سر ورق / افسانہ / "روزگار "…روما رضوی

"روزگار "…روما رضوی

"روزگار "

روما رضوی

 میں ایک نرس ہوں. جس کو اب نئے زمانے والے ہیلپر یا اٹینڈینٹ جیسے نام دیتے ہیں ..یوں تو میری تعلیم بھی واجبی ہی ہے لیکن تجربے نے اس عیب کو قدرے مات دے دی ہے .. .. میں اس شعبہ میں تربیت یافتہ تو نہیں لیکن حالات نے یہ سب کرنے پہ مجبور کردیا ..پہلی دفعہ اپنے شوہر کو ٹیکہ لگایا جو صرف عضلات میں لگتا تھا …زندگی بچانی مقصود تھی اور اللہ نے مجھ پر رحم کیا.. بس اسی طرح جب ڈاکٹر کے پاس اسے لے جانے کے پیسے نہ ہوتے تو اکثر اس کے زخم خود ہی صاف کرتی مرہم پٹی کرتی یہاں تک کہ اس کے زخم بھرنے لگے اور میری دعاوں اور کچھ ناتجربے کار علاج معالجہ سے وہ دوبارہ کام کرنے قابل ہوگیا… ہمارے چھ بچے ہیں …بڑی دو بچیوں کی شادی کم عمری میں ہی کردی تھی داماد بھی کم عمر تھے عرصے تک بیکار رہے اور بیویوں کو پھر میکے بھیج دیا اب چھ بچوں کے بجائے میرے گھر میں نو بچے ہیں تین بیٹیوں کے ..اور چھ اپنے تو تھے ہی.. تو میں یہ بتا رہی تھی کہ میری نرسنگ کی شہرت میاں کے دوستوں سے ہوتی آس پڑوس کے لوگوں میں بھی پہنچ گئ … گھر کے افراد زیادہ ہوچکے تھے اور آمدنی وہ ہی ایک فرد کی کمائی ..جس سے پیٹ بھر لو تو پہننے کو کپڑا نصیب نہ ہو… کھانے والے بڑھ گئے تو مجھے بھی کام کی ضرورت پڑ گئ تھی .. آس پڑوس میں رہنے والی میری سہیلیاں جہاں خود کام کرتی ہیں وہ سب ہی بہت صاحبء حثیت لوگ ہیں.. میں کام کی تلاش کرتی رہی مرضی کا کوئی کام نہیں ملا .. تھک ہار کہ ایک خاندان جس میں معلوم ہوا کہ انہیں اپنی ماں جی کے لئےجو بہت بیمار تھیں ..کی تیمارداری و دیکھ بھال کے لئے نرس کی ضرورت ھے بہت منت و سفارش پر وہاں مجھے رکھ لیا گیا .. وہاں رہتے ہوئے پتہ چلا کہ ہسپتال سے آنے والی نرس نے ان سے روزانہ چند گھنٹوں کے پچیس ہزار روپے مانگے تھے ..اور میں پندرہ ہزار میں دن رات رہنے پہ رضامند تھی.. مجھے کام کی ضرورت تھی اور مجھ یہ خاصے پیسے لگے …. بہت مالدار و بیوہ ماں جی اپنے ایک بیٹے اور بیٹی کے ساتھ محل جیسے بڑے گھر میں رہتی تھیں.. پچاسی سالہ ماں جی کی نظر بہت کمزور تھی اور وہ ضعیفی کے اس حصہ میں تھیں کہ جب انہیں ہردم مدد کی ضرورت ہوتی ہے.. غسل کرنا ..رفع حاجت.. دوا دینے کی پابندی سب میرے ذمہ تھی کبھی کبھی انسولین کا ٹیکہ بھی لگا دیتی ..ماں جی ہر دم خاموش پڑی رہتیں ..گھر کا سب سے سنسان اندھیرا حصہ ان کا کمرہ تھا . بس کسی کسی دن ان کا کوئی بچہ چکر لگا جاتا تھا شروع میں تو وہ بات کرتیں جواب بھی دیتی تھیں پھر آہستہ آہستہ اشاروں نے گفتگو کی جگہ لے لی ..ہاں یا نہیں میں صرف گردن کی جنبش ہی نظرآتی .. کھانا پینا بھی واجبی سا تھا ..میں اپنی طرف سے ان کا پورا خیال رکھتی لیکن ماں جی زندگی سے دن بہ دن دور ہوتی چلی جاریی تھیں .. جب وہ رات بھر جاگتیں تو کچھ اپنے آپ سے ہی کہے جاتیں… جانے کن زمینوں اور زیورات کے قصے تھے ..کبھی اپنے بچپن کی بات اور کبھی لڑکپن کی .. لیکن دن نکلتے ہی گھور سناٹا.. اکثر آنکھیں کھول کے مجھے دیکھتیں دھیرے سے پوچھتیں "کوئی آیا”…میں کہتی "نہیں” .. تو تھکن سے ان کی آنکھیں بند ہوجاتیں…پپوٹوں کی جنبش سے ایسا لگتا کہ وہ جاگ رہی ہیں لیکن جسم کی حرکت مفقود ہوتی.. کئی دنوں بعد اگر کوئی آ بھی جاتا تو اب وہ بھی اس سے بات نہ کرتیں ..وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ میں نے ان کے بچوں میں ایک تبدیلی یہی دیکھی کہ ہر ایک اس طرح انہیں دیکھتا جیسے انکی زندگی کے عرصے کا تعین کررہا ہو.. مجھ سے صحت کے بارے میں پوچھتے ..اور جلد ہی وہاں سے غائب . ماں جی کے بڑے بیٹے بڑے بھیا پہلی دفعہ جب ان سے ملنے گھر آئے تو کچھ زیادہ دیر بیٹھے مجھے لگا کہ یہ اپنی ماں جی کو سب اولادوں سے زیادہ چاہتے ہیں ..میں نے انکو بتایا کہ ماں جی دن بھر سوتی ہیں پر رات کو کافی ہوش میں بولتی ہیں اپنے بچپن و لڑکپن کے قصے کہتی ہیں.. بھیا نے دلچسپی سے پوچھا..” اور…؟” "بھیا جی!! کچھ زیور و زمینوں کا تذکرہ بھی کرتیں ہیں ..جیسے کہیں قریب رکھ کہ بھول گئیں ہوں..” بھیا جی نے حیرت سے ماں جی کا ہاتھ پکڑ لیا …”اماں اماں سو رہی ہیں کیا؟” وہ مسکرا کہ آنکھ جھپک گئیں اور لگا کہ پھر غافل ہوگئیں.. "تم اس بات کا کسی اور سے تذکرہ نہ کرنا” بھیا جی نے پانچ سو روپے مجھے دے کر کہا.. "میں آتا رھوں گا..” اور پھر بھیا روز آنے لگے اماں کے ہاتھ پاوں دباتے اور کبھی کبھی میرے لئے بھی کچھ مزے کی چیز لےآتے .. بھیا کے آنے سے ماں جی میں خوشگوار تبدیلی آگئ تھی وہ دن میں بھی کبھی کبھی جاگتیں. .مجھے مسکرا کر دیکھتیں پھر آنکھیں بند کرلیتں .. میری باجی ..ماں جی کی بڑی بیٹی نے ایک دن حیرت سے پوچھا ..”کیا بڑے بھیا روز آتے ہیں ؟ ” اب ان کو بھی مجھے سچ بتانا ہی پڑا ..ماں جی کی زمینوں اور زیور کے قصے ….جی!! بڑی باجی کا بھی تو حق تھا نہ پورا پورا ان زمینوں اور زیورات پر …اب باجی ماں جی کے سر کی روز مالش کرتیں خود نہلاتیں …اور ان سے کوئی جواب آئے یا نہ آئے دن میں کئ دفعہ باتیں کرتیں … اچھی بات یہ ہوئی کہ اب ماں جی کی چھوٹی بیٹی اور داماد بھی آتے جو انکی صحت اچھی ہوتی دیکھ کر خوش تھے .. ان کو بھی بڑے بہن و بھائی کی یہ تبدیلی عجیب اور خوشگوار لگی تھی ..میں نے چپکے سے کچھ ان کو بھی بتا ہی دیا …میں ماں جی کی اولاد کے ساتھ بے ایمان نہیں ہوں… اب چھوٹی باجی ہر چھٹی پہ گھر آجاتیں …ماں جی کا رنگ روپ نکھرنے لگا تھا…اتنی توجہ اور پیار سے..میں بھی خوش تھی..کہ سب طرف سے تنخواہ کے علاوہ انعام و اکرام سے نوازی جاتی ہوں.. کل رات جانے کس پہر ماں جی دنیا کو الوداع کہہ گئیں لیکن ان کے چہرے کی سرخی اور جسم کی نرمی انکے دنیا سے خوش و خرم جانے کی علامت ہے.. جانے وہ زیور و زمیں ان کے پاس زندگی کے کس حصے میں رہے ہوں گے…لیکن ماں جی کی آسودہ موت نے مجھے بھی راحت عطا کی… اب میری نوکری نہیں رہی..میں پھر کسی ایسے گھر کی تلاش میں ہوں جہاں کوئی ماں جی گھر کے کسی سنسان کونے میں اولاد کی توجہ کی منتظر ہوں

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

دو بوری عزت .. ابصار فاطمہ،

دو بوری عزت ابصار فاطمہ،سکھر وہ اپنی پانچ چھ بکریوں کو لیے گھومتی گھامتی گا …

ایک تبصرہ

  1. دلچسپ تہہ دار اور پختہ افسانہ ہے . سادہ اسلوب میں معاشرے کا بڑا دکھ خوب صورتی سے مصور کیا ہے . تہہ در تہہ معاشرے پر کی جانے والی چوٹیں سوچتے رہنے پر مجبور کرتی ہیں یہی افسانے کی کامیابی ہے .

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے