سر ورق / ڈراما / شاخ نازک پہ آشیانہ : ابن آس محمد ( تیسری قسط )

شاخ نازک پہ آشیانہ : ابن آس محمد ( تیسری قسط )

شاخ نازک پہ آشیانہ

تحریر:

ابن آس محمد

( تیسری قسط )

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ارم نے بڑی مشکل سے ہکلاکر پوچھا۔

’’جج…جج…جی ابوجی…!‘‘

اس کی آواز سن کر صدیقی صاحب غصے میں پلٹے اور ایک بھی لمحہ ضایع کیے بغیر گرجے۔

’’وہ لڑکا کون تھاارم …جس کے ساتھ تم کالج سے اس کی کار میں گئی تھیں…؟‘‘

ارم سناٹے میں آگئی۔

اس کی آنکھوں میں خوف سرائیت کرگیا۔اسے یوں لگا کہ وہ تڑ سے گرے گی اور بے ہوش ہوجائے گی ۔

وہ پیار…جسے اس نے اپنے دل میں چھپا رکھا تھا ،جس کی ہوا بھی کسی کو لگنے نہیں دی تھی ۔اس کے ابو جی اسی کے بارے میں سوال کر رہے تھے۔

اس کامطلب یہی تھا کہ ابو جی نے اسے اپنی آنکھوں سے درید کے ساتھ جاتے ہوئے دیکھ لیا تھا ۔

ارم کو اپنے ہاتھ پیروں سے اپنی جان نکلتی محسوس ہونے لگی ۔اس کا دل اچھل کر حلق میں آگیا تھا۔

صدیقی صاحب کا لہجہ شدید غصے اور نفرت میں ڈوبا ہوا تھا۔ گرج دار آواز میں ایسی سختی تھی کہ ارم نیچے سے اوپر تک کانپ کر رہ گئی تھی۔ابو جی کی گھورتی ہوئی شعلہ بار نظروں کی تاب لانے کی سکت اس میں نہیں تھی۔

اس نے چور نظروں سے دیکھا، صدیقی صاحب براہ راست اس کو ہی گھور رہے تھے۔ انتہائی شفیق باپ ایک دم سے غیض وغضب میں مبتلا دکھائی دے رہا تھا۔

ارم نے بڑی مشکل سے نظریں اٹھائیں۔ سخت خوف زدہ انداز میں اپنے ابوجی کی شعلہ بار نظروں کا سامنا کرنے کی کوشش کی، مگر ہمت جواب دے گئی۔

نظریں اٹھ کر پھر جھک گئیں، پلکیں بے طرح لرزنے لگیں۔ وہ اپنے پیر کے انگوٹھے کو مسلسل گھورتی رہی۔

صدیقی صاحب کے لہجے میں غصے کے ساتھ جھنجلاہٹ بھی پیدا ہوگئی۔

’’تم نے جواب نہیں دیا ارم… کچھ پوچھا ہے میں نے تم سے …کوئی جواب ہے تمہارے پاس …؟!‘‘

ارم کا پورا بدن یک بارگی کپکپاکر رہ گیا۔

اس نے جواب دینے کی کوشش کی،تو منمناتی ہوئی آواز حلق سے نکلی ۔

’’جج… جج…جی، وہ…وہ ابوجی…!‘‘

وہ صرف اتنا ہی کہہ پائی۔ الفاظ اس کا ساتھ چھوڑگئے تھے۔ حلق خشک ہوگیا۔

صدیقی صاحب جھنجلاگئے۔

’’کیا…جج…جج…جج، لگارکھی ہے…ٹھیک ٹھیک بتاؤ کون تھا وہ لڑکا…‘‘

ارم سمجھ گئی کہ چپ رہنے سے گلوخلاصی نہ ہوگی، ابوجی کی بات کا جواب نہ دیا تو جان نہ چھوٹے گی۔ اس نے اپنی ساری ہمت مجتمع کی اور بکھرے لفظوں کو سمیٹا۔

’’وہ…مم…مم…میرے ساتھ…میرے ساتھ کالج میں پڑھتا ہے ابو جی…‘‘

بڑی مشکل سے کہہ کر وہ یوں ہانپنے لگی جیسے بہت دور سے دوڑ تی ہوئی آئی ہو، پھر گھبرا کر دوسری طرف دیکھنے لگی۔

ابوجی کی گھورتی ہوئی نظروں کی تاب لانا اس کے بس کی بات نہیں تھی۔

اس کا پورا بدن پسینہ پسینہ ہورہا تھا، اوروہ ہولے ہولے لرز رہی تھی ۔ کسی ان جانے خوف کی پرچھائیاں اس کی آنکھوں میں ڈیرے ڈال چکی تھیں۔

صدیقی صاحب گہری نظروں سے اس کی حرکات وسکنات کا جائزہ لے رہے تھے، اپنے اندرونی خوف اور شبہات کی تصدیق یا تردید کرنے کی کوشش کررہے تھے۔

چند لمے خاموشی کی کیفیت میں گزرے۔ جیسے قیامت گزر رہی ہو ۔

چند لمحے …اور خاموشی کی یہ قیامت بہت اذیت ناک تھی۔

پھر جب صدیقی صاحب گویا ہوئے تو ان کا لہجہ بدل چکا تھا۔ سختی کی جگہ قدرے نرمی اور تنبیہی اندازلیے ہوئے تھے۔

’’ارم بیٹی …آج تک تمہارے بارے میں کوئی ہلکی… یا سستی بات نہیں سنی میں نے…، پہلی بار دیکھا…تو میں خودہکا بکا رہ گیا میں…اندرسے لرز کر رہ گیا…ارم بیٹی ، کوئی باپ اپنی بیٹی پر الزام نہیں لگاتا…اگر تم کہتی ہو کہ وہ لڑکا پڑھتا ہے تمہارے ساتھ…اور بس یہی بات ہے، تو مجھے تمہاری بات پر یقین ہے… ایسا ہی ہوگا…ممکن ہے میرے دیکھنے اور سمجھنے میں کوئی غلطی ہوگئی… پھر بھی میں تمہیں سمجھاناضروری سمجھتا ہوں…‘‘

ارم کے حلق سے ایک طویل سانس نکل گئی ،یوں لگا جیسے وہ ایک بار پھر سے جی گئی ہو ۔اس نے مختصراً کہا:

’’جی ابو…!‘‘

اورپھر وہ جلدی جلدی سانس لینے لگی ۔ اب اس کا اعتماد کسی حد تک بحال ہوگیاتھا۔اس کے ابو جی دھیمے لہجے میں کہہ رہے تھے :

’’اگر وہ لڑکاتمہارے ساتھ پڑھتا ہے…توایک کام کرو بیٹی … اس کو اکیلے پڑھنے دو…ہم تمہیں کالج میں پڑھنے کے لیے بھیجتے ہیں بیٹی…کسی لڑکے کے ساتھ پڑھنے کے لیے نہیں۔‘‘

ابو جی نے نرم لہجے میں تلخ بات کہہ دی تھی۔

ارم سچ مچ گھبراگئی۔ پہلی بار اس کی چوری پکڑی گئی تھی۔ وہ ایک بار پھربدحواس ہونے لگی، اور سٹپٹاکر منہ دوسری طرف کرلیا۔

صدیقی صاحب اپنی بات کہہ کر چپ سے ہوگئے۔

ارم نے شرمندگی پر قابو پانے کی کوشش کی مگر ناکام رہی تو ایک دم سے بیٹی بن گئی۔ لرزتی ہوئی خجالت بھری آواز میں بولی:

’’مجھے معاف کردیجیے ابو جی…مجھ سے غلطی ہوگئی… میں آئندہ بہت احتیاط کروں گی۔‘‘

صدیقی صاحب کے حلق سے اطمینان بھری طویل سانس نکل گئی۔

بیٹی جوان تھی۔ چوری پکڑے جانے پر ہٹ دھرمی کا مظاہرہ بھی کرسکتی تھی مگر اس نے اپنی غلطی پر ندامت کا اظہار کرکے ان کا دل خوش کردیا تھا۔

وہ دھیرے سے ارم کے قریب گئے۔ آہستگی سے اس کے کاندھے پر ہاتھ رکھا تو محسوس کیا کہ خزاں رسیدہ پتے کی طرح ہولے ہولے لرز رہی ہے۔

’’ارم بیٹا…تم تو جانتی ہو، میں اپنی بیٹیوں پر سختی کا قائل نہیں ہوں…پانچ بیٹیوں کا باپ ہوں…کوئی میری کسی بچی کی طرف انگلی نہ اٹھادے، اس خوف سے ڈرتا رہتا ہوں… بیٹیوں کے باپ اپنی بیٹیوں کی بدنامی کے خوف سے ڈرتے رہتے ہیں… اس لیے کبھی کبھی سختی کرنے پر مجبور ہوجاتے ہیں…، تم میری بات پر ناراض مت ہونا…اور یہ سمجھنا کہ اگر میری کوئی بیٹی نادانی میں کوئی غلط قدم اٹھائے گی تو تمہارا باپ نظریں نہیں اٹھاسکے گا۔‘‘

ارم سمجھ رہی تھی۔ اس لمحے خاموش رہنا مناسب تھا۔

کچھ دیر کی گھمبیر خاموشی کے بعد صدیقی صاحب نے ایک طویل سانس لی۔

’’میں تم سے کچھ اور نہیں کہنا چاہتا… صرف اتنا کہوں گا کہ میں نے تم سب کا بہت خیال رکھا ہے… میری عزت کا خیال رکھنا…اب جاؤ…!‘‘

ارم پنجرے سے نکلے ہوئے پرندے کی سی تیزی کے ساتھ ابو جی کے کمرے سے نکل گئی۔

اس کے جانے کے بعد صدیقی صاحب رات گئے تک خود کو یقین دلاتے رہے کہ ان کی بیٹی نے جو کچھ ان سے کہا تھا، وہ سچ تھا، اور جو کچھ انہوں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا وہ غلط تھا…

باپ تھے نا…باپ اپنی جوان بیٹی کی لغزش سے یوں ہی نظریں چرایا کرتے ہیں۔کوئی خیال دل میں آتا بھی ہے تو خود کو خود ہی یقین دلانے لگتے ہیں کہ جو انہوں نے دیکھا غلط تھا …جو وہ سمجھ رہے ہیں ویسا ہے نہیں …

صدیقی صاحب بھی خود کو یہی یقین دلا رہے تھے ۔

ارم نے اس لڑکے کو محض ساتھ پڑھنے والا لڑکا کہہ کر خود کو ہی نہیں…انہیں بھی پریشان پونے سے بچا لیا تھا ۔

۔۔۔*۔۔۔

نگہت پھپھو کی بے چینی عروج پر تھی۔

دوتین دن پہلے صدیقی صاحب، بیگ صاحب کے گھر گئے تھے، وہاں ان کے درمیان کیا باتیں ہوئی تھیں، معاملات کہاں تک پہنچے تھے، یہ کسی کو نہیں معلوم تھا، نہ صدیقی صاحب نے کسی سے اس بارے میں تذکرہ کیا تھا۔

جب خاموشی میں دوتین دن گزرگئے تو نگہت پھپھو سے صبر نہ ہوسکا۔آخرانہوں نے روک کر صدیقی صاحب سے پوچھ ہی لیا۔

اس روز صدیقی صاحب کسی گہری سوچ میں سیڑھیوں سے اترے اور آفس جانے کے لیے نکلنے لگے تو نگہت پھپھو ان کے سامنے آگئیں، وہ پچھلے پندرہ بیس منٹ سے ان کا انتظار کررہی تھیں۔

’’کیا رہا بھائی صاحب… آپ نے تو کچھ بتایا ہی نہیں…!‘‘

صدیقی صاحب چونک کر رک گئے۔ ذہن پر زور دیا کہ ان کی بہن کس بابت استفسار کررہی ہے۔ سمجھ میں نہیں آیا تو جواباً پوچھ لیا:

’’کس بارے میں پوچھ رہی ہونِگّی۔‘‘ وہ اپنی بہن کونِگّی کہہ کر بلاتے تھے۔

’’آپ گئے تھے نابیگ صاحب کے گھر…انہوں نے بلایا تھا…آپ نے ہاں کردی کیا ارم کے لیے…؟‘‘

صدیقی صاحب سے فوراً کوئی جواب نہ بن پڑاتو ذرا بے زاری سے بولے:

’’نگی…تم ہر بات کی ٹوہ میں نہ رہا کرو…جب کوئی بات ہوگی سب کو پتا چل جائے گی… ابھی کچھ طے نہیں ہوا…‘‘

نگہت سازشی انداز میں ان کے قریب آگئی۔ اپنی آواز کو حتی المقدور دھیمی رکھتے ہوئے بولی:

’’میں تو کہتی ہوں بھائی صاحب… ارم کی ہی بات پکی کردو…حیا کی تو عمر نکل گئی ہے… اس کے چکر میں دوسری بچیوں کا نصیب توخراب نہیں کرسکتے نا…کب تک گھر بٹھائے رکھیں گے ان بچیوں کوحیا کی وجہ سے …‘‘

باورچی خانے سے نکل کر راحیلہ اس طرف آرہی تھی۔ اس نے پوری بات سن لی تھی۔ وہیں کھڑی رہ گئی۔

صدیقی صاحب کوبھی اس بے تکی بات پر غصہ آگیا۔انہوں نے غراکر کہا:

’’نگہت…منھ کھولا کرو تو سوچ سمجھ کر بولا کرو…تمہیں اندازہ بھی ہے تم کیا کہہ رہی ہو…؟‘‘

نگہت پھپھو نے اپنا تکیہ کلام دہرایا:

’’میں نے تو ایک بات کہی تھی بھائی صاحب…آپ تو…!‘‘

صدیقی صاحب نے تلخی کے ساتھ نگہت کی بات کاٹ دی:

’’جن کے اپنے نصیب دغا دے جائیں…، انہیں دوسروں کے نصیب پر انگلی نہیں اٹھانی چاہیے۔‘‘

نگہت کا منھ بند ہوگیا ۔

صدیقی صاحب نے مزید کچھ نہیں کہا، نگہت پر نظر بھی نہیں ڈالی، اور ان کے سامنے سے گزرکر باہر نکل گئے۔

نگہت نے پلٹ کر دیکھا تو راحیلہ پر نظر پڑگئی جو ابھی تک وہیں کھڑی تھی۔نگہت نے تنک کر کہا۔

’’تویہاں کھڑی کھڑی کیا کررہی ہے…؟‘‘

راحیلہ نے اسی کے لہجے میں جواب دیا۔

’’تمہیں ذلیل ہوتا دیکھ رہی ہوں۔‘‘

نگہت تلملاکر رہ گئی۔غصے میں غرائی :

’’دیکھ راحیلہ…میرے منھ مت لگاکر…‘‘

’’اتنی بدنصیب نہیں ہوں کہ تمہارے منھ لگوں اوراپنا نصیب کھوٹا کروں۔‘‘ راحیلہ نے بدتمیزی سے جواب دیا اور آگے بڑھ گئی۔

نگہت کافی دیر تک غصے میں کھولتی رہی، مگر کیا کرسکتی تھی۔

راحیلہ پر اس کا بس نہیں چلتا تھا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اس روز بھی صدیقی صاحب نے ارم کو کالج تک ڈراپ کیا۔

دوسری گاڑی ابھی تک گیرج سے نہیں آئی تھی۔ ارم عام طور پریا تو ٹیکسی، رکشہ کرلیا کرتی تھی، یااگر صدیقی صاحب اس وقت جارہے ہوتے تو وہ ڈراپ کردیا کرتے تھے۔

سارے راستے خاموشی ہی رہی تھی۔

ارم کھڑکی سے باہر دیکھتی رہی تھی، صدیقی صاحب فون پر باتیں کرتے رہے تھے۔

کال ختم ہونے کے بعد بھی ان کے درمیان کوئی بات نہیں ہوئی۔

صدیقی صاحب نے ایک آدھ بار اِرم پر نظر ڈالی اور کچھ بولنے کی کوشش بھی کی مگر ارم کو کھڑکی سے باہر دیکھتے پاکر وہ خاموش ہوگئے۔

جب گاڑی کالج کی پارکنگ میں آئی، ارم نے کتابیں سمیٹیں، جو، اُن کے اور ارم کے درمیان رکھی ہوئی تھیں تو صدیقی صاحب چپ نہ رہ سکے۔ خشمگیں لہجے میں مگر نرمی سے کہہ گئے۔

’’ارم بیٹی… میری باتیں بھولی تو نہیں ہونا…؟‘‘

ارم نے آہستگی سے صرف اتنا کہا:

’’جج…جج…جی ابوجی…!‘‘

صدیقی صاحب کو اطمینان ہوگیا۔ ہونٹوں پر پدرانہ شفقت پھیل گئی۔ اپنا پرس نکال کر اس میں سے پانچ سو کا ایک نوٹ نکالا اور ارم کی طرف بڑھایا:

’’ یہ لو…کچھ پیسے رکھ لو…‘‘

’’نہیں ابوجی، پیسے ہیں میرے پاس…!‘‘

’’رکھ لو بیٹی…ضرورت پڑجاتی ہے…، کچھ کھاپی لینا کینٹین سے…!‘‘

ارم نے خاموشی سے نوٹ لے لیا اور سلام کرکے گاڑی سے اتر گئی۔

پھر وہ اس وقت تک وہیں کھڑی رہی جب تک کہ اس کے ابو جی کی گاڑی واپس نہیں چلی گئی۔کالج کے بیرونی گیٹ سے باہر جا کر نظروں سے اوجھل نہ ہ وگئی ۔

کلاس شروع ہوگئی تھی۔ آج اسے کالج آنے میں ذرا تاخیر ہوگئی تھی۔

بہت سے طالب علم ادھر ادھر خوش گپیوں میں مصروف تھے۔ کچھ جوڑوں کی شکل میں سرگوشیاں کررہے تھے۔تو کہیں قہقہے گونج رہے تھے۔ زنانہ سرگوشیاں کوریڈور میں بھن بھن ہوتی محسوس ہورہی تھیں۔

ارم خاموشی سے لائبریری کی طرف چل دی۔

ایک موڑ سے گھومی تو سہیل اچانک اس کے سامنے آگیا۔

وہ عام طورسے اسی جگہ رک کر ارم کا انتظار کرتا تھا۔ خاص طورپر اس وقت جب پہلا پیریڈشروع ہونے تک ارم کالج نہیں پہنچتی تھی۔

سہیل نے بے تکلفی سے اس کا بازو تھام کر اپنے قریب گھسیٹ لیا۔

’’ہائے… آج آنے میں دیر ہوگئی…!‘‘

ارم نے جھٹک کر اپنا بازو اس کی گرفت سے چھڑالیااور کتراکر آگے بڑھ گئی۔کوئی جواب بھی نہیں دیا ،نہ اس کی طرف دیکھا۔

سہیل کی کچھ سمجھ نہیں آیاکہ یہ اس کے موڈ کو کیا ہوا۔وہ اس کے پیچھے لپکتے ہوئے بولا:

’’ارم…کیا بات ہے…، ناراض ہوکیا…کوئی غلطی ہوگئی مجھ سے …؟‘‘

وہ تیز تیز قدموں سے اس کے ساتھ ساتھ چلنے لگا۔

ارم نے اب بھی کوئی جواب نہیں دیا۔ نہ ہی نظراٹھاکر اس کی طرف دیکھا۔

سہیل نے ایک بر پھر اس کا بازو تھام لیا۔

’’ارم…بات کیا ہے…، کچھ تو کہو…!‘‘

اب ارم نے نظراٹھاکر اس کی طرف دیکھا اور ایک بار پھر بازو چھڑاکر لائبریری میں گھس گئی۔

سہیل نے جھنجھلا کر پیچھے سے آواز دی:

’’بات تو سنو یار…چچ…!‘‘

مگر ارم نے جیسے سنا ہی نہیں۔ سہیل الجھ گیا۔ بدمزاجی سے تلملاکر رہ گیا۔

’’شِٹ…کیا ہوگیا اس کو…یہ اتنا بھاؤ کیوں دے رہی ہے …‘؟‘

وہ کچھ دیر وہیں کھڑا رہا۔ ارم کے اس عجیب رویے پر غور کرتا رہا مگر کچھ سمجھ نہیں آیا کہ ارم نے اس سے بات کیوں نہیں کی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

شاہدہ حسب عادت موٹی سی رومانی کتاب میں گم تھی۔

راشدہ سنگھارمیز کے سامنے بیٹھی اپنے بالوں کو نیا انداز دینے کی کوشش کررہی تھی۔ کمرے میں مکمل خاموشی تھی۔ اسی وقت ردا ایک دھماکے سے اچھلتی ہوئی اندر آگئی۔ اس کے چہرے پر شوخی تھی۔

دونوں نے چونک کر اس کی طرف دیکھا، وہ اندر آتے ہی دروازہ بند کرنے لگی اور دروازے کی چٹخنی چڑھاکر تیزی سے شاہدہ کے پاس آگئی۔

اس کے ہاتھ میں اس کا موبائل فون تھا۔ اس نے دھیمی آواز میں کہا:

’’شاہدہ… وہ سم دینا… دوسری والی… !‘‘

شاہدہ نے حیران ہوکر کتاب پر سے نظریں اٹھائیں۔

’’دوسری والی سم …؟ کون سی دوسری والی…؟‘‘

ردا اچھل کر پلنگ پر بیٹھ گئی۔

’’ارے وہی… جو پڑی ملی تھی اس روز بازار سے…!‘‘

شاہدہ کی سمجھ میں نہیں آیا کہ اس سم کا وہ کیا کرے گی ۔اس نے سم دینے کی بہ جائے الٹا سوال کردیا۔

’’کیوں… ؟ کیا کروگی…؟‘‘

’’دونا یار… ایک شان دار آئیڈیا آیا ہے ذہن میں…!‘‘‘

راشدہ کے بھی ہاتھ رک گئے۔ پلٹ کرردا اور شاہدہ کی طرف دیکھا۔راشدہ نے تجسس میں پوچھا۔

’’کیسا آئیڈیا… کچھ بتا ؤ تو سہی…‘‘

’’ُبتاتی ہوں… لاؤنا شاہدہ… کہاں رکھی ہے…؟‘‘

شاہدہ نے اپنی جگہ سے حرکت نہیں کی۔ ردا خودہی اٹھ کر پلنگ کے دونوں طرف کی دراز میں ڈھونڈنے لگی۔شاہدہ نے ایک طویل سانس لے کر ردا کی طرف دیکھا۔

’میں نہیں دوں گی … وہ سم میں خود استعمال کروں گی۔‘‘

’’اف فوہ …‘‘ ردا جھنجھلا اٹھی ۔

’’ابھی تو دو مجھے… تم ہی استعمال کرنا بعد میں… ‘‘

راشدہ اور شاہد نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا اور راشدہ نے شکی انداز میں کہا۔

’’کس کو فون کروگی… کوئی لڑکا ہے…؟‘‘

راشدہ کے اس احمقانہ اور بے باکانہ سوال پر ردابری طرح بپھرگئی۔بھنا کر بولی:

’’لعنت ہے… کیا بکواس کررہی ہو…میں تمہیں ایسی لگتی ہوں…لڑکوں سے باتیں کروں گی کیا میں … سوچے سمجھے بغیر کچھ بھی کہہ دیتی ہو …؟‘‘

’’تو پھر… کیا کروگی … تمہارے پاس ہے تو ایک سم…اس سے فون کرلو…کسی کو فون کرنا ہے تو…‘‘

’’نہیں نا یار…اس سے نہیں کرنا …کچھ اور بات ہے …؟‘‘

راشدہ کو غصہ آگیا۔

’’توکچھ پھوٹوبھی تو منہ سے…کس کو کرنا ہے فون…تفریح لینی ہے کسی سے …؟بتاؤ…کس سے لینی ہے تفریح…؟‘‘

ردا نے مسکراتے ہوئے کہا:

’’نگہت پھپھو سے…!‘‘

راشدہ اور شاہدہ نے چونک کر ایک بار پھر ایک دوسرے کی طرف دیکھا۔ ان کی سمجھ میں نہیں آیا تھا کہ وہ کیا کرنا چاہ رہی ہیں۔ ردا کو دراز میں سے سم نہیں ملی تو وہ جھنجلاگئی۔

’’اب دے بھی چکو یار…!‘‘

شاہدہ نے ایک طویل سانس لے کر اپنا پرس اٹھایا اور اس کی چھوٹی جیب میں سے کاغذ میں لپٹی ہوئی سم اس کی طرف بڑھادی۔

یہ سم انہیں چند دن پہلے بازار میں اس وقت پڑی ملی تھی جب وہ راحیلہ خالہ کے ساتھ کچھ خریداری کرنے گئی تھیں۔ردا نے جلدی جلدی اپنا موبائل کھول کر اس میں سے اپنی سم نکال کر دوسری سم لگالی۔

دونوں حیرانی سے ردا کو دیکھ رہی تھیں۔

سم لگاکر ردا نے فون آن کیا اور دونوں کو آنکھ مارکر چپ رہنے کا اشارہ کیا، پھر نگہت پھپھو کا نمبر نکال کر کال ملائی۔

نگہت پھپھو اس وقت اپنے کمرے میں بے چینی سے ٹہل رہی تھیں، جس وقت ان کا موبائل Buzz ہوا۔

ان کے دماغ میں کھچڑی سی پکی ہوئی تھی کہ بیگ صاحب سے ان کے بھائی صاحب کی کیا بات ہوئی، ارم کے معاملے پر انہوں نے کیا جواب دیا۔

فون کی گھنٹی جب مسلسل بجتی رہی تو وہ اپنے خیالات سے باہر آئیں۔

ان کا فون بیڈ پر تکیے کے قریب پڑا تھا۔ انہوں نے قریب جاکر فون اٹھایا اس پر ایک نیا نمبر جھپکیاں لے رہا تھا۔ گویا جس کا بھی فون تھا وہ ان کا شناسا نہیں تھا۔ شناسا ہوتا تو ضرور اس کا نام اسکرین پر آتا۔

پہلے تو انہوں نے سوچا فون نہ اٹھائیں، مگر پھر فوراً خیال آیا کہ کہیں یہ فون بیگ صاحب کے گھر سے کسی نے نہ کیا ہو۔

انہوں نے جھٹ فون کال وصول کرلی:

’’ہیلو…،کون بول رہا ہے…؟‘‘

دوسری طرف سے ایک گھمبیر سی مردانہ آواز سنائی دی۔

’’ہیلو نگی… میں خاور بول رہا ہوں…‘‘

نگہت پھپھو پہچان نہ سکیں کہ یہ خاور کون ہے۔

خاور نام کے کسی آدمی کو وہ نہیں جانتی تھیں۔ پھر اس نے انہیں ’’نگی‘‘ کہا تھا اس کا مطلب تھا کہ خاور نام کا یہ شخص ضرور انہیں اچھی طرح جانتا تھا۔

’’خاور…کون خاور…؟ میں تو کسی خاور کو نہیں جانتی…‘‘

وہ جان بھی کیسے سکتی تھیں۔ خاور واقعی کوئی نہیں تھا۔ وہ تو ردا تھی جو مردانہ آواز میں بات کررہی تھی۔

’’ارے یار…نگی، مجھے بھول گئیں… میں خاور ہوں خاور اور…‘‘

نگہت نے الجھتے ہوئے اس کی بات کاٹ دی ۔

’’تو میں کیا کروں خاور ہو…میں تو کسی خاور کو نہیں جانتی…اور ہاں میں نگی بھی نہیں ہوں،نگہت نام ہے میرا…اتنا فری ہونے کی ضرورت نہیں …‘‘

دوسری طرف سے فورا کہا گیا ۔

’’ارے…سوری…، غلطی سے آپ کو کال لگ گئی…، میں اپنے دوست نگی کو فون کررہا تھا۔ ‘‘

ردا نے اپنی آواز کو بھاری بناتے ہوئے کہا تو راشدہ اور شاہدہ کی ہنسی چھوٹ گئی، ردا نے فوراً انہیں چپ رہنے کا اشارہ کیا،اور مردانہ آواز میں بولی :

’’ویسے نگہت…تم جو کوئی بھی ہو…، تمہاری آواز بہت پیاری ہے… یقیناًتم بھی بہت پیاری ہوگی…اپنی آواز کی طرح …۔‘‘

ردا خالص مردوں کے سے لوفرانہ انداز میں بات کررہی تھی۔

راشدہ اور شاہدہ کا دل چاہا کہ حلق پھاڑ کر قہقہے لگائیں، مگر وہ ضبط کرررہی تھیں، اور منہ میں دوپٹہ ٹھونسے کھی کھی کرنے پر اکتفا کررہی تھیں۔

نگہت نے سنا تو خوشی کے مارے نہال ہوگئی، یہ تک بھول گئی کہ وہ کسی اجنبی سے بات کررہی ہے۔جھٹ اتراکر بولی:

’’ہاں…، ہاں، آواز تو میری بہت پیاری ہے…سب تعریف کرتے ہیں…،اور میں تو ہوں ہی بہت پیاری … مگر تم ہو کون…؟‘‘

’’بتایا نا…خاور ہوں میں…،سچ کہوں … تمہاری آواز پر مرمٹا ہوں…ویسے تمہاری عمر کیا ہوگی…؟‘‘

نگہت سوچ میں پڑگئی کہ کیا بتائے ۔پھر ہکلاتے ہوئے جھوٹ بالا:

’’چچ…چچ…چوبیس…ہاں چوبیس برس…پچیس میں ایک سال کم …!‘‘

ردا نے اپنے موبائل کا اسپیکر آن کررکھا تھا۔ راشدہ اور شاہدہ نے سنا تو پیٹ پکڑ پکڑ کر دوہری ہوگئیں۔ ہنستے ہنستے بے حال ہوگئیں۔

ردا نے خود اپنی ہنسی ضبط کرتے ہوئے انہیں آواز نہ نکالنے کا اشارہ کیا تو ٹھٹک گئی، کمرے کے کھلے دروازے سے حیا جانے کب اندر آگئی تھی اور تیز نظروں سے انہیں گھوررہی تھی۔

ردا نے گھبراکر اپنی ہی آواز میں کہا۔

’’کک…کوئی آگیا ہے…، میں بعد میں بات کرتی ہوں۔‘‘

پھر خیال آیا تو فوراً مردانہ آواز میں سرگوشی کی:

’’مم…میرا مطلب ہے…، بعد میں بات کرتا ہوں۔‘‘

اس نے جلدی سے فون کا سلسلہ منقطع کردیا۔

حیا صدیقی نے انہیں گھورتے ہوئے پوچھا۔

’’کیا حرکت ہے یہ… کس سے بات کر رہی تھیں …‘‘

راشدہ اور شاہدہ ابھی تک پیٹ پکڑے کھی کھی کررہی تھیں، اب بلند آہنگ قہقہے لگانے لگیں۔ ردا بری طرح ہکلاکر رہ گئی۔

’’کک…کک…کچھ نہیں…یوں ہی، مذاق کررہے تھے…نگہت پھپھوسے…پلیز، بجو، انہیں مت بتانا… کہ ہم نے فون کیا تھا ۔‘‘

حیا مسلسل گھورتی رہی۔

’’اگر انہیں پتا چل گیا نا… ہڈیاں سرمہ بنادیں گی۔‘‘

ساتھ ہی وہ خود بھی ہنس پڑی اور پھر چاروں ہی بے تحاشا ہنستی رہیں۔

’’چوبیس سال…‘‘

ردا نے قہقہے لگاتے ہوئے کہا تو ہنسی کا جیسے طوفان آگیا۔

۔۔۔*۔۔۔

ادھرخاور سے بات کرنے کے بعد سے نگہت پھپھو پر ایک سرشاری کی سی کیفیت طاری تھی۔

انہیں نہیں معلوم تھا کہ یہ خاور کون تھا۔ نہ یہ جانتی تھی کہ خاور نام کا ایسا کوئی شخص ہے ہی نہیں جس نے انہیں فون کیا ہے۔

ایک فون کال نے انہیں اچانک سے دوبارہ جوان کردیا تھا۔

انہوں نے اپنی الماری کھول کر اپنی جوانی کے دور کا ایک رنگین سا جوڑا نکالا۔ بڑے چاؤ سے استری کیا، اور غسل خانے میں گھس گئیں۔

نہا دھوکر خوب خوشبوؤں میں بھیگ کر جوڑا پہننا چاہا تو وہ تنگ تھا۔

بدن کے مختلف حصوں پر بڑھ جانے والی چربی نے لباس تنگ کردیا تھا۔

جیسے تیسے کرکے انہوں نے خود کو اس تنگ لباس میں گھسیڑ ہی لیا، اور آئینے کے سامنے آکر گھوم گھوم کر اپنے جسم کے ان حصوں کو دیکھنے لگیں جو لباس کی تنگی کی وجہ سے دائیں بائیں سے باہر کو نکل آئے تھے اور بہت بھدے لگ رہے تھے۔

آخر کچھ سمجھ میں نہیں آیا کہ اس چربی کا کیا کریں تو الماری سے ایک شوخ سی پیازی رنگ کی ساڑھی نکال لی، ان کے پاس کچھ ساڑھیاں ایسی تھیں جو وہ شادی بیاہ کے موقعوں پر پہنتی تھیں۔

پیازی رنگ کی ساڑھی پر سنہری دھاگوں سے بھاری کام ہوا تھا۔

انہوں نے وہ ساڑھی اپنے جسم کے گرد لپیٹ لی۔ان پر سرشاری طاری تھی۔ ساڑھی پہن کر خوب موٹا موٹا اور چیختا ہوا میک اپ کیا اور کمرے میں گھوم گھوم کرلہک لہک کر گنگنانے لگیں۔

’’آئے موسم رنگیلے سوہانے…

جیا نہ ہی مانے

تو چھٹی لے کے آجابالما…

آئے موسم رنگیلے سہانے…

ان کے کمرے کا دروازہ کھلا ہوا تھا۔ راحیلہ خالہ کمرے کے سامنے سے گزریں تو ٹھٹک کر رک گئیں۔

انہوں نے حیرت سے دیکھا کہ نگہت مستی میں لہرارہی ہے، بل کھارہی ہے، گنگنارہی ہے۔راحیلہ اندر چلی گئی، تعجب سے بولی:

’’نگہت…اے نگہت، کم بخت، سٹھیاگئی ہوکیا…؟اس عمر میں یہ کیا حرکتیں کر رہی ہے … کیا ہو گیا ہے تجھے …؟‘‘

نگہت نے چونک کر دیکھا ، ایک لمحے کو تو سٹپٹاگئی، اور لگی تیزی سے خود کو سنبھالنے، پھر خیال آیا کہ راحیلہ تو ملازمہ ہے اس گھر کی، اس کی اتنی جرات کہ وہ اسے ٹوکے،چناں چہ جھنجلاکر بولی۔

’’کیا ہے…جا، جاکر اپنا کام کر…!‘‘

’’میں تو چلی جاؤں گی۔‘‘ راحیلہ نے جواب دیا۔

’’مگر تجھے کیا ہوگیا…یہ بھڑکیلا لباس…یہ زیور…بے ڈھب اور چھچھورا میک اَپ…یہ لہک لہک کر گانا ،دماغ تو ٹھیک ہے نا…کہیں پاگل تو نہیں ہوگئی ہو…؟‘‘

نگہت کے تو تن بدن میں آگ لگ گئی۔ تلملاکر بولی۔

’’تو دفع ہویہاں سے…چل نکل…‘‘

صرف یہی نہیں، آگے بڑھ کر راحیلہ کو دروازے کی طرف دھکیل بھی دیا، اور ایک بار پھرلہراکر،مچل کر گانے لگی۔

’’آئے موسم رنگیلے سہانے…آئے موسم…‘‘

’’ارے بے وقوف، یوں مت لہرا۔‘‘ راحیلہ باہر نہیں گئی تھی۔

’’پھسل گئی تو کوئی ہڈی وڈی کھسک جائے گی اپنی جگہ سے…بڑھاپے میں اس طرح کا چھچھورپن اچھا نہیں ہوتا۔‘‘

نگہت رک گئی، کمر پر دونوں ہاتھ ٹکاکر راحیلہ کو شعلہ بار نظروں سے گھورا تو راحیلہ نے نگہت کی نقل اتارتے ہوئے کہا:

’’میں نے تو ایک بات کہی تھی…‘‘

اور پھر فوراً کمرے سے نکل گئی۔نگہت بدمزہ ہوکر پلنگ پر بیٹھ گئی بہت دیر تک راحیلہ کو گالیاں بکتی رہی۔راحیلہ نے اس کے سارے موڈ کا ستیا ناس کر دیا تھا ۔کچھ دیر بیٹھی رہی ،پھرّ ئینے کے سامنے کھڑی ہوکر اپنے چہرے کا جائزہ لیتی رہی ۔

پھر شاید اپنے چہرے کی کچھ سلوٹیں دکھائی دے گئیں ۔

وہ آنکھیں بند کر کے وہیں کھڑی رہی،پھر پلنگ پر بیٹھ کر رونے کی کوشش کرتی رہی ۔مگر اس کے آنسو نہیں نکلے ۔

۔۔۔*۔۔۔

دوسرے پیریڈ کے خاتمے پر جوں ہی ارم کلاس سے نکلی، سہیل پر نظر پڑی۔

وہ پریشان صورت بنائے کلاس روم کے سامنے کوریڈور میں کھڑا تھا۔ اس کی حالت خراب ہوچکی تھی، اتنی سی دیر میں جانے طوفان گزرگئے تھے۔

جن کے اثرات اس کے چہرے پر نظر آرہے تھے۔

ارم نے سہیل کو کبھی اتنا اجڑا ہوا نہیں دیکھا تھا۔

وہ اس کے سامنے آکر کھڑی ہوگئی۔ سہیل خالی خالی نظروں سے اس کی طرف دیکھتا رہا۔

پھر خاموشی کے ساتھ نیچے جانے والی سیڑھیوں کی طرف بڑھ گیا۔

ارم بھی بغیر کچھ کہے اس کے ساتھ ساتھ چل رہی تھی، دونوں نے ایک لفظ بھی ایک دوسرے سے نہ کہا۔

باہر آکر سہیل اپنی کار کے پاس آگیااور دروازہ کھول کر اندر بیٹھ گیا۔

ارم بھی خاموشی سے اگلی سیٹ پر بیٹھ گئی۔ کتابیں پچھلی نشست پر ڈال دیں۔

سہیل گاڑی لے کر کالج کی حدود سے باہر لے آیا اور اس کا رخ ساحل سمندر کی طرف کرلیا۔

کوئی آدھ گھنٹے تک یہ سفر جاری رہا۔

دونوں نے ایک آدھ بار نظریں اٹھاکر ایک دوسرے کی طرف دیکھا بھی، مگر کہا کچھ بھی نہیں۔

گاڑی میں ایک گھمبیر خاموشی نے مستلقلاً اپنے ڈیرے ڈال لیے تھے۔

ساحل کے ویران حصے میں ایک مخصوص جگہ جاکر سہیل نے گاڑی کا انجن بند کردیا۔ یہ وہی جگہ تھی جہاں سہیل نے پہلی بار ارم کے سامنے اظہار محبت کیا تھااور زندگی بھر اس سے محبت کرتے رہنے کی قسم کھائی تھی۔

دونوں گاڑی میں بیٹھے رہے، ایک لفظ بھی کسی کے منہ سے نہ نکلا۔

ارم خاموش نظروں سے مسلسل شیشے کے دوسری طرف پرسکون سمندر کو تکے جارہی تھی، اور سہیل الجھن آمیز انداز میں اس کو گھوررہا تھا۔ آخر جھنجلاگیا۔

’’فارگاڈسیک ارم…، ہوکیا گیا ہے تمہیں…؟‘‘

ارم نے خاموش نظروں سے اس کی طرف دیکھا۔ کہا کچھ بھی نہیں۔

’’بات کیوں نہیں کررہی ہو…اس طرح کب تک گونگی بنی رہوگی…، پاگل ہوجاؤں گا میں…کچھ تو بولو، خدا کے لیے کچھ تو کہو…، کیا ہوا ہے…؟‘‘

ارم مزید کچھ دیر یوں ہی گم صم بیٹھی رہی۔ پھر جب منہ کھولا تو اس کی آواز لرزرہی تھی۔

’’میں بہت پریشان ہوں سہیل…‘‘

’’اف فوہ…‘‘ سہیل زچ آگیا۔

’’مجھے بتاؤ تو کیا پریشانی ہے…، بتاؤگی نہیں تو پریشانی کیسے دور ہوگی۔‘‘

ارم نے ایک طویل سانس لے کر کہا:

’’سہیل…ابوجی نے ہمیں ایک ساتھ دیکھ لیا ہے…‘‘

اتنا کہہ کر وہ چپ ہوگئی۔ سہیل بھی ایک دم چپ ہوکر ٹکرٹکراس کی طرف دیکھتا رہ گیا۔اس کے چہرے پر یہ سنتے ہی ایک رنگ آکر گزر گیا۔پھراس نے بہ مشکل پوچھا:

’’کب…؟کہاں…؟‘‘

’’کالج میں…‘‘ ارم کی آواز بھرآگئی۔

’’میں اپنی ایک کتاب بھول گئی تھی ابوجی کی گاڑی میں…وہ واپس دینے آئے تو…میں تمہارے ساتھ…‘‘

ارم نے بات ادھوری چھوڑدی۔ سہیل خالی خالی نظروں سے اس کی طرف دیکھتا رہا۔

’’ہوں…تو…پھر…؟‘‘ اس نے آگے جاننا چاہا۔

’’کچھ کہا کیا انہوں نے…؟‘‘

ارم نے انکار میں سر ہلایا۔

’’ابھی تو میں نے معافی مانگ کر انہیں منالیا ہے…لیکن…لیکن مجھے بہت ڈرلگ رہا ہے سہیل…!‘‘ ارم کی آواز لرزرہی تھی۔

’’اگر دوبارہ پکڑ گئی تو…تب…تب کیا ہوگا…؟‘‘

اس کی آنکوں میں فکراور اندیشے کروٹ لے رہے تھے۔

’’اس میں اس قدر پریشان ہونے کی کیا ضرورت ہے…‘‘سہیل نے معاملے کی گھمبیرگی کا اثر ختم کیا۔

’’ایک نہ ایک دن تو انہیں معلوم ہونا ہی تھا۔‘‘

’’اتنا ایزی(Easy) نہ لو سہیل…‘‘ ارم نے ذرا سخت لہجہ اختیار کرلیا۔

’’میں نہیں چاہتی تھی کہ وہ ہمیں ساتھ دیکھیں…‘‘

’’کیوں…؟‘ سہیل اندیشوں میں مبتلا ہوگیا۔

’’کیا میں انہیں پسند نہیں آؤں گا…‘‘

’’یہ بات نہیں ہے…‘‘ ارم نے فوراً کہا:

’’ابوجی کویہ بات اچھی نہیں لگے گی کہ میں کسی کو پسند کرتی ہوں…‘‘

’’کم آن یار…‘‘ سہیل نے بے تکلفی سے کہا۔

’’محبت کے معاملوں میں یہ سب تو ہوتا ہے…سارے باپ کمپرومائز کرتے ہیں… تمہارے ابو جی بھی جلد یا بدیر اس بات کو برداشت کرلیں گے۔‘‘

’’یہی تو میں نہیں چاہتی…‘‘ ارم کالہجہ ٹھوس ہوگیا۔

سہیل حیرت سے اس کی طرف دیکھنے لگا۔

عجیب لڑکی تھی۔ محبت بھی کرتی تھی، اور کسی کو اس بارے میں بتانا بھی نہیں چاہتی تھی۔وہ الجھ کر بولا:

’’میں سمجھا نہیں ارم…تم محبت تو کرتی ہو …مگر یہ نہیں چاہتی ہو کہ تمہارے ابا اس ہماری محبت پر کمپرو مائز نہ کریں …!‘‘

ارم نے دھیرے سے سر اٹھاکر اس کی الجھی ہوئی آنکھوں میں دیکھ کر کہا:

’’سمجھاتی ہوں۔۔۔میں نہیں چاہتی کہ میرے ابوجی کو کوئی فیصلہ برداشت کرنا پڑے…‘‘

سہیل اپنے ماتھے پر ہتھیلی رگڑنے لگا۔

اتنا کہہ کر ارم نے خاموشی اختیار کرلی تھی۔

کافی دیر تک سہیل کی سمجھ میں نہیں آیا کہ مزید کیا بات کرے۔ پھر وہ خاموشی سے ارم کے ہونٹوں کو دیکھتا رہا۔ اسے ارم کے ہونٹ بہت پسند تھے۔

ارم جان گئی کہ وہ اس وقت کیا دیکھ رہا ہے،اور کیا چاہ رہا ہے۔ اس نے دھیرے سے کہا۔

’’چلو سہیل… مجھے دیر ہورہی ہے۔‘‘

’’ تماہرے ہونٹ بہت رسیلے ہیں …‘‘ اس نے نشیلے لہجے میں کہا۔

’’ پلیز سہیل …مت ڈسٹرب کرو مجھے …‘‘

سہیل کچھ دیر یوں ہی خاموشی سے دیکھتا رہا۔

پھر بغیر کچھ کہے گاڑی اسٹارٹ کردی۔اس کا موڈ خراب ہو گیا تھا ۔

۔۔۔*۔۔۔

اس رات ارم اور حیا کے کمرے میں بھی مکمل خاموشی تھی۔

حیا ایک طرف گم سم بیٹھی تھی۔ اس کے ذہن میں جانے کیا کیا چل رہا تھا۔ گہری سنجیدگی کی چادر میں پوری طرح لپٹی ہوئی تھی اس کے قریب ہی ارم بھی بیٹھی ہوئی تھی۔ اس کی کتابیں سامنے بیڈ پر ہی بکھری ہوئی تھیں، وہ نوٹس تیار کرنے کی کوششوں میں تھی، مگر دماغ اتنا الجھا ہوا تھا کہ کچھ کرنہیں پارہی تھی۔

بے زار ہوکر ارم نے حیا کی طرف دیکھا۔ حیا اس وقت اسے پتھر کا بت محسوس ہوئی جو یک ٹک یوں ہی خلا میں کسی غیر مرئی نقطے کو دیکھ رہی تھی۔

’’بجو…‘‘ ارم نے دھیرے سے پکارا۔

حیا نے جیسے سنا ہی نہیں، یاواقعی اتنی کھوئی ہوئی تھی کہ ارم کی آواز اس کی سماعت سے ٹکرائی ہی نہیں۔ارم نے ایک بارپھر پکارا:

’’بجو… سن رہی ہو….؟‘‘

حیا یوں ہی بیٹھی رہی، کوئی ردعمل نہیں ہوا۔ جیسے وہ یہاں موجود ہی نہ ہو۔

ارم ذرا سا کھسک کر اس کے قریب ہوگئی۔ آہستگی سے اس کے کاندھے پر ہاتھ رکھ دیا۔فکرمندی سے بولی :

’’بجو… تمہاری طبیعت تو ٹھیک ہے نا…‘‘

حیا نے کوئی جواب نہیں دیا۔ یوں گم سم بیٹھی سامنے کی طرف تکتی رہی۔

ارم نے اس کا شانہ ہلایا تووہ چونکی:

’’کیا بات ہے…؟‘‘

’’تم بتاؤ کیا بات ہے….؟‘‘ارم نے اسے بہ غور دیکھتے ہوئے پوچھا۔

’’بتاؤ…کیا سوچ رہی ہو؟‘‘

’’کچھ بھی نہیں…‘‘ حیاصدیقی نے مختصر سا جواب دیا اور کھڑی ہوگئی۔

ارم حیرت سے اس کی طرف دیکھتی رہی۔

اس کے دیکھتے دیکھتے حیا بغیر کچھ کہے،کمرے سے نکل گئی۔

ارم بہت دیر تک حیا کی اس کیفیت کے بارے میں غور کرتی رہی اور فکر مند ہوتی رہی۔مگر اس کی سمجھ میں کچھ نہیں آیا ۔

اگلے دن ارم کی کالج کی چھٹی تھی ۔چھٹی والے دن سب ہی دیر سے اٹھتے تھے ۔سوائے حیا اور صدیقی صاحب کے ۔صدیقی صاحب توفجر کی نماز اور جوگنگ کے بعد اپنے دوست پیارے بھائی کے ساتھ ان کے گھر چلے جاتے تھے اور عام طور پر چھٹی والے دن ان ہی کے گھر ناشتہ کیا کرتے تھے ۔

ارم بیدار ہوئی توسورج سر پہ آچکا تھا ۔وہ کسلمندی سے انگڑائی لے کر بیدار ہوئی اور غسل خانے میں چلی گئی ۔فریش ہو کر نکلی تو چائے کی طلب میں کچن کی طرف چلی گئی ۔کچن کا دروازہ کھلا ہوا تھا ۔وہ اندر جاتے جاتے رک گئی ۔

چولھے پردودھ ابل رہا تھا،اورچولھے کے عین سامنے حیا کھڑی تھی ۔اس کا دھیان جانے کہاں تھا ۔سوچ کی گہری پرچھائیاں اس کے چہرے پر اپنے ڈیرے ڈالے ہوئے تھیں ۔

ارم کچن کے دروازے پر آئی تو اس نے حیا کو یوں گم سم دیکھاتو فکرمند ہوگئی۔حیا کو جانے کیا ہو گیا تھا ۔

اسی وقت چھن کی آواز ابھری…اور دودھ ابل کر چولھے پر گر گیامگر حیا کو جیسے معلوم ہی نہ ہوا ۔وہ یوں ہی خیالوں میں گم کھڑی رہی۔ اس کے جسم میں حرکت بھی نہیں ہوئی۔ارم چونک کر بولی :

’’بجو…دودھ گرگیاسارا…‘‘

اس نے لپک کر،آگے بڑھ کر چولھا بندکیا۔مگر حیا کے جسم میں کوئی حرکت نہ ہوئی ۔دودھ گرنے کی وجہ سے چولھا بجھ گیا تھا اور گیس خارج ہو نے لگی تھی ۔

ارم نے حیا کو بازو سے پکڑکرہلایا،تب حیا اپنے خیالوں سے چونکی۔

’’کیاہوگیا ہے بجو آپ کو…کہاں گم ہیں …طبیعت تو ٹھیک ہے نا …؟‘‘

حیانے کوئی جواب نہیں دیا۔وہ ٹکر ٹکر اس کی طرف دیکھتی رہی۔ پھر دفعتا کچن سے باہرچلی گئی۔ارم کی آنکھوں میں اب سچ مچ تشویش دوڑ گئی تھی ۔وہ کچھ دیر کھڑی سوچتی رہی ،پہلے سوچا کہ حیا کے پیچھے جائے اور اس سے پوچھے کہ اس کی یہ حالت کیوں ہورہی ہے …کیوں وہ کھوئی کھوئی اور گم سم گم سم ہوگئی ہے ۔اطراف کا ہوش ہی نہیں رہتا …جہاں کھڑی ہوجاتی ہے وہیں کھڑی رہتی ہے …جہاں بیٹھ جائے وہیں بیٹھی رہتی ہے ۔

اس نے اپنے لیے چائے بنائی اورمَگ میں بھر کر اپنے کمرے میں چلی آئی ۔

اس کے کمرے سے لان میں کھلنے والی ایک گیلری سی تھی ۔

وہ گیلری میں کھڑی ہو کر چائے کی چسکیاں لیتی رہی اور حیا کے بارے میں سوچتی رہی ۔

ویسے تو اس کی اپنی پریشانی نے اسے پریشان کر رکھا تھا ،مگر حیا کی حالت نے اسے فکرمند کردیا تھا ۔چائے کی چسکیاں لیتے ہوئے وہ مسلسل سوچ رہی تھی ،پریشانی اور فکرمندی میں ٹہل رہی تھی۔

وہ سمجھ رہی تھی کہ اس کی بڑی بہن کی پریشانی کی وجہ کیا ہے ۔ایسا نہیں تھا کہ اسے ادراک نہیں تھا ۔سب کچھ اس کی آنکھوں کے سامنے ہی تو ہوا تھا ۔اس کی اپنی موجودگی ہی تو اس کی بہن کی خوشیوں کو نگل گئی تھی ۔اگر وہ اس دن گھر نہ آتی تو سب کچھ اچھے سے ہوجاتا ۔درید نے اس کو نہ دیکھا ہوتا تو اس کی بہن کی بات پکی ہو چکی ہوتی ۔

اس کی آنکھوں کے سامنے، بار باروہ منظر گھوم رہا تھا جب درید نے کہا تھا ۔

’’میں حیا سے نہیں… آپ کی دوسری بیٹی… ارم سے اکیلے میں بات کرنا چاہوں گا…‘‘

یہ جملہ اب بھی اس کو تڑپا رہا تھا ۔درید نے سب کے سامنے اس کی بہن سب کے سامنے مسترد کر دیا تھا ۔کسی لڑکی کے لیے مسترد ہونے سے زیادہ تکلیف دی کوئی بات ہو ہی نہیں سکتی ۔

ارم نے آنکھیں بندکرکے سانس اندر کھینچاتودرید کی گھٹیا فرمائش اسے اپنی سماعت سے ٹکراتی ہوئی محسوس ہوئی :

’’مجھے آپ کی بیٹی ارم پسند آئی ہے… اگر آپ کو اعتراض نہ ہو تو میں ارم سے شادی کرنا چاہوں گا…‘‘

ارم پھر ٹہلنے لگتی ہے۔غصے سے کھولنے لگی ۔اس کی آنکھوں کے سامنے بار بار حیا کا اترا ہوا چہرہ اور جھکی ہوئی آنکھیں گردش کر رہی تھیں ۔درید نے بھری محفل میں حیا کو اپنے اندر سمٹنے اور چپ ہوجانے پر مجبور کر دیا تھا ۔

ایسا نہیں تھا کہ ارم کوئی زیادہ حور پری تھی ۔اور حیا اس کے مقابلے میں کم تر تھی ۔کوئی لڑکی کسی دوسری لڑکی سے کم تر نہیں ہوتی ۔حیا بھی کسی سے کم نہیں تھی ۔مگر اس وقت اسے کمتر بنا دیا گیا تھا ۔اسے بتادیا گیا تھا کہ وہ اسے دھتکار کر اس کی بہن کو دلہن بنانا چاہتا ہے ۔

اور جب حیا کی کیفیت ،اور دو دن سے اس کی خاموشی کا حساس ہوا تو ارم کا خون کھول گیا ۔اس کی سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ وہ situationمیں کیا کرے ۔کس طرح اس معاملے کو ہینڈل کرے ۔اس بات کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہو سکتا تھا کہ وہ اپنی بہن کی جگہ لے اور اس کی بہ جائے خود دولی میں بیٹھ کر چلی جائے ۔

پھر وہ تو سہیل سے محبت کرتی تھی ۔اس کے سو ا کسی اور کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتی تھی ۔

چائے کی پیالی ختم ہونے تک وہ ایک نتیجے پر پہنچ گئی ۔ایک فیصلہ کر ہی ڈالا اس نے … اس کی سمجھ میں آگیا کہ اسے کیا کرنا چاہیے ۔

اس نے بڑبڑاتے ہوئے خود سے کہا۔

’’ٹھیک ہے درید …میں بتاتی ہوں تمہیں کہ مجھ سے کیسے شادی کروگے تم … میری بہن کو reject کرنے کی ہمت کیسے ہوئی تمہیں…‘‘

وہ مَگ لے کر تیزی سے کمرے سے نکلی ۔

لاؤنج میں آئی ۔لینڈ لائن فون لاؤنج میں ہی رکھا ہوا تھا ۔اور اس کے ساتھ ہی وہ ڈائری بھی جس پر درید کے گھر کا فون نمبر درج تھا ۔

ان کے گھر میں سب ہی کے پاس فون تھا ۔مگر اس نے اپنے فون سے کال نہ کرنے کا فیصلہ کیا ۔وہ نہیں چاہتی تھی کہ اس کا نمبر درید یا اس کے گھر والوں کے پاس پہنچے ۔

لاؤنج میں آکر وہ ٹیلی فون کے پاس کھڑی ہوگئی ۔رسیور اٹھایااور رک گئی …

ایک بار پھر سوچ میں پڑگئی کہ اسے یہ کرنا چاہیے یا نہیں …

کہیں وہ کچھ غلط تو نہیں کر رہی ۔

کہیں ایسا نہ ہو …اس کی یہ ایک فون کال کوئی بھونچال لے آئے …؟

درید کے ڈیڈی …بیگ ساحب اس کے ابو جی کے دوست تھے ..

کہیں ایک فون کال ان کی دوستی میں دراڑ نہ ڈال دے …؟

وہ فون کا رسیور ہاتھ میں تھامے کھڑی تھی ۔مسلسل سوچ رہی تھی کہ نمبر ملائے …یہ نہ ملائے .گھنٹی بجائے …یہ نہ بجائے ۔

۔۔۔*۔۔۔

درید لیپ ٹاپ پر آفس کاکچھ کام کرنے میں مصروف تھا۔

چھٹی والے دن بھی وہ آفس کے جھمیلوں میں پھنسا رہتا تھا ۔جب سے اس نے بزنس سنبھالا تھا ،اس کا زیادہ تر وقت بزنس کے معاملات میں صرف ہوجاتا تھا ۔

بیگم ارسلان اس کے لیے چائے کی پیالی لے کرآئیں تو دریدنے مسکرا کر کہا:

’’اوہ…تھینکس مما… بڑی شدت سے طلب ہورہی تھی چائے کی …‘‘

بیگم ارسلان نے بغیر مسکرائے سنجیدگی سے جواب دیا :

’’ مجھے معلوم تھا …‘‘

حیا والے واقعے کے بعد سے ان کے گھر میں بھی بے نام سی خاموشی پھیلی ہوئی تھی ۔ایک سناٹا تھا جس نے اس گھر کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا تھا ۔سب اپنی اپنی جگہ خاموش تھے ۔

درید نے ان کی طرف دیکھتے ہوئے مسکرانے کی کوشش کی ۔

’’ کیسے معلوم ہوا کہ مجھے چائے کی ضرورت ہے…‘‘

بیگم ارسلان نے چائے اس کے قریب کارنر ٹیبل پر رکھتے ہوئے کہا:

’’ماں کو سب معلوم ہوتا ہے کہ بیٹے کو کب کیا چاہیے … اور یہ بھی کہ اس کے لیے کیا مناسب ہے…اور کیا نہیں…‘‘

درید نے لیپ ٹاپ سے نظریں ہٹا کر مسکراتے ہوئے کہا:

’’ mom you are great‘‘

بیگم ارسلان اس کے قریب ہی بیٹھ گئیں ۔اس کی طرف دیکھتی رہیں ۔

وہ ایک بار پھر لیپ ٹاپ کی اسکرین کی طرف متوجہ ہوگیا تھا ۔کچھ تائپ کرنے لگا تھا ۔تب ہی بیگم ارسلان نے کہا:

’’ایک بات کہوں درید بیٹا…‘‘

درید نے ان کے لہجے میں کچھ الگ محسوس کیا تو چونک کر ان کی طرف دیکھا۔

’’جی جی…بولیں …‘‘

بیگم ارسلان ایک طویل سانس لے کر بولیں :

’’بیٹا… اپنی ضد چھوڑدو…‘‘

’’ کون سی ضد …؟‘‘ درید کا دماغ جیسے کہیں اور تھا ۔

’’ شادی کے معاملے میں … حیا کی بہ جائے ارم کو پسند کرنے کی ضد …‘‘

درید نے ایک طویل سانس لی ۔بیگم ارسلان کہہ رہی تھیں ۔

’’ مجھے ارم کے مقابلے میں حیا زیادہ پسند ہے…حیا ہی وہ لڑکی ہے بیٹا…جس نے ایک نظر میں میرے دل میں گھر کرلیا… وہ بالکل ایسی ہے… جیسی بہو میں چاہتی تھی…‘‘

درید ایک طویل سانس لے کر کہا:

’’آئی ایم سوری مما… میرا خیال ہے یہ بات ختم ہوگئی ہے…‘‘

’’ بات ختم ہوگئی کا مطلب …؟‘‘

’’ میری پسند نظر انداز کررہے ہیں آپ لوگ… اب بہتر ہوگاکہ اس گھر کی بات ہی چھوڑدیں… کہیں اور… جہاں بھی کہیں گے میں ہاں کہہ دوں گا…‘‘

بیگم ارسلان بے چارگی سے دیکھتی رہیں ۔درید کا لہجہ ایسا دو ٹوک تھا کہ انہیں چپ لگ گئی ۔درید اپنی بات ختم کر کے ایک بار پھر اپنے کام میں لگ گیا ۔

بیگم ارسال اسے بے بسی سے دیکھتی رہیں ،اور پھرخاموشی سے اٹھیں اور کمرے سے باہر نکل گئیں ۔

درید کو ان کے جانے کا احساس فوری طور پر نہیں ہوا ،اور جب اسے اندازہ ہوا کہ وہ بنغیر کچھ کہے اٹھ کر چلی گئی ہیں تو اسے محسوس ہوا وہ ناراض ہوگئی ہیں ۔

اس نے ایک طویل سانس لے کر laptopکا کور بند کر دیا ۔سوچتا رہا کہ اس نے کہیں اپنی حد تو پار نہیں کرلی ۔اسے یوں دو ٹوک جواب نہیں دینا چاہیے تھا۔ماں تھی …ماں سے نرمی سے بات کرنی چاہیے …

وہ چائے کا کپ لے کر کمرے سے نکلا ،لاؤنج میں آیا ،مگر بیگم ارسلان دکھائی نہیں دیں ۔

اسے معلوم تھا کہ وہ کچن میں ہوں گی ۔وہ کچن کی طرف بڑھا ۔اسی وقت لاؤنج میں رکھے فون کی گھنٹی بجی ۔

وہ چونک کر رک گیا ۔پلٹ کر فون کی طرف دیکھا ،گھنٹی مسلسل بج رہی تھی ۔

وہ چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتے ہوئے فون کی طرف بڑھا اور چائے کی چسکی لیتے ہوئے ریسیور اٹھا کر کان سے لگایا۔

’’ہیلو…‘‘

دوسری طرف ارم تھی ۔جو فون کان سے لگائے آنکھیں بند کیے کھڑی تھی ۔درید کی آواز سنتے ہی اس نے آنکھیں کھولیں اور جلدی سے اپنی گھبراہٹ پہ قابو پاتے ہوئے بولی :

’’ہیلو… کون بول رہا ہے…‘‘

درید نسوانی آواز سن کر چونک گیا ۔ؤواز بھی کچھ جانی پہچانی لگی ،ذہن پر زور دیا کہ کس کی ؤواز ہو سکتی ہے ،مگر یاد نہ آیا ۔

دوسری طرف ارم بے تابی سے اپنے سوال کے جواب کی منتظر تھی ۔وہ صرف درید سے بات کرنا چاہتی تھی ،کسی اور سے بات نہیں کرنا چاہتی تھی ۔اس لیے پہلے confirmکررہی تھی کہ دوسری طرف درید ہی ہے ،کہیں گھر کا کوئی ملازم یا ادرید کے ڈیڈ تو نہیں ہیں ۔پھر دوسری طرف سے آواز ابھری ۔

’’آپ کو کس سے بات کرنی ہے محترمہ …؟

ارم نے ایک لمحے میں جواب دیا :مجھے دریدارسلان سے بات کرنی ہے۔‘‘

’’ جی میں درید ارسلان بات کر رہا ہوں… کون ہیں آپ …‘‘

’’ آپ ..آپ واقعی درید بات کر رہے ہیں …‘‘

وہ کہتے ہوئے پلٹی اور اس کے جملے اس کے منھ میں ہی رہ گئے ۔

اس کے سامنے اس کی بڑی بہن … حیا صدیقی کھڑی گھو رہی تھی ۔

وہ ساکت کھڑی رہ گئی ۔

۔۔۔*۔۔۔

(جاری ہے )

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

ڈرامہ شرط۔ اسکرپٹ۔۔ عرفان مغل۔۔ قسط نمبر 03

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے