سر ورق / کالم / خالد عنبر بیزار سب کا ہے…شہزاد حسین بھٹی

خالد عنبر بیزار سب کا ہے…شہزاد حسین بھٹی

خالد عنبر بیزار سب کا ہے
شہزاد حسین بھٹی
خالد عنبر بیزار ۔اس بے حَس، غلیظ، بدبودار اور تعفن زدہ معاشرے کی ایک جیتی جاگتی حقیقت ہے۔ یہ وہ پہلا شخض نہیں جسکے قدرتی وَصف کی بے حرمتی نہ کی گئی ہو۔ بحیثیت صحافی و کالم نگار میرا روزانہ ایسی ہزاروں خبروں اور معاشرتی کہانیوں سے واسطہ پڑتا ہے جن میں انسانیت کی اقدار، روایات ، استعداد ذہانت، جذبات اور احساسات کا خون کیا جاتا ہے۔ ابھی چند د ن پہلے کی بات ہے کہ عارف والا کا رہائشی ایک نوجوان نے اپنے شوق کی تکمیل کی خاطر اپنی ذاتی صلاحیتوں کو بروئے کار لانے کے لیے بنک سے قرض لیا اور جہاز بنا ڈالا۔ اور پرواز کے لیے قریبی سڑک کا انتخاب کیا ۔ پولیس نے اطلاع ملنے پر نہ صرف اس نوجوان کو ہوا بازی کا لائسنس نہ ہونے کی وجہ سے ایف آئی آر کاٹ کر اسے پابند سلاسل کر دیا ۔جہاں اگلے دن کورٹ سے جرمانے کے عوض اسے رہائی ملی جبکہ اس کا جہاز ضبط کرلیا گیا۔رہائی کے بعد اس نوجوان کا کہنا تھااس واقعہ کے بعد اسکا دل ٹوٹ گیا ہے۔ بجائے اسکے،کے میرے کارنامے کے بعد میری حوصلہ افزائی کی جاتی اُلٹا مجھے نشان عبرت بنا دیا گیا تاکہ میں اور مجھ جیسے دیگر نوجوان جو اس ملک کے لیے کچھ کرنا چاہتے ہیں وہ باز رہیں۔

جو ملک اپنے نوجوانوں کی چھپی صلاحیتوں اور تخلیقات کی سرپرستی کرتے ہیں وہاں نوجوانوں کی چھپی صلاحیتیں مزید کھل کر سامنے آتی ہیں اور وہ اپنے ملک و ملت کے لیے کچھ کر گزرتے ہیں۔ دنیا کے ترقی یافتہ ملک دوسرے ملکوں کا ٹیلنٹ اُٹھا لیتے ہیں اورا نہیں ایسے مواقع مہیا کرتے ہیں جہاں نہ صرف نوجوانوں کو اپنی صلاحیتوں کے اظہار کا پورا موقع ملتا ہے بلکہ وہ اس ملک کے لیے اپنا ٹیلنٹ بیچ دیتے ہیں۔ امریکہ ، کینیڈا ، آسٹریلیا، جرمنی اور دیگر ممالک کی مثال ہمارے سامنے ہے۔جہاں ہمارا وصف ان ممالک کی ترقی کا باعث بن رہا ہے۔ مجھے ایک بات کی سمجھ نہیں آتی کہ ہم نا جانے کیوں

محسن کش اور دوسروں کی دیواروں سے اینٹیں نکالنے والے بنے ہوئے ہیں۔ ہم کیوں اپنے ہیروں کی پہچان سے قاصر ہیں ۔ شان ِ کئی کہیں ہماری علامہ اقبال کے افکار سے دُوری کی وجہ تو نہیں؟ کیوں ہمارے نظریات ہماری تباہی کا پیش خیمہ بنے ہوئے ہیں۔
یہ خالد عنبر بیزار کا وصف ہی ہے کہ وہ پیدائشی شاعر ہے وگرنہ اگر اسکے خاندانی پس منظر ، بھوک اور افلاس کی زندگی کو دیکھا جائے تو شاید وہ کبھی ادب کی جانب نہ آتا۔یہ دِین خداوندی ہے۔ جسے چاہے علم و حکمت کی دولت سے مالا مال کردے۔ایک کِیل کا چُبھنا اسے کیا معلوم تھا کہ وہ اسکے ارمانوں کو ہزاروں من وزنی مٹی تلے دفن کر دے گا۔ خالد کی محرومیوں کی بنیادی وجہ شاید اپنوں کی بے وفائی، دوستوں اور ادیبوں کی بے رُخی، غربت، بھوک اور افلاس تھی۔ بوڑھے ماں باپ، کچھا گھر، ٹپکتی چھت اور بے روزگاری کا خوف، اس حساس شاعر کے لیے کسی امتحان سے کم نہ تھا۔ ڈاکٹر کی فیس نہ ہونے کی وجہ سے اپنے پاﺅں میںچبھنے والی کیل کا بروقت علاج نہ کرا سکا اور نہ ہی خودداری کے خول کو توڑ سکا کہ کسی کے آگے ہاتھ پھیلائے۔ انفیکشن کے پھیل جانے کے باعث جب ہسپتال پہنچایا گیا تو ڈاکٹروں کے پاس اسے بچانے کے لیے ٹانگ کاٹ دی گئی۔ ٹانگ کاٹنے اورزندگی میں کچھ کرگزرنے کے عزم کو جب شکت ہوئی تو وہ ڈھے گیا۔ اس کا دماغ یہ سب کچھ قبول کرنے کو تیار نہ تھا۔ دماغ پر گہرے اثر نے اسکے برسوں سے کچھ کر گزرنے کے خوابوں کو ریزہ ریزہ کر دیا۔ وہ اپنی ٹرین سے اپنی منزل آنے سے قبل ہی چھوٹ گیا۔خیالات کے انبار، اور سوچیں اسکے دماغ پر ایسی حاوی ہوئیں کہ وہ اپنا آپ بھلا بیٹھا۔


لیکن سلام اس ماں پر جو بوڑھی ہڈیوں کے باوجود مضبوط اعصاب، قوت ارادی اور عزم و استحکام کی وہ چٹان ثابت ہوئیں جنکے سامنے امتحان ،صبر اور استقامت اپنے معنی کھو بیٹھے۔ مجھے وہ منظر شایدنہ بھولے جب میں اپنے دوست اقبال زرقاش کے ہمراہ خالد عنبر بیزارکے گھر گیا تو کیا دیکھتا ہوں کہ ایک اندھیرے کمرے میں ایک چارپائی پر خالد عنبر بیزار اور دوسری چارپائی پر اس کا والد ٹی بی کی آخری اسٹیج سے لاعلاج ہو کر بے سدھ پڑا تھا اور دونوں چارپائیوں کے درمیاں خالد کی عظیم ماں تیماداری کے ساتھ ساتھ قدرت کے امتحان پر شاکر دیکھائی دے رہی تھی۔ میرے استفار پر کہنے لگی کہ بیٹا میرا رب اپنے عزیز بندوں کو ہی آزماتا ہے میں اسکے اس امتحان پر راضی بہ رضا ہوں۔ دُعا کرو میں اس امتحان پر پوری اُتروں۔
میں ناچیز کیا میری اوقات کیا! یہ سب میرے سوہنے رب کی طرف سے وسیلہ ہے کہ میں خالد عنبر بیزار کی کتاب لانے کا قصد کروں۔میرے استفسار پر مجھے خالد کہ والدہ نے بتایا کہ کئی شاعر اور ادیب آتے تھے اور خالد کی شاعر ی اُٹھا کر لے گئے کہ ہم خالد کی کتاب لائیں گے لیکن وہ پھر کبھی واپس نہ آئے۔ آٹے کے خالی تھیلے سے جب خالد کی نگارشات دیکھیں تو میںہل کر رہ گیا۔ خالد رجسٹر خریدنے کی سکت نہ رکھنے سے سبب وہ کاغذ کے ٹکڑوں پر غزلیں لکھ کر اس آٹے کے تھیلے میں ڈال دیتا تھا۔انہیں نگارشات سے معلوم ہوا کہ وہ اپنی کتاب لانا چاہتا تھا اور اسکے لیے اس نے کتاب کا نام اور دیباچہ تک لکھ رکھا تھا۔قبولیت کی گھڑی تھی کہ میں نے وسائل کی پروا نہ کرتے ہوئے خالد کی والدہ سے کہا کہ اماں اب میںتب آپکے گھر آﺅں گا جب اسکی کتاب چھاپ کر لاﺅں گا۔اسی سوچ کے ساتھ میںنے اقبال زرقاش سے کہا کہ آج سے ہمیں خالد کی کتاب کے لیے اسکی بکھری شاعری کو مختلف ذرائع سے اکٹھاکر نے کی مہم پر جُت جانا ہو گا۔اقبال زرقاش، ناصر بنگش اور دیگر دوستوں اور اخبارات سے ہم نے خالد بیزار کی شاعری کو اکٹھا کیا ۔ یاد رہے کہ یہ مواد اُس کی شاعری کا عشر عشیر بھی نہیں جو اس کی تخلیق تھا۔کئی نامور گلوکاروں نے خالد کے گیت گائے جو ہم حاصل کرنے میںناکام رہے لیکن جو مواد موجود تھا اسے مخیر دوستوں کے تعاﺅن سے ہم کتاب”چاندنی سے دِیا جلاتے ہیں” ادبی منظر نامے پر لانے میں کامیاب رہے۔


29 مارچ 2019ءمیری زندگی کا ایک نہایت خوشگوار دن تھا۔میں ایک مایوس انسان کے چہرے پر خوشی لانے کا آرزو مند تھا۔ایک ماں کے اکلوتے بیٹے کی دیرینہ خواہش کی تکمیل اور دُعاﺅں کا متمنی تھا۔اگرچہ میری دیگر مصروفیات بھی تھیں لیکن اولین ایجنڈاخالد عنبر بیزار کے ہاتھوں میں اسکی لکھی کتاب دینا چاہتا تھا۔میں اپنے دوستوں اقبال زرقاش اور سردار ایاز خالد مٹھیالوی کے ہمراہ خالد کے گھر پہنچا۔ حسب معمول خالد کی والدہ نے استقبال کیا ۔ جب خالد کو اسکی تخلیق ہاتھ میں دی تو وہ چند منٹوں تک اُسے ٹٹولتا اور حیرت سے دیکھتا رہا جبکہ والدہ بھی خوشی سے سرشار ہوگئیں۔ کافی دیر کے بعد خالد کے مایوس اور لٹکے ہوئے چہرے پر خوشی کے آثار نمایاں ہونے لگے۔وہ اچانک چّلا اُٹھا۔ بہت شکریہ بہت شکریہ شہزاد صاحب اللہ آپکو علی علیہ السلام کے صدقے بہت دے۔پھر وہ دیکھتے ہی دیکھتے زندگی کی طرف لوٹنے لگا۔ ہمارے خواہش پر اس نے کتاب سے غزلیں پڑھنی شروع کر دیں اور نظر کی کمی اور عینک کے بغیر بھی اس نے اپنی غزلوں کو اُسی انداز میں پڑھا جیسے کبھی وہ مشاعروں میں پڑھا کرتا تھا۔ خالد نے مجھ سے وعدہ کیا کہ وہ زندگی کی طرف لوٹے گا۔خالد کی والدہ مجھے دُعائیں دے دے نہ تھک رہی تھیں۔اُس وقت میں اپنے آپ کو دُنیا کا خوش قسمت ترین انسان سمجھ رہا تھا۔خالد بیراز صرف میرا نہیں ہم سب اہل ادب کا ہے۔ میں نے صرف ہیرے کو ڈھونڈ کر اُسے پہچان دینے کی سعی کی ہے۔اب وہ تاریخ میں امر ہو گیا ہے۔ تاریخ اسے اب مٹا نہیں سکتی ، خالدعنبر بیزار سب کا ہے۔
شہزاد حسین بھٹی

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

نوخیزیاں /گل نوخیزاختر …کالم نگار بننے کا آسان طریقہ

نوخیزیاں /گل نوخیزاختر کالم نگار بننے کا آسان طریقہ کچھ روز پہلے جھنگ سے ایک …

ایک تبصرہ

  1. Avatar

    بہت خوب بھٹی صاحب۔ بہت اہم کام کیا ہے آپ نے۔ خدائے حرف و ہُنر آپ کو اجرِ عظیم سے نوازے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے