سر ورق / یاداشتیں / ست رنگی دنیا ٭ ضیاءشہزاد … قسط نمبر 12

ست رنگی دنیا ٭ ضیاءشہزاد … قسط نمبر 12

                ست رنگی دنیا

                                ٭

                میری کہانی ٭ ضیاءشہزاد

ٍٍ          ٬٬آندھیاں غم کی یوں چلیں، باغ اجڑ کے رہ گیا ،،

                قسط نمبر 12

                ٭

                جی۔ ۔ ۔ ابا ۔ ۔ ۔ ابھی دیتا ہوں اِن کو پیسے ۔ ۔ ۔ بڑے ابا بولے ا اور پتلی کا ناچ دکھانے والوں کو چلنے کا اشارا کیا۔

                پتلی کا ناچ دکھانے والے تینوں آدمی اپنا سامان سمیٹ کر بڑے تایا ابا کے ساتھ حویلی کے دروازے کی طرف بڑھ گئے۔۔۔ میں نے دادا ابا کو اتنے غصے میں پہلی بار دیکھا تھا ۔ ۔ ۔ میری تو جان ہی نکل گئی تھی ۔ ۔ ایک تو میں پتلی کا چان دکھانے والے اس آدمی سے ڈر گیا تھا جس نے ٹوپی والا برقعہ اوڑھا ہوا تھا اور وہ میری طر ف ٬٬ ہوو۔ ۔ ۔ ہاﺅ ،، کی آواز نکال کر لپکا تھا ۔ ۔ ۔ میری واقعئی گھگھی بندھ گئی تھی ۔

                اس واقعے کو اگرچہ بہت دن گزر چکے تھے مگر پھر بھی یہ جیسے میرے دل و دماغ پر چپک کر رہ گیا تھا اور اکثر مجھے یاد آجاتا تھا ۔ میرے دل میں بس یہ ملال سا رہتا تھا کہ اس ٹوپی والے برقعے کو اوڑھے ہوئے آدمی نے خوامخواہ مجھے ڈرایا۔ ۔ ۔ نہ میں ڈرتا اور نہ ہی دادا ابا اس آدمی کی پٹائی کرتے۔ ۔ ۔ میرا پتلی کا ناچ دیکھنے کا شوق دل میں ہی رہ گیا تھا۔

                دادا کو دوسری بار میں نے بڑے غصے میں اس وقت دیکھا تھا جب میرے ابا مجھ سے سات سال بڑے بھائی نور الدین کو دہلی چھوڑ نے جا رہے تھے ۔ گاﺅں کا ماحول دن بدن خراب ہوتا جا رہا تھا اور نور الدین بھائی گاﺅں کے جس اسکول میں داخل تھے وہاں سے آئے دن ان کے بارے میں یہ شکایت آنے لگی تھی کہ وہ اسکول سے ناغہ کرنے لگے ہیں ۔ وہ اسکول تو برابر جاتے تھے لیکن وہاں سے دوسرے لڑکوں کے ساتھ بھاگ نکلتے تھے اورپتہ نہیں کہاں کہاں جا کر اپنے دوستوں کے ساتھ کھیلتے رہتے تھے ۔ جیسے ہپی اسکول کی چھٹی کا وقت ہوتا تھا وہ بھی گھر آجاتے تھے ۔وہ تو ایک دن ان کے اسکول ماسٹر کرشنا لال جی ابا کو راستے میں مل گئے تھے تو انہوں نے ان سے دادی اماں کی طبیعت کا حال پوچھا تھا ۔٬٬ بھئی فخرالدین سنا ہے تمہاری اماں کی طبیعت بہت خراب ہے ، آج نور الدین اسکول آتے ہی چھٹی لے کر چلا گیا تھا کہ دادی ماں کی طبیعت بہت خراب ہے ۔ ۔ ۔ ۔ ابا نے کہا تھا کہ حاضری لگواتے ہی چھٹی لے کر آجانا ۔،،

                ابا یہ سن کر بہت پریشان ہوئے تھے ۔ انہوں نے ماسٹر جی کو تو ہوں ہاں کر کے ٹال دیا تھا مگر گھر آ کر نورالدین بھائی کی بہت پٹائی

 کی تھی ۔ میں نے پہلی بار ان کو ابا سے پٹتے دیکھا تھا ۔ اماں نور الدین بھائی کو بچانے کے لئے آگے بڑھی تھی تو ابا نے انہیں بھی ڈانٹ دیا تھا۔٬٬ خبر دار جو بیچ میں آئی سعیدن۔ ۔ ۔ یہ خبیث میری مری ہوئی ماں کی طبیعت خراب ہونے کا بہانہ کر کے اسکول سے چھٹی لے کر آجاتا ہے ۔ ۔ ۔ وہ تو اس کے ماسٹر جی مجھے مل گئے تو انہوں نے بتا دیا ورنہ تو ہمیں پتہ ہی نہیں چلتا ۔ ۔ ۔ میں اسے ابا کے پاس لے کے جاتا ہوں ۔ ۔ ۔ اس کا دادا ہی اسے ٹھیک کر کرے گا ۔ ۔ ۔ الو کے پٹھے کو ۔ ۔ جب دادا سے مار پڑے گی تو اس کا دماغ ٹھکانے آ جائے گا۔،،

                داداکے پاس لے جانے کا سن کر نورالدین بھائی کی گھگھی بندھ گئی تھی ۔ ۔ ۔ وہ چیخ چیخ کر ۔ ۔ اماں اماں کہہ کر روئے جا رہے تھے ۔ ۔ وہ بھی دادا سے بہت ڈرتے تھے ۔ ۔ ۔ اماں کے سمجھانے بجھانے پر ابا رک گئے تھے مگر وہ بہت پریشان نظر آتے تھے ۔ ۔ ۔ انہوں نے اماں سے کہا تھا ،٬٬ نہیں سعیدن ۔ ۔ ۔ یہ ہاتھ سے نکلا جا رہا ہے ۔ ۔ ۔ پہلے بھی اس کی شکایت آئی تھی ۔ ۔ ۔ اگر یہ اسکول سے بھاگتا رہا تو بد ماش ہو جائے گا ۔ ۔ بگڑ جائے گا ۔ ۔ ۔ میں ابا سے بات کروں گا کہ اسے دلی بھائی اما الدین کے پاس بھیج دیں وہاں ان کے پاس رہے گا تو گاﺅں کے بگڑے بچوں سے بچا رہے گا ۔ اسی رات سب گھر کے بڑوں کی بیٹھک لگ گئی تھی اور انہوں نے یہی فیصلہ کیا تھا کہ اگر بھائی نورالدین کی زندگی بنانا ہے اور انہیں گاﺅں کے خراب ماحول سے بچانا ہے تو پھر ان کو دلی میںتایا امام الدین کے پاس چھڑنا پڑے گا ۔ دلی میں ان کا بیٹا عبدالرشید اچھے اسکول میں پڑھ رہا تھا اور پورے خاندان میں اس کا نام ہو رہا تھا ۔دادانے یہ فیصلہ کر لیا تھا کہ بھائی نور الدین کو بھی دلی بھیج دیا جائے تاکہ وہاں دونوں بھائی ایک ساتھ اسکول میں پڑھتے رہیں۔

                جیسے ہی یہ فیصلہ ہوا تھا اماں نے دوسرے دن صبح سے ہی نا چاہتے ہوئے بھی بھائی نورالدین کے کپڑے اور کچھ ضروری سامان باندھ دیا تھا ۔ ۔ ۔ دوپہر کی ایکسپریس سے ابا ان کو دلی لے جانے والے تھے ۔دلی جانے کی خوشی میں نور الدین بھائی خوشی سے پھولے نہیں سما رہے تھے۔

                بدری ٹانگے والے کو صبح ہی کہلوا دیا گیا تھا کہ اسٹیشن جانا ہے اور وہ کچھ دیر بعد آنے ہی والا تھا ۔ ۔ ۔ بس اس کا انتظارہو رہا تھا کہ اسی وقت حویلی کے دروازے پر کسی نے آواز لگائی ۔٬٬سراجو دادا کی خیر ۔ ۔ ۔ سراجو دادا کی خیر ۔،،

                ابا بڑ بڑائے ۔٬٬ اب کون آگیا حویلی کے دروازے پر ۔ ۔ ۔ ابا کی خیر مانگنے والا ،،۔ ۔ ۔ وہ حویلی کے دروازے کی طرف بڑھے، میں ان کی گود میں تھا ، انہوں نے مجھے نیچے اتارنا چاہا مگر میں ان سے بری طرح چپک گیا ۔ ۔ ۔ آخر مجبوراًً وہ مجھے اپنی گود میں اٹھائے دروازے پر پہنچ گئے۔ کالے کپڑے پہنے ہوئے لمبے لمبے بولوں اور لمبی داڑھی والا ایک آدمی کھڑا ہوا تھا۔ ۔ ۔ اس کے ہاتھوں میں موٹی موٹی چوڑیاں پہنی ہوئی تھیں۔ کانوں میں بھی بالیاں تھیں ۔ ۔ ۔ اس نے ابا کو اپنے سامنے مجھے گود میں لئے دیکھا تو اس کے چہرے پر ہنسی پھیل گئی ۔ ۔ ۔ اس نے ابا کو سلام کیا اور مجھے پیار کرنے کے لئے اپنا ہاتھ آگئے بڑھایا تو میں ابا کی گود میں کسمسایا ۔ ۔ ابا نے مجھے پیچھے کی طرف کھینچ لیا اور اس سے پوچھا۔٬٬ ہاں بول ۔ ۔ کیا بات ہے ۔،،

                ٬٬ سراجو دادا سے ملنا ہے بابا ۔،، وہ آدمی بولا

                 ابا نے اس آدمی کو عجیب سی نظروں سے دیکھا اور منہ بناتے ہوئے بولے ۔٬٬ کیوں ۔ ۔ کیا کام ہے ان سے ۔،،

                وہ آدمی مسکراتے ہوئے بولا۔٬٬ میں شاہجہاں پور سے آیا ہوں ۔ ۔ ۔ مجھے پیر جی اچھن نے بجیجا ہے ۔ ۔ ۔ دادا سراجو کو پیر جی کا بہت ضروری سندیسہ دینا ہے۔،،

                ٬٬پیر ۔ ۔ جی ۔ ۔ اچھ۔ ۔ چھن ،، ابا نے گردن کو ہلاتے ہوئے کہا ۔ ۔ ۔ ٬٬ اچھا ۔ ۔ کیا پیر ۔ ۔ ۔ نے پھر کوئی پھلجھڑی چھوڑی ہے ۔ ۔ ۔ میں سمجھ گیا ۔،،

                ٬٬ جی ۔ ۔ مجھے پیر جی ۔ ۔ اچھن نے کہا تھا کہ سراجو دادا ہی کو سندیسہ دینا ۔ ۔ میں تو پیر جی کا گلام ہوں ،انہوں نے حکم دیا تو چلا آیا۔،،

٬٬ اچھا ۔ ۔ رکو ۔ ۔ میں ابا کو بتاتا ہوں۔،، ابا بولے اور مجھے گود میں لئے دادا کے پاس پہنچے اور اس آدمی کے آنے کا بتایا جس پر دادا کی آنکھیں ایک دم لال سی ہو گئیں۔ ۔ ۔ اور انہوں نے غصے بھری آواز میں ابا سے کہا ۔٬٬ اندر بلالو اسے ۔ ۔ مجھے لگتا ہے پیر جی کو پھر کوئی بات سوجھی ہے ۔،،

                ابا نے مجھے داداکے پاس چھوڑا اور اس آدمی کو بلانے چلے گئے۔۔ ۔ ۔ اس وقت دادا کے اس کوئی بھی نہیں تھا ۔ ۔ بڑے تایا اپنی دوکان پر چلے گئے تھے ۔ ۔ ۔ بھائی اسلام بھی نہیں تھے اور کلو تایا اپنے گھر پر تھے ۔۔ ۔ ۔ بس ابا ہی گھر پر تھے کیونکہ وہ بھائی نورالدین کو دلی لے کر جانے والے تھے جو اماں کے پاس تیار بیٹھے تھے ۔،،

                ابا اس آدمی کو دادا کے پاس لے آئے ۔ ۔ ۔دادا نے اس آدمی کو غصے بھری نظروں سے دیکھا اور آنکھیں سکیڑ کر بولے ۔٬٬ ہاں ۔ ۔ بولو ۔ ۔ تمہارے پیر جی ۔ ۔ ۔ اچھن ۔ ۔ کیا سندیسہ بھیجا ہے ۔ ۔ میں اسے اچھی طرح جانتا ہوں جیسا وہ پیر ہے ۔،،

                ٬٬ دادا سراجو ۔ ۔ میں ان کا گلام ہوں ۔ ۔ ۔ جو مجھے حکم ہوا ۔ ۔ ۔ میں حاضر ہو گیا۔،، وہ آدمی ہاتھ جوڑتے ہوئے بولا

                ٬٬ اچھا اچھا ۔ ۔ ۔ جلدی بول کیا کہا ہے اس نے،، دادا نے کہا

                ٬٬جی پیر جی نے کہا ہے کہ چھوٹے بچے کو میرے پاس چھوڑ دیں۔ ۔ ۔ پہلے بھی آپ کا ایک بچہ آپ سے مانگا تھا جو آپ نے نہیں دیا ۔ ۔ اب وہ بچہ آپ کے پاس بھی نہیں رہا ۔،، وہ آدمی بڑے اعتماد سے بول رہا تھا

                 دادا۔ ۔ ۔ کچھ دیر تک خاموش رہے پھر ایک دن چلائے اور غصے سے بولے ۔٬٬ فخر الدین۔ ۔ ۔ اسے دروازے تک چھوڑ آ ۔ ۔ ۔ اور سمجھا دے کہ اگر یہ اب دوبارہ آیا تو میں اس کی ٹانگیں توڑ دوں گا اور اس کے پیر اچھن کی تو میں شاہجہان پور جا کر خبر لوں گا۔ ۔ ۔ حرامزادہ پیر بنا ہوا ڈھکوسلے دکھا رہا ہے ۔ ۔ ۔ ابے کیا بچے کسی کو دئے جاتے ہیں ۔ ۔ ۔ بھاگ جا بے یہاں سے۔ ۔ ۔ ورنہ مارا جائے گا تو ۔،،

                وہ آدمی خاموشی سے دادا کی ڈانٹ سنتا رہا اور کچھ نہیں بولا بس ہاتھ جوڑے کھڑا رہا۔ ۔ ۔ ابا نے اسے بازو سے پکڑا اور گھسیٹتے ہوئے حویلی کے دروازے کی طرف لے گئے۔ دادا کا برا حال تھا ۔ ۔ وہ سخت جلال میں تھے ۔ ۔ ۔ بار بار پیر جی اچھن کو برا بھلا کہہ رہے تھے ۔اس روز بھی میں داداکو بہت غصے اورجلال میں دیکھا تھا۔

٭

اور اب بھائی اسلام اور فاروق بھائی اس آدمی کی ڈنڈا ڈولی کر کے اسے حویلی کے اندر لے گئے تھے ۔ ۔ ۔ میرا دل بری طرح ہول رہا تھا اور میں ابا کی گود میں بری طرح چپکا ہوا تھا ۔ ۔ ۔ میں جانتا تھا کہ دادا ابا کو جب غصہ آتا تھا تو پھر کسی کی خیر نہیں ہوتی تھی۔ بھائی اسلام اور فاروق بھائی نے اس آدمی کو دادا کے سامنے لٹا دیا ۔ ۔ ۔ وہ ایک دم اٹھ کے بیٹھ گیا۔ ۔ ۔ اس کے ہاتھ بندھے ہوئے تھے وہ اپنے ہاتھوں کو جوڑتے ہوئے روتے ہوئے بولا ٬٬شما کر دو مہاراج ۔ ۔ ۔ دادا سراجو ۔ ۔ شما کردو۔،،

                ٬٬ ہاں ہاں ۔ ۔ ابھی شما کرتا ہوں تجھے ۔ ۔ ۔ پہلے یہ بتا کہ تجھے کس نے بھیجا تھا میرے بچے کو اٹھانے کے لئے ۔ ۔ ۔ ۔جلدی سے بتا مجھے ۔،،

                ٬٬ جی ۔ ۔ ۔ مہاراج ۔ ۔ مجھے ۔ ۔ مجھے ۔ ۔ گنگا رام نے بھیجا تھا ۔،، وہ آدمی روتے ہوئے بولا۔٬٬ میں نے اس سے بیاج پر پیسے لئے تھے ۔ ۔ ۔ جب پیسے نہیں دے سکا تو اس نے میری لگائی اور بچے کو اٹھوالیا ۔ ۔ ۔ اور کہا کہ میں دادا سراجو کے بچے کو اٹھا کر لاﺅں تو پیسے بھی نہیں لوں گا واپس ۔ ۔ اور لگائی اور بچے کو بھی چھوڑ دوں گا۔،،

                ٬٬ ہوں ۔ ۔ ۔ یہ گنگا رام کون ہے ۔ ۔ ۔ ،، دادا نے پوچھا ٬٬ پہلے یہ بتا کہ تو ہے کون ۔ ۔ کیا کرتا ہے تو ۔؟،،

                جی ۔ ۔ میں پرساد ہوں ۔ ۔ ۔کولہو چلاتا ہوں گنگا رام کی دوکان پر ۔،، وہ آدمی بولا

                میں نے تو تجھے پہلے باول میں نہیں دیکھا ۔ ۔ تو ہمارے گاﺅں کا تو نہیں ہے ۔ ۔ ۔ کہاں کا ہے تو ۔؟،، دادا غصے سے چیخے

                ٬٬جی ۔ ۔ ۔ دادا ۔ ۔ ۔ میں فرید آباد کا ہوں۔،،پرساد بولا

                ٬٬ اور گنگا رام۔؟،،

                ٬٬ جی ۔ ۔ وہ بھی فریدآباد میں ہے ۔ ۔ اسی کی تیل کی دوکان پر کولھو چلاتا ہوں ۔،، پرساد کی آنکھوں سے آنسو ٹپک رہے تھے ۔ ۔ ۔ وہ بار بار ٬٬ شما کردو دادا سرجو ۔ ۔ شما کر دو مہراج کہے جا رہا تھا ۔

                ٬٬ وہ تو میں تجھے اچھی طرح شما کروں گا ۔ ۔ تو نے حرامی کام ہی ایسا کیا ہے ۔ ۔ ۔ تیرا تو وہ انجام کروں گا کہ تو یاد کرنے کے لئے بھی نہیں رہے گا۔،، دادا غصے میں لال پیلے ہوئے جا رہے تھے ۔ان کو جلال میں دیکھ کر سب خاموش کھڑے تھے ۔ ۔ ۔ اماں اور سب عورتیں بھی دادا کے کمرے کے برابر والے کمرے میں گھسی ہوئی یہ سارا تماشا دیکھ رہی تھیں۔

                ٬٬دیکھ بے ۔ ۔ ۔کیا نام بتا یا تو نے ۔ ۔ پرساد ۔،، دادا چیخے ۔ ۔ ۔٬٬ مجھے ٹھیک ٹھیک بتانا ۔ ۔ ۔ ورنہ تیرے ٹکڑے کردوں گا ۔ ۔ ۔ سمجھا تو ۔ ۔ ۔ دادا سرجو کہتے ہیں سب لوگ مجھے ۔،،

                ٬٬ جی ۔ ۔ جی ۔ ۔ دادا جی ۔ ۔ ۔ مجھے یہی سمجھا دیا تھا ۔ ۔ گنگا رام نے ۔،، پرساد بولا

                ٬٬ ہاں ۔ تو اب شروع ہو جا ۔ ۔ ۔ سب کچھ مجھے ٹھیک ٹھیک بتا ۔ ۔ ۔ گنگا رام نے کیا کیا بتایا اور سمجھایا تھا تجھے۔،، داداچیخے

۔ ۔ ۔ ٬٬ تیری ہمت کیسے ہوئی ۔ ۔ میرے بچے کو اٹھانے کی ۔ ۔ ۔ تجھے ڈر نہیں لگا ۔ ۔ ۔ تو فیرید آباد سے یہاں چلا آیا ۔ ۔ ۔ کب سے آیا ہوا ہے تو باول میں۔؟،،

                ٬٬ جی دادا ۔ ۔ ۔ چار روز ہو گئے باول میں مجھے ۔،، پرساد بولا

                ٬٬ یہاں کس کے پاس ٹھہرا ہے تو ۔؟،،۔دادا نے پوچھا

                ٬٬ جی ۔ ۔ دادا میں ٹیشن پہ تھا ،،

                ٹیشن پہ ۔ ۔ وہاں کون ہے تیرا۔،، دادا چیخے

                ٬٬ وہ ۔ ۔ وہ مندر میں رہا تھا میں ۔،، پرساد نے ڈرتے ڈرتے بتایا

                ٬٬ اچھا ۔ ۔ مین سمجھ گیا ۔ ۔ ۔ ،، دادا پھر چیخے ۔ ۔ ٬٬ ابے صاف کیوں نہیں کہتا تو پنڈت کے پاس تھا ۔ ۔ ۔ ۔تیری ایسی کی تیسی ۔ ۔ بول سچ بات بتا مجھے۔،،

پرساد چپ رہا ۔ ۔ ۔ وہ کانپ رہا تھا ۔ ۔ اس کی حالت بہت بری ہو رہی تھی ۔ ۔ ۔ ۔ دادا پھر چیخے اور بھائی اسلام سے کہا ۔٬٬ جا اسلام۔ ۔ ۔ ۔ اندر سے بگدا اور گٹکا نکال کر لا ۔ ۔ جس پر قربانی کے گوشت کے ٹکڑے اور بوٹیاں بناتے ہیں۔،،

                یہ سنتے ہی بھائی اسلام تیزی سے اندر کی طرف دوڑے اور پرساد دھاڑے ،مارتا ہوا دادا کے پیروں پر گر گیا۔ مگر دادا کہے جارہے تھے ۔٬٬ ویسے بھ ہمارے دو مسلمان مار دئے گئے ہیں ۔ ۔ اب ایک ہندو کو مرنا چاہئے ۔ ۔ کچھ تو حساب برابر ہو ۔ ۔ ۔،،

                (جاری ہے )

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

ست رنگی دنیا ٭ میری کہانی ٭ضیاءشہزاد ٭ قسط نمبر16

ست رنگی دنیا ٭ میری کہانی ٭ضیاءشہزاد ”آندھیاں غم کی یوں چلیں، باغ اجڑ کے …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے