سر ورق / یاداشتیں / ست رنگی دنیا ٭ میری کہانی ٭ ضیاءشہزاد ٭ قسط نمبر 11

ست رنگی دنیا ٭ میری کہانی ٭ ضیاءشہزاد ٭ قسط نمبر 11

ست رنگی دنیا
٭
میری کہانی ٭ ضیاءشہزاد
٭
آندھیاں غم کی یوں چلیں، باغ اجڑ کے رہ گیا
قسط نمبر 11
٭
بھائی اسلام جلدی سے بولے۔٬٬ ابا،۔ ۔ ۔ ۔ میں نے اسے بہت مارا ہے۔ ۔ ۔ اب دادا ہی اس سے نمٹیں گے۔،،
اسی وقت میرے ابا بھی حویلی سے باہر آگئے، انہوں نے مجھے دیکھا تو بے اختیار میری طرف دوڑے اور اپنی گود میں اٹھالیا۔ میرے ابا کا چہرہ خوشی سے کھلا جا رہا تھا ،۔ ۔ ۔ وہ بار بار میرا منہ چوم رہے تھے ۔ پھر ان کی نظر پیچھے کھڑے ہوئے اس آدمی پر پڑی جس کے بندھے ہوئے ہاتھوں کو بھائی اسلام نے پکڑ رکھا تھا ۔۔ ۔ ابا کی تیوری پر بل پڑ گئے اور انہوں نے بڑے ابا سے پوچھا۔٬٬ یہ سسرا کون ہے ۔ ۔ ۔ اور اسلام نے اس کے ہاتھ کیوں باندھ رکھے ہیں۔،،
٬٬ یہ حرامزادہ ۔ ۔ ۔ ہمارے ضیاءالدین کو اپنے کندھے پر لادے بھاگ رہا تھا ۔ ۔ ۔ وہ تو اسلام اور فاروق نے اسے پکڑ لیا تھا ورنہ خدا جانے یہ کہاں لے جاتا،،۔ بدرالدین بڑے ابا نے جواب دیا
٬٬اس کی تو ایسی تیسی ۔ ۔ ۔ خون پی جاﺅں گا سالے کا ۔ ۔ ،، میرے ابا اس آدمی کی طرف لپکے لیکن بڑے ابا نے انہیں آگے بڑھ کر روک لیا۔٬٬ نہیں فخر الدین۔ ۔ ۔ رک جاﺅ۔ ۔ ۔ اسے ابا کے پاس لے چلتے ہیں،۔ ۔ ۔ وہی اس سے نمٹیں گے ۔،،
ابا رک گئے ۔ ۔ ۔ ان کی آنکھیں سرخ ہو گئی تھیں جس سے میں بھی ڈر گیا تھا۔
٬٬ چل بے ۔ ۔ ۔ اندر چل دادا کے پاس ۔ ۔ ۔ وہ تیری کھال ادھیڑ دیں گے ۔ ۔ ۔ تجھے پتہ چل جائے گا کہ بچے کو کیسے لے کر بھاگتے ہیں ۔ ۔ ۔ چل اندر چل ۔ ۔ ۔ ،، بھائی اسلام نے اس کی کمر پر ایک دوہتڑ مارا اور اسے حویلی کے دروازے کی طرف دھکیلا۔
٬٬ مہاراج ۔ ۔ شما کر دو ۔۔ ۔ شما کر دو مہاراج ۔ ۔ مر جاﺅں گا ۔ ۔ ۔ باپ کی توبہ ۔ مجھے چھوڑ دو،،۔اس نے اپنے بندھے ہوئے ہاتھ جوڑے ۔ ۔ ۔ ٬٬ مجھے پتہ ہے مہاراج دادا سراجو بڑے گسے والا ہے ۔ ۔ مجھے مار دے گا جان سے ۔ ۔ ۔ شما کردو مہاراج۔،،
٬٬ یہ ایسے نہیں چلے گا ۔ ۔ ۔ اس کی ڈنڈ ا۔ ۔ ۔ ۔ ڈو ۔ ۔ ڈولی کر کے ۔ ۔ ۔لے چلو دادا کے پاس ،، ۔ فاروق بھائی ہکلاتے ہوئے بولے۔
٬٬ہاں ۔ ۔ ۔ اس کو ڈنڈا ڈولی کر کے ہی لے چلو اسلام ۔ ۔ ۔ یہ ایسے نہیں مانے گا۔ بڑے ابا نے کہا ۔۔ ۔ اور اس کے ساتھ ہی بھائی اسلام نے اس آدمی کی کولی بھری اور اسے اپنے دونوں ہاتھوں میں اٹھا لیا۔ ۔ ۔ فاروق بھائی بھی آگے بڑھے اور اس کی دونوں ٹانگیں تھام لیں۔ اور دونوں مل کر اسے حویلی میں لے گئے۔ ابا نے مجھے گود میں اٹھالیا اور ہم سب حویلی کے اندر چلے گئے۔ بڑے ابا بدر الدین باہر ہی رہے ۔ ۔ ۔ میرے ابا نے ان سے پوچھا۔٬٬ بھائی ۔ ۔ کیوں رک گئے ۔ ۔ ۔ آﺅ نا اندر ۔،،
٬٬ وہ کلو اپنے گھر کی طرف گیا تھا ۔ ۔ ۔ وہ آتا ہی ہوگا ، ۔ ۔ ۔ میں اسے ساتھ لے کر آتا ہوں تم سب اندر جاﺅ۔ ،، بڑے ابا بولے اور وہ حویلی کے دروازے پر ہی کھڑے رہے۔
میرا دل بری طرح ہول رہا تھا ۔ ۔ ۔ مجھے ڈر لگ رہا تھا اور میں ابا کی گود میں بری طرح ان سے چپکا ہوا تھا ۔ ۔ ۔ ۔ میں جانتا تھا کہ دادا ابا کو جب غصہ آتا ہے تو پھر انہیں کچھ نظر نہیں آتا اور سامنے والے کی خیر نہیں ہوتی ۔۔ ۔ ۔ میں نے ایک بار انہیں بہت ہی غصے میں دیکھا تھا ۔ جب ہماری حویلی میں ایک بار پتلی تماشا ہوا تھا ۔ ۔ ۔ یہ بہت دن پہلے کی بات تھی ۔
ابا اس روز دلی سے میرے لئے مٹھائی اور ریڑھو لائے تھے جسے چلاتے تھے تو اس میں سے گھنٹی بجنے کی آواز آتی تھی ۔ ۔ ۔ اس روز میں بہت خوش تھا اور خوب ریڑھو چلا چلا کر خوش ہو رہا تھا۔ مجھے یاد ہے کہ وہ دن کا وقت تھا اور اماں صحن میں بیٹھی کھانا پکا رہی تھی ۔ ۔ ۔ اور بار بار مجھ سے کہہ رہی تھی کہ بس بیٹا تو تھوڑی دیر اور ریڑھو چلا لے ۔ ۔ بس ابھی روٹی پک جائے تو تجھے کھلاﺅں گی ۔ ۔ ۔ ۔ سالن بن گیا ہے ۔ ۔ میں نے پکا لیا ہے ۔ ۔ ۔ بس اسلام کی بیوی محمودن ابھی روٹی پکائے گی ۔
مجھے بھوک تو لگ رہی تھی مگر میں ریڑھو چلانے میں مگن تھا ۔ ۔ ۔ اسی وقت پتلی کا تماشا دکھانے والے ہماری حویلی کے دروازے پر آ گئے تھے۔ ایک آدمی ڈفلی بجاتے ہوئے زور زور سے چلا رہا تھا ۔ ۔ ۔ ۔٬٬ پتلی کا ناچ دیکھو رے۔ ۔ ۔ پتلی کا ناچ ۔ ۔ ۔ بیگم بادسا کی لڑائی دیکھو رے ۔ ۔ پتلی کا تماسا دیکھو ۔،، میں نے اپنی حویلی کے دروازے پر پہلی بار کسی کو اس طرح آواز لگاتے اور ڈفلی بجاتے سنا تھا ۔ میں نے جب یہ سنا تھا تو اماں سے پوچھا تھا ٬٬ اماں ۔ ۔ اماں ۔ ۔ یہ پتلی کیا ہوتی ہے ۔،،
٬٬ پتلی ۔ ۔ چھوٹی چھوٹی گڑیا ہوتی ہیں جس کو نچاتے ہیں۔،،
٬٬ کون نچاتا ہے ماں ان کو۔،، میں نے اماں سے پوچھا تھا
٬٬ ارے وہی جو باہر آواز لگا رہا ہے ۔ ۔ ۔ ڈھول بجا رہا ہے۔،، اماں نے جھنجھلا کر کہا تھا
٬٬ اماں میں بھی پتلی دیکھوں گا۔،، میں نے دونوں ہاتھوں سے تالی بجاتے ہوئے کہا تھا
٬٬ نہیں ، نہیں تو ابھی بچہ ہے ۔ ۔ ۔ بچے پتلی کا تماشا نہیں دیکھتے ۔ ۔ تو ڈر جائے گا۔،، اماں نے جھٹ سے منع کر دیا تھا
٬٬ نہیں اماں ۔ ۔ ۔ میں ڈرتا نہیں ہوں ۔ ۔ ۔ میں اب بڑا ہو گیا ہوں ۔ ۔ ۔ دادا سے پوچھ لو ۔،، میں نے اکڑ تے ہوئے کہا تھا ۔ ۔ ۔ ٬٬میں پتلی کو دیکھو گا اماں ۔ ۔ یہ دیکھوں گا کہ وہ کیسے ناچتی ہے ۔،،
٬٬چپ ہو جا ۔ ۔ ۔ ورنہ دادا مارے گا ۔ ۔ ۔ تجھے بھی اور مجھے بھی ۔،، اماں غصے سے بولی
میں نے اماں کو رونی صورت بنا کر دیکھا اور پھر دھاڑے مار کر چیخنے اور رونے لگا ۔
اماں نے جب مجھے روتے دیکھا تو دوڑی دوڑی میری طرف لپکی ۔ ۔ ۔ اماں کو پتہ تھا کہ جب بھی میں چیخ کر روتا تھا تو دادا بہت غصے میں آجاتے تھے ۔ ۔ ۔ ۔ انہیں میرا رونا پسند نہیں تھا ۔ ۔ ۔ وہ ہر وقت مجھے خوش دیکھنا چاہتے تھے ۔ یہی وجہ تھی کہ گھر میں سب مجھے پیار کرتے تھے ۔دادا نے سب سے کہہ رکھا تھا کہ ضیاءالدین میرے منظور کی نشانی ہے ۔ ۔ ۔ یہ ہمارے گھر میں فرشتہ ہے ۔ ۔ ۔ خبر دار میرے فرشتے کو کوئی کچھ نہ کہنا،،
دادا نے میرے رونے اور چلانے کی آواز سن لی تھی ۔ ۔ ۔ ان کے غصے سے چلانے کی آواز سنائی دی تھی۔۔ ۔ ۔ وہ کہہ رہے تھے ۔ ۔ ۔٬٬ ارے ۔ ۔ سعیدن ۔ ۔ ۔ کیا ہوا ۔ ۔ ۔ یہ کیوں رو رہا ہے۔؟،،
٬٬ابا ۔ ۔ یہ پتلی کا تماشا دیکھنے کی ضد کر رہا ہے ۔،، اماں نے دادا کو بتایا
٬٬ ہیں ۔ ۔ ۔ گدھا کہیں کا ۔ ۔ ۔ بیکار کی ضد پکڑلیتا ہے ۔ ۔ ۔ چپ کراﺅ اسے ۔ ۔ ۔ ،، داداچلائے ۔٬٬اور ہاں بھگاﺅ ان پتلی تماشا والوں کو ۔ ۔ ۔ سسرے کیوں ہمارے دروازے پر آ کر کھڑے ہو گئے۔ ۔ ۔ بھگاﺅ ان کو ۔،،
٬٬ دادا ۔ ۔ ۔ ۔ دادا۔ ۔ ۔ میں پتلی دیکھوں گا ۔ ۔ ۔ مت بھگاﺅ دادا۔ ۔ ۔ میں دیکھوں گا۔،،
٬٬ ابے چپ ۔ ۔ ۔ گدھا کہیں کا ۔ ۔ ۔ آیا بڑا پتلی دیکھنے والا ،،۔ ۔ ۔ دادا بولے مگر اب ان کی آواز میں وہ بات نہیں تھی جو کچھ دیر پہلے تھی ۔۔ ۔ ۔ میں پھر رونے لگا۔
یہ سب کچھ ہماری حویلی میں پہلی بار ہوا تھا ۔ پہلے تو دادا نے انہیں منع کر دیا تھا کہ حویلی میں اس قسم کا ناچ یا پتلی تماشا نہیں ہوتا ۔ مگر میں مچل گیا تھا اور بری طرح رونے لگا اور کسی کے بھی چپ کرانے پر چپ نہ ہوا تو دادا مان گئے اور انہوں نے ابا سے کہا ۔ ۔ ۔ ٬٬ اچھا بھئی اچھا ۔ ۔ روک لو سالے پتلی والوں کو ۔ ۔ ۔ بلا لو سالوں کو ،،۔ دادا ہنستے ہوئے بول رہے تھے ۔ ۔ ۔ ٬٬ بٹھاﺅ ان کو دالان میں ۔ ۔ ۔ آج میں بھی دیکھوں گا پتلی کا تماشا اپنے ضیاءالدین کے ساتھ۔ ۔ ۔ بچپن میں کبھی دیکھا تھا میں نے بھی ۔،،
دادا کے کہنے پر پتلی کا ناچ دکھانے والوں کو حویلی میں بلا لیا گیا تھا ۔ ۔ ۔ جلدی جلدی دالان میں ان کے لئے جگہ بنائی گئی ۔ ۔ ۔
وہ تین آدمی تھے ۔ ۔ ۔ ایک کے ہاتھ میں ٹوکری تھی ۔ ۔ ۔دوسرے آدمی نے سفید رنگ کا ٹوپی والا برقعہ اوڑھا ہوا تھا ۔ ۔ اور تیسرے آدمی کے ہاتھ میں ڈفلی تھی جسے وہ اپنی ہتھیلی سے ہلکے ہلکے بجا رہا تھا ۔
دالان میں دادا کے لئے بڑا مونڈھا رکھ دیا تھا جس پر وہ بیٹھ گئے تھے اور میں ان کی گود میں جا بیٹھا تھا ۔ ۔ ۔ آس پاس سب گھر والے کھڑے ہو گئے تھے ۔ ۔ ۔ ایک طرف میرے ابا تھے ۔ ان کے ساتھ بھائی اسلام اور فاروق بھائی تھے ۔ تھوڑی دیر پہلے ہی کلو تایا اور بڑے ابا ہنستے ہوئے قریب آ کر کھڑے ہوگئے تھ ۔ میری اماں ۔ ۔ تائی خیرن ۔ ۔ ۔ بھابی محمودن اور اندھی تائی خیرن بھی ایک سائیڈ پرکھڑے ہوئے تھے ۔ ۔ ۔ ۔ پتلی کا ناچ دیکھنے میں سب کا دل تھا ۔
٬٬ ہاں بھئی ۔ ۔ اب دکھاﺅں سب کو پتلی کا ناچ اور تماشا ۔ ۔ ۔ میرا بیٹا خوش ہو گا دیکھ کر۔،، دادا ابا نے اس آدمی سے کہا جس کے
ہاتھ میں ٹوکری تھی ۔٬٬ اور ہاں ۔ ۔ ۔ کہاں کے ہو تم سب۔،،
٬٬ جی ہم فرید آباد کے ہیں۔۔ ۔ میں کھیرو ہوں ۔ ۔ ۔ باپ دادا کا یہی کام تھا ۔ ۔ ۔ ۔ ہم بھی پتلی سے ہی کھا کماتے ہیں۔،،
٬٬ اچھا اچھا کھیرو۔ ۔ اب شروع ہو جاﺅ ۔ ۔ نچاﺅ اس بادشا اور اس کی بیگم کو ۔،، دادا نے ہنستے ہوئے میرے سر پر ہاتھ پھیرا
٬٬ جی دادا سراجو ۔ ۔ ابھی دکھاتا ہوں ۔،، وہ آدمی بولا اور اس نے ٹوکری میں سے دو پتلیاں نکال کر دالان کے کچے فرش پر رکھ دیں۔ اور ان میں بندھی ہوئی ڈوریوں کو اپنے ایک ہاتھ میں پکڑتے ہوئے بولا٬٬ لو جی ۔ ۔ دیکھو جی ۔ ۔ ۔ ایک بادسا ہے یہ والا ۔ ۔ اور یہ سسری اس کی بیگم ہے ۔،، وہ آدمی بولا جو اسے نچاتا تھا ۔ ۔ اس نے ان پتلیوں میں بندھی ہوئی ڈوریوں کو ایک ہاتھ سے پکڑا اور دوسرے ہاتھ میں پکڑے ہوئے ڈنڈے کو یوں گھایا کہ وہ دونوں پتلیاں زمین پر اٹھ کر بیٹھ گئیں اور ناچنا شروع کر دیا ۔ ۔ ۔ میں نے خوشی سے تالی بجائی ۔ ۔ ۔ اس کے ساتھ ہی ڈفلی والا پتلی کے ناچ کے ساتھ ہی ڈفلی بجانے اور کچھ عجیب سا راگ گانے لگا تھا ۔ ۔ ۔ ۔ اور جو آدمی اماں جیسا ٹوپی والا برقعہ اوڑھے ہوئے تھا، وہ بھی پتلی کے ساتھ ناچنے اور گانے لگا تھا ۔
اسی دم وہ آدمی جس نے ٹوپی والا برقعہ اوڑھا ہوا تھا ناچتے ناچتے جھومتا ہوا میری طرف تیزی سے بڑھا اور میں بری طرح ڈر گیا ۔ ۔ میری گھگھی بندھ گئی اور بری طرح چیخ پڑا اور دادا سے چپک گیا ۔ دادا کو اس دم بڑا غصہ آیا ۔ ۔ ۔ انہوں نے مجھے گود سے اتار کر ابا کو دیا اور خود کھڑے ہو کر اس برقعے والے پر ایک ایسا ہاتھ مارا کہ وہ چکرا کر گرتے گرتے بچا ۔٬٬ ابے تو نے میرے بچے کو ڈرا دیا ۔ ۔ سسرے ۔ ۔ بند کر اپنا تماشا ۔ ۔ بھاگ یہاں سے ورنہ تیری کھال ادھیڑ دوں گا ۔،،
کھیل کا سارا نقشہ ہی بدل گیا تھا ۔ ۔ ۔ ۔ تھوڑی دیر پہلے سب لوگ جو مزے لے لے کر ناچ دیکھ کر رہے تھے اب وہ ایک دوسرے کی صورت دیکھ رہے تھے ۔ ۔ اماں ، تائی خیرن اور محمودن بھابی اندھی تائی خیرن کو گھسیٹے ہوئے اندر کمروں کی طرف بھاگ اٹھیں۔،، جلدی کرو ۔ ۔ دادا ابا کو بہت جلال آگیا ہے ۔ ۔ چلو یہاں سے ۔،،
دادا کا غصے کے مارے برا حال تھا ۔ ۔ ۔ وہ برقعے والے آدمی کو دوسرا ہاتھ مارنے کے لئے آگے بڑھے لیکن بڑے تایا نے انہیں روک دیا ۔۔٬٬ ابا ۔ ۔ رہنے دو ۔ ۔ جانے دو۔ ۔ ۔ جان بوجھ کر نہیں کیا اس نے ۔ ۔ ہو جاتا ہے ۔ ۔ ضیاءالدین بچہ ہے اس لئے ڈر گیا ۔،،
وہ آدمی جو پتلی نچا رہا تھا وہ پتلیوں کو زمین پر پٹک کر آگے بڑھا اور دادا کے پیروں پر پڑ گیا ۔٬٬ دادا سراجو ۔ ۔ شما کردو ۔ ۔ ۔ نجفو سے گلتی ہو گئی ۔ ۔ شما کر دو ۔ ۔ ۔ شما کر دو۔،،
دادا نے جھک کر اسے دونوں ہاتھوں سے اٹھایا اور بولے ۔٬٬ ابے کسی کے پیروں پر نہیں پڑتے ۔ ۔ ۔ منہ سے بات کرو نہ میرے آگے ہاتھ جوڑو ۔،،
٬٬ دادا سراجو ۔ ۔ شما کر دو ۔۔،، پتلی نچانے والا پھر ہاتھ جوڑ کر کھڑا ہو گیا ۔،، دادا تھوڑی دیر تک اسے گھور کر دیکھتے رہے ۔ ۔ ۔ پھر جیسے ان کا غصہ کہیں بھاگ گیا ۔ ۔ ۔ ۔ اور وہ مسکراتے ہوئے بولے۔٬٬ ابے ۔ ۔ ہاں ۔ ۔ ۔ مجھے پتہ ہے کھیل میں ایسا ہو جا تا ہے ۔
۔ ۔ مگر میرا بچہ تو ڈر گیا تھا نا۔،،۔ ۔ ۔ پھر وہ بڑے ابا سے بولے ۔٬٬ بدر الدین۔ ۔ ۔ ۔ اسے کچھ پیسے دیدو اور انہیں حویلی سے باہر چھوڑ وآﺅ۔،،
٬٬ جی ۔ ۔ ابا ۔ ۔ ابھی دیتا ہوں ان کو پیسے ۔،، بڑے ابا بولے اور انہوں نے پتلی ناچ دکھانے والوں کو چلنے کا اشارا کیا ۔
(جاری ہے )

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

ڈائجسٹوں کی الف لیلہ : سید انور فراز  قسط نمبر 45

آنکھوں میں اُڑ رہی ہے لٹی محفلوں کی دُھول عبرت سرائے دہر ہے اور ہم …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے