سر ورق / یاداشتیں / ست رنگی دنیا ٭ میری کہانی ٭ ضیاءشہزاد ۔ قسط نمبر 10

ست رنگی دنیا ٭ میری کہانی ٭ ضیاءشہزاد ۔ قسط نمبر 10

ست رنگی دنیا
٭
میری کہانی ٭ ضیاءشہزاد
۔ ۔ ۔ ۔ ۔
قسط نمبر 10
آندھیاں غم کی یوں چلیں، باغ اجڑ کے رہ گیا
٭
اسی دم میرے کانوں میں اللہ اکبر کی آواز آئی ۔۔ ۔ ۔ یہ آواز ویسی ہی تھی جیسی ہمارے گاﺅں کی مسجد میں مولوی صاحب نماز سے پہلے۔ ۔ ۔ اللہ اکبر ۔ ۔ اللہ اکبر ۔ ۔ ۔ کہتے تھے۔
لیکن یہ آواز بدر الدین بڑے ابا کی تھی ۔ ان کی آواز سے لگ رہا تھا کہ جیسے وہ باہر دالان میں کھڑے مولوی صاحب کی طرح ۔ ۔ اللہ اکبر ۔ ۔ اللہ اکبر کہہ رہے ہیں۔
ابا اور اماں نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا۔ ۔ ۔٬٬ لگتا ہے بھائی بدر الدین اذان دے رہے ہیں ۔ ۔ ۔ بارش بہت تیز ہو گئی ہے ،،۔ ۔ ۔ ابا نے مجھے گود سے اتار دیا ۔ ۔ ۔ میں بری طرح پانی میں بھیگ چکا تھا ۔۔ ۔ ۔ میرے سارے کپڑے پانی کی پھوار سے گیلے ہو گئے تھے ۔۔ ۔ ابا کے کپڑے تو پہلے ہی گیلے تھے۔ انہوں نے مجھے اماں کی گود میں دیا اور وہ پھر دروازے کی طرف آگے بڑھے۔ ۔ ۔ اور اس کے ساتھ ہی ہماری حویلی کے باہر سے بھی اللہ اکبر۔ ۔ ۔ اللہ اکبر ۔ ۔ کی آوازیں آنے لگیں۔
٬٬ اللہ خیر! مسلمانوں نے اذانیں دینا شروع کر دی ہیں۔۔ لگتا ہے کوئی بڑا طوفان سر پر کھڑا ہے۔،، ابا دروازے کی طرف جاتے جاتے رکے اور مڑ کر اماں سے کہا۔٬٬ سعیدن ذرا بارش کا زور ٹوٹے تو میں ،ابا کی طرف جا کر دیکھتا ہوں کہ کیا صورت حال ہے۔،،
میرا ذہن اسی بات پرالجھا ہوا تھا کہ بارش میں اللہ اکبر ۔ ۔ ۔ یا جسے ابا اذان کہہ رہے تھے، کیوں ہو رہی ہے ۔، پھر میں نے غور کیا تومیرے سارے جسم میں ایک کپکپی سے دوڑ گئی ۔ ۔ ۔ میں کانپنے لگا ۔۔۔ ۔ ایسا لگ رہا تھا جیسے ہمارے گاﺅں میں ہر طرف اذانیں ہو رہی ہیں۔ ۔ ۔ کوئی اذان قریب سے ہو رہی تھی۔ ۔ اور ۔ ۔ کوئی دور سے ۔ ۔ ۔
٬٬بیٹا ۔ ۔۔۔ کیا تجھے سردی لگ رہی ہے۔،، اماں نے مجھے اپنی گود میں بھینچ لیا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔٬٬ صبح سے کہہ رہی تھی کہ سردی بڑھ گئی ہے ، سوئیٹر پہن لے۔ ۔ ۔ تو نہ تو کہنا مانتا ہے اور نہ کھانا کھاتا ہے۔ ۔ ۔ ذرا بارش تھم جائے تو میں خود جا کر داد ا ابا سے تیری شکایت کروں گی ۔ ۔۔ وہ تیری پٹائی کریں گے تو تجھے پتہ چل جائے گا،،
٬٬اماں مجھے سردی نہیں لگ رہی ۔۔ ۔ ۔ ڈر لگ رہا ہے ۔،، میں نے کہا
٬٬ ہاں۔ ۔ ۔ مجھے پتہ ہے ۔۔ ۔ تو گھڑی گھڑی ڈرتا ہی رہتا ہے ۔ ۔ ۔ سب کو پریشان کرتا ہے۔،، اماں نے ہنستے ہوئے کہا
٬٬ نہیں اماں ۔ ۔ میں پریشان نہیں کرتا ۔ ۔ میں اچھا بچہ ہوں ۔ ۔ دادا ابا بھی یہی کہتے ہیں۔،، میں بولا ۔ ۔ ۔ اس کے ساتھ ہی میں نے ابا کو دروازے کی طرف جاتے ہوئے دیکھ کر پھر پکارا۔ ۔ ۔ ٬٬ابا ، ابا ۔ ۔ ابا ۔،،
٬٬ہاں بیٹا۔ ۔ ۔ کیا بات ہے ۔،، ابا نے قریب آ کر پوچھا
٬٬ ابا ۔ ۔ ابا ۔ ۔ کیا ابھی تک اولے پڑ رہے ہیں،،میں نے پوچھا
٬٬ہاں ۔ ۔ ابھی تک اولے بھی پڑ رہے ہیں ۔ ۔ بارش بھی بہت تیز ہو رہی ہے ۔ ۔ اسی لئے تو اذان دے رہے ہیں سب لوگ،،۔
٬٬ ابا جب بارش ہو رہی ہے تو۔ ۔ ۔ یہ اذان کیوں ہو رہی ہے۔،،میں نے ابا سے پوچھا ۔
ابا نے میرے اس سوال پر اماں کی طرف دیکھا اور پھر میری طرف پیار سے دیکھتے ہوئے بولے۔ ٬٬بیٹا۔ ۔۔تم ان باتوں میں کیوں پڑتے ہو۔ ۔ ۔ تم ابھی چھوٹے ہو۔ ۔ ۔ جب بڑے ہو جاﺅ گے تو ساری باتیں تمہاری سمجھ میں خود بخود آہستہ آہستہ آنے لگ جائیں گی ۔،،
میں نے مسکراتے ہوئے اماں کی طرف دیکھا۔ ۔۔ اورآہستہ سے بولا ۔٬٬ تو مجھے سب لوگ کیوں پڑھاتے ہیں ، خود ہی سمجھ جاﺅں گا میں بھی۔،،
اماں اور ابا دونوں، ایک دوسرے کی طرف عجیب سی نظروں سے دیکھنے لگے ۔ ٬٬اماں بھی مسکراتے ہوئے ابا سے بولی ۔٬٬اس کے پیٹ میں بڑا آدمی گھسا ہوا ہے ۔ ۔ ۔ یہ بچہ نہیں ہے ۔ ۔ اسے مت پڑھاﺅ ۔،،
ابا نے مجھے پیارکیا اور سر پر ہاتھ پھیرتے ہوئے بولے۔٬٬ اللہ اکبر کا مطلب ہے اللہ سب سے بڑاہے۔ ۔ ۔ انسان پر جب بھی کوئی مصیبت یا پریشانی آتی ہے تو وہ اپنے سے بڑے کو پکارتا ہے ۔،،
٬٬ وہ کیسے ابا۔،، میں نے حیرت سے پوچھا
٬٬ جب تمہیں بھوک لگتی ہے ۔ ۔ یا تکلیف ہو تی ہے تو کس کو پکارتے ہو۔،، ابا نے مجھ سے پوچھا
٬٬ میں تو روتا ہوں جب مجھے چوٹ لگتی ہے یا بھوک لگتی ہے۔،، میں نے کہا
٬٬ گدھے ہو بیٹا تم بھی ۔ ۔ ۔ ابھی دو دن پہلے جب بھاگتے ہوئے گر پڑے تھے تو کس کو پکارا تھا ۔ ۔۔ روتے ہوئے چیخ چیخ کر کسے آواز دے رہے تھے بیٹا ۔،، ابا نے مسکراتے ہوئے کہا
٬٬ ابا ۔ ۔ ابا ۔ ۔ کر رہا تھا میں تو ۔،، میں نے ہنستے ہوئے کہا
٬٬ ہاں ۔ ۔ میں تمہارا بڑا ہوں نا ۔ ۔ ۔ ابا ہوں نا تمہارا ۔ ۔ ۔ اسی لئے تم نے مجھے پکارا ۔ ۔ ۔ ہم سب انسان اللہ کے بندے ہیں جب ہم پر کوئی مصیبت آتی ہے تو سب اللہ کو پکارتے ہیں۔۔ ۔ ۔ ہم مسلمان ہیں تو اللہ کو اپنی مدد کے لئے اللہ اکبر اللہ اکبر کہتے ہیں ۔ ۔ ۔
اذان دیتے ہیں۔،،ابا نے مجھے سمجھایا
٬٬ اور ابا ۔ ۔ ۔ وہ جو۔ ۔ ۔۔ مولوی ساب مسجد میں اللہ اکبر ۔ ۔ اللہ اکبر کہتے ہیں ۔ ۔ ۔ وہ جو اذان دیتے ہیں تو کیا۔ ۔ ۔ وہ بھی اللہ کو مدد کے لئے بلاتے ہیں۔،، میں نے ابا سے پوچھا
اچھا اب تم اپنی ماں کی گود میں رہو ۔ ۔ باہر بارش اور اولے پڑنے کی وجہ سے سردی بہت بڑھ گئی ہے ۔ ۔ میں بعد میں تمہیں سمجھاﺅں گا ۔ ۔ ۔ ،،ابا نے کہا اورباہر جانے کے لئے دروازے کی طرف بڑھے۔
اس رات جب ہمارے گاﺅں میں اذانیں دی گئیں تھیں تو کوئی گھنٹے بھر بعد بارش کا زور ٹوٹ گیا تھا۔ ۔ ۔ وہ جو موٹے موٹے اولے پڑ رہے تھے وہ بھی رک گئے تھے ۔ ۔ ۔ ہاں سردی بہت بڑھ گئی تھی۔ ۔ ۔ اندھیرا بہت زیادہ تھا ۔ ۔ ۔ ہمارے کمرے سے باہر دالان میں پانی بھرا ہوا تھا ۔ ۔ ۔ ابا دادا کی طرف گئے تھے اور پھر جلد ہی واپس لوٹ آئے تھے ۔ وہاں سب خیریت تھی اس لئے دادا ابا نے انہیں واپس بھیج دیا تھا۔ ۔ ۔ ۔ ہم نے کھانا کھایا اور پھر سب رضائی میں دبک کر لیٹ گئے تھے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ مجھے کبھی نیند آتی تھی ۔ ۔ ۔اور کبھی آنکھ کھل جاتی تھی ۔ ۔ ۔ وہ رات اسی طرح گزر گئی تھی۔ ۔ ۔ میں شاید گیری نیند سوگیا تھا کہ اماں نے مجھے ہلا ہلا کر جگایا تھا اور میں چونک کر اٹھ بیٹھا تھا۔
صبح بارش بھی رک چکی تھی اور آسمان بھی صاف ہو گیا تھا ۔ ۔ ۔ اماں نے میرا منہ ہاتھ دھلا دیا تھا اور اب وہ چائے بنا کر پراٹھا بنا رہی تھیں۔ ابا دادا کے کمرے میں چلے گئے تھے ۔ وہاں بھی سب چائے پی رہے تھے۔ ابا کے آنے کے بعد اماں نے دستر خوان بچھایا اور ہم مل کر چائے اور پراٹھے کا مزا لیتے رہے۔
دن نکلنے کی وجہ سے میرا جی چاہا کہ میں باہر جا کر اسی ٹیلے پر بیٹھ جاﺅں جہاں میں اپنے دوست گلو اور کبھی بھائی اسلام اور کبھی بھائی فاروق کے ساتھ بیٹھ کر دھوپ سینکتا تھا ۔ میں اپنے کمرے سے نکلا اور حویلی سے باہر جا کر ٹیلے پر بیٹھ گیا۔ ۔ ۔ ۔ رات بارش کے بعد سردی بڑھ گئی تھی اور دھوپ کچھ زیادہ ہی مزا دے رہی تھی ۔ ۔ ۔ میں ٹیلے پر بیٹھا گلو کا انتظار کرتا رہا مگر وہ نہیں آیا ۔
ہمارے گاﺅں کی زمین ایسی تھی کہ بارش ہونے کے بعد پانی جمع نہیں ہوتا تھا ۔ زمیں سارا پانی پی لیتی تھی ۔ ۔ ۔ میں کچھ دیر تک اور گلو کا انتظار کرتا رہا ۔ ۔ ۔ پھر میں اٹھا اورحویلی کے سامنے بنے ہوئے پرانے راج محل کی دیوار کے ساتھ ساتھ پھیلی ہوئی جھاڑیوں کی طرف چلا گیا ۔۔ ۔ میں نے ایک بار جب بھائی اسلام ہمارے ساتھ بیٹھے ہوئے دھوپ سینک رہے تھے تو ان سے اس راج محل کے بارے میں پوچھا تھا ۔ انہوں نے بتایا تھا کہ کہ ہماری حویلی کے سامنے جو راج محل کے کھنڈرات تھے وہ کسی زمانے میں ہمارے گاﺅں باول کے راجہ کوڑی مل کا محل تھا ۔ ۔ ۔ اب راجہ کوڑی مل اور اس کا خاندان نہیں تھا۔ ۔ ۔ وہ مر کھپ گئے تھے ۔ ۔ ۔ بس ان کے محل کی ٹوٹی پھوٹی نشانی رہ گئی تھی ۔ ۔ ۔ ۔کچی پکی اینٹیں ادھر ادھر بکھری پڑی تھیں ۔ ۔ ۔ ۔ اور کوئی نہیں جانتا تھا کہ وہ راجہ کوڑی مل کہاں چلا گیا۔۔ ۔ ۔ جب بھائی اسلام نے مجھے راجہ کوڑی مل کا بتایا تھا تو میں نے ان سے پوچھا تھا کہ وہ کہاں چلا گیا ۔ ۔ ۔ اور راجہ کیسا ہوتا ہے تو انہوں نے کہا تھا کہ راجہ بس راجہ ہوتا ہے ۔ ۔ ۔گاﺅں کا مالک ہوتا ہے ۔ ۔ وہ کہاں چلا گیا تھا اس کا بھائی اسلام کو بھی پتہ نہیں تھا ۔
محل کی دیواروں کے ساتھ ساتھ ۔ ۔۔پھیلی ہوئی ہری بھری جھاڑیوں اور پھیلی ہوئی گھاس میں مجھے آم کی گٹھلی سے نکلی ہوئی پتیاں نظرآئیں ۔ ۔ ۔ مجھے یاد آیا کہ ایک بار بھائی فاروق نے ایسی ہی ایک گٹھلی کو زمین سے نکال کر اسے خوب زمین پر گھسا تھا اور پھر اپنے منہ سے لگا کر بجایا تھا تو اس میں سے سیٹی بجنے کی آواز آئی تھی ۔ ۔ ۔ میرا بھی جی چاہا کہ میں بھی زمین سے آم کی گٹھلی نکا ل کر اسے زمین پر گھسوں اور منہ سے لگا کر سیٹی کی آواز نکالوں ۔ ۔ ۔ میں نے خوب زور لگا کر ایک گٹھلی زمین سے اکھاڑ لی ۔ اس میں پتیاں پھوٹ رہی تھی اور وہ دیکھنے میں بہت اچھی لگ رہی تھی۔ لیکن اسی دم کسی کا ایک ہاتھ میرے منہ پر پڑا اور اس نے مجھے بری طرح دبوچ لیا ۔ ۔ ۔ ہاتھ کے دباﺅ کی وجہ سے میرا منہ بری طرح بند ہو چکا تھا اور میں گھٹی گھٹی آوازیں نکال رہا تھا اور مجھ پر جیسے غشی سی طاری ہونے لگی ۔ ۔ ۔ جس نے مجھے میرا منہ دبا کر دبوچا تھا اس نے مجھے اٹھا کر اپنے کندھے پر ڈال لیا لیکن ایک ہاتھ اس کا میرے منہ پر ہی رہا تاکہ میں چیخ نہ سکوں ۔
وہ آدمی تیز تیز قدم اٹھاتے ہوئے مجھے کٹارے والی حویلی کی طرف لے جا رہا تھا ۔ ۔ ۔ میں اپنی خراب حالت کے باوجود سب دیکھ رہا تھا ۔ ۔ ۔ پھر میں نے سنا کہ کوئی مجھے پکار رہا تھا ۔ ۔ ۔ میں پہچان گیا۔ ۔ ۔ وہ آواز بھائی اسلام کی تھی ۔ ۔ پھر بھائی فاروق کی آواز بھی سنائی دی ۔ ۔ وہ بھی مجھے پکار رہے تھے ۔ ۔۔ ۔ اور پھر جیسے ہی اس آدمی نے پلٹ کر پیچھے کی طرف دیکھا اور اس کے ساتھ ہی اسے ٹھوکر لگی اور وہ زمین پر گر پڑا ۔ میں بھی زمین پر گرا تھا لیکن مجھے چوٹ اس وجہ سے نہیں لگی تھی کہ گرتے ہوئے میں اس کے بدن پر گرا تھا ۔ ۔ ہاں اسے بڑی چوٹ آئی تھی اس کی ناک زمین سے بری طرح ٹکرائی تھی جس کی وجہ سے اس کی ناک سے خون نکل رہا تھا ۔اتنی دیر میں بھائی اسلام اور فاروق بھائی دونوں وہاں پہنچ گئے تھے ۔ فاروق بھائی نے مجھے جلدی سے اٹھایا اور اپنی گود میں بھر لیا ۔ بھائی اسلام نے زمین پر پڑی ہوئی درخت کی ایک موٹی سے لکڑی اٹھائی اور دھڑا دھڑ اس آدمی کی کمر پر اور ٹانگوں پر برسانا شروع کر دی۔ ۔ ۔ اس آدمی نے لکڑی سے پٹنے پر بری طرح سے رونا اور چلا نا شروع کر دیا ۔ ۔ اس کے منہ سے ۔ ۔ ۔ ٬٬ مرگیا ۔ ۔ مہاراج ۔ ۔ مر گیا ۔ ۔ ۔ شما کردو مہاراج ۔ ۔ ۔ شما کر دو۔ ۔ ۔ ،،
وہ آدمی جو مجھے راج محل کی دیوار کے ساتھ لگی ہوئی جھاڑیوں سے اٹھا کر اپنے ساتھ لے بھاگا تھا ، اس کا رو رو کر برا حال تھا ۔ ۔ بھائی اسلام غصے کے مارے لال پیلے ہو کر اس پر خوب لکڑی بر سا رہے تھے۔۔ ۔ فاروق بھائی نے مجھے اپنی گود میں اٹھا رکھا تھا، انہوں نے بھائی اسلام کو روکا اور ہکلاتے ہوئے بولے ۔ ۔ ۔٬٬بھ بھا ۔۔ئی ۔۔۔ مر جائے گا ۔ ۔ ۔ سالہ یہ ۔ ۔ اب ۔۔۔اس کو اور مت مارو ۔ ۔ ۔ بھا۔ ۔ ئی۔ اسے حویلی میں لے چلو اپنے ساتھ ۔ ۔ ۔ دادا اس سے خود ۔ ۔ سمجھ لے گا ۔،،
فاروق بھائی کے منع کرنے پر بھائی اسلام رک گئے ۔انہوں نے ادھر ادھر دیکھا اور قریب ہی اگی ہوئی ایک جھاڑی سے کچھ لمبی لمبی پتیاں توڑ کر انہیں اپنے ہاتھوں سے بل دے کراس آدمی کے ہاتھوں کو باندھ دیا اور اس سے اپنے ساتھ چلنے کے لئے کہا ۔ وہ بار بار اپنے ہاتھوں سے ناک سے نکلنے والا خون منہ جھکا کر اپنی قمیض سے صاف کررہا تھاوہ چپ چاپ ہمارے ساتھ چلنے لگا۔ ہماری حویلی پاس ہی تھی اس لئے جلدی سے وہاں پہنچ گئے ۔ میرے گھر سے غائب ہو جانے کی وجہ سے سب پریشان تھے۔ حویلی کے دروازے پر ہی بڑے تایا اور کلو تایا کھڑے نظر آئے ۔ انہوں نے جب مجھے دیکھا تو وہ خوشی سے کھل اٹھے اور جب انہوں نے اس آدمی کو ہمارے ساتھ دیکھا اور اس کے ہاتھ بندھے ہوئے نظر آئے تو بھائی اسلام سے پوچھا۔٬٬ کیا ہوا ۔ ۔ ۔ اور یہ کس کو پکڑ کر لا رہے ہو ۔ ۔ ۔ کون ہے یہ ۔،،
٬٬ ابا ۔ ۔ یہ حرامی ۔ ۔ ہمارے ضیاءالدین کو اٹھا کر بھاگ رہا تھا،، فاروق بھائی نے کہا ٬٬ وہ تو ہم پہنچ گئے اور اسے پکڑ لیا۔ ۔ ورنہ یہ جانے کہاں لے جاتا۔،،
اچھا ۔ ۔ اس حرامزادے کی یہ مجال ۔ ۔ اندر لے چلو اسے ۔،، کلو تایا کو غصہ آگیا۔ ۔ ۔ ٬٬ اور اس کی ناک سے یہ خون کیسا نکل رہا ہے ۔،،
٬٬چا چا ۔ یہ ضیاءالدین کو اپنے کندھے پر اٹھائے بھاگ رہا تھا ۔ ۔ ۔ اسے ٹھوکر لگی تو یہ زمین پر گر پڑا۔ ۔ ۔ منہ کے بل گرا تھا تو ناک پر چوٹ لگنے سے خون نکلا ہے۔ ۔ ۔ وہ تو اچھا ہوا کہ یہ گرگیا ۔ ۔ ورنہ یہ ہمارے بچے کو لے کر بھاگ چکا ہوتا۔،،
بڑے ابا بدر الدین یہ سن کر اس آدمی کی طرف لپکے اور اسے ایک زناٹے دار تھپڑ مارا ۔ ۔ ۔ ابے تو ہے کون ۔ ۔ ۔سور ۔ ۔ ۔ تو ہمارے بچے کو اٹھا کر لے جا رہا تھا ۔ ۔ ہیں۔ ۔ ۔ ابھی نمٹتا ہوں تجھ سے۔،،
بھائی اسلام جلدی سے بول پڑے۔٬٬ابا ۔ ۔ ۔ میں نے اسے بہت مارا ہے ۔ ۔ ۔ اب دادا ہی اس کے ساتھ نمٹیں گے ۔،،
اسی وقت میرے ابا بھی حویلی سے باہر آگئے ۔ اورانہوں نے دوڑ کر مجھے اپنی گود میں اٹھا لیا۔ (جاری ہے)

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

ڈائجسٹوں کی الف لیلہ : سید انور فراز ۔۔۔ قسط نمبر 50

آنکھوں میں اُڑ رہی ہے لٹی محفلوں کی دُھول عبرت سرائے دہر ہے اور ہم …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے