سر ورق / مضامین / دہ جماعت پاس ہوں۔۔۔ ( آخری حصہ)  محمد قاسم سرویا۔۔۔

دہ جماعت پاس ہوں۔۔۔ ( آخری حصہ)  محمد قاسم سرویا۔۔۔

دہ جماعت پاس ہوں۔۔۔” (دوسرا اور آخری حصہ)

مضافاتِ دل۔۔۔

 محمد قاسم سرویا۔۔۔ شیخوپورہ

پچھلی قسط میں دسویں جماعت کے امتحانات کی اہمیت اور ماضی و حال میں اس کے احوال پر کچھ بات کی گئی تھی اور آپ سے وعدہ کیا تھا کہ زندگی اور امتحانات میں اعلا کامیابی اور زیادہ نمبر لینے کے کچھ گُر آپ کو بعد میں بتائے جائیں گے۔۔۔ تو لیجیے قارئین! یہ آزمودہ ٹپس اینڈ ٹرکس ان تمام طلبہ کے بہت کام آسکتی ہیں جو ان پر عمل کرنے کی دل سے کوشش کریں گے۔ جو طالب علم نہیں ہیں، (ویسے سیکھنے کا شوق رکھنے والا بندہ ساری عمر طالب علم ہی رہتا ہے) وہ اپنے بچوں یا آس پاس کے طالب علموں کو یہ ساری باتیں بتا اور سمجھا سکتے ہیں۔

ایک سینیئر ٹیچر نے ایک دن میٹرک کے تمام طلبہ کو مارننگ اسمبلی کے بعد امتحانات کے بارے میں کچھ خاص باتیں بتانے کے لیے وہیں تشریف رکھنے کو کہا اور فرمایا۔۔۔ آپ سب کو پتا ہے کہ آپ کا سالانہ امتحان شروع ہونے والا ہے۔ یہی امتحان آپ کی زندگی کو "ڈیفائن” کرے گا۔ ان امتحانات میں حاصل کیے گئے "گڈ مارکس” آپ کو اس قابل بنا سکتے ہیں کہ آپ کون سے اچھے کالج یا بہترین یونیورسٹی میں داخلہ لیں گے اور یہ بھی کہ آپ کو کون سی جاب یا بزنس ملے گی۔۔۔ اور شاید آپ کا لائف اسٹیٹس بھی ان امتحانات سے جڑا ہوا ہے، اس لیے یہ امتحانات بہت اہم ہیں، ان پر خصوصی طور پر اور سنجیدگی سے توجہ دیں۔ پیپر شروع کرنے سے پہلے ان باتوں کو ضرور یاد رکھنا، آپ کے پیپرز بہت اچھے ہوں گے۔

1۔ بسم اللہ الرحمٰن الرحیم اور درود پاک پڑھ کر پیپر شروع کریں۔

2۔ ذرا بھی نروس نہ ہوں، اپنے آپ کو ریلیکس رکھیں۔

3۔ پہلا سوال پڑھیں، اگر اچھی طرح آتا ہے تو اسی پر فوکس رکھیں۔

4۔ جو سوال نہیں آتا یا کم یاد ہے اسے آخر تک کے لیے رکھ چھوڑیں۔

5۔ ایگزامینیشن ہال میں کیا ہو رہا ہے اس سے آپ کو کوئی غرض نہیں ہونی چاہیے۔

6۔ جتنے سوال حل کرنے کے لیے کہا گیا ہے، اس حساب سے اپنے وقت اور آنسر شیٹ کے صفحات کو تقسیم کر لیں۔

7۔ عموما پہلے دو تین سوال زیادہ وقت لے جاتے ہیں اور آخری سوالوں کے لیے کم وقت بچتا ہے۔

8۔ پیپر کے دوران کسی سے مدد لینے اور دینے کا خیال دماغ سے بالکل نکال باہر پھینکیں۔

9۔ جتنا سوال پوچھا گیا ہو، اتنا ہی جواب دیں۔ مثلاً دو نمبر کا سوال ہے تو دوتین لائینوں سے بڑھنا نہیں چاہیے اور اگر دس یا پندرہ نمبروں کا سوال ہے تو اسے اسی حساب سے مناسب سرخیاں دے کر چار یا پانچ صفحات تک پھیلا دیں۔

10۔ کوشش کریں اہم الفاظ اور ٹرمز کو مارکر سے واضح کردیں۔۔۔ اور آخر پر پانچ سات منٹ میں اپنا پورا پیپر ایک نظر ضرور دیکھ لیں کہ کوئی چیز رہ تو نہیں گئی۔

ادارے کے پرنسپل صاحب یہ ساری باتیں سُن رہے تھے۔ انھوں نے محترم استاد صاحب سے اجازت چاہی اور کہنا شروع کیا۔ ڈئیر اسٹوڈنٹس! بلا شبہ یہ امتحانات بہت ضروری ہیں، لیکن اس سے بھی زیادہ ضروری ہے کہ آپ زندگی کے امتحان میں کامیاب ہوں۔۔۔ کیونکہ کم نمبروں سے تو آپ زندگی آسانی سے گزار سکتے ہیں لیکن کم عقلی، بے ترتیبی اور بد تہذیبی سے نہیں۔ اگر آپ کو ایک ہی بار ملنے والی زندگی گزارنے کا سلیقہ اور طریقہ نہ آیا تو آپ پی ایچ ڈی بھی کر جائیں، کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ آپ میں سے ہر کوئی ہر مضمون میں ماہر نہیں ہو سکتا اور نہ ہی زندگی میں کبھی ایسا سوچنا اور کرنا۔ ہمیشہ اس سبجیکٹ پر زیادہ توجہ اور محنت آپ کو فائدہ دے سکتی ہے جس میں آپ کی دل چسپی سب سے زیادہ ہے۔ کیونکہ میرا تجربہ بتاتا ہے کہ ہر مضمون اور ہر امتحان میں ٹاپ کرنے والے عملی زندگی میں بہت کم ٹاپ پہ دیکھے گئے ہیں۔

اگر آپ میری ان باتوں پر بھی دل سے عمل پیرا ہوں گے تو ہر امتحان میں اچھی کارکردگی، کامیابی بن کر آپ کے قدم چومے گی کیونکہ یہ بہترین گُر کئی سالوں کے آزمائے ہوئے بھی ہیں، بارآور بھی اور ثمردار بھی۔

1۔ کسی بھی سبق کو رٹا لگانے کی کوشش کبھی نہ کریں۔ بلکہ یوں کریں کہ جو سبق یا صفحہ آپ پڑھ رہے ہیں، اس میں سے خاص الفاظ کو اپنے حافظے میں بٹھا لیں اور دو چار مرتبہ دھیان سے پڑھنے کے بعد اسے اپنے الفاظ میں لکھنے کی کوشش اور مشق کریں۔ بار بار ایسا کرنے سے آپ کو ہر سوال، ہر عنوان، ہر سبق، ہر باب اور ہر مضمون ازبر ہوتا جائے گا اور آپ کو یہ بھی خطرہ نہیں ہوگا کہ امتحان والے دن میرا لگایا ہوا رٹا مجھے بھول ہی نہ جائے۔

2۔ شروع سال سے ہی اپنی روٹین بنا لیں کہ ہر صفحے کی ہر لائن سے یا دو یا تین لائینیں ملا کے چھوٹے چھوٹے سوال بنا کر اپنی نوٹ بک پر لکھتے چلے جائیں، ایک بار پڑھنے سے یاد ہوا، پھر لکھنے سے ذہن میں بیٹھا اور پھر تھوڑی سی پریکٹس کر کے ان سب سوالوں کو ذہن نشین کر لیا تو امتحان سے قبل باقاعدہ محنت سے پوری کتاب کے سوالوں کو یاد رکھنا اور انھیں امتحانی شیٹ پر منتقل کرنا آسان ہو جائے گا۔

3۔ پڑھنے کے دوران اکیلے میں آپ یہ مشق بھی کریں کہ جو بھی پڑھیں اسے اونچی آواز میں پڑھیں جیسے آپ اپنا سبق کسی ٹیچر کو سنا رہے ہیں۔ اس سے ڈبل فائدہ ہوگا۔ ایک بار آپ کا دماغ ان الفاظ کو آپ کے منہ سے باہر نکال رہا ہے اور دوسری بار کانوں سے سن کر دوبارہ اپنے اندر اسٹور کر رہا ہے۔

4۔ جب بھی سبق یاد کریں کھڑے ہو کر اور جوتا پہن کر کریں۔ کھڑے ہو کر لیچکر کے انداز میں اپنے ہاتھوں اور جسم کے اشاروں کنایوں سے دہرایا ہوا سبق جلدی ذہن نشین ہوتا ہے۔ جوتا پہنن کر پڑھنے سے آپ کو نیند اور سستی کا دور دور تک دورہ نہیں پڑے گا۔

5۔ آپ کو وہ چیزیں یا باتیں دیر تک یاد رہتی ہیں، جن کا مرکزی کردار آپ ہوں۔ مثلاً اگر کسی سائنسدان یا فرضی کردار کے بارے میں کوئی مضمون یاد کر رہے ہیں تو ان سارے واقعات کو اپنے ساتھ منسلک کر لیں۔

6۔ کوشش کریں کوئی بھی سبق پڑھ کر یا اس کی بار بار مشق کرنے کے بعد فوراً سو جائیں۔ کیونکہ ماہرین کے مطابق یاد کی ہوئی باتیں پہلے ہماری شارٹ ٹرم میموری (ریم) میں جاتی ہے اور نیند کے دوران وہ لانگ ٹرم میموری (ہارڈ ڈسک) میں محفوظ ہو جاتی ہیں۔ مناسب آرام اور پوری نیند بھی آپ کے لیے بہت ضروری ہے۔

Because Rest is Best for Test…

7۔ جب بھی پڑھنے کے لیے وقت مقرر کریں، اس میں پچیس تیس یا پینتالیس منٹ کے بعد پانچ دس منٹ کا وقفہ ضرور کر لیا کریں۔ وقفے میں چہل قدمی کر لیں، باغبانی میں شامل ہو جائیں، کوئی پالتو جانور ہو تو اس کے ساتھ تھوڑا وقت بِتا لیں، گھر والوں سے گپ شپ لگا لیں، فریج کی پھولا پھالی شروع کر دیں اور کرنے کو کچھ نہ ملے تو کسے نکے بھین بھرا دے چونڈی ہی وڈ دیں۔ اس سے آپ کا دماغ تھکے کا نہیں اور آپ چست اور تروتازہ رہیں گے۔

8۔ اپنے سبق کو مخصوص وقت پر بار بار ریوائز کرتے رہا کریں۔ ایک بار پڑھ کر یا دیکھ کر اس سبق کو مکمل طور پر نظر انداز کردینے سے آپ اپنے آپ میں بالکل بہتری نہیں لا سکتے۔

9۔ جب پڑھنے بیٹھیں تو غیر ضروری اور ماضی و مستقبل کی سوچوں کو مکمل طور پر خیر باد کہہ دیں۔ اگر آپ اوٹ پٹانگ سوچوں میں ہی غلطاں و پیچاں رہیں گے تو آپ کو اپنا موجودہ سبق کبھی اچھی طرح یاد نہیں ہوگا۔

10۔ اور سب سے بڑھ کر۔۔۔ اللہ سے لَو لگائیں۔ محنت کرنا آپ کا کام ہے، نیک نیتی سے کریں۔۔۔ اور ٹکا کر کریں۔۔۔ اور پھر نتائج اپنے سوہنے رب پر چھوڑ دیں۔ اور۔۔۔ اللہ تعالیٰ کسی کی محنت کو ضائع نہیں کرتا اور نہ ہی وہ کسی کے ساتھ غلط کرتا ہے۔ وہ تو اپنے بندے کا کامیاب دیکھنا چاہتا ہے۔

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

تنقید یا لفظی جگالی… خرم شہزاد

تنقید یا لفظی جگالی خرم شہزاد کسی بھی زبان کے ادب سے اگر صحیح معانی …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے