
جمعہ آیا تو معراج صاحب بھی ہمارے ساتھ ہی ڈاکٹر اعجاز کے گھر پہنچ گئے، حکیم صاحب ہم سے پہلے وہاں موجود تھے، انھوں نے نسخے کا مطالعہ کیا تو صرف ایک دوا ایسی تھی جس کے بارے میں حکیم صاحب کو بھی نہیں معلوم تھا کہ یہ کون سی بوٹی ہے، دوا کا نام ’’مامے جو‘‘ تھا۔
نسخے میں کوئی چھ دوائیں شامل تھیں، مامے جو شاید کوئی آیور ویدک دوا تھی اور یہ نام شاید سنسکرت کا تھا، بہر حال حکیم صاحب نے کہا کہ وہ گھر جاکر اس کے بارے میں تحقیق کریں گے کیوں کہ ان کے پاس علامہ نجم الغنی رام پوری کی شہرہ آفاق کتاب ’’خزائن الادویہ‘‘ موجود تھی۔
قصہ مختصر مامے جو کا سراغ تو خزائن الادویہ سے مل گیا مگر یہ دوا بازار میں ناپید تھی،معراج صاحب بڑے بے چین ہوئے، انھیں یہ فکر ہوئی کہ ایک اچھا نسخہ نامکمل ہے، کہتے ہیں لگن سچی ہو تو منزل مل ہی جاتی ہے، انہی دنوں میں ہمارے پاس ایک مریضہ کا آنا جانا شروع ہوا، ہم نے ان سے پوچھا کہ آپ کو شوگر تو نہیں ہے، جواباً انھوں نے بتایا کہ شوگر ہے مگر اس کے لیے وہ ایک دوا استعمال کرتی ہیں اور شوگر کنٹرول ہوجاتی ہے، یہ دوا ہمارے علاقے میں عام ہے اور علاقے کے اکثر لوگ شوگر کے سلسلے میں اسے استعمال کرتے ہیں، ہم نے تجسس سے دوا کا نام پوچھا تو انھوں نے بتایا کہ اس دوا کو ’’مامے کی جو‘‘ کہا جاتا ہے اور یہ ایک درخت کی چھال ہے، اس چھال کو پانی میں بھگو کر رکھ دیتے ہیں اور بعد میں اس کا جوشاندہ پیا جاتا ہے، شوگر ختم ہوجاتی ہے، خاتون کا تعلق آزاد کشمیر سے تھا۔
دوا کا نام سن کر ہم چونک پڑے اور ان سے فرمائش کی کہ ہمیں بھی یہ دوا منگوادیں اور زیادہ مقدار میں منگوادیں، اس طرح مامے جو کا مسئلہ حل ہوا اور بالآخر وہ نسخہ تیار ہوا، معراج صاحب نہایت پابندی سے اسے استعمال کرنے لگے تھے،یہاں ہم وہ پورا نسخہ لکھ رہے ہیں ، ممکن ہے دوسرے لوگ بھی استفادہ کریں۔
’’مامے جو ، اندرجو تلخ، چرائیتہ نیپالی، میتھی دانہ، پنیر بوٹی اور گُڑ مار بوٹی، یہ چھ اجزا ہیں، ان میں سے پانچ ہم وزن لیں البتہ میتھی دانہ نصف وزن میں شامل کریں اور سفوف بناکر رکھ لیں، ہر کھانے اور ناشتے کے بعد ایک چمچا ٹیبل اسپون پانی کے ساتھ استعمال کریں، شوگر کنٹرول رہے گی‘‘
معراج صاحب ایک ہومیو پیتھک نسخہ بھی استعمال کرتے تھے اور اکثر حکمت کے ساتھ ہومیوپیتھی بھی ساتھ ساتھ چلتی تھی، ان کا ہومیو پیتھک نسخہ بھی ہم عام کر رہے ہیں کیوں کہ ہمارے تجربے کے مطابق بھی یہ شوگر کو کنٹرول کرنے میں بہت اچھے نتائج دیتا ہے، اس نسخے میں چار ہومیو پیتھک دوائیں شامل ہیں، ’’سائی زائی جمبو لینم‘‘ یہ دوا جامن کی گٹھلی میں موجود گِری سے تیار ہوتی ہے، ’’جیمنا سلوسٹری‘‘ یہ گُڑ مار بوٹی سے بنائی گئی ہے، گُڑ ماڑ بوٹی خاصی مشہور دوا ہے، یہ کسی درخت کی لکڑی ہے، ایک زمانے میں لوگ انڈیا سے اس لکڑی کے پیالے اور گلاس وغیرہ لایا کرتے تھے اور کہتے تھے کہ اس میں پانی ڈال کر پئیں تو شوگر کنٹرول ہوتی ہے، تیسری دوا ہومیو پیتھی میں نہایت شہرہ آفاق ہے اور اسے جگر کا ٹانک کہا جاتا ہے، جگر کی تقریباً تمام ہی خرابیوں کا بہترین علاج ہے، اس کا نام ’’کارڈس مئیرینیس‘‘ ہے، چوتھی دوا ’’ابروما اگسٹا‘‘ ہے، یہ چاروں دوائیں مدر ٹنکچر میں لے کر ہم وزن ملا کر بوتل میں بھر کر رکھ لیں اور تقریباً دس قطرے ہر کھانے اور ناشتے کے بعد استعمال کریں۔
ہمارے استاد ڈاکٹر اعجاز حسین نے اس نسخے پر معراج صاحب سے ایک سوال کیا کہ آپ نے کارڈس مئیرینیس اس نسخے میں کیوں شامل کی، اس کا شوگر سے کیا تعلق ہے؟ یہ تو جگر کی اصلاح کرتی ہے، لبلبے پر تو اس کا کوئی اثر نہیں ہے ۔
معراج صاحب نے جواب دیا ’’شوگر کے حوالے سے میں نے جو تحقیق کی ہے اس کی روشنی میں، میں سمجھتا ہوں کہ جگر کا فنکشن درست رہنا بہت اہم ہے، جگر کی خرابیوں کے بعد ہی لبلبے اور معدے کی خرابیاں شروع ہوتی ہیں‘‘
اعجاز صاحب ان کی اس بات سے مطمئن ہوگئے اور وہ بھی اپنے کلینک میں یہ نسخہ استعمال کرنے لگے تھے، ہم بھی یہ نسخہ اکثر شوگر کے مریضوں کو استعمال کراتے ہیں۔
اپنی ہومیو پیتھک پریکٹس کے دوران میں ہمیں اکثر شہروں سے دور دیہی علاقوں میں رہنے والے مریضوں سے بعض ایسے گھریلو نسخے ملے جو اپنی افادیت میں لاجواب ہیں، ایک مریضہ سے ہم نے پوچھا ’’رات کو نیند آسانی سے آجاتی ہے یا بے خوابی کی شکایت ہے؟‘‘
انھوں نے جواب دیا ’’کبھی کبھی بے خوابی کی شکایت ہوجاتی ہے تو میں خشخاش کی روٹی چند روز کھاتی ہوں تو بے خوابی کی شکایت ختم ہوجاتی ہے‘‘
ہم نے تھوڑی سی حیرت کا اظہار کیا ’’خشخاش کی روٹی!‘‘
’’جی ہاں، ہمارے گاؤں میں جب لوگ بے خوابی کا شکار ہوتے ہیں تو خشخاش کی روٹی استعمال کرتے ہیں‘‘
اس کا طریقہ انھوں نے یہ بتایا کہ جب روٹی توے پر ڈالتے ہیں تو اس پر خشخاش چھڑک دیتے ہیں، خشخاش افیون کے پودے میں لگنے والے پھولوں کا زیرہ ہے، یقیناً خواب آور ہوگا، یہ طریق کار بے ضرر بھی ہے، ایسے لوگ جو بے خوابی کا شکار ہوکر خواب آور ایلوپیتھک دوائیں استعمال کرتے ہیں اور ان کے سائیڈ افیکٹ کا شکار ہوتے ہیں، انھیں اس طریق کار سے فائدہ اٹھانا چاہیے، ہم نے اس طریقے سے بہت سے لوگوں کی خواب آور ادویات چھڑوائی ہیں۔
معراج صاحب کی اصل بیماری کا ایک سبب ان کی خواب آور ادویات ہی تھیں، وہ ایک طویل عرصے سے خاصی بڑی مقدار میں خواب آور دوائیں استعمال کر رہے تھے ، جب انھیں اپریل 2004 ء میں شدید نوعیت کا دماغی اٹیک ہوا اور اسپتال میں مختلف ٹیسٹ ہوئے تو ڈاکٹروں نے بتایا کہ طویل عرصے تک مسلسل ٹرینکولائزر کے استعمال سے دماغ کی وہ رگیں سوکھ گئی ہیں جن کا تعلق یاد داشت سے ہے۔
ایک بار ایسا ہوا کہ وہ دفتر نہیں آئے اور تقریباً سہ پہر تین بجے کے قریب گھر سے فون آیا کہ معراج صاحب مسلسل سورہے ہیں ، اٹھ ہی نہیں رہے، اقلیم علیم صاحب نے ہمیں بلایا اور کہا کہ چلیے ! دیکھتے ہیں، کیا ہوا ہے؟ چناں چہ ہم دونوں ان کے گھر پہنچے تو وہ جاگ چکے تھے لیکن کسی قدر مدہوشی کی کیفیت طاری تھی مگر ہوش و حواس بحال تھے ، اپنے بیڈ روم ہی میں بستر پر دراز تھے۔
ہم نے پوچھا ’’رات ایسا کیا کھا پی لیا جو آپ کی نیند ہی ختم نہیں ہورہی؟ ‘‘
چند لمحے سوچتے رہے پھر بولے ’’شاید میں نے اپنی خواب آور دواؤں کا ڈبل ڈوز لے لیا ہے‘‘
چوں کہ یاد داشت پوری طرح ساتھ نہیں دیتی تھی لہٰذا یہ بھی بھول جاتے تھے کہ دوا کھائی ہے یا نہیں کھائی، چناں چہ دوبارہ کھالیتے، ہم نے ان کی بیگم سے کہا کہ اب آپ کو یہ ذمے داری بھی اپنے ذمے لینا ہوگی کہ انھیں کب کون سی دوا لینی ہے یا نہیں لینی، انھوں نے کہا کہ میں بہت خیال رکھتی ہوں اور ان پر نظر رکھتی ہوں مگر کسی وقت ایسا بھی ہوتا ہے کہ میں کمرے میں موجود نہ ہوں اور یہ میرے پیچھے کچھ اپنی مرضی کرجائیں۔
سال 2003 ء معراج صاحب کی صحت کے حوالے سے کچھ زیادہ ہی خراب سال رہا، وہ بہت زیادہ بھولنے لگے تھے، کوئی بات بھی زیادہ دیر یاد نہیں رہتی تھی، اس دوران میں بعض ذہنی اور دلی صدمات بھی انھیں برداشت کرنا پڑے جن کی وجہ سے وہ اندر سے شدید اذیت کا شکار رہنے لگے تھے،دفتری امور پر زیادہ توجہ نہیں رہی تھی، کوشش کرتے تھے کہ ہر وقت کوئی نہ کوئی دل بہلانے کا سامان سامنے رہے، کوئی قریبی بے تکلف دوست ساتھ رہے جس سے وہ اپنے من پسند موضوعات پر گفتگو کرتے رہیں، اکثر انٹرکام پر ہمیں اپنے کمرے میں آنے کے لیے کہتے اور پھر کسی بھی موضوع پر گفتگو چھڑ جاتی اور خاصی لمبی نشست رہتی، حیرت انگیز طور پر وہ شخص جو بہت کم گو تھا، بہت زیادہ بولنے لگا تھا، ایسی نشستوں میں انھوں نے ہم سے اکثر اپنی زندگی کے ایسے واقعات بھی شیئر کیے جو شاید پہلے کبھی نہیں کیے تھے، شاید اس طرح وہ بہتر محسوس کرنے لگے تھے۔
معراج صاحب شوگر کے علاوہ امراض قلب کا بھی شکار تھے، دل کا پہلا دورہ انھیں شاید 1999 ء میں محسوس ہوا، اس حوالے سے جب مختلف ٹیسٹ ہوئے تو معلوم ہوا کہ دل کے کئی وال بند ہیں، ایک روز اچھے موڈ میں بیٹھے تھے تو ایک مصحفی کا شعر پڑھا، معراج صاحب اچھے سخن فہم تھے اور اعلیٰ درجے کے شعر انھیں یاد تھے ؂
مصحفی! ہم تو سمجھتے تھے کہ ہوگا کوئی زخم
تیرے دل میں تو بہت کام رفو کا نکلا
شعر پڑھ کر مسکرائے اور کہنے لگے کہ اوپن ہارٹ سرجری ضروری ہوگئی ہے اور اس سلسلے میں لندن میں آپریشن کے لیے تیاری شروع کردی ہے، یہی وہ مرحلہ تھا جب ہم نے انھیں مشورہ دیا کہ آپ ڈاکٹر اعجاز حسین صاحب سے رابطہ کریں اور اس طرح اعجاز صاحب سے مراسم بڑھتے چلے گئے، اعجاز صاحب کا خیال یہ تھا کہ ہومیوپیتھک طریقہ ء علاج سے وال کھل سکتے ہیں، انھوں نے علاج بھی شروع کیا مگر معراج صاحب نے آپریشن کے لیے ذہن بنالیا تھا اور اس سلسلے میں لندن کے ڈاکٹروں سے ٹائم بھی لے لیا تھا، چناں چہ اس حوالے سے تیاریاں شروع کردی گئی تھیں۔
اوپن ہارٹ سرجری ایک بڑا آپریشن سمجھا جاتا ہے، چناں چہ اس آپریشن کا خوف بھی زیادہ ہوتا ہے، انھیں یہ خوف تھا کہ آپریشن کامیاب نہ ہوا تو زندگی کا چراغ بجھ سکتا ہے، چناں چہ انھوں نے پرچوں کے ڈکلیریشن اپنی بیگم عذرا رسول کے نام کردیے اور بھی دیگر ضروری اقدام کیے تاکہ ان کے بعد مسائل پیدا نہ ہوں، ان کی اولاد میں ایک بیٹا فرحان رسول اور بیٹی سبین معراج پہلی بیگم ساجدہ معراج سے تھے جب کہ دوسری بیگم عذرا رسول سے ایک بیٹا ذیشان رسول اور ایک بیٹی بھی تھی جو شاید سال بھر کی تھی کہ کینسر جیسے موذی مرض کا شکار ہوکر انتقال کرگئی، یہ غالباً 1992-93 ء کی بات ہے، معراج صاحب اس کے علاج کے سلسلے میں بھی بہت پریشان رہے۔
دوسری شادی کے بعد پہلی بیگم سے شدید نوعیت کے اختلافات شروع ہوگئے تھے اور بالآخر انھوں نے عدالت سے خلع لے کر علیحدگی اختیار کرلی، یہ صورت حال بچوں کے لیے نہایت ناخوش گوار ہوگئی تھی، چناں چہ سبین کی شادی ایک غلط شخص سے ہوگئی اور اس کا نتیجہ طلاق کی صورت میں نکلا، فرحان کا تعلیمی کرئر بری طرح تباہ ہوا اور وہ باپ کے خلاف جارحانہ انداز اختیار کرنے لگا، اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے معراج صاحب نے کلفٹن جیسے مہنگے علاقے میں دونوں کے نام پر دو لگژری فلیٹ خریدے، اس کے علاوہ دونوں بچوں کے نام پر ایک معقول رقم بھی بینک میں جمع کرادی جس کا معقول انٹرسٹ انھیں ملتا رہتا تھا، اس طرح سے وراثت کے حوالے سے آئندہ جو تنازعات ہوسکتے تھے ان کا سدباب کیا مگر اس کے باوجود فرحان کی ناراضیاں ختم نہیں ہوتی تھیں۔
سبین کی زندگی میں پہلی شادی کی ناکامی کے بعد غیر معمولی تبدیلی آئی، پہلے شوہر سے ان کی ایک بیٹی بھی تھی ،ان کا رجحان بہت زیادہ مذہب کی طرف ہوگیا تھا، سخت پردہ شروع کردیا تھا اور بالآخر شاید 2000 ء میں ان کی دوسری شادی معراج صاحب نے اپنی پسند سے کی، مشہور ایڈوکیٹ خالد انور کے بھتیجے سے نہایت دھوم دھام کے ساتھ ان کا نکاح ہوا جس میں ہم بھی شریک تھے، اب وہ اپنے شوہر کے ساتھ خوش ہیں۔
معراج صاحب کی اوپن ہارٹ سرجری کامیاب رہی اور وہ صحت مند ہوکر واپس آئے مگر اب اپنی صحت کے حوالے سے اور زیادہ محتاط ہوگئے تھے، علاج معالجے میں ہومیو پیتھی کی طرف رجحان بہت زیادہ ہوگیا تھا، اکثر گفتگو میں کسی نہ کسی دوا پر بات ہوتی رہتی یا کوئی بیماری زیر بحث رہتی، ڈاکٹر اعجاز صاحب سے ہر ہفتے ایک نشست رہتی، اپنے اکثر جاننے والوں کو علاج کے لیے اعجاز صاحب ہی کا نام تجویز کرتے۔
سال 2002 ء میں اچانک انھیں لاہور جانے کا خیال آیا، عام طور سے وہ سال میں ایک بار آفاقی صاحب کو کراچی بلالیا کرتے تھے اور اپنے گھر پر ہی ٹھہراتے، اس دوران میں ہماری ڈیوٹی تھی کہ ہم بھی اس تمام عرصے میں ان کے گھر پر ہی رہیں تاکہ آفاقی صاحب کو کسی بھی مرحلے پر تنہائی کا احساس نہ ہو، ان کے گھر کی بالائی منزل عموماً خالی ہی رہتی تھی، دونوں میاں بیوی اور بیٹا گراؤنڈ فلور پر رہتے تھے، اوپر کی منزل میں ہم اور آفاقی صاحب خوب گپ شپ کرتے، معراج صاحب بھی اس گپ شپ میں شامل رہتے لیکن اس بار انھوں نے آفاقی صاحب سے ملاقات کے لیے لاہور جانے کا پروگرام بنالیا، سال میں ایک آدھ چکر لاہور کا ہم بھی لگالیا کرتے تھے، انھوں نے ہمیں بھی ساتھ چلنے کی دعوت دی اور اپنی بیگم عذرا رسول کو بھی ساتھ لے لیا، معراج صاحب اور ان کی بیگم کے ساتھ یہ ہمارا پہلا اور آخری ہوائی سفر تھا۔
معراج صاحب کی ایک عادت یہ تھی کہ وہ فلائٹ کے وقت سے کافی پہلے ایئرپورٹ پہنچنے کو ترجیح دیتے تھے، اس روز بھی ایسا ہی ہوا، ان کی اس عادت سے بیگم ہمیشہ سے سخت نالاں رہتی تھیں کہ اتنی جلدی ایئرپورٹ پر لاکر بٹھادیتے ہیں، معراج صاحب کا مؤقف یہ تھا کہ وقت سے کچھ پہلے ہی ایئرپورٹ آجانا بہت سے مسائل کو ختم کردیتا ہے،لاہور پہنچ کر انھوں نے پی سی ہوٹل میں قیام کیا اور ہم حسب معمول طاہر جاوید مغل کے گھر پہنچ گئے (جاری ہے)

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

ست رنگی دنیا…  میری کہانی ٭  ضیاءشہزاد ٭ قسط نمبر 7

                ست رنگی دنیا                 ٭                 میری کہانی            ٭             ضیاءشہزاد                 ٬٬آندھیاں غم …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے