سر ورق / مضامین / زندگی آخر تم کیا ہو ….شاہد حسرت

زندگی آخر تم کیا ہو ….شاہد حسرت

زندگی آخر تم کیا ہو

شاہد حسرت

زندگی اور جینے پر تبصرہ زندگی جو ایک حسین خواب ہے جہاں خوشیوں کے میلے ہیں جہاں ہر طرف بہار ہی بھار ہوتی ہے- جہاں چاروں طرف سبزہ ہی سبزہ ہے- جہاں انسان سکون کی تلاش کا یک مسافر ہے- جہاں مقاصد کو حقیقت کی شکل دینے پر لوگوں کی کوشش جاری رہتی ہے- جہاں ہر تارہخی میں ڈوبا شخص روشنی کا پیروکار ہے- جہاں ہر شخص دکھوں کا بوجھ اٹھا کہ تھک چکا ہے- جہاں ہر کسی کی زبان پر گلے شکوے رہتے ہیں- جہاں ہر کوئی حالات کے طوفان سے چور ہو چکا ہے- جہاں ہر شخص بے اعتبار زندگی کا متلاشی ہے- جہاں کوئی بھی اعتماد کے قابل نہیں – جہاں مطلب کے ساے تلے زندگی گزار دی جاتی ہے جہاں انسانی ضمیر کا کوی وجود نہیں رہتا جہاں انسانی ہمدردی کی کوی قدر نہیں ہوتی جہاں انسانی جزبات کا مزاق بنا دیا جاتا ہے- جہاں انسان کی قدر اس کے روے سے نہیں بلکہ اسکے روپ دیکھ کر کی جاتی ہے-جہاں سچی بات کہنے والا زلیل ہو جاتا ہے- جہاں جھوٹ زندگی کا حصہ سمجھا جاتا ہے- جہاں رشتوں کی قدر سکھی نہیں جاتی جہاں رشتے بے نام سی زندگی گزارتے ہیں- جہاں یمانداری ایک گالی سمجھا جاتا ہے۔جہاں بے ایمانوں کا سر فخر سے اونچھا ہو جاتا ہے- جہاں غریبی زندگی لعنت ملامت میں گزر جاتی ہے- امیر لوگوں کے دل غرور سے مردہ ہو جاتے ہیں- جہاں بے رحم کو بارشہ اور رحمدل کو حیوان اور جاھل سمجھا جاتا ہے-

اس مطلبی زندگی میں انسان جائے تو کہاں جائے- کبھی کبھی یوں لگتا ہے کہ زندگی میں زندہ رہنے کی ساری امیدیں کھو چکی ہیں- پھر ایک بات یاد آتی ہے کہ جو بھی ہو کچھ بھی ہو امید کا دامن ہاتھ سے نا چوٹے کیونکہ کھتے ہیں یہ زندگی امید سے ہی قائم ہے- نا امیدی کا مطلب بے رحم دنیاں سے ہار جانا- نہ جانے کیوں لوگ دکھوں کا سامنہ نہیں کر کہ اپنی جان گنوا دیتے ہیں- لو مان لیا کہ دکھلو مان لیا کہ دکھ حد سے زیادہ ہیں لیکن اگر ہم اپنی زندگی میں ہر چھوٹی نعمت کا شکر ادا کریں تو شہد دکھ ہمارا پیچھا چھوڈ دے- کھبی کھبی شکییں رہتی ہین کہ کیوں ہمیں زندگی پھلے سمجھ نہیں آئی شید یہ دکھ ہم کو جیلنا نہیں پڑتا- اسلے کہتے ہیں کہ وقت سے پہلے اور قسمت سے زیادہ کچھ نہیں ملتا-

زندگی کے وقت اور حالات انسان کو زدگی کے مشکلات کا سامنا کرنے کی ہمت دیتے ہیں- شید اس فانی دنیاں کو لوگ سمجھنے کی کوشش نہیں کرتے یا کر نہیں پاتے جو آج کل زہنی تفکرات کا شکار رہتے ہیں- ہمارے ماں باپ کی زمہ داریوں میں سے اہک زمہ داری یہ بھی ہوتی ہے کہ بچوں کو حالات کا سامنہ کرنے کی تیاری دیں- ہماری زندگی اس وقت زندگی ہے جب اس میں انسانیت اور زندہ دلی باقی ہے- بنا احساسات کے جانور بھی زندہ رہتے ہیں- اس لیے کہتے ہیں نہ کہ زندہ رہنے کیلیے سو سال جینا ضروری نہیں بلکہ یک دن ایسا کام کرو جس کیلیے دنیاں تمہیں سو سال تک یاد رکھے-اس کے لۓ ہمیں کئ مسالیں ملیں گیں جنھوں نے با مقصد زندگی گزاری ہے جیسا کہ نیلسن منڈیلا۔زندگی میں ہمہیں چاہئے کہ انسانیت کو فروغ دیں- اور اچھا انسان بن کر ہم اپنےاس نا ہل دنیاں کو خوبصورت بنہیں دور کی تلاش کے بدلے اپنے آپ کو روشنی مہیں لانے کی کوشش کریں دو دن کی زندگی ہے اسے نفرت اور حسد سے نہیں بلکہ محبت سے بھر دیں-

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

ننکانہ سے کرتار پور تک۔۔۔امجد جاوید

  ننکانہ سے کرتار پور تک ਨਨਕਾਣਾ ਤੋਂ ਕਰਤਾਰਪੁਰ ਤੱਕ ਅਮਜਦ ਜਾਵੇਦ امجد جاوید اول …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے