سر ورق / یاداشتیں / ڈائجسٹوں کی الف لیلہ : قسط نمبر 43 سید انور فراز

ڈائجسٹوں کی الف لیلہ : قسط نمبر 43 سید انور فراز

آنکھوں میں اُڑ رہی ہے لٹی محفلوں کی دُھول
عبرت سرائے دہر ہے اور ہم ہیں دوستو!
ڈائجسٹوں کی الف لیلہ : قسط نمبر 43

سید انور فراز
معراج صاحب اور ان کی بیگم کے ہمراہ لاہور کا پہلا اور آخری سفر خاصا یادگار رہا، دوسرے روز ہم طاہر جاوید کے ہمراہ ہوٹل پہنچے تو معراج صاحب ایک صوفے پر دراز تھے اور ان کی بیگم مسلّے پر نماز پڑھ رہی تھیں، نماز سے فارغ ہوکر وہ دعا میں مصروف ہوگئیں، دعا شاید کچھ طویل ہوگئی تو معراج صاحب مسکرانے لگے، وہ دعا سے فارغ ہوئیں تو بولیں ’’یہ ہمیشہ مجھے دعا مانگتے ہوئے دیکھتے ہیں تو مسکراتے ہیں اور اکثر کہتے ہیں کہ اللہ سے اب مزید کیا مانگنا چاہتی ہو جو میں نے تمھیں نہیں دیا‘‘
حقیقت یہی ہے کہ معراج صاحب سے شادی کے بعد عذرا رسول صاحبہ ایک نہایت شاندار اور اطمینان بخش زندگی گزار رہی تھیں تو اس صورت میں معراج صاحب کا سوال اہمیت تو رکھتا تھا کیوں کہ شادی سے پہلے کی عذرا صاحبہ کی زندگی خاصی مشکل اور مسائل سے بھرپور رہی تھی، وہ کراچی کے علاقے کورنگی کی رہنے والی تھیں، ایک کثیرالعیال فیملی سے تعلق تھا، اس صورت حال میں بھی انھوں نے تعلیم کو اہمیت دی، معراج صاحب نے اپنی محبت کا حق پہلے اس طرح ادا کیا کہ انھیں اعلیٰ تعلیم کے لیے انگلینڈ بھیجا اور پھر شریک حیات بنالیا، اس شادی کے نتیجے میں حالاں کہ انھیں اپنی پہلی محبت کی سخت مخالفت برداشت کرنا پڑی، اپنے بچوں کی مخالفت بھی انھوں نے برداشت کی لیکن ان کی محبت میں کبھی کوئی کمی نہ ہونے دی،شادی کے بعد انھیں علیحدہ گھر میں رکھنے کا پروگرام تھا اور وہ اس کے لیے تیار بھی تھیں لیکن ساجدہ صاحبہ ان کی اس شادی سے اس قدر برہم ہوئیں کہ بات خلع تک جا پہنچی اور وہ بچوں کو لے کر علیحدہ ہوگئیں پھر بھی ان کے لیے دوسری رہائش کا انتظام معراج صاحب ہی نے کیا لیکن اس کے بعد عذرا رسول معراج صاحب کے اسی گھر میں آگئیں جہاں کبھی ساجدہ رسول رہا کرتی تھیں ؂ انقلابات ہیں زمانے کے۔
لاہور میں اب دعوتیں کھانا ضروری ہوگیا تھا، پہلی دعوت طاہر جاوید مغل نے اپنے گھر پر کی، شاید یہ معراج صاحب اور طاہر دونوں کے لیے پہلا اور آخری موقع تھا، جب معراج صاحب اپنی بیگم کے ہمراہ ان کے گھر گئے، دونوں کی بیگمات بھی شاید پہلی اور آخری بار ایک دوسرے سے ملیں، دوسری دعوت آفاقی صاحب کی طرف سے تھی، ان دنوں لاہور میں فوڈ اسٹریٹ کا بڑا چرچا تھا، شاید اس کا نیا نیا آغاز تھا، معراج صاحب کی بیگم کو بھی یہ فوڈ اسٹریٹ دیکھنے کا اشتیاق تھا اور معراج صاحب کو بھی،چناں چہ طے یہ ہوا کہ آفاقی صاحب ہمیں فوڈ اسٹریٹ لے جاکر کھانا کھلائیں گے اور اس طرح ہم لوگ لاہور کی مشہور فوڈ اسٹریٹ پہنچ گئے۔
ہمیں یاد ہے کہ معراج صاحب اور ان کی بیگم اس فوڈ اسٹریٹ کو دیکھ کر بہت مایوس ہوئے، ان کی زندگی بیرون ملک یا اندرون ملک شاندار ہوٹلوں میں ڈنر اور لنچ کرتے گزری تھی، ان ہوٹلوں کے مقابلے میں اس فوڈ اسٹریٹ پر واقع چھوٹی چھوٹی کھانے پینے کی اشیا سے متعلق دکانیں انھیں بہت ناگوار محسوس ہوئیں، دکانوں کے آگے کھلے آسمان کے نیچے یعنی فٹ پاتھ پر بیٹھ کر کھانا پینا بھی انھیں پسند نہ آیا اور اسی طرح فوڈ اسٹریٹ کے کھانے بھی پسند نہ آئے لیکن ظاہر ہے اپنی اس ناپسندیدگی کا اظہار وہ آفاقی صاحب اور ان کی بیگم کے سامنے تو نہیں کرسکتے تھے،البتہ ہم سے ضرور معراج صاحب نے اس کا اظہار کیا ، وہ کہنے لگے ’’ایسا معلوم ہوتا ہے کہ شاید آج کل آفاقی صاحب کے مالی حالات زیادہ اچھے نہیں ہیں، اسی لیے انھوں نے اس جگہ کا انتخاب کیا‘‘وہ یہ بات بھول گئے تھے کہ فوڈ اسٹریٹ دیکھنے کا اشتیاق انھیں بھی تھا۔
معراج صاحب کا یہ اندازہ درست تھا، ہمیں ذاتی طور پر معلوم تھا کہ ان دنوں وہ بعض شدید نوعیت کی مالی پریشانیوں کا شکار تھے، معراج صاحب کو بھی کچھ کچھ اس کا اندازہ تھا کیوں کہ تھوڑے ہی دن پہلے انھوں نے معراج صاحب سے ایک خاصی بڑی رقم بطور قرض لی تھی۔
خدا معلوم آفاقی صاحب کے ساتھ کیا معاملہ ہوا تھا، اس حوالے سے جب بھی بات ہوئی انھوں نے صرف اتنا کہا کہ ایک کاروباری معاملے میں نقصان اٹھانا پڑا اور اس نقصان کو پورا کرنے کے لیے خاصی بڑی رقم کی ضرورت پیش آئی، انھوں نے اپنے ادارے روزنامہ نوائے وقت سے بھی خاصی بڑی رقم ایڈوانس لی تھی اور معراج صاحب سے بھی شاید ایک یا دو لاکھ روپے لیے تھے، انھیں امید تھی کہ یہ رقم انھیں واپس مل جائے گی، اس حوالے سے شاید کوئی کیس بھی عدالت میں چل رہا تھا، کیس میں کامیابی کی صورت میں انھیں ایک بہت بڑی رقم حاصل ہونے کا خیال تھا لیکن جو کچھ بھی تھا ، کچھ واضح نہیں تھا، وہ اس حوالے سے کھل کر بات نہیں کرتے تھے یہاں تک کہ معراج صاحب کو بھی اس مسئلے میں تفصیل سے کچھ نہیں بتایا تھا، اپنے تجسس سے مجبور ہوکر معراج صاحب نے کئی مرتبہ ہم سے کہا کہ تمہاری خاصی بے تکلفی ہے، تم معلوم کرو کہ اصل مسئلہ کیا ہے؟
ہم نے کئی بار کریدنے کی کوشش کی مگر وہ ہمیشہ گول مول بات کرکے ٹال جاتے، ہم نے اپنے طور پر یہی اندازہ لگایا کہ وہ غالباً اپنی کسی پارٹنر کے ساتھ پراپرٹی کے کسی بزنس میں پھنس کر نقصان کا شکار ہوئے تھے، اس حوالے سے کوئی مقدمہ بھی عدالت میں زیر سماعت تھا اور انھیں امید تھی کہ اس کا فیصلہ ان کے حق میں آئے گا اور ایک معقول رقم مل سکے گی،اسی بھروسے پر انھوں نے اپنے دفتر سے اور معراج صاحب سے قرض لیا تھا۔
معراج صاحب اور ہم اس بات پر متفق تھے کہ آفاقی صاحب کوئی غلط کام نہیں کرسکتے، وہ غلط بیانی بھی نہیں کرتے تھے، بے شک بڑے صاف ستھرے کردار کے مالک تھے، ان سے ایسی کسی بات کی توقع ہی نہیں کی جاسکتی تھی، ایک طویل عمر انھوں نے فلمی دنیا جیسے ماحول میں گزاری تھی مگر اس کے باوجود ان پر خواجہ میر درد کا یہ شعر صادق آتا تھا ؂
تر دامنی پہ شیخ ہماری نہ جائیو!
دامن نچوڑ دیں تو فرشتے وضو کریں
ہمیں بڑی حیرت ہوتی تھی کہ فلمی دنیا میں رات و دن مصروف رہنے کے باوجود نہ اُن کا کوئی رومانی اسکینڈل مشہور ہوا اور نہ کبھی انھوں نے اُم الخبائث کو منہ لگایا، برسوں پہلے جوانی میں، شادی سے قبل ،کراچی کے روزنامہ نگار میں ایک خبر شائع ہوئی تھی ’’علی سفیان آفاقی اور اداکارہ شمیم آرا شادی کرنے والے ہیں،دونوں آج کل لمبی ڈرائیو کرتے دیکھے جاسکتے ہیں‘‘
نوجوانی میں ہم اپنے فلمی شوق کی وجہ سے روزنامہ نگار پابندی سے پڑھا کرتے تھے، اُس وقت کبھی ذہن میں یہ خیال تک نہ آیا تھا کہ مستقبل میں ایک ایسا وقت بھی آئے گا جب نگار کے مدیر الیاس رشیدی کا بائیو گرافیکل انٹرویو کرنے کا ہمیں موقع ملے گا، ان سے ہمارے قریبی مراسم ہوں گے یا اس زمانے میں دیکھی ہوئی مشہور فلم ’’کنیز ‘‘ کے پروڈیوسر اور کہانی کار علی سفیان آفاقی سے بے تکلفی کی حد تک تعلقات استوار ہوں گے،وقت کے اُتار چڑھاؤ بھی عجیب ہیں!
ہفت روزہ نگار میں شائع ہونے والی خبر کے مطابق اداکارہ شمیم آرا اور علی سفیان آفاقی کے درمیان معاشقے اور بہت جلد شادی کے امکان نے ہمیں چونکا دیا تھا، ہم حیران ہوئے تھے کہ اتنے بہت سے مشہور ہیروز کی موجودگی میں شمیم آرا ایک کہانی کار کے عشق میں کیسے گرفتار ہوگئیں، ہمیں یہ بھی یاد تھا کہ 1965 ء کی پاک بھارت جنگ میں شمیم آرا نے یہ اعلان کیا تھا کہ جو جوان کشمیر پر پاکستانی پرچم لہرائے گا میں اُس سے شادی کروں گی۔
اس واحد اسکینڈل کے علاوہ آفاقی صاحب کا کوئی رومانی افیئر ریکارڈ پر نہیں تھا، جب آفاقی صاحب سے مراسم اور قربت بڑھی، ان کے کراچی قیام کے دوران میں ہم رات اور دن ان کے ساتھ رہے تو بعض پرانی باتوں کو کریدنے کی جستجو شروع ہوئی، ایک بار ہم نے ان سے پوچھا ’’یہ شمیم آرا سے آپ کا کیا چکر تھا؟‘‘
’’کچھ نہیں‘‘آفاقی صاحب نے نہایت اطمینان سے جواب دیا۔
’’کچھ تو ہوگا، کیا الیاس رشیدی نے روزنامہ نگار میں بلاوجہ خبرلگادی تھی؟‘‘
’’الیاس بھائی کو کوئی نہ کوئی فلمی مسالہ چاہیے ہوتا تھا، چناں چہ انھوں نے خبر لگادی اور ہم سے کسی تصدیق کی ضرورت بھی محسوس نہ کی‘‘ آفاقی صاحب نے حقیقت سے نقاب اٹھاتے ہوئے کہا ’’دراصل شمیم آرا کا اصل معاشقہ اداکار کمال سے چل رہا تھا، کمال صاحب اس سے شادی کا وعدہ کرچکے تھے، یہ ان کی عادات تھی لیکن شمیم آرا کی نانی صاحبہ نہیں چاہتی تھیں کہ یہ شادی ہوسکے، آخر دونوں نے فیصلہ کیا کہ خود ہی یہ کار خیر انجام دیا جائے، چناں چہ ایک رات شمیم آرا کمال کے ساتھ جانے اور اپنا گھر چھوڑنے کے لیے تیار ہوگئیں، وہ رات بھر کمال کا انتظار کرتی رہیں مگر کمال نہیں آئے، اس واقعے کے بعد دونوں کے تعلقات کشیدہ ہوگئے، دونوں کے درمیان بات چیت بھی بند ہوگئی لیکن شمیم آرا کے دل میں بھڑکنے والا محبت کا شعلہ کسی طرح ٹھنڈا نہ ہوا، اداکار کمال ہمارے قریبی عزیز تھے، پاکستان آنے سے قبل ہم نے کچھ عرصہ میرٹھ میں ان کے گھر میں گزارا تھا، وہ جب پاکستان آئے تو ہم نے ہی انھیں پاکستان کی بعض فلمی شخصیات سے متعارف کرایا، خصوصاً پروڈیوسر ڈائریکٹر شباب کیرانوی سے، پاکستان میں ان کی پہلی فہم ’’کلرک‘‘ تھی جو شباب کیرانوی نے ہی بنائی تھی اور اس کی کہانی ہم نے لکھی تھی، چناں چہ کمال سے جھگڑے کے بعد شمیم آرا روزانہ رات کو ہمارے گھر آجاتیں اور ہمیں اپنی گاڑی میں بٹھاکر لمبی ڈرائیو پر نکل جاتیں، راستے بھر وہ ہم سے کمال کے بارے میں باتیں کرتی رہتیں، ان کا مسئلہ درحقیقت کمال تھے ؂ ذکرِ حبیب کم نہیں وصل حبیب سے کے مصداق وہ ہم سے کمال کی نئی مصروفیات کے بارے میں باتیں کرتیں، الیاس رشیدی صاحب کو ان کے کسی رپورٹر نے یہ خبر دے دی تھی، انھوں نے اخبار میں چھاپ دی،جب ہمیں معلوم ہوا تو ہم نے الیاس بھائی سے بات کی اور اصل صورت حال کی وضاحت کردی‘‘
ہم نے عرض کیا ’’جب آپ نے وضاحت کردی تھی تو انھیں آپ کی وضاحت بھی شائع کرنا چاہیے تھی؟‘‘
’’بادشاہ آدمی تھے، انھوں نے ضروری نہیں سمجھا ہوگا کہ ہماری وضاحت بھی شائع کریں‘‘ آفاقی صاحب نے مسکراتے ہوئے کہا۔
شاید اس کے بعد ہی آفاقی صاحب نے ضروری سمجھا ہوگا کہ شادی کرلی جائے، چناں چہ اپنے قریبی رشتے داروں ہی میں انھوں نے شادی کی مگر خاصی تاخیر سے، ان کی بیگم عمر میں ان سے کافی چھوٹی تھیں۔
اسی طرح ایک بار ہم نے ان سے پوچھا ’’آپ نے فلمی دنیا میں رہتے ہوئے اس دنیا کے ’’مشروب عام‘‘ سے کیسے پرہیز کیا، جب کہ اس کے بغیر تو وہاں کوئی تقریب ہی مکمل نہیں ہوتی تھی؟‘‘
انھوں نے بتایا کہ ابتدا ہی سے ہمارا رجحان مذہب کی طرف زیادہ رہا، گھریلو ماحول بھی سخت مذہبی تھا، والدہ بہت سخت تھیں اس لیے کبھی اس گناہ کی طرف رغبت نہ ہوئی، ہمیں اس بات سے بھی شدید الجھن اور کوفت ہوتی تھی کہ ایک اچھا بھلا آدمی چند پیک پی کر آپے سے باہر ہوجاتا تھا، اول فول بکنا شروع کردیتا تھا،ہم خود کو ایسی حالت میں دیکھنا گواراہ ہی نہیں کرسکتے تھے‘‘ پھر اپنا ہی ایک قصہ سنایا، ایک بار کسی اسٹوڈیو میں پارٹی چل رہی تھی،مزاحیہ اداکار دل جیت مرزا بضد ہوئے کہ ہم تھوڑی سی پی لیں لیکن ہم نے سختی سے انکار کیا، دل جیت مرزا اس وقت پوری طرح ڈرنک ہوچکے تھے یعنی ہوش و حواس کھو بیٹھے تھے، انھوں نے یہ بے ہودگی کی کہ شراب کی بوتل ہمارے سر پر انڈیل دی، اس پر ہمیں سخت غصہ آیا اور ہم نے دل جیت مرزا کی پٹائی کردی، اس کے بعد ان سے ہمارے تعلقات ہمیشہ کے لیے ختم ہوگئے۔
ہم اکثر آفاقی صاحب سے پرانے فلمی دنیا کے واقعات کے بارے میں استفسار کرتے رہتے تھے اور وہ ایسی باتیں بھی ہمیں بتادیا کرتے تھے جو لکھی نہیں جاسکتیں، قصہ مختصر یہ کہ آفاقی صاحب نے فلمی دنیا میں رہتے ہوئے بھی ایک نہایت صاف ستھری زندگی گزاری، اس ماحول کے طرۂ امتیاز سے محروم رہے، پابندی سے پانچ وقت کی نماز پڑھنا ان کا معمول تھا، ایسی صورت میں ہم یا معراج صاحب یہ سوچ بھی نہیں سکتے تھے کہ انھوں نے کسی غلط مقصد کے لیے رقم دی ہوگی، معراج صاحب نے کبھی ان سے اس رقم کا تقاضا بھی نہیں کیا بلکہ ایک بار ہم سے کہا بھی کہ اگر وہ خود رقم لوٹادیں گے تو ٹھیک ہے ورنہ میں کبھی بھی ان سے تقاضا نہیں کروں گا، ہم کبھی خیر خیرت دریافت کرتے ہوئے اگر پوچھ لیتے کہ وہ آپ کا کیس کس مرحلے میں ہے؟ تو آفاقی صاحب تھوڑی بہت تفصیل سے آگاہ ضرور کرتے اور پھر یہ بھی کہتے کہ مجھے معراج صاحب کے پیسوں کی بہت فکر ہے، ان شاء اللہ جیسے ہی یہ کام ہوگا میں ان کی رقم لوٹادوں گا۔
ایک بار جب ہم نے معراج صاحب کو بتایا کہ وہ آپ کی رقم کے لیے بہت فکر مند ہیں تو انھوں نے ہمیں سختی سے منع کردیا کہ آئندہ آفاقی صاحب سے ان کے کیس کے بارے میں بات نہ کرنا، کہیں وہ یہ نہ سمجھیں کہ میں تمھارے ذریعے سے ان سے کوئی تقاضا کراتا ہوں، اللہ اللہ ، کیا لوگ تھے، کیا وضع داریاں تھیں مگر اس کے بعد کیا ہوا؟ معراج صاحب کے جانشینوں نے آفاقی صاحب کے ساتھ کیسا رویہ اپنایا کہ وہ اپنا قدیم آبائی مکان جو ماڈل ٹاؤن لاہور میں تھا، بیچنے پر مجبور ہوگئے۔
یہ ہمارے ادارہ چھوڑنے کے بعد کا واقعہ ہے، آفاقی صاحب سے ہمارے مراسم پہلے جیسے ہی تھے، ان میں کبھی کوئی فرق نہیں آیا، ہم لاہورجاتے ، ان کے ساتھ ضرور وقت گزارتے، وہ کراچی آتے تو بھی ایک آدھ نشست ان کے ساتھ رہتی، سال ہمیں یاد نہیں، شاید 2006 ء ہوسکتا ہے، آفاقی صاحب کراچی آئے تو انھوں نے فون پر بتایا کہ وہ اپنی چھوٹی بیٹی پارو کے گھر پر ٹھہریں گے، پارو کی شادی کراچی میں ہوئی تھی، ان کے شوہر کا نام بھی سفیان تھا، ہم ملاقات کے لیے پہنچے اور حسب معمول انھوں نے معراج صاحب کی بیماری پر اپنے دلی افسوس کا اظہار کیا، وہ ابھی تک سرگزشت میں فلمی الف لیلہ لکھ رہے تھے، گفتگو کے دوران انھوں نے بتایا کہ وہ لاہور میں ایک فلیٹ میں شفٹ ہوگئے ہیں، ہم چونکے اور پوچھا ’’مکان کا کیا ہوا؟‘‘
’’بیچنا پڑا ‘‘ انھوں نے خاصے بجھے سے لہجے میں کہا۔
’’کیوں؟‘‘
آفاقی صاحب نے بڑی سنجیدہ نظروں سے ہماری طرف دیکھا اور کہا ’’آپ جانتے ہیں کہ ہمیں معراج صاحب کی کچھ رقم ادا کرنا تھی، اپنے ہوش و حواس میں انھوں نے کبھی ہم سے اس کا تقاضا نہیں کیا لیکن جب وہ ہوش و حواس میں نہ رہے تو دفتر والوں نے خاصے سخت انداز میں تقاضے شروع کردیے تھے جو ہم برداشت نہیں کرسکتے تھے پھر تفصیل سے سارا ماجرا ہمیں سنایا، ماڈل ٹاؤن کا مکان بیچ کر انھوں نے ایک چھوٹا فلیٹ خرید لیا تھا اور معراج صاحب کا قرض بھی واپس کردیا تھا۔
ہم سناٹے میں آگئے اور ہمیں یاد آیا کہ جب پہلی مرتبہ ہم اس کوٹھی نما مکان میں داخل ہوئے تو ہماری نظر سب سے پہلے مکان کی پیشانی پر لکھے ہوئے نمایاں ہندسوں پر پڑی، یہ عمارت 1933 ء میں تعمیر ہوئی تھی اور اتفاق سے یہی علی سفیان آفاقی کا سال پیدائش ہے، پرانے انداز میں تعمیر ہونے والی پتھر کی یہ عمارت قدیم و جدید طرز تعمیر کا دلچسپ نمونہ تھی، آفاقی صاحب نے بعد میں کسی وقت اصل عمارت کے برابر میں خالی حصے پر ایک نئی خوبصورت عمارت بھی تعمیر کرائی تھی جو وہ کرائے پر اٹھادیا کرتے تھے،اس طرح ان کے کرائے داروں میں اداکارہ صائمہ بھی شامل رہی ہیں، اس وقت وہ فلموں میں جلوہ گر نہیں ہوئی تھی اور بقول آفاقی صاحب کے بڑی گم صُم رہنے والی چُپ چُپ سی لڑکی تھی، ماہنامہ سرگزشت میں آفاقی صاحب نے اس حوالے سے خاصی تفصیل کے ساتھ فلمی الف لیلہ میں لکھا ہے (جاری ہے)

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

اردو کہانی کا سفر… قسط نمبر 8 …اعجاز احمد نواب 

اردو کہانی کا سفر         قسط نمبر 8    اعجاز احمد نواب   …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے