سر ورق / ترجمہ / بے رنگ پیا۔۔۔امجد جاوید۔۔۔قسط نمبر 11

بے رنگ پیا۔۔۔امجد جاوید۔۔۔قسط نمبر 11

بے رنگ پیا

امجد جاوید

قسط نمبر 11

شہر سے باہر بنائی گئی جھیل کے گرد سبزہ ہی سبزہ تھا۔اونچے گھنے سرسبز درخت جنگل کی مانند پھیلے ہوئے لگ رہے تھے۔،جھیل کے کنارے کنارے دائرے میں ایک بڑا سا ٹریک تھا۔ ٹریک کے ساتھ جا بجا لکڑی کے بنے ہوئے بینچ تھے۔ انہیں میں ایک بینچ پر آیت اور شکیل بیٹھے ہوئے تھے۔ مغربی اُفق میں سورج جھک گیا تھا ۔ جس کی روشنی ایک لمبی لکیر کی مانند جھیل کے پانی پر تیر رہی تھی۔دونوں یونہی عام سے موضوع پر باتیں کر رہے تھے ۔ انہی باتوں میں شکیل نے آیت سے پوچھا

 ” رات جو کاریڈور میں بیٹھے ہم نے باتیں کیں ، لگتا ہے وہ تمہیں اچھی نہیں لگیں۔“

” وہ محبت والی باتیں؟“ آیت نے یوں پوچھا جیسے تصدیق چاہ رہی ہو۔

” ہاں وہی، مجھے لگا تمہیں ان سے اختلاف ہے ۔“ اس نے محتاط لہجے میں پوچھا تو چند لمحے سوچتی رہی ، پھر انتہائی سنجیدگی سے بولی

”دیکھو۔!دنیا میں ہر طرح کے نظریات ہیں۔اگر تمہارے پاس کسی بھی موضوع پر اپنا نظریہ ہے تو مجھے اس سے کیا۔“ یہ کہہ کر وہ لمحہ بھر کو خاموش ہوئی پھر ایک دم سے یوں بولی جیسے اس کچھ یاد آ گیا ہو ،” ہاں ، اس وقت تک مجھے کوئی دلچسپی نہیں جب تک وہ میری ذات کے حصار تک نہ آ جائے ۔“

”تمہارا کیا خیال ہے ، میں نے تم سے یہ بات یونہی کی ہے ۔ میرا مطلب اور مقصد یہ ہے کہ تم محبت کو سمجھو ،اور اس سے اپنی زندگی کو بہتر انداز میں گزارنے کی کوشش کرو۔“ شکیل نے اسے سمجھاتے ہوئے کہا

” اگر میں کہوں کہ میں اب بھی بہت بہترین اور آسودہ زندگی گزار رہی ہوں تو یہ غلط نہ ہوگا۔دوسری بات یہ ہے جس طرح کی محبت کی بات تم کر رہے ہو ۔وہ میری سمجھ سے بالاتر ہے ۔“ آیت نے کہا

”ہاں اب ہوئی نا بات ، کہو کہاں سمجھ نہیںآئی ، میں بتاتا ہوں ۔“ شکیل نے چہکتے ہوئے کہا جیسے اس نے کوئی کامیابی حاصل کر لی ہو

” اگر تم میری بات کو طعنہ یا کسی منفی پیرائے میں نہ لو تو میں کہوں؟“ آیت نے سنجیدگی سے پوچھا

”نہیں بالکل بھی نہیں، تم بس بات کرو۔“ اس نے تیزی سے کہا

”کسی بھی نظریہ کے درست یا غلط ہونے یا اس کی خوبیوں خامیوں کے بارے میں اس کے نتائج سے پتہ چلتا ہے ۔جیسا کہ تم اور تمہاری بیوی شارلین نے پسند کی شادی کی ،تم دونوں میں محبت تھی تو ایسا کیا،تم اپنے نظریہ محبت کے تحت چلے ، جس کا نتیجہ کیا ہوا؟بیوی اور بیٹا گنوا کر بیٹھے ہو ، یہاں تک کہ مایوس ہو کر یہاں آ گئے ۔ایک تجربہ تمہارے پاس ہے ،جس سے تم نے کچھ نہیںسیکھا؟“ آیت نے بڑے سکون سے کہتے ہوئے سوال کیا

”میں اب بھی اس سے محبت کرتا ہوں ، لیکن کیا کروں ،وہ بے وفا نکلی، وہاں کا قانون اس بات کی اجازت دیتا ہے تو بیٹا وہ لے گئی ، خیر بیٹا اس کا بھی ہے ۔کہنے کو میں بہت ساری باتیں کہہ سکتا ہوں مگر۔! میں نے یہ سیکھا کہ ہمارے درمیان کچھ غلط ہو گیا ۔ خلا آ گئے ، یا جو بھی ہو ا۔ لیکن یہ حقیقت اپنی جگہ موجود ہے کہ ہم میں محبت تھی ۔جس کا نتیجہ ہمارا بیٹا ہے ۔میں نے آ سودگی لے لی ، ایسا ہی تجربہ پھر دہرا سکتا ہوں ۔کیونکہ میرا ہی علم مجھے بتاتا ہے جن لوگوں کو رفاقت کا سپردگی کا تجربہ نہیں وہ زندگی کی حقیقی خوشی سے محروم ہیں۔ شعوری یا لاشعوری طور پر ان کا احساس محرومی انکی شخصیت کو ختم کر کے رکھ دیتا ہے۔ “ اس نے سمجھایا

”بے وفا وہ نہیںہے اور نہ تم ہو، یا پھر صرف اسے بے وفا نہ کہو، تم بھی اتنے ہی بے وفا ہو ،جتنا تم اسے سمجھ رہے ہو ۔“ آیت اس کی طرف دیکھ کے کہا تو وہ دلچسپی سے بولا

” ویری انٹرسٹنگ۔! سمجھا سکو گی کیسے ؟“

”جیسی سوچ ،محبت کے بارے میں تمہاری ہے ، ویسی ہی اس کی ،جس بنیاد پر تم دونوں کی کمٹمنٹ ہوئی ،اس کا لازمی نتیجہ یہی ہونا تھا۔جس علم پر تم محبت کی تشریح کر رہے ہو ،اس کے آخرمیں یہی کچھ ہونا تھا۔ اب جس بنیاد پر تم نے محبت کے عناصر بتائے ، انہی بنیادوں پر جتنی مرضی تحقیق کر لو وہ تحقیق درست سمت میں نہیں ہوگی۔اس کا نتیجہ آخر میں صفر ہی ہوگا۔سوچ کا بنیادی اعتبار ہی وہ نہیں ،جس پر تعلق کی مضبوطی قائم ہو سکے۔“ اس بار آیت نے اسے سمجھاتے ہوئے کہا

”تم اس کمٹمنٹ کو کن معنوں میں لے رہی ہو ؟“ شکیل نے سوچ لہجے میں پوچھا

”کمٹمنٹ کیا شے ہے ،اسے یوں سمجھو کہ جس طرح روشنی کی رفتار سب سے زیادہ ہے ،مگر اندھیر ے کے بالکل برابر ہے ۔ جتنی تیزی سے روشنی آ ئے گی ، اتنی رفتار سے اندھیرا جائے گا۔یعنی دونوں ہی ایک سطح پر ہیں ۔ اب ہوا یہ کہ نہ تم نے سمجھا کہ محبت کیا ہے اور نہ اس نے جانا،دونوں ایک ایسی شے سے جڑے رہے جو ناپائیدار تھی، جس کا لازمی نتیجہ یہ ہوا کہ الگ ہو گئے ۔“ آیت نے اس کی آ نکھوں میں دیکھتے ہوئے کہا جہاں ذرا سی الجھن پیدا ہو گئی تھی ۔دھیرے سے بولا

”اصل میں کہنا کیا چاہتی ہو ؟“

”تم نے کہا تھا کہ محبت کرنے سے زیادہ بڑا کام محبت کو سمجھنا ہے۔جو تجربات تم لے کر آئے ہو ، اس میں محض مادیت ہے، جو عنصر تم نے بتائے یا محض مادیت ، اس میںخلا بڑھتا ہے ۔جس بنیاد پر کھڑے نظرئیے سے الجھن پید اہو ، فاصلے بڑھ جائیں ،انتشار پیدا ہو یہاں تک کہ جدا ہو جائیں تم اسے محبت کیسے کہہ سکتے ہو۔جہاں بھی محض مادیت پرستی کا خیال ہوگا ، کسی بھی سوچ کی بنیاد ہوگا،چاہے وہ مشرقی ہے یا مغربی معاشرہ اس کا نتیجہ وہی ہوگا ۔ کیونکہ کسی بھی شے کی بنیاد غلط ہے یا درست اس کا اندازہ اس کے نتیجے سے لگایا جائے گا ۔وہ علم جہاں ذہن اور دل ایک نہیںہوتے ،وہ دوراہا ہے۔ یہاں پر جتنے بھی جوڑے پہنچے گے ، وہ انتشار پائیں گے۔ جس معاشرے سے تم نے سوچ لی وہاں یہ بہت بڑا خلا ہے ۔جو جوڑنے کی بجائے الگ الگ کر دیتا ہے۔“ آیت نے کہا تو اس نے تیزی سے پوچھا

”تمہارے خیال میں وہ کون سی چیز ہے جو جوڑ سکتی ہے۔“

” وہ ہے بے رنگی ۔“وہ سکون سے بولی

”بے رنگی ۔!وہ کیا ہے ؟“ اس نے کافی حد تک حیرت سے پوچھا

”انسان کا وہ خالص پن جو اسے فطرت سے جوڑتا ہے۔“ آیت نے سکون سے کہا

”اس کی وضاحت کرو گی؟“ اس نے دلچسپی سے پوچھا

”تعلق میں پوری طرح مخلص ہونا۔بے رنگی ہو گی تو ان کے خالص روےے ظاہر ہوں گے ، وہ کہتے ہیں نا یک جان دو قالب ، یہ بے رنگی ہی سے آ تی ہے، دو قالب ایک جان تبھی ہوتے ہیں جب ان میں کوئی رنگ نہیں رہتا ۔“ آیت نے کہا لیکن شکیل کی سمجھ میں کچھ نہیںآ رہا تھا۔ تبھی وہ بولی،” چلیں ۔! میں تمہیں ایک مثال سے سمجھاتی ہوں ۔“

” ٹھیک ہے ۔“ اس نے ہنکارا بھرنے والے انداز میں کہا

”ہم نے کسی بھی حد یا لامحدود کا تصور دینا ہو تو کوئی نہ کوئی بنیاد تو لیتے ہیں۔جیسے صفر ایک بنیادی ہندسہ ہے۔ اس کے بعد لامحدود گنتی چل پڑتی ہے ۔ صفر ایک بنیاد ہے ۔جس کے ایک طرف مثبت ایک، مثبت دو اور لامحدود ، جبکہ دوسری جانب منفی ایک ، منفی دو اور لامحدود۔ جدھر بھی بڑھیں گے درمیان میں صفر پڑا ہے ، اس کے بنا آپ نہ ایک طرف جا سکتے ہیں نا دوسری جانب ۔ صفر بے رنگی ہے ۔یہ ہے خالص پن ، اب آپ رشتوں سے محبت کریں، فطرت سے کریں، جس سے بھی ہو ، وہ خالص محبت ہوگی ۔“

”ویسے مجھے یہ مثبت منفی والی بات محبت کے معاملے میں سمجھ نہیں آ ئی۔خیر اگر مان بھی لی جائے تویہ محبت میں کس طرح اپلائی ہوگی ؟“ شکیل نے انتہائی سنجیدگی سے پوچھا

”جس طرح ہر شے کے دو پہلو ہیں۔ انسان روح اور مادہ کا شہکار ہے۔اسی طرح انسان کے دو پہلو ہیں ،ظاہر اور باطن۔انسان کے ظاہر میں دو پہلو ہیں، منفی اور مثبت ۔جیسے عورت اور مرد لے لو ،ظاہر میں یہ دو الگ الگ صنف ہیں، لیکن بہ حیثیت انسان باطن ایک طرح کا ہی ہوتا ہے ،ظاہر میں ایک ہو جانے والے جب تک باطن میں ایک جیسے نہیںہوں گے، تب ہی ان میں محبت پیدا ہوگی، ان کا باطن بے رنگ ہوگا تو نہ صرف محبت برقرار رہے گی بلکہ پروان چڑھے گی۔“آیت نے بھی اسی سنجیدگی سے کہا

” باطن کی بات تو ہم بعد میں کر لیں گے اگر تم مجھے یہ منفی مثبت والی بات مزید سمجھا سکو ۔“ اس نے کہا تو وہ آہستہ آ ہستہ کہتی چلی گئی ۔

” بہت سادہ سی بات ہے،میاں بیوی انسان ہیں ان میں ہر طرح کا جذبہ پایا جاتاہے، اتفاق بھی ہوتا ہے ، اختلاف بھی ہے ، پیار، غصہ ، لڑائی ، قربت سب چلتا ہے ۔وہ ربورٹ نہیں ہیں۔خاوند اگر کسی دوسری عورت کو دیکھے کا تو وہ رقابت میں لڑ بھی پڑے گی ، غیر عورت یا جو بیوی نہیںہے وہ ایسی رقابت محسوس ہی نہیں کرے گی ۔ایسا مرد بھی کرے گا ، یہ جذبہ کسی دوسرے میں نہیںہوگا۔تو کیا وہ ان چھوٹی چھوٹی باتوں سے ایک دوسرے کو چھوڑ دیں ، نہیں انہیں اگر کوئی شے جوڑ کر رکھتی ہے تو ان دونوں کا باطن ہے ،جو بے رنگ ہے ۔اس بے رنگی میں جتنی لطافت آ ئے گی دونوں اتنا ہی قریب ہوں گے ۔حقیقی معنوں میں یک جان دو قالب ۔“

” اب تم یہ ایک نئی شے لطافت لے آ ئی ہو ، کیا اسے ….“ اس نے کہنا چاہا تو آ یت نے ہاتھ کے اشارے سے اسے روکتے ہوئے ہنس کرکہا

” یہ پھر سہی ، پہلے اتنا ہی سمجھ لو ۔اگلے کسی وقت کے باتیں بچا رکھو ۔“

” اوکے ، ڈن ہو گیا۔“ شکیل نے بھی ہنستے ہوئے کہا پھر مغرب کی طرف جھکے ہوئے سورج کو دیکھ کر بولا،” چلو ، اب کہیں سے ڈنر لیتے ہیں، بتاﺅ کوئی اچھی سی جگہ ۔“

” ہاں یہ کی ہے نا بات ، چلو بتاتی ہوں۔“ یہ کہہ کر آ یت اٹھ گئی ۔ شکیل بھی کھڑا ہو گیا ۔ وہ دونوں کچھ فاصلے پر کھڑی ہوئی کار کی جانب بڑھ گئے ۔

ز….ژ….ز

آیت النساءآ فس میں آ کر بیٹھی ہی تھی کہ اس کا سیل فون بج اٹھا۔ اس نے اسکرین پر نمبر دیکھے تو بہاول پور سے ایک صاحب کے تھے ۔وہ وہاں کی بزنس کمیونٹی کا ہی ایک فرد تھا۔آیت نے انہی کے ساتھ اپنے بزنس کی شروعات کی ہوئی تھیں۔ اس نے فون کال رسیو کر کے حال احوال پوچھا۔ تب اس نے کہا

” میڈم کیا آپ یہاں کی سیاسی صورت حال سے واقف ہیں؟“

لہجہ کا فی حد تک طنزیہ تھا۔ اس نے لمحہ بھر رُک کر بات کو سمجھا اور پھر تحمل سے بولی

” واقف تو ہوں لیکن اپ ڈیٹ نہیں، بات کیا ہے ؟“

” دیکھیں، ضمنی الیکشن کے لئے سردار سکندر حیات اور طاہر باجوہ سے یہی طے ہوا تھا کہ ہمارا بندہ چھوٹی سیٹ پر الیکشن لڑے گا ۔آپ اس کمٹمنٹ میں شامل تھیں۔“

 ” بالکل ، میں شامل تھی۔یہی طے ہوا تھا۔“ آیت نے کہا

” تو سردار صاحب اس کمٹمنٹ کو پورا نہیں کر رہے ہیں۔ہمارے بندے کا نام انہوں ماننے سے انکار کر کے اپنا بندہ لانا چاہ رہے ہیں۔“ اس صاحب نے تفصیل سے بتایا

”یہ تو ٹھیک نہیں ہوا ،آپ نے بات کی ؟“ آیت نے پوچھا

” جی ، ہم نے رات بات کی تھی مگر وہ نہیں مان رہے ہیں، اسی لئے اس وقت آپ کو زحمت دے رہے ہیں کہ یا تو آ پ ان سے بات کریں ، یا پھر جو ہمارا فیصلہ ہوگا۔“ اس صاحب نے حتمی لہجے میں کہا تو آیت نے سکون سے کہا

” دیکھیں، میں اپنے لو گوں کے ساتھ ہوں ہر صورت میں۔ اگر انہوں نے آ پ سب کی بات نہیںمانی تو میری بات کیا مانیں گے ۔جو آپ کا فیصلہ وہی میر ا ہے۔“ آیت نے کہا

” ہمارا خیال ہے کہ آ پ آخری بار بات کر کے دیکھ لیں۔“

 ” ٹھیک ہے ،میں کر تی ہوںبات ،ابھی کچھ دیر میں آ پ کو بتاتی ہوں ۔“

” ہم انتظار کر رہے ہیں۔“ اس نے کہا اور فون بند کر دیا

آیت النساءکے لئے یہ صورت حال کوئی نئی نہیں تھی۔ جب سے طاہر نے رابعہ کے معاملے میں اپنے بابا کے ردعمل کے بارے میں بتایا تھا، وہ اسی وقت سے یہ سمجھ رہی تھی کہ ایسی صورت حال کا سامنا بہرحال کرنا پڑے گا۔وہ جانتی تھی کہ سکندر حیات بالکل نہیں مانے گا ۔ کیونکہ ان کی طرف سے ساجد ہی امیدوار تھا۔ اس لئے سردار اس وقت اَنّا میں تھا۔وہ کچھ دیر سوچتی رہی پھر اس نے سکندر حیات کا فون ملا دیا۔کچھ لمحوں بعد فون رسیو کر لیا گیا۔

” انکل ، آیت النساءبات کر رہی ہو ں۔“ اس نے مودبانہ لہجے میں سکون سے کہا

” مجھے اندازہ تھا کہ تمہارا فون آ ئے گا ، لیکن اتنی دیر بعد آ ئے گا ، یہ بہرحال اندازہ نہیںتھا۔“ اس نے طنزیہ لہجے میں کہا۔ آیت نے اس کا طنزیہ لہجہ نظر انداز کرتے ہوئے بزنس کمیونٹی کی بات کر دی ۔ جسے تحمل سے سننے کے بعد وہ بولا،”میں یہ چھوٹی سیٹ اپنے لئے جیتنا چاہتا ہوں ، کیونکہ جس طرح میرا بیٹا میرے ہاتھ سے نکل گیا، اس طرح بہت جلد یہ بڑی سیٹ بھی ہاتھ سے نکل جانے والی ہے ۔“

”میں طاہر کے کسی عمل کی جواب دہ نہیںہوں میں تو ….“ آیت نے کہنا چاہا تو بھڑک کر بولا

” سارا قصور ہی تمہارا ہے ۔ نجانے کیسے کیسے خواب دکھا کر تم اسے ورغلاتی رہی ہو ،کیا تم اس سے انکار کر سکتی ہو کہ تم نے اُسے ذہنی طور پر تیار نہیںکیا؟ کیا تم نے ہی اسے رابعہ سے شادی کرنے پر مجبور نہیںکیا؟ کیا تم ہی وہ نہیںہو جو اس سارے فساد کی جڑ ہے؟“

” انکل ۔! میں مانتی ہوں کہ میں نے اسے یہ راہ دکھائی لیکن فیصلہ تو اس کا تھا اور ….“آیت نے وضاحت کرتے ہوئے کہا تو اسی غصے میں بولا

”میں نہیں جانتا کہ تم نے ہم سے کس کی دشمنی لی ہے ،ہمارا سیاسی کیرئیر خراب کر نا تھا ، کر لیا۔اب میں تمہیں مزید اجازت نہیں دے سکتا۔تم جس طرح چاہو کرو ، جس بندے کو لے کر آ نا ہے لے آ ﺅ ،ہار جیت جو بھی ہے مجھے قبول ہے ۔“

” انکل ، آ پ ایسے نہ کریں ، جو طے ہوا، ہمیں اس پر قائم رہنا ہے ۔اس سے ….“

” طاہر سے کہو ، وہ رابعہ کو طلاق دے کر آ جائے ،پھر جو چاہے کر لو ۔“ سکندر حیات نے حتمی انداز میں کہااور فون بند کر دیا۔آیت کتنی ہی دیر تک سیل فون کو تکتی رہی ۔پھر اسی صاحب کو فون کر کے کہہ دیا کہ وہ جو چاہیں کریں ، سکندر حیات نہیں مان رہا ۔ وہ بہرحال ان کے ہی ساتھ ہے ۔ ایسا کہہ کر وہ دکھ کی شدید کیفیت سے گذری مگر یہ کیفیت زیادہ دیر تک نہ رہی ۔ اس نے یوں خود پر قابو پا لیا جیسے کچھ ہوا ہی نہیں۔

ز….ژ….ز

 طاہر اسمبلی اجلاس کے بعد کار کی پچھلی نشست پر بیٹھا ہاسٹل کی طرف جا رہا تھا۔وہ ذہنی طور پر تھک چکا تھا۔اسے ساجد کے فون کا انتظار تھا۔بہاول پور کی صورت حال بارے جاننے کے لئے اسی کے ذمے لگایا تھا۔ وہ بھی چھوٹی سیٹ کے لئے انہی کی طرف سے امیدوار تھامگر رابعہ کے ساتھ شادی میں ساتھ دینے پر سردار سکندر حیات اس سے خفا ہو گیا تھا۔اس نے ساجد کا نام ہی اپنی فہرست میں سے نکال دیا۔سردار سکندر نے کسی بھی ذریعے سے طاہر تک اپنی کوئی خواہش نہیںپہنچائی تھی ۔ اگلے دن صبح پارٹی اجلاس میں اس نے بتانا تھا کہ وہ کس امیدوار کو لا رہے ہیں۔اسے ارد گرد کی کوئی خبر نہیںتھی۔وہ بس یہی سوچتا چلا جا رہا تھا کہ آیت کیا چاہتی ہے ؟وہ کون تھا ، جس کے ساتھ وہ اتنی خوش تھی؟کیا آ یت کو ا س کے حال پر چھوڑ دیا جائے ؟ رابعہ کے ساتھ تعلق قبول کر لینے کے بعد کیا اس کا حق بنتا ہے کہ وہ اب بھی آیت کے بارے میں یوںسوچے ؟ سوچوں کی یلغار میں وہ پھنسا ہوا تھا۔اسے سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ وہ کیا کرے ۔فون کی گھنٹی بجی تو اس کی سوچوں کا حصار ٹوٹ گیا۔ اسکرین پر ساجد کے نمبر جگمگا رہے تھے۔ اس نے کال رسیو کر کے کہا

”ہاں بو لوساجد ؟“

”بابا کسی طور بھی نہیں مان رہے ہیں، ہم سب ان سے ملنے گئے تھے ۔“ اس نے بتایا تو طاہر نے پوچھا

” بابا کسے امیدوار لانا چاہتے ہیں؟“

”وہی انعام الحق کے ساتھ مل کر ایک نوجوان کو لا رہے ہیں،اب دیکھیں کیا ہوتا ہے۔“ اس نے مایوسی سے کہا

” تمہارا کیا خیال ہے ،اگر بابا اپنا امیدوار لے آ تے ہیں تو ….“

 ” میں الیکشن نہیںلڑوں گا ۔پھر بزنس کمیونٹی والے جو چاہیں کریں ، یہ بات میں نے ان سے کہہ دی ہے ۔ان کے پاس ایک بندہ تیار ہے۔“ساجد نے حتمی انداز میں کہا

” اماں سے بات کرنا تھی؟“ طاہر نے دھیمے سے لہجے میںکہا

” میں نے کی تھی بات ،میں گیا تھا ان کے پاس ۔“ ساجد نے بھی دھیمے سے انداز میں بتایا

” تو پھر ….؟“ اس نے جلدی سے پوچھا

” بس یار ، وہیں مجھے پتہ چلا ہے کہ آ یت نے بھی بابا سے بات کی ہے،اس پر بابا نے آیت کو بہت بے عزت کیا، بابا کی بس ایک ہی شرط ہے کہ طاہر کو اگر واپس آ نا ہے تو رابعہ کو طلاق دے کر آ جائے ۔وہ یہی سمجھتے ہیں کہ اس شادی کی ساری ذمہ دار آ یت ہی ہے ، اور اسی وجہ سے میں بھی عتاب میں ہوں۔“

” ٹھیک ہے پھر بابا جو کرتے ہیں انہیںکرنے دو ۔ “

” ہاں وہی کریں گے ، کیونکہ انہوں نے پارٹی میں اپنی لائن سیدھی کر لی ہے ۔ پارٹی بھی تم سے نہیںپوچھے گی ۔“ ساجد نے اسے بتایا تو وہ ہنستے ہوئے بولا

” چل یار اچھا ہے ، کسی کو خبر نہیںہو گی ۔“

”ہاں ، ہے تو ایسا ہی ،کیا آ یت نے تم سے بات نہیںکی اس سلسلے میں ؟“ ساجد نے پوچھا

” ابھی تک تو نہیں، واپس گیا تو شاید کرے ۔“ طاہر نے جواب دیا

” اوکے ۔میں اب خاموش ہو ں کوئی سیاسی….“

” نہیں تم اپنا سیاسی کیرئیر خراب مت کرو ۔“طاہر نے تیزی سے کہا پھر الوادعی باتوں کے بعد اس نے فون بند کر دیا۔

اس وقت طاہر کو کسی بھی سیاسی صورت حال سے کوئی غرض نہیںتھی۔وہ صرف آ یت کے بارے میں سوچنے لگا تھا۔وہ اچھی طرح سمجھ رہا تھا کہ بابا نے آیت کے ساتھ کس طرح کا رویہ رکھا ہوگا۔ اس پر آ یت نے اسے بتایا تک نہیں، کیا وہ ناراض ہے اس لئے مجھ سے بات نہیںکی یا پھر بابا کارویہ ہی مجھے بتانا نہیںچاہتی؟ اس کی سوچیں ایک نئی راہ پر چل پڑیں تھیں۔

ز….ژ….ز

شام ڈھلنے والی تھی جب آیت نے شکیل کے گھر کا گیٹ پار کیا اور اندر چلی گئی۔ شکیل کھڑا اس کی طرف دیکھ کر مسکرا رہا تھا۔وہ اس کی جانب بڑھتی چلی آئی۔

” خوش آ مدید۔“ اس نے مسکراتے ہوئے کہا تو آیت نے پوچھا

” یہ ہے تمہارا کلینک ؟“

” ہاں یہی ہے ،یہ پہلے باہر والا سٹنگ روم تھا۔“ اس نے تفصیل بتائی

” ہاں مجھے پتہ ہے ۔“ آیت نے کہا تو شکیل نے دروازہ کھول دیا۔ وہ دونوں اندر چلے گئے۔ اندر خاصا خواب ناک ماحول تھا۔ دھیمی روشنی میں جدید ترین فرنیچر سجایا ہوا تھا۔ دیواروں پربڑی خوبصورت پینٹنگز آویزاں تھیں۔کارپٹ سے فانوس تک میں ایک طرح کی یکسانیت پائی جاتی تھی۔ وہ ایک صوفے پر بیٹھ گئی تو شکیل سامنے والے صوفے پر بیٹھتا ہوا بولا

” چائے ، کافی یا ….“

” جو تمہارا دل چاہے۔“ آ یت نے لاپرواہی سے کہا تو شکیل نے فون پر کسی سے کچھ کہا اور پھر فون ایک جانب رکھتے ہوئے بولا

”کیسا لگا میرا کلینک ؟“

اس سوال کے بعد وہ کچھ دیر تک اس پر بات کرتے رہے یہاں تک کہ ان کی ملازمہ چائے کے ساتھ کافی سارے لوازمات رکھ کر چلی گئی ۔تبھی چائے کا سپ لے کر بولا

” آ یت ، تم نے باطن اور اس کی لطافت کی بات کی تھی۔ جس کے بارے میںکہا….“

” ہاں ، لطافت جو انسان کے اندر موجود ہے ، جسے نہ آ پ چھو سکتے ہیں اور نہ دیکھ سکتے ہیں،یہاں تک کہ آ پ اسے ماپ بھی نہیںسکتے ۔“ آیت نے جواب دیا

” لیکن یہ ہے کیا شے ؟“ شکیل نے سمجھتے ہوئے پوچھا

”انسان کا مادی وجود ظاہر ہے اور روحانی لطافت اس کا باطن ہے۔“ آیت نے سکون سے بتایا

”لطافت کیا ہے ؟“ اس نے پوچھا

”ہمارے حواس خمسہ ہیں نا،یہ ظاہر ہیں، لیکن چکھنے کے بعد آپ اپنا ذائقہ پوری طرح دوسرے کو نہیںبتا سکتے کہ وہ دراصل ہے کیسا؟ کون سی آوازآپ کے اندر کیا اثر رکھتی ہے ، کسی کے چھونے سے آ پ کیا محسوس کرتے ہیں،یہ سامنے پینٹنگ ہے ، اسے سو انسان دیکھ لیں، سب ایک ہی طرح سے حظ نہیںاٹھائیں گے ، بلکہ ہر ایک کا اپنا تاثر ہوگا،یہ جو ظاہر سے ہم اندر محسوس کرتے ہیں، ہم اپنے حواس خمسہ کی صلاحیتوں کو ماپ نہیں سکتے اور محبت میں یہی لطافت ظاہری علم میں نہیںآ سکتی ۔“

” اگر جدید سائنس اسے ماپ لے ؟“ اس نے بات کو بڑھاتے ہوئے پوچھا

” جب ماپ لے گی تو کیا صورت حال بنتی ہے وہ ایک علیحدہ بات ہے۔اب بھی اس پر بات کی جاسکتی ہے لیکن یہ ہمارا موضوع نہیں، ہاں اتناضرور کہوں گی حواس خمسہ کی لطافت ایک حقیقت ہے اور اسے رَدّ کرنا جہالت ہے ۔“

” جہالت کیوں؟“ شکیل نے تیزی سے پوچھا

”یہ جو لطافت ہے ،جو انسان کے اندر موجود ہے ، اسے ہم ذوق سلیم کہتے ہیں۔میرے اندر جتنی لطافت ہوگی ، ذوقِ سلیم اتنا ہی بہترین ہوگا۔ذوق سلیم کو نہ ہم دیکھ سکتے ہیں نہ چھو سکتے ہیں لیکن اس کا وجود ہونا ایک حقیقت ہے ۔اب ذوق سلیم کو ماپ لو گے؟“ آیت نے بتاتے ہوئے پوچھا

” ممکن ہے مستقبل میں اسے ماپ لیا جائے؟“ شکیل نے دھیمے سے کہا

”ہاں ، پہلے پیمانہ بنتا ہے ، پھر کسی شے کو ماپا جاتا ہے۔“ آیت نے کہا

” اچھا ، محبت اور باطن کے بارے میں تم کہہ رہی تھی ؟“ شکیل نے ایک نئے زاویے سے بات کی

”محبت کا نظام ظاہر اور باطن کے ساتھ ہوگا جو ذات کے ساتھ جڑا ہوا ہے ۔محبت جب ظاہری اور باطنی طور مکمل نہیںہوتی تب تک خلا رہتا ہے ۔ توازن ہو تو لامحدود ہو جاتا ہے ۔ یہی باطن انسان کو فطرت کے ساتھ جوڑتا ہے ۔جب انسان محبت کے ساتھ فطرت سے جڑتاہے تو فطرت بھی اس کے ساتھ محبت ہی سے جڑتی ہے۔ فطرت اپنے اندر طاقت رکھتی ہے ۔طاقت کا نہ ہونا غیر فطری ہے ۔طاقت ور باطن بے رنگ ہوتا ہے ۔ اور یہ مثبت منفی کا سارا عمل ظاہر میں ہوتا ہے ۔تبھی حقیقت روشن ہو کر انسان کے سامنے ا ٓ جاتی ہے ۔“

” مجھے تمہاری یہ بے رنگی والا فلسفہ کچھ الگ سا لگ رہا ہے ، یہ حقیقت کو روشن کیسے کرے گا ؟“ اس نے الجھتے ہوئے کہا

”سنو۔! کہا جاتا ہے انسان نے سب سے پہلے اپنے آ پ کو شفاف پانی میں دیکھا۔ بے رنگ پانی میں۔انسان اگر اپنے آ پ کو دیکھنا چاہتا ہے تو شفاف شے ہی میں دیکھ سکتا ہے ۔ آ ئینہ اسی لئے وجود میں آ یا ۔دراصل کثافت یعنی رنگ انسان کو اس کا اپنا آپ نہیں دکھا سکتا، بے رنگی ہی حقیقت کو دکھا سکتی ہے۔بے رنگی کائنات کی چھپی ہوئی قوت ہے۔ جس کی خاصیت یہ ہے کہ انسان اگر اسے اپناتا ہے تو وہ انسان کو اپنا لیتی ہے دونوں ہمیشہ ایک دوسرے سے لنک کرتے ہیں۔“

 ”کیا یہ ظاہر میں بھی محسوس ہو سکتی ہے؟“ شکیل نے پوچھا

” محسوس ہی نہیںہوتی بلکہ اپنا آ پ بھی منواتی ہے ۔“ یہ کہہ کر وہ لمحہ بھر کو خاموش ہوئی ، پھر بو لی ، ”منفی مثبت سب ظاہر میں ہے لیکن جب باطن بے رنگ ہوگا تو عین توازن میں ہوگا،وہاں خیر ہی خیر ہو گی ۔“

” تمہاری یہ تھیوری….“ اس نے کہنا چاہا تو آیت جلدی سے بولی

” یہ میری بات نہیںہے ۔“

” چلیں، جس کی بھی ہے ۔“ یہ کہہ کر اس نے سانس لیا پھر بولا،”یہ انسانی زندگی میں توازن کیسے لاتی ہے ؟“

”جب انسان صرف ظاہر میں ہوتا ہے ،صرف مادیت میںتو بہت سے خلا پیدا ہوتے ہیں،یہ خلا مختلف نظریات سے بھر دئیے جاتے ہیں،من گھڑت باتیں ، روایت پر مبنی فلسفے، یہ سب کثافت ہیں۔ جیسے مادیت میں باطن کو منہا کر کے اگر کوئی تحقیق ہوگی تو وہ ادھوری ہے ۔“

” ٹھیک ، میں اس پر سوچوں گا ، پھر ہم کسی نئے پہلو سے بات کریں گے، میں مان لوں گا یا پھر تم مان لینا۔“ شکیل نے کہا تو وہ بولی

” کیوں نہیں دلیل سے ثابت کردو ۔ میںمان لوں گی ۔“

” دیٹس رائیٹ۔“ اس نے خوش کن انداز میںکہا جیسے اسے بہت زیادہ کامیابی مل گئی ہو ۔پھر اس نے اس موضوع پر بات نہیںکی بلکہ وہ دونوں اٹھ کر اندر چلے گئے ۔

رات گئے جب شکیل اپنے بیڈ پر آ کر لیٹا تو اس کے ذہن میں آ یت اور اس کی باتیں تھیں۔ اس نے پورے سکون و تحمل سے آ یت کو بولنے کا موقع دیا تھا۔وہ جاننا چاہتا تھا کہ اس کے اندر کیا ہے ۔ دادا جی نے جو بتایا تھا، وہ اسی بنیاد پر اس کا نفسیاتی تجزیہ کرنا چاہتا تھا۔اس نے اپنے طور پر ایک مفروضہ بنایا تھا کہ وہ نام نہاد قسم کے مشرقی نظریہ عشق پر جم کر رہ گئی ہے۔ اسی نظریے کوتحقیق کے لئے وہ آیت النساءکو سننا چاہتا تھا۔وہ دیکھنا چاہتا تھا کہ کیا واقعی وہ ایسا ہی کوئی نظریہ رکھتی ہے؟ اگر رکھتی ہے تو کس حد تک؟ اگر کوئی دوسری وجوہات ہیں تو وہ کیا ہیں؟ یہ اس کا اپنے سائنٹیفک انداز میں تحقیق کرنے کا انداز تھا۔اس نے اپنے طور پر کچھ نکات بنائے تھے، جن پر وہ اس کے اندر کا احوال جان سکتا تھا۔لیکن ایسا کچھ بھی نہ ہو ا؟ بلکہ اسے ایک الگ طرح ہی کی بات سننا پڑی ۔شکیل اچھی طرح جانتا تھا کہ انسان پر تحقیق کرنے مختلف پہلو ، چاہے وہ طبیعاتی پہلو، کیمیائی پہلو، نفسیاتی پہلو، حیاتیاتی پہلو وغیرہ ہوں عشق ومحبت کی اپنے ہی انداز میں تعریف و تشریح کی ہے۔ اور سبھی میںمادی نکتہ نگاہ سے ہی تعریف و تشریح کی گئی ہے ۔لیکن جو پہلو آیت النساءنے اس کے سامنے رکھا ، وہ اس کے گمان میں بھی نہیںتھا۔

بات یہ نہیںکہ ایک مشرقی ہونے نے ناطے اس پہلو سے ناواقف تھا، وہ جانتا تھا لیکن وہ تو اسے ایک مریض سمجھ کر علاج کے نکتہ نگاہ سے تحقیق کرنا چاہتا تھا۔شکیل کو دھچکا اس وقت لگا جب وہ اپنے بارے میں سوچنے لگا ۔اگر اس نے محبت کو سمجھا ہوتا، تو اس کی بیوی اس سے الگ ہو جاتی ؟کیا وہ اپنا بیٹا اسے دے کر خوش ہے؟ کیا یہی حقیقی خوشی ہے؟کیا یہ حیوانیت نہیں کہ بچہ پیدا کیا اور پھر کسی کے حوالے کر کے یہاں آ گیا؟کیا میرے اس بچے کے لئے کوئی جذبات نہیں؟ کیا مجھے کوئی دکھ نہیں؟کیا اس کے علم نے یہ نہیںبتایا کہ دونوں کو جوڑے رکھنے والی کون سے شے ہے؟ کیا میں اپنے آپ کو جھوٹی تسلی دے کر بیٹھا ہوںکہ میری بیوی بے وفا ہے؟ کیا وہی بے وفا تھی یا اس الگ ہونے میں میں بھی بے وفا رہا ہوں ؟سوال تھے کہ ُامنڈتے چلے آ ئے تھے۔وہ خود میں ایسا حوصلہ نہیںپا رہا تھا کہ ان سوالوں کے جواب میں اپنا آپ اپنی ہی عدالت میں رکھ سکے۔

کہتے ہیں کہ وقت کے ساتھ ساتھ انسان تہذیب یافتہ ہوا تو سب سے پہلے اس نے اپنے رشتوں کا ادراک کیا۔ سوال یہ ہے کہ انسان میں یہ صلاحیت تھی تو اس نے ایسا کیا۔اور اگر اس نے ایسا کیا تو اس کی بنیاد کیا تھی؟ سوچ کی لگامیں تھامنے کے باجود اس کے ہاتھ سے نکلتی چلی جا رہی تھیں۔ اس کی آ نکھوں سے نیند اُڑ گئی ۔ وہ آ یت کے بارے میں سوچتا ہوا اپنے بارے میں سوچنے لگا تھا۔

ز….ژ….ز

روشن دن کی دھوپ نے ہر شے کو نکھار کر رکھ دیا تھا۔طاہر فارم ہاﺅس کے ایک طرف بنے لان میں اکیلا ہی بیٹھا ہوا تھا۔وہ کچھ دیر پہلے سرمد کو سکول چھوڑ کر واپس آ یا تو وہیں لان میں بیٹھ گیا۔اگرچہ اس کے ارد گرد شاداب درخت ،سرسبز پودے اور رنگین پھول تھے لیکن اس کا ذہن الجھا ہوا تھا۔ بہاول پور سے آ نے والی خبروں نے اسے کافی حد تک پریشان کر دیا تھا۔وہاں جو بھی فیصلے ہو رہے تھے، ان میں اس کے بابا کی اَنا کے علاوہ کچھ بھی نہیںتھا۔ ساجد اسے ساری صورت حال کے بارے میںبتا رہا تھا۔بابا اپنا امیدوار لے آ ئے تھے اور بزنس کمیونٹی کے لوگ اپنا۔ اس کے علاوہ اور لوگ بھی میدان میںتھے ۔طاہر کے لئے یہ صورت حال کوئی نئی نہیںتھی۔ ایسا ہونا ہی تھا۔ بابا اگر اپنی ضد پر اَڑے رہتے تو یہی ہونا تھا۔اس کا نتیجہ کیا ہونا تھا ، اسے اس کی بھی پروا نہیںتھی ۔اس کی اصل پریشانی کا سبب کچھ اور تھا۔ اور وہ یہ کہ اس سارے معاملے میں آ یت النساءنے ایک بار بھی اس سے نہ ذکر کیا تھا اور نہ ہی کوئی مشورہ ۔وہ یوں لا تعلق ہو گئی تھی جیسے طاہر سے کبھی اس کا ناطہ ہی نہ رہا ہو۔ یوں لگ رہا تھا جیسے رابعہ سے شادی ہی تک اس کی دلچسپی تھی، اس کے بعد وہ اپنی دنیا میںکھو گئی ہو ۔یہ سوچ کئی دنوں سے اس کے دماغ میںتھی ۔ وہ اسی کشمکش میں تھا کہ اس بارے وہ آیت سے بات کرے یا نہیںکرے ۔تبھی اس نے آ یت کو شکیل کے ساتھ انتہائی خوش دیکھا تو خاموش ہوگیا۔ لیکن اندر کہیں ایک نئی جنگ چل پڑی۔ مثبت منفی خیالات کا ایک ہجوم دَر آ یا ۔ایک طرف وہ لاتعلق اور دوسری طرف رابعہ سے رشتہ ختم کرنے پر بابا کی ضد اپنے پورے عروج پر تھی۔وہ اس صورت حال سے نکل نہیںپارہا تھا۔

” آپ نے آ ج آ فس نہیںجانا؟“ رابعہ کی آ واز پر وہ چونکا۔ اس نے دیکھا وہ سامنے کھڑی تھی۔

” جانا ہے لیکن ذرا دیر سے ۔“ اس نے خود کو سمیٹ کر مسکراتے ہوئے کہا

” اگر خدا نخواستہ آ پ کی طبیعت ٹھیک نہیں ہے تو آ پ ….“ رابعہ نے کہنا چاہا تو وہ اٹھتے ہوئے بولا

” نہیں، میں بالکل ٹھیک ہوں ، آپ کو ایسا کیوں لگا؟“

” آپ تیار ہو کر سرمد کے ساتھ نہیںنہ گئے تھے۔میں نے سوچا شاید آج آپ نہ جانا چاہتے ہوں۔“ رابعہ نے دھیمے سے انداز میںکہا تو وہ مسکراتے ہوئے بولا

”آج کوئی اتنا خاص کام نہیںتھا،میں نے سوچا ، ذرا لیٹ چلا جاﺅں گا۔بس ابھی تیار ہو کر نکلتا ہوں۔ آپ اتنی دیر میں اچھی سے چائے بنالیں ۔“

”جی ٹھیک ہے۔“ وہ پرسکون انداز میں بولی تو وہ اندر کی جانب چلا پڑا۔ رابعہ بھی بڑھتے ہوئے طاہر کے پیچھے پیچھے چل پڑی۔

 طاہر آفس پہنچا اور معمول کے کاموں میں لگ گیا۔زیادہ وقت نہیںگزرا تھا کہ اس کا سیل فون بج اٹھا۔وہ ساجد کا فون تھا۔ اس نے کال رسیو کرتے ہوئے کہا

” ہاں بولو ساجد ۔“

”کیا تمہیں پتہ کہ آنٹی ، مطلب تمہاری اماں جی لاہور آ ئی ہیں۔“ اس نے تیزی سے کہا

”نہیں مجھے نہیںپتہ ۔“ اس نے عام سے لہجے میں تو ساجد بولا

” میری اطلاع یہ ہے کہ وہ فارم ہاﺅس جائیں گی ۔“

” فارم ہاﺅس ، کب ؟“ طاہر نے سنجیدگی ہوئے پوچھا

” یہ نہیںپتہ ،میرا خیال ہے جو یہاں کی صورت حال بنی ہو ئی ہے ، ممکن ہے کوئی درمیانی راستہ یا سردار صاحب میں نرمی آ ئی ہو یا کچھ بھی ۔بات تو ہوگی نا تم سے ۔“ اس نے بھی سنجیدگی سے کہا

” چلو دیکھتے ہیں۔یہ اچھی بات ہے ۔“اس نے کہا اور فون بند کر دیا۔ وہ چند لمحے سوچتا رہا ۔ وہ اپنے بابا کو جانتا تھا۔ضد اور اَنا میں وہ کچھ بھی کر سکتے تھے لیکن اسے یہ بھی پتہ تھا، سیاست دان کا سارا ٹارگٹ اقتدار ہوتا ہے ، وہ اسمبلی کی سیٹ بھی نہیںچھوڑ سکتے تھے۔کچھ بھی تھا ، وہ بہر حال اس برف کے پگھلنے پر خوش تھا۔اس نے رابعہ کا فون ملایا تاکہ اسے بتا سکے۔ نمبر ملنے کے بعد کال جاتی رہی لیکن فون رسیو نہیںکیا گیا۔ اس نے دوبارہ ملایا تو بھی فون رسیو نہیںکیا گیا۔وہ پریشان ہو گیا ۔تیسری بار کوشش پر فون رسیو کر لیا گیا۔ تبھی اس نے تحمل سے پوچھا۔

” خیر تھی ، فون پک نہیںکیا؟“

” کچھ نہیں۔ وہ بس فون قریب نہیںتھا۔“ رابعہ نے کہا لیکن اس کا لہجہ نارمل نہیںتھا۔

” رابعہ ، آپ ٹھیک ہو نا؟“ اس نے تحمل اور سکون سے پوچھا

” جی ہاں بالکل میں ٹھیک ہوں ۔“ اس نے اسی بھیگے ہوئے لہجے میں جواب دیا

” اچھا پھر سنیں، میری اماں جی آ ئیں گی شاید یہاں فارم ہاﺅس میں ۔ جیسے ہی وہ آ جائیں ، انہیں اس وقت تک جانے مت دیں ، جب تک میں نہ آ جاﺅں۔مجھے فوراً کال کردیں۔“ اس نے سمجھتے ہوئے کہا

” وہ آ کر چلی گئی ہیں۔“اس نے اسی لہجے میں جواب دیا

”وہ آ کر …. مطلب چلی بھی گئیں؟“ اس نے حیرت سے پوچھا

”جی ۔“ اس نے مختصر جواب دیا تو ایک لمحے کے لئے اس کے اوسان خطا ہو گئے۔نجانے کیوں اس کے دماغ میں ہلچل سی مچ گئی۔اسے لگا کچھ ٹھیک نہیںہوا۔

”وہ کیا کرنے …. میرا مطلب اتنی جلدی چلی گئیں؟“ اس نے پھر پوچھا

” میں نے تو انہیں بیٹھنے کے لئے بہت کہا۔ یہ بھی کہا کہ میں آ پ کو بلاتی ہوں لیکن انہوں نے مجھے فون تک جانے ہی نہیںدیا اور چلی گئیں۔“ رابعہ نے ٹھہرے ہوئے لہجے میں اپنی طرف سے تفصیل بتائی۔

” ٹھیک ہے ، ان کی مرضی۔“ طاہر نے جلدی سے کہا اور فون بند کر دیا۔ اس کی اماں کیا کرنے فارم ہاﺅس تک آ ئیں ؟ یہ سوال اتنا پیچیدہ نہیںتھا ، جس کا جواب وہ نہ سمجھ سکتا۔اسے پوری طرح احساس تھا کہ کہ کیا بات ہو سکتی ہے ۔ پھر بھی اس نے خود کو تسلی دینے کی خاطر اپنی اماں کو فون کر دیا۔ کال رسیو ہوتے ہی اماں کی آ واز ابھری

” تمہیں خبر ہو گئی کہ میں فارم ہاﺅس گئی تھی۔“

” اماں ، میرے آ نے تک تو ٹھہرتیں آپ۔ اتنی جلدی ….“ طاہر نے کہنا چاہا تو اماں درشت انداز میں بولیں

” میں جس کام گئی تھی، وہ کام اتنی دیر ہی کا تھا۔مجھے مزید رُکنے کی ضرورت ہی نہیں تھی۔“ اماں نے کافی حد تک غصے میں کہا

” ایساکیا کام تھا اماں جو ….“اس نے کہنا چاہا تو اماں نے پھر سے اسے ٹوکتے ہوئے کہا

” بتایا نہیں تمہاری بیوی نے ، اگر نہیںبتایا تو اس سے پوچھ لینا،اور اب اگر مجھے فون کرنا ہو تو اسے طلاق دے کر ہی کرنا۔“ انہی لفظوں کے ساتھ اماں نے فون بند کر دیا۔ دکھ کی ایک شدید لہر سے وہ کانپ کر رہ گیا۔ کہاں اس کی زندگی شہزادوں کی مانند تھی ۔ اس کی ایک ہلکی ہی سسکی پر اماں قربان ہوجاتی تھی ، کہاں آ ج اس کی بات سننا گورا نہیں کر رہی تھیں۔کیا رابعہ سے شادی کرنا اتنا بڑا جرم ہو گیا تھا؟

وہ کافی دیر تک یونہی بے حس و حرکت بیٹھا سوچتا رہا۔اس کا ذہن کام نہیں کر رہا تھا۔اسے لگا جیسے وہ کسی مشکل میں پھنس جانے والا ہو۔ اس کی اماں ضرور کوئی ایسی بات رابعہ ہی سے کہی ہو گی ۔وہ کیا سوچے گی ؟ اس کا کیا قصور ہے ؟وہ خود پر قابو پاتا رہا کہ انہیں لمحات میں اس کی نگاہ آیت پر پڑی جو اس کے آ فس میں آ چکی تھی ۔ایک لمحہ کو اسے یوں جیسے وہ بھی اسی بارے بات کرنے آ ئی تو وہ کیا جواب دے گا؟

” بڑے پریشان سے بیٹھے ہو، کیا بات ہے ؟“ آ یت نے اس کے سامنے دھرے صوفے پر بیٹھتے ہوئے پوچھا تو وہ تیزی سے بولا

” نن …. نہیں …. ایسی تو کوئی بات نہیں۔ تم کہو ، چند قدم کا فاصلہ ہے تمہارے آ فس کا لیکن اتنے دنوں بعد یہاںدفتر تک ؟“

” ہاں ہے تو چند قدم کا فاصلہ ۔ لیکن میں ان دنوں بہت کم آ رہی ہوں آ فس ۔پتہ ہے تمہیں؟“ اس نے مسکراتے ہوئے کہا

 ” ہاںیہ تو پتہ ہے لیکن جس دن آﺅ تب؟ اور اب کبھی فارم ہاﺅس کا بھی چکر نہیںلگایا۔“ طاہر نے اعتماد سے کہا

” کام ہی اتناہوتا ہے۔ آ ج بھی کچھ چیک سائن کرنے آ ئی ہوں ۔وہ آپ کی میڈم فرخندہ نے بلایا ہے۔“ لفظ آ یت کے منہ ہی میں تھے کہ میڈم فرخندہ آ گئی ۔ اس نے چند کاغذات اور چیک سائن کروائے تو آیت اٹھ گئی۔ اس پر طاہر نے تیزی سے کہا

” یہ کیا بات ہوئی ، آ ئی ہو تو کچھ دیر بیٹھو، کم از کم چائے کا ایک کپ تو پیﺅ۔“

”صرف چائے، میں آج رات ڈنر آ پ سب کے ساتھ لینے کا سوچ رہی ہوں، فارم ہاﺅس پر ۔“ آیت نے اس کے چہرے پر دیکھتے ہوئے سکون سے کہا

” ڈن ۔“ طاہر نے خوش ہوتے ہوئے کہا تو آ یت مسکراتے ہوئے واپس چلی گئی ۔ وہ چند لمحے خوشگوار موڈ میں رہا ، پھر اسے اماں ، رابعہ اور فون کی یاد آ گئی ۔ وہ بے چین ہو گیا۔ وہ اسی وقت اٹھ کر فارم ہاﺅس چلے جانا چاہتا تھا۔مگر ابھی سرمد کو سکول سے چھٹی ہونے کا وقت نہیںہوا تھا۔ اسے تب تک انتظار کرنا تھا۔

وہ سرمد کو وقت پر سکول سے لے کر فارم ہاﺅس جا پہنچا۔ حسب معمول رابعہ لاﺅنج ہی میں موجود تھی۔ اس نے روزانہ کی طرح ہلکی سی مسکراہٹ سے ان کا استقبال کیا۔طاہر اس کے چہرے پر کوئی ایسی بات پڑھنا چاہتا تھا جو معمول سے ہٹ کر ہو مگر اُسے ایسا کچھ بھی نہیںملا۔ جس وقت رابعہ نے سرمد کا بیگ تھاما، تب تک وہ وہاں سے ہٹ گیا تھا اور سیدھا اپنے کمرے میں چلا گیا۔

شام کے سائے پھیلنے لگے تھے مگر رابعہ نے اس کی اماں جی کے آ نے کے بارے میں ایک لفظ بھی نہیںکہا تھا۔ لان میں ٹہلتے ہوئے اس نے سوچاشاید سرمد کے سامنے کوئی بات نہیں کی لیکن ایک دوبار تنہائی میں بھی سامنا ہونے کے باوجود اس نے رابعہ نے کوئی بات نہیںکی تھی۔ وہ اپنی جگہ مصروف رہی اور طاہر ٹی وی دیکھتے ، باہر پھرتے اور لان میں ٹہلتے وقت گذارتا رہا۔شام ہوتے ہی نجانے کیوں اس کے ذہن میں یہ خیال ابھرنے لگا کہ ممکن ہے رابعہ خود سے کوئی بات نہ کرے ،اسے آ یت کے آ نے کا انتظار ہو، وہی آ کر بات کرے۔اس کے ساتھ ایک خیال مزید ابھرا، اس نے خود رابعہ کو کیوں نہیںبتایا کہ آ یت نے آ ج ڈنر اُن کے ساتھ کرنا ہے ۔ وہ ایک دم سے پریشان ہو گیا۔ وہ لان سے لاﺅنج کی جانب جانے لگا تو انہی لمحات میںآیت کی گاڑی پورچ میں آن رُکی۔ جب وہ گاڑی کے پاس پہنچا، آیت نے اترتے ہوئے اس کی جانب دیکھ کر کہا ۔

” اتنی شدت سے میرا انتظارکر رہے ہو ؟“

” تمہارا انتظار تو ہر وقت ہے ۔“ اس نے بے ساختہ کہا

”چلیں اسی باعث مجھے بہترین سا ڈنر ملے گا ۔“ وہ مسکراتے ہوئے بولی اور پچھلی سیٹ پر موجود سرمد کے لئے لائے تحفے اٹھانے لگی ۔ اس پر طاہر لاجواب سا ہو گیا۔ اب وہ کیا کہتا؟وہ خاموش رہا ۔آیت اندر کی طرف چل دی تو وہ اس کے پیچھے پیچھے چل دیا۔

ڈنر کے بعد تک آیت کی ساری توجہ کا مرکز سرمد ہی تھا۔ وہ اس کے ساتھ مصروف رہی ۔وہ سبھی لاﺅنج میں بیٹھے تھے ۔ سرمد اپنی پوری توجہ لگا کر آ یت کی لائی نئی گیم کو سمجھنے کی کوشش میں تھا۔وہ اسے سمجھا رہی تھی۔ان میں عام سی باتیں چلتی رہیں۔ یہاں تک کہ آیت جانے کو اٹھ گئی ۔ وہ سب اسے پورچ تک چھوڑنے آ ئے ۔

 جس وقت سرمد سو گیا اور رابعہ بیڈ پر آ ئی تب طاہر نے دھیمے سے لہجے میں پوچھا

”آپ کو پتہ تھا کہ تھا کہ آ ج آیت نے آ نا ہے؟“

” نہیں، آج میری بات ہی نہیںہوئی اور نہ مجھے اس نے بتایا ۔“ اس نے دھیمے سے کہا

” اوہ ۔! “ وہ اس قدر ہی کہہ سکا، پھر چند لمحے سوچ کر بولا،”تو پھر ڈنر پر اہتمام ….؟“

” بس ایسے ہی میرا من چاہا تو ایک دو ڈش زیادہ بنوا لیں۔“ اس نے عام سے لہجے میں کہا تو وہ پھر خاموش ہو گیا۔ وہ کچھ دیر تک رابعہ کی طرف سے کسی بات کا انتظار کرتا رہا ، وہ بھی خاموش رہی تو اس نے پوچھا

” کیا کہا تھا اماں جی نے ؟“

” کچھ نہیں، بس وہ آ ئیں ، حال احوال پوچھا اور چلی گئیں۔“ اس نے دھیمی سی مسکان سے کہا

”نہیں، ایسا مت کہیں ، وہ بتائیں ، جو انہوں نے کہا۔“

” کوئی خاص نہیں،بس چھوڑیں آ پ ، سکون سے سو جائیں ۔“ اس نے سنجیدگی سے کہا

” ایسے نہیں چلے گا رابعہ ، مجھے پتہ ہونا چاہئے۔“ طاہر نے اپنی بات پر زور دیتے ہوئے کہا

”اور آ پ کا مجھ پر اعتماد ہونا چاہئے ۔ ایسی کوئی پریشانی والی بات نہیںہوئی ۔آپ سکون سے سو جائیں ۔“ اس نے مسکراتے ہوئے کہاتو اس نے زیادہ زور نہیں دیا۔

وہ آ نکھیں بند کر کے لیٹ تو گیا لیکن وہ طے نہیں کر پا رہا تھا کہ رابعہ کا یہ رویہ درست ہے یا غلط؟ اس کی سوچیں آ نے والے وقت کے گرد ہی گھومتی رہیں۔اسے رابعہ پر تو اعتماد تھا لیکن وقت اور حالات اس کا امتحان لینے پر تلے ہو ئے تھے۔

ز….ژ….ز

جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

DEVINE CHROMA.Epi.9 Abdul Hnnan Ch

DEVINE CHROMA.Epi.9 (Bay Rang Peyya By Amjad Javeed) Abdul Hnnan Ch She shut her eyes …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے