سر ورق / ناول / تھیا، تھیا ۔۔۔شہباز اکبر الفت۔۔۔ قسط: 3

تھیا، تھیا ۔۔۔شہباز اکبر الفت۔۔۔ قسط: 3

تھیا، تھیا
شہباز اکبر الفت
قسط: 3
تہمینہ بیگم کو تانیہ میں ہمیشہ اپنا عکس نظر آتا تھا، وہ ہوبہو اس پر گئی تھی، صرف رنگ،نین نقش اور قد کاٹھ ہی نہیں ،عادتیں بھی تقریباً اسی سے ملتی جلتی تھیں ،اچھا لباس، مہذب گفتگو، علم و ادب کی رسیا اور بڑی حد تک متحمل مزاج لیکن کبھی کبھی وہ اپنے مزاج کے بالکل برخلاف بہت چڑچڑی بھی ہو جاتی تھی، خاص طور پر جب اسے کوئی چیز پسند آ جاتی اور اس کا فوری حصول ممکن نہ ہوتا، بچپن سے لے کر آج تک اس نے کبھی اپنی پسند و ناپسند پر سمجھوتہ نہیں کیا تھا لیکن تابش کے معاملہ میں اپنی فطرت سے ہار گئی اور دل کی بجائے دماغ کے فیصلہ کو ترجیح دی، دل کہتا تھا کہ وہ صرف تنہارا ہے اور تمہارے لیے ہی بنا ہے لیکن دماغ کی ضد تھی کہ پہلے اپنی اوقات دیکھو، مخمل کے تھان میں ٹاٹ کا پیوند نہیں لگ سکتا، تمہارا خاندانی پس منظر ہی تمہاری محبت کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے،اس نے کئی بار سوچا کہ تابش کو سب کچھ صاف صاف بتا دے لیکن پھر اس کا انجام سوچ کر اپنے آپ سے ہی ڈر جاتی ،وہ جانتی تھی کہ ایسی باتیں کبھی چھپی نہیں رہتیں، زندگی کے کسی نہ کسی موڑ پر راز فاش ہو ہی جاتا ہے ،اسے اچھی طرح پتہ تھا کہ اپنی تمامتر محبت و انس اور ایثارکے باوجود کسی شریف زادے کے لیے کسی طوائف زادی کو اپنا لینا آسان نہیں ہوتا، لوگوں کی نظروں کا سامنا کرنے کے لیے بڑا جگرا چاہیے، قانون، اخلاق اور مذہب میں کوئی قدغن نہ ہونے کے باوجود معاشرہ ایک طوائف زادی کو شریفوں کے محلے میں آسانی سے قبول نہیں کرتا،عزت کی زندگی گزارنے کی خواہش کے باوجود بے چاری کومرتے دم تک اپنے کردار پر انگشت نمائی کا دھڑکا لگا رہتا ہے، اس نے کرب سے سوچا ، وہ تابش اور اس کی فیملی کو کسی امتحان میں نہیں ڈال سکتی تھی، اسے کسی کو دکھ دے کر اپنے لیے خوشیاںحاصل کرنے کی کوئی خواہش نہیں تھی، اس نے پہروں اپنے اور تابش کے معاملہ پر گہرے غور و خوص اور نتائج و عواقب کا موازنہ کرنے کے بعد اسے حاصل کرنے کا خیال ہمیشہ کے لیے دل سے نکال دیا، اب وہ صرف تابش کے ساتھ گزرے ایک ایک لمحہ کو اپنی روح میں جذب کرلینا چاہتی تھی، اب وہ صرف تابش کو خوش دیکھنا چاہتی تھی اوروہ اچھی طرح جانتی تھی کہ تابش کی خوشی اس کے خوابوں کی تکمیل میں ہی پنہاں ہے۔
٭٭٭
تابش رحمان علوی نے کبھی خواب میں بھی نہ سوچا تھا کہ زندگی اس کے ساتھ اتنا بڑا مذاق کرے گی گوکہ اس کا تعلق اس متوسط گھرانے سے تھا لیکن اس کے عظیم باپ نے ایک سیلف میڈ انسان ہونے کے باوجود انہیں کبھی کسی چیز کی کمی نہ ہونے دی تھی، کبھی اپنے کاروباری اتار چڑھاﺅ کوگھر میں بیان کرکے ان کے حوصلے پست نہ کیے تھے، انہیں ہمیشہ اچھا کھانے، اچھا پہننے اور اچھی جگہ تعلیم حاصل کرنے کے مواقع فراہم کیے لیکن عین اس وقت، جب اس کے خواب اپنی تکمیل کے آخری مرحلہ میں داخل ہو رہے تھے، اس کے والد عبدالرحمان علوی نے اس کا ساتھ دینے سے معذوری ظاہر کر دی،اس نے میڈیا میں میں دلچسپی کے پیش نظر ماس کمیونی کیشن کا انتخاب کیا تھا لیکن اسی دوران ماس کمیونی کیشن کے آخری سال ایک اسائمنٹ کے طور پر ایک شارٹ فلم بنانے کے لیے ریسرچ کے دوران پاکستان کی فلمی صنعت اس کی توجہ کا مرکز بن گئی اور وہ دن رات ایک بڑا ہدایت کار بننے کے سپنے دیکھنے لگا ، اس نے اپنی اس خواہش کا اظہار تانیہ سے کیا تو اس نے بے فکری سے کندھے اچکا دیئے ۔
” تو بن جاﺅ ہدایت کار،اس میں کیا مسئلہ ہے؟“
” مسئلہ یہ ہے کہ میں کسی بھیڑ چال کا حصہ نہیں بن سکتا، مجھے مکھی پر مکھی مار کر فلمیں نہیں بنانی، میں تھوڑا لیکن معیاری کام کرنا چاہتا ہوں ، میں چاہتا ہوں کہ جو لوگ روایتی پرتشدد اور گنڈاسہ مارکہ غیر معیاری فلموں سے تنگ آکرسینماسے روٹھ گئے ہیں وہ ایک بار پھر گھروں سے نکل کر فیملیز کے ساتھ سینماﺅں کا رخ کریں ، انہیںاپنی انڈسٹری پر بھی فخر ہو، انہیں اپنی فلموں، اپنے ہنرمندوں ، اپنے آرٹسٹوں کے حوالے سے کبھی کسی کمتری کا احساس نہ ہو “ تابش کے عزائم سن کر تانیہ کے ہوش اڑ گئے، وہ ہکا بکا اس کی شکل دیکھتی رہ گئی،، لمحہ بھر کے لیے تو اسے لگا کہ تابش کے قلبوت میںجیسے دلبر حسین کی روح حلول کر گئی ہے، اس کا باپ بھی پاکستان کی فلمی صنعت کے سنہری دور کو واپس لانے کے عزم کا اظہار کیا کرتا تھا ، اس نے بھی اپنی تمامتر صلاحیتوں کے باوجود محض چند ایک ہی فلمیں بنائی تھیں لیکن اس کے کام کو ناقدین ہمیشہ اچھے الفاظ سے یاد کرتے تھے ۔
” بہت اچھی سوچ لیکن میرا سوال اب بھی وہی ہے کہ آخراس میں کیا مسئلہ ہے؟“
” مسئلہ نہیں مسائل، پہلا مسئلہ تو یہ ہے کہ میں فلم کیسے بناﺅں، میرے جیسے نوآموز پر بھروسہ کون کرے گا ،پیسہ کون لگائے گا، دوسرا مسئلہ یہ ہے کہ ابھی فلم میکنگ کے بنیادی اسرار رموز سے بھی واقف نہیں ہوںاور فلم محض ہوائی قلعے تعمیر کرنے سے نہیں بنتی، اس کے لیے حوصلہ اور صلاحیت کے ساتھ ساتھ باقاعدہ تکنیک سے واقف ہونا بھی بہت ضروری ہوتا ہے “
” ہمم ۔۔۔۔ تو پھر اب؟“
میں نے اس حوالے سے انٹرنیٹ پر بہت ریسرچ کی ہے، انگلینڈ ے ایک ٹاپ فلم اسکول سے رابطہ بھی کرلیا ہے لیکن اس کے لیے فی الحال مییرے پاس وسائل نہیں “
” پاپا سے بات کی؟“
” میں نے پہلے ہائر ایجوکیشن کمیشن سے اسکالرشپ کے لیے رابطہ کیا تھا لیکن وہ ایسے شارٹ کورسز کے لیے اسکالرشپ نہیں دیتے اور ۔۔۔۔“ تابش نے سرجھکا کر بات ادھوری چھوڑی دی۔
” اور کیا“ تانیہ نے بے صبری سے پوچھا۔
” اور پاپا کا کہنا ہے کہ وہ فوری طور پر میرے لیے سات، آٹھ لاکھ کا بندوبست نہیںکرسکتے،ان کا بزنس بظاہر بہت مستحکم لیکن پچھلے کئی سالوں سے ایک بڑی رقم مارکیٹ میں پھنسی ہوئی ہے اور وہ خود بینک سے قرضہ لے کر اپنے یونٹ کی پروڈکشن چلا رہے “ تابش کے لہجے میں مایوسی در آئی ” اب تم خود ہی بتاﺅ کہ میں کیا کروں، مجھے تو اپنے سارے خواب ٹوٹتے ہوئے محسوس ہو رہے ہیں “
” پریشان نہ ہوں، اللہ بہتر کرے گا“ تانیہ نے کہہ تو دیا لیکن اس کے اپنے چہرے پر بھی تفکرات کے سائے پھیل گئے۔
٭٭٭
” تانی ، یہ دیکھو“ تابش نے ایک میگزین کے سامنے لہرایا ، تانی نے میگزین الٹ پلٹ کر دیکھا لیکن اس کی سمجھ میں کچھ نہ آیا ۔
” کیا دیکھوں؟“ اس نے سوالیہ انداز میں اس کی طرف دیکھا ۔
” ادھر دکھاﺅ“ اس نے میگزین واپس لے کر کھولا “ الحمرا میں جو ایک شارٹ فلمزفیسٹویل ہو رہا ہے ،اس کے لیے ہم اس کہانی کو فلمبند کریں گے “
” ٹوٹا“ نام پڑھتے ہی تانیہ کو ہنسی آگئی ” یہ کیا نام ہوا بھلا“
” ٹوٹا، مطلب سگریٹ کا ٹکڑا، یہ کہانی ایک ایسے بے روزگار نوجوان کی کہانی ہے جو چین اسموکر ہے ، یہ سارا سارا دن ڈگریاں ہاتھ میں پکڑے نوکری کے لیے جوتیاں چٹخاتا اور سارا وقت سگریٹ پھونکتا رہتا ہے لیکن ایک دن سرراہ چلتے ہوئے جب اس کو سگریٹ کی بہت طلب ہو رہی ہوتی ہے تو اس پر انکشاف ہوتا ہے کہ اس کی ڈبی خالی ہوچکی، اسی اثناءمیں کوئی موٹرسائیکل سوارقریب سے گزرتے ہوئے سگریٹ کا ادھ پیا جلتا ہوا ٹکڑازمین پر پھینک دیتا ہے، وہ اپنی طلب کے ہاتھوں مجبور ہوکر ادھر ادھر دیکھتے ہوئے نیچے جھک کرسگریٹ کا ٹوٹا اٹھانے لگتا ہے تو اس کا ضمیر اس کے بڑھتے ہوئے ہاتھ روک کر احساس دلاتا ہے کہ کیا وہ اپنی لت کے ہاتھوں اتنا مجبور ہوگیا ہے کہ ایک معمولی ” ٹوٹے “کے لیے انسانیت کے درجہ سے بھی گر جائے گا “
” واہ، کمال، زبردست“ تانیہ نے پرجوش انداز میں داد دی”یہ اینٹی اسموکنگ کے حوالے سے بہت مضبوط پیغام ہوگا“
”یس، اب اسے پکڑو اور صبح تک اس پر اسکرپٹ بناﺅ، رائٹر کا نام علی اکمل تصور ہی رہے گا، اسکرین پلے میں تم اپنا نام لکھ دینا “
” ارے یہ علی اکمل تصور کی کہانی ہے؟“
” ہاں ، کیوں کیا ہوا؟“
” ارے واہ! یہ تو بڑے زبردست رائٹر ہیں، میں نے ان کی کئی کہانیاں پڑھ رکھی ہیں لیکن یہ تو بچوں کے لیے لکھتے ہیں “
تو کیا ہوا، سگریٹ نوشی کے مضمرات سے تو سبھی کو آگاہ ہونا چاہیے نا،آج کل تو دس، دس بارہ بارہ سال کے لڑکے ہیروگیری کے چکر میں اسموکنگ کرتے نظر آتے ہیں، فلم کا میڈیم انہیں AWEARNESSدینے کے بہت اہم کردار ادا کر سکتا ہے“
”ہاں! یہ تو ہے، اچھا اس کا مرکزی کردار کون ادا کرے گا؟“
” تمہارے خیال میں اتنا وراسٹائل اداکار کون ہو سکتا ہے جو اس کردار کو بخوبی نبھا سکے“ تابش نے مسکراتے ہوئے پرخیال انداز میں اس کی طرف دیکھا
” ہرگز نہیں“ تانیہ نے اس کا مطلب سمجھتے ہی اسے گھورا
” کیوں بھئی، اس میں ہرج ہی کیا ہے؟“ تابش نے احتجاج کیا
” تابش رحمان علوی اگر تم نے زندگی میں کبھی سگریٹ کو ہاتھ بھی لگایا تو تمہارے ہاتھ توڑ دوں گی “
” یار، پینا تھوڑی ہے، صرف ایکٹنگ کرنی ہے، تمہیں تو پتہ ہی ہے کہ مجھے خود اسموکنگ سے کتنی نفرت ہے “
” اوکے، تو پھر ڈن©©“
”کیا ڈن؟“
یہی کہ مرکزی کردار بھی تابش رحمان علوی ہی ادا کرے گا“ تانیہ نےانگلی سے اس کی طرف اشارہ کیا تو دونوں بے ساختہ ہی ہنس پڑے ۔
٭٭٭
شارٹ فلم ” ٹوٹا“ کی عکسبندی کے لیے انہوں نے شہر کے مختلف مقامات پر جن لوکیشنز کا انتخاب کیا تھاان میں ریگل چوک کے ایک پلازے میں تابش کے ایک دوست کی لاءفرم،لبرٹی مارکیٹ کا ایک سپر اسٹور اور ملتان روڈ پر ایک فیکٹری کا ہیومن ریسورس ڈیپارٹمنٹ بھی شامل تھا ، کلائمکس بھی ملتان روڈ پرٹھوکر نیا ز بیگ سے تھوڑا آگے پکا میل اسٹاپ پر شاہ پور کانجراںنامی گاﺅں کو اترتی ہوئی نسبتاً کم آمد روفت والی سڑک پر فلمانے کا پروگرام طے ہوا، تابش نے دو دن کی مسلسل بھاگ دوڑکے بعد متعلقہ اداروں اور افراد سے رابطہ اور ا ن کی لوکیشن استعمال کرنے کا اجازت نامہ حاصل کرلیا ، شوٹنگ والے دن وہ اپنے DSLRکیمرہ کے ساتھ ساتھ اپنے ابو کی سوزوکی آلٹو لے آیا تھا، اس دو رکنی فلم یونٹ کی سب سے اہم ذمہ داری تانیہ کے سپرد ہی تھی جس نے کہانی کو اسکرپٹ میں ڈھالنے سے سینماٹوگرافی اور عملی طور پر ڈائریکشن کے فرائض بھی انجام دینا تھے ، دوپہر تک دونوں گرمی اور بھوک سے نڈھال ہوچکے تھے۔
” میرا تو پانچ منٹ دورانیہ کے لیے پکچرائزیشن نے برا حال کر دیا، ، لوگ پتہ نہیں تین تین گھنٹے کی فلمیں کیسے بنا لیتے ہیں ؟“ تابش نے پانی کی بوتل منہ سے لگاتے ہوئے کہا، وہ اس وقت اختتامی منظر کی عکس بندی کے لیے تیاری کر رہے تھے اور اس مقصد کے لیے انہوں نے ایک ڈھابے والے سے بھی مدد لی تھی جہاں بیٹھے دو لڑکوں سے موٹرسائیکل پر قریب سے گزرتے ہوئے سگریٹ کا ٹوٹا پھینکنے کا سین دینے کی خوش دلی سے حامی بھری تھی ، ڈھابے پر موجود اور قریب سے گزرتے ہوئے لوگ اس دو رکنی فلم یونٹ کو بڑی دلچسپی سے دیکھ رہے تھے۔
” اور مزے کی بات یہ کہ پتہ نہیں لوگ تین تین گھنٹے کی ایسی فلمیںدیکھ کیسے لیتے ہیں جن کا حقیقت کوئی کوئی تعلق نہیں ہوتا؟“ تانیہ نے بھی اس کی ہاں میں ملائی
” یہ ایک لمبی بحث ہے اور میں ا س موضوع پر تفصیلی اظہار خیال کر سکتا ہوں کہ لوگ فلمیں کیوں دیکھتے اور ان سے کس قسم کے اثرات قبول کر تے ہیںنیز یہ کہ فلمیں ہماری زندگی میں کیا اہمیت رکھتی ہیں اور ہم اس میڈیم کے زریعے سماج کی سوچ کیسے بدل سکتے ہیں تاہم سردست ہمیں اپنا کام مکمل کرلینا چاہیے “ تابش نے خالی بوتل کو کھیتوں کی طرف اچھالتے ہوئے بات مکمل کی اور سین دینے کے لیے لوکیشن کی طرف بڑھا، تانیہ نے موٹرسائیکل والے لڑکوں کوآگے بڑھنے کا اشارہ کرکے کیمرہ آن کرلیا
اگلے آدھے گھنٹے بعد انہوں نے اپنا کام مکمل اور مقامی لوگوں کے تعاون پر شکریہ ادا کرنے کے بعد واپسی کی راہ لے لی تھی۔
٭٭٭
الحمرا آرٹ کونسل کے زیر اہتمام شارٹ فلمز فیسٹویل میںنوجوان فلم میکرز کی ایک بڑی تعداد نے حصہ لیا تھا، منفرد اور متنوع موضوعات پر مختصر دورانیہ کی فلمیں لگ بھگ 27فلمیں اس فیسٹویل میں پیش کی گئی تھیں اور بطور خاص جن شارٹ فلمز کو سراہا گیاان میں ” ٹی ٹی پروڈکشنز“ کی ” ٹوٹا“ بھی شامل تھی، پروڈکشن ہاﺅس کا چونکا دینے والا نام تابش نے اپنے اور تانیہ کے ناموں کے پہلے حروف کو ملا کررکھا تھا ۔
فیسٹویل میں شوبز کے علاوہ کئی اہم علمی و ادبی شخصیات اور میڈیا انڈسٹری سے وابستہ اہم لوگ بھی موجود تھے ، سب نے کھل کر دونوں کے کام کی خوب تعریف کی، خاص طور پر ایک معروف ٹی وی اینکرنے تو جب یہ کہا کہ
” مجھے ان بچوں میں پاکستان کی فلمی صنعت کا مستقبل نظر آ رہا ہے، ان باصلاحیت نوجوانوں سے بڑی امیدیں وابستہ کر بیٹھا ہوں، مجھے یقین ہے کہ یہی لوگ آگے بڑھ کر revival of cenima in pakistan کا خواب شرمندہ تعبیر کریں گے، خاص طور پر ٹوٹا جیسی out standing شارٹ فلم بنانے والوں کے بارے میں پشین گوئی کرتا ہوں کہ یہ لوگ جب چاہیں کمرشل بنادوں پر بھی سپرہٹ فلمیں بنا سکتے ہیں“
ہال دیر تک تالیوں سے گونجتا رہا
٭٭٭
” کیا تم تانیہ دلبر حسین ہو؟“ فلم فیسٹویل کے بعد دونوں آرٹ گیلری کے باہر مہمانوں سے فرداً فرداً ملاقات اور تصاویر بنوانے میں مصروف تھے، جب کسی نے آہستگی سے تانیہ کے قریب آکر سرگوشی کے سے انداز میں کہا، تانیہ نے چونک کر دیکھا، وہ کوئی پچاس پچپن سال کا ایک ادھیڑ عمر شخص تھا، سپاٹ چہرہ، خشخشی داڑھی، اونی ٹوپی اور سستا سا سوٹ، پہلی نظر میں ہی وہ کوئی حالات کا مارا انسان ؛گا جو لنڈے کے مال سے اپنی وضع داری کا بھرم رکھنے کی ناکام کوشش میں مصروف تھا۔
” جی، جی میں تانیہ دلبر حسین ہی ہوں، کہیے ؟“ اس نے الجھے ہوئے انداز میں اس کی طرف دیکھ کر سوالیہ انداز میں کہا
” میرا نام احمد نواز ہے، ایکسٹرا سپلائر ہوں ، ستائس آٹھ سال سے یہی کام کر رہا ہوں “
” تو پھر ۔۔۔۔۔؟“
” تمہارے والد سے میرا بڑا قریبی تعلق رہا ، ان کی بے وقت موت کا بڑا صدمہ ہے مجھے، وہ بہت عظیم انسان تھے، تمہیں آخری بار ان کی وفات پر دیکھا تھا“
” اوہ ،اچھا لیکن مجھے یاد نہیں، معذرت “ تانیہ نے قدرے خوش دلی سے کہا تو اچانک ہی بوڑھے کے چہرے پر کرختگی سی آگئی
” لیکن تمہاری ماں کو آج بھی اچھی طرح یاد ہوگا کہ میں کون ہوں؟ “
” کیا مطلب؟“ تانیہ کا سار وجود جھنجھنا اٹھا تھا
” مطلب یہ کہ تہمینہ بیگم کو دلبرحسین سے میں نے ہی متعارف کروایا تھا “

(جاری ہے)

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

”جس دن سے!“ ۔۔۔ صادقہ نواب سحر ۔۔۔ قسط نمبر 01

”جس دن سے!“ صادقہ نواب سحر قسط نمبر 01  ٭ ڈیلیوری بوائے  ” ڈیلیوری …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے