سر ورق / افسانہ / بیم ورجا  …فاطمہ عثمان

بیم ورجا  …فاطمہ عثمان

”   بیم ورجا   ”

(فاطمہ عثمان)

وہ اس کے بچپن سے ہی اس کے ساتھ تھا اور وہ دونوں ایک دوسرے کو خوب پہچانتے تھے خوب جانتے تھے – جب وہ ہنستی تھی تب بھی وہ اس پر حاوی ہو جاتا تھا اور جب وہ اکیلی ہوتی تب بھی وہ اس کے ساتھ ہی رہتا تھا …وہ دونوں ایک دوسرے کے ساتھ پل کر جوان ہوئے تھے فرق بس اتنا تھا کہ اب وہ اسے اپنے وجود میں چھپا سکتی تھی, اسے چھپانا آتا تھا اب وہ سرکشی کے لبادے میں اسے ڈھانپ لیتی تھی – لوگ جو چاہتے اسے کہتے رہتے , وہ راز تھا جو اس کے دل میں دفن تھا جیسے – اب وہ کسی کی پرواہ نہیں کرتی تھی . اس کی اماں کہتی تھی , ‘رجا اپنے آپ سے باہر نا ہوا کر لوگ کیا کہیں گے.. کسی اچھے گھر میں تیری شادی نہیں ہو گئی ‘
اور وہ کہتی مجھے نہیں کرنی شادی… کتنی بار سمجھاتی تھی وہ اپنی اماں کو مگر وہ نہیں سمجھتی تھی,  کبھی کوئی رشتہ لے آتی… کبھی رشتے کرانے والی کے گھر کے چکر لگا تی … اگر  کوئی اسے دیکھنے آ جاتا تو وہ پہلے تو کمرے میں تیار ہونے کے بہانے بند رہتی اور بعد میں مہمانوں کے سامنے آکر ایسا برتاؤ کرتی کہ دوبارہ اس گھر کی دہلیز پہ وہ قدم نہ رکھتے.- اما بیچاری کو پتہ بھی نہ چلتا کے رجا کمرے میں اس کے ساتھ وقت گزار کے آئی تھی….
اس کی بات کو وہ ایسے مانتی تھی جیسے کسی الہامی کتاب کی آیت ..-  وہ جو کہتا تھا وہ اسی طرح کرتی تھی اور کیوں نہ مانتی اسکی باتیں… بچپن میں سب لوگوں نے مل کر جب اس کی اماں کو دلہن بنایا تھا تب وہی اس کا دلاسہ بنا تھا ..
پھر رجا کو جب سوتیلے باپ کی چیرتی پھاڑتی محبت سہنی پڑی تھی,  تب بھی وہی اسے سنبھالتا تھا اور سمجھاتا رہتا تھا کے چپ رہے گی تو سب صحیح ہوجائے گا ورنہ اما تو اس کو مار ہی ڈالے گی… لہذا رات وہ اس کے دامن میں منہ چھپا کر رو لیتی اور صبح ڈھٹائی سے جی گزار تی…
اب وہ کیسے اماں کے کہنے پر اسے چھوڑ کر , اس کی نافرمانی کرکے شادی کرلیتی –
آج وہ آئینے کے سامنے کھڑی تھی… اماں رہی تھی نہ امہ کا شوہر… رجا کی عمر ڈھل گئی تھی, مگر وہ آج بھی جوان تھا- وہ آج بھی اس پر ایسے ہی حاوی ہوجاتا, جیسے بچپن میں وہ اس سے اپنی ہر جائز ناجائز بات منواتا تھا-… بےشک وہ کمزور ہو گئی تھی, لیکن اس کی عادی تھی…-
یہ خوف ہی تو تھا جو اس کا اپنا تھا …
یہی خوف جس نے اس کے سامنے جنم لیا اور اس کے ساتھ پھلتا پھولتا رہا – صرف اسی کو حق تھا کہ وہ اپنی مرضی رجا پر مسلط کرتا یا اس کی مرضی کا گلا گھونٹ دیتا… وہ بہرحال رجا کا اپنا تھا –
آج وہ اسی اپنے خوف کے دامن میں  بڑھاپے کو جنم دینے جا رہی تھی –

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

*سسکیاں۔۔۔ روما رضوی

*سسکیاں* روما رضوی ریل کی سیٹی تهی یا ہارن اس کے  بجتے ہی ہجوم میں …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے