سر ورق / ناول / افسانے کی حقیقی لڑکی…ابصار فاطمہ جعفری..قسط نمبر 1

افسانے کی حقیقی لڑکی…ابصار فاطمہ جعفری..قسط نمبر 1

افسانے کی حقیقی لڑکی

ابصار فاطمہ جعفری

قسط نمبر 1

اپنی زندگی کی افسانویت اور حقیقت میں پھنسی لڑکی جو کہیں نہ کہیں ہر لڑکی جیسی ہے۔

 ”جب تک ہم عورتیں اپنے حقوق کے لئے آواز نہیں اٹھائیں گی کوئی ہمیں ہمارا حق نہیں دے گا بلکہ ممکن ہے کہ ہم سے سانس لینے کا حق بھی چھین لیا جائے”

 معروف سماجی رہنما بختاور احمد کا عورتوں کے عالمی دن کے موقعے پہ تقریب کے شرکاءسے خطاب

اس نے یہاں تک خبر پڑھ کر تاسف سے سر ہلایا اور اخبار سائیڈ میں رکھ دیا۔

 ”کاش کوئی ان عورتوں کوسمجھا سکتا کہ عورت کی اصل بادشاہت تو اس کا گھر اور بچے ہوتے ہیں۔ نہ اپنا گھر سنبھلتا ہے نہ دوسروں کا بسنے دیتی ہیں”

اسے اس قسم کی مرد مار جنگجو ٹائپ عورتوں سے سخت چڑ تھی

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

بسمہ نے سیاہ ناگن جیسی ساحر آنکھوں پہ آئی لائنر لگایا اور پلکیں جھپکا کر ان کے مناسب حد تک قاتلانہ ہونے کا یقین سا کیا۔ آنکھوں کی ہی طرح سیاہ گھٹاوں سے چمکیلے سلکی بالوں کو آج کلپ کی قید سے آزاد کھلا چھوڑا ہوا تھا۔ ریڈ ایمبرائڈڈ ڈزائینر کرتی کے ساتھ بلیک ٹراوزرز اور بلیک اینڈ ریڈ اسٹالر جو اس نے اسٹائل سے گلے کے گرد ڈالا ہوا تھا۔ ایک نظر خود کو دوبارہ آئینے میں دیکھ کر جلدی جلدی لپ اسٹک شائنر، ہیر برش اور باڈی اسپرے ہینڈ بیگ میں ڈالا نازک سے کالی سینڈل دودھیا پاوں میں پہنی اور دوپٹے سے ذرا بڑی کالی چادر پہن کر باہر نکل آئی۔ آج وہ بڑا دل لگا کے تیار ہوئی تھی تقریبا 3 ماہ سے اسکول کی سہیلیوں کے ساتھ مل کر فئیرویل پارٹی کی تیاریاں ہورہی تھیں اور خدا خدا کر کے وہ دن آہی گیا وہ بہت پرجوش ہو رہی تھی اسکول میں آخری دن ”یادگار” بنانا چاہتی تھی۔

 اس نے کلائی پہ بندھی گھڑی پہ ٹائم دیکھا تو احساس ہوا کہ وہ لیٹ ہورہی ہے جلدی سے باہر بھاگی تاکہ دو گھر بعد رہنے والی کلاس فیلو فائزہ کو لے اور بس جلدی سے اسکول پہنچ جائے۔

 ”اے بی بی یہ تم اسکول جارہی ہو کہ کا ولیمہ ہے تمہارے بھیا کا”

دادی کی آواز نے جلدی جلدی اٹھتے قدم روک دیئے۔

اس کا سر جھک گیا کچھ جواب دیئے بغیر آگے قدم بڑھا دیئے۔

 ”بسمہ یہ کیا بدتمیزی ہے؟ دادی کچھ کہہ رہی ہیں تم سے۔ یہ تمیز سیکھی ہے اب تک؟”

امی کی آواز میں کافی سختی تھی۔

 ”امی آج فئیرویل ہے, آپ کو جب یہ سوٹ لا کے دکھایا تھا تب بتایا تھا نا کہ سب لڑکیاں گھر کے کپڑے پہن کے آئیں گی”

 ”اگر باقیوں کے اماں باوا اندھے ہوئے بیٹھے ہیں تو کیا ہم بھی ہوجائیں؟ ایک عزت ہوتی ہے تعلیمی ادارے کی شادی بیاہ کی تقریبوں کی طرح بن ٹھن کے نہیں جایا جاتا”

دادی کا غصہ مسلسل ساتویں آسمان پہ تھا۔

” پھر کیا کروں دادی کہیں تو بدل لوں مگر یونیفارم میں کوئی نہیں آئے گا سب مذاق آڑائیں گے۔”

اس نے بیچارگی سے کہا

 ”دیکھو! دیکھو ذراکیسے برابر سے جواب دے رہی ہے۔ ارے ہم کونسا جا رہے ہیں کہ پتا چلے کہ کتنے یونیفارم میں آئے ہیں۔ سارا وقت تو اس سرخی پوڈر میں لگا دیا اب چلی بھی جاو ہماری ناراضگی کا خیال ہوتا تو پہلے عمل کیا ہوتا۔ جاو بی بی جاو، مگر یہ سن لو شریف گھرانوں کی لڑکیاں نامحرم لڑکوں کے سامنے ایسے چٹک مٹک نہیں دکھایا کرتیں۔”

 اس کی آنکھوں میں آنسو آگئے جلدی سے باہر نکل آئی پھر فائزہ کو لے کر رکشے میں بیٹھنے سے لیکر اسکول پہنچنے تک شرمندہ ہوتی رہی۔ اور سوچتی رہی دادی کا لہجہ سخت ضرور تھا مگر بات تو ٹھیک تھی۔ اسے بس دادی سے یہ شکایت تھی کہ کتنی ذرا سی بات پہ انہوں نے گھما پھرا کر کتنا بڑا الزام لگادیا کہ وہ لڑکوں کو دکھانے کے لیئے تیار ہوئی تھی۔ پھر خیال آیا کہ شاید دادی نے ٹھیک ہی تو کہا تھا۔ بس دادی پرانے اور بے لوث زمانوں کی ہیں تبھی لگی لپٹی کے بغیر سیدھی بات کردی۔

 ویسے بھی وہ کوئی فیشن کی شوقین لڑکی تو تھی نہیں بلکہ کلاس کی بہترین طلبہ میں سے تھی اور خوبصورتی میں تو اس کی ٹکر کا شاید کوئی بھی نہیں تھا۔ گھر سے تھوڑی سختی تھی اس لیئے عام دنوں میں سادہ ہی اسکول جاتی تھی مگر پھر بھی لڑکیاں تعریف کرتے نہ تھکتیں اور رہی سہی کسر ساتھ پڑھنے والے لڑکوں کی نظروں میں موجود ستائش پوری کر دیتی۔ مگر کسی کو بھی کبھی کچھ کہنے کی ہمت نہیں ہوئی کیونکہ سب اس کی مزاج سے ڈرتے تھے اور وہ اماں ابا اور دادی کے مزاج سے ڈرتی تھی۔

 دادی تو پہلے ہی مخلوط ادارے میں تعلیم پہ راضی نہیں تھیں مگر امی کے میکے میں سب انگریزی اسکولوں میں تھے اسی لیئے امی کا کہنا تھا کہ بچوں میں کوئی احساس کمتری نہ رہ جائے۔

 زیادہ بحث تب شروع ہوئی جب وہ آٹھویں کا امتحان دے کر نویں میں آئی تھی۔ دادی کا روز کہنا تھا بس اب لڑکی جوان ہوگئی اب اسے کسی لڑکیوں کے اسکول میں کراو زمانہ خراب ہے۔ اسے دادی کی اس بات کی کچھ سمجھ نہیں آتی کیونکہ جب اس نے ایک بار یہ کہنے کی کوشش کی کہ وہ اسکول نہیں بدلنا چاہتی تو دادی نے ہی ڈانٹ دیا کہ بڑوں کی باتوں میں بچے نہیں بولا کرتے۔

 خیر نویں جماعت کا آغاز تو عام سا ہی تھا مگر کچھ عرصے سے دل میں عجیب عجیب امنگیں انگڑائیاں لینے لگی تھیں۔ اپنے آپ سے کم صورت لڑکیوں کو چپکے چپکے اپنے بوائے فرینڈز سے باتیں کرتی دیکھ کر دل جل جاتا۔ ڈائری میں علامہ اقبال کی ایمان جگاتی شاعری کہ جگہ وصی شاہ اور پروین شاکر کی جذبوں سے لبریز شاعری نے لے لی تھی۔ غالب اور فیض کبھی سمجھ نہیں آئے اور جون ایلیا کی شاعری شاعری ہی نہیں لگتی تھی عجیب سی باتوں والی۔ مطالعہ کا شوق بھی تھا مگر اب سبق آموز کہانیوں کی جگہ خواتین کے رسالوں اور رومانوی ناولز آگئے تھے جوکہ امی اور دادی سے چھپا چھپا کر پڑھنے پڑتے۔ کیونکہ شریک جرم کوئی نہیں تھا تو مدد بھی نہیں ملتی تھی۔ دونوں بہنیں بڑی تھیں اسماءاور بشرہ، جن کی شادیاں میٹرک کے فورا بعد کردی گئی تھیں کیونکہ وہ بھی حسن میں یکتا اور سلیقے میں لاثانی تھیں۔ اسی لیئے آٹھویں سے ہی رشتے آنے لگے تھے۔

ایک سب سےبڑا بھائی تھا احد اور ایک سب سے چھوٹا اسد، جو بسمہ سے بھی ایک سال چھوٹا تھا۔ کہنے کو اسد سب سے چھوٹا تھا مگر رعب بڑے بھائیوں والا ہی جماتا تھا۔ ایک دفعہ غلطی سے فائزہ کے پاس سے ایک رسالہ لانے کو کہہ دیا رسالہ تو کیا لاتا جا کے بڑے بھیا کو بتا دیا۔ اور وہ جو بڑے بھیا کے آنکھیں دکھانے پہ ہی سہم جاتی تھی پہلے تو ان کو آندھی طوفان کی طرح کمرے میں آتا دیکھ کر ہی اسکا دل اچھل کے حلق میں آگیا۔

 ”ویسے ہی کوئی کم دماغ آسمان پہ نہیں ہیں تمہارے جو یہ لغویات پڑھ کے اور خراب کرنے ہیں۔ اس گھر میں پہلے کبھی کسی کو یہ فضول چیزیں پڑھتے دیکھا ہے تم نے؟”

 اتنا سخت لہجہ تھا بڑے بھیا کا کہ کچھ دن تو اسے ڈائجسٹوں کے بارے میں سوچتے ہوئے بھی ڈر لگتا رہا۔ مگر دن گزرنے کے ساتھ ساتھ خوف کچھ کچھ کم ہو ہی گیا۔ اب سارا دھیان اس بات پہ تھا کہ رسالے پڑھ بھی لے اور کسی کو پتا بھی نہ چلے۔ پھر ایک طریقہ سوجھ ہی گیا اب مہینے کا ”ایک ہفتہ” مخصوص کر لیا تھا۔ الماری میں چھپا رسالہ دوپٹے میں چھپا کر باتھ روم لے جاتی اور فارغ ہونے تک ایک چھوٹی موٹی کہانی تو ختم ہو ہی جاتی۔ امی اور دادی اس خفیہ کاروائی کو ”وہ والی” سمجھ کے طرح دے جاتیں۔

 کبھی کبھی بہت شرمندگی ہوتی تھی مگر ان کہانیوں سے عجیب سا نشہ اور ذہنی سکون ملتا تھا۔ جب اونچا لمبا سحر انگیز آواز والا ہیرو، ہیروئین کی آنکھوں میں جھانک کر دھیمے لہجے میں اظہار عشق کرتا تو اس کی سانسیں بھی تیز ہوجاتیں۔ کوئی ایک رومانوی کہانی پڑھنے کے بعد کئی دن اسی کے سحر میں رہتی تھی۔ اسی لیئے اسے بچھڑنے والی دردناک انجاموں والی کہانیاں بالکل پسند نہیں تھیں۔ وہ سب سے پہلے کہانی کا اختتام دیکھتی تھی اگر تو ہیروئین شرم سے سرخ ہورہی ہوتی، ہیرو کا ہاتھ تھامے مستقبل کے سہانے سپنے دیکھ رہی ہوتی یا ہیرو کے چوڑے سینے پہ طمانیت سے سر رکھے ہوتی تبھی وہ کہانی شروع کرتی تھی۔

 رات ہوتے ہی تکیہ ہیرو بن جاتا اور بسمہ ہیروئین پھر پسندیدہ کہانی کے رومینٹک حصے ری ٹیلیکاسٹ ہوتے۔ کبھی کبھی ہیرو کا سراپا چننے یا نام چننے میں ہی اتنی رات بیت جاتی کہ اسے جھنجھلاہٹ ہونے لگتی۔ پھر اس کا یہ مسئلہ بھی حل ہو گیا

 میٹرک کی کلاسز شروع ہوئیں تو کلاس میں دو نیو ایڈمیشنز آئے۔ دونوں ہی لڑکے تھے اور ایکدوسرے کے بالکل الٹ ایک کو دیکھ کر تو ایسا لگتا تھا جیسے کسی بہت رومانوی ناول کے شوخ سے ہیرو کو ایز اٹ از ناول سے نکال لیا ہو۔ سلکی بال ماتھے پہ بکھرے ہوئے تھے کچھ کچھ نیلی آنکھیں، صاف کھلتا ہوا رنگ۔

 دوسرا بس ٹھیک ہی تھا عام لڑکوں جیسا، سانولا سا رنگ، اچھے بچوں کی طرح چھوٹے چھوٹے کٹے ہوئے بال۔ اور ہیرو ٹائپ لڑکے کے سامنے تو اور عام سا لگ رہا تھا کیونکہ دونوں ایک ہی ڈیسک پہ ایکدوسرے سے لاتعلق سے بیٹھے تھے۔ ڈیشنگ سا لڑکا تھوڑا بے چین لگ رہا تھا اور ادھر ادھر دیکھ رہا تھا مگر کوئی اور ڈیسک خالی نہیں تھی۔ بسمہ کو اندازہ ہی نہیں ہوا کہ وہ کتنی دیر سے انہی دونوں کی طرف دیکھے جارہی ہے۔ اتفاقا ہیرو ٹائپ لڑکے کی نظریں بھی ادھر ہی اٹھیں۔ بسمہ سے نظریں ملیں تو وہ ہلکا سا مسکرایا اس کے گال پہ بہت خفیف سا ڈمپل پڑا بسمہ کو لگا اس کا دل گڑبڑ نہ کردے اس نے فورا نظریں ہٹا لیں اور برابر والے لڑکے کی طرف دیکھا اسی وقت اس نے بھی بسمہ کو دیکھا اور نظر انداز کرکے دوبارہ اپنے کام میں لگ گیا۔ بسمہ کو تھوڑا عجیب لگا لڑکے اتنی آسانی سے اسے نظر انداز نہیں کیا کرتے مگر پھر اس نے سوچا کیا فرق پڑتا ہے اتنا عام سا تو ہے اس کی توجہ کسے چاہیے؟

اسی وقت فائزہ نے اسے کہنی ماری۔

 ”بسمہ دیکھ کتنا زبردست لڑکا ہے” وہ سرگوشی کی کوشش کر رہی تھی جو کہ کافی بلند تھی۔

 ”ہوتا رہے مجھے کیا” وہ اپنے جذبات اپنی قریب ترین سہیلی سے بھی چھپا گئی۔

”اففو تم انتہائی غیر رومانوی مخلوق ہو۔ مگر حیرت ہے اس نے بھی تمہیں گھاس نہیں ڈالی دیکھا ہی نہیں”

اس بات پہ بسمہ چونکی۔

”تم کس کی بات کر رہی ہو”

”یہی پھیکے شلجم کے برابر جو بیٹھا ہے فوجی کٹ بال اور کالی سحر انگیزآنکھیں”

 ”ہاہاہا یہ پاور پف گرلز کا بچھڑا ہوا بھائی تجھے زبردست لگ رہا ہے؟ فائزہ تو اپنی نظر کسی اچھے سے ڈاکٹر سے ٹھیک سے چیک کرا لے۔”

 فائزہ نے جواب دینے کے لیئے منہ کھولا مگر کلاس ٹیچر کے اندر آنے پہ سب کی توجہ ان کی طرف ہوگئی۔ کلاس ٹیچر نے اٹینڈنس لینی شروع کی مگر بسمہ کا دماغ کہیں اور ہی تھا وہ حیران تھی کہ خوبصورتی بھی لوگوں کے لئے الگ الگ ہوتی ہے کیا؟

 اپنی اٹینڈینس لگوا کر بھی وہ اپنے خیال میں ہی مگن رہی۔ وہ تب چونکی جب ٹیچر نے دونوں لڑکوں کا کلاس سے تعرف کروانا شروع کیا۔

 ”اسٹوڈنٹس! آج سے آپ لوگوں کے دو ساتھی اور بڑھ گئے ہیں مجھے امید ہے کہ آپ سب ان کی ہر طرح مدد کریں گے اور انہیں کلاس میں اجنبیت محسوس نہیں ہونے دیں گے۔

ارمغان وقار خان اور محمد اسلم فرقان

welcome to our School

”(ہمارے اسکول میں آپ کوخوش آمدید)

ارمغان وقار خان واو۔۔۔۔۔ اس نے دل میں سوچا جیسا دیکھنے میں ہے ویسا ہی رومانوی نام ہے۔

 ”ارمغان بیٹا آپ کل تک بال سیٹ کرا لیں، فرقان جیسے۔ اسکول میں ایسے بال آلاوڈ نہیں ہیں۔”

 ”ٹیچر میں ایک دن میں اتنے بال کیسے بڑھا سکتا ہوں” عام سے لڑکے کے لہجے میں اعتماد اور تھوڑی شرارت دونوں تھی۔ اسے اندازہ ہوگیا کہ ٹیچر کو کوئی غلط فہمی ہوئی ہے۔ پھر شاید اسے احساس ہوا کہ ٹیچر سے مذاق مناسب نہیں تو فوراوضاحت کردی۔

”ٹیچر ارمغان وقار خان میرا نام ہے۔ اسلم فرقان ان کا نام ہوگا۔”

 کلاس میں دبی دبی ہنسی کی آوازیں آنے لگیں اسلم بھی مسکرا دیا اور وہ دوبارہ اس کی مسکراہٹ سے دھیان ہٹانے کی کوشش کرنے لگی۔ اسے تھوڑا عجیب لگا۔ یعنی افسانوں اور حقیقت کی دنیا میں تھوڑا فرق ہوتا ہے؟ اسے یہ فرق پسند نہیں آیا۔ اسلم ہیرو کا نام کہاں ہوتا ہے یہ تو اردو گرامر کی مثالوں میں استعمال ہوتا ہے

اسلم آتا ہے

اسلم کتاب پڑھتا ہے

اسلم نے کتاب پڑھی تھی

اسلم کتاب پڑھے گا وغیرہ وغیرہ وغیرہ

اس کے سامنے گرامر کی کاپی گھوم گئی جس میں ہر ڈفینیشن کی مثال میں اسلم نام ضرور تھا۔

 اف کتنا عام نام ہے اسے تو اسم معرفہ کی جگہ اسم نکرہ میں لکھنا چاہئے۔ ٹیچر پڑھاتی رہی اور اس کا دماغ ”اسلم” پہ اٹکا رہا۔

 رات جیسے ہی وہ تکیہ لے کر لیٹی اسلم کا سراپا ناچاہتے ہوئے بھی ذہن میں آگیا۔ مگر جب جب تخیل میں اسلم کا نام آتا اس کے تخیل کی پرواز میں رکاوٹ محسوس ہوتی۔

اسلم۔۔۔۔ نے بسمہ کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالیں۔

اسلم۔۔۔۔ دلکشی سے مسکرایا تو بسمہ کے دل نے بیٹ مس کی۔

اف! وہ تکیہ پٹخ کر بیٹھ گئی

اسلم کیوں رکھ دیا اس کے اماں ابا نے اس کا نام؟

وہ اپنی سوچوں کو محسوس کرنا چاہتی تھی مگر ”اسلم” نام آتے ہیں احساس جیسے منجمد سے ہوجاتے۔

 جو عام ہے اس کا نام بھی عام سا ہونا چاہیے جو خاص ہے اس کا نام بھی خاص ہونا چاہیے۔ بھلا بتاو ارمغان وقار خان کہیں سے ارمغان وقار خان لگتا ہے؟ وہ اسلم فرقان لگتا ہے عام سا اسم نکرہ جیسا۔

 پھر اسے کچھ خیال آیا۔ کیوں نہ وہ ہی مسئلہ خود حل کرلے صرف تصور تک کی تو بات ہے۔ تو خاص والے کا خاص نام رکھ لے اور عام والے کا عام نام۔ اسے یہ آسان لگا کہ کوئی اور نام سوچنے کی بجائے یہی نام ادھر ادھر کردے۔ یعنی اس کے خیالوں میں اسلم ارمغان ہو اور ارمغان اسلم ہو۔

ایک دم اسے ہنسی آگئی۔

دونوں بچاروں کو تو پتہ ہی نہیں کہ ان کے ناموں کے ساتھ کیا اٹھا پٹخ ہورہی ہے۔ اور پتا چلے گا بھی کیوں یہ تو بس ایسے ہی وقت گزاری کے لیئے ہے۔

 میں کونسا اصل میں کسی سے عشق کر رہی ہوں میں کوئی عام لڑکیوں کی طرح بدکردار ہوں جو لڑکوں سے عشق کروں گی۔””

اس نے خود کو تسلی دی اور تکیہ لے کر لیٹ گئی۔ تھوڑا بہت جو احساس جرم یا احساس گناہ تھا وہ بھی ختم سا ہوگیا۔

اب وہ اپنا پلان چیک کرنا چاہتی تھی۔

”ہیلو ہیلو ٹیسٹنگ ہیلو۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ارمغان”

اس نے آنکھیں بند کر کے سوچوں کے پرندے اڑائے۔

اس نے دیکھا دور دو لڑکےپیٹھ موڑے کھڑے ہیں اس کی ارمغان کہہ کر پکارنے پہ ایک نے پلٹ کر دیکھا

اف۔۔۔۔۔ یہ والا نہیں یہ تو اصلی والا ہے کالا والا

اے مسٹر گورے والےاب تمہارا نام ارمغان ہے پلیز تم پلٹ کر دیکھنا۔

اس نے دوبارہ بہت جذبات کے ساتھ پکارا

”ارمغان”

 اب کے دونوں نے پلٹ کر دیکھا اس نے زور سے آنکھیں میچیں اور سر کو دو تین دفعہ جھٹکا جیسے اصل والے کو دماغ سے جھاڑناچاہتی ہو

پھر ایک دو گہری سانسیں لیں

”بسمہ کونسنٹریٹ”

اس کا دل ذرا زیادہ زور سے دھڑکنے لگا پھر دھیرے سے کہا

 ”ارمغان”

 اور پلٹ کے دیکھنے والا اسے دیکھ کر مسکرایا اور ڈمپل دیکھ کر اس کا دل چاہا زور سے یاہو کا نعرہ لگائے اس نے اپنے آپ کو شاباشی دی چلو جی تجربہ کامیاب ہوگیا۔

 انہی خیالات میں اسے پتا ہی نہیں چلا کہ رات کتنی بیت گئی وہ سوچتے سوچتے سو گئی۔

 صبح الارم بجا تو سر نیند سے بوجھل ہورہا تھا۔ دل چاہا الارم اٹھا کے کہیں پھینک دے جہاں سے اس کی منحوس کرخت آواز نہ سنائی دے۔

افوہ یہ صبح صبح اسکول کیوں جانا پڑتا ہے۔۔۔۔ وہ آنکھیں بند کیئے سوچے جارہی تھی۔

اسکول کا وقت دوپہریا رات کا بھی تو ہوسکتا ہے

یا اگر اسکول ہوتے ہی نہیں۔۔۔۔۔۔؟

تو۔۔۔۔۔ صبح صبح اٹھ کے سب کے لیئے پراٹھے بنانے ہوتے۔

آخری خیال نے اس کی آنکھیں پٹ سے کھول دیں۔

اللہ میاں آگے کنواں پیچھے کھائی جیسی زندگی کیوں ہے ہم لڑکیوں کی۔

 اسے یاد آیا ہر اتوار اس کے دونوں بھائی نیند پوری کرتے جبکہ وہ ”اگلےگھر” کی تیاری کے لیئے صبح صبح گول پراٹھےبناتی۔

وہ ایک لمبی منہ تھکا دینے والی جمائی لے کر اٹھ گئی۔

 اسکول پہنچ کر بھی نیند اور کچھ رات کے خیالات کا غلبہ تھا اور طبعیت سست سی ہورہی تھی۔ کلاس میں داخل ہوتے ہی پہلی رو میں وہ نظرآیا۔ بلا وجہ ہی اپنائیت کا احساس ہونے لگا۔ جیسے عرصے سے شناسائی ہو۔دماغ میں ایک نام لہرایا ”ارمغان” پھر چونکی ”اونہوں!اسلم ہے یہ” سر جھٹک کر بیگ سیٹ پہ رکھ دیا۔

 اور پھر روز ہی رات کو خیالات میں وہی نام کا ادل بدل ہوتا اور صبح اس کا الٹا الٹا اثر۔ کبھی اسلم کی کاپی ارمغان کو پکڑا دیتی کبھی ٹیچر ارمغان کو بلاتیں تو اسلم کو بھیج دیتی۔

 اس کے خیالات بھی رومانوی ناولز جیسے تھے جس میں ارمغان (اسلم) ایک خوبصورت مغرور لڑکا ہے جس پہ اسکول کی ساری لڑکیاں مرتی ہیں مگر وہ دل ہی دل میں بسمہ کو پسند کرتا ہے مگر سب کے سامنے اسے اگنور کرتا ہے۔ جبکہ اسلم (ارمغان) عام سا چھچھورا لڑکا ہے جو بسمہ سے بات کرنے کی کوشش میں لگا رہتا ہے ہر رات ایک شدید قسم کی ٹریجڈی کے بعد وجیہہ ارمغان اظہار عشق کرتا اور اسلم اپنا عام سا منہ لیئے رہ جاتا اور بسمہ شرم سے سرخ ہوجاتی اور اس کے بعد نیند آجاتی۔

کبھی ارمغان کوئی کروڑ پتی ہوتا اور بسمہ اس کے آفس میں جاب کرتی

 کبھی کوئی وڈیرہ جس کا بسمہ سے زبردستی نکاح کردیا گیا ہوتا اور کبھی مغرور کزن جو سڑک پہ اس کی بے عزتی کردیتا یا تھپڑ مار دیتا کیونکہ وہ اس سے دل ہی دل میں محبت کرتا اور کسی دوسرے سے بات کرنا برداشت نا ہوتا۔

 اس کی ہر تصوراتی کہانی میں ایک کردار ”اسلم” کا بھی ہوتا جو بالکل عام سا ہے مگر ہیروئین(بسمہ) کی توجہ حاصل کرنے کے لیئے الٹی سیدھی حرکتیں کرتا ہے کبھی اس کا کردار مسخرے کا ہوتا کبھی ولن کا مگر ہمیشہ عام سا۔

 وقت گزرتا جارہا تھا اور بسمہ کے دل میں اصلی اسلم کے لیے اپنائیت بڑھتی جارہی تھی۔ وہ اس کے اردگرد رہنے کی کوشش کرتی مگر بات کرنے سے گریز کرتی۔ اسے ڈر تھا کہ اگر وہ اسلم سے بات کرے گی تو سب کو پتا چل جائے گا کہ وہ رات کو کیا سوچتی ہے۔

اصل ارمغان اس کے لیئے اسلم تھا اور بسمہ کو اس سےبلاوجہ کی چڑ تھی۔

 اس کا بلاوجہ دل چاہتا کہ اسلم کے بارے میں کسی سے باتیں کرے۔ مگر کیا؟ بس یہ سوچ کے رہ جاتی کہ سب کچھ تو اس کی سوچ میں تھا اسی لیے کبھی اپنی قریب ترین دوستوں،فائزہ اور گل بانو سے بھی کچھ نہیں کہہ پائی۔ دوسرا مسئلہ یہ تھا کہ اسے پتا تھا کہ دونوں کا ردعمل کیا ہوگا۔ فائزہ تو فورا اظہار عشق کا مشورہ دے دے گی اور گل بانو ایک لمبا سا لیکچر عورت اور حیا پہ سنائے گی۔ سچی بات یہ ہے کہ اگر کوئی اور لڑکی اسے ایسا کچھ بتاتی تو وہ بھی شاید ایسا ہی کوئی لیکچر دیتی جس میں عموما باتیں امی اور دادی کی باتوں کا کاپی پیسٹ ہوتیں۔ وہ اور گل بانو خیالات میں کافی حد تک ایک جیسی تھیں۔ دونوں لڑکوں سے دور دور رہتی تھیں۔ لڑکوں کے اسکول میں ساتھ پڑھنے کے باوجود دونوں بہت ضروری بات ہی لڑکوں سے کرتی تھیں۔ دونوں کا بڑا سادوپٹہ کھول کے اوڑھا ہوتا اور سر پہ اسکارف بندھا ہوتا جو اسکول آنے سے لیکر چھٹی تک ٹس سے مس نہ ہوتا۔ انہیں ہر وقت یہ لگتا کہ ہر کوئی انہیں پرکھ رہا ہے ان کی حیا اور شرافت کا ترازو لے کر اور ان کی کوشش ہوتی کہ ہر ایک کے حیا اور شرافت کے معیار پہ وہ کسی نہ کسی طرح پورا اتریں۔ چاہے کچھ بھی کیوں نہ کرنا پڑے۔ اور اپنے انہی اصولوں کی وجہ سے بسمہ مزید الجھن کا شکار تھی۔ فائزہ البتہ ان دونوں سے کافی الگ تھی۔ جو دل میں آیا منہ پہ بول دیا۔ دوپٹہ سر پہ لے کر نکلتی مگر کب وہ دوپٹہ سر سے اتر جاتا اسے فکر ہی نہیں ہوتی اور یونہی ننگے سر گھوم پھر کے آجاتی۔ گل بانو اور بسمہ ٹوک ٹوک کے آدھی ہو جاتیں، انہیں ڈر تھا کسی نے ان کے گھر پہ بتا دیا کہ وہ ایسی لڑکی سے دوستی رکھتی ہیں تو گھر والے دوستی نہ چھڑوا دیں۔ فائزہ دیکھنے میں ٹھیک ٹھاک ہی تھی مگر اس کے باوجود لڑکوں کو فاصلے پہ رکھتی۔ اس کا رویہ بہت عجیب لگتا جیسے وہ لڑکی ہے ہی نہیں نہ لڑکوں سے شرماتی تھی نہ انہیں اپنے طرف متوجہ کرنے کے لئے سطحی حرکتیں کرتی تھی۔ بلکہ کافی اعتماد سے بات کر لیتی تھی۔ ٹیچرجب بھی کوئی کام لڑکوں سے کروانے کو کہتیں تو یہ دونوں فائزہ کو ہی آگے کردیتیں۔

 گرمیوں کی چھٹیاں گزار کر دوبارہ اسکول شروع ہوا تو کئی دن تک لگاتار گل بانو آئی ہی نہیں فائزہ اور بسمہ دونوں اپنی اپنی چھٹیوں کی کارکردگی ایک دوسرے کو سنا کر اب گل بانو کا انتظار کر رہی تھیں کہ وہ آئے تو اپنی سنائی جاسکے اوراس کی سنی جاسکے۔ جب پورا ہفتہ گزر گیا تو انہوں نے فیصلہ کیا کہ چھٹی کے وقت نویں جماعت میں اس کے کزن سے پوچھا جائے۔ فائزہ تو کب سے کہہ رہی تھی مگر بسمہ ہی روک دیتی تھی۔ کہ لوگ انہیں ایک لڑکے سے بات کرتا دیکھ کر پتا نہیں کیا سمجھیں ویسے بھی گل بانو چھٹیاں گزارنے گا ¶ں جاتی تھی اور دو تین دن دیر ہی سے اسکول آنا شروع کرتی تھی مگر پورا ہفتہ لیٹ کبھی نہیں ہوئی۔

 چھٹی کی گھنٹی بجتے ہی دونوں کو اپنا ارادہ یاد آیا فائزہ جلدی جلدی اپنا بیگ بند کر رہی تھی جبکہ بسمہ اور سست ہوگئی

 ”بسمہ جلدی کر وہ نکل جائے گا۔”

 ”یار اس سے پوچھنا ضروری ہے کیا۔ کلاس کی لڑکیاں دیکھ لیں گی تو پتا نہیں کیا سوچیں گی تجھے پتا ہے نا کتنی گندی سوچ ہے ان کی۔”

 ” بسمہ کسی کی گندی سوچ نہیں مجھے پتا ہے تجھے اپنے جلاد بھائی کا ڈر ہے جو گل بانو کے کزن کا کلاس فیلو ہے”

بسمہ نے آنکھیں بند کرکے لمبا سانس کھینچا۔

”ٹھیک ہے مگر تو بات کرنا”

” ”ہاں کرلوں گی تو چل تو سہی

وہ دونوں جلدی جلدی راہداری کے قریبی کونے کی طرف چل دیں جس طرف کلرک آفس تھا۔

 طلبہ عموما اس طرف سے نہیں آتے تھے مگر ان کی کلاس بالکل آخر میں تھی کلرک آفس کے ساتھ۔ آج جلدی کی وجہ سے وہ طلبہ والے گیٹ کی بجائے اس طرف آگئیں۔ تاکہ گلبانو کے کزن سے پہلے ہی مین گیٹ تک پہنچ جائیں اور اس سے گل بانو کا پوچھ سکیں۔ یہ آئیڈیا بھی فائزہ کا ہی تھا ورنہ بسمہ ہرگز اتنے رش میں کسی لڑکے سے بات کرنے پہ راضی نہیں تھی۔ اسے مسلسل گھبراہٹ ہورہی تھی۔ حالانکہ اسے پتا تھا کہ فائزہ خود ہی بات کرلےگی۔

 کلرک آفس کے سامنے سے گزر کر وہ جیسے ہی گراونڈ میں آئیں تو انہوں نے ایک مرد اور عورت کو ادھر اتے ہوئے دیکھا داخلہ یا فیس کے کاموں سے آنے والے عموما اسی رستے سے آتے تھے۔ مرد کوئی 45 یا 50 سال کا انکل ٹائپ تھا جبکہ عورت نے کچھ پرانے سے فیشن کا بڑا سا برقعہ بمعہ نقاب پہنا ہوا تھا تو اس کی عمر کا اندازہ تو نہیں ہوا مگر چال سے وہ کوئی جوان عورت لگ رہی تھی۔ انہوں نے نوٹ کیا کہ عورت ایکدم جلدی جلدی آگے آنے لگی کہ مرد بہت پیچھے رہ گیا۔ قریب آکر عورت نے نقاب ہٹایا ان دونوں کے منہ سے ایک ساتھ حیرت سے چیخ سی نکلی

”گل بانو۔۔۔۔۔۔۔۔”

 ” کہاں تھی اتنے دن سے؟ یہ کیا ہوگیا تجھے اتنی کمزور کیوں ہورہی ہے۔ اور یہ اسکارف کی جگہ پورا شامیانہ کیوں پہنا ہوا ہے؟”

فائزہ کے سوالات کی رفتار سے اس کی بے چینی اور پریشانی صاف جھلک رہی تھی۔

گل بانو بہت عجیب سی لگ رہی تھی کمزور بھی اور اپنی عمر سے بڑی بھی۔

”ٹھیک ہوں یار۔ تم لوگ بتاو چھٹیاں کیسی گزریں۔”

 ہمیشہ دھیمے لہجے میں بات کرنے والی گل بانو کا لہجہ آج بھی دھیمہ تھا مگر صرف دھیمہ نہیں تھا کچھ اور بھی تھا اس کے لہجے میں جو بسمہ کو محسوس ہوا مگر وہ سمجھ نہیں پائی۔

 ”چھٹیاں تو ٹھیک گزریں۔۔۔تو پیر کو آئے گی تو آرام سے تفصیل بتائیں گے۔ مگر یار اس بار بہت زیادہ چھٹیاں کر لیں تونے پتا ہے فزکس اور میتھس کا اتنا سارا کام ہوگیا ہے انگلش کی ٹیچر بھی لکھوا لکھوا کے آدھا کر دیتی ہیں۔”

بسمہ کو فکر تھی کہ گل بانو کی پڑھائی کا کافی حرج ہوگیا ہے۔

”یار میں اب اسکول نہیں آوں گی۔ لیونگ سرٹیفکیٹ لینے آئی ہوں۔”

 ”بانو پاگل ہے کیا تو؟ آدھے سال میں اسکول بدل رہی ہے کہیں ایڈمیشن نہیں ملے گا۔” فائزہ اس اچانک انکشاف پہ حیران بھی تھی اور ناراض بھی۔

” کہیں اور ایڈمیشن نہیں لینا بس سرٹیفکیٹ لینا ہے”

”ہوا کیا ہے بانو یار ٹھیک سے بتا نا ایسے کوئی بیچ میں پڑھائی چھوڑی جاتی ہے کیا؟”

بسمہ تو کچھ ایسی ہکا بکا ہوئی کہ بول ہی نہیں پائی فائزہ ہی نے پوچھا۔

گل بانو نظریں چرانے لگی جیسے اسی سوال سے بچنا چاہ رہی تھی۔

”میرا نکاح ہوگیا ہے گاوں میں۔”

”واو یار! ہاو رومینٹک۔۔۔ بتایا کیوں نہیں چپکے چپکے شادی کر لی”

 بسمہ سرپرائز قسم کی شادی کا سن کر ایکسائٹڈ ہوگئی۔اس کی دماغ میں ڈائجسٹ کی کہانیاں گھوم گئیں پہلے اچانک نکاح پھر خوبصورت سے گبرو ٹائپ شوہر سے کچھ ناراضگی کچھ مہینے نرمی گرمی اور پھر بہت سا رومینس۔ ساتھ ہی چند سیکنڈز کے لیئے معصوم سی گل بانو کے ساتھ ایک مضبوط جوان کا سراپا لہرایا جو شاید اس سے ذرا بڑا ہی ہو۔ کہانیوں میں بھی تو عموما ایسی سچویشن میں ہیرو تھوڑا بڑا ہوتا ہے 20 یا 22 سال کا روڈ مگر اصولوں کا پکا۔

مگر کہہ کر اسے احساس ہوا کہ وہ کتنا بے موقع بات کہہ گئی۔ فائزہ اسے غصے سے گھور رہی تھی جبکہ اصل شرمندگی اسے گل بانو کی نظروں سے ہوئی جن میں ناراضگی نہیں تھی عجیب سی بے چارگی تھی۔

فائزہ نے ہونٹ بھینچ لیئے پھر کچھ لحظہ رک کے تھوڑا دھیمے لہجے میں بولی

” یار مگر پڑھائی چھوڑنے کی تو ضرورت نہیں نا اس میں کیا مسئلہ ہے”

”نہیں یار ایک تو فی الحال میری کنڈیشن ایسی نہیں اور پھر ”ان” کی بھی مرضی نہیں۔”

 گل بانو نے جیسے ”ان” کہہ کر پیچھے آتے مرد کی طرف اشارہ کیا تو ان دونوں کو احساس ہوا کہ وہ گل بانو کا شوہر ہے۔

”کیا ہوا ہے تجھے طبعیت ٹھیک ہے نا”

ان کا دماغ اس کے شوہر پہ بھی اٹکا مگر اس کا یہ کہنا کہ ”کنڈیشن ایسی نہیں” زیادہ تشویش ناک تھا۔

 ”وہ یار!۔۔۔۔۔۔۔۔۔” گل بانو کہہ کر تھوڑا رکی پھر جیسے تھوڑی ہمت جمع کی۔

 ”میں پریگننٹ ہوں” گل بانو نے ایسے کہا جیسے خود بھی نا سننا چاہتی ہو۔

”اچھا انہیں دیر ہورہی ہے ہم درخواست دے آئیں۔”

وہ جلدی سے کہہ کرآگے بڑھ گئی

بسمہ کو اپنے جسم کے رونگٹے کھڑے ہوتے محسوس ہوئے یہ لفظ اس کے اور اس کی عمر کی لڑکیوں کے لیئے کتنا ممنوعہ تھا اسے اچھی طرح اندازہ تھا۔ اسے لگ رہا تھا جیسے اس نے سن کے بھی کوئی غیر اخلاقی حرکت کی ہے۔ اسے سمجھ نہیں آیا کہ یہ سب اسے رومینٹک لگنا چاہئے یا خوفناک۔

 اس کی بچپن کی دوست جو یہ تک بتاتی تھی کہ گھر میں کس وقت کیا پکا اور کس کس نے نہیں کھایا اور کیوں نہیں کھایا وہ اپنی شادی کا ایسے سرسری سا بتا کے جاچکی تھی۔ وہ دونوں وہاں سن سی کھڑی رہ گئیں۔ پھر سر جھکا کر گیٹ کی طرف بڑھ گئیں دونوں کو ہی پتا تھا کہ دونوں کی آنکھوں میں آنسو ہیں۔

رکشے میں بیٹھنے تک وہ دونوں بالکل خاموش ہی رہیں پھر بسمہ ہی بولی

”یار اس کا ہسبینڈ (شوہر) کتنا ایجڈ لگ رہا تھا نا؟”

 ”ہمم اور بانو کتنی بیمار اور کمزور لگ رہی تھی اور ناخوش بھی۔ اوپر سے تو بھی عجیب ہے کتنا بکواس کمنٹ کیا تھا” فائزہ نے غصے میں بسمہ کی نقل اتاری۔

واو ہاو رومینٹک۔۔۔۔ تو پاگل ہے کیا زبردستی کی شادی رومینٹک ہوتی ہے کیا؟””

 ”تجھے کیسے پتا کہ زبردستی کی شادی ہے۔” اپنے اوپر الزام آتا دیکھ کے بسمہ بھی تھوڑے جارحانہ موڈ میں آگئی۔

 ”ہاں واقعی زبردستی تھوڑی ہوئی ہوگی اس 50 سال کے بڈھے سے گل بانو کا چکر چل رہا تھا نا۔ بسمہ تو اتنی بچی ہے کیا۔ گل بانو کو نہیں جانتی وہ پڑھنا چاہتی تھی ایسے اچانک شادی کرے گی؟””

 ”تو فضول برے برے اندازے لگا رہی ہے کچھ ایسا ہوتا تو ہمیں ضرور بتاتی۔ ویسے بھی پڑھائی چھوڑنا کوئی اتنی بڑی بات تو نہیں نا بشرہ آپی کی شادی بھی میٹرک کے امتحانوں سے ایک مہینہ پہلے ہوئی تھی دولہا بھائی نے تو امتحان دینے کی اجازت بھی دے دی تھی بشرہ آپی خود ہی نہیں گئیں وہ تو بالکل سیٹ تھیں۔””

اسے خود بھی اپنے دلائل کھوکھلے لگ رہے تھے مگر یہی سب سے سنتی آئی تھی کہ لڑکی کے لیئے بس گھر بسنا ہی اہم ہوتا ہے۔

” بسمہ تیری بشرہ آپی سے کتنی بے تکلفی ہے؟ کتنی راز کی باتیں تم لوگ ایک دوسرے سے شئیر کرتے ہو؟”

 ”یار دوستی تو بالکل بھی نہیں، دونوں ہی بڑی بہنیں مجھے ابھی تک چھوٹا سمجھتی ہیں، جب بھی آتی ہیں امی اور دادی سے ہی کوئی باتیں کرتی رہتی ہیں میں ساتھ بیٹھتی ہوں تو امی کسی نا کسی بہانے سے اٹھا دیتی ہیں بقول دادی بیاہی لڑکیوں کی باتوں سے میرا کیا لینا دینا۔ مگر بات تو ان کے گھر میں خوش ہونے کی ہے نا وہ تو یہی بتاتی ہیں کہ وہ بہت خوش ہیں بلا وجہ جھوٹ تھوڑی بولیں گے؟”

 ”بسمہ جب پچھلے سال بائیولوجی کی ایک ڈائیگرام پہ میڈم نوشابہ نے تجھے بہت ڈانٹا تھا

اسکول جانے کی ہمت تو کیا ہوتی اسے تو بستر سے اٹھنا ہی مشکل لگ رہا تھا۔ سب سے پہلا خیال یہ آیا کہ اب تو امی کو پتا چل جائے گا کہ وہ واقعی پریشان ہے اور شاید وہ اپنے سخت رویئے پہ شرمندہ ہوں۔ اس نے تھوڑا سر گھما کے دیکھا دادی حسب معمول فجر کی نماز کے بعد تسبیح پڑھتے پڑھتے سوگئیں تھی۔ وہ اس کے اسکول جانے کے وقت عموما سو رہی ہوتی تھیں سب کے جانے کے بعد امی اپنے اور ان کے لئے چائے نکالتیں تب دادی ٹھیک سے جاگتی تھیں۔ وہ انتظار کرنے لگی کہ امی کو کب احساس ہو کہ وہ اسکول کے لئے تیار ہونے نہیں اٹھی۔ اسد ویسے تو ا سی اسکول جاتا تھا مگر اسے بھی پتا نہیں چلتا کہ بسمہ کب اسکول گئی کب نہیں جب سے اسے لگنے لگا تھا کہ وہ بڑا ہوگیا ہے اسے بسمہ کے ساتھ اسکول جانے میں شرمندگی ہوتی تھی۔ وہ اپنے کسی دوست کے ساتھ بائک پہ اسکول چلا جاتا تھا۔ وہ بلا وجہ ہی انتظار کرتی رہی کہ امی کب پریشان ہوکے اسے دیکھنے آئیں۔ بخار اتنا تیز تھا کہ وہ آدھی سوئی جاگی سے کیفیت میں یہ بھی بھول گئی کہ آج اتوار تھا۔ کافی دیر بعد امی اپنی اور دادی کے چائے لے کر کمرے میں آئیں تو ان کی نظر بسمہ پہ پڑی جو اس وقت غنودگی میں تھی دیکھتے ہی اندازہ ہورہا تھا کہ اس کی طبیعت ٹھیک نہیں ہے اس کا چہرہ تپتا ہوا محسوس ہورہا تھا اور خشک ہونٹ نیم وا تھے جس سے وہ گہرے سانس لے رہی تھی۔امی نے چائے کے کپ سائیڈ ٹیبل پہ رکھ کر پہلے دادی کو ہلایا۔

”اماں دیکھیں تو بسمہ کی طبیعت ٹھیک نہیں لگ رہی”

دادی ہڑبڑا کے اٹھیں ”ہیں کیا ہوا رات تو بھلی چنگی سوئی تھی کل اسکول میں کوئی الا بلا کھا لی ہو گی یہ ملعون اسکول والے بھی پیسے کمانے کے لالچ میں سڑی بسی چیزیں بچوں کو کھلا دیتے ہیں۔”

 ”بسمہ!بسمہ اٹھو بیٹا ” امی نے اس کا بازو ہلایا تو اس نے بہ مشکل آنکھیں کھولیں۔

”اٹھو گڑیا! تھوڑا ناشتہ کرو تو دوا کھلاوں دیکھو کتنا تیز بخار ہورہا ہے”

امی نے کلی کروا کے چائے ڈبل روٹی دی مگر اس سے وہ بھی نہیں کھائی گئی وہ دوا کھا کے دوبارہ لیٹ گئی۔ اس کی آنکھ دوبارہ کھلی جب امی نے اٹھایا کہ فائزہ کا فون آیا ہے اسے اندازہ ہوا کہ وہ چار پانچ گھنٹے سو لی تھی۔ چہرہ اور جسم پسینے سے بھیگ رہا تھا البتہ سر میں ابھی بھی درد ہورہا تھا۔ دادی معمول کے مطابق باہر لاونج میں بیٹھی تھیں۔ امی موبائل پکڑا کر دوبارہ باہر کام کرنے کے لئے چلی گئیں۔

اس نے نقاہت بھری آواز میں کہا ”ہیلو! آگئیں اسکول سے؟ ” دوسری طرف سے فائزہ کی حیرت بھری آواز آئی۔

 ”کیاہوگیا؟ بخار دماغ پہ چڑھ گیا ہے کیا؟ اتوار ہے آج۔آج بھی بھیج دے مجھے اسکول رحم کر یار تھوڑا۔ اچھا سن میں نے کال اسلیئے کی تھی کہ فزکس کا کل والا ٹاپک پوچھنا تھا میری لاسٹ کی کچھ لائنز رہ گئی تھیں ابھی آنٹی نے بتایا کہ تجھے بخار ہورہا ہے۔ کیا ہوگیا گرمی لگ گئی کیا؟”

فائزہ کافی نارمل لگ رہی تھی جیسے کل والی بات بھول گئی ہو یا اسے پروا نا ہو۔

 ”پتا نہیں یار ابھی ڈاکٹر کو تو نہیں دکھایا بس امی نے دو پیناڈول کھلا دی تھیں۔ اب تو کم لگ رہا ہے بخار۔ مگر یار۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔” وہ تھوڑا رکی ”فائزہ یار میں رات دیر تک گل بانو کے بارے میں سوچتی رہی تمہیں پتا ہے امی اور دادی کو پہلے سے اس کی شادی کا پتا تھا اور پریگنینسی کا بھی۔”

 ”ہاں یار میں بھی کل یہی سوچ رہی تھی امی کو بتایا تو انہیں بھی افسوس ہوا, امی بتا رہی تھیں کہ اس عمر میں تو شادی کروانا جرم ہے۔ سچی پہلے پتا ہوتا تو اس کے بڈھے ہسبینڈ کو پولیس سےپکڑوا دیتی۔ تجھے پتا ہے میں اتنا روئی امی کے سامنے۔ شکر ہے بسمہ یار میرے امی پاپا ایسے نہیں ہیں وہ کبھی میری شادی پڑھائی ختم ہونے سے پہلے نہیں کریں گے۔”

اور بسمہ کو چند لمحوں میں احساس ہوگیا کہ اس کا اصل صدمہ اور خوف کیا تھا۔ دوسری طرف فائزہ اپنی بات کہے جارہی تھی۔

 ”ہاں یہ تو بتا تو کہہ رہی تھی کہ آنٹی والوں کو پتا تھا تونے پوچھا نہیں کہ انہیں کس نے بتایا۔اس بار بھی سیماءآپی کی دیورانی والوں سے پتا چلا کیا؟”

” ہاں مجھے بھی یہی لگ رہا ہے۔تجھے پتا تو ہے کہ امی مجھے ایسی باتیں نہیں بتاتیں۔”

 ”شادی کا بتانے میں تو کچھ ایسا نہیں جو چھپایا جائے مجھے لگ رہا ہے مسئلہ کچھ اور ہے۔ دیکھ نا شادی پہلے سے طے ہوتی تو بانو ہمیں خود ہی بتا دیتی یہ اتنی جلدی میں اور چپکے سے شادی کچھ سمجھ نہیں آرہا مجھے بہت مسئلہ لگ رہا ہے۔مجھے لگ رہا ہے اسے خود بھی نہیں پتا تھا۔ ایسا کرتے ہیں شام میں امی کے ساتھ چکر لگاتی ہوں تیری طبیعت دیکھنے کا کہہ کر۔ باتوں میں امی کو تو بتا ہی دیں گی وہ لوگ۔”

فون بند کرتے ہی بسمہ شام کا انتظار کرنے لگی۔ بخار تو اتر گیا تھا مگر ابھی بھی نقاہت اور کمزوری کافی ہورہی تھی۔ کچھ کھایا پیا ہی نہیں جارہا تھا۔ امی دو بار ڈبل روٹی دودھ کے ساتھ کھلانے کی کوشش کر چکی تھیں اور ساتھ ہی جھنجھلا بھی رہی تھیں۔ دادی کی بڑبڑاہٹ بھی ساتھ جاری تھی۔ ”لو دیکھو ذرا! یہ آج کل کے بچے، ذرا دم نہیں ہے۔ ان کی عمر میں ہم تو پیٹ سے ہو کر بھی سب کام کرتے تھے۔ فجر ہوتے ہی ساس مرحومہ بستر سے کھڑا کر دیتیں کہ شریف گھرانوں کی بہوئیں دن چڑھے تک کمروں میں نہیں رہتیں۔ اب حالی ہو بیماری ہو مرحومہ دوبارہ کمرے میں نہیں جانے دیتی تھیں ایسے نخرے ہمارے اٹھائے گئے ہوتے تو پل گئے تھے بچے۔”

وہ دادی کی باتیں سن سن کر کڑھتی رہی وہ اپنی ساس کے رویئے کا سگی ماں کے رویئے سے مقابلہ کر رہی تھیں۔ اسے امید ہوئی شاید امی اس کی حمایت میں بولیں گی۔ ویسے بھی صبح سے لہجہ تھوڑا نرم ہی تھا۔

امی برتن اٹھا کر جانے لگیں دادی بھی پیچھے پیچھے نکلیں۔

 ”بہو تم نے لاڈ پیار کر کے نازک بنا دیا ہے چلو لڑکے تو ہوتے ہیں نخرے والے، نہ انہیں پرائے گھر جانا ہے مگر لڑکی ذات کا تو بڑا خیال رکھنا پڑتا ہے پرائے گھر میں کون سے اماں باوا ہونگے جو ایسے نخرے سہیں۔”

”اماں آپ خود دیکھ رہی ہیں میں کیا کروں آج کل کی اولاد ہی بے حس ہوگئی ہے تو کیا کیا جائے۔ خود دیکھ رہی ہے کہ ماں صبح سے رات تک کام میں لگی ہوتی ہے ایسے میں بیماری کے نخرے بھی اٹھانے پڑتے ہیں۔ اور ہم خود بیمار ہو جائیں تو کوئی پانی کو بھی نہیں پوچھتا بس ہر ایک کو اسکول آفس سے آکر سب تیار چاہیئے جیسے ماں تو انسان ہی نہیں۔”

اسے دکھ اور شرمندگی کے احساس نے ایک ساتھ گھیر لیا۔ اسے شدید رونا آیا ”کیا وہ جان بوجھ کے بیمار ہوئی ہے؟”

وہ اپنا دھیان ہٹانے کے لئے فائزہ اور اس کی امی کے آنے کا سوچنے لگی وہ آئیں تو گل بانو کے معاملے کی تفصیل پتا چلے۔ اب اسے خود بھی لگ رہا تھا کہ کچھ زیادہ سنجیدہ مسئلہ ہے۔

شام میں تقریبا 6 بجے کے بعد فائزہ اپنی امی (نفیس آنٹی جنہیں محلے میں میڈم نفیس کے نام سے پکارا جاتا تھا) کے ساتھ آئی۔ نفیس آنٹی اس کے لئے جوس اور پھل بھی لے کر آئی تھیں۔

وہ نکل کر باہر لاونج میں آئی تو آنٹی نے آگے بڑھ کر غیر محسوس انداز میں اسےسہارا دیا۔

”ارے واہ بسمہ بیٹا! آپ تو بہت بہادر ہیں۔ میں تو بیمار پڑ جاوں تو بستر کی جان نہیں چھوڑتی”

یہ جملہ اگر اس کے سامنے کسی اور کو کہا جاتا تو وہ نفیس آنٹی کی بچکانہ بات پہ دل میں بہت ہنستی مگر اس وقت اسے یہ سن کر کتنا اچھا لگا یہ وہی جان سکتی تھی۔ ایسا لگا ساری کمزوری صرف رویوں کی تھی جو ذراسی شفقت ملنے پہ گم ہوگئی۔ اسے واقعی لگا کہ اس نے کوئی بہادری کا کام کیا ہے جو ٹارزن اور ہرکولیس بھی نا کر پائے ہوں۔

وہ اور فائزہ وہیں قریب کے صوفے پہ بیٹھ گئیں۔

 ”اور بھئی اسٹرونگ گرل (مضبوط لڑکی) اتوار کی بجائے پیر کو بخار چڑھانا تھا نا، چھٹی کرنے کا مزا بھی آتا۔” ان کی بات پہ بسمہ بے ساختہ مسکرا دی۔

 ”ارے بخار وخار کیا ہونا ہے بس دوست کی اچانک شادی کو دل سے لگا لیا ہے۔ آخر کو بچپن کا ساتھ ہے ہماری بچی ویسے بھی محبت کرنے والی بچی ہے اپنے پرائے کی تکلیف پہ پریشان ہوجاتی ہے۔”

یہ دادی تھیں۔

 ”کاش دادی یہ بات آپ نے مجھ سے کہی ہوتی۔ آپ کو نہیں پتا کہ اتنا سا خیال اور توجہ کتنی ہمت دیتا ہے۔” وہ صرف سوچ کے رہ گئی۔ پتا نہیں امی اور دادی کی اصل سوچ کیا ہے ابھی والی یا پہلے والی۔

 ”ویسے بھابھی بچاری بچی کے ساتھ ظلم بھی بہت ہوا ہے ” توقع کے مطابق امی بغیر کسی محنت کے تفصیل بتانے کے لیئے ریڈی تھیں۔ حسب عادت انہوں نے نفیس آنٹی کو بھابھی کہا جبکہ فائزہ، آنٹی کی سب سے بڑی بیٹی تھی اور آنٹی بھی ینگ ہی لگتی تھیں۔ مگر امی کے بقول ان کی شادی جلدی ہوگئی اسی لیے بچے بڑے بڑے ہیں ورنہ تو وہ ابھی جوان ہیں۔ اور نفیس آنٹی سے کافی چھوٹی بھی۔ بلکہ امی تو محلے کی عموما شادی شدہ خواتین کو بھابھی ہی کہتی تھیں بھلے ان کے بچے اسد سے چھوٹے ہی کیوں نا ہوں۔ ہاں کچھ خواتین جواب میں امی کو خالہ کہہ کر حساب چکا دیتی تھیں۔

بسمہ کل سے اپنے دماغ میں ابل ابل کر آنے والی سوچوں سے پریشان تھی۔ آج بھی امی کے بھابھی کہنے پہ پتا نہیں کہاں تک چلا گیا اس نے سر جھٹک کر امی کی بات پہ دھیان دیا۔

 ”ہمیں تو پچھلے مہینے سیما نے بتایا۔ سچ اتنا دکھ ہوا کیسی چھوٹی سی بچی کے ساتھ ایسا ظلم کردیا۔ اس کی دیورانی کی بہن جاتی ہے نا میلاد پڑھنے اسی سے پتا چلی سب تفصیل۔”

 ”تو اتنی جلدی میں شادی کرنے کی کیا ضرورت پڑ گئی تھی کچھ مہینے انتظار کر لیتے بچی میٹرک تو پورا کر لیتی۔ ایسے بیچ میں پڑھائی چھڑوائی۔”

 ”ارے بھائی کے کرتوت بھگت رہی ہے بچاری، سیما بتا رہی تھی گل بانو کے بھائی نے گاوں کی دوسری برادری کی لڑکی سے بھاگ کر شادی کر لی ہے بلکہ خدا جانے کی بھی ہے یا۔۔۔۔۔۔ بھئی ان دیہاتیوں کو شریعت کا کیا پتا کلمہ بھی آ جائے تو بڑی بات ہے۔ خیر اب وہ دونوں تو روپوش ہیں۔ جرگے نے عوض میں پانچ لاکھ جرمانہ اور گل بانو کا نکاح لڑکی کے چاچا سے کرنے کا فیصلہ دیا۔ مجھے تو سوچ سوچ کے ایسا ترس آتا ہے بچی پہ ایسی پیاری سلجھی ہوئی بچی نماز روزے کی پابند بس بھابھی کیسے گنوار لوگ ہوتے ہیں یہ گاوں والے بھی۔”

امی کے لہجے میں درد ہی درد تھا جو کل کہیں بھی محسوس نہیں ہوا۔ کل تک ان کے لئے یہ شادی ٹھیک تھی۔

اب دادی نے تفصیل کا چارج سنبھالا ” بس نا پوچھو مجھے تو بتاتے شرم آ رہی ہے تین دن بچی اسپتال رہ کر آئی ایسا حال کیا ظالم نے پہلی رات۔”

بسمہ کا دماغ سائیں سائیں کرنے لگا اس کا شدت سے دل چاہا کہ اس کا مطلب وہ نا ہو جو اسے لگ رہا ہے اس نے فائزہ کی طرف دیکھا جس کے چہرے پہ بھی اسی سے ملتے جلتے تاثرات تھے۔ مگر نفیس آنٹی کی بات نے ان کے شک پہ یقین کی مہر لگا دی۔

 ”خالا یہی مسئلہ ہے ہمارا، ہم قانون کو صرف تب مانتے ہیں جب اپنا مفاد ہو ورنہ سب کو پتا ہے کہ کم عمری کی شادی جرم بھی ہے اور خطرناک بھی۔ ہم اپنے ہاتھوں سے اپنی بچیوں کو مرنے کے لیئے بھیج دیتے ہیں ورنہ اس عمر میں بچی کا جسم بہت نازک ہوتا ہے ازدواجی تعلقات کے لیے بھی اور حمل کے لئے بھی۔”

 ”نفیس بیٹا برا نہیں ماننا ہم اپنی بچیوں کے سامنے ایسی باتیں نہیں کرتے۔ تبھی ہماری بچیاں ابھی تک اتنی معصوم ہیں۔ زمانے کی ہوا تک نہیں لگنے دیتے ہم انہیں۔”

دادی کو ایکدم اخلاقیات یاد آگئیں۔

 ”معافی چاہتی ہوں خالہ۔ مگر واقعی افسوس بہت ہوا اس کا حال سن کر۔ چلیں بسمہ بیٹا آپ آرام کریں ہم چلتے ہیں۔ فائزہ بیٹا بسمہ کو اس کے روم تک چھوڑ آو بچی بیٹھے بیٹھےتھک گئی ہوگی۔”

آنٹی کہتے ہوئے کھڑی ہوگئیں۔ دادی نے بے مروتی کا مزید مظاہرہ کیااور اپنا پاندان کھول کے بلاوجہ اس میں مگن ہوگئیں۔

بسمہ شرمندہ سی فائزہ کے ساتھ روم میں آگئی۔

”فائزہ سوری یار دادی بس جو منہ میں آتا ہے بول دیتی ہیں تم میری طرف سے آنٹی سے معذرت کرلینا۔”

 ”کوئی بات نہیں یار ہمیں پتا ہے ان کی عادت کا دوسرا امی کیونکہ روز یہ موضوع کالج میں پڑھائی ہیں تو انہیں یہ اتنا عجیب نہیں لگتا جتنا عموما خواتین کو لگتا ہے امی کے بقول ایسی باتوں میں ذومعنی اصطلاحات بات کو زیادہ نامناسب بنا دیتی ہیں۔ ”فائزہ ہلکے سے ہنسی۔ ”چل بس تو آرام کر کل اسکول میں ملتے ہیں۔”

بسمہ بستر پہ بیٹھی اسے جاتا دیکھتی رہی پھر تھکن زدہ انداز میں لیٹ گئی۔ وہ سوچنے لگی کہ آنٹی نے ایسی کونسی ناموزوں بات کہہ دی تھی جو دادی نے نہیں کی تھی صرف الفاظ کا ہی تو فرق تھا بات تو ایک ہی تھی نا۔ بس مختلف بات تو یہ تھی کہ بچیوں کی کم عمری میں شادی نہیں کرنی چاہئے تو کیا ‘یہ’ بات دادی کے لیئے غیر اخلاقی تھی؟ اور اگر گل بانو اسی وجہ سے اسپتال میں داخل ہوئی تھی تو مطلب آنٹی کا موقف ٹھیک تھا۔ مگر ایسا کیسے ہوسکتا ہے یہ تو بہت نازک اور رومانوی رشتہ ہے دادی نے یا تو کسی اور حوالے سے کہا ہوگا جسے آنٹی نے یہ معنی پہنا دیئے۔ مگر وہ تو زولوجی کی ٹیچر ہیں انہیں ٹھیک سے نہیں پتا کیا؟ پھر اسے یونہی خیال آیا کہ دادی کو تو ویسے بھی نفیس آنٹی پسند نہیں تھیں۔

اور اس ناپسندیدگی کی ان کے پاس ایک بہت مضبوط وجہ تھی وہ یہ کہ وہ باہر مردوں کے ساتھ کام کر کے پیسے کماتی ہیں۔ دادی کے مطابق عزت دار عورت بھوکی مرجاتی ہے مگر خود کو مردوں میں لے جاکر ذلیل نہیں کرتی۔ ان کے خیال میں باہر نکل کر کام کرنے والی عورتیں صرف مردوں سے بات کرنے کے شوق میں گھر سے باہر نکلتی ہیں۔ بسمہ بھی دادی کی باتوں پہ آنکھیں بند کرکے یقین کرتی تھی مگر اس کے باوجود نفیس آنٹی سے مل کر اسے ہمیشہ بہت اچھا لگتا تھا۔ وہ ہمیشہ فائزہ سے بہت نرم لہجے میں بات کرتی تھیں دادی کے بقول اسی نرمی نے فائزہ کو بگاڑ دیا ہے لڑکیوں والی حیا شرم تو ہے ہی نہیں اس میں بے نتھا بیل بن گئی ہے۔ جبکہ امی کا خیال تھا کہ یہ صرف دکھاوا اور منافقت ہے ہر ماں اپنی اولاد سے ایسے ہی بات کرتی جیسے امی کرتی ہیں کچھ مائیں دوسروں کے سامنے منافقت دکھاتی ہیں جو امی کو نہیں آتی کرنی۔

پہلے کبھی اس نے ان باتوں پہ غور ہی نہیں کیا بس جو اور جیسا دادی اور امی نے کہہ دیا اس نے مان لیا۔ اب اسے حیرت ہورہی تھی کہ اب وہی باتیں الگ زاویئے سے نظر آرہی تھیں۔ جن پہلووں پہ اس نے کبھی غور نہیں کیا آج اسے اندازہ ہو رہا تھا کہ وہ بھی سامنے کی ہی باتیں تھیں جنہیں وہ نظر انداز کرتی رہی۔ اس نے نفیس آنٹی کو کبھی برقعہ پہنے نہیں دیکھا جس پہ امی اور دادی دوسری محلے کی عورتوں کے ساتھ مل کے خوب باتیں بھی بناتی تھیں مگر محلے کے تقاریب میں نفیس آنٹی کا لباس امی اور ان دوسری تمام عورتوں سے زیادہ شائستہ ہی ہوا کرتا۔ وہ امی کی طرح خوبصورت نہیں تھیں مگر ان کی خود اعتمادی ان کی کم صورتی پہ حاوی رہتی۔ جبکہ امی کی کوشش ہوتی کہ جب وہ خوبصورت ہیں تو ہر تقریب میں وہی چمکتی نظر آئیں۔ ہر تقریب میں جاتے ہوئے انہیں لگتا کہ آج تو ان کی تیاری نفیس آنٹی کو جلا دے گی مگر کبھی ایسا نہیں ہوا۔ پتا نہیں کیسا مقابلہ تھا یہ یک طرفہ۔ امی کا وزن عمر کے ساتھ بڑھ رہا تھا مگر ان کی کوشش ہوتی کہ کپڑوں کا ناپ وہی پرانا رہے وہ پڑوس کی عورتوں میں بیٹھ کے فخر سے کہتی تھیں کہ بچے جوان ہوگئے مگر ان کا اور ان کی بڑی بیٹی کے کپڑوں کا ایک ناپ ہے۔ جو فرق نفیس آنٹی اور امی کی پہننے اوڑھنے میں تھا وہی اس کی اور فائزہ کی پہننے اوڑھنے میں تھا۔ ویسے فائزہ ہر جگہ سادہ دوپٹہ اوڑھ کے جاتی وہ بھی کبھی سر پہ کبھی گلے میں مگر اس کے کپڑے ہمیشہ سادے ہوتے چاہے کوئی تقریب ہی کیوں نا ہومگر بسمہ کو امی باہر جاتے میں بار بار ٹوک کے دوپٹہ اور اسکارف سر پہ رہنے کی تاکید کرتیں مگر شادیوں میں کبھی اسکارف نہیں پہننے دیتی تھیں۔ پچھلی ایک دو شادیوں میں تو پارلر سے ہیئر اسٹائل بھی بنوایا تھا۔

بسمہ سوچے جارہی تھی اور سوچیں تھیں کہ ختم ہی نہیں ہورہی تھیں۔ بس گل بانو کی طرف دھیان جا بھی رہا تھا تو وہ خود سے جھٹک دیتی تھی۔ رات کے کھانے تک اسے اپنی طبیعت کافی بہتر محسوس ہونے لگی تھی۔ مگر اب بھی چلتے میں یا کوئی کام کرنے میں ہاتھ کانپتے محسوس ہورہے تھے۔ مگر کھانا کھا کے وہ برتن دھونے کھڑی ہوگئی دماغ پہ ایک دھن سی سوار ہوگئی تھی کہ دادی اور امی کو دکھانا ہے کہ وہ نا تو کمزور ہے نا بے حس۔ برتن دھوتے میں دو بار وہ تھک کر بیٹھ گئی مگر تھوڑا سستا کر دوبارہ کام میں لگ گئی اور برتن پورے کر کے ہی چھوڑے۔ آہستہ آہستہ صبح کے لیئے یونیفارم پہ استری کی۔ یہ سب کر کے ہی اتنی تھکن ہوگئی کہ وہ بستر پہ لیٹتے ہی سو گئی۔

اگلی صبح سے سب پہلے جیسا روٹین تھا۔ وہ فائزہ سے گل بانو کے بارے میں بات ہی نہیں کر رہی تھی۔ وہ میاں بیوی کے رشتے کی نزاکت اور رومانویت برقرار رکھنا چاہتی اسے ڈر تھا کہ اس نے تفصیل سے بات کی تو یہ سب ختم ہوجائے گا وہ چاہتی تھی کہ دادی کی بات کامطلب وہ رہے جو وہ سمجھنا چاہتی ہے وہ نا ہو جو نفیس آنٹی نے بتایا۔ یہ کوئی اتنی سی بات نہیں تھی اس کے تصورات کی افسانوی دنیا کا دارومدار اسی نازک رومانوی تعلق پہ تھا۔ وہ جیسا یہ سب تصور کرتے ہوئے محسوس کرتی وہ سب سے منفرد تھا وہ اس احساس کو کھونا نہیں چاہتی تھی۔ دن رات تیزی سے گزرتے جارہے تھے میٹرک کا سال پورا ہورہا تھا۔ امی اب ہر چھوٹی بڑی تقریب میں اسے تیار کروا کر لے جاتیں اور ہر خاتون سے اس کا تعارف کرواتیں اور یہ بتانا نہ بھولتیں کہ بڑی دونوں بیٹیاں بیاہ دی ہیں اور بسمہ بھی میٹرک کرنے والی ہے بس جیسے ہی کوئی شریف خاندان ملا اس کے فرض سے بھی سبکدوش ہونا ہے۔ اس سب کے دوران پتا نہیں کیوں ناچاہتے ہوئے بھی بسمہ کا جسم کچھ لمحوں کے لئے ٹھنڈا پڑ جاتا اور سانس رکتی محسوس ہوتی۔

اسے پتا بھی نہیں چلا کہ کب اس کے دل میں خوف بیٹھ گیا

سوتے میں عجیب سے خواب آتے، کبھی وہ دیکھتی کہ وہ دلہن بنی ہوئی ہے اور فائزہ کہہ رہی ہوتی زبردستی کی شادی رومینٹک ہوتی ہے کیا؟ کبھی دادی کہہ رہی ہوتیں کہ ظالم نے وہ حال کیا کہ تین دن اسپتال میں رہ کر آئی، کبھی امی کہہ رہی ہوتیں اچھا ہوا بچی اپنے گھر کی ہوگئی۔ کبھی گل بانو نظر آتی مگر اسے لگتا کہ وہ گل بانو نہیں بسمہ خود ہے۔ کبھی گل بانو کی شکل بشرہ آپی سے ملنے لگتی۔

اس کے دل میں یہ خیال جڑ پکڑنے لگا کہ گھر والے شادی کرائیں گے تو اس کا بھی گل بانو جیسا حال ہوگا اور گھر والوں کو کوئی فکر نہیں ہوگی۔ اس کے دل و دماغ میں جنگ سے چھڑ گئی تھی۔ ایک طرف بچپن سے سیکھی ہوئی اقدار اور ایک طرف اس کا خوف جو اسے غیر منطقی لگ رہا تھا مگر پھر بھی وہ اس سے پیچھا نہیں چھڑا پارہی تھی۔ اسے پتا تھا کہ وہ اچھی بیٹی ہے اور والدین کی نافرمانی کبھی نہیں کرے گی مگر اسے یہ بھی لگتا تھا کہ گھر والوں نے زبردستی شادی کردی تو خوف سے اس کا دل رک جائے گا۔ گھر پہ شادی کی بات نکلتی تو وہ الجھنے لگتی۔ ایک دو دفعہ تو اس نے کہہ بھی دیا کہ امی مجھے ابھی شادی نہیں کرنی آپ لوگوں کے پاس رہنا ہے آپ کا اور ابو کا خیال رکھنا ہے۔

دوسری طرف اسکول جاتی تو جان بوجھ کر اسلم کے سامنے جاتی وہ اب چاہنے لگی تھی کہ اسلم اس سے کچھ کہے کسی طرح اسے اس ذہنی اذیت سے نکال لے۔ اس ماحول سے دور لے جائے۔ کبھی کبھی وہ سوچتی اسلم نہیں تو ارمغان ہی سہی۔ مگر زبردستی کی شادی نا ہو۔ پھر خود ہی خیال جھٹک دیتی، اتنی عام سی صورت والے بندے کے ساتھ پوری زندگی گزارنا اسے بہت مشکل لگتا تھا۔

جیسے جیسے سال ختم ہورہا تھا اس کی ٹینشن برھتی جارہی تھی اسلم کچھ کہتا نہیں تھا جبکہ اس کےانداز سے ہی ظاہر تھا کہ وہ بھی بسمہ کو پسند کرتا ہے۔ دوسری طرف گھر میں دولہا ڈھنڈائی کی مہم زور پکڑتی جارہی تھی۔ ایک دو دفعہ اس نے آگے پڑھنے کا بہانہ بھی کیا جسے سختی سے رد کردیا گیا۔ بقول دادی ”جب اگلے گھر جاکر چولہا چوکی کرنی ہے تو پیسا ضائع کرنے کا کیا فائدہ۔ ویسے بھی باپ بیچارا تین تین دفعہ جہیز جمع کرکے آدھا ہوگیا۔ تجھے کیا پتا بے بیاہی بیٹی کیسے سل جیسی ہوتی ہے ماں باپ کے سینے پہ۔” ساتھ ہی یہ طعنہ بھی ملتا کہ دماغ آسمان پہ پہنچ گئے ہیں تعلیم حاصل کر کے۔

اسے کبھی بھی اس طعنے کی وجہ سمجھ نہیں آتی تھی۔ اسے دن میں کئی بار دادی، ابو، امی، بڑے بھیا سے یہ طعنہ یا اس سے ملتا جلتا طعنہ سننے کو ملتا ہی رہتا کہ وہ سست ہے، فضول خرچ ہے، بڑوں کا ادب لحاظ نہیں ہے یا اس کا دماغ آسمان پہ ہے وغیرہ اور وہ ہر دفعہ ہر طعنے کے بعد خود کو اور محدود کر لیتی۔ کپڑے عموما امی کی پسند سے آتے تھے، روز کا جیب خرچ بیس روپے ملتا تھا جو کہ اسد کو 100 روپے ملتا تھا اور فرمائش پہ ہفتے میں دو تین بار زیادہ بھی مل جاتا کیونکہ وہ لڑکا ہےاور دوستوں کے ساتھ ادھر ادھر جاتا ہے تو خرچہ کرنا ہی پڑتا ہے۔

امی ہر تقریب میں بسمہ کے لئے چمکیلے سوٹ کے ساتھ سیل سے چمکیلی سینڈل لے آتی تھیں مگر اسکول کے جوتے کب کے خراب ہورہے تھے وہ اگر کہتی بھی تھی کہ تلا گھس گیا ہے اور پیر میں تکلیف کرتا ہے تو کوئی نا کوئی دماغ آسمان پہ ہونے کا تاریخی جملہ بول دیتا اور وہ چپ ہوجاتی۔ بھیا کے پرانے جوتوں میں سے اندر کا تلا نکال کر کئی بار بدل چکی تھی۔

جنوری شروع ہوتے ہی فائنل ایگزامز اور فئیرویل کی تیاریاں ایک ساتھ شروع ہوگئیں۔ فائزہ کو تو کوئی ٹینشن نہیں تھی اس کا کہنا تھا کہ اس کے پاس کافی کپڑے پڑے ہیں اور بسمہ کو پتا تھا کہ ہمیشہ کی طرح اس کے کپڑے سادہ مگر جاذب نظر ہونگے بسمہ کو اپنے کپڑوں کی فکر تھی۔ جو چمکیلے کپڑے وہ نجی تقاریب میں پہن کر جاتی تھی اگر وہ اسکول میں پہن کر آجاتی تو دوسری لڑکیاں اس کا بہت مذاق اڑاتیں۔ اور اسلم کیا سوچتا کہ اسے کوئی ڈریسنگ سینس ہی نہیں۔یہی سوچ کر اس نے عید پہ ملی ہوئی عیدی بھی بچا کے رکھی تاکہ اپنی پسند کے کپڑے لے سکے۔ اب ساری ٹینشن امی سے اجازت لینے کی تھی۔ بہت سوچ سمجھ کر اس نے آہستہ آہستہ فئیرویل کی تیاریوں کا تذکرہ امی کے سامنے کرنا شروع کردیا۔ اسے پتا تھا امی زیادہ غور سے نہیں سنیں گی اس لئے بار بار ایک جیسی باتیں دہراتی کہ کوئی بات تو ذہن میں رہ جائے گی۔ ایک دفعہ تو امی نے چڑکر کہہ دیا کہ بسمہ آجکل تم بہت دماغ کھانے لگی ہو، لڑکیوں کی ہر وقت کی چیں چیں اچھی نہیں لگتی۔ کبھی وہ بتاتی کے آج ٹیچرز کے لئے ٹائٹل نکالے،کبھی یہ کہ کلاس کی دوسری لڑکیاں اپنے کپڑے دکھانے لائی تھیں اور کبھی بتاتی کہ لڑکوں نے اتنا شور مچایا کہ کوئی تیاری ہی نہیں کرنے دی۔ پھر ایک دن باتوں باتوں میں بات کو بہت سرسری سا بنا کر کہا

 ”امی آج ٹیچر کہہ رہی تھیں کہ آپ سب گھر کے کپڑوں میں آیئے گا۔ کلاس کی لڑکیاں بھی پوچھ رہی تھیں تم کیا پہنو گی۔” پھر خود ہی کہنے لگی۔

 ”امی میں سوچ رہی ہوں آپ نیئے سیزن کے لیئے جو کپڑے بنوائیں گی میں اس میں سے ایک رکھ لوں گی۔ ایک بار فئیر ویل میں پہن کر گھر میں استعمال ہوجائے گا۔ اب فضول میں خرچہ کرنے کا کیا فائدہ؟”

امی حسب عادت جواب دیئے بغیر کام میں لگی رہیں۔

امی بتائیں نا یہ ٹھیک رہے گا؟” اس نے اپنی عادت کے برخلاف اصرار کیا۔ ”

”اف ہاں بھئی جو مرضی آئے کرو میرا دماغ نا کھاو”

وہ ایکدم ایکسائٹڈ ہوگئی۔

جاری ہے۔۔۔۔۔

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

افسانے کی حقیقی لڑکی ابصار فاطمہ جعفری قسط نمبر 6

افسانے کی حقیقی لڑکی ابصار فاطمہ جعفری قسط نمبر 6 میری اذیت بڑھتی جارہی تھی۔ …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے