سر ورق / کالم / "دہ جماعت پاس ہوں۔۔۔” محمد قاسم سرویا

"دہ جماعت پاس ہوں۔۔۔” محمد قاسم سرویا

"دہ جماعت پاس ہوں۔۔۔”

محمد قاسم سرویا

آج کل دسویں جماعت کے امتحانات پورے زور و شور (شور اس لیے کہ کچھ طلبہ کو اب کانوں میں ٹوٹیاں لگا کر پڑھنے کی عادت بھی ہے) سے جاری ہیں۔ یہ ختم ہوتے ہی نویں جماعت کے، پھر بی اے اور پھر انٹرمیڈیٹ کے پیپرز شروع ہو جائیں گے۔ میٹرک کے امتحانات کو عملی زندگی کی پہلی بنیاد کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا کیونکہ ان دو سالوں میں کی گئی محنت آنے والے دنوں میں مطلوبہ و مقصودہ تعلیمی میدان کا بھی تعین کرتی اور بہترین و پرسکون زندگی کا بھی۔ لیکن اگر یہ عرصہ سو کر یا کسی میں کھو کر یا کسی کا ہو کر گزار دیا جائے تو فیوچر لائف بہت سے مسائل کا شکار ہو جاتی ہے جو بعض اوقات اتنے پیچیدہ ہو جاتے ہیں کہ زندگی اجیرن بھی ہو سکتی ہے۔۔۔ اور زندگی تو ایک ہی بار ملنی ہے تو پھر کیوں نہ اسے محنت کر کے بھرپور انداز میں گزارا جائے۔

بھلے وقتوں میں جب میٹرک کے امتحانات قریب آتے تھے تو لڑکے اور لڑکیوں کی بھوک، پھیرا ٹورا اور نیند اُڑ جاتی تھی۔۔۔ اور اکثر کے تو ہاتھوں پیروں کے توتے توتیاں بھی اڑ جاتے تھے۔ (آج کل پیپر کے دن بھی شوخے اشٹوڈنٹ فیس بک پہ بونگیاں اور الٹ بازیاں مارتے پھرتے ہیں)۔ گھر والوں کو اپنے پڑھاکو بیٹی بیٹے کی بڑی فکر ہوتی تھی، ان کو دماغ تیز کرنے کے لیے لحمیات اور روغنیات سے بھرپور غذائیں اور "بھانڈے” بنا کر دوسرے بہن بھائیوں سے چھپا کے کمرے کے اندر لے جا کر کھلائے جاتے تھے، گھر والے کوئی کام نہیں کہتے تھے کہ پڑھائی کا حرج نہ ہو۔ شادیوں میں اور رشتہ داروں کے ہاں آنے جانے پر "چارسوویہہ 420” لگ جاتی تھی۔۔۔ کہ شادیاں ویاہ تو ہوتے ہی رہتے ہیں، میٹرک کے پرچے زندگی میں ایک ہی بار ہونے ہیں۔ یوں کہہ سکتے ہیں کہ اس زمانے میں میٹریکولیشن کے اسٹوڈنٹ "پردھان منتری” جیسا رتبہ پا جاتے تھے۔

اس سے بھی پہلے اور مزید بھلے وقتوں میں ماسٹر صاحب امتحان شروع ہونے سے ایک مہینہ پہلے ہی ساری دسویں جماعت کو چوبیس گھنٹوں کے لیے فی سبیل للہ اسکول بلوا لیتے تھے۔ کیسا درد دل رکھنے والے اور خلوص سے بھرے ہوئے اساتذہ ہوتے تھے وہ بھی۔ اپنے شاگردوں کو اپنے بیٹوں کی طرح اصلی روحانی باپ بن کر تعلیم و تربیت دیتے تھے۔ تب بھی مارچ میں ہی پیپر ہوتے تھے، سارا دن گراسی لان میں بیٹھ کر مزیدار دھوپ میں اور رات کو ایک مخصوص کمرے میں رضائیوں میں گھس کر "ہلارے لے لے کر” پڑھنا، نمازوں کے اوقات میں نمازوں کی پابندی، کھانے پینے کے اوقات میں اسکول کے بھاء شیدے کے ہاتھوں کا بنا ہوا سوادی کھانا کھانا، چند چہیتے لڑکوں نے ماشٹر جی کا حقہ تازہ کر کے رکھنا۔۔۔ اور صبح ککڑ کی پہلی بانگ کے ساتھ ہی ماسٹر جی نے سب لڑکوں کو رضائیوں سے چک چک مارنا، جو ذرا اڑی پھڑی کرتا اس کے اوپر رات کا باہر پڑا یخ ٹھنڈا پانی ڈالنا اور اسکول کی پہلی ٹلی وجنے تک دو دو چیپٹر کو رٹے مار مار کر ہضم کر جانا۔ آخری پیپر دیتے ہی فوجیوں جیسے اس زندگی کا "دی اینڈ” ہوجانا اور پھر بوریا بستر اٹھا کر گھر لے آنا اور چار کُو دن (یہاں چار کُو دن کا مطلب پنجابی کے مہینہ دو مہینے سمجھا جائے) مامے ماسی کے پاس وانڈھے چلے جانا۔ خوب موجیں منانا۔۔۔ سیریں کرنا، نانیوں سے پیار بھری دیسی گھئو کی چُوریاں اور مامے مامیوں سے شرارتوں پر "کُٹ اور پھینٹی” کھانا اور پھر جب گھر آجانا تو امی ابے نے کام کروانے کی ساری اگلی پچھلی کسریں نکال دینا۔ کیا دن تھے وہ بھی۔۔۔

جن کے پیپر ذرا کجمور اور ماٹھے ہوئے ہوتے، ان کو جب بھی پوچھا جاتا۔۔۔ ہاں بھئی پرچے کیسے ہوئے تھے؟ تو انھوں نے سینہ تان کے کہنا۔۔۔ "گڈ کے آیا ساں جی” رزلٹ والے دن جو چنگے نمبروں سے پاس ہو جاتا، وہ گھر گھر لڈُُو اور پتاسے بانٹتا پھرتا اور جس کی سپلیاں آجاتیں، یا کوئی مکمل فیل ہو جاتا تو اس کی چھمکوں اور چپلیوں سے سیوا کی جاتی اور جو بھی چنگا چوکھا کھوایا پیایا ہوتا اس کا پائی پائی کا حساب دینا پڑتا- کئی روز تک گھر میں صفِ ماتم پچھی رہتی۔ ناکام ہونے والے شرم کے مارے مہینہ مہینہ گھر سے باہر نہ نکلتے۔ یوں سمجھ لیجیے کہ میٹرک کا امتحان عزت بزتی کا معاملہ سمجھا جاتا تھا اور جو فرسٹ ڈویژن میں میٹرک پاس کر جاتا ، اس کو سرخاب کے پر لگ جاتے، اس کی عزت اور شان میں اچھا خاصا اضافہ ہو جاتا، کسی بڑے شہر کے اچھے کالج میں اسے داخلہ مل جاتا، ہر پاسے اس کی بلے بلے ہوجاتی۔

۔۔۔ اور آج کل۔۔۔ میٹرک کے امتحان کو گھر کی مرغی دال برابر سمجھ لیا گیا ہے۔ پیپروں کا نام سنتے ہی اسٹوڈنٹوں کو چکر آنا شروع ہو جاتے ہیں۔ سِر اور ڈِھڈ میں پِیڑھیں اٹھنا شروع ہو جاتی ہیں۔ حالانکہ یہ سب چکر بازیاں ہوتی ہیں۔۔۔ اور جو دوسروں کو چکر دیتے ہیں، زندگی ان کو گھما گھما کے اور الٹا الٹا کے مار دیتی ہے۔ چند ایک کو چھوڑ کر کسی کو ذرا پروا نہیں ہوتی، ہر ٹائیم فل انجوائے ہو رہا ہوتا ہے، پیپر کے دنوں میں طلبہ کو بھوک بھی زیادہ لگتی ہے اور نیند بھی زیادہ آتی ہے۔ ٹی وی دیکھے بغیر تو ان کی قبض ہی نہیں ٹوٹتی، ان دنوں پی ایس ایل کے میچ دیکھنا تو وہ فرض مؤکدہ سمجھتے ہیں۔ فیس بک اور وٹس ایپ پر اسٹیٹس اپ ڈیٹ نہ ہو تو طلبہ خود کو اپ ٹو ڈیٹ محسوس نہیں کرتے۔ امپارٹینٹ کویشچنز اور گیسّ پیپرز فارورڈ کیے اور کروائے جاتے ہیں جیسے یہ بورڈ والوں نے ہی لیک کروائے ہوں۔ ہر کسی سے پاس ہونے کی دعائیں منگوائی جاتی ہیں۔ پیروں فقیروں سے ٹُونے ٹوٹکے کروائے جاتے ہیں۔۔۔ لیکن۔۔۔

بھولے بادشاہو۔۔۔! اگر صرف دعاؤں اور ٹوٹکوں سے تمام طلبہ پاس ہو رہے ہوتے تو آج پاکستان کی شرح خواندگی دو سو فیصد سے زائد ہونی تھی۔

دعاؤں کے ساتھ ساتھ امتحانات میں اچھے نمبر لینے اور اعلا کامیابی کے کچھ خاص "انگریڈیئنٹس” ہوتے ہیں۔ وہ کیا کیا اور کون کون سے ہیں۔۔۔؟؟؟ بس ذرا صبر کا دامن پکڑے رکھیے۔۔۔ جلد ہی لگ پتا جائے گا۔

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

خالد عنبر بیزار سب کا ہے…شہزاد حسین بھٹی

خالد عنبر بیزار سب کا ہے شہزاد حسین بھٹی خالد عنبر بیزار ۔اس بے حَس، …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے