سر ورق / افسانہ / مکافاتِ قرض …فاطمہ عبدالخالق

مکافاتِ قرض …فاطمہ عبدالخالق

مکافاتِ قرض

  فاطمہ عبدالخالق

 اک اضطراب ہے جو مجھے بے چین کئے رکھتا ہے اک بوجھ ہے قرض کا جو میری جان کو ایک پل بھی سکون کا سانس لینے نہیں دیتا ہے۔میری یاداشت رگ و پے میں کسی آوارہ بھٹکتی روح کی طرح گناہوں کی سیاہ موجوں کو طوفان بنا رہی ہیں، میری ندامتیں اگرچہ شدید ہیں ،لیکن گناہوں کا بار مجھے تجھ سے دور کرتا ہے ۔میں گناہوں کی دلدل میں سر تا پاوں دھنس چکا ہوں، اس دلدل کی غلاظت میں پرورش پاتا میرا دل گندگی سے بھر چکا ہے اور کسی مخلوق کی اس سے بڑھ کر اور کیا بدقسمتی ہو سکتی کہ وہ اپنے خالق کی نافرمان ہو…. وہ دھتکار دی جائے رد کر دی جائے۔کالک اس کے دل میں اتار دی جائے مجھے معاف کر دے میرے مولا.. میں بہت گناہ گار ہوں سیاہ کار ہوں لیکن میں تیرے در پہ آ کر ماضی کے سبھی گناہوں کی سچی دل سے توبہ کرتا ہوں….. مجھے اپنی پناہ میں لے لو یارب…. کعبے کے سامنے سر بہ سجود وجود رو رو کر اپنے گناہوں کی معافی مانگ رہا تھا۔اور اس کے ساتھ ہی اس کی بیوی بھی سر بہ سجود تھی، دونوں کے دل ندامت میں ڈوبے ہوئے تھے اور معافی کے طلبگار تھے۔

میرا دل بدل دے میرا دل بدل دے

 میرا غفلت میں ڈوبا دل بدل دے

 ہوا و حرص والا دل بدل دے

 خدایا فضل فرما دل بدل دے

 بدل دے دل کی دنیا دل بدل دے

 گناہ گاری میں کب تک عمر کاٹوں

 بدل دے میرا رستہ دل بدل دے

 سنوں میں نام تیرا دھڑکنوں میں

 مزا آجائے مولا دل بدل دے

 ہٹا لوں آنکھ اپنی ماسوا سے

 جیوں میں تیری خاطر دل بدل دے

 کروں قربان اپنی ساری خوشیاں

 تو اپنا غم عطا کر دل بدل دے

 سہل فرما مسلسل یاد اپنی

 خدایا رحم فرما دل بدل دے

 پڑا ہوں تیرے در پہ دل شکستہ

 رہوں کیوں دل شکستہ دل بدل دے

 تیرا ہو جاو?ں اتنی آرزو ہے

 بس اتنی ہے تمنا دل بدل دے

 میری فریاد سن لے میرے مولا

 بنا لے اپنا بندہ دل بدل دے

 میرا غفلت میں ڈوبا دل بدل دے

 دل مخموم کو مسرور کر دے

 دل بے نور کو پر نور کر دے

 میرا ظاہر سنور جائے الٰہی

 میرے باطن کی ظلمت دور کر دے

 مے وحدت پلا مخمور کر دے

 محبت کے نشے میں چور کر دے

 میرا غفلت میں ڈوبا دل بدل دے

————————————————————————————————————————–

لاہور کی مشہور یونیورسٹی میں ہر طرف چہل پہل ہو رہی تھی ، چار سو ایک بھاگ دوڑ لگی ہوئی تھی ، کسی کو ایگزامز کی ٹینشن تو کوئی اسائیمنٹ کا ستایا ہوا تھا اور کوئی پروجیکٹ کے چکر میں خوار پروفیسرز سے نالاں خود کو کوس رہا تھا ، جہاںکئی لوگ پڑھائی کے چکر میں خوار ہو رہے تھے وہیں ایک ماڈرن سوسائٹی کے رنگ میں ڈھلا ہوا گروپ بھی گپیں ہانکنے میں مگن تھا۔ جسے کسی قسم کی کوئی ٹینشن نہیں تھی بلکہ الٹا یہ گروپ دوسروں کے لئے مشکلات کھڑی کرنے میں پیش پیش رہتا تھا۔ ہر الٹا سیدھا کام کرنا ان کا محبوب مشغلہ تھا۔آتی جاتی لڑکیوں کو تاڑنا ان پہ فقرے کسنا اور ان کے منہ کے بگڑتے زاویوں سے لطف اندوز ہونا انہیں بہت مرغوب تھا، اگر کوئی لڑکی بھولے بھٹکے سے ان کی شکایت وی سی سے کرتی الٹا وہی بدنام ہوتی تھی۔

آج بھی حسب معمول یہ بگڑا ہوا گروپ یونیورسٹی کے گراونڈ میں بیٹھا اپنا مرغوب مشغلہ سر انجام دے رہا تھا جب حسان بھی ان کے درمیان آ کر بیٹھ گیا تھا۔

یار سگریٹ نکالو بہت طلب محسوس ہو رہی ہے، احسان بیٹھتے ساتھ ہی بولا تھا۔

اوئے پہلے یہ تو بتا آج کل کدھر غائب رہتا ہے تو یار ؟ کل بھی تجھے میں نے اتنی کالز کیں لیکن مجال ہے تم نے کال پک کی ہو۔ افضال جیب سے برانڈڈ سگریٹ کی ڈبیا نکال کر اسے تھماتے ہوئے بولا تھا۔

 بس یار کیا بتاوں میں تنگ آ چکا ہوں ادھر آٹھ بجتے نہیں ادھر میری دادی ہنگامہ مچا دیتی ہیں کہ احسان کہاں ہے؟ اسے فون لگاو اور پھر فون پر پاپا سے الگ ڈانٹ پڑتی ہے، میری تو اس بڈھی نے سالی زندگی اجیرن کر کے رکھ دی ہے جب سے انٹرنیٹ لگوایا ہے آٹھ بجے کے بعدہم سب کے فون دادی صاحبہ لے لیتی ہیں ، احسان سگریٹ کا کش لگاتے ہوئے تلخ لہجے میں بولاتھا۔

 دھت…تیری حالت تو واقعی قابل ترس ہے، اب کون ان بڈھی کھوسٹ دادیوں کے ساتھ رہتا ہے؟ تم کچھ اپنے مما پاپا کو سمجھاوں یہ اولڈ ہاوس کس لئے بنائے گئے ہیں۔ تیسرے دوست اکمل نے بھی اپنا حصہ ڈالا ۔

 بڑوں کو ایسے نہیں کہتے ایک دن آپ بھی اس اسٹیج پر جائیں گے خاموشی سے ان کی باتیں سنتا یونیورسٹی فیلو قادر بول اٹھا تھا۔

 اوہ مولوی میاں پلیز ہمیں وعظ مت سنانے لگ جانا! اپنے کام سے کام رکھو اکمل ہاتھ جوڑتے ہوئے بولا۔

 قادر کندھے اچکاتے ہوئے خاموشی سے اٹھ کر چلا گیا تھا۔

 ہونہہ بڑا آیا، افضال نے ایک عدد موٹی سی گالی قادر کو نکالتے ہوئے غصے سے زمین پر تھوکا تھا۔

کل شام کو ایک پارٹی رکھی ہے ، اگر تمہاری دادی اجازت دے دے تو آ جانا افضال نے طنزیہ لہجے میں کہا تھا

ناممکن ہے دوست، احسان مایوس لہجے میں بولا تھا۔

اچھا یار کوشش کر کے دیکھ لے ایک بار، پارٹی جس کے اعزاز میں ہے مکمل آئٹم ہے تو دیکھے گا تو دیکھتا رہ جائے ایسی دعوت نظارہ دیتی لڑکی تم نے پہلے کبھی نہیں زندگی میں دیکھی ہو گی شام مکمل رنگین بننے والی ہے اکمل نے فضا میں بوسہ لہراتے ہوئے جواب دیا تھا۔

 یار دل تو میرا بھی کرتا ہے کہ کبھی میں بھی رنگین شام مناوں لیکن بس کسی طرح دادی سے جان چھوٹ جائے تو ایک شام تو کیا مکمل زندگی ہی رنگین ہو جائے گی۔.. احسان نے آہ بھرتے ہوئے جواب دیا۔

 تو سمپل اپنی دادی کا قتل کر دو. . لبرل ازم معاشرے کی پیداوار افضال نے سفاک لہجے میں کہا گویا ان کے لیے یہ کوئی معمولی سی بات ہو۔

 تمہارا دماغ تو ٹھیک ہے، وہ میری دادی ہے احسان چیخا تھا۔

 تو کیا ہوا کل پرسوں بھی تو مرنا ہی ہے اس بڑھیا نے تو آج ہی سہی اکمل نے بھی افضال کی ہاں میں ہاں ملائی ۔

 تم لوگوں کا دماغ تو نہیں الٹ گیا کیا؟

 ابے سالے کمینے ہم تیرے جگر ہیں تیرا خیال کرتے ہوئے کہہ رہے ہیں اور تو الٹا ہم پر ہی برس رہا ہے۔

 یہ دیکھ ایک جھلک تو دیکھ اس قیامت کی تجھے سالوں اس بڑھیا کا خیال نہیں آئے گا افضال نے ہاتھ میں پکڑے جدید سیل فون میں گہرے گلے کے لباس میں ملبوس لڑکی کی تصویر دکھاتے ہوئے کہا جس کا چہرہ نیچے کی جانب جھکا ہوا تھا۔

 لڑکی کی تصویر دیکھ کر افضال میں ہیجان برپا ہوا اور اسے خود پر قابو پانا مشکل ہو گیا تھا۔

 تو سہی کہتا ہے یار قیامت ہے سالی کمینی، اس کی تو تصویر ہلچل پیدا کرتی ہے سامنے ہو تو واللہ کیا ہو گا فگر تو اس کا ایک دم مست ہے چہرہ بھی تو دکھا دے… احسان مخمور لہجے میں بولا۔

 چہرہ بھی قیامت ہے بس دادی والی رکاوٹ کو کاٹ ڈال پھر اس کے ساتھ تیری شامیں رنگین ہوں گی۔ افضال نے آنکھ میچتے ہوئے کہا۔

 اب تو کچھ کرنا ہی پڑے گا، تیرے یار کا اس سالی نے دل لے لیا ہے سینے پر ہاتھ پھیرتے ہوئے احسان عجیب سے لہجے میں بولا۔

 دیکھا میں نہیں کہتا تھا کہ اک جھلک دیکھے گا تو دیوانہ ہو جائے گا۔ اکمل نے افضال کے ہاتھ پر ہاتھ مارتے ہوئے قہقہہ لگایا ۔

 یار یہ دعوت نظارہ دیتا حسن چیز ہی ایسی ہے کہ بندہ پاگل ہو جائے اور پھر سو روپے کے بیلنس اور کھانے پینے کے بدلے میں کوئی جھولی میں پکے پھل کی طرح آن گرے تو کون کافر مزا لینے سے انکار کرے گا؟ افضال نے آنکھ مارتے ہوئے قہقہہ لگایا تھا ۔

کب ملواو گے اس حسینہ سے؟ احسان سگریٹ کا دھواں اڑاتے ہوئے بولا تھا۔

 لیکن تیری دادی… ؟ اکمل نے لقمہ دیا تھا

ابے مار گولی اس بڑھیا کو زہر دینے میں ایک لمحہ لگے گا، چل مجھے اس حسینہ کے پاس لے چل…. احسان کی بے قراری اپنے عروج پر تھی۔

 دھیرج رکھ میرے یار، ابھی دو دن پہلے ملی تھی وہ اب اتنی جلدی گھر سے باہر نہیں نکل پائے گی افضال نے لوفرانہ آنداز میں آنکھ دبائی۔

انتظار طویل ہے اب آسانی نہیں ہوگا… احسان بیقراری سے بولا۔

 احسان کی حالت دیکھتے ہوئے اکمل نے حسینہ کا نمبر ملایا بیل مسلسل جا رہی تھی مگر دوسری جانب سے فون نہیں اٹھایا جا رہا تھا اکمل بھی مسلسل لگا رہا تھا بالاخر پانچویں بیل پر اٹھا لیا گیا تھا۔

 کیسی ہو میری جان.. اکمل بولا۔

 ٹھیک ہوں تم بتاو فون کیوں کیا ہے؟

 کہاں تھی اتنی دیر سے فون کر رہا ہوں…

دوسری جانب سے نجانے کیا کہا گیا تھا کہ اکمل قہقہہ لگا کر ہنس دیا ۔

 آج ملنے کا پلان تھا سویٹی، آ سکتی ہو تمہیں کسی خاص یار سے ملوانا ہے؟

 سالی تیری اتنی ہمت تو مجھے انکار کرتی ہے؟ دوسری طرف شاید انکار کیا گیا تھا…. تبھی اکمل دھاڑا تھا ۔

 سمجھو میری بھی مجبوری ہے میں آج نہیں آ سکتی ہوں…. دوسری جانب سے کہا گیا تھا۔

تو کل آ جانا، سویٹی

لیکن،،،

لیکن ویکن کچھ نہیں،سویٹی تمہیں آنا ہو گا ورنہ تم انجام تو جانتی ہی ہو نا؟؟؟

 ٹھیک ہے میں کوشش کروں گی۔

نا بے بی نا کوشش نہیں بس تمہیں آنا ہو گا کوئی بھی بہانہ بنا کر نکل لینا گھر سے….. ورنہ۔۔۔۔۔۔

دوسری جانب سے شاید آنے کا عندیہ دے دیا گیا تھا تبھی اکمل نے ہوائی بوسہ اچھالتے ہوئے اور لو یو جان کہتے ہوئے فون بند کر دیا تھا ۔

 کیا کہتی… ؟احسان نے بے قراری سے پوچھا ۔

 ابے صبر رکھ وہ آج نہیں آ سکتی ہے کل شام کو آئے گی تم ایسا کرو فی الحال گھر جاو اور بڑھیا کو چین کی نیند سلاو…

کل افضال تمہیں گھر سے پک کر لے گا اور ہوٹل لے آئے گا…. اکمل نے آنکھ دباتے ہوئے کہا

 کل میں بھی تیرے ساتھ اس کے گھر تک جاوں گا۔

 ابے گھر کا ہمیں کیا پتہ کہاں ہے؟ وہ تو مارکیٹ آ جاتی ہے میں وہاں سے اسے گاڑی میں بٹھا لاتا ہوں..۔

کیوں کبھی اس کا پیچھا نہیں کیا تم نے؟ ً احسان مکرہ ہنسی ہنسا تھاکیونکہ وہ اکمل کی عادت کو جانتا تھا۔

ابے یار ٹرائے کی تھی مگر وہ بہت چالو قسم کی لڑکی ہے، ہاتھ نہیں آئی تھی۔

ہاہاہاہاہاہاہاہاہا… اچھا ٹھیک ہے پھر میں چلتا ہوں.. اب کل تک تو انتظار بھی نہیں ہونا ہے احسان نے گالی نکالتے ہوئے اکمل کے ہاتھ پہ ہاتھ مارتے ہوئے جواب دیا تھا۔

یہ آج کل کی نئی نسل کو شاید گالی دئے بنا بات کرنا ہی نہیں آتی ہے یا شاید یہ بھی ہائی سوسائٹی کا فیشن بن چکا ہے کس قدر افسوس کی بات ہے کہ ہم اپنی زبان کو ناپاک کئیے بنا بات مکمل کر ہی نہیں سکتے ہیں اور مزید یہ کہ اسے برائی بھی تصور نہیں کرتے اب تو لوگ، پاس سے گزرتے ایک بزرگ پروفیسر نے رنج و ملال سے چور ہو کر یہ بات سوچی تھی۔

اکمل ابھی گھر ہی پہنچا تھا کہ احسان کی کال آنے لگ گئی تھی۔

ہاں بولو یار کیا بات ہے.؟..

یار بڑھیا لڑھک گئی, جنازے پہ آ جانا اوکے۔

 کیا تم نے؟؟ اتنی جلدی؟؟

 اوہ نہیں یار ویسے ہی خود ہی جان چھوڑ گئی ہے بیزاریت بھرا لہجہ تھا۔

مبارکباد شہزادے… رنگین شاموں کی آمد مبارک ہو۔

ہاں میں بھی شکر ادا کر رہا ہوں اللہ نے ہاتھ ناپاک ہونے سے پہلے ہی جان چھڑوا دی ہے۔

اچھا جنازہ کب ہے؟

 شام کو چھ بجے ہے…

چل ابھی تو تین بجے ہیں, بہت ٹائم ہے میں پہنچ جاوں گا..

آ جانااور افضال کو بھی ساتھ لے آنا، ورنہ ڈیڈ نے باتیں سنانے سے باز نہیں آنا ہے۔

 جو حکم جانو…مضحکہ خیز ہنسی تھی۔

 اوکے ناو گڈ بائے۔

انسان زندگی میں گناہ کے پلان بناتے ہوئے شیطان کے بہکاوے میں آ کررب کی ذات کو بھول جاتا ہے ، ایک پلان شیطان بناےا ہے کہ بندے کو جس قدر ممکن ہو سکے گمراہی کے رستے پہ ڈال سکے اور ایک اس جلیل القدر رب کی تدبیر ہوتی ہے جو ہر منصوبے اور تدبیر سے بالاتر ہوتی ہے یہ الگ بات ہے کہ ہم میں سے اکثر لوگ سنبھلنے کے لئے ٹھوکر کا انتظار کرتے ہیں اور پھر نفس کے ہاتھوں ہی منہ کے بل گرتے ہیں۔

*********

جو انسان خود دادی کا قتل کا ارادہ کئیے بیٹھا ہو اس سے کسی ملال یا سوگ کی کیا توقع رکھی جا سکتی ہے سواگلے دن پلان کے مطابق بگڑے ہوئے دو شہزادے افضال اور احسان بائیک پر ہوٹل کی طرف روانہ ہوئے تھے اور اکمل مخصوص مارکیٹ کی جانب روانہ ہوا تھا..

جونہی مارکیٹ پہنچا وہ حسینہ جلدی سے سیاہ شیشوں والی گاڑی میں آ کر بیٹھ گئی ۔

 اتنی دیر لگا دی آنے میں؟ اگر کوئی مجھے یہاں دیکھ لیتا تو؟سانس پھولی ہوئی تھے اور لہجہ خاصا تیکھا تھا ۔

 زیادہ نخرے مت دکھایا کر اب اچھے نہیں لگتے ہیں۔

 میں بہت مشکل سے آئی ہوں تم میرا پیچھا چھوڑ کیوں نہیں دیتے ہو۔

تم چیز ہی ایسی مست ہو بندہ چاہے بھی تو چھوڑ نہ پائے تمہارا سارا وجود نشہ ہے جو سر چڑھ جائے تو مشکل سے ہی اترتا ہے ویسے میرے سر سے تو اتر چکا تیرا نشہ بس تجھے ایک جگر سے ملوانا تھا ۔

 وہ کیوں؟ اذیت بھرا سوال تھا۔

 بس اس کا دل آ گیا ہے تیرے پر؟

 کیا مطلب؟ بس اسے تھوڑا سا خوش کر دینا اور کونسا مطلب ہو سکتا ہے سویٹی… شیطانی مکروہ مسکراہٹ…

میں تمہیں طوائف نظر آتی ہوں؟ پہلے دوسرا دوست اب تیسرا…

تمہاری وہ ویڈیو میرے پاس ہے زیادہ نخرے کئے تو انٹرنیٹ پر پھیلا دوں گا ۔اکمل بدلے ہوئے لہجے میں بولا۔

 لڑکی نے کرب سے آنکھیں میچ لیں اور خاموش ہو گئی… بعض اوقات کم عقلی کی بنا پر کی گئی غلطیوں کے خمیازے بہت بڑے ہوتے ہیں۔

 چل اب اس شرافت کے ٹیگ (عبایا) کو اتار کر پچھلی سیٹ پر رکھ دے اور سیٹ ہو کر بیٹھ جاو۔

اس نے خاموشی سے اکمل کی بات پر عمل کیا تھا کیونکہ ایک بار شوق سے کیا گیا کام کبھی کبھار مجبوری میں بھی تبدیل ہو جاتا ہوتا ہے،جبکہ اکمل گاڑی ایک پتلی سی ویران گلی میں کرتے ہوئے سیٹ کو نیچے کرتے ہوئے اس پر جھک گیا سادگی میں بھی قیامت لگتی ہو آج کی سوگواری کی وجہ کیا ہے؟

 لڑکی نے کرب نما خاموشی سے اس کا ساتھ دیا تھا کیونکہ وہ کچھ بھی کرنے سے قاصر تھی یہ کنواں اس کا اپنا ہی کھودا ہوا تھا۔

 فون کی بیل بجتے ہی اکمل ہوش کی دنیا میں آیا تھا۔

 کہاں ہو؟کب تک آئے گا کمینے؟ دوسری جانب احسان بیقراری سے پوچھ رہا تھا۔

 آ رہا ہوں صبر رکھ سالے, اتنا اتاولہ کیوں ہو رہا ہے؟ زیر لب موٹی سی گالی بھی تھی۔..

اور پھر فون بند کرتے ہوئے گاڑی تیز رفتاری سے مخصوص ہوٹل کی جانب دوڑائی تھی۔

ہوٹل کی پارکنگ میں گاڑی پارک کرنے کے بعد لڑکی کا ہاتھ تھامے وہ مخصوص کمرے کی جانب بڑھا تھا جس کے ساتھ والے کمرے میں دو انسان نما حیوان بیٹھے اس کا انتظار کر رہے تھے ۔

 کمرے میں لڑکی کو صوفے پر بٹھاتے ہوئے اس نے کمرے کی اندر سے چٹخنی لگائی اور دونوں کمروں کے درمیان والا دروازہ کھولتے ہوئے انہیں اندر بلایا تھا۔

 جذبات کے طلاطم پر قابو پاتے ہوئے افضال اور احسان اندر داخل ہوئے تھے۔

 جونہی احسان کی نگاہیں لڑکی کے چہرے پر پڑیں اس کا سر گھوم گیا اسے معلوم ہوا لوگ کیوں کہتے ہیں زمین شق ہو جائے اور وہ اس میں گڑ جائیں, کالک چہرے پہ کیسے ملی جاتی ہے….چکراتے سر کے ساتھ وہ نیچے گرتا چلا گیا تھا۔

اس کے سامنے اس کی پھپھی زاد بیٹھی ہوئی تھی جس سے ابھی ایک مہینہ پہلے اس کا نکاح ہوا تھا ، لازم تو نہیں مکافات عمل ہمیشہ بہنوں کے ذمے ہی آئے، وہ جہاں تھا وہیں بیٹھتا چلا گیا تھا۔

کیا ہوا احسان….؟

 جبکہ وہ صدمے سے ہوش و خرد سے بیگانہ ہو چکا تھا….

مجھے لگتا ہے یہ ایک دوسرے کو جانتے ہیں افضال بولا۔

 وہ حسینہ کی جانب متوجہ ہوئے جو پتھر کی ہو چکی تھی….

اے تم اسے جانتی ہو؟؟

 خاموشی کے سوا اس کے پاس کوئی جواب نہیں تھا۔

تم سے کچھ پوچھ رہا ہوں….. اس کے کندھے جنجھوڑتے ہوئے اکمل چیخا تھا۔

 یہ میرا پھ… پھ.. پھوپھی زاد ہے…. نجانے کیوں وہ شوہر نہ کہہ پائی تھی۔

اکمل اور افضال نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا تھا اور کمان سے نکلے ہوئے تیر کی طرح ہوٹل کے کمرے سے غائب ہو چکے تھے اب وہاں صرف دو وجود تھے ایک پتھر کا اور دوسرا ہوش و خرد سے بیگانہ, اور ایک دوسرے کی مدد کرنے سے قاصر تھے۔

انسان نجانے کیوں بھول جاتا ہے کہ اپنے من کے کھیت میں جو بیج وہ بوتا ہے ویسی ہی فصل کاٹنے کو بھی اسے تیار رہنا چاہئیے اگر بیج اچھا ہو گا تو فصل اچھی اگتی ہے اور اگر بیج ہی خراب ہو تو کیسے ممکن ہے فصل اچھی اگ جائے؟ احسان بھی بھول گیا تھا خسارہ بھی اسی کے حصے میں آیا تھا اور اب اس خسارے کا بوجھ اٹھاتے ہوئے اسے زندگی گزارنا تھی۔

آخری حل توبہ کا دروازہ ہی ہے اور اب احسان توبہ کا در کھٹکھٹا رہا تھا مگر ہر کوئی احسان کی طرح نہیں ہوتا جسے وقت پہ ٹھوکر لگے اور عقل بھی آ جائے بعض اوقات ساری زندگی بوجھ تلے دب کر ہی گزار دیتے ہیں ہمیشہ یاد رکھیں جو خسارے آپ کسی کی جھولی میں ڈالنے کی چاہت رکھتے ہیں ایک وقت آتا ہے وہی سارے خسارے سود سمیت پلٹ کر آپ کی طرف لوٹ آتے ہیں اور پھر آپ جتنا مرضی ہاتھ پیر مار لیں بچننا ناممکن ہوتا ہے… کسی کی بہن, بیٹی یا بیوی پہ ایک غلط نگاہ ڈالنے سے پہلے یہ ضرور سوچئے گا کہ ایک دن یہ قرض سود سمیت اتارنا پڑتا ہے…

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

خلا ..نیلم احمد بشیر۔ لاہور ۔ پاکستان

عالمی افسانہ میلہ 2019 افسانہ نمبر 33 خلا نیلم احمد بشیر۔ لاہور ۔ پاکستان ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے