سر ورق / سفر نامہ / سفر نامہ بھارت۔۔۔حسن عباسی

سفر نامہ بھارت۔۔۔حسن عباسی

سفر نامہ بھارت

حسن عباسی

            گرمی اُس کے ہاتھوں کی

آج کیمپ میں ہمارا آخری دن تھا۔ صبح پو پھوٹنے سے پہلے اس کہکشاں نے بکھر جانا تھا۔

یوں لگتا تھا جیسے سب نے دِل ہی دِل میں تہیہ کر لیا تھا کہ وہ آج کے دن کو یادگار بنا دیں گے۔

ستیہ جی کے حُکم کے مطابق تمام شرکاءنے سب سے پہلے گُردوارے جانا تھا۔ اس کے لےے اُنھوں نے علی الصبح ٹریکٹر ٹرالیاں منگوا لیں تھیں۔

ٹریکٹر ٹرالیاں؟؟؟

ایک تو شرکاءکی اتنی بڑی تعداد کے لےے گاڑیوں کا انتظام کرنا مشکل تھا دوسرا راستہ کچا تھا اس لےے ٹریکٹر ٹرالی سے بہتر آپشن اورکیا ہو سکتا تھا۔

مردانہ اور زنانہ ٹرالیاں علیٰحدہ نہ تھیں۔ اس لےے اس سفر کی صعوبتیں برداشت کرنے کے لےے سب ہی بخوشی رضامند ہو گئے۔ سب ہنسی خوشی سوار ہونے لگے۔ پرساد اپنی اسٹوڈنٹس کے ساتھ ٹرالی میں بیٹھا تھا۔ اُس نے مجھے دیکھا تو فوراً بُلا لیا۔ اُس نے ڈفلی ہاتھ میں تھامی ہوئی تھی۔

راستہ بھر گانے کا پروگرام بنا رکھا تھا۔

قافلہ اپنی منزل کی طرف روانہ ہوا تو ہر ٹرالی سے گانوں کی آوازیں آنے لگیں۔ گانے بجانے کا انتظام سب نے ہی کیا ہوا تھا۔ لڑکے لڑکیاں مِل کے گا رہے تھے۔ اُنھوں نے ٹولیاں بنا لیں تھیں۔

راستہ بہت خراب تھا۔

اتنے دھکّے لگے کہ سب ”فاصلے ختم ہو گئے“۔

سامنے گُردوارہ دیکھ کر جان میں جان آئی۔ نیچے اُترے تو پتہ چلا صرف پسلیاں ہی نہیں دِل بھی اپنی جگہ سے ہِلے ہوئے ہیں۔

گردوارے سے باہر بہت سے بتوں نے ہمارا استقبال کیا۔

یہ پتھر کے بنے ہوئے مجسمے ہیں جو ہندوستانی حکومت کی ریشہ دوانیوں کا مُنہ بولتا ثبوت ہیں۔ ان مجسموں کے ذریعے سکھوں پر مسلمانوں کے مظالم کو Capture کیا گیا ہے۔

کہیں مسلمان بادشاہ کے حُکم پر ننھے سِکھ گرو کی مسلمان سپاہی کھوپڑی اُتار رہے ہیں۔

کہیں سِکھوں کے سر قلم کیے جا رہے ہیں۔

یہ سب مناظر بہت دِل دِہلانے والے تھے اور میں ان کو دیکھ کر اس سوچ میں گُم تھا کہ آخر ان سب کا مقصد کیا ہے۔ اور ہمیں یہاں کیوں لایا گیا ہے؟

کہیں اس کے پیچھے ہندو ذہنیت تو کارفرما نہیں؟

میرے خدشات بڑھتے جا رہے تھے۔

تقسیم کے وقت ہندوﺅں نے جس چالاکی اور مکاری سے مسلمانوں اور سکھوں کو آپس میں لڑایا تھا یہ مجسمے بھی اُسی سوچ کی ایک کڑی تھے۔ ان کا مقصد اس کے علاوہ اور کیا تھا کہ مسلمان اور سکھ کبھی ایک دوسرے کے قریب نہ آئیں۔

مجھے حیرانی اس بات پر ہو رہی تھی کہ سکھوں نے گفتگو کے دوران بارہا اس دُکھ کا اظہار کیا تھا کہ تقسیم کے وقت ہندوﺅں کی سازش کی وجہ سے ہم نے مسلمانوں کا قتلِ عام کیا جس پر ہمارے سر شرم سے جھکے ہوئے ہیں اگر وہ ہندو سازش کو سمجھ چُکے تھے تو اُنھوں نے ابھی تک یہ نفرت کی یادگاریں گِرائیں کیوں نہیں تھیں۔ اگر ہم بھی جواباً ننکانہ صاحب میں مہاراجہ رنجیت سنگھ کے ظلم و بربریت کی یاد گاریں تعمیر کر دیں تو اس کا کیا نتیجہ نکلے گا۔

مجھے یہاں آکر بہت دُکھ ہوا تھا۔ مَیں ہی نہیں سب اس پر معترض تھے۔ ستیہ جی سمیت کسی کے پاس ہمارے سوالوں کا کوئی جواب نہیں تھا۔

گُردوارے میں داخل ہونے سے پہلے بہتے ہوئے پانی سے گذرنا تھا تاکہ پاﺅں خودبخود دھل جائیں۔

مجھے تنہا پانی میں اُترنا اچھا نہیں لگتا چاہے وہ کتنا ہی کم کیوں نہ ہو۔ جب تک کوئی میرا ہاتھ نہ تھام لے میں پانی میں پاﺅں نہیں رکھ سکتا۔ میں نے جوتے اُتار کر اِدھر اُدھر دیکھا تو دور سے پنکی سائیکہ آتی دکھائی دیں۔ وہ سفید ساڑھی میں ملبوس کسی پری کی طرح لگ رہی تھیں۔

سانولی پری!

وہ قریب آئی تو اُس نے اپنا ہاتھ خودبخود آگے بڑھا دیا شاید اُسے بھی پانی سے ڈر لگتا تھا۔ اُس نے میرا ہاتھ تھام لیا مگر اتنی آہستگی سے شاید جتنی آہستگی سے پانی بہہ رہا تھا۔

پانی میں پاﺅں رکھا تو اتنا ٹھنڈا کہ پنکی کے ہاتھوں کی گرمی کا احساس ہونے لگا مجھے رسا صاحب کے شعر یاد آرہے تھے۔

گرمی اُس کے ہاتھوں کی

چشمہ ٹھنڈے پانی کا

پہلی آندھی موسم کی

پہلا سال جوانی کا

ہماری جوانیوں کا پہلا سال نہ تھا اس لےے ہم نے پانی سے باہر پاﺅں رکھتے ہی ہاتھ چُھڑا لیے اور گردوارے کے صحن میں چلنے لگے۔ میں نے ٹھنڈے فرش پر چلتے ہوئے گردوارے کی طرف دیکھا تو دیکھتا ہی چلا گیا۔ عمارت بہت منقش اور دیدہ زیب تھی جیسا کہ ہمارے ہاں صوفیاءکے مزار ہوتے ہیں۔ اُس میں بالکل ویسی اپنائیت تھی۔

جگہیں بھی انسانوں کی طرح ہوتی ہیں۔

کچھ جگہیں ایسی ہوتی ہیں جن کے پاس آکر خوشی ہوتی ہے۔ اُنھیں دیکھ کر آنکھوں کو ٹھنڈک اور دِل کو قرار مِلتا ہے۔

جیسے برسوں پُرانا کوئی بچھڑا دوست مِل گیا ہو۔

کمرے، دیواریں، دروازے اور صحن اپنی موجودگی کا احساس دلاتے ہیں۔ خموشی کلام کرتی ہے۔ ہوائیں گیت گاتی ہیں۔ پیڑ جھومتے ہیں اور پتے تالیاں بجاتے ہیں۔

مجھے اچھی طرح یاد ہے جب میں خواجہ غلام فرید کے مزار پر پہلی بار گیا تھا تو یوں لگا تھا جیسے میں کسی غمخوار اور ہمدرد دوست کی بانہوں میں آگیا ہوں۔ وہاں سے واپس آنے کو جی نہیں چاہتا تھا۔ کُچھ دِل ہی جانتا ہے کہ میں کس دِل سے واپس آیا تھا۔

گُردوارے کے در و دیوار بھی مہربان دوست کی طرح لگ رہے تھے۔ میں دیوار سے لگ کر کافی دیر بیٹھا رہا۔

گُردوارے کے اندر بڑی بڑی پینٹنگز بنی ہوئیں تھیں۔ جس میں سکھ قوم کی بہادری اور دلیری دکھائی گئی تھی۔

کُچھ سکھ گرنتھ پڑھتے ہوئے اپنے اردگرد سے بالکل بے خبر تھے۔ ٹرالی میں جتنے دھکے لگے تھے اُتنی شدّت کے ساتھ بھوک بھی لگ رہی تھی۔ یہاں لنگر کا انتظام ہر وقت ہوتا ہے۔

دھکم پیل اور افراتفری کے بغیر۔

بڑا سا ہال کمرہ اور اُس میں چونے کی لکیریں۔

برتن اُٹھائیں۔

ہاتھ دھوئیں۔

اور لکیر پر لائن میں بیٹھ جائیں۔

خدمتگار آئیں گے اور پرشاد ڈال دیں گے۔

سکون سے پیو، اطمینان سے کھاﺅ۔

مگر جاتے جاتے برتن دھو کر رکھ جاﺅ۔

آنے والوں کو پریشانی نہ ہو۔

یہاں وقت بتانے کے لےے کچھ خاص نہ تھا پھر بھی دن مزے سے گذر گیا۔

”گرو جی کی کرامت تھی کیا؟“

شام کے سائے ڈھلنے لگے تھے۔

پرندوں کی طرح ہم بھی واپسی کی اُڑان بھر رہے تھے۔

وہی گانے، وہی تالیاں وہی ہلہ گلہ وہی موج مستی۔

اس بار بھی ٹرالی میں دھکّوں سے فاصلے ختم ہوتے گئے۔

اندھیرا اور گہرا ہوتا گیا۔

اے رب میں تیری پناہ مانگتا ہوں اندھیرے سے جب وہ چھا جائے۔

واپسی کا راستہ اس قدر جلدی طے ہو گیا کہ پتہ ہی نہیں چلا۔ میں اس راز کو آج تک سمجھ نہیں پایا۔

میں جب بھی کسی اجنبی راستے پر جاتا ہوں چاہے راستہ مختصر اور سفر خوبصورت ہو جاتے ہوئے وقت کا احساس تو ہوتا ہے مگر آتے ہوئے نہیں۔

شاید واپسی کا راستہ جلد طے ہوتا ہے۔

بچپن سے جوانی تک آنے کا احساس ہوتا ہے۔ جوانی سے کب بڑھاپے میں انسان چلا جاتا ہے اس کا احساس نہیں ہوتا۔

ڈھوڈیکے میں آج آخری شام تھی۔

مگر اتنی جوان کہ جواں دِل اور جواں ہو گئے تھے۔

آج کی شام۔

کوئی طے شدہ پروگرام نہ تھا۔

میوزیکل نائٹ تھی۔ لائٹس جل بجھ رہیں تھیں۔

صرف اور صرف بھنگڑا پروگرام تھا۔

آج سب کی باری تھی۔ لہٰذا سب لوگ، سب کچھ بھول کے اس لمحے میں جی رہے تھے جس میں صرف مستی تھی۔ دیوانگی تھی اور نشہ تھا۔

مہتہ اور میں اس بار بھی دور سے بیٹھ کر یہ تماشا دیکھ رہے تھے۔ شاید اُسے بھی میری طرح دیکھنا زیادہ اچھا لگتا تھا۔ مہتہ کا پہلا اور آخری شوق تصویریں کھینچنا تھا۔ وہ لگاتار تصویریں بنائے جا رہا تھا۔

اُدھر اسٹیج پر اب ایک نیا کھیل شروع ہو چُکا تھا۔

لڑکے لڑکیوں نے ایک دوسرے کے ہاتھ پکڑ لیے تھے۔

میوزک بھی فاسٹ ہو گیا تھا۔

لٹو کی طرح گھومتے ہوئے ایک دوسرے کو گرانا تھا۔

ہاتھ میں ہاتھ باہمی رضا مندی سے آئے تھے اور اس کے پیچھے گذشتہ سات دن کی رفاقت کار فرما تھی۔ ناکام عاشق ایک طرف منہ لٹکائے حسرت ویاس کی تصویر بنے دیکھ رہے تھے۔

مہتہ نے کیمرہ میری طرف فوکس کر کے ایک تصویر بنا لی شاید وہ مجھے بھی ناکام عاشق سمجھ رہا تھا اس لےے میرے چہرے کے تاثرات کیمرے کی آنکھ میں محفوظ کر لےے تھے۔

گھمانے اور گرانے والا کھیل بہت دلچسپ تھا۔ سب کا ہی ہنس ہنس کے بُرا حال ہو رہا تھا۔ لڑکے لڑکیوں کی نسبت زیادہ گر رہے تھے۔ یا تو جان بوجھ کر وہ ایسا کر رہے تھے یا پھر اُن کو چڑھی ہوئی تھی۔ مہتہ نے میری ایک اور تصویر بناتے ہوئے کہا:

”کلچر وطن اور مذہب سے بھی زیادہ مضبوط بندھن ہے“۔ دبئی میں پاکستانیوں کی عربیوں کی نسبت انڈین سے زیادہ دوستیاں ہیں۔ بلکہ دُنیا کے کسی ملک میں رہتے ہوئے ایک کلچر کے لوگ جلدی ایک دوسرے کے قریب آجاتے ہیں۔“

میں نے ایک بار پھر سب کو موج مستی میں دیکھا تو مہتہ کی بات میں صداقت نظر آئی۔

پھر اچانک پلّاوی آگئی اور اُس نے آتے ہی مہتہ کا ہاتھ پکڑ کر کہا۔

”آﺅ نہ بھیّا بڑا مزہ آئے گا“۔

پتہ نہیں مہتہ کے من میں کیا تھا اُس نے کہا:

”حسن کو لے جاﺅ“۔

پلّاوی نے پہلی بار میری طرف ہاتھ بڑھایا اور اپنے مخصوص انداز میں مُسکراتے ہوئے کہا:

”Come, Come“

میں پلّاوی کو دور سے دیکھنا چاہتا تھا۔ اُس سے ڈھیروں باتیں کرنا چاہتا تھا مگر اُس کا ہاتھ پکڑنا اورپھر اسٹیج پر جانا مجھے منظور نہیں تھا۔ یوں لگ رہا تھا کوئی چھوٹی خوشی مجھے بہت بڑا دُکھ دینے والی ہے میں ڈر گیا۔ میرے ماتھے پر پسینہ آگیا۔

میں نے بہت انکار کیا مگر

پلّاوی کا اصرار زیادہ خوبصورت تھا۔

مہتہ نے بھی اتنی بار کہا کہ میرا انکار خموشی میں بدل گیا۔

وہ میرا ہاتھ پکڑ کر اپنے ساتھ کھینچ لے گئی۔

مانگ لیتا ہے دِل و جان وہ ہنستے ہنستے

اور مرے پاس بہانہ بھی نہیں ہوتا ہے

میرے پاس کوئی عذر کوئی بہانہ نہ تھا۔

ہم بھی اب اوروں کی طرح ایک دوسرے کا ہاتھ پکڑ کر گھوم رہے تھے۔ میوزک اب پہلے سے بھی زیادہ فاسٹ ہو گیا تھا یا شاید مجھے ایسا لگ رہا تھا۔

ہاتھ چھڑانے کا واحد راستہ یہ تھا کہ میں پلّاوی کو گرا دوں۔ میں جلد از جلد اُس سے اپنا ہاتھ چھڑانا چاہتا تھا۔ مجھے بہت اذیت ہو رہی تھی۔ میں نے پلّاوی کو گرانے کی پوری کوشش کی مگر وہ جتنی نازک اندام نظر آتی تھی اُس سے کہیں زیادہ مضبوط نکلی۔

سب ہی لڑکیاں ایسی ہوتی ہیں۔ شکل سے جتنی معصوم اور بھولی بھالی لگتی ہیں اندر سے اُتنی چالاک اور تیز ہوتی ہیں۔ کیسے کیسے زندہ آدمیوں کو مار کے رکھ دیتی ہیں۔ وہ جتنی نازک اور کمزور نظر آتی ہیں اُس سے کہیں زیادہ مضبوط اور حوصلہ مند ہوتی ہیں۔

اچانک پلّاوی نے اپنا ہاتھ چُھڑا لیا اورمیں اسٹیج پر گرتا چلا گیا۔

میری بد حواسی اور چہرے کے تاثرات دیکھ کر اُس کا ہنس ہنس کے بُرا حال ہو رہا تھا۔ مجھے بھی چکر آرہے تھے زمین آسمان گھومتے دکھائی دے رہے تھے۔

سب آوازیں کہیں گُم ہو گئیں تھیں۔ کائنات میں صرف اور صرف پلّاوی کے قہقہے گونج رہے تھے۔

اس میدان میں بن پےئے گرنے والا شاید میں پہلا مردِ میدان تھا۔

خوبصورت لمحوں میں ایک خرابی ہے۔

پلک جھپکتے ہی گذر جاتے ہیں۔

پھر ہم عمر بھر اُن کے پیچھے بھاگتے رہتے ہیں وہ ہاتھ نہیں آتے۔

یہ رات بھی ایسے ہی گذر گئی۔

صبح ہوئی تو آنکھوں میں رات کا خمار ابھی باقی تھا۔

دِل میں خوبصورت یادوں کی جھالریں ابھی تک لہرا رہیں تھیں۔

بچھڑنے کی گھڑی سر پر آن پہنچی ہے۔

یہ سوچتے ہی دِل بجھ سا گیا۔

آج یہاں کے ایک ایک منظر کو میں آنکھوں میں محفوظ کر لینا چاہتا تھا بالکل مہتہ کے کیمرے کی طرح۔

فوٹوگرافر تصویریں لے کر آگیا۔ یہ گاﺅں کا فوٹو گرافر تھا۔ دن بھر اور رات گئے تک تقریبات کی تصویریں بناتا اور اگلے دن لے آتا۔ دیکھنے والوں کا جھمگٹا لگ جاتا ہر کوئی اپنی تصویر رقم دے کر لے لیتا۔ اکثر تصویروں پر کشمکش بھی ہوتی، بات زیادہ بڑھتی تو وہ ایک اورپرنٹ کا وعدہ کر کے ایک فریق کو مطمئن کر دیتا۔

مگر آج آخری دن تھا اور اُس کے وعدوں سے کوئی مطمئن ہونے والا نہ تھا۔ اوروں کے ساتھ میں بھی تصویریں دیکھنے میں مشغول تھا۔ میں جانتا تھا میری تصویر ہونے کے امکانات نہ ہونے کے برابر ہیں۔ پھر بھی میں ایک ایک تصویر کو دیکھ رہا تھا۔

پھر ایک تصویر نے مجھے چونکا دیا۔ فوٹو گرافر نے اُن لمحوں کو قید کر لیا جب میں گِرا ہوا تھا اور پلّاوی ہنس رہی تھی۔

میرے ہاتھ بڑھانے سے پہلے وہ تصویر کسی لڑکی نے اُچک لی۔ میرے مانگنے پر اُس نے صاف انکار کر دیا۔

میں نے اُسے سمجھانے کی بہت کوششں کی کہ یہ میرے لیے بہت اہم ہے۔

مگر اُس کی ضد تھی کہ یہ میری دوست پلّاوی کی تصویر ہے اور میں کسی صورت نہیں دوں گی میں نے خود کو بے بس محسوس کیا تو غصے میں اُس سے کہا:

”تم اور بنوا لو اُس کے ساتھ“۔

اُس نے بے نیازی سے کہا:

”وہ تو جا چکی ہے“۔

یہ سُن کر میں سب کُچھ بھول گیا یہ بھی کہ وہ تصویر میرے لےے کتنی اہم تھی۔ میں کچھ دیر تک بے سبب اسکول کے صحن، بر آمدے میں پھرتا رہا۔ سب شرکاءسامان اُٹھا اُٹھا کر اپنی اپنی گاڑیوں میں رکھ رہے تھے۔ سب کُچھ خواب سا لگ رہا تھا۔

دنیا خالی خالی سی ہو گئی تھی۔

کچھ شرکاءگلے ملتے ہوئے پھوٹ پھوٹ کے رو رہے تھے۔

میری آنکھیں اشکوں سے خالی تھیں۔

میں تھکے تھکے قدموں سے کمرے کی طرف لوٹ آیا اور سامان پیک کرنے لگا۔ سامان کیا تھا۔ یادیں ہی یادیں تھیں۔

باہر آیا تو وہی دلخراش منظر تھا۔ بچھڑنے والے ایک دوسرے کے گلے لگ کر رو رہے تھے۔ پرساد آیا اور مجھ سے لپٹ گیا۔ ہم جانتے تھے کہ اب دوبارہ کبھی نہیں مِل سکیں گے۔ اس لےے وہ جدا ہوا تو میں نے اُسے دوبارہ گلے لگا لیا۔

مجھے بچھڑتے وقت دُعا کرنا زیادہ اچھا لگتا ہے۔

آنسو پیئے جانا اور دُعا کےے جانا۔

سب سے پہلے میں نے پلّاوی کے لےے دُعا کی یہ فطری بات ہے جو زیادہ قریب ہو پہلے دِل اُس کے لےے دُعا کرتا ہے۔ میں نے دُعا کی کہ پلّاوی کو اُس کی محبت مِل جائے۔ اور اُس کی معصوم اداﺅں کو کسی کی نظر نہ لگے تاکہ کائنات کی خوبصورتی برقرار رہے۔ میں نے دُعا کی کہ مہتہ کا فوٹو گرافی کا شوق فزوں ہو اور اُس کا یہ فن بامِ عروج کو پہنچے۔ میں نے پرساد کے لےے دُعا کی کہ اُس کے اور اُس کی اسٹوڈنٹس کے ہاتھ پاﺅں سلامت رہیں۔ وہ تا دیر رقص سے لوگوں کے دلوں کو منورنجن بخشتے رہیں۔ میں نے ایزون کے لےے دُعا کی کہ وہ سنبھل کر چلنا سیکھ لے وہ مجھ پر اتنی بار گری تھی کہ مجھے اُس کے متعلق ڈر لگنے لگا تھا۔ میں نے ایزون کی ہنسی کی سلامتی کی دُعا بھی کی۔ اُس کی ہنسی کے دم سے ہی فضا مترنم رہی۔ دُعا میں اگر پتہ ہو کہ کس کے لےے کیا دُعا کرنی ہے تو پھر دِل مطمئن رہتا ہے۔ دُعا کرنے کا لطف بھی آتا ہے۔ دُعا دِل سے نکلتی ہے اور اثر بھی رکھتی ہے۔

اب ایک شخص کو محبت کی ضرورت ہے اور آپ اُس کے لےے دولت کی دُعا مانگتے رہیں تو میرے خیال میں یہ بد دُعا سے کم نہیں۔

میں نے سب شرکائ، پاکستان اور ہندوستان کی سلامتی کے لےے دُعا مانگی تو مجھے اُس فقیر کی بات یاد آگئی جو کہہ رہا تھا کُل عالم کی خیر کل عالم کا بھلا کیونکہ اس کُل عالم میں ہم سب بھی ہیں اور میرے ہونٹوں پر بھی بے ساختہ کُل عالم کی خیر کُل عالم کا بھلا کے الفاظ نکلنے لگے۔

اچانک میری نظر پنکی سائیکہ پر پڑی وہ بھاری بریف کیس جو اُس سے اُٹھائے نہ اُٹھتا تھا اُسے اُٹھانے کی ناکام کوشش کر رہی تھی۔ میں نے اُس کی مدد کر دی تو اُس کی سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ کیسے شکریہ ادا کرے۔ میں نے پنکی سائیکہ کے لےے بھی دُعا کی کہ وہ یونہی کانوں میں رس گھولتی رہے یونہی کوئل کی طرح بولتی رہے۔ دور سے پرساد دوڑتا ہوا آرہا تھا وہ بہت خوش لگ رہا تھا۔ اُس نے مجھے آکر خوشخبری سُنائی کہ ستیہ جی نے کہا ہے کہ شرکاءمیں سے جو امرتسر جانا چاہیں چلیں ہم نے ایک دن وہاں قیام کرنا ہے۔ لہٰذا ہم بھی آپ کے ساتھ چل رہے ہیں۔ مجھے یوں لگا جیسے میری دُعائیں قبول ہو گئیں ہوں۔

جو گاڑیاں امرتسر کے لےے منگوائی گئیں تھیں اُن میں کِسی بھی گاڑی میں بیٹھنے کی کوئی قید نہ تھی میں پرساد اور اُس کی اسٹوڈنٹس ایک Van میں تھے۔

Van میں بیٹھتے ہی میری ایک بنگالی لڑکی سے بڑے مزے کی تلخ کلامی بھی ہوئی دراصل میں ونڈو سیٹ پر بیٹھا تھا۔ اُس کا اصرار تھا کہ وہ مجھ سے پہلے یہاں بیٹھی ہوئی تھی۔ اپنی فرینڈ کو ملنے گئی تھی اس لےے اب اُسے وہاں بیٹھنا ہے۔ میں نے ایسا ظاہر کیا جیسے مجھے اُس کی کسی بات کی کچھ سمجھ ہی نہیں آرہی لہٰذا بیچاری بے بس ہو کر پچھلی سیٹ پر بیٹھ گئی۔ سارا رستہ اُس کا مُنہ بنا رہا مجھے اُس کا غصہ اچھا لگا تھا۔ میں نے اُسے غصّے میں ہی رہنے دیا بعض اوقات انسان کتنا خود غرض ہو جاتا ہے اپنی خوشی کے لےے دوسروں کو دُکھ دیتا ہے یا دوسروں کے دکھوں میں اپنی خوشی ڈھونڈ لیتا ہے۔

گاڑیاں اب ڈھو ڈھیکے سے امرتسر کے لےے روانہ ہو رہیں تھیں۔ سب گاﺅں کے لوگ ہاتھ ہِلا ہِلا کر ہمیں الوداع کہہ رہے تھے۔ میں بھی ہاتھ ہلا ہلا کر دِل میںکہنے لگا۔

الوداع ڈھوڈھیکے، الوداع لالہ جی، الوداع حویلی، الوداع برگد کے پیڑ، الوداع پلاّوی۔ مجھے یوں لگا جیسے پلاوی کھیتوں میں بنے کچے رستے پر بھاگتی ہوئی آرہی ہے۔

—–٭٭٭—–

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

سفر نامہ بھارت۔۔۔حسن عباسی

سفر نامہ بھارت حسن عباسی             دل یا شِکم؟ ڈھوڈیکے ایک چھوٹا سا گاﺅں ہے …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے