سر ورق / افسانہ / ” مردہ،  گورکن اور قبرستان۔ خالد شیخ طاہری۔                           

” مردہ،  گورکن اور قبرستان۔ خالد شیخ طاہری۔                           

” مردہ،  گورکن اور قبرستان۔

خالد شیخ طاہری۔

اگرچہ رات پوری طرح بھیگی نہیں تھی۔ صرف دس ہی بجے تھے۔ لیکن محفل کی تیاریاں شروع ہو چکی تھیں. یہ برسوں کا معمول تھا جو اسی طرح چلا آ رہا تھا۔ طبلے کی تھاپ کے ساتھ وقفے وقفے سے گونجتی گھنگھرو کی آواز کانوں کو بھلی لگ رہی تھیں۔

کوٹھے کے صحن میں  تخت پر مخملی گاؤ تکیے سے ٹیک لگائے نسیم بائی نیم استراحت تھیں۔ چھم چھم کرتی آوازیں اکثر نسیم بائی کو کوٹھے سے ماضی کے دریچوں سے جھانکنے پر مجبور کر دیا کرتی تھیں۔

آج بھی وہ آنکھیں بند کیے اپنے ماضی میں گم تھیں۔ایک وقت تھا شہر بھر میں نسیم بانو کے حسن کا ڈنکا بجا کرتا تھا۔ نسیم بانو کے پیروں کی جنبش سے نکلنے والی گھنگھروؤں کی آواز کی شہرت آس پاس کے شہروں میں بھی پہنچ چکی تھی، جو تعریف سنتا کچے دھاگے سے بندھا چلا آتا۔ نسیم بانو کی پُرسوز آواز، حسن و جمال. دلکش ادائیں اور چھریرے بدن اعضاء کی شاعری کرتا رقص، دیکھنے والے پر ایسا سحر پھونکتا۔وہ وہیں دل تھام کر رہ جاتا، پھر جو کچھ  جیب میں ہوتا نسیم بانو کے قدموں میں نچھاور کرتا اور آستین جھاڑتا ہوا اپنی راہ لیتا۔

نسیم بانو نے جب کوٹھے میں قدم رکھا، وہ چھلے میں تھیں۔ گھر سے بھاگ کر شادی کی۔ شہر آ کر محبوب سارا اثاثہ، جو گھر سے چرا کر لائی تھیں، لے کر ایسا غائب ہوا آج تک پتہ نہیں چلا۔ پیٹ میں محبت کی نشانی لے کر دینے والے کا انتظار کرتی رہ گئیں۔ حقوق نسواں کی فلاحی تنظیم نے انہیں اپنے تحفظ گھر میں پناہ دی۔چھ ماہ بعد جب مردہ بچے کو جنم دیا تو نیم پاگل سی ہو کر خود سے ہی باتیں کرنے لگیں ۔کبھی زور دار قہقہے لگاتیں کبھی رونے بیٹھیں تو روتی ہی چلی جاتیں۔ تحفظ گھر کا منیجر ایک معقول پسند شخص تھا۔ اس کے سامنے ایک ہیرا مٹی میں مل رہا تھا، کیسے برداشت کرتا۔ فوراً تصویر کے ساتھ تفصیل امینہ بائی کو روانہ کردی۔ پھر مخصوص طریقہ کار کے تحت نسیم بانو کا علاج انسانیت کا درد رکھنے والے ایک شخص نے اپنے زمہ لے لیا۔ تحفظ گھر کو ڈونیشن کی شکل میں معقول رقم مل گئی تو انہوں نے فوراً اجازت دے دی۔ اس طرح بدلی ہوئی نقاہت بھری چال، سر پر دوپٹہ بندھی مفلوک الحال و غائب دماغ نسیم بانو کوٹھے پر پہنچ گئیں۔ مناسب علاج، غذائیت سے بھرپور طعام اور  دیکھ بھال نے چھ ماہ میں ہی نسیم بانو پر ایک بار پھر وہی جوبن گلاب کی مانند کھل گیا۔ جسے دیکھ کر گاؤں کے لونڈے ٹھنڈی آہیں بھرتے اور شادی شدہ حسرت سے دیکھتے تھے۔ جب امینہ بائی نے مرضی پوچھی خاموشی سے سر جھکا دیا۔ کہاں جاتیں  گھر جاتیں تو مار دی جاتیں لہذا کوٹھے کو ہی گھر مان لیا۔ جب تین ماہ کی ٹریننگ کے بعد نسیم بانو نے وہ جلوے دیکھائے کہ امینہ بائی لگی کوئی رقم ایک ماہ میں ہی وصول ہو گئی۔ وہ دن اور آج کا دن امینہ بائی کا کوٹھا شہر کا مشہور کوٹھا بن گیا۔ دو سال کے مختصر عرصے میں نسیم بانو نے امنیہ بائی پر دھن کی ایسی بارش برسی کہ پر ہی نکل آئے مگر وہ زیادہ اڑ نا سکی۔ روڈ ایکسیڈنٹ میں ناگہانی موت نے سارے پر نوچ کر گناہوں کی پوٹلی تھامائی اور عدم کی راہ پر روانہ کر دیا۔ اب کوٹھے کے سیاہ و سفید کی مالک نسیم بانو تھیں۔ چھوٹے موٹے گاہکوں کو دروازے سے ہی لوٹا دیا جاتا۔ روز ایک ہی محفل ہوتی اور خوب جم کے ہوتی،  شہر کے بڑے بڑے امراء و شرافاء شریک ہوتے اور خوب داد و دہیش دیتے۔ رات کے آخری پہر جب محفل ختم ہوتی نسیم بانو نوٹوں کے ڈھیر پر گھنگھرو اتارتیں اور قیمتی تحائف اُٹھا کر شام تک کے لیے سونے اپنے کمرے میں چلی جاتیں۔ ہر دن عید اور ہر شب شب برات بن گئی۔  نسیم بانو کے پاس اتنی دولت اکھٹی ہو چکی تھی اگر ساری زندگی بھی بیٹھ کر کھاتی پھر بھی کم نا ہوتی۔ جب بالوں میں چاندی ،چہرے پر جھریاں اور ر کے بل ڈھیلے ہوئے تو سمجھدار دیکھائی اور گاؤ تکیے سے ٹیک لگا لیا۔ اب محنت کوئی اور کرتا یہ نوٹ گنتیں۔

اچانک موبائل کی مدھر رنگ ٹون بجنے پر چونک گئیں۔ ” یاد ماضی عذاب ہے یا رب ” سوچتے ہوئی کتاب زیست کو بند کیا اور ہاتھ گھوما کر تکیے کے نیچے سے قیمتی موبائل سیٹ نکالا۔ کال کرنے والے کا نام دیکھ کر معنی خیز انداز میں مسکرانے لگیں۔ اسکرین پر تھرتھراتے ہوئے ہرے رنگ کے تیر کو انگوٹھے سے حرکت دی اور ایک ادا سے کانوں سے لگا لیا۔

” ارے ملک صاحب..  آج کیسے یاد آگئی ہماری… "

دوسری جانب سے ناجانے کیا کہا گیا۔ جواب میں نسیم بائی کے قہقہے سے کوٹھا گونج اُٹھا۔

” نہیں جناب..   اب ایسا بھی نہیں ہے کہ آپ آئیں اور ہم اسپیشل پیش نا کریں۔ آپ آ جائیے… مایوس نہیں ہوں گے..یہ  نسیم بائی کا کوٹھا ہے.. ” یہ کہہ کر دوسری جانب کہی جانے والی بات غور سے سننے لگیں۔

” ارے شیخ صاحب کو کون نہیں جانتا…  پورے شہر میں شہرہ ہے جناب کا…  پہلی بار آ رہے ہیں کوئی بات نہیں..  اگر ایک بار آگئے،  دیکھیے گا بار بار آئیں گے.. ہماری طرف سے کوئی شکایت نہیں ہو گی. نسیم کا وعدہ ہے آپ سے.. "

دوسری طرف کی بات سن کر نسیم بائی کے چہرے پر مایوسی کے تاثرات ابھار آئے۔

” جناب… آپ بھی تشریف لے آتے، محفل کا رنگ دوبالا ہو جاتا۔ خیر۔” اگلی بات سن کر ان کے چہرے پر سختی عود کر آ گئی۔

” ملک صاحب ہم کوٹھوں والوں کے سینے بہت کشادہ ہیں. آپ بے فکر رہیں۔”

پھر الوداعی سلام کے بعد کال کاٹ دی ۔ حقارت سے موبائل کو گھورا…۔اور سامنے پھینک دیا۔

” بخشو….!  ” انہوں نے آواز لگائی تو ایک کبڑا شخص سائیڈ کے دروازے سے نکل کر ہاتھ جوڑ کر کھڑا ہو گیا۔ ” حکم مالکن.. "

” جا…!  شبنم کو بیھج….” لہجہ کرخت تھا۔

” جو حکم مالکن۔”

بخشو جتنی تیزی سے آیا تھا اتنی ہی تیزی سے واپس لوٹ گیا۔

” جی میڈم آپ نے بلوایا۔” ایک سریلی آواز گونجی۔

” سن..!  شیخ فخروالدین آرہے ہیں۔ شہر کی معزز ترین ہستی ہیں۔ ملک صاحب کے جاننے والے ہیں.. انہیں تو نے سنبھالنا ہے آج کی رات…. شکایت نہیں ملنی چاہیئے۔” نسیم بائی مراٹھی پان کی گلوری منہ میں رکھتے ہوئے بولیں.

” جی میڈم… میں خیال رکھوں گی۔” شبنم یہ کہہ کر وہیں کھڑی رہی۔ کیونکہ اسے پتا تھا، نسیم بائی کی بات مکمل نہیں ہوئی۔ اب وہ جملہ باقی ہے جو ہر اس معزز گاہک کے لیے کہتی تھیں جو پہلی بار آتا ہے۔

” قبر کچھ گہری کھودنی ہے..  شیخ صاحب معزز ہونے کے ساتھ ساتھ حاجی بھی ہیں۔ "

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

جامین۔۔۔شکیل احمد چوہان

جامین شکیل احمد چوہان کئی سال پہلے کی بات ہے، شکرگڑھ کے نواحی گاو¿ں سے …

ایک تبصرہ

  1. Avatar

    بھت خوب خالد صاحب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے