سر ورق / ناول / ساڈا چڑیا دا چنبا…نفیسہ سعید…قسط نمبر 10

ساڈا چڑیا دا چنبا…نفیسہ سعید…قسط نمبر 10

ساڈا چڑیا دا چنبا

نفیسہ سعید

قسط نمبر 10

انٹری پوسٹ تھائی لینڈ کے باڈر پر تھی، نبیرہ کاشف کے ساتھ وہاں پہنچی تو دل ہی دل میں گھبرائی ہوئی تھی، وہاں کافی لوگ کاشف کو جانتے تھے، وہ سب ہی سے ملائی میں خیریت دریافت کرتا ایک ٹیبل کی جانب بڑھ گیا، وہاں موجود تھائی آفیسر کے حوالے نبیرہ کا پاسپورٹ کیا اور خود کرسی کھینچ کر تھوڑا دور بیٹھ گیا۔

”تمہاری یہاں کچھ تصویریں وغیرہ بنیں گی گھبرانا مت۔“

کاشف کی ہدایت سن کر اس نے صرف اثبات میں سر ہلایا اور آہستہ آہستہ چلتی اس کاﺅنٹر پر چلی گئی جہاں اس کا پاسپورٹ جمع ہوا تھا۔

”تمہاری تصویر بنے گی اپنے بیٹے کو لے کر سامنے کمپیوٹر کے پاس چلی جاﺅ۔“

کاشف نے اسے پیچھے سے پکارا وہ فوراً ہی سامنے موجود ٹیبل کی جانب بڑھ گئی جہاں کمپیوٹر کے ساتھ ایک چھوٹا سا کیمرہ موجود تھا۔ وہ کیمرے کے سامنے رکھی کرسی پر بیٹھ گئی، کمپیوٹر آپریٹر نے اس کی مختلف زاویوں سے تصاویر لیں، پھر اس کرسی پر ابوذر کو بٹھا دیا گیا اور یہ ہی عمل اس کے ساتھ بھی دہرایا گیا اس عمل کے مکمل ہونے کے بعد وہ واپس اس کاﺅنٹر پر آگئی جہا اس کا پاسپورٹ جمع ہوا تھا۔

”تمہارا نام؟“ ٹیبل کے دوسری طرف موجود مرد نے سخت لہجے میں دریافت کیا۔

”یہ ملائی نہیں جانتی۔“ اس سے قبل کہ وہ جواب دیتی اسے اپنے عقب سے کاشف کی آواز سنائی دی، نبیرہ نے اپنی رکی ہوئی سانس کو بحال کیا کاشف کی بروقت مداخلت نے اسے مزید سوالوں سے بچا لیا، ایک بار اگر وہ اس آفیسر سے ملائی میں بات کر لیتی تو یقینا اس کی تفتیش کا دائرہ کار وسیع ہو جاتا اس کے بعد اس آفیسر نے مزید کچھ سوالات کئے، جن کا جواب کاشف نے ہی دیا وہ بالکل اس طرح خاموش کھڑی تھی جیسے اس کی سمجھ میں کچھ بھی نہ آرہا ہو کچھ دیر بعد کاشف سے ہونے والی گفتگو کے بعد اس آفیسر نے ایک سلپ پو کچھ لکھ کر اسے کاشف کے حوالے کر دیا، کاشف کرسی سے اٹھ کھڑا ہوا، آفیسر کے ہاتھ سے سلپ لے کر کوئی بات کی اور پھر نبیرہ کو لیتا ہوا باہر کی جانب بڑھ گیا وہ نبیرہ کا ٹرالی بیگ گھسیٹتا ہوا دائیں جانب مڑ گیا، نبیرہ بھی خاموشی سے اس کی تقلید میں چلتی گئی، کچھ ہی فاصلے پر ٹیکسی اسٹینڈ تھا جہاں سے اس نے ٹیکسی لی اور نبیرہ کے ساتھ پچھلی سیٹ پر ہی بیٹھ گیا، نبیرہ نے دیکھا وہ جب بھی کسی ٹیکسی والے یا مقامی فرد سے گفتگو تھائی زبان میں ہی کرتا جس سے یہ ظاہر ہوتا تھا کہ وہ یہاں کا پرانا رہائشی ہے، ٹیکسی کے چلتے ہی اس نے نبیرہ کو مخاطب کیا۔

”ہم یہاں سے پانی کے راستے گولو جائیں گے وہ تھائی لینڈ کا پہلا گاﺅں ہے جہاں پچھلے پندرہ سالوں سے میں اپنی فیملی کے ساتھ رہتا ہوں گولو داخل ہوتے ہی تمہارا واسطہ ملائیشیا سے ختم ہو جائے گا۔“ اس کی رہائش کے متعلق لگایا گیا نبیرہ کا اندازہ درست نکلا۔

”اور وہاں انشاءاللہ کل شام تک تمہارا پاسپورٹ تصدیق ہو کر پہنچ جائے گا پھر میں تمہیں بتاﺅں گا اگلا قدم کیا ہو گا۔“ اس کی بات سن کر نبیرہ نے اثبات میں سر ہلایا کچھ ہی دیر کے سفر کے بعد ٹیکسی رک گئی، کاشف نے طے شدہ کرایہ رنگیٹ کی صورت میں ادا کیا یہ ایک ساحلی علاقہ تھا جہاں کافی تعداد میں کشتیاں موجود تھیں یہاں کے ساحلی علاقے پاکستان کے مقابلے میں کافی صاف ستھرے تھے، کاشف نے تھوڑے فاصلے پر کھڑے ایک شخص سے کچھ گفتگو کی اور پھر نبیرہ کی طرف پلٹ آیا۔

”یہ ایک چھوٹا سا دریا ہے جس کے دوسری طرف گولو نامی گاﺅں آباد ہے جہاں سے تھائی لینڈ شروع ہوتا ہے، ہم کشتی کے ذریعے پانچ منٹ میں ہی وہاں پہنچ جائیں گے ویسے تو یہ سفر خشکی سے بھی ہو سکتا ہے مگر اس میں ٹائم بھی زیادہ لگتا اور ہو سکتا ہے وہ تمہارے لئے کچھ مشکل بھی ہو جاتا کیونکہ خشکی کے راستے کئی مقامات پر چیک پوسٹ موجود ہیں، گولو رہائش کے حساب سے بھی تمہارے لئے کافی محفوظ جگہ ہے۔“

”جی اچھا….“ نبیرہ نے آہستہ آواز میں اس کی ساری باتوں کا جواب دے دیا۔

کوئی اور وقت ہوتا تو فوراً کشتی کے سفر سے منع کر دیتی کیونکہ اسے ہمیشہ سے ہی پانی سے ایک انجانا سا خوف محسوس ہوتا تھا یہ ہی وجہ تھی جو وہ کبھی بھی ہاکس بے یاسی ویو کے پانی میں داخل نہ ہوئی تھی اسے اچھی طرح یاد تھا وہ کبھی منوڑہ بھی نہ گئی تھی کیونکہ وہاں جانے کیلئے اسے بوٹ میں سفر کرنا پڑتا جو وہ کسی صورت بھی نہ کر سکتی تھی اور آج وقت کے ہاتھوں تھائی لینڈ جیسے ملک کی انجان سرزمین کے ایک دریا میں موجود کشتی میں سفر کر رہی تھی بہرحال اس پانی میں اور اس میں کافی فرق تھا، وہ تاحد نگاہ تک پھیلا ٹھاٹھیں مارتا سمندر، جو اپنے اندر جانے کتنے بڑے بڑے دیو ہیکل جہازوں کو نگل چکا تھا جبکہ یہ ایک چھوٹا سا پرسکون دریا جس کے چاروں سمت ہریالی ہی ہریالی تھی، تقریباً پانچ منٹ بعد ہی کشتی رک گئی گولو آگیا کشتی میں موجود لڑکے نے اس کا سامان ساحل تک پہنچا دیا چند سیکنڈ بعد ہی ایک ٹرالی بردار اس کے قریب آرکا، کاشف نے اس سے کچھ بات کی اس نے نبیرہ کا سامان ٹرالی پر رکھا۔

”تم اس کے ساتھ جاﺅ میں کچھ کام ختم کرکے تھوڑی دیر تک آتا ہوں۔“

کاشف کی ہدایت کے مطابق وہ چپ چاپ ٹرالی میں سوار ہو گئی آہستہ آہستہ چلتی وہ ٹرالی باہر روڈ پر آگئی، نبیرہ نے چاروں سمت نگاہ دوڑائی یہ گاﺅں اس کے تصور سے خاصا مختلف تھا، سڑک کے دونوں اطراف موجود بے تحاشا چھوٹی بڑی دکانیں، سڑک پر چلتے پھرتے لوگوں کا رش یہ پاکستان کے کسی چھوٹے سے شہر کا نقشہ پیش کر رہا تھا وہ نہایت دلچسپی سے یہ سب کچھ دیکھتی ایک پل کو بھول ہی گئی کہ وہ کن حالات میں یہ سفر کر رہی ہے۔ اس سفر نے اس کے ذہن میں پاکستانی رکشا کی یاد کو بھی تازہ کر دیا فرق صرف اتنا تھا ٹرالی بنا کسی شور کے چل رہی تھی۔

کچھ ہی دیر بعد ٹرالی کا سفر ختم ہو گیا۔ ٹرالی چلانے والے شخص نے اس کا سامان اٹھا کر سامنے موجود گھر کی سب سے نیچے والی سیڑھی پر رکھ دیا۔

”یہ میرا گھر ہے اور اب آپ سیڑھی پر بیٹھ جاﺅ کاشف بھائی اپنے گھر گیا ہے کچھ ہی دیر میں آکر آپ کو لے جائے گا۔“ تھائی شخص نے ٹوٹی پھوٹی ملائی میں اپنا مدعا اسے سمجھا دیا وہ اثبات میں سر ہلاتی سیڑھی پر بیٹھ گئی اپنی بوریت کو دور کرنے کیلئے اس نے سیل نکال لیا، دو مس کالز تھیں جو پاکستان سے آئی تھیں یقینا فردوس خان نے احتشام صاحب تک اس کا نمبر پہنچا دیا تھا مگر اس وقت ان حالات میں وہ فی الحال احتشام صاحب سے کوئی بات نہ کرنا چاہتی تھی اس نے ربیعہ کو اپنے تھائی لینڈ خیریت سے پہنچ جانے کی اطلاع دی، جس کے فوراً بعد ہی ربیعہ کا فون آگیا، وہ اس کے حوالے سے کافی پریشان تھی، ابھی وہ بات ہی کر رہی تھی کہ کاشف گاڑی لے کر پہنچ گیا اسے دیکھتے ہی وہ سیڑھیوں سے اٹھ کھڑی ہوئی۔

”اچھا اللہ حافظ اب میں کسی محفوظ مقام پر پہنچ کر تم سے رابطہ کروں گی۔“ اس نے جلدی جلدی خدا حافظ کرکے فون بند کر دیا کاشف نے نیچے اتر کر اس کا سامان گاڑی میں رکھا اور پھر اس کے اندر بیٹھتے ہی گاڑی اسٹارٹ کر دی، تقریباً دس منٹ کے سفر کے بعد گاڑی ایک ہوٹل کی پارکنگ میں داخل ہو گئی ”ہوٹل سبرنگ“ کا بڑا سا سائن بورڈ دور سے ہی نظر آرہا تھا یہ سات منزلہ ہوٹل ایک گاﺅں کے لحاظ سے کافی بہترین تھا اس کی شاندار عمارت نے ہی نبیرہ کو متاثر کر دیا، کاشف داخلی دروازے کے قریب اسے اتر کر گاڑی پارک کر آیا اور اس کے قریب آکر بولا۔

”چلو آﺅ….“ وہ اس کی تقلید میں اندر داخل ہو گئی جہاں کاﺅنٹر پر کاشف نے اس کیلئے کمرا بک کروایا پھر کمرے کی چابی اور ریزرویشن کارڈ لے کر اس کی جانب بڑھایا۔

”یہ رکھ لو مگر اوپر جانے سے پہلے بہتر ہے کہ تم کچھ کھا لو۔“ وہ کاشف کے ساتھ ہی ہوٹل کے کیفے ٹیریا آگئی جہاں تھائی ویٹرس موجود تھیں کاشف کے دیئے گئے آڈر کے مطابق کچھ ہی دیر میں ہیم برگر اور کولڈ ڈرنک آگئی۔

”یہ برگر بالکل حلال ہے اس لئے تم اطمینان سے کھا سکتی ہو۔“

وہ جان چکی تھی کہ یہ لوگ کچھ بھی کھانے سے قبل یہ یقین ضرور کر لیتے تھے کہ وہ حلال ہو، اسی بنا پر بغیر کسی قباحت کے اس نے اپنا برگر ختم کیا، ابوذر کو فرنچ فرائز اور سینڈوچ کھلایا، فارغ ہو کر وہ ساتویں منزل پر موجود اپنے کمرے میں آگئی اسے کاشف ہی کی زبانی پتا چلا ”ہوٹل سبرنگ“ یہاں کا سب سے بڑا اور سیون اسٹار ہوٹل ہے۔“

”یہاں سامان رکھ کر میرے ساتھ آﺅ۔“ کاشف دروازے کے باہر ہی رک گیا، نبیرہ نے جلدی جلدی اپنا سامان کمرے میں رکھ کر صرف ہینڈ بیگ ساتھ لیا اور لاک لگا کر کاشف کے ساتھ ایک دوسرے روم میں آگئی جس کا دروازہ بند تھا کاشف کے بجاتے ہی دروازہ کھول کر شمریز باہر نکل آیا شمریز کو اپنے سامنے دیکھ کر اسے ایک خوشگوار سی حیرت ہوئی۔

”اندر آجاﺅ فردوس بھائی تمہارا ہی انتظار کر رہے ہیں۔“

اس نے جھجکتے ہوئے اندر قدم رکھا سامنے بیڈ پر فردوس خان جو لیٹا ہوا تھا اسے دیکھتے ہی فوراً سیدھا ہو کر بیٹھ گیا اور وہیں سے پکارا۔

”آﺅ آﺅ بہن یہاں آکر بیٹھو۔“ فردوس نے سامنے رکھی کرسی کی سمت اشارہ کیا اسے فردوس خان نے آج پہلی بار بہن پکارا تھا اور وہ ہمیشہ اس کا نام لیتا تھا، نبیرہ خاموشی سے اس کرسی پر جا بیٹھی کاشف اور شمریز آپس میں کوئی بات کر رہے تھے۔

”تمہیں یہاں تک کے سفر میں کوئی پریشانی تو نہیں ہوئی۔“

فردوس خان نے نبیرہ سے دریافت کیا جس کا جواب اس نے صرف نفی میں گردن ہلا کر دیا، وہ ویسے بھی اس وقت ذہنی اور جسمانی دونوں لحاظ سے بری طرح تھک چکی تھی، جس کا اندازہ شاید فردوس خان کو بھی ہو گیا۔

”ایسا کرو تم ابھی اپنے کمرے میں جا کر آرام کرو۔“ اس نے اپنی رسٹ واچ پر ایک نظر ڈالتے ہوئے نبیرہ کو ہدایت کی۔

”کل تک تمہارا پاسپورٹ تصدیق کے بعد مل جائے گا پھر آگے جو کچھ کرنا ہو گا وہ سب تمہیں کاشف اچھی طرح سمجھا دے گا فی الحال ابھی تم بے فکر ہو کر سو جاﺅ، اپنے دروازے کی اندر سے اچھی طرح کنڈی اور لاک لگا لینا، تم نے شاید کبھی سنا ہو تھائی لینڈ اکیلی عورت کے لحاظ سے ایک بدنام ترین ملک ہے، یہاں قیام کے دوران تمہیں ہر حال میں اپنی حفاظت خود کرنی ہے۔ رات کے کسی پہر اگر ہم میں سے بھی کوئی تمہارا دروازہ بجائے تو براہ مہربانی لاک مت کھولنا اب تم جاﺅ انشاءاللہ تم سے کل ملاقات ہو گی اور ہاں تمہارا رات کا کھانا بھی روم میں ہی آئے گا باہر مت نکلنا۔“

اس کے اٹھ کھڑے ہوتے ہی فردوس خان نے اسے مزید سمجھایا وہ کمرے سے نکل کر باہر کاریڈور میں آگئی، رات کا ملگجا سا اندھیرا پھیل چکا تھا، پورے کاریڈور کی لائٹس جل چکی تھی، کاریڈور میں چلتی پھرتی ویٹرس کا حلیہ شام سے قطعی مختلف اور نہایت شرمناک تھا وہ دل ہی دل میں لاحول پڑھتی روم نمبر 710 کے سامنے آگئی، لاک میں چابی لگا کر دروازہ کھولا اور اندر داخل ہو کر اپنے پیچھے دروازے کو اچھی طرح بند کر لیا ابھی صرف آٹھ بجے تھے، پوری رات باقی تھی جو اسے اس ہوٹل کے کمرے میں تنہا ہی بسر کرنی تھی، وقت گزارنے کےلئے اس نے ٹی وی لگا لیا جہاں صرف ملائی اور تھائی چینل ہی آرہے تھے پھر دیر تک وہ ایک کوکنگ پروگرام دیکھتی رہی پھر جلد ہی بور ہو گئی، باہر کا دروازہ بجایا جا رہا تھا، سامنے لگی وال کلاک رات کے دس بجا رہی تھی اس نے فوراً کاشف کو فون کیا جس نے تیسری ہی بیل پر فون اٹھا لیا۔

”میرے کمرے کے باہر کوئی ہے جو مسلسل دروازہ بجا رہا ہے۔“

اس کی آواز میں موجود تشویش کاشف نے فوراً محسوس کرلی۔

”گھبراﺅ مت میں نے کھانا بھجوایا ہے لے کر دروازہ پھر سے لاک کر لو، کافی بھی ساتھ ہی ہے اور تمہارے بیٹے کا کھانا علیحدہ سے ہے۔“

”شکریہ کاشف بھائی۔“ تشکر سے اس کی آنکھیں نم ہو گئیں ،دروازہ کھول کر اس نے باہر موجود ویٹر سے ٹرالی لے کر کمرے کے اندر کر لی، ابوذر کو کھانا کھلا کر سلا دیا جبکہ اس کا فی الحال کچھ کھانے کا دل نہیں چاہ رہا تھا صرف کافی پی کر اپنے بستر پر جا لیٹی، وہ اپنے بیڈ پر چت لیٹی چھت کی جانب تک رہی تھی کہ گزرے ہوئے ماضی کا ایک ایک پل اس کی آنکھوں کی اسکرین کے سامنے چل رہا تھا آنسو پانی کی طرح اس کی آنکھوں سے بہہ رہے تھے، ان حالات میں صرف ایک ہی امید تھی جس کا دامن اس نے شروع سے ہی تھام رکھا تھا ابھی بھی امید ہی کا جگنو تھا جو اسے زندہ رکھے ہوئے تھا ورنہ تو شاید ان حالات میں کب کی مر گئی ہوتی، ان ہی خیالات میں جانے اسے کب نیند آگئی۔

ایک دم ہی باہر ہونے والے عجیب و غریب شور سے گھبرا کر اس کی آنکھ کھل گئی باہر سے آنے والی آوازوں پر دھیان دیتے ہی دروازہ پیٹنے کی آواز اس کے کان میں آئی وہ جلدی سے کمرے کے دروازے کے قریب آئی کی ہول سے باہر جھانکا پورے کاریڈور میں نہایت شرمناک حلیہ میں وہ ہی تھائی لڑکیاں موجود تھیں جو شام کے وقت ہوٹل میں ویٹرس کے فرائض سرانجام دے رہی تھیں، میک اپ سے ان کے چہرے دمک رہے تھے وہ ہر کمرے کا دروازہ بجا بجا کر چیخ رہی تھیں۔

”پو میرماﺅ…. پومیرماﺅ۔“ (لڑکی چاہئے، لڑکی چاہئے۔)

رات کے سناٹے میں ان کی یہ آواز کسی چڑیل کی آواز سے مشابہہ محسوس ہو رہی تھی انہوں نے نبیرہ کا دروازہ بجا کر بھی آواز لگائی ان کی ہنسی کی آواز نبیرہ کو اپنے اعصاب پر ہتھوڑے برساتی محسوس ہوئی، عورت کی اس قدر تذلیل نے اس کے رونگٹے کھڑے کر دیئے اس کی ریڑھ کی ہڈی میں سرد لہر اتر گئی جب تک باہر یہ شور سنائی دیتا رہا وہ اپنی جگہ کھڑی لرزتی رہی شور ختم ہوتے ہی اس نے وقت دیکھا رات کے دو بج چکے تھے دروازہ اچھی طرح بند کرنے کی فردوس خان کی ہدایت اسے اب سمجھ میں آئی، وہ خاموشی سے کھانے کی ٹرالی کی جانب آگئی، سب کچھ ٹھنڈا ہو چکا تھا اس نے چپ چاپ ٹھنڈا کھانا کھا کر اللہ کا شکر ادا کیا جس کی بدولت وہ اب تک صحیح سلامت تھی اگر اس کا ساتھ نہ ہوتا تو جانے ان حالات میں وہ کہاں ہوتی؟

اگلے دن صبح ہی اس کا پاسپورٹ مل گیا جس کی اطلاع اسے کاشف نے فون کے ذریعے دی اور ساتھ ہی جلد از جلد تیار ہونے کی تاکید بھی کی۔

”اب کہاں جانا ہے؟“ وہ جاننا چاہتی تھی اگلا مرحلہ کیا ہے۔

”تھائی ایمبیسی۔“ کاشف نے مختصر جواب دے کر فون بندکر دیا، بیس منٹ بعد جب وہ اس کے کمرے میں آیا وہ جانے کیلئے بالکل تیار تھی۔

”دیکھو یہاں معاملہ ذرا مختلف ہے کیوں کہ یہاں میری جان پہچان بالکل نہیں ہے اور نہ ہی اس جگہ کوئی تعلقات کام آتے ہیں بلکہ اب جو کچھ کرنا ہے تمہیں خود اپنی ذہانت سے کرنا ہے، بس اتنا ہے وہاں بالکل بھی گھبرانا نہیں تاکہ کسی کو تم پر شک نہ ہو، اندر بھی تم اکیلی ہی جاﺅ گی میں باہر رہ کر تمہارا انتظار کروں گا یاد رکھنا وہاں تم نے کسی بھی جگہ میرا نام نہیں لینا ورنہ معاملہ بگڑ بھی سکتا ہے۔“

کاشف کی طرف سے ملنے والی ہدایات نے اس کو ڈرا دیا وہ تھوڑی سی خوفزدہ ہو گئی پھر بھی یہ سب تو اسے فیس کرنا ہی تھا پورا ہاتھی نکل چکا تھا اب صرف دم باقی تھی اور وہ بھی نہایت ہی خطرناک قسم کی جس کا اندازہ نبیرہ نے کاشف کی گفتگو سے لگا لیا۔ کاشف نے اسے تھائی ایمبیسی سے کچھ فاصلے پر اتار دیا۔

”جب تم باہر آﺅ میں تمہیں یہیں ملوں گا مگر اندر جو کچھ ہو اسے تم نے خود ہی حل کرنا ہے میں تمہارے لئے دعا ضرور کروں گا تاکہ تمہیں کوئی پریشانی نہ ہو۔“ نبیرہ دل ہی دل میں آیت الکرسی کا ورد کرتی ہوئی اندر داخل ہو گئی ریسپشن سے معلومات حاصل کرکے وہ ایک کاﺅنٹر کی جانب آگئی، یہاں تھائی کے ساتھ ملائی زبان بھی بولی جاتی تھی جس کی بدولت نبیرہ کو خاصی آسانی ہو گئی۔

”مجھے اپنے ویزے کی تصدیق کروانی ہے۔“

نبیرہ نے پاسپورٹ کاﺅنٹر پر موجود شخص کی جانب بڑھا دیا جس نے چپ چاپ اسے تھام کر کھول کر اندر سے دیکھا، نبیرہ کا دل دھک دھک کرنے لگا، اس شخص نے کی بورڈ پر اپنی انگلیاں چلاتے ہوئے نبیرہ کی جانب جتنی دفعہ دیکھا، اس کا خون خشک ہوتا گیا آیت الکرسی کا ورد وہ مسلسل کر رہی تھی اس شخص نے بورڈ پر انگلیاں چلانی بند کر دیں۔

”تمہارا نام۔“ اب وہ مکمل طور پر اس کی جانب متوجہ تھا۔

”والد کا نام۔“ پہلے کا جواب ملتے ہی اس نے اگلا سوال کیا اور پھر لگاتار کئے جانے والے کئی سوالوں سے اس نے نبیرہ کا مکمل بائیو ڈیٹا معلوم کر لیا اس سارے عمل کے دوران اس شخص کا لہجہ خاصا کرخت تھا اس کے علاوہ مسلسل نبیرہ کو کینہ توز نگاہوں سے گھور رہا تھا، جس کے سبب نبیرہ کی ہتھیلیاں پسینے سے بھیگ گئیں تقریباً پندرہ منٹ اس نے نبیرہ سے سوال و جواب کئے پھر اپنے سامنے رکھی بیل بجائی، اگلے ہی سیکنڈ وہاں ایک باوردی تھائی لیڈی آگئی، نبیرہ کی سانس سینے میں رکنے لگی، وہ مسلسل قرآنی آیات کا ورد کر رہی تھی سامنے موجود شخص نے اس لیڈی سے کوئی بات کی جسے سن کر وہ نبیرہ کی جانب پلٹی۔

”آﺅ میرے ساتھ تمہاری فوٹو بنے گی۔“ نبیرہ کا رکا ہوا سانس بحال ہو گیا، تقریباً آدھ گھنٹہ وہ اس کمپیوٹر سیکشن میں رہی جہاں اس کی مختلف تصاویر بنائی گئیں، اس کے بعد بالکل ویسا ہی عمل ابوذر کے ساتھ بھی دہرایا گیا، یہاں کسی نے اس سے کوئی بات نہ کی وہ فارغ ہو کر باہر انتظار گاہ میں آگئی، اس کا دل مسلسل دھک دھک کر رہا تھا، اب وہ آیت کریمہ کا ورد کر رہی تھی اسے محسوس ہو رہا تھا جیسے وہاں موجود ہر شخص اسے گھور رہا ہے۔

کچھ دیر بعد اسپیکر پر اس کا نام کال ہوا وہ لڑکھڑاتے قدموں سے کاﺅنٹر کی جانب بڑھی، اس کی وہاں آمد رہائش کے متعلق چند سوالات کرنے کے بعد سامنے موجود شخص نے پاسپورٹ کسی مشین میں ڈال دیا شاید وہ انسپکٹر تھا۔

اسے محسوس ہوا اب وہ ضرور پھنس جائے گی، جعلی مہر اور سائن کی کہانی کھلنے والی ہے، ہر گزرتے لمحہ میں اس کا دل دھڑک دھڑک کر سینے سے باہر آنے کو تیار تھا، پاسپورٹ باہر نکل آیا سامنے موجود شخص نے شاید اس پر کوئی مہر لگائی نبیرہ کو پتا نہ چلا اس لئے کہ وہ اس وقت اپنے حواسوں میں بھی نہ تھی۔

”یہ آپ کا پاسپورٹ۔“ پاسپورٹ اس کے سامنے کاﺅنٹر پر رکھا تھا اسے یقین ہی نہ آیا اپنی لرزتی انگلیوں سے اس نے جلدی سے اسے تھام کر اپنے ہینڈ بیگ میں ڈالا اور تیز تیز چلتی باہر نکل آئی، تھوڑے ہی فاصلے پر روڈ کے دوسری طرف کاشف کی گاڑی موجود تھی وہ تیزی سے سڑک کراس کرتی اس تک پہنچ گئی دروازہ کھول کر اندر بیٹھتے ہی کاشف نے گاڑی اسٹارٹ کر دی، نبیرہ کی بخیریت باہر واپسی اس بات کی غمازی تھی کہ وہ کامیاب لوٹی ہے بصورت دیگر اسے اندر ہی دھر لیا جاتا اس لئے اس حوالے سے کوئی بھی سوال کرنا بے کار تھا، کاشف نے ایک دو ضروری سوالات کئے اور پھر خاموشی سے ڈرائیو کرتا ہوٹل آگیا۔

”تم اوپر جاﺅ میں تمہارے ٹکٹ کا پتا کرکے آتا ہوں پھر تم بے شک اپنے گھر والوں کو اپنی واپسی کی اطلاع دے سکتی ہو۔“

کاشف کے ان الفاظ نے نبیرہ کو ایک بار پھر سے زندہ کر دیا، شام کے چار بج چکے تھے اس نے دوپہر سے کچھ نہ کھایا تھا، کاشف کے وہاں سے جاتے ہی وہ ہوٹل میں داخل ہونے کے بجائے روڈ کراس کرکے بازار کی طرف آگئی جہاں تقریباً سب دکاندار ہی ملائی تھے اس لئے اسے کوئی دشواری نہ ہوئی سب سے پہلے اس نے ایک چھوٹے سے کیفے ٹیریا میں بیٹھ کر کھانا کھایا باہر کاﺅنٹر سے کافی لے کر روڈ پر آگئی، اس نے مختلف دکانوں سے چھوٹی موٹی شاپنگ بھی کی جلد ہی پاکستان واپسی کی خبر نے اس کے اندر بجلی سی بھر دی تھی ساتھ ہی اسے اپنوں کی یاد بھی آج عرصہ بعد آئی ورنہ تو وہ اپنی ہی مصیبتوں میں اس قدر جکڑی ہوئی تھی کہ اسے کسی کا بھی ہوش نہ تھا۔

اس نے آج کافی عرصہ بعد اپنے لئے بھی میک اپ کا سامان خریدا، کچھ جیولری بھی لی شفا اور امان کے بچوں کے علاوہ رحاب کے بچوں کیلئے بھی گفٹ لئے، شاپنگ کے بعد وہ جب ہوٹل آئی تو رات کے آٹھ بج چکے تھے وہ ابوذر کےلئے بسکٹ اور مختلف طرح کے اسنیک خرید لائی تھی، تمام سامان اچھی طرح پیک کرکے اس نے ربیعہ کا نمبر ملایا وہ اسے اپنی آج کے دن کی تمام کارروائی کے ساتھ ساتھ یہ بھی بتانا چاہتی تھی کہ کاشف اس کے ٹکٹ کا معلوم کرنے گیا ہے، اس کی واپسی کا سن کر ربیعہ بھی خاصی خوش ہوئی۔

”ارے یاد آیا کل تمہاری مما کا فون آیا تھا۔“

فون بند کرتے کرتے ربیعہ کو یکدم ہی کل ہونے والی اپنی اور ردا کی گفتگو یاد آئی۔

”اچھا کیا کہہ رہی تھیں؟“ جانے کتنا وقت بیت گیا تھا اسے اپنی ماں کی آواز سنے ہوئے۔

”کچھ خاص نہیں بس ناراض ہو رہی تھیں کہ تم کیوں سکندر کا بچہ لئے دنیا بھر میں رلتی پھر رہی ہو۔“ وہ ہی پرانا رونا ”سکندر کا بچہ“ تمہارے لئے یہ بھی پیغام دیا کہ اگر تم اس بچے کو اپنے ساتھ لے کر واپس آئیں تو کل کو تمہیں دوسری شادی کرنے میں کس قدر پریشانی کا سامنا کرنا پڑے گا اس لئے بہتر ہے اکیلی وطن واپس آﺅ، یہاں آکر شادی کر لو سنان آج بھی تمہارا انتظار کر رہا ہے اور جانے کیا کیا مجھے تو بہت کچھ یاد بھی نہیں۔“

”ان سے کس نے کہا کہ میں اب دوبارہ شادی کروں گی۔“ وہ استہزائیہ ہنسی۔

”میرے لئے شادی کا ایک تلخ تجربہ ہی بہت ہے مرد سکندر ہو یا سنان مجھے اب کوئی فرق نہیں پڑتا میرے دل سے کسی بھی مرد کے ساتھ زندگی گزارنے کی خواہش اب بالکل ختم ہو چکی ہے۔“ زندگی کی تلخیاں اس کے لہجے کو بھی تلخ کر چکی تھیں۔

”تم جیسی جوان اور خوبصورت لڑکی تنہا زندگی نہیں گزار سکتی کیونکہ دنیا کی باتیں اسے جینے نہیں دیتیں میری مانو تو واپس جا کر سب کچھ بھول بھال کر سنان سے شادی کر لو ویسے بھی یہ اللہ تعالیٰ کا حکم ہے طلاق یافتہ عورت کی شادی فوراً کر دی جائے۔“ ربیعہ نے اسے خلوص نیت سے سمجھایا۔

”اللہ تعالیٰ کے تو اور بھی بہت سے حکم ہیں بہرحال چھوڑو یہ ایک لمبی بحث ہے اور مجھے اب نیند آرہی ہے اللہ حافظ انشاءاللہ ہو سکتا ہے اب میں تمہیں پاکستان پہنچ کر ہی فون کروں۔“ فون بند کرکے اس نے کھانا منگوایا، تھوڑا سا ہی کھا کر اس کا پیٹ بھر گیا اور وہ سونے کےلئے لیٹ گئی، آج کافی عرصہ بعد اسے ساری رات خواب میں سکندر کا ہیولہ روپ بدل بدل کر ڈراتا رہا اس نے حماد کو بھی خواب میں دیکھا اور پھر کل کی طرح آدھی رات کو ہونے والے شور نے اس کی نیند خراب کر دی، باہر سے آنے والی وحشت ناک ہنسی کی آوازوں نے اسے دوبارہ سونے ہی نہ دیا وہ بستر پر لیٹی کروٹیں بدل رہی تھی جب اسے کاشف کا فون آگیا۔

”اپنا ضروری سامان لے کر کمرا لاک کر دو اور روم نمبر 786 میں آجاﺅ جہاں کل آئی تھیں۔“ یہ روم اسی فلور پر واقع تھا، اس سات منزلہ ہوٹل کے ہر فلور پر سو ہی کمرے تھے اور ابوذر سو رہا تھا نبیرہ نے اسے اٹھا کر اپنے کندھے سے لگایا اس کی تمام رقم ہینڈ بیگ میں ہی تھی اسے اچھی طرح چیک کرکے وہ روم نمبر 786 آگئی جہاں ان تینوں کے ساتھ ایک شخص اور بھی تھا جسے نبیرہ نہیں جانتی تھی یہ ہی وجہ تھی وہ کمرے کے دروازے پر ہی جھجک کر رک گئی۔

”آﺅ، آﺅ اندر آجاﺅ گھبراﺅ مت یہ میرا دوست ہے تمہارا واپسی کا ٹکٹ اس نے ہی کروا کر دینا ہے اور ویسے بھی جن حالات سے گزر کر تم یہاں تک آئی ہو میں نہیںسمجھتا کہ اب تمہیں ہم جیسے مردوں سے گھبرانا چاہئے، تمہیں تو خود پر فخر ہونا چاہئے کہ اتنے مردوں کی موجودگی میں تم جیسی تنہا عورت کو کوئی غلط نظر سے نہیں دیکھ سکتا۔“ وہ اندر داخل ہو گئی اور کاشف کے سامنے رکھی کرسی پر اطمینان سے بیٹھ گئی کمرے میں موجود اتنے سارے مرد اور وہ تنہا عورت یہ خوف بھی اس کے دل سے یکسر دور ہو گیا۔

”گڈ گرل تمہارا یہ اعتماد اور بہادری تو تھی جو تم نے سکندر جیسے کمینے کو شکست دی میں آج تک جانے کتنے لوگوں کو یہاں سے نکال کر ان کے ملک واپس بھیج چکا ہوں مگر یقین کرو جب بھی کبھی میں نے تمہارے جیسی کسی لڑکی کی مدد کی ہے مجھے ہمیشہ دل کی گہرائیوں سے خوشی حاصل ہوئی ہے عورت کی مدد کرتے ہوئے میں نے کبھی پیسے کو اہمیت نہیں دی بلکہ ہمیشہ اس عورت کو اہمیت دی ہے جس کی میں مدد کرتا ہوں۔“

کاشف کے الفاظ قابل تعریف تھے شاید اس کا یہ ہی جذبہ اسے آج تک اپنے مقصد میں کامیاب رکھے ہوا تھا جس کا اندازہ نبیرہ کو ہو چکا تھا۔

”بہرحال اپنے ٹکٹ کی رقم دے دو سبحان آج ہی تمہاری سیٹ کنفرم کروا دے گا۔“ کاشف کے ان الفاظ کے ساتھ ہی اس نے اپنے پرس سے وہ لفافہ نکالا جس میں پہلے سے ہی 5000 رنگیٹ موجود تھے اور اسے فردوس خان کی جانب بڑھا دیا فردوس خان نے رقم گن کر لفافہ کاشف کے حوالے کر دیا۔

”اس میں ٹکٹ کے علاوہ تمہارے پیسے بھی ہیں کاشف نے لفافہ کھول کر 2000 رنگیٹ سبحان کے حوالے کئے اور باقی رقم گنے بغیر لفافہ اٹھا کر جیب میں رکھ لیا سبحان ٹکٹ کی رقم لے کر کمرے سے چلا گیا۔

”تمہارا ٹکٹ بنکاک سے ہو گا جہاں تمہیں بالکل تنہا بس کے ذریعے جانا ہے ہمارا ساتھ صرف یہاں تک کا تھا، اس سے آگے ہم میں سے کوئی بھی تمہارے ساتھ نہ جائے گا بنکاک بھی تھائی لینڈ جیسا خطرناک ملک ہے وہاں تمہیں اپنی حفاظت خود کرنی ہے اس وقت تک، جب تک کہ تم پاکستان کی فلائٹ پر سوار نہ ہو جاﺅ۔“ فردوس خان نے اسے آگے کی تمام صورتحال سمجھائی۔

”مجھے بنکاک کب جانا ہو گا؟“ فردوس خان کے خاموش ہوتے ہی اس نے سوال کیا۔

جیسے ہی تمہارا ٹکٹ اوکے ہو گا اسی حساب سے کاشف تمہیں یہاں سے بس پر بٹھا دے گا کیونکہ ابھی تھوڑی دیر تک میں اور شمریز ملائیشیا واپس جا رہے ہیں وہاں ہمارا کافی کام رکا ہوا ہے۔ اب تم مکمل طور پر کاشف کے حوالے ہو یہ جانتا ہے کہ تم میری بہن ہو اس لئے میں سمجھتا ہوں جب تک تم یہاں رہو گی یہ تمہاری حفاظت اپنی جان سے بھی بڑھ کر کرے گا۔“

”بے فکر ہو کر جاﺅ تمہارے بعد اس کی حفاظت کی مکمل ذمہ داری اس وقت تک میری ہے جب تک یہ یہاں ہے البتہ میں کوشش کروں گا اسے بنکاک تک بھی کسی جاننے والے کے ساتھ ہی بھیجوں۔“

فردوس اٹھ کھڑا ہوا، اس کے اٹھتے ہی نبیرہ نے جلدی سے ہینڈ بیگ میں ہاتھ ڈال کر وہ لفافہ برآمد کیا جس میں فردوس خان کے کمیشن کی طے شدہ رقم موجود تھی اور جس کا آج تک فردوس خان نے کبھی ذکر بھی نہ کیا تھا۔

”فردوس بھائی یہ آپ کا لفافہ۔“ وہ لفظ رقم استعمال کرتے ہوئے جھجک سی گئی فردوس خان نے جھجکتے ہوئے لفافہ اس کے ہاتھ سے تھام لیا، کھول کر اس میں سے 200 رنگیٹ نکالے اور نبیرہ کے ہاتھ پر رکھ دیئے۔

”یہ کیا ہے؟“ اس نے رنگیٹ کو دیکھتے ہوئے فردوس خان سے سوال کیا۔

”ایک بھائی کی طرف سے بہن کیلئے تحفہ اور مجھے بہت اچھا لگے گا جب تم وطن واپس جا کر بھی مجھ سے اور میری فیملی سے رابطہ میں رہو۔“

”انشاءاللہ ضرور۔“ نبیرہ نے صدق دل سے عہد کیا، فردوس خان اور شمریز اس سے الوداعی ملاقات کرکے کمرے سے نکل گئے اب کمرے میں صرف وہ اور کاشف موجود تھے، فردوس خان کے کمرے سے باہر نکلتے ہی وہ نبیرہ کی طرف پلٹا۔

”میں اور فردوس کئی سالوں سے مل کر یہ کام کر رہے ہیں مگر مجھے نہیں یاد پڑتا اس سے قبل وہ کسی کے ساتھ اس طرح آیا ہو آج پہلی بار وہ اپنا تمام کاروبار اور گھر بار چھوڑ کر چار دن تک تمہارے ساتھ رہا ہے، اپنے کام کےلئے تو وہ کئی کئی دنوں تک باہر رہتا ہے مگر کسی دوسرے کیلئے نہیں اور یہ اس بات کاثبوت ہے کہ اس نے تمہیں بہن صرف کہا ہی نہیں بلکہ مانا بھی ہے اور اسی لئے تمہاری عزت ہم پر بھی فرض ہے بہرحال تم اپنا کمرا خالی کر دو، تاکہ اس کی جو پے منٹ بنتی ہے وہ ادا کر دی جائے جب تک تمہارا ٹکٹ اوکے نہ ہو تم اس روم میں رہو گی فردوس خان اس کی آج کی پے منٹ بھی کر گیا ہے اور ہو سکتا ہے تمہیں آج ہی یہ روم چھوڑنا پڑے بصورت دیگر اگر آج کا ایک دن تمہیں اور رکنا پڑا تو اس کمرے کی مزید پے منٹ تمہیں کرنا ہو گی۔“

”اوکے….“ نبیرہ نے مختصر سا جواب دیا، ظاہر سی بات تھی جب اس نے رہنا تھا تو رقم بھی اسے ہی دینی تھی، وہ کسی دوسرے کی ذمہ داری ہرگز نہ تھی۔

”میں چلتا ہوں تم اپنا سامان پیک رکھو جیسے ہی سبحان کا فون آئے تمہیں یہاں سے نکلنا ہو گا اپنے بچے کیلئے کچھ کھانے پینے کا سامان ضرور رکھ لینا تھائی لینڈ سے بنکاک تقریباً بارہ گھنٹے کا سفر ہے تمام ریفرشمنٹ تمہیں بس میں ملے گی مگر حلال اور حرام کی تمیز کے بعد کچھ کھانا ہو سکے تو اپنے ساتھ ہی کھانے پینے کا کچھ سامان رکھ لو چھوٹے بچے کا ساتھ ہے راستے میں کچھ پریشانی نہ ہو۔“ کاشف اسے سمجھا کر جا چکا تھا وہ اپنا تمام سامان اس کمرے میں لے آئی، اپنے ہینڈ کیری بیگ میں اس نے ابوذر کے دو جوڑے اور ایک اپنا سوٹ رکھنے کے ساتھ کچھ کھانے پینے کا سامان بھی رکھ لیا تقریباً چار بجے اسے کاشف کا فون آگیا۔

”تمہارا ٹکٹ ہو گیا ہے تمہیں ابھی پانچ بجے والی بس سے بنکاک کیلئے نکلنا ہے جلدی سے تیار ہو کر نیچے لابی میں آجاﺅ میں پندرہ منٹ تک پہنچ رہا ہوں۔“ کاشف کے فون بند کرتے ہی اس نے ہوٹل کی ریسپشن پر فون کرکے ایک ویٹر بلوایا جس کی مدد سے اپنا تمام سامان لے کر وہ نیچے لابی میں آگئی چار بیس پر کاشف وہاں پہنچ گیا جلدی جلدی اس کا سامان گاڑی میں رکھا اور پندرہ منٹ بعد ہی وہ بس اسٹینڈ پر تھے۔

”یہ تمہارا پاکستان کا ٹکٹ ہے کل رات بارہ بجے کی فلائٹ ہے، تم کل صبح تقریباً پانچ بجے تک بنکاک پہنچ جاﺅ گی اس کے بعد تمہیں اپنا انتظام خود کرنا ہو گا ہو سکے تو ایئر پورٹ پر ہی رک جانا مگر بہت زیادہ احتیاط کے ساتھ کیونکہ بنکاک چوروں کا شہر ہے۔“

نبیرہ نے خاموشی سے اپنا ٹکٹ تھام لیا، اس پر ایک نظر ڈالی اب وہ یقین اور بے یقینی کی کیفیت سے نکل چکی تھی بغیر کسی احساس کے اس نے وہ ٹکٹ اپنے ہینڈ بیگ کی اندرونی جیب میں رکھ لیا اس وقت اس کے اعصاب پر وہ بارہ گھنٹے سوار تھے جو اسے بنکاک میں تنہا گزارنے تھے جہاں اس کے ساتھ فردوس خان جیسے لوگ نہ تھے، اس کی مدد کیلئے شمریز اور کاشف کا ساتھ نہ تھا وہاں وہ بالکل تنہا تھی مگر اب گزرتے وقت نے اسے خاصا نڈر اور بے خوف کر دیا تھا یہ ہی سب تھا جو وہ اتنی پریشان نہ تھی جتنا اسے ہونا چاہئے تھا۔

”یہ تمہارا بس کا ٹکٹ۔“

ٹکٹ اندر رکھتے ہی کاشف نے ایک اور ٹکٹ اس کی جانب بڑھایا جس پر سو رنگیٹ درج تھا، نبیرہ نے پرس کھول کر ٹکٹ پر درج شدہ رقم کاشف کے حوالے کر دی جو اس نے خاموشی سے تھام لی، نبیرہ کا سامان پورٹرلے جا چکا تھا بس چلنے والی تھی کاشف اس کے ساتھ ساتھ چلتا ہوا بس کے قریب پہنچا جب اچانک سامنے کھڑے ایک باریش شخص پر پڑی۔

”ایک منٹ رکو میں آیا۔“ کچھ ہی دیر بعد کاشف اس شخص کو لئے نبیرہ کی جانب واپس آگیا۔

”ان سے ملو یہ عبدالباری صاحب ہیں، پاکستان کے کسی گاﺅں سے ان کا تعلق ہے یہ بھی کل تمہارے ساتھ ہی بنکاک سے پاکستان جا رہے ہیں اور آج اتفاق سے اسی بس کے مسافر ہیں جس میں تم سفر کرنے جا رہی ہو میں نے انہیں سمجھا دیا ہے کہ تم فردوس خان کی بہن ہو اور یہ فردوس خان کے بہت اچھے جاننے والے ہیں لہٰذا کل رات فلائٹ تک یہ تمہارے ساتھ ہی رہےں گے۔“

کاشف کی لمبی چوڑی تمہید ختم ہوتے ہی نبیرہ نے سامنے کھڑے شخص پر نظر ڈالی جس نے ایک ہاتھ میں کچھ قرآنی نسخے تھام رکھے تھے جبکہ دوسرے ہاتھ میں تسبیح تھی ایک اور آسمانی مدد، اس ساٹھ، پینسٹھ سالہ بزرگ کی شکل میں اسے نظر آگئی۔ وہ دل کی گہرائیوں سے اللہ تعالیٰ کی مشکور ہو گئی اتفاق سے عبدالباری صاحب کی سیٹ بھی بس کے اوپر والے فلور میں تھی۔ وہ سیڑھیاں چڑھ کر اوپر آگئی دروازے پر کھڑی ہوسٹس نے خندہ پیشانی سے اسے خوش آمدید کہا بس کے اندر داخل ہونے سے قبل اس نے ایک بار پھر پیچھے مڑ کر دیکھا کاشف ابھی بھی نیچے ہی تھا نبیرہ نے اسے الوداعی ہاتھ ہلایا اور بس میں داخل ہو گئی۔ اس کے ساتھ والی سیٹ کسی انڈین شخص کی تھی جس نے نبیرہ کی ذاتی درخواست پر وہ سیٹ عبدالباری کے حوالے کر دی بس کا سفر شروع ہو گیا جس کے ساتھ ہی نبیرہ نے تھائی لینڈ کی سرزمین کو خدا حافظ کہہ دیا، سامنے بڑی سی اسکرین پر کوئی فلم چل رہی تھی جس کی زبان نبیرہ کےلئے نا آشنا تھی اس نے ابوذر کو کھانے کیلئے بسکٹ کا ایک پیکٹ تھما دیا، عبدالباری اس دوران اس کا تمام انٹرویو لے چکے تھے جو کچھ اس کے نزدیک بتانا چاہئے تھا وہ اس نے بتا دیا باقی بہت سی باتیں وہ ایک اجنبی شخص سے ڈسکس نہیں کرنا چاہتی تھی۔

”آپ یہاں کسی سلسلے میں آئے تھے؟“

عبدالباری کا انٹرویو ختم ہوتے ہی اس نے برسبیل تذکرہ پوچھ لیا۔

”میں یہاں بزنس کے سلسلے میں آتا جاتا رہتا ہوں۔“

عبدالباری نے اپنی داڑھی میں ہاتھ پھیرتے ہوئے فخریہ کہا۔

”اوہ اچھا کیا بزنس کرتے ہیں آپ۔“

”یہ یہاں روڈ پر کھڑا ہو کر قرآنی نسخہ جات فروخت کرتا ہے۔“

اپنے پیچھے سے آنے والی آواز سن کر نبیرہ نے پلٹ کر دیکھا، ایک تقریباً ساٹھ سالہ سوٹڈ بوٹڈ، شخص، نہایت قیمتی فریم کا سلور چشمہ اور ملائی ٹوپی میں ملبوس عین عبدالباری کی سیٹ کے پیچھے تھا، چھوٹی فرنچ کٹ داڑھی کے ساتھ وہ نہایت ہی معزز دکھائی دے رہا تھا اس کی شستہ اردو اس بات کی غمازی تھی کہ اس کا تعلق پاکستان یا انڈیا سے ہے۔

”محنت سے کئے گئے کسی کام میں کوئی عار نہیں۔“ عبدالباری نے فوراً سے پیشتر جواب دیا۔

”محنت کا کام۔“ وہ شخص استہزائیہ انداز میں زور زور سے ہنسا۔

”اسے محنت نہیں بھیک مانگنا کہتے ہیں مولانا صاحب۔“

”مولانا کا صیغہ غالباً اس نے عبدالباری کی داڑھی کو دیکھ کر لگایا تھا۔

”اصل میں جب ان سے کوئی یہ نسخہ یا تسبیح نہیں خریدتا تو ان کی بزرگی پر ترس کھاتے ہوئے ان کے ہاتھ میں کچھ روپے تھما دیتا ہے جسے یہ اپنی محنت کی کمائی کہتے ہیں اس طرح کے پاکستانی تمہیں دنیا کے ہر گوشے میں محنت کرتے نظر آئیں گے اور ان کی اس طرح کی محنت نے ہمیں دوسرے ممالک میں ڈی گریڈ کیا ہوا ہے۔“

اس شخص نے نبیرہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا، نبیرہ نے پلٹ کر ایک نظر اپنے برابر بیٹھے عبدالباری پر ڈالی جو بڑی لاپرواہی سے آنکھیں موندے بس کی سیٹ سے ٹیک لگا چکے تھے وہ اس طرح کے عملی مظاہرے ملائیشیا میں جگہ جگہ دیکھ چکی تھی جہاں اکثر و بیشتر سڑک کنارے کھڑے پاکستانی لوگوں سے مدد کے طلبگار ہوتے جنہیں دیکھ دیکھ وہ بڑی شرمندگی محسوس کرتی خاص کر جب سکندر ساتھ ہوتا۔

”تم بنکاک کس کے پاس جا رہی ہو؟“ اس شخص نے اپنی جیب سے سگار نکالتے ہوئے نبیرہ سے سوال کیا۔

”کسی کے پاس بھی نہیں دراصل میری کل رات کی فلائٹ ہے میں بنکاک سے اسلام آباد جا رہی ہوں۔“ نبیرہ نے آہستہ سے جواب دیا۔

”ہم تو صبح چھ بجے تک بنکاک پہنچ جائیں گے پھر تم رات تک وہاں کس کے پاس رہو گی۔“ اس سوال کا نبیرہ کے پاس کوئی جواب نہ تھا۔

”پتا نہیں شاید کسی ہوٹل وغیرہ میں یا ایئر پورٹ پر ہی ٹائم گزار لوں گی۔“

”دونوں باتیں ہی ناممکن ہیں کیونکہ وہاں تنہا عورت کیلئے ان میں سے کوئی بھی جگہ محفوظ نہیں ہے بنکاک، تھائی لینڈ، ملائیشیا، سنگاپور یہ سب میرے دوسرے گھر ہیں، جہاں ہر جگہ میری ایک عدد بیوی بھی موجود ہے پھر بھی میں یہ سمجھتا ہوں ان میں سے بنکاک اور تھائی لینڈ کسی تنہا عورت کی چند منٹ کی رہائش کیلئے بھی قابل بھروسہ نہیں جگہ جگہ چورا چکے اور بدمعاش گھاٹ لگائے بیٹھے ہیں۔“

”دراصل عبدالباری صاحب میرے ساتھ ہی ہوں گے۔“

”تم اس کو چھوڑو صرف اپنی بات کرو یہ تو وہاں بھی سڑک کنارے کھڑا کچھ نہ کچھ بیچنے کی کوشش میں روپیہ کمانے میں مصروف ہو جائے گا۔“ اس کی بات کافی حد تک درست تھی۔

”میں نے اتنی باتیں تم سے کر لیں اور اپنا تعارف تو کروایا ہی نہیں۔“

بات کرتے کرتے غالباً اس شخص کو یاد آیا کہ نبیرہ اس سے قطعی ناواقف ہے۔

”مجھے برہان الدین نینی کہتے ہیں میں کراچی کا رہائشی ہوں وہاں میرا مچھلیوں کا بہت بڑا بزنس ہے دنیا کے ہر ملک میں ہم مچھلی سپلائی کرتے ہیں اور….“ کچھ کہتے کہتے وہ رک گیا، عبدالباری پر ایک نظر ڈالی جو بظاہر سو رہا تھا اور تھوڑا سا آگے کی جانب کھسک آیا ساتھ ہی اس نے اپنے کوٹ کی جیب سے ایک چھوٹی سی تھیلی بھی برآمد کر لی ہے جسے کھول کر نبیرہ کی آنکھوں کے سامنے کر دیا۔ جس کے اندر سے آنے والی ننھی ننھی کرنوں نے چند پل کو نبیرہ کی آنکھوں کو چندھیا دیا۔

”جانتی ہو یہ کیا ہے؟“

”ڈائمنڈ….“ نبیرہ نے جواب دے کر برہان الدین کی جانب دیکھا۔

”بالکل یہ ہیرے ہیں اور میں ان کی سمگلنگ بھی کرتا ہوں، بنکاک کا چھوٹا موٹا ڈان مانا جاتا ہوں یہاں کے لوگ میری جوتی کی نوک تلے رہتے ہیں میں ان سے بھیک نہیں مانگتا بلکہ بڑی شان سے ان پر حکمرانی کرکے کماتا ہوں۔“

ملائیشیا سے بنکاک تک کے سفر میں نبیرہ جانے کتنے کرداروں سے آشنا ہوئی تھی اور کتنی کہانیاں اسے سننے کو ملی تھیں ان ہی کرداروں میں اب ایک نیا کردار برہان الدین بھی شامل ہو چکا تھا۔

”ملک ملک گھومنا اور عیاشی کرنے کے علاوہ جانتی ہو میرا ایک اور یونیک شوق کیا ہے؟“ بات کرتے کرتے رک کر اس نے نبیرہ سے سوال کیا۔

ظاہر ہے نبیرہ اس کے بارے میں فی الحال کچھ نہ جانتی تھی۔

”نت نئی شادیاں کرنا۔“ نبیرہ کو انکار میں سر ہلاتے دیکھ کر اس نے خود ہی جواب بھی دے دیا۔

”ابھی تک کوئی پندرہ سولہ شادیاں کر چکا ہوں، تین بیویاں موجود ہیں باقی سب سے فارغ ہوں آخری والی یہ ہی کوئی تمہاری عمر کی ہی ہے۔“

”میری عمر کی….“ نبیرہ نے حیرت سے دوہرایا۔

”مائنڈ مت کیجئے گا مگر میں یہ ضرور پوچھوں گی اس نے اپنے باپ کی عمر کے شخص میں وہ کون سی خوبی دیکھی جو نکاح کر بیٹھی۔“ نبیرہ نے پر اعتماد لہجے میں پوچھا۔

”پیسہ جو دنیا کی سب سے بڑی طاقت ہے۔“ فخر برہان الدین کے لہجے سے چھلک رہا تھا۔

”اپنی اپنی سوچ کی بات ہے ورنہ میرے نزدیک پیسہ کبھی بھی اتنا پاور فل نہیں ہوا کہ اس کی خاطر اپنے جذبات و احساسات کو قربان کر دیا جائے۔“

”تم پاکستان غیر قانونی طریقہ سے جاری ہو؟ آئی مین جعلی ویزا۔“ اس کی بات کو یکسر نظر انداز کرکے برہان الدین نے ایک بالکل مختلف سوال کر دیا جس کی اس وقت کم از کم نبیرہ کو امید نہ تھی جواب میں اس نے صرف اثبات میں سر ہلا دیا، بس کی لائٹس آن ہو گئیں، ہوسٹس نے مائیک پر درخواست کی۔

”تمام مسلمان مسافر اپنی جگہ پر کھڑے ہو جائیں کیونکہ کھانے کا ٹائم ہو گیا ہے۔“ یہ ہدایت غالباً حلال اور حرام کے سلسلے میں تھی نبیرہ نے اپنی جگہ سے اٹھ کر کھڑے ہوتے ہی بس میں چاروں طرف ایک نظر ڈالی اس کے عبدالباری اور برہان الدین کے علاوہ بھی وہاں پانچ مسلمان افراد اور تھے، کھانا سرو کیا جانے لگا ہوسٹس نے اس کی سیٹ کی سائیڈ سے ایک چھوٹا ٹیبل برآمد کرکے اس پر کھانے کی ٹرے سیٹ کر دی ”میگی گورنگ“ کا پہلا ہی چمچہ منہ میں ڈالتے اسے ابکائی سی آگئی جانے یہ اس کا وہم تھا یا حقیقت اسے کھانے میں کچھ عجیب سی بو محسوس ہو رہی تھی، اس نے ٹرے پرے کھسکا کربیگ سے اپنے کھانے کیلئے کچھ اسنیکس نکال لئے اس کے برابر میں عبدالباری بڑی رغبت سے کھانا کھا رہا تھا، نبیرہ نے اپنی ٹرے بھی اس کے پاس رکھ دی۔

کھانا ختم ہوتے ہی بس کی لائٹس پھر سے مدھم ہو گئیں، بس میں میوزک کی دھیمی دھیمی آواز سنائی دے رہی تھی نبیرہ سیٹ سے ٹیک لگا کر سو گئی، تقریباً چھ بجے وہ بنکاک کے بس اسٹینڈ پر پہنچ گئی جہاں عبدالباری کے ساتھ وہ باہر روڈ پر آگئی عبدالباری کے انداز نے اسے سمجھا دیا تھا کہ وہ یہاں کبھی بھی کسی ہوٹل میں نہیں رکا۔

”میرا خیال ہے کہ ہم ٹیکسی کرکے یہاں سے سیدھے ایئر پورٹ چلے جاتے ہیں۔“

”چھ بجے سے رات بارہ بجے تک ہم ایئر پورٹ پر کیا کریں گے؟“ عبدالباری کا سوال بھی معقول تھا۔

”ایسا کرو تم میرے ساتھ آجاﺅ میں تمہیں رات کو بحفاظت ایئر پورٹ پہنچا دوں گا۔“ برہان الدین ہاتھ پر کوٹ ڈالے اس کے قریب آن پہنچا۔

”ہاں مگر یہ شخص میرے ساتھ نہیں جائے گا اگر منظور ہے تو آجاﺅ۔“ وہ اپنے سامنے کھڑی گاڑی کا دروازہ کھول کر اندر بیٹھ چکا تھا۔

”ٹھیک ہے تم جاﺅ میں تمہیں رات کو ایئر پورٹ پر ہی مل جاﺅں گا۔“

ایک لڑکی کو اپنے ساتھ لے کر بنکاک کی سڑکوں پر پھرنے سے بہتر تھا کہ اسے برہان الدین کی ذمہ داری میں دے دیا جائے اس سوچ نے عبدالباری کو مطمئن کر دیا، نبیرہ بیس منٹ بعد ہی ”ہوٹل رمادا پلازہ“ پہنچ گئی، ہوٹل کی عظیم الشان عمارت کو دیکھتے ہی نبیرہ کو برہان الدین کی دولت کا اندازہ ہو گیا، ہوٹل ابھی بند پڑا تھا، کاﺅنٹر پر کوئی بھی نہ تھا وہ برہان الدین کے ساتھ وہیں لابی میں بیٹھ گئی، تقریباً نو بجے وہاں کاا سٹاف آنا شروع ہوا، برہان الدین نے کاﺅنٹر پر جا کر روم بک کروایا، نبیرہ وہیں لابی کے صوفے پر بیٹھی رہی، ابوذر بھی جاگ چکا تھا اسے اس وقت شدت سے بھوک محسوس ہو رہی تھی، ابوذر بھی بھوکا تھا۔

چند منٹوں بعد برہان الدین واپس آیا تو اس کے ساتھ ایک نوجوان بھی تھا جس کے گلے میں لٹکا کارڈ ظاہر کر رہا تھا وہ اسی ہوٹل کا ملازم ہے۔

اس کے ساتھ اپنا سامان لے کر اوپر روم میں چلی جاﺅ، شام چار بجے تک وہاں آرام کرو مجھے کسی کام سے جانا ہے، واپس آکر تمہیں ٹیکسی کروا کر ایئر پورٹ بھیج دوں گا، ابھی اگر ناشتہ کرنا ہے تو میرے ساتھ ڈائننگ ہال آجاﺅ ورنہ روم سروس سے آڈر دے کر منگوا لو جو تمہیں کھانا ہے۔“

”تھینک یو سر….“ نبیرہ برہان الدین کا شکریہ ادا کرتی اس کے دیئے ہوئے روم میں آگئی سب سے پہلے خود نہائی، ابوذر کو نہلا دھلا کر کپڑے تبدیل کروائے پھر کمرے میں رکھے روم فریج کی جانب آگئی جو طرح طرح کے لوازمات سے بھرا ہوا تھا، وہیں سے جوس اور بلیک فاریسٹ کیک نکال کر اس نے ناشتہ کیا اور سو گئی وہ سو ہی رہی تھی جب دو بجے کے قریب برہان الدین نے اس کے کمرے کا دروازہ بجایا نبیرہ نے دروازہ کھول دیا۔

”مجھے نہانا ہے تم اگر چاہو تو کمرے میں ہی رکو کیونکہ میں کبھی کسی ایسی عورت کی جانب غلط نگاہ نہیں ڈالتا جو خود مجھے اپنی جانب متوجہ کرنے کی کوشش نہ کرے اور میں بند آنکھوں سے عورت کا کردار جانچ سکتا ہوں۔ پھر بھی اگر اعتبار نہ ہو تو نیچے لابی میں جا کر بیٹھ سکتی ہو۔“

”نہیں نہیں سر مجھے آپ پر پورا بھروسہ ہے آپ اندر آجائیں۔“

نبیرہ نے دروازے کے سامنے سے ہٹ کر اسے اندر آنے کا راستہ دیا، اس کا بیگ صبح صبح ہی روم میں آگیا تھا برہان الدین اس میں سے اپنے کپڑے نکال کر باتھ روم چلا گیا نبیرہ باہر رکھے صوفے پر بیٹھ گئی۔

”میں تمہارے لئے اوپر ہی کچھ کھانے کو بھیج دیتا ہوں اس کے بعد تم تیار رہو جاﺅ تمہیں یہاں سے پانچ بجے نکلنا ہو گا تاکہ چھ بجے تک ایئر پورٹ پہنچ جاﺅ۔“

برہان الدین نہا کر اپنے گیلے بالوں میں کنگا کرتا ہوا باہر نکل گیا۔ کھانا کھا کر نبیرہ تیار ہو گئی اور تقریباً پانچ بجے وہ نیچے ہوٹل کی لابی میں تھی برہان الدین نے ہوٹل سے ہی گاڑی ہائیر کی اور اسے چھوڑنے باہر تک آیا، باوردی ڈرائیور نے انہیں دیکھتے ہی پیچھے کا دروازہ کھول دیا۔

”یہ میری بھتیجی ہے یعنی بھائی کی بیٹی اسے بحفاظت ایئر پورٹ پہنچا کر مجھے واپس آکر بتاﺅ اگر یہ لڑکی کہیں یہاں وہاں ہوئی تو ذمہ دار تم ہو گے۔“

برہان الدین نے ڈرائیور کو انگلش میں سمجھایا اور پھر نبیرہ کی جانب پلٹا۔

”یہاں قدم قدم پر دھوکا ہے، مگر یہ سب مجھے بہت اچھی طرح جانتے ہیں اب کوئی تمہارے ساتھ غلط ہاتھ نہیں کرے گا تم اطمینان سے اس کے ساتھ ایئر پورٹ جا سکتی ہو ورنہ تو یہ ٹیکسی والے بھی لڑکیاں بیچ کر نکل جاتے ہیں اور ان بیچاریوں کو پتا بھی نہیں چلتا۔“

”شکریہ سر میں آپ کا یہ احسان ہمیشہ یاد رکھوں گی۔“ وہ ٹیکسی میں بیٹھ گئی، ٹیکسی اسٹارٹ ہو کر اس کی آخری منزل کی جانب چل دی جہاں سے کچھ گھنٹوں بعد اس کا یہ طویل اور دشوار ترین سفر ختم ہونے والا تھا اور وہ ان کٹھنائیوں سے گزر کر اپنے ملک پہنچنے والی تھی یا اپنا دیس جہاں سارے اس کے اپنے تھے۔

QQQQ

وہ اور امان پچھلے دو گھنٹوں سے کراچی ایئر پورٹ پر موجود تھے، نبیرہ کی دی ہوئی اطلاع کے مطابق اسے آج صبح اسلام آباد پہنچ جانا چاہئے تھے جہاں سے ڈائریکٹ فلائٹ لے کر اسے کراچی آنا تھا، انکوائری سے حاصل شدہ معلومات کے بعد وہ دو گھنٹہ قبل ایئر پورٹ پہنچ گئے، اب تک دو مختلف ایئر لائن کے جہاز اسلام آباد سے کراچی آچکے تھے اور اب تیسری اور آخری ایئر لائن کے جہاز کی کراچی آمد کو بھی تقریباً پچیس منٹ ہو چکے تھے امان لاﺅنج کے بالکل سامنے موجود اندر سے آنے والے ایک ایک مسافر کو دیکھ رہا تھا، احتشام صاحب کچھ دور فاصلے پر مسلسل ٹہل رہے تھے، رفتہ رفتہ آگے بڑھتی گھڑی کی سوئیوں کے ساتھ وہ مایوسی کا شکار ہوتے جا رہے تھے۔ ٹہلنے سے جہاں ان کی ٹانگیں شل ہو چکی تھیں، وہیں مایوسی نے ان کے اعصاب کو بھی شل کر دیا تھا ان کے حساب سے نبیرہ چھ گھنٹے قبل اسلام آباد پہنچ چکی تھی پھر وہ کہاں تھی؟ اب تک کراچی کیوں نہیں آئی، اسلام آباد پہنچ کر اس نے احتشام صاحب کو فون کیوں نہیں کیا؟ ان تمام باتوں کو سوچتے ان کی بے چینی میں اضافہ ہو جاتا، ابھی بھی تھک کر انہوں نے قریبی دیوار کا سہارا لیا ہی تھا کہ امان تیزی سے لپک کر ان کی جانب آیا۔

”پاپا آپ باہر رکھے بنچ پر چل کر بیٹھیں۔“ اس نے انہیں کندھے سے تھام لیا۔

”نہیں آئی؟“ امان کی بات کو قطعی نظر انداز کرکے انہوں نے امید و ناامیدی کی کیفیت میں گھرتے ہوئے سوال کیا۔

”ابھی تک تو نہیں مگر انشاءاللہ آجائے گی آپ پریشان مت ہوں اگر وہ وہاں سے بخیریت اسلام آباد پہنچ سکتی ہے تو یقینا کراچی بھی آجائے گی۔“

”کیسے پتا چلے کہ وہ اسلام آباد پہنچی بھی ہے یا نہیں، اس نے تو پاکستان آکر مجھ سے ابھی تک رابطہ بھی نہیں کیا اور یہ ہی بات میری گھبراہٹ کا سبب بن رہی ہے تمہارے سامنے ان تینوں فلائٹس میں وہ نہیں ہے، اگلی فلائٹس شام میں آنا شروع ہو ں گی، اب بتاﺅ اس صورتحال میں کیا کیا جائے گا؟“ انہوں نے پر سوچ نگاہوں سے امان کے چہرے کی جانب تکتے ہوئے سوال کیا۔

”ایسا کریں آپ ٹیکسی کرکے گھر چلے جائیں، میں انکوائری سے معلوم کرنے کی کوشش کرتا ہوں یا پھر میرا ایک دوست ہے اسلام آباد میں اسے فون کرتا ہوں وہ وہاں سے معلوم کرے بہرحال میں رات آنے والی آخری فلائٹ چیک کرکے ہی گھر واپس آجاﺅں گا۔“

”ایک منٹ اپنے پیچھے دیکھو۔“ امان کو خاموش کرواتے ہی انہوں نے پیچھے لاﺅنج کے داخلی دروازے کی سمت اشارہ کیا، ان کے متوجہ کرواتے ہی پیچھے دیکھتے ہوئے امان بالکل ساکت ہو گیا، اسے اپنی آنکھوں پر یقین ہی نہ آیا کہ جو کچھ وہ دیکھ رہا ہے حقیقت ہے یا اس کا وہم یقینی طور پر ایک ہی جیسا وہم دو لوگوں کو بیک وقت نہیں ہو سکتا، وہ احتشام صاحب کو وہیں چھوڑ کر پیچھے کی جانب تیزی سے بھاگا، پاس سے گزرتے لوگ حیرانی سے اسے دیکھ رہے تھے۔

QQQQ

چھ بج کر تیس منٹ پر وہ ایئر پورٹ پہنچ گئی، ٹیکسی والے کو اس کا طے شدہ کرایہ ادا کرکے اس نے اپنا سامان باہر نکالا اور سامنے رکھی ٹرالی میں تمام سامان رکھ لیا، ابوذر کے ساتھ وہ ٹرالی گھسیٹتی عمارت کے اندر داخل ہو گئی چیکنگ کے مختلف مراحل سے گزر کر وہ ایئر پورٹ کے لاﺅنج میں آگئی اس تمام عمل میں اس کا ایک گھنٹہ صرف ہو چکا تھا۔

اپنے سامان کی ٹرالی گھسیٹتی وہ انتظار گاہ میں رکھی کرسیوں میں سے ایک پر بیٹھ گئی، یہاں وہاں نظر دوڑائی، انتظار گاہ بھانت بھانت کے مسافروں سے بھری ہوئی تھی، کچھ ہی فاصلے پر عبدالباری بھی موجود تھا جس نے نبیرہ کو دیکھتے ہی زور و شور سے ہاتھ ہلایا اور اٹھ کر اس کے پاس رکھی کرسی پر ہی آبیٹھا نبیرہ کا پاسپورٹ اور ٹکٹ اس کے ہاتھ میں ہی تھا جو وہ باہر کاﺅنٹر پر چیک کروا چکی تھی باہر تقریباً تین مختلف مقامات پر پاسپورٹ چیک کرنے کے عمل نے نبیرہ کو ذہنی طور پر تھکا سا دیا تھا، اس نے خاموشی سے ہاتھ میں پکڑی دونوں چیزیں ہینڈ بیگ کی زپ کھول کر اندر رکھ لیں اور عبدالباری کو مخاطب کیا۔

”پلیز انکل آپ ذرا میری ٹرالی کا خیال رکھیں میں سامنے کاﺅنٹر سے کچھ کھانے کیلئے لے کر آتی ہوں۔“

”ہاں ہاں ضرور ہو سکے تو میرے لئے بھی ایک کافی کا کپ لے آنا۔“

عبدالباری نے دانت نکالتے ہوئے فرمائش کی، وہ اگر نہ بھی کہتا تو بھی وہ ضرور اس کیلئے کچھ لے کر ہی آتی، نبیرہ اٹھ کر سامنے والے کاﺅنٹر پر آگئی ابوذر کو کھانے کا مختلف سامان لے کر دیا، ساتھ ہی وہاں سے کچھ چھوٹے چھوٹے مختلف اقسام کے کھلونے بھی اسے خرید کر دیئے، اپنے لئے حلال کے ٹیگ کے ساتھ سینڈوچ اور کافی کا کپ تھام کر واپس اپنی جگہ آگئی جہاں عبدالباری کافی کامنظر تھا کپ اس کے حوالے کیا۔ خود کرسی پر بیٹھ کر کولڈ ڈرنک کا ٹن کھول لیا ٹھنڈی ٹھار کولڈ ڈرنک نے اس کے اعصاب کو کافی حد تک پرسکون کر دیا وہ بڑے اطمینان سے بیٹھی وقت گزرنے کا انتظار کر رہی تھی کیونکہ ان کی فلائٹ تھوڑی لیٹ ہو چکی تھی اور اب جہاز نے بارہ بجے کے بجائے ایک بجے یہاں سے روانہ ہونا تھا جانے اسے کتنا ٹائم وہاں بیٹھے ہوئے ہو چکا تھا جب اچانک ہی ایک باوردی شخص تیزی سے اس کی جانب بڑھتا نظر آیا، اسے اپنی طرف اس طرح آتے دیکھ کر وہ یکدم گھبرا اٹھی، اسے محسوس ہوا شاید وہ پکڑی جا چکی ہے، انہونی کے احساس نے اس کے اوسان خطا کر دیئے۔ اس کی ٹانگیں لرزنے لگیں۔ وہ شخص عین اس کے سامنے آکر رک گیا نبیرہ نے ابوذر کے ہاتھ کو مضبوطی سے تھام لیا۔

”پاکستان جانے والے تمام مسافروں سے گزارش ہے کہ وہ بورڈنگ کےلئے آجائیں ان کی فلائٹ کا ٹائم ہونے والا ہے۔“

وہ شخص یہاں وہاں نظر دوڑاتے ہوئے با آواز بلند یہ سب کچھ کہہ کر وہاں سے جا چکا تھا، اس کے جاتے ہی نبیرہ نے اپنا دیر سے رکا ہوا سانس بحال کیا اور پھر سامان کی بورڈنگ کے بعد سے جہاز میں سوار ہونے کا ایک ایک پل اسے ایک صدی کے برابر لگ رہا تھا، جیسے تیسے یہ تمام عمل مکمل ہوا وہ بحفاظت جہاز کے ا ندر داخل ہو گئی اور جب تک جہاز نے رن وے نہ چھوڑا وہ مسلسل آیت الکرسی کا ورد کرتی رہی اتفاق کی بات تھی اسلام آباد پہنچتے ہی اسے پہلی فلائٹ کا ٹکٹ مل گیا جس کے ذریعے اسے کراچی جانا تھا وہ صرف چار گھنٹے بعد ہی اسلام آباد سے کراچی پہنچ گئی، اسلام آباد سے کراچی تک کا سفر اس نے مکمل ٹرانس کی سی کیفیت میں گزارا اسے یقین ہی نہ آرہا تا کہ وہ پاکستان پہنچ چکی ہے اس کا دل چاہ رہا تھا وہ اپنے آس پاس موجود لوگوں کو پکڑپکڑ کر بتائے کس طرح وہ سکندر کے منہ پر طمانچہ مار کر آئی ہے، وہ چیخ چیخ کر کہنا چاہتی تھی کہ عورت کو کبھی کمزور مت سمجھو نہ ہی اسے اتنا تنگ کرو کہ وہ تم سے انتقام لینے پر مجبور ہو جائے، کراچی ایئر پورٹ پر پہنچتے ہی اپنی سرزمین کے احساس نے اس کی گردن کو فخر سے تان دیا، تمام مسافر اپنا اپنا سامان حاصل کرکے باہر نکل رہے تھے اس کا بیگ جانے کہاں غائب ہو گیا تھا، کاﺅنٹر پر موجود شخص کا کہنا تھا شاید اسلام آباد سے لوڈ ہی نہیں ہوا، بالآخر آدھے گھنٹے بعد اس کا بیگ مل گیا۔

وہ جانتی تھی کہ یہ تمام وقت باہر بیٹھے اس کے گھر والوں نے کتنی اذیت میں گزارا ہو گا مگر چونکہ اس کا سیل آف ہو چکا تھا اس لئے وہ ابھی تک کسی کو اپنے پہنچنے کی اطلاع نہ دے سکی تھی، بیگ ملتے ہی سامان ٹرالی میں رکھ کر وہ جلدی جلدی باہر کی جانب چل دی، ہر طرف پھیلی بدنظمی، بھانت بھانت کی زبان بولتے مختلف طرح کے لوگ، ان کا سارا سامان بکھیر کر چیکنگ کرتے عملہ کے افراد یہ سب کچھ دوسرے ممالک سے قطعی مختلف تھا مگر پھر بھی اسے اچھا لگ رہا تھا، اپنائیت کے احساس نے اس کے اندر سر خوشی سی بھر دی تھی باہر نکلتے ہی وہ سکندر کو فون کرنا چاہتی تھی تاکہ اسے بتا سکے۔

”کہ وہ ابوذر کے ساتھ اپنی پیاری سرزمین پر پہنچ چکی ہے، وہ اس کا بیٹا اس دیس لے آئی ہے جس کا نام وہ ہر بار حقارت سے لیتا تھا مگر وہ اپنے بیٹے کو کبھی بھی دوسرا سکندر نہ بننے دے گی۔“ یہ سب سوچتے اس کی آنکھیں اشکبار ہو گئیں، لاﺅنج سے باہر نکلتے ہی وہ اپنے جذبات پر قابو کھو بیٹھی اور بے اختیار جھک کر اپنی سرزمین کو بوسہ دیا، آس پاس کھڑے تمام مسافر جینز، ٹی شرٹ میں ملبوس اس دبلی پتلی سی لڑکی کو حیرت سے دیکھ رہے تھے جو زمین کو بوسہ دینے کے بعد وہیں نیچے بیٹھی زار و قطار رو رہی تھی۔

امان نے اسے نیچے بیٹھتے دور سے ہی دیکھ لیا تھا یہ ہی وجہ تھی جو وہ تیزی سے بھاگتا اس کی سمت آیا۔ اس کے قریب پہنچتے ہی اسے کندھے سے تھام کر اٹھانے کی کوشش کی، نبیرہ نے روتے ہوئے اپنا سر اٹھایا اس کے سامنے اس کا اپنا بھائی کھڑا تھا، اپنا سگا بھائی جسے جانے وہ کتنے عرصے بعد دیکھ رہی تھی امان کے اٹھاتے ہی وہ اٹھ کھڑی ہوئی اور بلک بلک کر روتے ہوئے اس کے گلے لگ گئی، آج کتنے زمانے کے بعد وہ اس طرح روئی تھی کیونکہ اسے رونے کیلئے کسی اپنے کا کندھا نصیب ہو گیا تھا اور آنسو ہمیشہ اپنوں کے سامنے ہی گرتے اچھے لگتے ہیں کیونکہ وہ انہیں دل کی گہرائیوں سے پونچھتے ہیں۔

QQQQ

جانے آج کتنے دنوں بعد وہ ایسی پرسکون اور گہری نیند سوئی کہ اسے کچھ ہوش بھی نہ رہا ابھی بھی شاید وہ اور سوتی جو اچانک باہر سنائی دینے والی تیز شور سے اس کی آنکھ نہ کھل جاتی، پہلے تو دیر تک اسے سمجھ ہی نہ آیا کہ وہ کہاں ہے؟ پھر جیسے ہی اس کے حوال بحال ہوئے وہ یکدم اٹھ بیٹھی، ابوذر اس کے دائیں پہلو میں گہری نیند سو رہا تھا وہ بھی اس کی طرح کئی ماہ کی ذہنی اور جسمانی تھکن کا شکار تھا بے شک وہ بچہ تھا مگر ماں کے ساتھ دربدر پھرتے ہوئے تھک گیا تھا۔

وہ بڑے پیار سے اس کے چہرے کو اپنی نگاہوں میں لئے تک رہی تھی جب ایک بار پھر امان کی تیز آواز بند دروازے سے اندر سنائی دی نبیرہ فوراً گھبرا کر اٹھ کھڑی ہوئی جلدی جلدی بیڈ سے دوپٹا اٹھا کر اوڑھا اور ننگے پاﺅں ہی کمرے کا دروازہ کھول کر باہر لاﺅنج میں آگئی جہاں صوفے پر ردا کے بالکل برابر میں جنید بیٹھا تھا جبکہ کچھ فاصلے پر نہایت ہی غصے کے عالم میں امان کھڑا تھا جس نے نبیرہ پر ایک نظر ڈالتے ہی اپنے ہاتھ میں تھاما موبائل صوفے پر بیٹھے جنید کی گوند میں پھینک دیا۔

اسے چوبیس گھنٹے ہو گئے تھے گھر آئے ہوئے اور ان چوبیس گھنٹوں میں پہلی بار جنید دکھائی دیا تھا جس کے چہرے پر آج بھی اس کےلئے وہی بے حسی نظر آرہی تھی جیسے کئی سال قبل اس نے سنان کیلئے دیکھی تھی۔

”کیا ہوا امان تم کیوں اس قدر غصے میں دکھائی دے رہے ہو؟ خیریت تو ہے نا۔“ جنید کو مکمل طور پر نظر انداز کرتے ہوئے اس نے امان سے دریافت کیا۔

”اسے چھوڑو یہ تو بغیر کسی وجہ کے جذباتی ہو رہا ہے تمہیں میں بتاتا ہوں اصل بات کیا ہے؟“ امان کے جواب دینے سے قبل ہی جنید صوفے سے اٹھ کر کھڑا ہوا اور آہستہ آہستہ چلتا اس کے مد مقابل آگیا۔

”ابھی ابھی میرے پاس سکندر کا فون آیا تھا، دراصل آنٹی فاطمہ نے ابوذر کی گمشدگی کے دکھ کو دل میں ایسا لیا کہ ہسپتال جا پہنچیں انہیں شدید قسم کا اٹیک ہوا ہے اور اس حالت میں بھی وہ صرف ابوذر کو ہی یاد کر رہی ہیں، سکندر کا کہنا ہے کہ تم ہم سب کی ملی بھگت سے پاکستان پہنچی ہو، اپنی ماں کی اس حالت کا ذمہ دار بھی وہ تم کو ہی ٹھہرا رہا ہے اور اس کا کہنا ہے کہ اگر ابوذر واپس ملائیشیا نہ گیا اور فاطمہ کو کچھ ہو گیا تو وہ ہمیں نہیں چھوڑے گا۔“

اس نے حیرت کے عالم میں سامنے کھڑے جنید پر ایک نگاہ ڈالی اور دوسری نظر اس کے پیچھے کھڑے امان پر، جس کے چہرے پر چھائی سرخی اس کے اندرونی غصے کو واضح کر رہی تھی وہ حیران تو اس بات پر تھی کہ اتنا سب ہو جانے کے بعد بھی سکندر میں اتنی جرا ¿ت تھی کہ وہ اس کے سگے بھائی کو فون کر رہا تھا؟ اور اس کا سگا بھائی جانے کس منہ سے سکندر کا فون سن رہا تھا ؟ اسے شدید قسم کا دکھ اور صدمہ ہوا۔

”آپ شاید جانتے نہیں ابوذر میرا بیٹا ہے آنٹی فاطمہ کا نہیں۔“ دل تو چاہ رہا تھا خوب کھری کھری سنائے مگر جب بولی تو صرف یہ ہی اک جملہ باقی تمام الفاظ اس کے حلق میں ہی گھٹ سے گئے۔

”میں جانتا ہوں وہ تمہارا بیٹا ہے مگر آخر وہ بھی تو دادی ہیں نا اس کی اور پھر سکندر باپ، میری تو سمجھ میں نہیں آرہا کہ تم اس معصوم کو کیوں یہاں لے آئی ہو رلنے کےلئے، جہاںاس زمانے میں کسی کا مستقبل محفوظ نہیں میری مانو تو اسے واپس کر دو اس کی ذمہ داری نبھانا تمہارے بس کی بات نہیں ہے اس کو اس کے باپ کے حوالے کر دو یہ میرا تمہیں بہترین مشورہ ہے۔“

”جنید بھائی آپ پلیز اپنے مشورے اپنے پاس رکھیں، اسے اب آپ کے کسی بھی مشورے کی ضرورت نہیں ہے۔“ امان کے جواب نے اس کی مشکل حل کر دی۔

”دیکھو امان وہ کہہ رہا ہے کہ میں پاکستانی سفارتخانہ پر کیس کر دوں گا جن کی مدد سے نبیرہ اس ملک سے فرار ہوئی، وہ کہتا ہے کہ وہ عالمی سطح پر اپنے بیٹے کا کیس لڑے گا اب بتاﺅ اگر وہ ایسا کرتا ہے تو پھر بھی تو یہ بچہ واپس جائے گا۔“ جنید کے الفاظ سن کر نبیرہ کو حیرت ہوئی جانے یہ کیسا شخص تھا جس کی ہمدردی اپنی بہن کے بجائے ایک ایسے مرد کیلئے تھی جس کی ہٹ دھرمی، خود سری اور ضد نے ایک جوان عورت کو بھری دنیا میں تنہا رول دیا وہ تو شاید اس کا نصیب اچھا تھا جو وہ بغیر کسی نقصان کے واپس اپنوں تک پہنچ گئی ورنہ تو…. آگے سوچ کر ہی اسے جھرجھری سی آگئی۔

”آپ بے فکر رہیں وہ اب میرا کچھ بھی نہیں بگاڑ سکتا یہ گیدڑ بھبکیاں ہیں اگر وہ کوئی اتنا ہی شیر دل مرد تھا تو مجھے اپنے ملک میں روک کر دکھاتا جب میں وہاں سے اپنا بیٹا لے کر واپس آسکتی ہوں نا تو اس بچے کی حفاظت بھی بہت اچھی طرح کر لوں گی اسے کہیں کہ اب صرف حماد کی سوچے ابوذر کو بھول جائے ویسے بھی میں نے وکیل سے مشورہ کر لیا ہے اب ہمارا کچھ نہیں کر سکتا یہ بچہ اس کی ماں کا نہیں بلکہ میرا ہے اور کوئی عالمی قانون چھین نہیں سکتا مجھ سے۔“

”بہرحال میرا مقصد تو صرف تم لوگوں کو سمجھانا تھا باقی جو تم لوگوں کی مرضی۔“

یہ کہہ کر جنید وہاں رکا نہیں بلکہ تیزی سے باہر نکل گیا، اس کے باہر نکلتے ہی وہ اپنا ضبط کھو بیٹھی اور امان کے گلے لگ کر پھوٹ پھوٹ کر رو دی اسے امید نہ تھی کہ سکندر ابھی بھی اس کا پیچھا کرے گا اپنی طرف سے تو وہ سکندر نامی کتاب بند کر چکی تھی مگر آج جنید کی گفتگو سے اندازہ ہوا یہ کتاب بند کرنا شاید اتنا آسان نہیں جتنا اس نے سمجھ لیا تھا۔

QQQQ

”نبیرہ نیچے آجاﺅ تم سے ملنے شبنم آنٹی آئی ہیں۔“

شفا اسے دروازے سے ہی اطلاع دے کر واپس پلٹ گئی پہلے تو اس کا دل چاہا جائے ہی نہیں مگر جانے کیا سوچ کر اٹھ کھڑی ہوئی، ایک نگاہ آئینہ کے سامنے کھڑے ہو کر خود پر ڈالی، ملگجا حلیہ الجھے ہوئے بال، وہ اس حال میں نیچے نہیں جانا چاہتی تھی لہٰذا پہلے کپڑے تبدیل کئے، اپنے بال بنائے اور چپل پہن کر نیچے آگئی سامنے ہی صوفے پر شبنم بیٹھی تھیں جو اسے دیکھتے ہی فوراً اٹھ کھڑی ہوئیں۔

”اسلام علیکم آنٹی۔“ اس کے سلام کے جواب میں شبنم نے اسے گلے لگا لیا۔ ”کیسی ہو بیٹا طبیعت تو ٹھیک ہے نا۔“ انہوں نے اس کا جائزہ لیتے ہوئے سوال کیا۔

”ہاں جی شکر الحمدا للہ میں بالکل ہوں آپ سنائیں کیسی ہیں کچھ کمزور دکھائی دے رہی ہیں“ وہ ان کے قریب ہی بیٹھ گئی جبکہ رحاب سامنے رکھی کرسی پر نہایت ہی خاموشی سے بیٹھی اس کی گود میں موجود ابوذر کو دیکھ کر وہ تھوڑا سا حیران ضرور ہوئی مگر کچھ بولی نہیں اسے محسوس ہوا جیسے شبنم اس سے کچھ کہنا چاہتی ہیں مگر کہہ نہیں پاتیں اور اسی وقت جب وہ پوچھنا چاہتی تھی کہ آیا شبنم آنٹی کو اس سے کوئی کام ہے؟ یکدم ہی لاﺅنج کے دروازے سے سنان اندر داخل ہوا جسے دیکھتے ہی اسے کرنٹ سا لگا اور وہ فوراً سے پیشتر اپنی جگہ سے اٹھ کھڑی ہوئی۔

”ایکسکیوزمی آنٹی مجھے ابوذر کو کھانا کھلانا ہے اس لئے پلیز آپ برا مت مانئے گا میں جا رہی ہوں۔“

شبنم کا کوئی بھی جواب سنے بغیر وہ رحاب سے ابوذر کو لیتی ہوئی تیزی سے کمرے سے باہر نکل گئی، اسے اس طرح وہاں سے جاتے دیکھ کر لاﺅنج کے دروازے پر کھڑے سنان کا دل ایک دم ہی دکھ سے بھر گیا وہ تو صرف اور صرف اسے دیکھنے کیلئے ہی وہاں آیا تھا مگر اس نے تو اسے اس قابل بھی نہ سمجھا کہ رک کر خیریت ہی دریافت کر لیتی اس کے اس طرح شدید ردعمل نے سنان کو تھوڑا سا مایوس کر دیا اسے اندازہ ہوا اب یہ معاملہ پہلے سے بھی زیادہ بگڑ چکا ہے اس کے باوجود اس کے دل میں کہیں امید کا جگنو ضرور چمک رہا تھا کہ شاید وہ زندگی میں کبھی نہ کبھی نبیرہ کے دل میں موجود تمام غبار کو دھو کر وہاں پھر سے اپنی محبت کو بھر دے گا اور اسی ایک دن کے انتظار میں اسے جینا تھا۔

QQQQ

”مجھے انصاف چاہئے، میری بیوی اپنے سفارتخانے کی مدد سے بغیر پاسپورٹ کے اس ملک سے فرار ہوئی اور ساتھ ہی میرا بیٹا بھی اغواءکرکے لے گئی جب کہ میرے بیٹے کا پاسپورٹ بلاک تھا، پھر وہ کس طرح پاکستان پہنچا؟ اس کا ذمہ دار کون ہے؟“

”میں اپنے بھائی کے بغیر بالکل تنہا ہوں، میری ماں اپنے بوائے فرینڈ کے ساتھ اپنے دیس بھاگ گئی اور ساتھ ہی میرے بھائی بھی لے گئی جو میرے بغیر سوتا نہ تھا مجھے میرا بھائی واپس چاہئے۔“

نبیرہ کے سامنے مختلف ملائی اخبار بکھرے پڑے تھے جن کے تراشے آج صبح ہی کورئیر کے ذریعے ربیعہ نے بھیجے تھے، اسے یہ اطلاع تو کئی دن قبل ہی مل گئی تھی کہ سکندر حماد اور رفیدا کے ساتھ مل کر پاکستانی سفارتخانے اور ایئر پورٹ کے باہر مظاہرے کر رہا ہے، اس کے ساتھ کچھ سماجی تنظیمیں بھی شامل تھیں جن کے نزدیک سکندر ایک مظلوم مرد تھا اس کے علاوہ اس نے وہاں پریس کانفرنس بھی کی تھیں جس میں وہ نبیرہ پر کسی نامعلوم مرد کے حوالے سے رکیک ترین الزامات لگا رہا تھا۔

سکندر اس پر کیا الزامات لگا رہا تھا؟ اس سے اب نبیرہ کو کوئی فرق نہ پڑتا تھا مگر اس کیلئے دکھ کی بات تو صرف یہ تھی کہ ان مظاہروں میں حماد بھی اس کے ساتھ شریک تھا جس کی برین واشنگ اس طرح کی گئی کہ اب وہ بھی ان لوگوں کے ساتھ شامل ہو کر اپنے ہاتھوں میں سنگ اٹھائے نبیرہ کے تعاقب میں تھا۔

اخبار میں نبیرہ کی تصاویر کے ساتھ ساتھ اس کے پاسپورٹ کی تصویریں تھیں جو سکندر اپنے ہاتھوں میں اٹھا کر پریس والوں کو دکھا رہا تھا، وہ پاسپورٹ جس کی حیثیت اب ایک معمولی سے کاغذ کے ٹکڑے سے بڑھ کر نہیں تھی، سکندر نے اپنے تمام بیانات میں خود کو نہایت ہی مظلوم ثابت کرنے کی کوشش کی تھی اور اپنی مظلومیت کو ثابت کرنے کیلئے اس نے حماد کا کندھا استعمال کیا مگر پھر بھی اسے یقین تھا کہ ایک دن ضرور آئے گا جب حماد کو اپنی ماں کی بے گناہی اور اپنے باپ کے ظلم کا ضرور علم ہو گا اور پھر وہ اپنی ماں اور بھائی سے ملنے ضرور آئے گا اسے اپنے خدا پر یقین کامل تھا جس نے اتنی مشکلات کے باوجود اسے یہاں تک بحفاظت پہنچا دیا تو یقینا وہ بھی ایک دن حماد کو بھی اس تک ضرور لائے گا۔

QQQQ

”نہیں امی اب یہ سب کچھ بالکل ہی ناممکن ہے میری زندگی میں نہ سنان اور نہ ہی کسی اور مرد کی گنجائش بالکل ختم ہو چکی ہے۔ لہٰذا برائے مہربانی آپ آئندہ اس حوالے سے مجھ سے کوئی بھی بات مت کیجئے گا۔“

یہ سب کہہ کر وہ وہاں رکی نہیں بلکہ تیزی سے دروازہ کھول کر کمرے سے باہر نکل آئی سامنے ہی عین سیڑھیوں کے قریب رحاب کھڑی تھی جو یقیناردا اور نبیرہ کے درمیان ہونے والی تمام گفتگو سن چکی تھی جس کا اندازہ اس کے چہرے پر چھائی شرمندگی سے لگایا جا سکتا تھا، نبیرہ بنا اس پر توجہ دیئے تیزی سے سیڑھیاں چڑھتی اوپر اپنے کمرے میں آئی اسے رہ رہ کر اس بات پر غصہ آرہا تھا کہ اب کس طرح آنٹی شبنم نے اس کے رشتے کی بات کی، اس وقت جب یہ سب کچھ اس کی چاہ میں شامل تھا تو ان تمام لوگوں نے مل کر سنان کو اس کی زندگی سے نکال باہر پھینکا اور اب جب وہ عشق و عاشقی کے تمام اسباب زمانے کی تلخیوں میں گھول کر پی چکی تھی تو جانے کیوں ان ہی تمام لوگوں کو اس کی زندگی کا وہ بنجر پن نظر آنے لگا تھا جسے وہ اللہ کی رضا جان کر راضی تھی۔

اسے محسوس ہوا شاید اس کے آس پاس رہنے والے تمام لوگ اس پر ترس کھانے لگے ہیں اور اس ترس کے سبب رحاب اور اس کی ماں نے سنان نامی گڑے مردے کو اکھاڑ کر پھر سے کھڑا کر دیا تھا یہ جانے بغیر کہ اب ایسا ہونا نہ صرف مشکل بالکل ناممکن بھی ہے۔

QQQQ

”رفیدا اور اس کی ماں کو تو ایدھا نے جانے کب کا گھر سے نکال دیا ہے اب دونوں ماں بیٹیاں الگ فلیٹ لے کر رہ رہی ہیں۔“ اس نے آج ہی ربیعہ کو فون کیا تھا جس کا مقصد صرف اور صرف حماد کی خیریت جانتا تھا اسے رفیدا یا اس کی ماں سے کوئی دلچسپی نہ تھی، مگر حماد کا پوچھتے ہی ربیعہ نے اسے یہ تمام تفصیل بھی سنانی شروع کر دی جو اس کیلئے بالکل ہی بے کار تھی۔

”اوہ اچھا اب حماد کس کے ساتھ رہتا ہے؟“

”فی الحال تو ایدھا کے ساتھ ہی ہے۔ رفیدا کا فلیٹ اس کے سکول سے کافی دور ہے ہاں البتہ ہر ویک اینڈ پر وہ فاطمہ کی طرف رہنے ضرور جاتا ہے۔“

”مجھے سمجھ نہیں آتا آخر سکندر ایدھا یا نور ہلیزا دونوں میں سے کسی ایک لڑکی سے شادی کیوں نہیں کر لیتا ان عورتوں کےلئے ہی تو اس نے اپنا گھر اور بچے برباد کئے پھر کیوں اتنے ماہ گزرنے کے باوجود ابھی تک بغیر شادی کے وقت گزار رہا ہے۔“

یہ بات اس کے ذہن کو اکثر ہی الجھا دیتی تھی، اس لئے بھی آج اپنی اس الجھن کا اظہار وہ ربیعہ کے سامنے بھی کر بیٹھی۔

”دراصل اگر وہ حماد کے بالغ ہونے سے قبل دوسری شادی کرے گا تو حماد کو لازمی طور پراس کی ماں کے حوالے کرنا پڑے گا اسی سبب وہ شاید اس کے بالغ ہونے کا انتظار کر رہا ہے۔“ ربیعہ نے جتنی معلومات خود حاصل کی تھیں وہ آگے پہنچا دیں۔

”اور ہاں آنٹی نوما کا فون آیا تھا تمہاری خیریت دریافت کر رہی تھیں۔ تمہارا نمبر بھی مانگا مگر میں نے نہیں دیا اب اگر تم کہو تو دے دوں وہ سب تم سے بات کرنا چاہی رہی ہیں اور ہاں آنٹی نوما کے علاوہ شوبھا اور سہتی بھی تمہارے لئے بے قرار ہیں۔“

”ہاں ضرور دے دو بلکہ ایسا کرو مجھے بھی ان کا نمبر دو میں خود بھی فون کرکے انہیں اپنے خیریت سے پاکستان پہنچنے کی اطلاع دے دیتی ہوں یہ ہی تو وہ لوگ تھے جنہوں نے میری مشکل کو آسان بنانے میں میرا ساتھ دیا اور پھر اگلے پل ربیعہ سے آنٹی نوما اور شوبھا کانمبر لے کر اس نے فون فون بند کر دیا۔

QQQQ

کیسے کاریگر ہیں یہ، آس کے درختوں سے

لفظ کاٹتے ہیں اور سیڑھیوں بناتے ہیں

کیسے با ہنر ہیں یہ، غم کے بیج بوتے ہیں

اور دلوں میں خوشیوں کی کھیتیاں لگاتے ہیں

کیسے چارہ گر ہیں یہ، وقت کے سمندر میں

کشتیاں بناتے ہیں، آپ ڈوب جاتے ہیں

”دیکھو نبیرہ ہماری بات مان لو اسی میں ہی تمہاری اور ابوذر کی بھلائی ہے۔“

آج ردا کے ساتھ ساتھ شفا اور رحاب بھی اس کے سامنے کھڑی تھیں۔

”تم نہیں جانتیں بیٹا یہ پہاڑ جیسی زندگی ایک مرد کے سہارے کے بغیر گزارنا کس قدر مشکل اور دشوار ترین ہے اور وہ بھی تم جیسی خوبصورت اور کم عمر لڑکی کیلئے۔“

”پہلی بات تو یہ کہ میں اب تنہا نہیں ہوں میرے ساتھ میرا بیٹا موجود ہے اور اس کے علاوہ مجھ جیسی تنہا اور خوبصورت لڑکی اگر اللہ تعالیٰ کے بھروسہ پر تھائی لینڈ جیسے ملک میں اپنا وقت گزار کر خیریت کے ساتھ وطن لوٹ سکتی ہے تو یقینا اپنے وطن میں، اپنوں کے درمیان رہ کر اسے آگے بھی کوئی دشواری نہ ہو گی اور اس سلسلے میں میرا خدا پر یقین کامل ہے وہ اب بھی ہر مقام پر میری مدد کرے گا ویسے بھی میں اب جاب کرنے کا فیصلہ کر چکی ہوں تاکہ اپنی رقم سے اپنے بیٹے کی کفالت کروں اور اسے اس معاملے میں کسی بھی قسم کے احساس محرومی سے بچا کر رکھوں کہ کوئی دوسرا اس کی ذات پر پائی پیسہ خرچ کر رہا ہے۔“

وہ جیسے ہر بات کا فیصلہ کئے ہوئے تھی، حالات کی سختیوں نے اسے بھی پتھر کی طرح سخت کر دیا تھا ردا کے ساتھ ساتھ شفا کو بھی ایسا ہی محسوس ہوا جیسے اب نبیرہ کو سمجھانا بے حد مشکل ترین امر ہو چکا تھا۔

”نبیرہ میں اور جنید بھی تم سے بہت شرمندہ ہیں یہاں تک کہ امی بھی تم سے معافی مانگنا چاہتی ہیں وہ تمہارے ساتھ ساتھ ابوذر کی ذمہ داری نبھانے کو بھی تیار ہیں پلیز تم ہم سب کو معاف کر دو اور ہماری غلطیوں کی سزا سنان کو مت دو وہ مر جائے گا۔“

بھابی مجھے نہ صرف آپ بلکہ جنید بھائی اور آنٹی کسی بھی فرد سے کوئی گلہ نہیں ہے لہٰذا آپ لوگ معافی مانگ کر مجھے مزید شرمندہ نہ کریں دراصل میرا واسطہ زندگی میں صرف دو ہی مردوں سے پڑا ایک سنان اور دوسرا سکند اور مجھے دونوں نے ہی مایوس کیا، مجھے نہایت افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ان دونوں مردوں میں ذرّہ برابر بھی فرق نہیں ہے دونوں ہی اپنے اپنے مفاد کیلئے عورت کو قربان کرنا جانتے ہیں پہلے ماں اور بہن کےلئے سنان نے میرا استحصال کیا اور اس کے بعد وہ ہی کام سکندر نے بھی بخوبی انجام دیا اور سچ تو یہ ہے کہ جس طرح میری زندگی میں سکندر کی گنجائش بالکل ختم ہو چکی ہے ویسے ہی میرے نزدیک سنان بھی ایک ایسا اجنبی مرد ہے جس سے میرا دوبارہ کوئی رشتہ استوار ہونا بالکل ہی ناممکن ہے۔“

”دیکھو نبیرہ اس نے صرف تمہاری خاطر اپنی بیوی کو چھوڑا، وہ مرینہ کو طلاق دے چکا ہے۔“

رحاب شاید ہارنا نہ چاہتی تھی یا پھر آج وہ سنان کا مکمل دفاع کرنے کا ٹھانے ہوئے تھی۔

”یہ کون سا ایسا نیکی یا فخر کا کام ہے جسے آپ بڑھا چڑھا کر سنا رہی ہیں یہ ہی تو وہ وجہ ہے جس نے سکندر اور سنان کو ایک ہی لائن میں کھڑا کر دیا ہے دو ایک ہی جیسے مرد جنہوں نے عورت کو اپنے مفاد کیلئے اپنایا اور اپنے ہی مفاد کی خاطر چھوڑ دیا، سکندر نے اگر مجھے طلاق دی تو نور ہلیزا کےلئے تو کیا سنان نے مرینہ کو طلاق نہیں دی میرے لئے تو پھر بتائیں کیا فرق ہے۔ ان دونوں مردوں میں جس کے باعث میں سنان کو سکندر پر فوقیت دوں، ویسے بھی فی الحال مجھے ابھی شادی کرنی ہی نہیں ہے اس لئے برائے مہربانی آپ لوگ بار بار اس مسئلے پر بات کرکے مجھے مجبور نہ کریں کہ میں یہ گھر بھی چھوڑ دوں اور کسی ہوسٹل یا دار الامان کی راہ لوں جہاں میری زندگی میں کسی کا عمل دخل نہ ہو۔“

اور اگر وہاں سکندر تم تک پہنچ گیا اپنے بیٹے کے حصول کےلئے پھر کیا کرو گی۔“ رحاب نے سکندر کا نام محض اسے خوف زدہ کرنے کیلئے استعمال کیا ”میں جب سکندر کے ملک میں تنہا اور بے یارو مددگار رہ کر اس سے مقابلہ کر سکتی ہوں تو اب یہاں مجھے سکندر کا کوئی خوف نہیں ہے میں خود میں اس کا مقابلہ کرنے کا پورا حوصلہ رکھتی ہوں آپ اس سلسلے میں میری بالکل بھی فکر مت کریں۔“

ایک بدلی ہوئی نبیرہ جس کا انداز و اطوار پہلے والی نبیرہ سے قطعی مختلف تھا جسے دیکھ کر بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا تھا کہ اب وہ زمانے میں تنہا جینے کا فن جان چکی ہے اور شاید اب دنیا میں سفر کرنے کیلئے اسے کسی مرد کی ضرورت نہیں تھی۔

QQQQ

جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

بلاوا … خورشید پیر زادہ … قسط نمبر 3

بلاوا خورشید پیر زادہ قسط نمبر 3 ”جی-“ بڑی مشکل سے گھٹی ہوئی آواز شروتی …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے