سر ورق / سفر نامہ / دیکھا تیرا امریکہ…رضالحق صدیقی۔۔۔ آخری قسط

دیکھا تیرا امریکہ…رضالحق صدیقی۔۔۔ آخری قسط

دیکھا تیرا امریکہ

رضالحق صدیقی

نیاگرا آبشار

نیویارک جاتے ہوئے یہ خیال تھا کہ پہلے کینیڈا اور نیویارک کے سرحدی شہر بفیلو میںواقع دنیا کی خوبصورت ترین آبشار ،،نیاگرا ،، دیکھ لی جائے پھر راستے ہی میں ارادہ بد ل گیا کہ سفر زیادہ لمبا ہو جائے گا اور عدیل کا کہنا تھا کہ اتنی لمبی ڈرائیو کر کے تھکن ہو جائے گی۔نیویارک کی رونقیں دیکھ کر جس روز واپسی کے لئے چلیں گے وہاں سے پہلے بفیلو چلیں گے،وہاں نیاگرا آبشار دیکھ کر واپسی کی راہ لیں گے۔واپسی کا سفر اگرچہ بہت لمبا ہو جانا تھا لیکن طے شدہ پروگرام کے مطابق ہم عازمِ سفر ہوئے۔

آج ہم صبح جلدی تیار ہوئے ،شعیب بھائی کو خدا حافظ کہا اور بفیلو کی طرف چل دئیے۔ بفیلو شہر ریاست نیویارک کا ایک شہر ہے،ہمیں شہر کا نام سن کر ہنسی آ گئی کہ یار یہ کیسا ملک ہے جنہوں نے اپنے شہر کا نام بھینس رکھا ہوا ہے،خیر جی ہمیں کیا وہ چاہے بھینس رکھیں یا مجھ،ویسے انگریزی میں بے وقعت چیز بھی بارعب لگتی ہے،بفیلو پہنچ کر پتہ چلا کہ ابھی سفر ختم نہیں ہوا ابھی 15 میل کا سفر باقی ہے سو ہم نے گاڑی نیاگرا شہر کی طرف موڑ لی۔

نیاگرا ،ایک چھوٹا سا شہر ہے جس کی آبادی صرف پچاس ہزار کے قریب ہے،نیاگرا آبشار کی وجہ سے یہاں سیاحوں کی آمد ورفت کا سلسلہ جاری رہتا ہے۔

نیاگرا آبشار،براعظم شمالی امریکہ میں کینیڈا اورریاست ہائے متحدہ امریکہ کی سرحد پر واقع دنیا کی یہ مشہور ترین آبشار حسنِ فطرت کا عظیم شاہکار اور دنیا کے قدرتی عجائبات میںسے ایک سمجھی جاتی ہے اوردنیا میں سیاحوں کی پسندیدہ ترین مقامات میں شامل ہے۔یہ آبشار کینیڈا کے صوبہ اونٹاریو اور امریکہ کی ریاست نیویارک کے درمیان واقع ہے۔اسے پہلی بار سن 1678میں فادر لوئس بپی پن نے دریافت کیا۔سن1759میں سیورڈی لاسالی نے یہاں ایک قلعہ ،، فورٹ کاونٹی،، تعمیر کیا جس کا نام بعد ازاں ،،فورٹ نیاگرا،، ہوگیا۔

دریائے نیاگرا کو سن1819میں امریکہ اور کینیڈا کے درمیان سرحد تسلیم کیا گیا۔سن 1848میںنیاگرا کو قصبے کا دریہ دیا گیا اوریہی قصبہ تقریباََ پچاس سال کے بعد سن1892میں شہر کا درجہ پا گیا۔

امریکہ اور کینیڈا سے نیاگرا تک ہوائی جہاز،ریل گاڑی یا سڑک کے ذریعے پہنچا جا سکتا ہے۔دونوں ملکوں کے درمیان بذریعہ نیاگرا رابطہ ریل سے ہی ہے جہاں دریائے نیاگرا پر دو پل تعمیر کئے گئے ہیں جن میں سے ،، قوس و قزح پل،، بہت مقبول ہے،یہ پل سن 1941میں قائم ہوا اور اس کا تعمیراتی حسن آج بھی برقرار ہے۔یہ پل امریکہ اور کینیڈا کے درمیان مصروف ترین گذرگاہ ہے۔

نیاگرا آبشار کا بڑا اور زیادہ حسین حصہ کینیڈا کی سمت ہے جسے دیکھنے کے لئے قوس وقزح پل سے گاڑی یا پیدل کینیڈا میں داخل ہوا جا سکتا ہے۔امریکہ اور کینیڈا کے لئے سرحد عبور کرنے کے لئے ویزے کی ضرورت نہیں ہوتی،ہاں ہمارے جیسے غیر ملکیوں کے لئے ویزہ لازمی ہے۔

دریائے نیاگرا براعظم شمالی امریکہ کی دو عظیم جھیلوں ،، ایری،، اور ،،اونٹاریو،، کو ملاتا ہے۔اس دریا میں واقع جزیرہ ،،گوٹ،، دریائے نیاگرا کو دو حصوں میں تقسیم کرتا ہے۔جس سے نیاگرا کی عظیم آبشاریں جنم لیتی ہیں۔

نیاگرا آبشار کے تین حصے ہیں،سب سے بڑا اور متاثر کن حصہ کینیڈا کی طرف ہے اس کی شکل چونکہ گھوڑے کی نعل جیسی ہے اس لئے اسے ہارس شو(Horse Shoe)کا نام دیا گیا ہے۔اس آبشاری حصے کی چوڑائی 2600فٹ ہے۔

امریکہ کی جانب بہنے والی آبشار کو امریکی آبشار کہتے ہیںجس کی چوڑائی 1060فٹ ہے۔تیسرا حصہ یا تیسری آبشار نسبتاََ چھوٹی ہے جسے برائڈل ویل(Bridal Veil) کا نام دیا گیا ہے۔یہ تیسری آبشار بھی امریکہ کی جانب واقع ہے۔

ان تینوں آبشاروں سے انتہائی سیزن میں فی سیکنڈ 225,000مکعب فٹ پانی نیچے گرتا ہے۔یعنی ایک منٹ میں تقریباََ ساٹھ لاکھ فٹ پانی کینیڈین سائیڈ پر 180فٹ کی بلندی سے گرتا ہے۔جبکہ امریکن سائیڈ پر جہاں ہم موجود تھے تقریبا 100فٹ کی بلندی سے گرتا ہے۔ایک اندازے کے مطابق ہر سال 40 لاکھ سیاح نیاگرا کا رخ کرتے ہیں۔

سیاح کروز کے ذریعے نیاگرا آبشار کا بہت قریب سے نظارہ کر سکتے ہیں۔آبشار کے پانی سے بننے والی قوس و قزح کا فضائی نظارہ کرانے کا بھی انتظام یہاں موجود ہے جس کے لئے ہیلی کاپٹر استعمال ہوتے ہیں،اس کے علاوہ ہیلیم غباروں کا بھی استعمال کیا جاتا ہے۔

نیاگرا آبشار کا علاقہ دونوں ممالک میں قومی پارک کا درجہ رکھتا ہے۔امریکہ میں نیاگرا ریزرویشن اسٹیٹ پارک کہلاتا ہے۔یہ پارک امریکہ کے قدیم ترین پارکوں میں سے ایک ہے جسے سن1885میں امریکی حکومت نے اپنے زیرِ انتظام لیا۔یہ پارک 107ایکڑ رقبے پر پھیلا ہوا ہے۔

اپنی خوبصورتی،اپنے حسن کی بدولت نیا آبشار دنیا بھر کے اہم ترین سیاحتی مقام کے علاوہ یہ پن بجلی کے بڑے وسیلے کا باعث بھی ہے۔

نیاگرا کے پانیوں کو پن بجلی کے لئے استعمال کرنے کا پہلی بار سن1759میں سوچا گیا۔آج ۔نیاگرا،ریاست نیویارک میں سب سے زیادہ بجلی پیدا کرنے والی کمپنی ہے جو2.4گیگاواٹس(ملین کلوواٹس) پیداواری صلاحیت کی حامل ہے۔

نیاگرا آبشار سے گرنے والا پانی ایک مسخر کر دینے والا سحر رکھتا ہے جس کے زیرِ اثر انسان گھنٹوں وہاں بیٹھ سکتا ہے۔ہمیں چونکہ واپسی کا لمبا سفر کرنا تھا اس لئے دو تین گھنٹے وہاں صرف کر کے ہماری واپسی کا سفر شروع ہوا،عدیل نے اگلے روز دفتر جانا تھا ورنہ دل چاہتا تھا کہ کم از کم ایک رات تو وہاں ٹہرا جاتا۔

راستے میں یہی گفتگو جاری تھی جس پر عدیل نے کہا کہ اگلی دفعہ دو ایک دن کے لئے صرف یہی علاقہ دیکھنے آئیں گے۔

میں نے کہا،،یار عدیل اس کی خوبصورتی بلا شبہ بے مثال ہے لیکن تمہیں تربیلا ڈیم کی سیاحت یاد ہے،جب ہمارے سامنے ڈیم کا سپل وے کھولا گیا تھااور پانی نے زمین سے ٹکرا کر جو اچھال پیدا کی تھی،اس کے سامنے نیاگرا کی یہ آبشار کچھ بھی نہیں ہے۔،،

عدیل کہنے لگا ِ،،پاپا، پاکستان میں بھی دیکھنے کے لئے بے شمار چیزیں ہیں،ہمارے پہاڑی علاقوںمیںبھی بڑے بڑے گلیشیر ہیں خوبصورت آبشاریں ہیں ،جھیلیں ہیں،تندوتیز دریا ہیں،اور یہ سب اتنے قدیم اور تاریخی ہیں کہ جن کی مثال نہیں ملتی لیکن افسوس یہ ہے کہ یہ منظم نہیں ہیں، ٹورسٹ کو کوئی سہولت مہیا نہیں ہے یہاں امریکہ میں معمولی سی چیز کو بھی اس طرح پیش کیا جاتا ہے اور اس طرح اس کا انتظام کیا جاتا ہے کہ ٹورسٹ کھنچا چلا آتا ہے۔نیاگرا فال تو پھر بھی ورلڈ فیم ہے۔،،

میں سوچ رہا تھا کہ ایک وقت تھا جب پاکستان کے قدرتی حسن کو دیکھنے کے لئے سیاحوں کی لائنیں لگی ہوتی تھیں،اگرچہ سڑکوں کا سیاحتی علاقوں میں جال نہیں بچھا ہوا تھالیکن اس ملک کے حسن کا ہر سیاح شیدائی تھا، سیاحوں کی آمد و رفت شاید ہم نے خود بند کر دی، کاش جنرل ضیاالحق نے امیرالمومینین بننے کانہ سوچا ہوتا اور طالبانی فتنہ پیدا نہ کیا ہوتا توپاکستان کی سیاحت کی انڈسٹری ہی اتنی زیادہ ہوتی کہ ہم آئی ایم ایف کو کبھی کا دیس نکالا دے چکے ہوتے۔خیر۔۔ میرے جیسے غیر سیاسی لوگوں کو سیاسی باتیں نہیں کرنی چاہیں۔

میری لینڈ واپسی

واٹر گیٹ کمپلیکس

امریکہ میں حلال کھانا اگر گھر کے باہر کھانا ہو تو نیویارک میں تو ایسا کوئی مسئلہ نہیں ہے کیونکہ وہاں کے کئی علاقے اسی حوالے سے مشہور ہیںہم چونکہ میری لینڈ میں ٹھہرے ہوئے تھے اس لئے وہاں جب لاہوری سٹائل کے کھانے کھانے کی چاہت ہوتی تھی تواس کے لئے ایک ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو کرنا پڑتی تھی۔

فاصلوں کی پیمائش اگرچہ کلومیٹروں اور میلوں میں ہوتی ہے،لیکن امریکہ میں اگر کسی سے پوچھو کہ فلاں علاقہ کتنے فاصلے پر تو جواب ملتا ہے آدھ گھنٹے،پون گھنٹے کی ڈرائیو پر۔

اس روز پروگرام بنا کہ کھانا باہر کھایا جائے۔عدیل کی رہائش کے اردگرد حلال کھانے کا کوئی مرکز موجود نہیں تھا،سوائے پیزا کے۔پیزا میں بھی یہ قباحت ہے کہ اس میں جو چکن استعمال ہوتا ہے وہ حلال نہیں ہوتا،جھٹکے کا ہوتا ہے۔امریکیوں کا توخیر وہاں جھمگھٹا لگا ہوتا ہے ،لیکن ہم سے توجانتے بوجھتے مکھی نہیں نگلی جاتی،ہاں اگر کبھی پیزا کھایا بھی تو ویجیٹیبل۔

ایک روزموڈ بنا تو بچوں سے کہا کہ آج کا کھانا میری طرف سے ہوگا۔لیکن چلو وہاں جہاں دیسی لاہوری سٹائل کا کھانا مل سکے۔

راوی، ورجینیا میں لاہوری سٹائل کے کھانوں کے لئے مشہور ہے۔اردگرد کی ریاستوں سے یہاں کھانا کھانے آتے ہیں۔عدیل اور رابعہ بتارہے تھے کہ فہیم بھائی چار گھنٹے کی ڈرائیو کر کے یہاں کی کڑہائی کھانے آتے ہیں، میں نے کہا کہ چلو وہیں چلتے ہیں۔

ورجینیا جاتے ہوئے جب ہم واشنگٹن ڈی سی میں سے گذر رہے تھے تو ایک بلڈنگ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے عدیل نے بتایا کہ اس عمارت میں شازیہ باجی اور احرار بھائی رہتے ہیںاس سے تھوڑا آگے ایک وسیع وعریض عمارت نظر آئی،امریکہ میں سرکاری عمارتیں علیحدٰہ اور دور سے پہچانی جاتی ہیں۔میں نے عدیل سے کہا ،،یہ بھی کوئی سرکاری عمارت لگتی ہے،،۔

،،ہاں جی،یہ ہے ہی زبردست اور اہم،،عدیل نے کہا

،،وہ کیسے،،

میں نے پوچھا

،،یہ عمارت واٹر گیٹ کمپلیکس ہے،اس عمارت میں ایک سکینڈل نے جنم لیا تھا جس نے امریکہ کی سیاست پر گہرا اثر ڈالا تھا اور ایک امریکی صدر کو اس سکینڈل کی بنا پر اقتدار چھوڑنا پڑا تھا،،

عدیل نے جواب دیا

یہ کوئی 35،36سال پرانا واقعہ ہے،میں تو اس وقت پیدا بھی نہیں ہوا تھا،اور شاید آپ بھی ابھی پڑھتے ہی ہوں گے؟

عدیل نے مزید کہا

اتنی دیر میں گاڑی تو آگے بڑھ گئی لیکن واٹر گیٹ کمپلیکس مجھے کالج کے دور میں پہنچا گیا،گھر پر اخبار اور ریڈیو ہی اطلاعات کا ذریعہ تھے اگرچہ پاکستان میں ٹیلی ویژن شروع ہوئے چھ سات سال ہو گئے تھے،لیکن اس کی نشریات کا احاطہ زیادہ دور تک نہیں تھا،ساہیوال میں اس کی نشریات زیادہ صاف نہیں تھیںاور شہر میں ٹیلی ویژن سیٹ بھی زیادہ نہیں تھے،والد صاحب چند دن پہلے بلیک اینڈ وائیٹ آرجی اے کا سلائڈنگ ڈور والا ٹی وی لائے تھے،پاکستان تازہ تازہ سن 71کی جنگ سے فارغ ہوا تھا،اس جنگ کے نتیجے میں مشرقی پاکستان بنگلہ دیش بن گیا تھا،اب مغربی پاکستان ہی پاکستان تھا،سن70 میں ہونے والے الیکشن میںمغربی پاکستان میں پاکستان پیپلزپارٹی اکثریتی جماعت کے طور پر ابھری تھی اور اسی نے یہاں حکومت بنائی تھی کہنے والے تو یہ بھی کہتے ہیں کہ پاکستان کو دولخت کرنے کی سازش امریکہ نے کی تھی اور اس کا بحری بیڑا امریکی ساحلوں سے پاکستان کے ساحلوں تک نہ پہنچ پایاتھا۔

یادیں تھیں کہ ا مڈی چلی آ رہی تھیں۔

غالباََ سن1972کا کوئی مہینہ تھا جب حکومت نے پہلی بار پاکستانیوں کو پاکستانی ہونے کی شناخت،شناختی کارڈ کا اجراءکیا تھا،اسی زمانے میں جب اخبارات میں شناختی کارڈ کے اجراءکی خبریں چھپیں تو ساتھ ہی بین الاقوامی خبروں میںامریکہ میں واٹر گیٹ سکینڈل کے بارے میں خبریں آنی شروع ہوئیں،دن میں اخبارات سے معلومات اکھٹی کرنا اور رات کو کیفے ڈی روز پر بیٹھ کر دوستوں سے ان پر گفتگو کرنا روز کا معمول تھا۔ہمارے دوستوں میں یوں تو بہت سارے دوست ہوتے تھے لیکن ان میں سے راﺅ شفیق اور نعیم نقوی خبروں پر گرماگرم تبصرے کیا کرتے تھے،راﺅ چونکہ کالج میں ہم سے دوسال اگلی جماعت میں تھا اس لئے اس کی معلومات مجھ سے بہرطور زیادہ تھیں،اس نے واٹر گیٹ والی خبر پر امریکہ کی سیاست اور اس کے پاکستانی سیاست پر اثرات کے حوالے سے اس تیقن کے ساتھ بات کی کہ ہمیں لگتا تھا کہ یار یہ درست کہہ رہا ہے۔

،، پاپا کہاں کھوگئے،،

عدیل نے مجھے خاموش دیکھ کر پوچھا

،، ارے کچھ نہیںیار،واٹر گیٹ کمپلیکس دیکھ کر وہ زمانہ یاد آ گیا جب یہ واقعہ ہوا تھا،اخبارات میں بڑا چرچا ہوا تھا۔ہمارا طالب علمی کا زمانہ تھا اور ابھی ہم شادی کے جھمیلے میں بھی نہیں پھنسے تھے،آزادی کے دن تھے،واہ کیا دن تھے۔،، ہم نے ہنس کر جواب دیا۔

ہماری بیگم ایسے موقع پر کہاں چوکنے والی تھیں،بولیں

،،اچھا تو ہم جھمیلا ہیں، کیوں کی تھی شادی،،

،،ارے بابا تمہیں نہیں کہا،تم تو ایسے ہی لڑنے لگیں،،

ہماری بات سن کر بچے ہنسنے لگے کہ اب ماما کو منائیں،ہم سبھی ہنس دئیے۔

واٹر گیٹ سکینڈل کا آغاز اسی کمپلیکس سے ہوا تھا۔یہ17جون 1972کا واقعہ ہے کہ ڈیموکریٹک نیشنل کمیٹی کے اس کمپلیکس میں واقع دفتر میں چوروں کے ایک گروہ کو گرفتار کیا گیا،یہ کوئی عام چوری کا واقعہ نہ تھا۔یہ کوچہ گرد جو گرفتار ہوئے تھے صدر رچرڈ نکسن کی ری الیکشن کمپیئن سے منسلک تھے اور یہ اس وقت رنگے ہاتھوں پکڑے گئے جب یہ ٹیلی فون کے تاروں کے ساتھ فون کال ٹیپ کرنے کے آلات منسلک کر رہے تھے اور خفیہ دستاویزات چرا رہے تھے۔

تاریخ دانوں کا کہنا تھا کہ وہ یقین سے نہیں کہہ سکتے کہ صدر رچرڈ نکسن کو واٹر گیٹ جاسوسی مشن کے وقوع پذیر ہونے سے پہلے اس کا علم تھا یا نہیں۔کہا یہ جاتا ہے کہ صدر رچرڈ نکسن نے واقعہ کے وقوع پذیر ہونے کے بعد چوری کے واقعہ کو دبانے کے لئے کثیر رقم خرچ کی،ایف بی آئی کو جرم کی تحقیقات سے روکنے کے لئے سی آئی اے کو استعمال کرنے کے علاﺅہ شہادتوں کو ختم کرنے کی کوشش کی۔اس کے علاﺅہ ان تمام سٹاف ممبروں کو عہدوں سے فارغ کر دیاجو تعاون پر تیار نہیں تھے۔آخر کار اگست1974میں واٹر گیٹ سازش میں صدر نکسن کے کردار کے سامنے آنے پر صدر نے استعفیٰ دے دیا۔ان کے جانشین جیرالڈ فورڈ نے صدر کا عہدہ سنبھالتے ہی نکسن کو بطور صدر تمام جرائم جو تسلیم کئے گئے اور جو کئے جانے تھے میں معافی دینے کا اپنا صدارتی حق استعمال کرتے ہوئےمعاف کر دیا۔اگرچہ صدرنکسن کو اس کیس میں عدالت کا سامنا کبھی نہیں کرنا پڑا لیکن واٹر گیٹ سکینڈل نے امریکہ کی سیاست کو ہمیشہ کے لئے تبدیل کر دیا اب امریکہ کے عوام صدارتی محل اور اپنے لیڈروں کے لئے زیادہ تنقیدی ہو گئے ہیں،خاص طور پر صدر کے عہدے کی جانب سے کئے گئے اقدامات پر زیادہ ہی تنقیدی نگاہ رکھی جاتی ہے۔یہی وجہ ہے کہ سن1976کے الیکشن میں اگرچہ صدر فورڈ نے نکسن اورواٹر گیٹ سکینڈل کو نظر انداز کر دیا لیکن ان کے ڈیموکریٹک حریف جمی کارٹر نے واٹر گیٹ سکینڈل کو اس طرح استعمال کیا کہ صدر فورڈ صدارتی دوڑ میں دو فیصد ووٹوں سے شکست کھا گئے کیونکہ عوام واٹر گیٹ سکینڈل میں نکسن کی حمایت کرتے ہوئے صدر فورڈ کے معافی کے اعلان کو نہیںبھولے تھے۔

آج جب میں پاکستان میں بیٹھا اپنی یادداشتوں کو ضبطِ تحریر میں لارہا ہوں،تو مجھے واٹر گیٹ سکینڈل کے حوالے سے امریکی ادارے نیشنل سکیورٹی ایجنسی(NSA) کے ایک منحرف جاسوس ایڈورڈ سنوڈن کے برطانوی نشریاتی ادارے گارڈین میں چھپنے والا انٹرویو یاد آ گیا جس کے مطابق ایجنسی کو اختیارات حاصل ہیں کہ وہ کروڑوں نہیں بلکہ اربوں افراد کے حوالے سے تمام معلومات حاصل کرنے میں آزاد ہے جس میں ہر فرد کی ای میلز، آن لائن چیٹ اور نیٹ پر کی گئی تمام کی تمام ریسرچ شامل ہے۔نیشنل سکیورٹی ایجنسی نے جس سسٹم کے ذریعے جاسوسی شروع کر رکھی ہے اس نیٹ ورک کا نام ،،ایکس کی سکور(x key score) رکھا ہے۔یہ نیٹ ورک انٹر نیٹ پر جاسوسی کا سب سے بڑا سسٹم ہے۔سابق امریکی جاسوس ایڈورڈ سنوڈن نے جب برطانوی نشریاتی ادارے،، گارڈین،، کو پہلا انٹرویو دیتے ہوئے انکشاف کیا کہ ،، میں یہاں آپ کے سامنے بیٹھا ہوں اگر مجھے آپ کایعنی میزبان کا یا آپ کے اکاونٹینٹ کا ای میل پتہ ہو تو انٹرنیٹ پر میں آپ کی تمام کی تمام سرگرمیوں کا پتہ لگا سکتا ہوں،،ایڈورڈ سنوڈن کے اس انکشاف نے نہ صرف انٹرنیٹ صارفین بلکہ دنیا بھر کی حکومتوں کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے۔ایڈورڈ سنوڈن کے اس بیان کی امریکی انٹیلی جنس کمیٹی کے چیئرمین مائیک راجر نے تردید کر دی کہ ایسا کرنا نا ممکن ہے اور امریکہ کے پاس ایسی ٹیکنالوجی موجود نہیں ہے ایڈورڈ سنوڈن جھوٹ بول رہا ہے۔لیکن ایکس کی سکور ٹیکنالوجی کے وسیع نیٹ ورک کی سٹڈی سے ایڈورڈ سنوڈن کا انکشاف ثابت ہوتا ہے کہ ایکس کی سکور نیٹ ورک کی مدد سے ہر شخص کے ای میل اور اس کی تمام تر سرگرمیوں پر نظر رکھی جا سکتی ہے اس نیٹ ورک کے ذریعے امریکی خفیہ ادارے جاسوسی کر رہے ہیں اس نیٹ ورک کو خفیہ اداروں نے ڈیجیٹل نیٹ ورک انٹیلی جنس کا نام دے رکھا ہے۔ایکس کی سکور کی مدد سے کمپیوٹر صارفین کے اوقات تک کا پتہ چلایا جا سکتا ہے کہ فلاںوقت پر وہ کیا کر رہا تھا۔امریکی قانون کے مطابق امریکی شہری کی نگرانی یا جاسوسی کرنا غیرقانونی ہے مگر ایکس کی سکور کی مدد سے آج امریکہ میں مقیم کوئی شہری بھی محفوظ نہیں ہے ان کی نجی زندگی کی بھی نگرانی کی جا رہی ہے۔ایکس کی سکور کی مدد سے خفیہ اداروں کے اہلکار کمپیﺅٹر کے ذریعے ہونیوالی فون کالز ریکارڈ کرسکتے ہیں۔حتی کے کمپیوٹرمیں موجود تمام ہسٹری بھی حاصل کی جا سکتی ہے کہ فلاں بندے نے اتنے دنوں انٹرنیٹ پر کیا کیا کام کیا اور کن سے رابطہ کیا۔ حیران کن امر یہ بھی ہے کہ خفیہ حکام کمپئیوٹر استعمال کرنے والے کا نام، اس کے کمپیﺅٹر کا آ پی نمبر، کی ورڈز،وہ زبان جس میں وہ کمپیﺅٹر استعمال کر رہا ہے اور وہ نیٹ ورک جس کے ذریعے وہ انٹرنیٹ استعمال کرتا ہے حاصل کر چکے ہیں اور یہ سب سپر ایکس کی سکور نیٹ ورک سسٹم کے ذریعے ہی ممکن ہوا ہے۔ امریکی نیشنل سکیورٹی ایجنسی کے مطابق انہوں نے سن2008میںایکس کی سکور کی مدد سے 300 دہشت گردوں کو پکڑا تھا۔سن2012میں نیشنل سکیورٹی ایجنسی نے فیصلہ کیا کہ ہر ای میل آئی ڈی اور اس ای میل کو استعمال کرنے والے کا نام ،فون نمبر اور فون کرنے والے کی نگرانی کی جائے گی اور ریکارڈ رکھا جائے گا اور رکھا جا رہا ہے۔ ایڈورڈ سنوڈن نے جون2013 میں گارڈین کو دوسرا انٹرویو دیا جس میں ایکس کی سکور کے فنگشن کے بارے میں بتایا ایڈورڈ سنوڈن کے مطابق ای میلز تلاش کرنے کے لئے خفیہ اہلکار ایکس کی سکور سادہ طریقے سے آن لائن سرچ فارم میں رکھتے ہیں جس کے بعد ای میلز کا ریکارڈ تاریخ اور وقت کے حساب سے کمپﺅٹر سکرین پر آنا شروع ہو جاتا ہے اس سافٹ ویئر (ایکس کی سکور) کی مدد سے ای میلز کے جوابات بھی پڑھے جا سکتے ہیں۔ ای میلز کے علاوہ ایکس کی سکور سافٹ ویئر کی مدد سے سوشل میڈیا کی بھی نگرانی کی جا سکتی ہے۔فیس بک چیٹ اور پرائیویٹ پیغامات بھی اب امریکہ کے خفیہ اداروں کی پہنچ سے دور نہیں ہے۔ ایکس کی سکور سافٹ ویئر کی مدد سے ہر اس شخص کے کمپیﺅٹر کا آئی پی نمبر حاصل کیا جا سکتا ہے جس نے انٹرنیٹ پر کسی بھی قسم کا کوئی بھی پیج وزٹ کیا ہو یا کھولا ہو۔ سن 2007کی امریکی نیشنل سکیورٹی ادارے کی اپنی رپورٹ کے مطابق اس وقت تک انہوں نے 8کھرب50 ارب کالز کا ڈیٹا سٹور کیا ہے۔سن2012 میں امریکی ادارے کے ڈیٹا ریکارڈ کے مطابق 20کھرب کالز کی معلومات موجود تھیںیہ فون کالز اور ای میلز کا ریکارڈ تھا ۔ واشگٹن پوسٹ کے مطابق ایکس کی سکور سافٹ ویئر کی مدد سے امریکہ خفیہ ادارہ(NSA)روزانہ کی بنیاد پر ایک ارب 70کروڑ ای میلز اور فون کالز کی نگرانی کرتا ہے اور ان کا ڈیٹا سٹور کرتا ہے ایکس کی سکور سافٹ ویئر کی مدد سے انٹرنیٹ کا ڈیٹا قلیل عرصے تین سے پانچ دن تک سٹور کیا جا سکتا ہے۔ اس مشکل کو حل کرنے کے لئے اس ادارے نے(Multi-liesed system) بنایا ہے جس کا نام پن وایل) Pin wale) رکھا گیا ہے جس کی معلومات کو پانچ سال تک سٹور کیا جا سکتا ہے ۔نیشنل سکیورٹی ایجنسی نے امریکی شہریوں کا ریکارڈ الگ اور دوسرے ممالک کا ریکارڈ الگ محفوظ کر رکھا ہے۔برطانوی نشریاتی ادارے گارڈین نے یہ رپورٹ بھی شائع کر رکھی ہے کہ مائیکرو سافٹ کمپنی نے بھی سی آئی اے اور ایف بی آئی کو اپنے سافٹ وئیر تک رسائی دے رکھی ہے۔امریکی اداروں نے جاسوسی کے لئے اور ڈیٹا سٹور کرنے کیلئے بڑی بڑی سافٹ وئیر کمپنیوں سے معاہدے کر لئے ہیں جن میں گوگل، مائیکرو سافٹ، فیس بک اور ایپل شامل ہیں۔مائیکرو سافٹ نے skype متعاف کرایا جو آج کل بہت مقبول ہے سکائیپ کے مارکیٹ میں آنے کے ٹھیک نو ماہ بعد امریکی اداروں نے اس کی بھی ریکارڈنگ شروع کر دی تھی۔

واٹر گیٹ سکینڈل کے 1972میں وقوع پذیر ہونے اوراس کے نتیجے میں اپنے صدر کواستعفیٰ دینے پر مجبور کرنے والے امریکی معاشرے نے اپنے اس سبق کو پر عمل پیرا رہنے کی بجائے جاسوسی کے غلط استعمال کواپنے ہر شعبہ میں رائج کر لیا ہے۔

راﺅ شفیق نے 1972میں ٹھیک ہی کہا تھا ہمارے ہاں امریکہ کی سیاست کے گہرے اثرات پڑتے ہیں،اخبارات اور سوشل میڈیاپر دو خبریں اہم نظر آئیں ایک فوڈ اتھارٹی کی ڈائریکٹر کی انہار دودھ فیکٹری پر چھاپے،اس کے او ایس ڈی بنائے جانے اور پھر اس سے تردید کرانے کی خبر،دوسری پی ٹی آئی کے سربراہ کی پریس کانفرنس جس میں انہوں نے 28ہزار ووٹوں کی حلقہ 122میں درآمد برآمد کا ذکر کیا ہے۔اگر یہ بات درست ہے تو یہ بھی واٹر گیٹ سکینڈل سے کم نہیں ہے ۔

ڈسکوری چینل

یہ دن بغیر کسی کام کے گذر رہے تھے دن بھر یا تو لیپ ٹاپ پر پاکستان میں دوستوں،عزیزواقارب سے گپ شپ یا پھر شام کو جب دھوپ اپنی تیزی کھو بیٹھتی توگھر سے نکل کر ڈاﺅن ٹاون کا ایک چکر،جہاں سپلیش کے گرد پتھر کی منڈیر پر بیٹھ کر عنایہ کو پانی کے فواروں سے اٹھکیلیاں کرتے دیکھنا۔

سپلیشن،ڈاﺅن ٹاون میںوہ جگہ ہے جہاںز مین کو دائرے کی شکل میں پینٹ کیا گیا ہے،اس دائرے میں وقفے وقفے سے سوراخ کئے گئے ہیںجن سے ایک خاص مکینیزم کے تحت باری باری پانی کا فوارہ پھوٹتا ہے،بچے ایک فوارے سے دوسرے فوارے کی جانب بھاگتے ہیں،نہاتے ہیں مزے کرتے ہیں،گھر جانے کا کہو تو انکار کرتے ہیں،یہاں حفظانِ صحت کا خاص خیال رکھا کیا جاتا ہے،یہاں بچوں کوعام کپڑوں میں لانا منع ہے۔بچوں کے والدین کو کہا جاتا ہے کہ بچوں کو سوئیمنگ کاسٹیوم میں لائیں۔

سپلیشن میں ایک مقررہ وقت تک فوارے چلائے جاتے ہیں پھر اس جگہ پرتعینات عملہ اس جگہ کی اچھی طرح صفائی کرتا ہے اور اس جگہ کو رکاوٹیں کھڑی کر کے بند کر دیا جاتا ہے۔ عنایہ کو وہاں بڑا مزا آتا ہے۔اپنے باپ کی طرح گھنٹوں پانی سے کھیلنے کے باوجود جب گھر چلنے کا کہو چلنے سے انکار کر دیتی تھی۔ہم اسے اس وقت لے کر جاتے تھے جب سپلیشن کے بند ہونے میں ایک گھنٹہ باقی رہ گیا ہوتا تھا۔واپسی پر ہم فروزن یوگرٹ ضرور کھاتے تھے،یہ جما ہوا دھی ہوتا تھا یا نہیں لیکن آئس کریم کی مانند لذیز ضرور ہوتا تھا۔فروزن یوگرٹ مختلف فلیورز میں ملتا تھا جس پر ٹاپنگ(اخروٹ،کاجو وغیرہ)ایسا مزا دیتی تھی کہ دل بھر کر کھانے کے باوجود دل نہیں بھرتا تھا۔اب تو لاہور میں بھی ایک دو دکانیں فروزن یوگرٹ کی کھل گئی ہیں لیکن ان میں ہلکی سی کھٹاس بتاتی ہے کہ یہ نقل تو ہے وہاں کی، مگر مطابق اصل نہیں ہے۔

اس روزصبح ناشتے کے لئے ڈبل روٹی موجود نہیں تھی اور مجھے اکیلے کو نزدیکی سیون الیون سے ڈبل روٹی لانے جانا پڑا،میں جب سے امریکہ آیا تھا یہ پہلا موقع تھاکہ میں اکیلا باہر نکلا تھا۔عدیل کے فلیٹ والی بلڈنگ ٹوئن ٹاورز سے نکل کر اگر ڈاﺅن ٹاﺅن کی طرف چلیں تو ٹوئن ٹاور کی عمارت ختم ہوتے ہی کارنر پر پٹرول پمپ ہے۔دائیںجانب مڑیں تو کچھ دور جا کر سیون الیون سٹور ہے۔یہ امریکہ کی مشہور چین ہے جس کی شاخیں ہر جگہ موجود ہیں اور یہ سٹورز کھلے بھی دیر تک رہتے ہیں۔پٹرول پمپ پر کھڑے ہو کر دیکھیں تو سڑک کی دو سری جانب ایک وسیع و عریض سفید عمارت دکھائی دیتی ہے جس کی ہر منزل دن رات روشن نظر آتی ہے،یہ ڈسکوری چینل کی عمارت ہے۔یہ چینل کا ہیڈکوارٹرہے۔اس روزمیں نے سوچا اس عمارت کو قریب سے دیکھا جائے۔میں نے پٹرول پمپ سے پیدل چلنے کا اشارہ روشن ہوتے ہی سڑک پار کی اور عمارت کی دیوار کے ساتھ پہنچ گیا ۔ایک نظر اندر کی طرف ڈالی سامنے ہی ایک طویل القامت ڈائنا سار کا مکمل ڈھانچہ اس انداز میں کھڑا تھاکہ جیسے ابھی چل پڑے گا۔ہم نے سوچا کہ چینل کو اندر سے دیکھا جائے،کچھ ملازمین سے ملاقات کی جائے،جس کے لئے ہم نے پاکستانی صحافیانہ انداز اپنایا۔ہم نے نے استقبالیہ پر پہنچ کر اپنا تعارف کرایا،چینل کو اندر سے دیکھنے اور ساتھ ہی چینل کے CEOسے ملنے کی خواہش کا اظہار کیا۔ہمیں کہا گیا کہ اپنا مقصد ایک چیٹ پر لکھ دیں اور انتظار کریں،ریسپشن پر کاونٹر کے سامنے ہی صوفے پڑے تھے،میں وہاں بیٹھ گیا۔وہیں ریسپشن ڈیسک سے ایک گوارا سے نین نقش والی لڑکی اٹھی اور ہمارے پاس آ کر بیٹھ گئی غالباََ انتظامیہ سے تعلق رکھتی تھی،ہمارے اتنے قریب کہ اس کے سانس لینے سے ایک خاص قسم کی بو ہمیںمحسوس لگی،ویسے تو ایک خاص قسم کی مہک بھی آ رہی تھی جو غالباََ کسی مہنگے سے کلون کی تھی،ہمیں تو کوئی اتنا زیادہ اندازہ نہیں ہے کلون ولون کا لیکن اس کلون میں شاید اس کے جسم کی مہک بھی شامل تھی۔ ہمیں اس قسم کی خوشبوں کا کوئی اندازہ نہیں ہے اس لئے ہم دم ساد ھ کر بیٹھ گئے جب معاملہ برداشت سے باہر ہو گیا اور ہم نے وہاں سے اٹھنا چاہا تو اس نے اپنا تعارف ریٹا کے نام سے کرایا اور بتایا کہ وہ انتظامیہ سے ہے۔ پریس اور پروٹوکول کے معاملات دیکھتی ہے، ہمارے استفسار پر اس نے ہمیں چینل کے بارے میں تھوڑی سی معلومات فراہم کیں جس کے مطابق جون ہیڈرکس نے اس چینل اور اس کی مالک کمپنی کیبل ایجوکیشنل نٹ ورکس کی بنیاد1982میں رکھی۔ چینل نے اپنی نشریات کا آغاز1985میں کیا۔اپنے ابتدائی دور میںایجوکیشنل پروگرامنگ کے تحت اس چینل سے کلچرل اور وائلڈ لائف ڈاکومنٹریز پیش کی گئیں۔بنیادی طور پر یہ سائینس،ٹیکنالوجی اور ہسٹری پر مرکوز ڈاکومنٹری ٹیلیوژن ہے۔امریکہ میں یہ رئیلیٹی ٹیلی وژن کے طور پر کام کرتا ہے۔اس کے نمایاںپروگراموں میںمتھ بسٹرز،اَن سالوڈ ہسٹری اور بسٹ ایویڈنس ہیں۔اس چینل کا ایک سالانہ فیچر شارک ویک ہے جو موسمَِ گرما میں منایا جاتا ہے۔اس نے یہ بھی بتایا کہ فروری 2015 تک یہ چینل امریکہ میں 83فیصد گھروں میں دیکھا جانے والا چینل بن گیا ہے۔

چیٹ لے کر اندر کہیں غائب ہو جانے والا شخص آتا ہوا نظر آیا۔ریسپشن پر آ کر اس نے کچھ کہا اور پھر عمارت کے کسی کونے میں کہیں گم ہو گیا،ریسپشنسٹ نے ہمارے ساتھ بیٹھی ریٹا کو بلایا اور وہ اٹھ کر اس کے پاس گئی،اس کے اٹھتے ہی تازہ ہوا کا ایک جھونکا ہمیں اپنی جانب بڑھتا محسوس ہوا،بڑی دیر سے دم سادھے بیٹھے تھے،کھل کر ایک لمبا سانس لیا،ابھی ایک سانس ہی لے پائے تھے کہ ریٹا واپس آ گئی اور بڑے مہذب انداز میں ہم سے معذرت کی اور CEOصاحب کی عدمِ دستیابی کا بتا کر ہمیں رخصت کر دیا۔

باہر آ کر گھڑی دیکھی تو اندازہ ہوا کہ یہاں ایک گھنٹہ سے زیادہ وقت یہاں صرف ہو گیا تھا،میں تو ڈبل روٹی لینے نکلا تھا،ہمیں تشویش شرو ع ہوگئی کہ سب انتظار کر رہے ہوں گے کہ میں آﺅں تو ناشتہ کریں،کچھ بچوں کو خیال آ رہا ہو گا کہ میںپہلی بار اکیلا نکلا ہوں،کہیں راستہ تو نہیں بھٹک گیا۔اب میں تیزی سے سیون الیون سے ڈبل روٹی لے کر گھر کی طرف چلا کہ مجھے بھی بھوک لگنے لگی تھی۔

ہیپی برتھ ڈے عنایہ

نیویارک سے واپس آئے کئی روز ہو گئے تھے،اب واپسی میں چند ہی دن روز باقی تھے،ہمیں پاکستان سے آئے دو ماہ ہونے کو تھے ،یہ وقت کیسے گذرا پتا بھی نہیں چلا،اب ہم نے عدیل کو کہہ دیا تھا کہ کہیں نہیں جاناکیونکہ باقی جو دن ہماری واپسی کے تھے وہ اپنی پیاری سی گڑیا کے ساتھ گذارنے تھے۔ویسے بھی ہمارا آنے کا مقصدیہی تھا کہ بچے اس بار اپنی مصروفیت کی وجہ سے پاکستان نہیں آئے تھے۔رابعہ اور عدیل کی سالگرہ توپاکستان اور امریکہ میں کیک فیس ٹائم کے روبرو کاٹ کرمنا لیا تھا لیکن دل میں اداسی کی اٹھنے والی لہر نے بے چین کر دیا تھا۔لیکن اپنی پیاری سی گڑیا عنایہ کی سالگرہ ہم اس ماحول اور احساس کے ساتھ نہیں منانا چاہتے تھے اور اس بات کا احساس عدیل کو اچھی طرح سے تھا،وہ دونوں خود بھی اداس ہو گئے ہوئے تھے لیکن کام ہی کچھ ایسے تھے کہ وہاں رکنا مجبوری بن گیا تھا،پھر ایک روز اس کی جانب سے ہمارے ٹکٹ اس نے بھجوا دئیے۔

واپسی کی تاریخ میں اس نے خیال رکھا تھا کہ عنایہ کی سالگرہ ہماری وہاں موجودگی میں ہی آئے۔

عنایہ کی سالگرہ جوں جوں قریب آ رہی تھی اس کی خوشی دیکھنے کے قابل تھی،پہلی سالگرہ اسے یاد تھی جو اس کے بابا نے دھوم دھام سے منائی تھی،پیروز کیفے میںمنائی جانے والی وہ سالگرہ ایک یادگار تقریب تھی جہاں ڈھیر سارے بچوں نے اس کے سنگ بہت مستی کی تھی اور اس کے بابا نے دل کھول کر خرچ کیا تھا،مجھے خوشی ہے کہ جہاں خرچ کرنے کی ضرورت ہوتی ہے وہ دل کھول کر خرچ کرتا ہے۔اس بار بھی عدیل خوب دھوم سے عنایہ کی سالگرہ منانا چاہتا تھا لیکن ایک تو عنایہ ابھی سکول نہیں جاتی اس لئے اس کے کوئی دوست نہیں ہیں کہ بلا لیئے جاتے دوسرے امریکہ میں نزدیک کوئی رشتہ دار بھی نہیںرہتا کہ بلا لیا جاتا،لے دے کر شازیہ اور احرار تھے اور ساتھ والے فلیٹ میں زین ظفر اس کی بیوی اور عنایہ کی دوست زین کی بیٹی تھی،ہمارے جانے سے تعداد دس پر تو پہنچ ہی گئی۔

عدیل اور میں عنایہ کے لئے کھلونے پہلے ہی لے آئے تھے۔

عنایہ ان کپڑوں میں بالکل پری لگ رہی تھی جو اس کی دادی پاکستان سے لے کر گئیں تھیں۔

عنایہ اپنی اکلوتی دوست نہال کے ساتھ سالگرہ کے تحفوں سے کھلنے لگی ہوئی تھی،زین ،عدیل کا بچپن کا دوست ہے،اب ایک ہی جگہ گام کرتے ہیں اور ان کی بچیاں بھی بچپن کی دوست بن گئی ہیں،بچپن کی دوستی بڑی مضبوط ہوتی ہے۔

رابعہ نے دو کیک میز پر رکھے تو سب نے سوالیہ انداز میں پوچھا ۔رابعہ نے بتایا کہ ایک کیک عنایہ کے بابا خود اپنی پسند سے لائے تھے جو عنایہ نے ریجیکٹ کر دیا اور خود اپنے بابا کے ساتھ جا کر نیا کیک لائی ہے۔عنایہ نے اپنی دوست نہال کے ساتھ مل کراپنی سالگرہ کا کیک کاٹا۔اور دوبارہ اپنی دوست کے ساتھ کھیلنے لگی۔ اچانک اسے نجانے کیا سوجھی کہ اپنے ایک کھلونے کا میوزک سٹارٹ کر کے بولی

،،ا بو لیٹس ڈانس،،

اور دادا اس عمر میں بچے بن گئے۔

اگلے دو دن کیسے گذر گئے پتاہی نہیں چلا،عدیل ،رابعہ اور دادا کی جان عنایہ ہمیںخداحافظ کہنے ایئرپورٹ آئے تو منظر وہی پرانا تھا عنایہ دادی کو دیکھ کر بےتابانہ ان کی طرف بھاگ رہی تھی،آج بھی اپنے بابا کی گود سے اتر کر دادی کی طرف بھاگ رہی تھی،دونوں کی آنکھوں میں آنسو تھے۔اس روز دادی نے عنایہ کو اٹھا لیا تھا،آج اس کے بابا نے اسے اٹھایا اور خدا حافظ کہہ کر واپسی کے لئے مڑ گیا۔

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

سفر نامہ بھارت…حسن عباسی

سفر نامہ بھارت حسن عباسی دلّی دنیا کا تیسرا بڑا شہر دہلی جدید ہندوستان کا …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے