سر ورق / ناول / ان لمحوں کے دامن میں۔۔۔مبشرہ انصاری۔۔۔قسط نمبر10

ان لمحوں کے دامن میں۔۔۔مبشرہ انصاری۔۔۔قسط نمبر10

ان لمحوں کے دامن میں

مبشرہ انصاری

قسط نمبر10

محبت اشتہائے نفس اور تسکین وجود کا نام نہیں…. اہل ہوس کی سائیکی اور ہے اور اہل دل کا انداز فکر اور…. محبت دو روحوں کی نہ ختم ہونے والی باہمی پرواز ہے….

کہتے ہیںمحبت کوشش یا محنت سے حاصل نہیں ہوتی…. یہ عطا ہے…. یہ نصیب ہے…. بلکہ یہ بڑے ہی نصیب کی بات ہے…. زمین کے سفرمیں اگر کوئی چیز آسمانی ہے تو وہ محبت ہی ہے…. محبت کی تعریف بے حد مشکل ہے…. اس پر کتابیں لکھی گئیں…. افسانے رقم ہوئے…. شعراءنے محبت کے قصیدے لکھے…. مرثیے لکھے…. محبت کی کیفیات کا ذکرہوا…. وضاحتیں ہوئیں…. لیکن محبت کی جامع تعریف نہ ہو سکی…. واقعہ کچھ اور ہے…. روایت کچھ اور…. بات صرف اتنی سی ہے کہ ایک چہرہ جب انسان کی نظر میں آتا ہے تو اس کا اندازبدل جاتا ہے…. کائنات بدلی بدلی سی لگتی ہے…. بلکہ ظاہر و باطن کا جہاں ہی بدل جاتا ہے….

محبت سے آشنا ہونے والاانسان، ہر طرف حس ہی حسن دیکھتاہے…. اس کی زندگی نثر سے نکل کر شعر میں داخل ہو جاتی ہے…. اندیشہ ہائے سود و زیاں سے نکل کر جلوہ ¿ جاناں میں گم ہو جاتا ہے…. اس کی تنہائی میں میلے ہوتے ہیں…. وہ ہنستا ہے بے سبب…. روتا ہے بے جواز…. محبت کی کائنات جلوہ ¿ محبوب کے سوا اور کچھ بھی نہیں….

محبت وحدت سے کثرت اورکثرت سے وحدت کا سفر طے کراتی ہے…. محبت آسمانوں کی بے کراں وسعتوں کو ایک جست میںطے کر سکتی ہے…. محبت قطرے کو قلزم آشنا کر دیتی ہے…. محبت زمین پر پاﺅں رکھے تو آسمانوں سے آہٹ سنائی دیتی ہے…. محبت کرنے والے کسی اور ہی مٹی سے بنے ہوتے ہیں…. یہ خلوص کے پیکر دنیا میں رہ کر بھی دنیا سے الگ ہوتے ہیں…. دراصل محبت زندگی اور کائنات کی انوکھی تشریح ہے….

محبت کرنے والا اپنی ہستی کے نئے معنی تلاش کرتا ہے…. وہ باطنی سفر پر گامزن ہوتا ہے…. زندگی کے تپتے ہوئے ریگزار میں محبت گویا ایک نخلستان سے کم نہیں…. محبت کے سامنے ناممکن و محال کچھ بھی نہیں…. محبت پھیلے تو پوری کائنات…. اور سمٹے تو ایک قطرہ ¿ خون…. درحقیقت محبت، آرزوئے قربِ حسن کا نام ہے…. ہم ہمہ وقت جس کے قریب رہنا چاہتے ہیں…. وہی محبوب ہے…. محبوب ہر حال میں حسین ہوتا ہے، کیونکہ….حسن تو دیکھنے والے کا اپناانداز نظر ہے…. ہم جس ذات کی بقا کے لیے اپنی ذات کی فنا تک بھی گوارا کرتے ہیں…. وہی محبوب ہے…. محب کو محبوب میں کجی یا خامی نظر نہیں آتی…. اگر نظر آئے بھی تو محسوس نہیں ہوتی…. محسوس ہو بھی تو ناگوار نہیں گزرتی…. محبوب کی ہر ادا دلبری ہے…. یہاں تک کہ اس کا ستم بھی کرم ہے…. اس کی وفا بھی پُرلطف اور جفا بھی پُرکشش…. محبوب کی جفا کسی محب کو ترکِ وفا پر مجبور نہیں کرتی…. دراصل وفا شاید ہوتی ہی بے وفا کے لیے ہے…. یا پھر شاید کبھی کبھی ہم اتنی بے وفائیاں کر چکے ہوتے ہیں کہ جب ہم حقیقت میں کسی سے وفا نبھانے لگتے ہیں تو سامنے والے کو ہماری وفا پر یقین ہی نہیں آتا….

محبوب کی راہ میں انسان معذوری اور مجبوری کا اظہار نہیں کرتا…. محبوب کی پسند و ناپسند محب کی پسند و ناپسند بن کر رہ جاتی ہے…. محبت کرنے والے جدائی کے علاوہ کسی اور قیامت کے قائل نہیں ہوتے….

ہر انسان کے ساتھ محبت ایک الگ تاثیر رکھتی ہے…. دو انسانوں کی محبت کبھی بھی یکساںنہیں ہوتی…. اس لیے محبت کا بیان مشکل ہے…. دراصل محبت ہی وہ آئینہ ہے…. جس میں انسان اپنی اصل شکل، باطنی شکل، حقیقی شکل دیکھتا ہے…. محبت ہی قدرت کا سب سے بڑا کرشمہ ہے….

”جس تن لاگے سو تن جانے۔“ محبت ہی کے ذریعے انسان پر زندگی کے معنی منکشف ہوتے ہیں…. کائنات کا حسن اسی آئینے میں نظر آتاہے….

ض……..ض……..ض

”کہو….

تمہیں کوئی فرق نہیں پڑتا ہے….

میرے ہونے، نہ ہونے سے….

میرے ہنسنے یا رونے سے….

میرے لفظوں سے، یا پھر….

میرے بہت خاموش رہنے سے….

تمہارے پاس ہونے سے….

یا تم سے دُور ہونے سے….

کہو ناں! کہ فرق نہیں پڑتا؟….“

کپڑے بیگ میں ٹھونستے ہی وہ واپس Island جانے کے لیے تیار ہو کھڑی ہوئی…. دروازے پر ہلکی سی دستک سنائی دی….

”یس!“

وہ مصروف انداز میں بولی…. دروازے کا ہینڈل ہلکی سی آواز کے ساتھ گھوما اور پھر آہستگی سے دروازے کاپٹ کھلتا چلا گیا…. ویٹرناشتے کی ٹرالی گھسیٹتا، بیڈ کے سامنے رکھی دو چیئرز کے پاس ٹرالی ٹھہراتا، اب مانہ کے سامنے آ کھڑا ہوا….

”میڈم! یہاں پر سائن کر دیجیے!“

وہ ایک پیپر اور پین اس کی جانب بڑھاتا مہذب انداز میں انگلش میں درخواست کرنے لگا تھا…. مانہ نے جلدی سے ہاتھ بڑھا کر اس سے پیپر اور پین تھامتے ہی اپنے سائن کر ڈالے…. ویٹر واپسی کے لیے مڑا کہ اچانک عجلت سے چلتے، کمرے میں داخل ہوتے الحان سے ٹکراتے ٹکراتے بچا….

”آئی ایم سوری!“

ویٹر دونوں ہاتھ ہوا کے زور پر اٹھائے خاصا نادم دکھائی دینے لگا….

”اٹس اوکے…. نو پرابلم!“

الحان نے اپنی مخصوص مسکراہٹ لبوں پر سجا لی تھی…. ویٹر واپس جاتے جاتے دروازہ بندکرتا چلا گیا تھا…. مانہ کھا جانے والی نگاہوں سے الحان کو گھورے چلی جا رہی تھی….

”اس سے پہلے کہ تم مجھے گیٹ آﺅٹ بولو…. میں تمہیں بتاناچاہتا ہوں کہ کل رات تم نے جو کچھ بھی دیکھا…. وہ صرف تمہاری آنکھوں کا دھوکہ تھا….“

الحان اس کی نظروں کا مفہوم سمجھتا پھرتی سے گویا ہوا…. مانہ تیوری چڑھائے آنکھیں میچتی، غصہ میں پھنکارتی،لب بھینچ کر رہ گئی….

”مانو! تمہیں مجھ پر یقین کرنا ہی ہو گا…. کل رات جب میں کمرے میں واپس آیا تو کپڑے چینج کرتے دوران ہی مجھے دروازے پر دستک سنائی دی…. مجھے نہیں معلوم تھا کہ برینڈا رات کے اس پہر میرے روم پر دستک دے گی…. میںنے جب دروازہ کھولا تو میں خود حیران رہ گیا…. وہ مجھ سے واک اور لانگ ڈرائیو پر جانے کی ریکویسٹ کرنے لگی…. اور پھر جب میں نے انکار کیا تو وہ زبردستی میرے نزدیک ہونے لگی…. اور اسی وقت تم وہاں چلی آئیں…. ٹرسٹ می مانو! میں نے اس وقت اس کے ہاتھ اسے خود سے دور کرنے کے لیے تھامے تھے…. میرا کوئی غلط ارادہ نہیں تھا…. آئی نو…. تمہاری جگہ اور کوئی بھی ہوتا…. تو اسے بھی شاید وہ سب کچھ ویسا ہی لگتا جیسا تمہیں لگا…. لیکن کبھی کبھی ایسا ہوتا ہے ناں مانو! کہ ہماری آنکھیں دھوکہ کھا جاتی ہیں…. کبھی کبھی جو ہمیں دکھائی اور سنائی دے رہا ہوتا ہے…. وہ دراصل حقیقت نہیں ہوتی…. بس اس لمحے ہماری قسمت ہی خراب ہوتی ہے….“

لفظ بہ لفظ الحان کی آواز ڈوبتی چلی جا رہی تھی…. مانہ کے چہرے پر کوئی تاثر نمودار نہ ہوا تھا…. وہ بالکل سپاٹ کھڑی بنا کسی تاثر الحان کی جانب دیکھے چلی جا رہی تھی…. الحان چند ثانیے حاموش رہا…. پھر بولا….

”پلیز ایک بار بول دو…. کہ تمہیں مجھ پر یقین ہے…. میں ساری رات اسی گِلٹ سے سو بھی نہیں پایا کہ تم مجھے غلط سمجھ رہی ہو….“

وہ التجائیہ انداز میں اس کی جانب دیکھنے لگا…. مانہ کچھ دیر خاموش کھڑی اسے دیکھتی رہی پھر لمبی سانس کھینچتی سپاٹ لہجے میں گویا ہوئی….

”ابھی ابھی تو تم نے کہا الحان…. کہ کبھی کبھی ہمیں جو دکھائی اور سنائی دے رہا ہوتا ہے…. وہ دراصل حقیقت نہیں ہوتی…. اور پھر تم مجھ سے یقین کرنے کا سوال پوچھ رہے ہو؟“

”مانو!“

”اور کتنا جھوٹ بولو گے الحان؟…. حیرانی ہوتی ہے یہ دیکھ کر کہ لوگ کس حد تک منافق ہو سکتے ہیں….“

”مانو پلیز!…. پلیز میرے لیے یہ سب اس قدر مشکل مت بناﺅ…. اس وقت میرا سانس لینا عذاب ہے…. مجھے نہیں معلوم، کیوں میں تمہیں وضاحتیں دے رہا ہوں…. پلیز آئی نیڈ یور ہیلپ! پلیز ایک بار…. صرف ایک بار مجھ پر اعتبار کر لو…. صرف ایک موقع دے دو مجھ پلیز آئی ریکویسٹ یو!“

وہ التجائیہ انداز میں اپنے دونوں ہاتھ جوڑے مانہ کی عنایت کا طلبگار تھا….

”تمہیں کیا لگتا ہے؟…. کہ تمہارے یہ سب کرنے سے میں تم پر یقین کر لوں گی؟…. اور میں تم پر یقین کروں ہی کیوں؟“

وہ جلدی سے چلتی ناشتہ کی ٹیبل کے پاس جا کھڑی ہوئی…. الحان پلٹا اور اس کے تعاقب میں چلتااس کے سامنے جا کھڑا ہوا….

”مجھے اگر برینڈا کے ساتھ کچھ ایسا ویساکرنا ہوتا ناں تو وہیں دروازے پر کھڑے ہو کر تمہارے وہاں آنے کا انتظار ہرگز نہیں کرتا…. تمہارا مسئلہ یہ ہے کہ تم ہر بات کا نیگیٹو پہلو پکڑتی ہو….“

”ہاں یہی مسئلہ ہے میرا…. نیگیٹو پہلو پکڑتی ہوں ہمیشہ…. کھلے دل سے مانتی ہوں اقرار کرتی ہوں…. اب خوش؟…. اب تم یہاں سے جاﺅ گے…. یا پھر میں ہی چلی جاﺅں؟“

الحان ساکت کھڑا اسے دیکھتا رہا…. مانہ پھرتی سے دروازے کی جانب پلٹی، اگلے ہی پل الحان نے اس کے بازو پکڑتے ہی اسے آگے بڑھنے سے روک لیا….

”اگر تھوڑی سی بھی عقل نام کی چیز ہے تمہارے پاس…. تو اسے استعمال میں لا کر سوچو…. کہ میں برینڈا کوکمرے میں لے جا کر رومانس کرنے کے بجائے…. سرِعام ہوٹل کے دروازے پر ہی کھڑے کھڑے وہ سب کیوں کرنے لگا؟…. ہے اتنی عقل تمہارے پاس؟“

وہ براہ راست اس کی آنکھوں میں جھانکتا، ازحد درشتی سے گویا ہوا…. فُل طاقت کے زور پر اپنے بازو اس کی گرفت سے آزاد کراتی مانہ، پُرسوچ نگاہوں سے اس کی جانب دیکھتی ایک دم ساکت ہوتی دکھائی دی…. الحان اس کے بازو اپنی گرفت سے آزاد کرتا، اس بار دھیمے لہجے میں گویا ہوا….

”اب میں تمہیں مزید وضاحتیں ہرگز نہیں دوں گا…. تمہیں جو سمجھنا ہے سمجھو…. کیونکہ مجھے یہ بات بہت اچھے سے سمجھ آ گئی ہے کہ اس دنیا میں انسان کا بہت اچھا ہونا، اس کے لیے بہت نقصان دہ ثابت ہوتا ہے….“

وہ ایک اچٹتی سی نگاہ مانہ کے سراپے پر دوڑاتا اسی رفتار سے کمرے سے باہر نکل گیا، جس رفتار سے اندر داخل ہوا تھا….

مانہ اپنی جگہ ساکت کھڑی بند دروازے کو تکتی رہ گئی تھی….

ض……..ض……..ض

وہ لوگ واپسی کے لیے روانہ ہو چکے تھے…. تینوں کیمرہ مین اپنے اپنے کیمرے سنبھالے، اپنے اپنے کاموں میں مصروف تھے…. برینڈااور نیہا ایک ساتھ برابر والی سیٹ پر بیٹھیں نجانے کیا کھسرپھسر کیے چلی جا رہی تھیں…. مانہ اپنی سیٹ پر بیٹھی اندر ہی اندر جنگ لڑے چلی جا رہی تھی جبکہ الحان ان سب سے الگ دور اپنی سیٹ پر بیٹھا، سپاٹ چہرے سے طیارے کی کھڑی سے باہر جھانکتا دکھائی دیا تھا…. طیارے کے سفر کے بعد وہ لوگ یاٹ پر سوار ہو چکے تھے…. یاٹ کے آدھ گھنٹہ کے سفر کے دوران بھی نیہا اور برینڈا عجیب حقارت بھری نگاہوں سے گاہے بگاہے مانہ کو نظروں کا محور بناتیں نجانے کیا کھسرپھسر کیے چلی جا رہی تھیں…. مانہ نے یہ جاننا ضروری نہ سمجھا تھا…. ان دونوں کو اگنور کیے وہ ہر دو منٹ بعدنظر اٹھا کر دور گرل تھامے کھڑے، آسمان کو تکتے الحان کی جانب دیکھنے لگی…. اس پورے سفر کے دوران الحان نے اس سے بات کرنے کی کوشش تک نہ کی تھی…. وہ بالکل انجان بنا، خاموشی سے Island پہنچنے کا انتظار کرتا رہا…. ساحل پر پہنچتے ہی ، نیہا اور برینڈا ہنوز کھسرپھسر کرتیں چوب محل کی جانب دوڑنے لگیں …. جبکہ کیمروں پر نظر دوڑاتا الحان،کیمروں کے لیے مانہ کو مخاطب کرتے ہوئے بولا….

”اوکے مانو! تم بھی جا کر ریسٹ کرو…. سی یو!“

وہ سپاٹ لہجے میں گویا ہوا تھا….

”شیور! سی یو!“

کیمروں کی ریکارڈنگ مسلسل جاری تھی…. مانہ تحمل کا مظاہرہ کرتی ہلکے سے مسکراتی چوب محل کی جانب قدم بڑھانے لگی…. الحان اپنے کیبن کی جانب بڑھ چکا تھا…. چوب محل میں داخل ہوتے ہی مانہ کی نگاہ لاﺅنج کے صوفہ پر جا ٹکی…. جہاں تمام لڑکیاں سر سے سر ملائے، ایک ہی صوفہ کے گرد جمگھٹا لگائے،چہ میگوئیاں کرتی دکھائی دی تھیں…. مانہ کی موجودگی کا احساس ہوتے ہی آدھ سے زیادہ لڑکیاںحقارت بھری نگاہ سے مانہ کو گھورنے لگیں۔ صرف ایک مسکان تھی جو جمپ لگاتی مانہ کی جانب دوڑی چلی آئی….

”مانہ ! کیسا رہا سب؟“

وہ دلچسپی سے پوچھنے لگی….

”اچھا رہا….“

وہ ہلکے سے مسکراتی سیڑھیوں کی جانب بڑھنے لگی…. مسکان اس کے تعاقب میں چلتی کمرے تک آئی تھی….

”نیچے سب لوگ کیا بات کر رہے تھے، جو میرے آتے ہی سب کو سانپ سونگھ گیا؟‘

کمرے میں داخل ہوتے ہی اس نے پوچھا…. مسکان خاموشی سے دروازہ بند کرتی اس کے سامنے آ کھڑی ہوئی….

”وہ سب لوگ تمہارے بارے میں بات کر رہی تھیں….“

اس نے آہستگی سے خبر دی….

”میرے بارے میں؟“

بیگ کرسی پر رکھتی وہ سوالیہ نگاہیں مسکان کے چہرے پر دوڑانے لگی….

”برینڈا نے آتے ہی خبر دی کہ کل رات تم اور الحان ایک دوجے کے بہت نزدیک تھے…. الحان نے تمہاری کلائیاں بھی تھام رکھی تھیں….اور…. پھر برینڈا پر نظر پڑتے ہی تم دونوں بری طرح سے گھبرا گئے….“

مانہ کے سر پر جیسے کسی نے بلاسٹ کیا تھا…. وہ پھٹی نگاہوں سے مسکان کی جانب دیکھتی پھنکارنے لگی….

”What a Bitch! (واٹ۔آ۔بچ!) بکواس کر رہی ہے برینڈا…. ایک نمبر کی جھوٹی عورت ہے وہ…. مسکان!“

وہ کچھ کہتے کہتے رُکی….

”اگر میںنے اسے یہ بتایا کہ کل رات یہ اور الحان اس قدر نزدیک تھے تو شاید میری طرح مسکان اور باقی تمام لوگ بھی الحان پر انگلی اٹھا سکتے ہیں…. اب مجھے الحان پر یقین ہے…. یقینا برینڈا ہی کمینی عورت ہے…. الحان بیچارہ بے قصور تھا…. اور میں نے اس کی ایک نہ سنی….“

وہ من ہی من میں ہمکلام تھی…. مسکان کی جانب دیکھتی وہ تحمل کا مظاہرہ کرنے لگی….

”مسکان! میں وضاحتیںنہیں دوں گی…. نہ تمہیں، نہ کسی اور کو…. ہاں …. اگر تم مجھ پر اعتبار کر سکو تو سن لو…. برینڈا جھوٹ بول رہی ہے…. وہ الزام لگا رہی ہے مجھ پر اور الحان پر…. تمہیں مجھ پر اعتبار ہے ناں مسکان؟“

وہ پوچھ رہی تھی….

”مانہ! جتنا میں تمہیں جانتی ہوں…. تو مجھے تم پر اعتبار ہے…. اور مجھے یہ بھی اندازہ ہے کہ برینڈا صرف سین آن کرنا چاہ رہی ہے…. کیونکہ وہ آشلے کی بیسٹ فرینڈ ہے…. صحبت کا اثر تو ہوتا ہی ہے…. خیر! تم تھوڑا آرام کر لو…. ہم بعد میں بات کرتے ہیں….“

”ہوں….“

مانہ دھیمے سے مسکرا کر رہ گئی…. مسکان واپس جا چکی تھی…. مانہ لمبی سانس کھینچتی، دھپ سے بیڈ پر بیٹھتی ایک بار پھر سے پھنکار کر رہ گئی….

”کتنی گھٹیا عورت ہے برینڈا…. خود پر کوئی بات نہ آئے اس لیے اس نے اپنی گندگی کا سارا ملبہ مجھ پر گرا دیا…. اُف!…. اور الحان!“

وہ اس کے بارے میں سوچتی آنکھیں میچ کر رہ گئی….

ض……..ض……..ض

وہ اس رات سوئی نہیں تھی…. واپسی کے بعد سے اس نے الحان کو کہیں موجود نہ دیکھا تھا…. نہ ڈنر کے وقت اور نہ ہی باہر گارڈن ایریا میں کہیں ٹہلتے…. وہ اس کی نظروں سے اوجھل تھا…. لیکن اس کے دل و دماغ پر مسلسل سوار تھا…. اس کے ذہن اور قلب کی گہرائیوں میں اگرچہ تہہ در تہہ اندھیرا تابڑتوڑ برس رہا تھا مگر کمرے کی دیواروں پرکھڑکی سے جھانکتی چاندنی واضح طور پر رقصاں تھی…. اندرونی اندھیرے سے جب اس کا دم گھٹنے لگا تو برابر والے بیڈ پر دنیا جہاں سے بے خبر سوتی مسکان پرنگاہ دوڑاتی وہ اٹھی اور کھڑکی کے پاس چلی آئی…. اس نے ہاتھ بڑھا کر کھڑکی کا پٹ کھول دیا…. کمرہ چاندنی سے جگمگا اٹھا…. آسمان کی جگمگاتی ہوئی نیلاہٹیں اس کے اندرونی اندھیروں سے نبردآزما ہونے لگیں…. اس پر چھانے لگیں…. نیلے آسمان پر مدھم اور روشن ستارے عجب آہنگ پیدا کیے دے رہے تھے…. وہ کچھ دیر یونہی کھڑی تازہ خنک ہوا لمبی سانس کھینچ کر اپنے اندر اُتارتی رہی…. پھر کھڑکی کا پٹ بند کرتے ہی اپنی الماری کا لاک کھولتی…. کپڑوں کے نیچے دبی ڈائری اٹھاتی وہ واپس اپنے بیڈ پر آ بیٹھی…. سائیڈ لیمپ کی روشنی مدھم سی جلاتی وہ ڈائری کھولے، اس کے کورے اوراق پر، اپنے ہاتھوں کو حرکت دیتی،پین کی سیاہی کے ذریعہ لفظوں کی برسات کرنے لگی….

”ان لمحوں کے دامن میں“۔

سب سے پہلے اپنے نئے ناول کا نام لکھتی اب وہ سطروں پر سطر لکھے چلی جا رہی تھی…. وہ اپنے نئے ناول کی شروعات کر چکی تھی…. دیر رات تک وہ ورق کے ورق لکھتی رہی…. جب لکھ لکھ کر اس کے ہاتھ شل ہونے لگے تو اپنے ہاتھوں کو دباتی، انگڑائی لیتی وہیں بیڈ پر نیم دراز ہو گئی…. وہ کافی تھک چکی تھی…. واپس اٹھ کر جا کر ڈائری الماری میں رکھنے کی ہمت باقی نہ رہی تھی…. تبھی سائیڈ ٹیبل کا درازکھولتی، اس میں ڈائری رکھتی وہ غلاف منہ تک کھینچ کر گہری نیند سو گئی….

ض……..ض……..ض

بجلی بہت زور سے کڑکی اور کڑکتے ہوئے فضا کو چیرتی، شعلہ دکھاتی ہوئی، سمندر میں گرتے ہی لہروں میں کہیںغائب ہو گئی…. سمندر کی لہریں بھی تلملا اٹھیں…. بادل بہت زوروں سے گرجتے بارش کا پیغام لیے چلے آئے تھے…. موسم صبح سے ہی ابرآلود تھا جو اب موسلادھار میںبدل جانے کو بیقرار تھا….

”آج ہمارا پلان تھا والی بال (Valleyball) کھیلنے کا…. مگر! بارش نے ہمارا سارا پلان چوپٹ کر کے رکھ دیا…. اینی ویز! میرے پاس ایک اور آئیڈیا ہے…. ایسا کرتے ہیں…. ایک چھوٹا سا انٹرویو کر لیتے ہیں آپ سب کے ساتھ…. کیسا آئیڈیا ہے؟“

تمام دس لیڈیز لاﺅنج میں موجود صوفوں پر براجمان تھیں….الحان اور خرم ایک اکیلے صوفے پر ایک ساتھ براجمان تھے، مس فاطمہ ہمیشہ کی طرح اپنا نیم ٹیگ پہنے کیمروں کے پیچھے سکرین کے سامنے بیٹھے عاشر کے عقب میں کھڑی، ریکارڈ ہوتی خرم کی گفتگو سن رہی تھیں…. خرم پُرجوش انداز میں بولتا، الحان سے پوچھنے لگا تھا۔ الحان نے ہمیشہ کی طرح اپنی مخصوص مسکراہٹ لبوں پر سجاتے ہی فوراً اثبات میں سر ہلا دیا….

”اوکے…. سو لیڈیز اینڈ الحان! میرا سوال آپ سب سے ہے….“

وہ تمام لیڈیز پر نظر دوڑاتا،الحان کی جانب دیکھتے ہوئے مخاطب تھا….

”آپ سب لوگوں کا، اس جزیرے، اس شو میں بیتایا گیا اب تک کا سفر کیسا رہا؟“

”سرپرائزز سے بھرپور!“

آشلے اپنے محصوص لااُبالی اور بے باک انداز میںبے ساختہ بول اٹھی….

”سرپرائزز؟“

خرم پوچھنے لگا…. الحان سر جھکائے زمین پر نجانے کون سا خزانہ تلاش کرنے میں مصروف تھا…. مانہ ایک اچٹتی نگاہ اس پر دوڑاتی اور پھر کیمروں کے پیچھے کی مصروفیات کو اپنامحور بنا لیتی….

”ہاں سرپرائزز….“

وہ کندھے اُچکا کرانگلش میں بولی….

”مثلاً؟“

خرم دلچسپی سے پوچھنے لگا….

مثلاً…. جیسا کہ کل جب الحان، نیہا اور برینڈا کے ساتھ لندن ڈیٹ پر گیا تھا…. تب ہم سب گرلز فشنگ کے لیے روانہ ہوئی تھیں…. ہمیں معلوم نہ تھا کہ اس فشنگ ایریا میں ایک شارک موجود ہے…. اُف میری تو جان ہی نکل گئی تھی اس پل اس شارک کو دیکھ کر…. سو…. میرے لیے اس شو، اس Island پر ایک بڑا سرپرائز یہ تھا….“

وہ ان لوگوں کی ڈیٹ کا ذکر کرتے، بڑی مہارت سے مانہ کا نام بیچ میں سے ڈیلیٹ کر گئی تھی….

”شارک؟“

الحان رغبت بھری نگاہ سے اس کی جانب دیکھنے لگا….

”ہاں شارک!…. کیا تمہیں نہیں معلوم الحان! کہ تمہارے جزیرے کے اردگرد شارک بھی پائی جاتی ہیں….“

وہ معصومیت سے بولی….

”نہیں آشلے! مجھے ہرگز معلوم نہیں تھا…. کیونکہ مجھے یقین ہے اور میں بہت اچھے سے جانتا ہوں کہ اس Island کے اردگرد کوئی شارک موجود نہیں ہے…. اور نہ ہی پائی جاتی ہے….“

وہ اسے جھوٹا قرار دیتا اپنے مخصوص انداز میں مسکرا دیا….

”لیکن کل تھی….“

وہ اکڑ کر بولی….

”تمہارے سوا اور کس کس نے دیکھی شارک؟“

اب کے خرم آشلے سے مخاطب تھا….

”تمام لڑکیاں فشنگ اور خوش گپیوں میں مصروف تھیں…. شارک اک لمحے کو اوپر آئی اور واپس چلی گئی…. اس سے پہلے کہ میں کسی کی توجہ اس کی جانب مبذول کراتی، وہ واپس پانی میں جا چکی تھی….“

الحان کو اس کے بتانے کے انداز پر غصہ آنے لگا، مگر وہ غصہ ضبط کیے تحمل کا مظاہرہ کرتا دھیمے سے ہنس دیا…. خرم نے بھی ہنسنے میں الحان کا بھرپور ساتھ دیا تھا…. آشلے تیوری چڑھا کر رہ گئی….

”ایک اور سرپرائز بھی ملا…. جس نے مجھے خاصا حیران کر ڈالا….“

خرم اور الحان مسکراتے ہوئے سوالیہ نگاہیں آشلے کے چہرے پر گاڑھ بیٹھے….

”اور یہ سرپرائز نیہا آپ کو بتائے گی….“

اس نے نیہا کی طرف اشارہ کیا….

”شیور!…. ویل!…. مجھے نہیں معلوم کہ یہ بات آپ سب لوگوں کے لیے سرپرائزنگ ہو گی یا نہیں…. مگر مجھے کسی نے بتایا کہ پرسوں رات، دی ڈورچیسٹر ہوٹل، الحان کے روم کے باہر، مانہ اور الحان خاصے نزدیک پائے گئے…. اتنے نزدیک کہ، کسی کے وہاں پہنچتے ہی وہ دونوں بُری طرح سے گھبرا گئے…. میں تو یہ ساری صورتحال سنتے ہی حیران و پریشان رہ گئی….“

الحان کے چہرے سے پھوٹتی مسکراہٹ ایک دم لاوا میں بدلتی دکھائی دی…. وہ شعلہ برساتی نگاہیں برینڈا پر گاڑھ بیٹھا تھا…. جبکہ برینڈا الحان سے نظریں چراتی من ہی من میں ہمکلام ہوئی….

”شِٹ…. اس بے وقوف نے یہ بات الحان کے سامنے کیوں کہہ ڈالی؟…. اب میری خیر نہیں…. الحان ابھی سارا پول کھول کر رکھ دے گا….“

وہ گھبراہٹ کے مارے خشک ہوتے لبوں کو تر کرنے لگی…. لاﺅنج میں مکمل طور پر سناٹا چھا چکا تھا…. خرم کے ساتھ ساتھ تمام لیڈیز بھی حیران کن نگاہوں سے الحان اور مانہ کی جانب دیکھتی دکھائی دی تھیں…. عاشرزمان سکرین پر سے نظر ہٹائے پیشانی پر شکنیں ڈالے اس ساری صورتحال کا جائزہ لینے لگا….

”اور ہاں….“

نیہا نے بم بلاسٹ کرتے ہی پھر سے اپنی زبان کھولی….

”ایک سرپرائز اور بھی ہے…. وہ یہ کہ…. یہ جو ہماری مانہ میڈم ہیں…. یہ کوئی عام شخصیت نہیں، بلکہ لکھاریوں کی دنیا میں ان کا بہت بڑانام ہے…. جی ہاں…. مجھے بھی آج صبح ہی یہ سرپرائز ملا کہ دنیا بھر میں بہت شوق سے پڑھی جانے والی مشہور مصنفہ میمانہ انان اور کوئی نہیں…. بلکہ ہماری اپنی یہ مانہ محترمہ ہیں…. میمانہ انان جن کا پیار کا نام مانہ ہے….“

نیہا ہنستی مسکراتی،بڑے مزے سے بم پر بم بلاسٹ کیے چلی جا رہی تھی…. مانہ کو ایک اور دھچکا لگا تھا…. وہ اپنی جگہ بُت بنی، برفیلی نگاہوں سے نیہا اور الحان کی جانب دیکھنے لگی تھی۔ عاشر زمان اپنا سر تھام کر رہ گیا…. تمام لیڈیز اب بھرپور حیرانگی کا مظاہرہ کرتیں مانہ کواپنی نظروں کا محور بنائے بیٹھی تھیں…. وہ لڑکیاں جو اس کے ناولز سے واقف تھیں وہ پُرشوق انداز میں اس کی جانب دیکھ رہی تھیں اور وہ لڑکیاں جو واقف نہ تھیں، معنی خیز نگاہوں سے اسے گھورتی پائی گئی تھیں…. الحان خود پر کنٹرول کرتا،آنکھیں میچتا، مٹھیاں دبوچ کر رہ گیا….

مانہ اس صورتحال سے پریشان اٹھ کر بھاگنے کو تیار تھی کہ الحان کے ازحد درشت لہجے اور آواز نے اسے اٹھنے سے روک دیا….

”کیا بکواس کیے چلی جا رہی ہو تم؟…. کس نے کہا تم سے یہ سب؟“

”آں….“

نیہا کی آواز گھٹ کر رہ گئی…. وہ بولنا چاہتی تھی مگر بول نہ پائی…. الحان کا لہجہ اس قدر سخت اوربرفیلا تھا کہ وہاں بیٹھی تمام لڑکیاں ٹھٹھر کر رہ گئیں…. آج پہلی بار الحان کا غصہ سب کے سامنے تھا….

”میں نے پوچھا کس نے کہا تم سے یہ سب؟“

”برینڈا!“

گھبراہٹ کے مارے وہ دبی دبی آواز میں بولی….

برینڈا کے پسینے چھوٹتے دکھائی دیے…. الحان شعلہ برستی نگاہیں برینڈا پر گاڑھے ابکے اس سے مخاطب تھا….

”برینڈا! کیا تم نے پرسوں رات ہوٹل میں ایسا کچھ دیکھا؟“

اس کی آواز میں دھمکی تھی…. جو برینڈا بہت اچھے سے سمجھ گئی….

”نہیں….“

وہ اپنا پول کھل جانے کے ڈر سے بول پڑی….

”میں نے ایسا کچھ نہیں دیکھا…. نیہا اپنی طرف سے کہانیاں گھڑے چلی جا رہی ہے….“

”کیا؟“

نیہا کو اچنبھا ہوا….

”برینڈا! کل صبح تم ہی نے تو مجھے بتایا کہ….“

”میں نے تم سے ایسا کچھ نہیں کہا نیہا! جھوٹ مت بولو….“

”برینڈا! جھوٹ میںنہیں تم بول رہی ہو….“

وہ آپس میں جھگڑ پڑیں….

”شٹ اَپ….“

باہر باد گرج رہے تھے اور اندر الحان….

”کسی پر تہمت لگانے سے پہلے، انسان کو اپنے گریبان میں اچھے سے جھانک لینا چاہیے….“

الحان کا غصہ بڑھتا ہی چلا جا رہا تھا….

”ورنہ کبھی کبھی ایسا بھی ہو جایا کرتا ہے کہ ایک شفاف کردار کے بے داغ انسان پر کیچڑ اچھالنے اور اس کی کردار کشی کرنے والے، اکثر اپنی ہی جلائی ہوئی آگ میں جھلس کر رہ جاتے ہیں….“

وہ برینڈا اور نیہا کی جانب گھورتا شعلہ بھرے اندازمیں پھنکارنے لگا تھا….

”عاشر! یہ شوٹ آن ایئر نہیں جائے گی….“

وہ اب عاشر سے مخاطب تھا…. عاشر اثبات میں سر ہلاتا سکرین پر نظریں جما بیٹھا….

”اور ہاں…. اب یہاں کوئی بھی مانہ کے لکھاری ہونے کا چرچا ہرگزنہیں کرے گا…. انڈرسٹینڈ؟“

وہ درشت لہجے میں بولا…. تمام لیڈیز اثبات میں سر ہلانے لگیں…. الحان، برینڈا اور نیہا پر ایک سخت نگاہ دوڑاتا اٹھا اور چوب محل سے باہر نکل گیا…. خرم بھی اٹھ کر کیمروں کے پیچھے جا کھڑا ہوا تھا…. تمام لڑکیاں اک دوجے کی شکلیں تکتی رہ گئی تھیں….جبکہ مانہ گلے میں اٹکا گولا بمشکل حلق سے نیچے اُتارتی، تیزی سے اٹھی اور سیڑھیاں پھلانگتی اپنے کمرے کی جانب دوڑنے لگی…. عاشرزمان اس کی جانب دیکھتا لب بھینچ کر رہ گیاتھا….

ض……..ض……..ض

بارش تھم چکی تھی…. ہر طرف خاموشی چھائی تھی…. خنک ہوا لہک لہک کر سائیں سائیں کرتی، بند کھڑکیوں کے شیشوں سے سر پٹختی واپس انجانی اور بڑھتی چلی جا رہی تھی….

مانہ، بے جان وجود کی طرح، اپنے بیڈ پر ساکت لیٹی، چھت پر نظریں ٹکائے، آج کا ہوا واقعہ، ذہن کے در و دیوار سے مٹانے کی کوشش میں مگن، مزید ڈپریشن کی شکار ہوئے چلی جا رہی تھی…. مسکان آہستگی سے دروازہ کھولتی کمرے میں داخل ہوئی تھی…. خاموشی سے مانہ پر نظر دوڑاتی وہ اپنے بیڈ پر براجمان ہوتے ہی دھیمی آواز میں اسے مخاطب کرنے لگی….

”تم ٹھیک ہو مانہ؟“

”ہاں ٹھیک ہوں…. مجھے کیا ہونا ہے؟“

وہ سپاٹ لہجے میں برجستہ بولی….

”تم نے کسی کو بتایا کیوں نہیں؟“

”کس بارے میں؟“

وہ وہاں موجود ہوتے ہوئے بھی موجود نہ تھی…. چھت پر نظریں ٹکائے وہ بس اس کے سوالوں کے جواب دئیے چلی جا رہی تھی….

”یہی…. کہ تم میمانہ انان ہو….“

مسکان احتراماً بولی….

”میں فی الحال اس بارے میں کسی کو کچھ بتانانہیں چاہتی تھی….“

مانہ کے جواب پر وہ سر ہلا کر رہ گئی….

”کیا الحان کو اس کی خبر پہلے سے تھی؟“

وہ پوچھ رہی تھی….

”جب تم اور میں، الحان کے ساتھ لندن گئے تھے…. شاپنگ کے لیے…. تب، کوسٹا کافی، کچھ فینز وہاں چلے آئے…. آٹو گراف کے لیے…. تبھی الحان کو خبر ہو گئی…. کہ میں ایک مصنفہ ہوں….“

وہ سپاٹ لہجے میں سب کچھ سچ سچ بولتی چلی گئی….

”ہوں…. نیچے جو کچھ بھی ہوا وہ بہت غلط ہوا…. بلکہ میں تو سمجھتی ہوں کہ یہ واقعہ ناقابل معافی ہے…. برینڈا کو ایسی جھوٹی افواہ نہیں پھیلانی چاہیے تھی…. اور نیہا…. وہ تو ہے ہی بیوقوف….“

مانہ اس کی باتیں سنتی اٹھ بیٹھی…. پاﺅں میں جوتی اڑستی وہ کہیں جانے کو تیار تھی….

”کیا ہوا؟….“

وہ اچنبھے سے اس کی جانب دیکھنے لگی….

”کچھ نہیں…. میں تھوڑی دیر باہر جا کر تازہ ہوا میں سانس لینا چاہتی ہوں…. یہاں میرا دم گھٹ رہا ہے….“

وہ سپاٹ لہجے میں بولتی اٹھ کھڑی ہوئی….

”تم ٹھیک ہو ناں مانہ؟“

مسکان تفکر بھرے اندازمیں پوچھنے لگی….

”ہاں! میں ٹھیک ہوں…. ڈونٹ وری….“

وہ مصنوعی مسکراہٹ لبوں پر سجاتی کمرے سے باہرنکل گئی….

مسکان لمبی سانس کھینچتی، لب بھینچتی، بند دروازے کی جانب دیکھ کر رہ گئی….

ض……..ض……..ض

”انسان کا دل ٹوٹ جائے، دوبارہ جڑ سکتا ہے…. بازو ٹوٹ جائے کوئی بات نہیں…. اس کی آس ٹوٹ جائے یاس کی بات ہے اور اگر امید ٹوٹ جائے تو پوری ہو سکتی ہے اور جڑ سکتی ہے…. مگر! اس کی ہمت ٹوٹ جائے تو وہ کمزور ہو جاتا ہے…. پھر دوبارہ کھڑا نہیں ہو سکتا…. اس لیے…. کہ اس کی کمر ٹوٹ جاتی ہے….“

وہ اپنے من پسند درخت کے سائے تلے خاصی افسردہ بیٹھی، سر جھکائے گم سم نگاہوں سے سفید ریت کے ذروں کو دیکھتی، اسے ہتھیلی میں قید کرتی مگر اگلے ہی پل ریت پھسل پھسل جاتی….

”ان سب کو کیسے معلوم پڑا کہ تم ہی میمانہ انان ہو؟“

عاشرزمان کی آواز نے اسے چونکنے پر مجبور کر دیا…. تبھی وہ سر اٹھائے، اپنے دو قدم کے فاصلے پر کھڑے عاشر کی جانب دیکھنے لگی….

”معلوم نہیں….“

لہجہ بالکل سپاٹ تھا…. عاشر ایک لمبی سانس کھینچتا اس کے برابر میں بیٹھ گیا…. پھر چند ثانیے اس کے سپاٹ چہرے کی جانب دیکھتا تحمل سے گویا ہوا….

”اگر تم کہو تو میں الحان سے بات کروں؟…. کہ وہ اس بار کی ایلیمنیشن میں تمہیں ایلیمنیٹ کر کے گھر واپس بھیج دے؟“

”کیا ایسا ممکن ہے؟“

اس بار وہ براہ راست اس کی جانب دیکھنے لگی….

”بات کرنے میں کوئی حرج نہیں میں کوشش کر سکتا ہوں….“

”وہ بہت ضدی انسان ہے….“

وہ پھر سے ریت پر نظریں جما بیٹھی….

”ہاں ضدی تو ہے…. مگر…. جب سامنے والے کی پرابلم سمجھنے پر آئے تو سمجھ بھی جاتا ہے…. دل کا بُرا نہیں ہے الحان…. ہاں بس تھوڑا کھلنڈر ٹائپ ہے….“

”ہوں….“

وہ لب بھینچ بیٹھی…. عاشر تھوڑی دیر کی خاموشی کے بعد ایک بار پھر سے گویا ہوا….

”مجھے لگتا ہے…. کہ…. الحان تمہیں واقعی پسند کرتا ہے….“

اس نے رُک رُک کر کہا…. مانہ اچنبھے سے اس کی جانب دیکھنے لگی….

”ایسا نہیں ہے….‘

”لیکن مجھے اب ایسا فِیل ہونے لگا ہے…. اور مجھے یہ بھی لگتا ہے کہ کہیں نہ کہیں…. تم بھی اسے پسند کرنے لگی ہو….“

”ناممکن!…. میں الحان جیسے انسان کوہرگز پسند نہیں کر سکتی…. مجھے دل پھینک لوگ بے حد ناپسند ہیں…. جو اپنا آج کسی اور کے ساتھ تو کل کسی اور کے ساتھ گزارنا پسندکرتے ہیں…. اور الحان انہی لوگوں میں سے ایک ہے…. وہ صرف مجھے تنگ کرنے کے نت نئے بہانے ڈھونڈتا ہے…. وہ ایک کھلنڈر انسان ہے اور میرے اردگرد صرف اس لیے گھومتا رہتا ہے کیونکہ وہ جانتا ہے کہ وہ ہر لڑکی کی طرح مجھے اتنی آسانی سے حاصل نہیں کر سکتا….“

”نہیں مانہ! اس بار میں نے واقعی محسوس کیا ہے کہ الحان حقیقت میں تمہیں پسندکرتا ہے…. میں اسے بہت پہلے سے جانتا ہوں…. الحان میں بہت بڑا بدلاﺅ دیکھا ہے میں نے…. اور تم نے دیکھا نہیں…. جب تم پر انگلی اٹھائی گئی تو الحان نے کس طرح سے تمہیں پروٹیکٹ کیا؟….“

دور کسی غیرمرئی نقطہ پر نظر دوڑاتی وہ سر ہلا کر رہ گئی….

”ہاں…. پروٹیکٹ کیا…. مگر اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ واقعی مجھے پسند کرتاہے….“

”دیکھو مانہ!…. میں اس جزیرے پر ایک واحد انسان ہوں، جو براہ راست اور کیمروں کے پیچھے بیٹھ کر ہر ہر چیز کا باریک بینی سے جائزہ لیتا ہوں…. اس لیے…. یہ بات میں دعوے کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ الحان ابراہیم یقینی طور پر تمہیں پسند کرتا ہے….“

عاشر کہتے کہتے اٹھ کھڑا ہوا…. دور سمندر کی لہروں پر نظریں دوڑاتا وہ ہنوز اسی انداز میں گویا تھا….

”مجھے چہرے پڑھنا آتے ہیں مانہ!…. تمہارا دل اس وقت جو بھی تم سے کہنا چاہتا ہے…. اسے غور سے سنو…. تمہاری ساری الجھنیں آسان ہو جائیں گی…. دماغ کی سنتی رہو گی تو الجھ کر رہ جاﺅ گی…. اور پھر…. کہیں ایسا نہ ہو کہ یہاں سے چلے جانے کے بعد تمہیں زندگی بھر کا پچھتاوا سکون کا سانس تک نہ لینے دے….“

وہ کچھ بول نہ پائی…. نہ ہی وہ سمجھ پارہی تھی…. یا پھر سمجھتے ہوئے بھی وہ انجان بن بیٹھی تھی….

”اوکے…. میں چلتا ہوں…. بہت سے کام پینڈنگ ہیں…. سی یو!“

وہ مسکراتا ہوا واپس چوب محل کی جانب بڑھنے لگا….

مانہ وہیں بیٹھی اسے اپنی نظروں سے اوجھل ہوتے دیکھتی رہی…. الحان نجانے کس پل اپنے ٹیرس پر آ نکلا تھا…. اس نے ان دونوں کو درحت کے سائے تلے بیٹھے، باتیں کرتے دیکھ لیا تھا…. پھر عاشر کے واپی جاتے ہی وہ شعلہ بھڑکاتی نگاہوں سے مانہ کو گھورتا، آندھی طوفان کی سی تیزی سے دروازہ زور سے پٹختا واپس اپنے کمرے میں چلا آیا…. وہ لمبی لمبی سانس کھینچتا غصے میں پھنکارنے لگا تھا….

”آخر چل کیا رہا ہے ان دونوں کے بیچ….“

وہ سوچ سوچ کر پاگل ہوئے چلا جا رہا تھا….

”کیا ان دونوں کے بیچ، صرف مانہ کی جاب کی بات ہوتی ہے…. یا…. سین کچھ اور ہے….“

وہ بالوں میں انگلیاں پھنسائے ادھر اُدھر چکر کاٹنے لگا….

”عاشر اگر پچاس یا ساٹھ سالہ شخص ہوتا تو شاید میرا دھیان اس جانب نہیں جاتا…. مگر وہ جوان ہے…. ہینڈسم ہے…. نامور قابل ڈائریکٹر ہے…. اور مانو اسی ہی کی فیلڈ سے تعلق رکھتی ہے…. کیا…. یہ دونوں…. نہیں نہیں…. ایسا نہیں ہو سکتا…. اور اگر ایسا ہو گیا یا ہو رہا ہے تو؟“

وہ پُرسوچ انداز میں تیوری چڑھائے…. لب کاٹتا اپنے بال جھنجھوڑ کر رہ گیا….

”نو….“

ض……..ض……..ض

ڈنر کے وقت الحان نے بالکل نارمل بی ہیو کیا…. ایسے جیسے صبح کچھ ہوا ہی نہ تھا…. وہ سبھی لڑکیوں سے اسی طرح بات چیت کر رہا تھا…. جیسے روزکیا کرتا…. مگر سوائے صرف ایک لڑکی کے…. جسے وہ مکمل طور پر نظرانداز کیے اردگرد کے مشاغل میں مصروف تھا…. مانہ نے اس کی اگنورینس بہت گہرائی سے محسوس کی…. اسے اس کی اگنورینس کی عادت نہ تھی…. اور یہی تو وہ چاہتی تھی کہ الحان اس میں دلچسپی لینا چھوڑ دے…. اب جب وہ واقعی اس میں دلچسپی نہیں لے رہا تھا تو وہ خوامخواہ بے چین ہوئے چلی جا رہی تھی…. ہوٹل سے لوٹنے کے بعد سے اب تک ان دونوں کے بیچ کوئی بات چیت نہ ہوئی تھی…. دن گزرتے گئے…. الحان اسے اگنور کرتا رہا…. مانہ کی بے چینی پروان چڑھتی چلی گئی…. یہ پورا ہفتہ بہت بے چین گزراتھا…. بلکہ گزرا نہیں…. اس نے زبردستی گزارا تھا….

ض……..ض……..ض

آج ایلیمنیشن کی رات تھی…. لیکن ایلیمنیشن کی گھڑیاں ابھی تک شروع نہیں ہوئی تھیں…. مانہ کچن میں کھڑی اپنے لیے چائے بنانے میں مصروف تھی کہ کچن کے باہر کھڑی چند لڑکیوں کے قہقہوں نے مانہ کی ساری توجہ اپنی جانب مبذول کرا لی….

”یہ میرے لیے بہت آسان تھا….“

آشلے کی شوخ چنچل سی آوازمانہ کی سماعت سے ٹکرائی…. وہ بہت ایکسائیٹڈ تھی…. اور اسے شاید اندازہ بھی نہ تھا کہ مانہ یا کوئی بھی کچن کے اندر موجود ہے…. اسی لیے وہ بنا کسی خوف، بولے چلی جا رہی تھی….

”اس صبح مجھے سر درد کی شدید شکایت تھی، میں نے میڈیسن کچن میں ڈھونڈی، پھر مجھے یاد آیا کہ ایک رات پہلے ہی مسکان وہ میڈیسن اپنے کمرے میں لے کر گئی تھی…. میں مسکان کی سو کالڈ روم میٹ کا منہ تک نہیں دیکھنا چاہتی تھی…. نیہا نے مجھے بتایا کہ وہ سو کالڈ روم میٹ باہر مارننگ واک پر گئی ہے…. میں نیہا کو ساتھ لیے مسکان کے روم میں چلی گئی…. مسکان اس وقت سو رہی تھی…. نیہا نے سائیڈ ٹیبل کی تلاشی لی…. میڈیسن کے ساتھ ساتھ اسے ایک ڈائری بھی دکھائی دی…. نیہا نے وہ ڈائری اٹھا کر پڑھی اور تبھی ہم لوگوں پر انکشاف ہواکہ وہ محترمہ ایک نامور مصنفہ ہے…. میں نے بھی اس کے ناول کا انگلش ورژن پڑھ رکھا تھا…. اور مجھے وہ ناول بے حد پسند تھا…. لیکن جب مجھے معلوم پڑا کہ اس ناول کی لکھاری یہ محترمہ ہے…. تو یقین جانو…. مجھے اب اس ناول سے شدید نفرت محسوس ہوتی ہے…. اور اس ناول کو لکھنے والی تو مجھے زہر سے بھی بدتر لگتی ہے….“

مانہ اس کی باتیں سنتی پھنکار کر رہ گئی…. وہ اسی وقت باہر جا کر اس کامنہ نوچ لینے کو بیقرار تھی…. لیکن اس نے خود رپر کنٹرول رکھا…. چائے کپ میں انڈیلتی وہ پھنکار رہی تھی…. باہر کھڑا گروپ قہقہہ لگاتا، شاید چوب محل سے باہر کی جانب بڑھ چکا تھا…. مانہ تحمل کا مظاہرہ کرتی، کپ واپس شیلف پر رکھتی آنکھیں میچ کر رہ گئی….

ض……..ض……..ض

الحان پورا ہفتہ اذیت کا شکار رہا…. بظاہر وہ سب کے سامنے نارمل بی ہیو کرتا، لیکن کمرے میں آتے ہی، سوچ سوچ کر اس کا ذہن پھٹنے کو بیقرار ہوتا…. عداوت، اشتیاق، خواہش اور اُداسی، الگ الگ جذبات ایک گروہ بنائے ایک ساتھ اس کے اندر گرداب کرتے محسوس ہوتے…. وہ اپنی خود کی حالت سمجھنے سے قاصر تھا…. وہ اس کے قریب جانا چاہتا تھا…. اس سے بات کرنا چاہتا تھا اسے تنگ کرنا چاہتا تھا…. پر وہ ایسا کر نہیں پا رہا تھا…. آج رات ایلیمنیشن کی رات تھی…. بلاوا ملتے ہی وہ اپنے کیبن سے نکلتا چوب محل کے لاﺅنج میں چلا آیا، جہاں سب لوگ اسی کے منتظر دکھائی دے رہے تھے…. عاشر ہمیشہ کی طرح کیمروں کے پیچھے سکرین کے سامنے مصروف دکھائی دیا تھا…. تمام لیڈیز ایک سائیڈ پر قطار بنائے کھڑی افسردہ دکھائی دی تھیں…. الحان سب پر ایک اچٹتی سی نگاہ دوڑاتا، خرم کے برابر میں جا کھڑا ہوا….

”لیڈیز! ہمارے اس شو کی تیسری ایلیمنیشن کی گھڑیاں آ پہنچی ہیں….“

خرم مہذب لہجے میں گویا ہوا….

”آج رات جو لیڈیز ایلیمنیٹ ہوں گی وہ کل صبح ناشتہ کے بعد اپنے اپنے گھروں کے لیے روانہ کر دی جائیں گی…. اور باقی سیو کی جانے والی تمام آٹھ لیڈیز کو الحان کی ایک اور من پسند جگہ، جہاں الحان اپنا وقت بہت خوشی سے گزارنا پسند کرتاہے، پر جانے کا موقع فراہم کیا جائے گا…. اور وہ جگہ کون سی ہے…. یہ آپ تمام لیڈیز کے لیے ایک سرپرائز ہے….“

جوش اور خوشی کی لہر ایک ساتھ تمام لیڈیز کے چہروں پر دوڑتی دکھائی دی تھی…. سوائے مانہ کے…. جو وقتاً فوقتاً نظر اٹھا کر الحان کی جانب دیکھ رہی تھی، جبکہ الحان اسے مکمل طور پر اگنور کیے باقی تمام لیڈیز کی جانب متوجہ دکھائی دے رہا تھا…. وہ اس سے بات کرنا چاہتی تھی….

”کاش! کہ الحان اس بار مجھے ایلیمنیٹ کر دے…. تاکہ میری ان تمام الجھنوں سے ہمیشہ کے لیے جان چھوٹ جائے….“

وہ من ہی من میں ہمکلام ہوئی….

”الحان! آر یُو ریڈی؟“

پھولوں کی ٹیبل الحان کے سامنے آتے ہی خرم نے ہمیشہ کی طرح اس بار بھی پوچھا…. الحان متانت چہرے پر سجائے، اثبات میں سر ہلاتا…. ایک گلاب ہاتھ میں اٹھائے گہری سنجیدگی سے گویا ہوا….

”مانہ!“

اپنا نام سماعت سے ٹکراتے ہی وہ لمبی سانس کھینچتی، چلتے ہوئے الحان کے سامنے جا کھڑی ہوئی…. الحان نے اس بار بھی اس کی جانب نہ دیکھا…. تمام لیڈیز پرنظریں جمائے وہ گلاب مانہ کی جانب بڑھائے کھڑا تھا…. مانہ گلاب تھامتی، جلدی سے چلتی دوسری سائیڈ پر کھڑی مس فاطمہ کے نزدیک جا کھڑی ہوئی…. اک ٹیس سے اٹھی تھی اس کے دل میں…. گلاب کی ٹہنی دبوچتی وہ آنکھیں میچ کھڑی ہوئی….

”آشلے….“

اگلا نام آشلے کا پکارا گیا…. پھر مسکان، حانہ، تائبہ، آماندہ، صاحبہ اور پھر جینی…. تمام سلیکٹ کی جانے والی لیڈیز ایک الگ قطار بناکھڑی ہوئیں…. نیہااور برینڈا ایلیمنیٹ کی جا چکی تھیں…. شاید اس بات کا اندازہ پہلے سے ہی سب کو تھا…. نیہا اور برینڈا دھواں دار چہرہ لیے سر جھکائے کھڑی رہیں…. آشلے ان دونوں کے ایلیمنیٹ ہو جانے پر کافی افسردہ دکھائی دے رہی تھیں…. سحر کے بعد یہ دونوں اس کی بیسٹ فرینڈز اور پارٹنر ان کرائم بن چکی تھیں…. لیکن الحا ن نے ایک لمحے میں اس گروہ کو توڑ کر رکھ دیا تھا….

”نیہا اینڈ برینڈا آپ دونوں کا سفر یہیں پر ختم ہوا چاہتاہے…. آئی ایم سوری….!“

خرم، نیہا اور برینڈا سے سوری کہتا اب کے باقی تمام سلیکٹ کی جانے والی لیڈیز کی جانب مڑ کھڑا ہوا….

”آپ تمام لیڈیز بھی اپنا اپنا سامان پیک کر لیجیے کیونکہ کل صبح پہلی فرصت میں ہمیں اس Island سے نکلنا ہے…. کہاں…. یہ ایک سیکرٹ ہے…. ہے ناں الحان؟“

وہ شریر مسکراہٹ لبوں پر سجائے الحان کی جانب دیکھنے لگا…. جواباً الحان اپنی مخصوص مسکراہٹ مسکراتا سر ہلا کر رہ گیا….

ض……..ض……..ض

پہلے یاٹ پھر الحان کے پرائیویٹ طیارے اور پھربس کے لمبے سفر کے بعد وہ لوگ دوپہر تقریباً تین بجے کے ٹائم Ranch (باڑا) میں پہنچ گئے…. موسم ہمیشہ کی طرح آج بھی خوشگوار تھا…. زمین کی اُبھرتی ڈھلکتی سرسبز و شاداب سطح پُرسکون دکھائی دے رہی تھی…. Island کی طرح یہاں پر بھی ایک چوب محل تھا…. جس کے اردگرد کیکر کے درخت موجود تھے، جو اپنا سایہ چوب محل پر کیے صاف دکھائی دے رہے تھے…. چوب محل سے خاصے فاصلے پر غلہ گودام اور اصطبل بھی موجوددکھائی دئیے تھے…. کچھ نوجوان (Cowboy) بوٹس اور ہیٹ میں ملبوس پہلے سے وہاں موجود اپنے اپنے کاموں میں مشغول تھے…. الحان نے وہاں پہنچتے ہی ایک لمبی گہری سانس کھینچی تھی…. وہ اس وقت بہت پُرسکون اور خوش دکھائی دے رہا تا…. (Crew) اپنے کام میں لگ چکا تھا…. عاشر Crew کے لوگوں کے سر پر کھڑا تمام کام کی دیکھ بھال کرنے لگا تھا…. باقی تمام لیڈیز بڑی دلچسپی سے باڑا کا نظارہ کرتی دکھائی دی تھیں…. دور درختوں کے ایک جھنڈ میں پرندوں کے پھڑپھڑانے کا شور صاف سنائی دیتا تھا…. اور اس جھنڈ سے پرے درختوں کی ٹیڑھی میڑھی قطاریں بڑھتی ہوئی اُفق میں کھو رہی تھیں…. اردگرد کے کھیتوں میں کھڑی فصل سو رہی تھی…. دور شمال کی طرف سے مغرب کی طرف بڑھتے ہوئے، گہری دھند میں چمکتی ہوئی برف سے ڈھکے ہوئے پہاڑ ان کو اپنی طرف بڑھنے کی دعوت دے رہے تھے…. ان نزدیکی کھیتوں سے بھی پرے ایک بہت بڑا جھیل نما جوہڑ تھا…. جس کے کنارے فضا میں اُڑتے ہوئے اُجلے اُجلے بگلے اور دوسرے ننھے ننھے پرندے شور کر رہے تھے….

”Welcome to the Ranch! کیسا لگا سرپرائز؟“

الحان ازحد شاداں دکھائی دے رہا تھا….

”پرفیکٹ!“

سبھی لیڈیز نے مسکراتے ہوئے ایک ساتھ جواب دیا….

”اوکے! آپ سبھی لیڈیز جا کر اپنا اپنا روم سلیکٹ کر لیجیے اور اپنا سامان اَن پیک کر لیجیے…. اور مزے کی بات یہ ہے کہ آپ سب کو یہاں پر الگ الگ روم دیا جا رہا ہے…. سو…. ہیپی؟“

وہ دونوں ہاتھ ہوا کے زور پر اٹھائے شیریں لہجہ میں پوچھنے لگا….

جواباً سبھی لڑکیاں خوشی کا اظہار کرتی اپنا اپنا بیگ سنبھالتی باڑے کے چوب محل کی جانب قدم بڑھانے لگیں…. مس فاطمہ نے سبھی لڑکیوں کو ان کے کمروں تک رسائی ممکن قرار دی….

تقریبا آدھ گھنٹہ کے وقفہ کے بعد تمام لڑکیوں کو اس نئے چوب محل کے لاﺅنج میں اکٹھا ہونے کا حکم صادر ہوا…. حکم صادر ہوتے ہی تمام لڑکیاں چوب محل کے لاﺅنج میں اکٹھی ہو بیٹھیں…. الحان اسی پل چوب محل کے مین دروازے سے اندر داخل ہوا تھا….

”گڈ ایوننگ لیڈیز!“

سبھی لیڈیز ایک ساتھ الحان کی جانب متوجہ ہوئی تھیں…. وہ دروازے کے پاس کھڑا شیریں لہجہ میں مخاطب تھا….

”آج آپ میں سے کوئی ایک لیڈی میرے ساتھ ڈیٹ پر چلنے والی ہے….“

خبر ملتے ہی خوشی کی اک لہر تمام چہروں پر دوڑتی دکھائی دی…. مانہ اس کی موجودگی سے انجان بنی، مسکان کے بغل میںبیٹھی کیمروں کے پیچھے ہوتی حرکات کا جائزہ لینے میں مصروف تھی….

”اور اس ایک لیڈی کا نام ہے…. مسکان!“

نام پکارتے ہی وہ اپنی مخصوص مسکراہٹ لبوں پر سجا کھڑا ہوا، جبکہ مسکان اپنا نام سنتے ہی خوشی سے اُچھل پڑی…. اس کے اُچھلنے اور چیخنے پر مانہ یکایک چونک اٹھی…. مسکان خاصی ایکسائیٹڈ دکھائی دے رہی تھی…. مانہ لمبی سانس کھینچ کر رہ گئی….

”کین یُو رائیڈ؟“

وہ پوچھ رہا تھا….

”نو!“

وہ منہ بسورتے ہوئے بولی…. الحان مسکرا دیا….

”نو پرابلم! میں سکھا دوں گا…. تم جا کر تیار ہو جاﺅ….“

الحان اپنے مخصوص انداز میں مسکراتا لاﺅنج سے باہر نکل گیا….

تقریباً آدھ گھنٹہ کی تیاری کے بعد مسکان خوشی خوشی الحان کے ساتھ ڈیٹ کے لیے روانہ ہو گئی…. باقی تمام لیڈیز مسکان کے الحان کے ساتھ جانے پر زیادہ خوش دکھائی نہ دے رہی تھیں…. سبھی ایک ساتھ گروہ بنائے نہ جانے کہاں کہاں کی داستاں ایک دوجے کے گوش گزار کرنے لگی تھیں…. مانہ ان سب پر نگاہ دوڑاتی چوب محل سے باہر نکل آئی…. وہ یہاں بھی ایک درخت کی متلاشی تھی…. جس کے سائے تلے بیٹھ کر وہ کچھ تنہا اور پُرسکون وقت گزارنے کی خواہشمند تھی…. لیکن باہر نکلتے ہی ایک بار پھر سے Ranch کا خوبصورت نظارہ دیکھتی اسے ذہن نشین کرتی آگے ہی آگے بڑھتی چلی گئی….

ض……..ض……..ض

جاری ہے ۔۔۔۔۔

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

چلو عشق کا رستہ چنتے ہیں آسیہ مظہر چوہدری قسط نمبر 2

چلو عشق کا رستہ چنتے ہیں آسیہ مظہر چوہدری قسط نمبر 2 دو دن ہو …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے