سر ورق / ناول / بلاوا … خورشید پیر زادہ … قسط نمبر 3

بلاوا … خورشید پیر زادہ … قسط نمبر 3

بلاوا

خورشید پیر زادہ

قسط نمبر 3

”جی-“ بڑی مشکل سے گھٹی ہوئی آواز شروتی کے گلے سے نکلی-

”جاﺅ- جاکر نہا لو- تب تک میں تمہارے لئے کپڑے نکالتا ہوں-“ نتن نے شرارتی آنکھوں سے اس کو اوپر سے نیچے گھورا-

” جی یہی ٹھیک ہیں-“ شروتی نے ہکلاتے ہوئے کہا-

”کیا کہا تھا میں نے— اتنی جلدی بھول گئیں-“ نتن نے اس کو یاد دلایا کہ اس کو نتن کی ہر بات ماننا پڑے گی-

”جی جی- جاتی ہوں-“ کانپتی آواز میں بولتی ہوئی شروتی فوراً باتھ روم کی طرف بڑھ گئی- باتھ روم کے دروازے پر رک کر اس نے نتن کی آنکھوں میں دیکھا- اس کو یقین نہیں آرہا تھا کہ شاندار دکھائی دینے والے اس انسان کی چمڑی کے پیچھے ایک گھناﺅنا جنگلی جانور چھپا ہوا ہے- اندر جاکر اس نے دروازہ بند کر لیا- پندرہ منٹ بعد دروازے پر دستک ہوئی اور شروتی سہم گئی- وہ ابھی نہا ہی رہی تھی-

”جی-“

”نہائی نہیں ہو کیا اب تک- “ باہر سے نتن کی آواز اس کے کانوں میں پڑی-

”جی نہا لی-“ پانی کا نل بند کرتے ہوئے شروتی نے مری سی آواز میں کہا-

”دروازہ کھولو-“ نتن کی آواز میں تحکم تھا جسے شروتی فوراً سمجھ گئی- اس کی آنکھوں سے آنسو لڑھک کر اس کے برہنہ بدن پر موتیوں کی طرح دمک رہی پانی کی بوندوں میں جذب ہو رہے تھے- اب ہو ہی کیا سکتا تھا- اس نے دروازہ کے پاس آکر ایک بار اپنے مجبور بے پردہ حسن کو مایوسی سے دیکھا اور چٹخنی کھول کر نتن کے اندر آنے کا انتظار کرنے لگی-

”اپنے کپڑے مجھے دو-“ باہر کھڑے کھڑے ہی نتن نے روکے انداز میں کہا-

”جی ایک منٹ-“ شروتی نے کانپتے ہاتھوں سے اپنے کپڑے باہر نکال کر نتن کو پکڑا دیئے-

”اور-“ نتن ابھی کپڑوں کی گنتی سے مطمئن نہیں تھا-

”جی کیا؟-“ شروتی اس کا مطلب سمجھ نہیں پائی-

”نام لینا پڑے گا کیا؟— باقی کپڑے بھی دو-“ نتن نے اپنی آواز میں مزید گرج پیدا کرتے ہوئے کہا-

شروتی کی روح تک کانپ گئی- کنواری جوان لڑکیاں تو اپنے زیر جاموں کو بیش قیمت امانت کی طرح چھپا کر رکھتی ہیں- مگر جان بچانے کی ہلکی سی امید لئے شروتی اس کی ہر بات ماننے پر مجبور تھی-

”جی-“ شروتی نے کہا اور سبکتے ہوئے اپنے زیرجامے ہاتھ بڑھا کر باہر کھڑے نتن کو دے دیئے- اسے پکا یقین ہوچلا تھا کہ آج کسی بھی صورت میں اس کی عزت محفوظ نہیں رہے گی-

”باہر آجاﺅ-“ نتن نے ایک بار پھر حکم دیا-

”جی تولیہ-“

کچھ دیر اس کے نایاب حسن کو شرمسار ہونے سے بچانے کے لئے اب تولیہ ہی واح سہارا ہوسکتا تھا-

”باہر آکر لے لو-“نتن نے اس کو تڑپانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی تھی-

اب کہنے کو شروتی کے پاس کچھ بچا ہی نہیں تھا- اور نہ ہی کچھ چھپانے کو- بلکتی ہوئی وہ گھٹنوں کے بل وہیں بیٹھ گئی اور اپنی سسکیوں کو نتن کی ناراضگی سے بچانے کے لئے چھپانے کی کوشش کرنے لگی-

”میرے پاس زیادہ وقت نہیں ہے-“ باہر اس کا انتظار کر رہے نتن نے ذرا اونچی آواز میں کہا-

بے بس شروتی نے ہلکا سا دروازہ کھولا اور اس کی آڑ لے کر اپنا چہرہ باہر نکالا- نتن اس سے دوسری طرف منہ کئے کھڑا تھا- اس کے کندھے پر تولیہ ٹنگا ہوا تھا اور ایک ہاتھ میں شروتی کے زیر جامے اور دوسرے ہاتھ میں ہلکے نیلے رنگ کا لباس تھا-

” باہر آکر تولیہ لے لو-“ اس بار نتن کا لہجہ قدرے نرم تھا-

باہر نکلنے سے پہلے شروتی نے آخری بار اپنے کنوارے بدن کو مایوسی سے دیکھا- اس کا انگ انگ اتنا پیارا تھا کہ نتن کی نظروں سے ہی میلا ہوجاتا- شروتی اندر سے ٹوٹ چکی تھی- اپنے آپ کو سمیٹتے ہوئے ‘ نظریں جھکائے ہوئے اس کے قدم اپنے آپ ہی باہر نتن کی طرف بڑھنے لگے- اب وہ نتن کے اتنے قریب آچکی تھی کہ نتن اس کی سسکیاں محسوس کر سکتا تھا- شروتی نے اچانک تولئے پر چھپٹا سا مارا اور جتنا بدن ڈھک سکتی تھی ‘ ڈھک لیا-

”ابھی وہ وقت نہیں آیا- فکر مت کرو- آرام سے اپنا بدن پونچھ لو-“ نتن کی یہ کچھ دیر کی دریا دلی شروتی کی سمجھ سے باہر تھی-

دل ہی دل میں ڈری سہمی شروتی دھیرے دھیرے تولئے سے اپنا بدن پونچھنے لگی- اس ڈر کے ساتھ کہ نہ جانے کب نتن پلٹ کر دیکھ لے-

”پونچھ لیا-“ نتن نے پوچھا-

”جی-“ ایسا لگتا تھا جیسے شروتی کو جی کے علاوہ کچھ کہناآتا ہی نہیں تھا-نتن کے بولتے ہی اس نے جھٹ سے تولئے کو اپنے جسم کے گرد لپیٹ لیا-

”گڈ- یہ لو-“ کہتے ہوئے نتن نے اپنا ہاتھ پیچھے کرکے نیلا لباس شروتی کی طرف بڑھا دیا- لباس لیتے ہوئے شروتی کا ہاتھ نتن کے ہاتھ سے ٹکرا گیا اور اس کے پورے بدن میں جھنجھناہٹ سی دوڑ گئی- اور وجہ تھی اس کی برہنگی-

شروتی نے ایک ہاتھ سے تولئے کو تھاما اور دوسرے ہاتھ سے لباس کو نیچے لٹکا کر دیکھا – نہایت ہی خوبصورت لباس تھا- مخلملی سا ‘ باریک ریشم سے بنا ہوا- ایک دم ملائم- اس لباس کو شروتی کسی اور موقع پر اپنے لئے دیکھتی تو شاید اس کے چہرے پر الگ ہی تاثر ہوتا- مگر اب ویسا نہیں تھا- اس کو لگا جیسے یہ سب اس کی عزت کی بھینٹ لینے سے پہلے کی تیاریاں ہیں- اس نے لباس کو سینے سے اوپر لگا کر دیکھا- لباس اس کے گھٹنوں تک آرہا تھا-

”جی وہ-“ شروتی کو لگا ‘ بنا بولے کچھ نہیں ہوگا-

” وہ کیا؟-“ نتن دوسری طرف منہ کئے اس سوچ میں کھڑا تھا کہ بے پناہ حسن کی مالکن اس شاندار لباس میں کیسی لے گی-

”میرے کپڑے-“ انجان مرد سے اپنے زیر جامے مانگتے ہوئے شروتی کا چہرہ اس بھیانک ماحول میں بھی شرم سے لال ہوگیا-

”ہاں- دے تو دیئے- پہن لو-“ نتن جانتا تھا کووہ کیا مانگ رہی ہے- مگر جان بوجھ کر اس نے یہی جواب دیا-

”نہیں- —وہ—- وہ— اندر والے-“ شروتی نے ہکلاتے ہوئے بڑی مشکل سے الفاظ ادا کئے-

”جو تمہارے پاس ہیں- وہی پہن لو-“ نتن نے شرارت سے کہا-

نتن کا لہجہ نرم پڑتا دیکھ کر شروتی کی تھوڑی ہمت بندھی-

”اب پہن بھی لو-“ نتن نے دوبارہ لہجے میں سختی لاتے ہوئے کہا- اور شروتی نے کسی کٹھ پتلی کی طرح ایک دم سے وہ لباس اپنے گلے میں ڈال لیا-

”پہن لیا-“ نتن نے اب تک ایک بار بھی مڑ کر نہیں دیکھا تھا-

”جی-“ شروتی بڑبڑائی-اس نے سر جھکا کر اپنے لباس کا جائزہ لیا – لباس ایسا تھا کہ اس میں اس کے جسم کے تمام پیچ و خم اپنی تمام تر جولانیوں کے ساتھ نمایاں ہو رہے تھے- یہ دیکھ کر شروتی اندر تک پانی پانی ہوگئی-اس لباس نے اس کے بدن ڈھک تو لیا تھا مگر چھپایا کچھ نہیں تھا-

جیسے ہی شروتی نے نتن کو پیچھے مڑتے دیکھا‘ وہ اس کی طرف پیٹھ کرکے کھڑی ہوگئی- نتن بھونچکا سا شروتی کو – اس لباس میں وہ اس کی توقع سے کہیں زیادہ خوبصورت لگ رہی تھی-دل میں کھدبد سی ہو رہی تھی- مگر جانے کیوں نتن خود پر قابو پائے ہوئے تھا- شروتی کا شرمیلا انداز اسے اور بھڑکا رہا تھا-

”ادھر آکر بیٹھو-“ نتن کرسی سامنے رکھ کر بیڈ پر بیٹھ گیا– لرزتے قدموں سے شروتی مڑی اور اور نتن کا اشارہ سمجھتے ہوئے کرسی پر جاکر بیٹھ گئی-

”کیا لگتا ہے تمہیں؟— تم یہاں سے واپس جا پاﺅ گی–“ نتن نے شروتی سے کام کی بات شروع کر دی-

شروتی کچھ نہیں بولی- اس نے اپنے پہلے سے جھکے ہوئے چہرے کو تھوڑا اور جھکایا اور آنسو لڑھکا دیئے-

” میرا یہ روز کا کام ہے- تمہارے یہ آنسو میرے اوپر اثر نہیں کرسکتے-میں نے تمہیں بتایا تھا نا کہ تم یہاں سے کیسے واپس جا سکتی ہو؟- اب بتاﺅ- کیا ارادہ ہے؟-“ نتن نے اپنی آواز کو مزید سخت کرتے ہوئے پوچھا-

”جی – میں آپ کی ہر بات مانوں گی-“ شروتی کو ڈرانے کے لئے کسی اور ناٹک کی ضرورت ہی نہیں تھی- اب تک جو ہوچکا تھا وہی کافی سے بھی بہت زیادہ تھا اس کو اندر تک ہلانے کے لئے-

”شاباش- تو شروع کریں؟-“ نتن نے اسی انداز میں کہا-

”جی-“ شروتی کے پاس اور کوئی آپشن تھا ہی نہیںسوائے نتن کی ہر بات ماننے کے-

”تمہیں پتہ ہے کہ تم کتنی خوبصورت ہو-“ نتن نے اس سوال سے شروعات کی-

اب شروتی کیا کہتی-مگر کچھ تو کہنا ہی تھا-

”جی-“ کہتے ہوئے اس کے چہرے پر ایک رنگ آرہا تھا اور ایک رنگ جا رہا تھا-

”کیسے پتہ؟-“ نتن نے اس بار نہایت ہی بے تکا سا سوال کیا-

”جی-“ شروتی اس بات کا کوئی جواب نہیں پائی-

”تمہارے اندر ایسا کیا ہے کہ تمہیں لگتا ہے کہ تم اورں سے کہیں زیادہ خوبصورت ہو-“ نتن بات کو پتہ نہیں کہاں لے جا رہا تھا-

”جی- کچھ نہیں- اور بھی بہت خوبصورت ہیں-“ ´شروتی کو یہی کہنا مناسب لگا-

”نہیں – میں نے ایک دنیا دیکھی ہے- بہتوں کو نہایت قریب سے پرکھا ہے لیکن سچ کہتا ہوں- تم جیسی میں نے آج تک نہیں دیکھی- میں جانتا ہوں ‘ لیکن بتانا تم کو ہی ہے کہ تمہارے اندردوسروں سے الگ کیا ہے؟-“ نتن نے کہا-

”جی پتہ نہیں-“ شروتی نے دھیرے سے کہا-

”میں بتاﺅں؟—- تمہارے ایک ایک انگ کو چھوکر-“ نتن نے دھمکی دی-

شروتی اندر تک لرز اٹھی- سوالوں کا جواب دینا اس کو اپنی عزت دینے سے بھی مشکل نظر آرہا تھا- اور وہ بھی اس حالت میں جبکہ عزت تو جانی ہی تھی- وہ کچھ نہیں بولی-

”کھڑی ہوجاﺅ اور یہاں آﺅ-“

شروتی نے فوراً اس حکم کی بجا آوری کی- نظریں جھکائے وہ نتن کے پاس آکر کھڑی ہوگئی-

”کیا چیز ہو تم-“ نہ چاہے ہوئے بھی نتن کے منہ سے نکل ہی گیا-شروتی کی آنکھیں پہلے ہی بند ہوچکی تھیں-

”تمہیں تو کوئی بھی پسند کر سکتا ہے- ہے نا-“ نتن کا انداز اکسانے والا تھا-اس حالت میں شروتی کے لئے کسی بات کا جواب دینا محال تھا- اور ہاں کہتے ہوئے بھی اس کے گلے سے ہاں کی بجائے آہ ہی نکلا-

” روہن کو پٹا سکتی ہو-“

”جی- مگر کیوں؟-“

”دولت کے لئے- وہ اسی کروڑ کی جائیداد کا اکیلا وارث ہے- مگر ایک دم بھولا ہے- اور تمہارا دیوانہ بھی-صرف تم ہی اس کو یہ یقین دلا سکتی ہو کہ تم ہی اس کی نیرو ہو-“ شروتی کو اس کی آدھی بات ہی سمجھ میں آئی-

”مگر میں تو ان کو جانتی بھی نہیں-“

”اس کی فکر تم مت کرو- میں تمہیں سب سمجھا دوں گا- اور اس سے ملوا بھی دوں گا- تمہیں کچھ نہیں کرنا‘ بس میرے ہاتھوں کا مہرا بننا ہے— اس سے شادی کرکے طلاق لینی ہے بس- دس کروڑ تمہارے اور تیس کروڑ میرے- بولو-“

اب شروتی بیچاری کیا بولتی- اس کی تو کچھ سمجھ میں نہیں آرہا تھا- نتن نے ہاتھ آگے بڑھا کر اس کو کمرسے پکڑ اپنی طرف کھینچا اور شروتی کو ایسا لگا جیسے کسی طوفان یا منجدھار کے بیچ پھنس گئی ہو- اور جب طوفان تھما تو وہ نڈھال سی پڑی تھی- اس نے وہی کیا جو نتن نے حکم دیا‘ لیکن تمام احکام ماننے کے باوجود ابھی بھی اس کے دل میں یہ بات کھٹک رہی تھی کہ کیا وہ یہاں سے زندہ جا پائے گی- کیا اب نتن اسے صحیح سلامت واپس جانے دے گا-

”تم کسی بات کی فکر نہ کرو – وہ سب صرف ایک ناٹک تھا- تمہیں ڈرانے کے لئے- تاکہ تم چپ چاپ میری ہر بات مان لو-“ نتن نے اس کے چہرے پر آئے رنگ کو پڑھ کرنرم لہجے میں کہا اور شروتی کسی حد تک مطمئن ہوگئی- مگر پوری تسلی نہیں ہو پائی تھی-

”مگر وہ لاشیں؟-“ یاد کرتے ہوئے شروتی کا پورا بدن کانپ اٹھا-

”ہا ہا ہا- ایک منٹ‘ بھگوان داس-“ نتن نے ذرا زور سے آواز لگائی-

” جی صاحب-“ بھگوان داس دروازے کے باہر سے بولا-

نتن اٹھا اور دروازدہ کھولتے ہوئے بولا-”ذرا وہ لاش اٹھا کر لانا-

بھگوان داس کو احساس نہیں تھا کہ ناٹک ختم ہوچکا ہے- نتن کے قریب آتے ہوئے دھیرے سے بولا- ”صاحب – ان کو تو میں نے دھو ڈالا ہے-“

”ہاں ہاں وہی-“ کہتے ہوئے نتن واپس بستر پر آکر شروتی سے کچھ فاصلے پر بیٹھ گیا-

”دراصل وہ ربر کے پتلے ہیں- شکار کے دوران میں ان پر خون لگا کر جانوروں کا شکار کرنے کے لئے استعمال کرتا ہوں- ابھی پوری روشنی میں ان کو دیکھو گی تو سب سمجھ جاﺅ گی-“

شروتی کچھ بولنے ہی والی تھی کہ بھگوان داس ایک لاش کو بالوں سے پکڑ کر کھینچتا ہوا کمرے میں لے آیا- شروتی حیرت کے مارے اچھل پڑی-

”یہ تو نقلی ہے-“

”تو کیا میں ابھی فارسی میں بول رہا تھا-“

شروتی کو ایسا لگا جیسے اسے بھرے بازار میں ٹھگ لیا گیا ہو- یہ پتلے ہی تھے جنہوں نے شروتی کو اپنی مرضی سے بنا کسی ہچکچاہٹ کے اپنا بدن نتن کو سونپنے پر مجبور کر دیا تھا- ورنہ—-

” اب تو مجھے گھر چھوڑ آﺅ- میں بابا سے کوئی بھی بہانہ بنا دوں گی- صبح تک نہیں گئی تو وہ تو مر ہی جائیں گے-“

” ابھی کہاں- ابھی تو تمہیں یہاں لانے کا اصلی مقصد پورا کرنا ہے- انکل جی کی فکر مت کرو- میں نے ایک لڑکی سے گھر فون کروا دیا ہے کہ تم اس کے پاس ہو-“ نتن نے شروتی کی ڈھارس بڑھائی-

”مگر تمہیں گھر کا نمبر کہاں سے ملا؟-“ شروتی نے حیرت سے پوچھا-

”انکل جی سے لیاتھا- جب میں اور وہ اکیلے بیٹھے تھے- یونہی-“

شروتی کو اب اپنے آپ سے گھن آنے لگی تھی- جان بچنے کا بھروسہ ملنے کے بعد اس کو اپنے ساتھ بیتے حادثے کا گہرا پچھتاوا تھا- یہ پچھتاوا اب ٹیس بن کر اس کے دل میں ابھرنے لگا تھا-

”آپ نے ایسا کیوں کیا میرے ساتھ- “ شروتی نے درد میں ڈوبی آواز میں کہا-

”تمہارے دس کروڑ اور اپنے تیس کروڑ کے لئے- اگر تم مجھ سے شادی کرنا چاہو تو یہ ہمارے چالیس کروڑ بھی ہو سکتے ہیں-“

شادی کا ذکر کرکے نتن نے اس کی دکھتی رگ پر ہاتھ رکھ دیا تھا-

اس کو قطعی احساس نہیں تھا کہ اس کو شادی کا پروپوز کرنے والا پہلا شخص اس انداز میں اس سے ملے گا- یہ سوچ کر ہی شروتی پوری طرح سے ٹوٹ کر رہ گئی اور سبکنے لگی-

”اتنا جذباتی ہونے کی ضرورت نہیں ہے یار- زندگی میں کچھ حاصل کرنے کے لئے کچھ کھونا ہی پڑتا ہے- اور دس کروڑ کے لئے یہ قیمت کچھ بھی نہیں ہے- تم رونا دھونا چھوڑو اور دھیان سے میری بات سنو-“ نتن نے اس کی طرف غور سے دیکھتے ہوئے کہا-

”کیا سنوں میں اب؟-“ شروتی پھٹ سی پڑی- ”آپ میری قیمت لگا رہے ہیں- میری زندگی کی- اب اگر میں جیوں گی تو صرف بابا کے لئے- گھٹ گھٹ کر- آپ کو نہیں پتہ کہ آپ نے مجھے کیسے زخم دیئے ہیں-“ شروتی ڈبڈبائی آنکھوں سے بولی-

”مگر میں نے کہا نا کہ میں تم سے شادی کرنے کے لئے تیار ہوں- میری بات تو سن لو-“ نتن ایک پل کے لئے شروتی کی نفرت اگلتی آنکھوں کو دیکھ کر ہڑبڑا سا گیا-

”سینہ تان کر کہتے ہو کہ جانے کتنی ہی لڑکیوں کو اس بستر پر لے کر آئے ہو- کس کس سے شادی کرو گے عزت لوٹنے کے بعد- بولو-“ شروتی چلا پڑی-

اس کے آنسو اب نہیں تھم رہے تھے-

”ہے ہے- ایک منٹ- میں نے تمہارے ساتھ کوئی زبردستی نہیں کی- میرے پاس ثبوت بھی ہے- اب میری نرمی کا ناجائز فائدہ اٹھانے کی کوشش کرو- شادی کے لئے میں نے صرف اس لئے آفر کی ہے کہ تم مجھے پسند ہو- اس لئے نہیں کہ میں تم سے پیار کرنے کا ہرجانہ ادا کرنا چاہتا ہوں- سمجھیں تم- چپ چاپ میری بات سنو- بھگوان داس کو بھی نئی نئی لڑکیوں کا شوق ہے- اور اس کا انداز تم برداشت نہیں کرپاﺅں گی- “ نتن نے تقریباً غراہٹ بھرے لہجے میں کہا-

شروتی کو تو ڈرانے کے لئے ہلکا سا اشارہ ہی کافی تھا- خود کو بھگوان داس کو سونپ دیئے جانے کی دھمکی سن کر تو وہ تھرا سی اٹھی- یہاں وہ ان سے مقابلہ کیسے کر سکتی تھی- اپنے آپ کو سسکنے سے روکنے کی کوشش کرتے ہوئے اس نے آنسوﺅں کو پونچھا اور چپ ہوکر بیٹھ گئی-

”میرا ایک کام تمہیں کرنا ہوگا- بدلے میں ‘ میں تمہیں اس کی قیمت بھی دوں گا— دس کروڑ-“ نتن نے اس کے ہاتھوں کو اپنے ہاتھوں میں لیتے ہوئے کہا-

”کیا؟-“ شروتی کا جواب دس کروڑ کے لالچ کی وجہ سے نہیں آیا تھا‘ لیکن جواب دینا بھی ضروری تھا- بات سننی ضروری تھی-

”پہلے تمہیں میں ایک کہانی سنا دوں- روہن اپنے ماں باپ کا اکلوتا بیٹا ہے- ظاہر ہے اس کے باپ کی اسی کروڑ کی وصیت سیدھی اس کے ہی حصے میں آنی ہے- مگر مجھے نہیں لگتا کہ وہ اس دولت کو سنبھال پائے گا- بڑا سیدھا اور بھولا سا ہے بیچارہ- کوئی نہ کوئی اس سے وہ دولت ہتھیا ہی لے گا- تو کیوں نہ میں ہی کچھ سوچ لوں- ہی ہی ہی- ویسے مجھے بڑا بھائی مانتا ہے بیچارہ-“ کہتے ہوئے نتن رک گیا-

شروتی کی جانب سے کوئی بات نہ کہنے پر اس نے بولنا جاری رکھا-”دراصل کئی مہینے سے اس کو عجیب عجیب سے خواب آرہے ہیں- اس کے خوابوں میں تم آتی ہو اور اپنے پاس ہلاتی ہو- پچھلے جنم کا واسطہ دے کر- یہ سب عجیب ہے اور میری سمجھ سے باہر ہے-میں نے ایسی باتیں صرف فلموں میں ہی دیکھی ہیں- مگر کچھ حادثات نے مجھے بھی سوچنے پر مجبور کر دیا ہے- اس رات کو تمہاری جو قمیص پھٹی- وہ تم نے خود اس کے خواب میں پھاڑی تھی—- کتنا عجیب ہے نا- خیر ہمیں اس سے کیا لینا دینا- صرف کام کی بات سنو- تمہیں دیکھ کر وہ تمہیں ہی اپنے سپنوں کی رانی ماننے لگا تھا- مگر پھر سپنے میں تم نے ہی اس کو یہ بولا وہ لڑکی میں نہیں ہوں کوئی اور ہے- نیرو نام کی- سمجھیں کچھ-“

”نہیں-“ سچ میں شروتی کے کچھ پلے نہیں پڑا تھا-

”ایک منٹ – میں تمہیں ساری بات شروع سے بتاتا ہوں-“ یہ کہہ کر نتن اس کو پوری کہانی بتانے لگا جو ان کے ٹیلے پر جانے سے شروع ہوئی اور آج دوپہر روہن سے ملاقات ہونے پر ختم ہوئی-

”اگر اس کی ساری کہانی اس کے دماغ کا وہم ہے تو پھر تمہیں وہاں پیپل کے پاس دورہ کیوں پڑا-“ شروتی نے کہانی میں پوری دلچسپی لیتے ہوئے- حالانکہ وہ اس کہانی کو روہن کے دماغ کا وہم نہیں بلکہ پچھلے جنم کی کوئی سچی کہانی مان رہی تھی-

”وہ میں نے ناٹک کیا تھا- ایک طرف میں اس کو یہ کہہ رہا تھا کہ یہ سب سچ نہیں ہے- دوسری طرف اس کے دماغ میں ٹھوس ٹھوس کر نیرو کا بھوت بھر دینا چاہتا ہوں- تاکہ اس کو مجھ پر رتی بھر بھی شک نہ ہو-“ نتن نے جیسے اپنے دل کی پوری گندگی نکال کر اس کے سامنے رکھ دی-

شروتی نے اس کی آنکھوں میں دیکھا- نتن کو اپنے لئے شروتی کی آنکھوں میں نفرت کا اظہار ہوتا دکھائی دیا-

”ایسے کیا دیکھ رہی ہو-“

”کچھ نہیں- اب مجھ سے کیا چاہتے ہو؟-“ شروتی نے نظریں جھکاتے ہوئے کہا-

”یہی کہ تم اس پلان میں میرا ساتھ دو- تم روہن کو یقین دلا دو کہ تمہیں سب کچھ یاد آگیا ہے – اور تمہی اس کے پچھلے جنم کی محبوبہ ہو- یعنی اس جنم میں روہن کی نیرو-“

٭٭٭٭٭٭٭

”وقت کی پابندی تو کوئی تم سے سیکھے- کتنے بجے کا ٹائم دیا تھا تمہیں؟-“ روہن نے رویندر کے آتے ہی اس پر غصہ ہوتے ہوئے کہا-

”اوئے ہوئے- کیا بات ہوگئی یار— ٹینشن نہ لے- آ تو گیا ہوں نا میں- دیکھ تیری خاطر بنا نہائے ہی بھاگ آیا ہوں اٹھتے ہی- “ رویندر نے اگلی بات دھیرے سے اس کے کان میں کہی-” میلے کپڑوں پر ہی پرفیوم لگا کر آیا ہوں- دھلے ہوئے ملے ہی نہیں-تم نے کل رات کو ہی تو بتایا -“

”تم نہیں سدھرو گے- ٹرین نکال دی نا- ٹرین سے چلنے کا پروگرام تھا- اب بس سے جانا پڑے گا-“ روہن نے منہ بناتے ہوئے کہا-

”ایسی بھی کیا جلدی ہے- آنے والی اپنے آپ سدھار دے گی- کوئی اس جیسی سوہنی-“ رویندر نے پاس سے گزرتی ہوئی خوبصورت لڑکی کو دیکھ کر جملہ پھینکا-

لڑکی نے شاید بات سن لی تھی- اپنی چال کو دھیمی کرکے لڑکی نے رویندر کو گھورا اور آگے نکل گئی-

”دیکھاکیسے دیکھ رہی تھی- مجھے ایسی ہی کسی کی ضرورت ہے- لال مرچی جیسی- جو مجھے سدھار سکے- ہیں نا- ہی ہی ہی-“ رویندر نے تھوڑی اور تیز آواز میں بات کہہ کر لڑکی تک اپنی فریاد پہنچاہی دی-

”اپنی زبان پر تالا لگا کر رکھا کر- نہیں تو کسی دن ایسی دھلائی ہوگی کہ-“ روہن نے واپس مڑ کر دیکھ رہی لڑکی کی طرف دیکھ کر آنکھوں آنکھوں میں معذرت کرلی-

”اوئے دھلائی ولائی چھوڑ – چل بس اسٹینڈ پر چلتے ہیں- نہیں تو بس نکالنے کا سہرا بھی میرے ہی سر باندھو گے- باقی لڑکی پٹاخہ تھی یار- نہیں؟-“ رویندر اب بھی باز نہیں آیا-

”ابے یہ کیا ہے چاچا- بس اسٹینڈ ہی تو ہے-“ روہن چلا اٹھا-

”اوہ مائی گاڈ- آئی ایم سوری یار- میں تو بھول ہی گیا تھا کہ تم نے مجھے دوبارہ فون کرکے بس اسٹینڈ پر آنے کو کہا تھا- مگر ہم جا کہاں رہے ہیں‘ یہ تو بتا دو-“ رویندر کا بولنا بدستور جاری تھا-

”جہنم میں- اب تم چپ چاپ کھڑے رہو تھوڑی دیر- بس آنے والی ہے-“

”دیکھ بھائی- جنت میں چل یا جہنم میں- مگر کھٹارا بس میں ‘ میں نہیں جاﺅں گا- نئی سی بس ہونی چاہئے کوئی ایکسپریس-“ رویندر نے کہا-

”ہوں- تیرے باپ دادا نے ایئرپورٹ بنوا رکھا ہے یہاں- خیر اس کی فکر مت کرو- اے سی کوچ ہے-“

”پھر ٹھیک ہے- دیکھ بھائی- جہاں بھی چلنا ہے ‘ مجھ سے بات مت کرنا- راستے بھر سوتا جاﺅں گا- آج تمہاری وجہ سے پانچ گھنٹے پہلے اٹھنا پڑ گیا ہے- ویسے چلنا کہاں ہے بتا نا-“

”تم چپ رہو گے تبھی تو میں بات کروں گا نا- یہاں سے میر پورخاص چل رہے ہیں- آگے کی آگے بتاﺅں گا-اب اور کچھ مت پوچھنا-“ روہن نے کہا-

”میرپور خاص؟— میر پور خاص میں تو ایک بار میری دادی کھو گئی تھی یار- پان کھانے کے لئے گاڑی سے اتریں تھیں- اور میرے دادا جی کو یاد ہی نہیں رہا کہ ان کے ساتھ دادی جی بھی ہیں- بس پھر کیا تھا- گاڑی اسٹارٹ کرکے چلتے بنے- بعد میں دھیان آیا تو بڑے پریشان ہوئے- پتہ ہے ڈھونڈتے ہوئے واپس میرپورخاص پہنچے تو دادی کیا کرتی ملیں؟-“ رویندر طوفان میل کی طرح بولے جا رہا تھا-

”کیا یار؟-“

” پان والے سے سیلون اور بنگلہ پان پر بحث کر رہ تھیں- پان کھانے ہی تو اتریں تھی نا- ہی ہی ہی-“

”بس اب چپ ہوجا- بس آگئی ہے- چلو بیگ اٹھاﺅ- روہن نے اس کا بھونپو بند کروایا اور بیگ اٹھا کر وہ بس کی طرف چل پڑے-

”آ- ہا- اگر بس کی سیٹ ایسی ہوں تو پھر گھر کا پیٹرول کیوں پھونکیں- سچ میں بڑی مست نیند آئے گی اس سیٹ پر تو-“ کہتے ہوئے رویندر نے اپنے پیر اوپر کرکے آگے والی سیٹ پر رکھ کر سونے کا پروگرام سیٹ کرنا شروع کر دیا- آگے والی سیٹ پر بیٹھے ہوئے مسافر نے پیچھے منہ نکال کر رویندر کو گھورا-

”اوئے پوری بس کو خرید لیا ہے کیا تم نے- پیر تو نیچے کر لو-“

”ابھی کہاں بھائی صاحب- ابھی تو ٹیسٹ ڈرائیو پر جا رہے ہیں- ہا ہا ہا-“ کہتے ہوئے رویندر نے پیر نیچے کر لئے اور اپنی بیلٹ ڈھیلی کرنے لگا-

” کیا ہوا جی- کیوں سارا دن سینگ کھڑے کئے گھومتے رہتے ہو- سیدھے نہیں بیٹھ سکتے کیا؟-“ مسافر کے ساتھ بیٹھی ہوئی اس کی بیوی نے اپنے شوہر کو ہی جھاڑ دیا-

” میں نے کیا کہا ہے بیگم- میرے کندھے پر پیر رکھے گا تو کیا میں بولوں بھی نہیں- دیکھو تمہاری گفٹ کی ہوئی شرٹ پر مٹی لگا دی- بس اسی لئے غصہ آگیا تھا- “ مسافر نے اپنی صفائی دیتے ہوئے بیگم کے آگے گھٹنے ٹیک دیئے-

اچانک بس میں سوار میں ہونے والی ایک لڑکی کو دیکھ کر روہن کی سانس اوپر کی اوپر اور نیچے کی نیچے رہ گئی- کھلے بالوں کو سلجھاتی ہوئی وہ لڑکی نظریں نیچی کئے ہوئے اپنی سیٹ کا نمبر ڈھونڈتی ہوئی آ رہی تھی- گورے رنگ او ر دل موہ لینے والے نین نقش نے روہن کو کچھ لمحوں کے لئے باندھ سا دیا- گرے کلر کی دھاریدار جینز اور گول گلے کی ٹی شرٹ کے اوپر کالر والی لائٹ پرپل کلر کی بنا بٹنوں والی جیکٹ پہنے اس لڑکی کی آنکھوں میں ایسا جادو تھا کہ بس میں بیٹھا ہر شخص اس کو ہی دیکھ رہا تھا-

روہن کا دھیان تب ٹوٹا جب وہ ان کے پاس آکر کھڑی ہوگئی-

”ایکسکیوز میں- یہ ہماری سیٹ ہے-“

رویندر بھلا روہن کو کہاں بولنے دیتا جھٹ سے بول پڑا-”اچھا- سیٹ ساتھ لانی پڑتی ہے کیا گھر سے؟— میں نے سوچا بس میںہی مل جاتی ہوگی- آپ بھی آجاﺅ- کافی چوڑی سیٹ ہے- وہ کیا ہے نا کہ ہم سیٹ ساتھ لانا بھول گئے تھے- کیوں روہن؟-“ کہہ کر رویندر ایک طرف کو کھسک گیا-

لڑکی کو اس کی بات پر ہنسی بھی آئی اور غصہ بھی-اس کی بے ڈھنگی باتوں سے الجھی لڑکی کو سمجھ نہیں آرہا تھا کہ کیا بولے- وہ کچھ بولتی اس سے پہلے روہن بول پڑا-”سوری مس- یہ کبھی بس میں بیٹھا نہیں ہے- اس لئے- لیکن میرے خیال سے یہ ہماری ہی سیٹ ہے-“

”اچھا میرے مذاق کو میری ناسمجھی بتا کر تم میرا مذاق اڑا رہے ہو- سا-“ پھر لڑکی کی طرف دیکھتے ہوئے منہ سے نکلنے والی گالی کو واپس کھینچتے ہوئے بولا- ”وہ کیا ہے کہ جیسے مرد کبھی اپنی زبان نہیں بدلتے‘ ویسے ہی سیٹ بھی نہیں بدلتے- ایک مہربانی ہم آپ پر کرسکتے ہیں کہ– ہماری سیٹ ڈھونڈ کر اس پر بیٹھ جائیں- ہم بڑے ہی نرم دل والے ہیں- کچھ نہیں کہیں گے- کیوں روہن؟-“

لڑکی کو اچانک نہ جانے کیا سوجھ- اس نے کھڑکی سے باہر جھانکا اور آواز لگائی- ”ریتو— جلدی آ-

”کیا ہوا؟-“ ریتو نامی لڑکی کچھ اس انداز میں اوپر چڑھی جیسے مصیبت کی گھڑی میں کسی نے اس کو مدد کے لئے پکارا ہو- لڑکی وہی تھی جس پر رویندر بس اسینڈ پر کھڑے ہوکر باتوں ہی باتوں میں جملے کسے تھے-

”کیا ہوا؟- کوئی پرابلم ہے کیا؟-“ ریتو سے اپنے لئے اتنی ہمدردی پا کر لڑکی سبکنے لگی-

”یہ ہماری سیٹ نہیں چھوڑ رہے-“

”تم؟-“ ریتو ‘ رویندر کو پہچان کر غصے سے آگ بگولہ ہوگئی-

”اوہ – ہم ایک دوسرے کو جانتے ہیں کیا- میری یادداشت تھوڑی کمزور ہے- مگر دیکھو لو- تمہارا نام ابھی بھی مجھے یاد آہے- ریتو- ویسے ہم پہلے ملے کہاں تھے-؟-“ روی نے سینہ تانتے ہوئے بتیسی نکال دی-

”ابھی بتاتی ہوں- چلو – اٹھو یہاں سے- نہیں تو ابھی پولیس انکل کو بلاتی ہوں-“ ریتو نے طیش میں آکر آستینیں چڑھا کر ہاتھ کولہوں پر رکھ لئے-

”پولیس ماما‘ تمہارے انکل ہیں کیا؟- ہماری تو ویسے ہی رشتے داری نکل آئی- ہی ہی ہی-“ رویندر کہاں قابو میں آنے والا تھا-

”چل اٹھ نا یار- پیچھے والی سیٹ ہوگی ہماری- سوری- مس- ڈونٹ مائنڈ پلیز-“ کہتے ہوئے روہن نے کھڑا ہوکر رویندر کو کھینچ لیا-

مجبوراً رویندر کو بھی اٹھنا پڑا- اور دونوں پیچھے والی سیٹ پر جاکر بیٹھ گئے-

”یاہو-“ لڑکی نے پیچھے دیکھ کر رویندر کو اپنے نازک بازوﺅں کے ڈولے بنا کر چڑایا-”پتہ ہے ریتو- مرد کبھی اپنی سیٹ نہیں بدلتے- ہا ہا ہا-“

اس سے پہلے کہ رویندر کچھ کہتا – روہن نے اس کے منہ کو اپنے ہاتھ سے دبا دیا-

”کچھ مت بول یار- لڑکیاں ہیں- خواہ مخواہ پنگا ہوجائے گا-“

بیچاروں کو بیٹھے ابھی ایک منٹ بھی نہیں ہوا ہوگا کہ ایک جوڑا آکر ان کے پاس کھڑ ہو گیا-

”ایکسکیوز می- یہ ہماری سیٹ ہے-“

رویندر سے رہا نہ گیا- امیتابھ کی آواز کی نقل اتارتے ہوئے بولا- ”جاﺅ – پہلے وہ سیٹ دیکھ کر آﺅ جس پر ہمارا نمبر لکھا ہے- یہ لو ہمارا ٹکٹ- ہیں-“

مریل سے اس ادھ گنجے لڑکے نے چپ چاپ ٹکٹ پکڑا اور نمبر دیکھتے ہی بولا- ”سر- یہی تو ہیں آپ کی سیٹیں- آگے والی-“

”کیا- کیا کہا؟ پھر سے کہنا میرے یار پلیز-“ رویندر اچھل کر سیٹ سے کھڑا ہو گیا-

”ہاں سر- یہی تو ہیں تیرہ اور چودہ نمبر- یہ لڑکیاں غلطی سے بیٹھ گئی ہیں شاید-“ لڑکے نے دوبارہ کہا-

”اوئے ہوئے- لالے کی جان- دل کرتا ہے تیرا سر چوم لوں-“ رونیندر نے ایک پل بھی نہیں لگایا آگے والی سیٹ تک پہنچنے میں-

”اے- اٹھتی ہے یا پولیس ماما کو بلاﺅں- ہا ہا ہا- مرد کبھی اپنی سیٹ نہیں چھوڑتے-“

اب لڑکیوں کو بھی تھوڑا شک ہوا- ریتو نے کہا- ”ٹھیک سے دیکھ لے – ہماری سیٹ کا نمبر-“

لڑکی نے اپنی پرس سے ٹکٹ نکالی اور بولی-”یہی تو ہیں آٹھ اور نو نمبر-“

”چل اٹھ یہاں سے- آٹھ اور نو نمبر اگلی سیٹوں کے نمبر ہیں-سیٹ نمبر سیٹوں کے پیچھے لکھا ہوتا ہے پاگل-“

اور دونوں لڑکیاں جھینپتے ہوئے سیٹ چھوڑنے لگیں-

”واہ – واہ- واہ- آج کل لڑکیاں بھی ڈولے شولے دکھانے لگی ہیں- کیا بات ہے- واہ- واہ-“ رویندر سے اس موقع کا فائدہ اٹھائے بنا رہا نہیں گیا-

”چپ کر یار- بہت ہوگیا- غلطی کسی سے بھی ہو سکتی ہے-“ روہن نے اس کو ٹھنڈا کرتے ہوئے کہا-

دونوں لڑکیاں اٹھ کر آگے کی سیٹوں پر بیٹھے پٹھان کے پاس پہنچ گئیں-

”ایکسکیوز میںانکل- یہ سیٹ ہماری ہے-“

اوئے کمال ہے یارا- ابھی تم لوگ ان بچوں کا پیچھے پڑا تھا- اب ہم کو پریشان کرنے آگیا- سارا سیٹ تمہارا ہے کیا؟ یہ دیکھو ہمارے نمبر آٹھ اور نو- سیدھاسانگھڑ تک کا ہے-“ پٹھان نے سینہ ٹھونک کر کہا-

رویندر جو ان کی باتیں بڑے غور سے سن رہا تھا‘ بیچ میں ٹپکتے ہوئے بولا-”لیکن خان چاچا- بس تو میرپورخاص جا رہی ہے-“

”ہیں-“ پٹھان چونک جاتا ہے-

”اور کیا-“ یہ کہہ کر لڑکیاں بھی ہنسنے لگیں-

”او خوچہ- ہمارا بس تو نکل گئی-ہم بھی بولے آج بس اتنا لیٹ کیوں ہے- “ پٹھان سٹپٹا کر اٹھا اور اپنا سامان نیچے اتارنے لگا-

”چہ تم کب سیکھے گا سیدھا راستے پہ چلنا- اماراتو نصیب پھوٹ گیا تم سے شادی کرکے-“ پٹھانی اسے کوستی ہوئی پیچھے پیچھے بس سے اتر گئی-

٭٭٭٭٭٭٭

ساری رات شروتی بستر کے ایک کونے میں سمٹی لیٹی رہی- نتن اس کے برابر میں ہی چین سے سویا ہوا تھا-مگر شروتی نے ایک بار بھی جھپکی نہیں لی تھی- سونے سے پہلے نتن نے وعدہ کیا تھا کہ کل وہ اس کو کالج چھوڑ دے- نتن کی جانب سے سنائی گئی کہانی اس کے دماغ میں کسی فلم کی طرح چل رہی تھی- لیٹے لیٹے اس نے کئی بار روہن کے بار ے میں سوچا- شکل سے ایک دم شریف اور کیوٹ سا نظر آنے والے روہن سے اس کو پوری ہمدردی تھی- اگر اس سے پیار کرنے اور شادی کرنے تک ہی بات ہوتی تو شروتی اس کو اپنی خوش نصیبی ہی سمجھتی-

نتن کے کہنے کے مطابق روہن اس کا دیوانہ تھا- مگر نتن اس کو جس راستے پر لے کر جا نا چاہتا تھا اس کے بارے میں تو شروتی کو سوچنا بھی گناہ لگ رہا تھا- دھوکہ دینا تو اس نے کبھی سیکھا ہی نہیں تھا- یا یوں کہیں کہ اس کے خون میں ہی نہیں تھا- بچپن میں ہی اس کی ماں کے گزر جانے کے بعد اس کے بابا نے دوسری شادی تک نہیں کی تھی- یہ صرف اس کی ماں کے لئے اس کے بابا کی وفا اور محبت نہیں تو اور کیا تھی- ورنہ نسل چلانا کون نہیں چاہتا- —

 نہیں— وہ ایسا نہیں کر سکتی- اور کرے گی بھی نہیں- رات بھر کروٹ بدلتے بدلتے شروتی نے یہی فیصلہ کر لیا تھا کہ وہ نتن کی ہر ہاں میں ہاں ملائے گی- جب تک کہ وہ ایک بار اس کے چنگل سے آزاد نہیں ہوجاتی- لیکن گھر جانے کے بعد وہ سب کچھ اپنے بابا کو بتا دے گی- صرف اپنی عزت کے لٹنے کا چھپا کر- ساتھ ہی کوشش کرے گی کہ اس کمینے آدمی کو منشا کبھی پوری نہ ہو- چاہے اس کے لئے اس کو پولیس میں خبر کرنی پڑے- چاہے اس کو کالج ہی کیوں نہ چھوڑنا پڑے-

انہی خیالوں کی اتھل پتھل میں کب سویرا ہوگیا‘ شروتی کو احساس تک نہیں ہوا- اچانک نتن کے کروٹ بدلنے پر وہ اٹھ بیٹھی-

”جاگ گئیں تم؟-“ نتن نے اٹھ کر انگڑائی لیتے ہوئے کہا-

”جی-“

نتن نے اس کی طرف شرارتی انداز سے گھورا اور وہ اس کا مطلب سمجھ کر سہم گئی-

”پلیز مجھے دیر ہو رہی ہے- کالج بھی جانا ہے-“ وہ جلدی سے بول پڑی-

”ہاں ہاں- چھوڑ دوں گا- فکر کیوں کرتی ہو میری جان- لیکن تم نے یہ تو بتایا ہی نہیں کہ تم نے کیا فیصلہ کیا-“

”ٹھیک ہے-“ شروتی نے اتنا سا ہی جواب دیا-

”کیا ٹھیک ہے؟— اس کے بارے میں بتاﺅ نا- دس کروڑ کے بارے میں کیا سوچا تم نے؟-“ نتن گھاگ نظروں سے اسے گھورتا ہوا بولا-

” ہاں- کہہ تو رہی ہوں کہ جیسا تم کہو گے میں ویسا ہی کروں گی-“ شروی نے اس بار لفظوں میں کچھ اضافہ کرتے ہوئے کہا-

”کہیں ایسا تو نہیں کہ تم صرف یہاں سے جانے کے لئے ایسا بول رہی ہو- — یہ بھی تو ہو سکتا ہے نا-“ نتن نے اس کے دل کو ٹٹولنے کی کوشش کی-

شروتی کو اس کی بات میں چھپی دھمکی کو بھانپ کر محسوس ہوا کہ جیسے اس کا جھوٹ پکڑا گیا ہو- لیکن وہ سنبھلتے ہوئے بولی-

” دس کروڑ کے لئے تو میں دس لوگوں کو بھی الو بنانے کو تیار ہوں- اور پھر یہ تو کوئی کام بھی نہیں ہے- مجھے اس سے پیار کا ناٹک ہی تو کرنا ہے- یا پھر وہی کرنا ہے جو جو تم کہو گے-“

”گڈ- تم بہت ذہین لڑکی ہو- اکثر خوبصورت لڑکیوں میں دماغ کی کمی ہوتی ہے- مجھے خوشی ہے کہ تمہارے اندر بے پناہ حسن کے ساتھ ساتھ دماغ بھی ہے- دیکھنا ہم دونوں مل کر کیسے روہن کو جال میں پھنساتے ہیں-“ پھر کچھ سوچتے ہوئے بولا-” پھر بھی ہوسکتا ہے کہ کل کو تمہارا دل اس کی نادانی اور شرافت دیکھ کر پگھل جائے- اس لئے میں یہ پکا کر دینا چاہتوں کہ اب تمہارا اپنے بیچ ہو ئے اس اقرار سے مکرنا تمہاری پوری زندگی کو موت سے بھی زیادہ بدتر بنا سکتا ہے- — ایک منٹ-“ نتن اٹھ کر کونے میں رکھے ایل سی ڈی ٹی وی کے پاس گیا اور اس کے ساتھ رکھے ڈی وی ڈی میں سی ڈی ڈال دی اور واپس آکر بستر پر بیٹھ گیا- ”یہ کچھ حسین پل ہیں جو تم نے میرے ساتھ گزارے ہیں- ٹی وی پر فلم ابھرتے ہی شروتی کا کلیجہ منہ کو آنے لگا- فلم میں شروتی کے ساتھ اس کمرے میں بیتنے والے تمام واقعات کی تفصیل ریکارڈ تھی-تھوڑی ہی دیر میں شروتی نے ٹی وی سے نظریں ہٹا کر نتن کی جانب دیکھا جو اس کی طرف غور سے دیکھے جا رہا تھا- شروتی کی آنکھوں سے آنسو لڑھکنے لگے-

” یہ مجھے دے دو پلیز-“

”ہا- ہا- ہا-“ نتن قہقہہ لگا کر ہنسنے لگا- پھر رک کر بولا- ”کیا اتنا پیار ہے مجھ سے کہ اسے یادگار کے طور پر اپنے ساتھ رکھنا چاہتی ہو- ڈونٹ ووری ڈارلنگ اب تو ہمارا ملنا لگا ہی رہے گا- اس کی ایک کاپی تمہیں بھی دے دوں گا- یہ بھی وعدہ رہا— ایک منٹ— روہن آج ہی عمر کوٹ جانے کی بات کر رہاتھا- میں اس کا فون ملاتا ہوں- تم اس سے کہنا کہ تمہارا آج ہی اس سے ملنا بہت ضروری ہے- سپنے کے بارے میں بات کرنی ہے-“ کہہ کر نتن نے روہن کا نمبر ڈائل کیا-

٭٭٭٭٭٭٭

پٹھان والی سیٹ جہاں اب وہ دونوں لڑکیاں بیٹھی تھیں- نیچے پڑا ہوا موبائل ہلنے لگا- فون وائبریشن پر سیٹ کیا ہوا تھا- نتن نے کئی بار نمبر ٹرائی کیا اور آخر میں غصے سے اپنے فون کو بستر پہ پٹخ دیا-

”لگتا ہے ابھی تک سو رہا ہے- چلو بعد میں ٹرائی کرتے ہیں- تم جلدی سے تیار ہوجاﺅ نہیں تو کالج پہنچنے میں لیٹ ہونے پر تم مجھ سے ناراض ہوجاﺅ گی- ہی ہی ہی-“

٭٭٭٭٭٭٭

”ایک منٹ رک جا نہ یار- ان کو اترنے دے-“

میر پورخاص بس اسٹینڈ پر اترتے وقت رویندر نے روہن کے کندھے پر ٹنگے بیگ کو پکڑ کر کھینچ لیا-

”کیوں؟-“ اب کیا کسر رہ گئی ہے- جلدی چل اور پتہ کرکے آ عمر کوٹ کے لئے بس کہاں سے ملے گی-“ روہن نے اس کو لگ بھگ گھسیٹتے ہوئے کہا-”سارے راستے تم نے ان کی ناک میں دم کئے رکھا- اب ان کا علاقہ آگیا ہے- یہاں تمہیں چھوڑیں گی نہیں دیکھ لینا-“

”آئے ہائے- کیا بات ہے میرے یار کی- علاقہ ہی نہیں سچ پوچھو تو میں بھی اب ان کا ہی ہو گیا ہوں- خاص طور پر اس لال مرچی کا- دیکھا نہیں تم نے- پیچھے مڑ کر ایسے دیکھ رہی تھی جیسے کھا جائے گی وہیں—- اف یہ تھر کی لڑکیاں-“ رویندر نے پیچھے مڑ کر بس کی طرف دیکھتے ہوئے کہا-

لڑکیاں ابھی بس سے اتری نہیں تھیں- جیسے ہی ریتو اترنے لگی- اس کو پیر کے نیچے کچھ محسوس ہوا- یہ موبائل تھا-

”اوہ یہ کس کا رہ گیا؟-“

”ڈرائیور کو دے دو ریتو- شاید بیچارے خان صاحب کا ہوگا- واپس آئے گا تو ڈرائیور سے ہی پوچھے گا-“ دوسری لڑکی نے ریتو سے کہا-

”تم پاگل ہو کیا- اتنا مہنگا فون- کوئی واپس نہیں کرے گا اس کو- جس کا بھی ہوگا وہ اس نمبر پر فون تو کرے گا ہی- تبھی ہم بتا دیں گے کہ فون ہمارے پاس ہے- آکر لے جاﺅ-“ ریتو نے سمجھداری کی بات کہی-

”ہاں یہ بات بھی ٹھیک ہے— اے — اس لڑکے کا تو نہیں ہے یہ فون؟– دیکھ ہماری طرف ہی آرہا ہے–“ لڑکی نے بس سے اترتے ہی رویندر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا-

ریتو‘ رویندر کو دیکھ کر آگ بگولہ ہوگئی- ”آنے دو اس کو- اس کو تو میں ایسا فون دوں گی کہ سپنے میں بھی یاد کرے گا مجھے- تم چپ رہنا بس-“ ریتو نے فون اپنے پرس میں ڈال لیا-

ریتو کے پاس آتے ہی رویندر اس کے تیور دیکھ کر سٹپٹا سا گیا- وہ لگاتا ر اس کو گھور ے جا رہی تھی- رویندر کی ٹون اچانک بدل گئی-

”آپ تو برا مان گئیں- میں نے تو یونہی آپ کو اپنا مان کر آپ سے مذاق کر دیاتھا تاکہ سفر اچھا گزرے-“

پہلی بار ویندر کے منہ سے ایسی بات سن کر ریتو کے تیور بھی بدل گئے-

”اچھا- ایک ہم ہی اپنے سے لگے آپ کو پوری بس میں؟-“

” اجی میرا کیا ہے- میں تو ابھی بالکل کنوارا ہوں-“ رویندر نے کنوارے پر خاص طور سے زور دیتے ہوئے کہا-”ابھی تو سبھی اپنی ہیں- جب تک کوئی لپیٹتی نہیں- ویسے یہ عمر کوٹ کے لئے بس کہاں سے ملے گی؟-“

”عمر کوٹ— تم—“ دوسری لڑکی بولنے لگی تھی کہ ریتو نے اس کا ہاتھ پکڑ کر دبوچ لیا-

”پہلی بار آئے ہو کیا اس علاقے میں؟-“ ریتو نے پراسرار انداز میں مسکراتے ہوئے پوچھا-

”اور نہیں تو کیا- بس یوں سمجھ لو کہ خدا نے تم سے ملانے کے لئے ہی یہاں کھینچ لیا ہے- اس روہن کی وجہ سے- میرا نام رویندر ہے— آپ کا؟-“

ریتو کے میٹھا بولتے ہی رویندر سیدھا لائن بازی پر اتر آیا-

”انارکلی— اچھا ہے نا-“ ریتو یہ کہہ کر ہنسنے لگی-

” جی بہت پیارا ہے- کاش میرا نام سلیم ہوتا- اور ان کا-“ رویندر نے دوسری لڑکی کو دیکھتے ہوئے پوچھا-

”گلابو— تم راستہ پوچھنے آئے تھے یا-“ ریتو اب پک گئی تھی-

”جی پلیز- آپ کی بہت مہربانی ہوگی-“ رویندر نے ادب سے جھکتے ہوئے کہا-

”تمہیں گھنٹہ بھر انتظار کرنا پڑے گا – اس کے بعد وہ سامنے ملے گی- ہوگیا؟-“ ریتو نے منہ بنا کر کہا-

”اجی ہمیں تو پہلی نظر میں ہی ہو گیا تھا- بس آپ کی عنایت کی ضرورت ہے-“ رویندر جاتے جاتے بھی مذاق کرنے سے باز نہیں آیا-

دوسری لڑکی جسے گلابو کہا گیا تھا ‘نے رویندر کے جاتے ہی ریتو کو گھورا- ”تم نے ان کو جھوٹ کیوں بولا- بس تو چلنے ہی والی ہوگی- اس کے بعد جانے کب آئے؟-“

”کیا بات ہے – بڑی ہمدردی ہو رہی ہے- کون سا پسند آگیا-“ ریتو نے چھیڑتے ہوئے کہا-

”تمہیں پتہ ہے ریتو کہ مجھے ایسی باتیں بالکل پسند نہیں ہیں- پھر کیوں-“گلابو ناراض سی ہوتے ہوئے بولی-

”ارے یار – مذاق بھی نہیں کر سکتی کیا؟- اگر میں اس کو الو نہیں بناتی تو وہ پھر سے ہمیں پکاتے ہوئے چلتے- ساتھ ساتھ- چلو اب جلدی کرو- بس نکل گئی تو-“

دونوں جاکر بس میں بیٹھ گئیں جو چلنے کو تیار ہی تھی- اور بس چل پڑی-ریتو نے بس میں بیٹھے ہوئے ہی رویندر کو ٹھینگا دکھا کر چڑایا اور کھلکھلا کر ہنسنے لگی-

”یار اگر ان کی بس نہیں چلتی تو یہ انارکلی تو پٹی پٹائی تھی-“ رویندر نے اپنے ہاتھ مسلتے ہوئے کہا-

”ہونہہ- تجھے لگتا ہے کہ تُو اس جنم میں کوئی لڑکی پٹا پائے گا؟-“ روہن مسکراکر بولا-

”ارے کیا بات کر رہے ہو یار- تم نے وہ— کیا کہتے ہیں— تم نے وہ مقولہ نہیں سنا کہ ”لڑکی ہنسی تو پھنسی“ دیکھا نہیں تم نے اسے میری طرف دیکھ کر ہنستے ہوئے-“رویندر کہاں ہار ماننے والا تھا-

”ہاں ہنس تو رہی تھی- چل چھوڑ یار اب گھنٹہ بھر انتظار کیسے ہوگا- اور کوئی گاڑی نہیں جاتی کیا عمر کوٹ؟-“ روہن کو عمر کوٹ پہنچنے کی جلدی تھی-

”یار یہ میرپورخاص تک کی بات تو سمجھ میں آتی ہے- لیکن یہ عمر کوٹ میں تمہاری کون سی اپائنٹمنٹ ہے‘ جہاں جانے کے لئے بس کا لمبا انتظار کرنا پڑتا ہے-“ رویندر نے کہا اور اخبار بیچنے والے لڑکے کو دیکھ کر اسے آواز دی- ہاکر لڑکا بھاگا بھاگا آیا-

”جی صاحب- کون سا دوں؟-“

”یہ عمر کوٹ کے لئے بس کب جائے گی- اور کوئی گاڑی نہیں جاتی کیا وہاں-“ روی نے پوچھا-

”ابھی آپ کے سامنے ہی تو گئی ہے صاحب یہیں سے- عمر کوٹ والی- ویسے باہرباہر جاکر کسی سے بھی لفٹ کے لئے کہہ سکتے ہیں- ہم تھر کے لوگ بڑے دل والے ہوتے ہیں-ہی ہی ہی- اخبار کون سا دوں-“

” ہوں- بہت بڑ ے دل والے ہوتے ہیں تھر کے لوگ- اگر تمہاری کسی اخبار والے سے سیٹنگ ہے تو ایک خبر چھپوا دینا- ایک سکڑی سی تھری لڑکی ہمیں الو بنا کر چلی گئی—چلو – لاﺅ کوئی سا بھی دے دو-“ رویندر نے کہتے ہوئے روہن کی طرف مایوسی سے دیکھا-

” اب سمجھ آیا کہ کیوں ہنس رہی تھی وہ- کہتا ہے ہنسی تو پھنسی- چل آجا باہر- اب لٹک کر چلتے ہیں- لفٹ لے کر-“ روہن باہر کی طرف جاتے ہوئے بولا-

”میری کیا غلطی ہے یار-“ رویند سنجیدہ ہوتے ہوئے اس کے ساتھ چلنے لگا-

”نہیں نہیں غلطی تو میری ہے جو تمہیں ساتھ لے آیا- ابے ان سے ہی راستہ پوچھنا تھا تمہیں-“ روہن اور رویندر باہر آکر کھڑ ے ہی ہوئے تھے کہ ایک لمبی سی گاڑی ان کے پاس آکر رکی- گاڑی کا شیشہ نیچے ہوا اور اندر بیٹھے ایک بہت ہی اسمارٹ نوجوان نے ان سے پوچھا-

”بھائی صاحب- یہ عمر کوٹ اور کتنی دور ہے-“ روہن بولنے ہی والا تھا کہ رویندر نے جھٹ سے اندر ہاتھ دے کر دروازہ کھولا اور ٹپک کر اندر بیٹھ گیا-

”کیا ہے بھائی صاحب- “ نوجوان نے آنکھوں سے چشمہ ہٹاتے ہوئے پوچھا-

”رویندر نے اس کی بات پر کوئی دھیان نہیں دیا اور پچھلا دروازہ بھی کھول دیا- ”بیٹھ جاﺅ روہن- بھائی صاحب بھی عمر کوٹ ہی جا رہے ہیں-“ روہن نے اس نوجوان سے نظریں ملائیں تو اس نے اپنے کندھے اچکا دیئے- روہن کار کے اندر بیٹھ گیا اور نوجوان نے گاڑی دوڑا دی-

”کتنی دور ہوگا عمر کوٹ یہاں سے؟-“ نوجوان نے پھر پوچھا-

”آگے چل کر پوچھ لیتے ہیں نا- ٹینشن نہ لو بھائی- اب میں ساتھ ہوں نا-“ رویندر نے مسکرا کر اس کی طرف دیکھا-

”یعنی تمہیں بھی نہیں پتہ؟-“ نوجوان نے چہرہ گھما کر رویندر کو غور سے دیکھا-

”ہوں- ایسا ہے بھائی صاحب- ایکچوئلی ہم بھی پہلی بار ہی آئے ہیں- میں نے سوچا ایک سے بھلے تین- آپ کی بھی مدد ہوجائے گی اور ہم بھی پہنچ جائیں گے-“ رویندر نے جواب دیا-

”ہا- ہا- ہا- کمال کے آدمی ہو یار- لو- سگریٹ پیتے ہو؟-“ نوجوان نے سگریٹ نکالتے ہوئے پوچھا-

”نا بھئی نا- اور جب تک ہم گاڑی میں ہیں اس کو سلگانا بھی مت-“ رویندر نے گاڑی پر ہی قبضہ سا کر لیا-

نوجوان نے اچانک بریک لگا دی اور رویندر کو گھور کر دیکھنے لگا-

”کیا ہوا بھائی — آگے چل کر پوچھ لیتے ہیں نا-“ رویندر نے اس کے ہاتھ سے سگریٹ لے کر واپس پیکٹ میں ڈال دی-

نوجوان کچھ حیرت زدہ سا لگ رہا تھا- اچانک قہقہہ لگا کر زور زور سے ہنسنے لگا اور گاڑی چلا دی-

” نام کیا ہے آپ کا؟-“ رویندر سے زیادہ دیر چپ بیٹھا نہیں گیا-

”شیکھر-“نوجوان نے ہلکے سے مسکراتے ہوئے کہا اور پھر پوچھا- ” اپنا بھی بتا دو یار- تم ویسے بھی مانوگے نہیں بنا بتائے-“

”رویندر— اور یہ جو پیچھے بیٹھا مجھے گھور رہا ہے – یہ روہن ہے- میرا سب سے پیارا دوست- یہ مت سمجھنا کہ یہ غصے میں ہے- دراصل قریب دو مہینے سے اس کی شکل ہی ایسی رہتی ہے-“

”ایسا کیا ہوگیا تھا بھائی- گرل فرینڈ روٹھ گئی تھی کیا-“ شیکھر نے پیچھے دیکھتے ہوئے کہا-

”نہیں بھائی- آپ ابھی تک بھی نہیں سمجھے کیا اس کو- یہ ایسا ہی ہے- اس کی کسی بات کا برا مت ماننا-“ روہن گاڑی میں بیٹھنے کے بعد پہلی بار بولا-

”ہا- ہا- ہا- وہ تو میں دیکھ ہی رہا ہوں- ویسے عمر کوٹ میں کوئی رشتے داری ہے کیا؟-“ شیکھر نے پوچھا-

روہن کے بولنے سے پلے ہی رویندر بول پڑا- ”رشتے داری؟- اجی مجھے تو ابھی یہ بھی نہیں پتہ کہ فٹ پاتھ پر سلائے گا یا کوئی ہوٹل بھی نصیب ہوگا کہ نہیں- جانے کیا رکھ کر بھول گیا ہے عمر کوٹ میں-“ رونی نے منہ بناتے ہوئے کہا-

”جہاں میں سوﺅں گا وہاں تو سلا ہی لوں گا- اب تیرے لئے وہاں ہوٹل تو کھولنے سے رہا میں-“ روہن نے کہا-

”ویسے بتا دو یار کہ جا کس کام سے رہے ہو-“ شیکھر کو جاننے کی جستجو ہو رہی تھی-

”ابھی مجھے بھی نہیں بتایا تو تمہیں کیا بتاﺅں- ویسے پانچ سات دن کا کام بول رہا ہے- اب بتا بھی دو یار کیوں دماغ کے کیڑوںکو بے چین کر رہا ہے-“ رویندر ‘ روہن کو دیکھتے ہوئے بولا-

روہن کھڑکی سے باہر دیکھنے لگا- اس کو کچھ نا بولتا دیکھ کر شیکھر ہی بول دیا-

”ویسے اگر پانچ سات دن کی بات ہے تو تم میرے ساتھ رہ سکتے ہو- وہاں میرے دوست کی کوٹھی ہے- اکیلا رہتا ہے- اگر تمہارے سیکرٹ مشن پر کوئی آنچ نہ آ رہی ہو تو؟-“

”تھینکس یار- تم تو مجھ سے بھی زیادہ کمال کے ہو- بنا جانے پوچھے ہی ساتھ رہنے کی آفر کر دی- اپنی خوب جمے گی لگتا ہے-“ رویندر نے خوش ہوکر کہا-

”تمہیں جاننے میں کسی کو وقت ہی کتنا لگ سکتا ہے- “ شیکھر نے کہا اور ہنسنے لگا-

روہن بھی مسکرائے بغیر نہیں رہ سکا- اچانک گاڑی کے بریک لگتے ہی روہن اور رویندر کا دھیان آگے کی طرف گیا-

”اوہ تیری- یہ تو وہی بس ہے-“ روی نے کہا- بس سڑک کے بیچوں بیچ کھڑی تھی- اس کے سامنے ٹریکٹر کھڑا تھا- شاید بس کا ایکسیڈنٹ ہوگیا تھا- بس کے پاس ہی آٹھ دس سواریاں کھڑی تھیں- ان میں ہی رویندر کی انارکلی اور وہ گلابو بھی تھیں-رویندر کا دھیان سیدھا ان ہی پر گیا-

”ایک منٹ روکنا شیکھر بھائی- رویندر نے کہا اور باہر منہ نکال کر زور سے آواز لگائی- ”آجاﺅ- آجاﺅ-“ جیسے ان کی پرانی جان پہچان ہو-

لیکن شیکھر کو اب کی بار غصہ نہیں آیا- وہ بس رویندر کو دیکھ کر مسکراتا رہا- رویندر کے آواز لگاتے ہی ان دونوں لڑکیوں کو چھوڑ کر سبھی لوگ بھاگ بھاگے آئے-

”شکریہ سائیں-“ ان میں سے ایک سواری نے پاس آتے ہی کہا-

”ارے سائیں کرائے کی نہیں ہے- اپنی ہے اپنی-“ رویندر نے کہا اور کار سے اتر کر ان دونوں لڑکیوں کی طرف بڑھا- ”آ بھی جاﺅ- کب تک کھڑ ی رہو گی- بس تو ایک گھنٹے کے بعد آئے گی نا-“

دونوں لڑکیوں نے جھینپ کر اپنا منہ پھر لیا- کچھ دیر پہلے ہی تو ریتو نے اس کو الو بنایا تھا-

”سوچ کیا رہی ہو انار کلی اینڈ کمپنی- یہ سوچنے کا نہیں گاڑی میں بیٹھنے کا وقت ہے- جلدی کرو-آجاﺅ- میں گاڑی کو دو منٹ سے زیادہ رکوا نہیں پاﺅں گا-“ رویندر نے کہا اور گھوم کر واپس چلنے لگا-

”کیا کریں- چلیں؟-“ ریتو نے پوچھا-

”تم پاگل ہو کیا- دماغ تو خراب نہیں ہوگیا- انجان لڑکوں کے ساتھ ہم گاڑی میں کیسے بیٹھیں- ذرا سوچ کے بولا کر-“ دوسری لڑکی نے صاف منع کر دیا-

”ارے انجان ونجان کچھ نہیں ہیںاور پھر اب اندھیرا بھی ہونے والا ہے- ساری بسیں بھری ہوئی آ رہی ہیں- کب تک انتظار کریں گے؟— جہاں تک اس الو کی بات ہے- اس کو میں اچھی طرح سمجھ گئی ہوں- اس کی بس بولنے کی عادت ہے- کچھ کرنے ورنے کا دم نہیں اس میں- اور دوسرا لڑکا تو ایک دم شریف ہے- وہ تو کچھ بولتا بھی نہیں ہے- چل نا کچھ نہیں ہوتا-“ ریتو نے اس کا ہاتھ پکڑتے ہوئے کہا- لڑکی نے گردن گھما کی گاڑی کی طرف دیکھا اور کچھ دیر رک کر ساتھ ساتھ چلنے لگی- ان کے کار کے پاس پہنچتے ہی روہن نے دروازہ کھول دیا اور ایک طرف ہو گیا-

”تم بیٹھو پہلے-“ دوسری لڑکی نے ریتو سے کہا-

”ٹھیک ہے-“ ریتو ‘ روہن کے ساتھ بیچ میں بیٹھ گئی-

اس لڑکی کے بیٹھنے کے ساتھ ہی شیکھر نے کار چلا دی-اس کی سمجھ میں ابھی تک کچھ نہیں آیا تھا کہ ماجرا کیا ہے- لیکن رویندر تھا نا- کار کے چلتے ہی شروع ہوگیا-

”ان سے ملئے بھائی صاحب-ایک ہے انار کلی اور دوسری گلابو- اگر آج یہ نا ہوتی تو ہم اور آپ نہیں مل پاتے- اور نہ ہی ہمارا عمر کوٹ میں رہنے کا اتنا اچھا انتظام ہوتا-“ کہہ کر رویندر ہنسنے لگا-

”ایسا کیوں؟-“ شیکھر نے متجسس ہوکر پوچھا-

”وہ تو تم انہی سے پوچھ لو- ورنہ میں تو بتاﺅں گا ہی- نمک مرچ لگا کر- بتا دو اب- انجان مسافروں کو الو بنانے کا قصہ-“

لڑکیاں سر جھکائے بیٹھی تھیں- ان سے کچھ بولا ہی نہیں جا رہا تھا- شیکھر نے بات کو وہیں چھوڑ دیا اور پوچھنے لگا-

”ویسے جانا کہاں تک آپ کو؟-“

”جی- عمر کوٹ-“ریتو نے سر جھکائے ہوئے ہی جواب دیا-

”ہوں- یعنی ہم سب ایک ہی منزل کے مسافر ہیں- “ شیکھر نے یہ کہہ کر کار کی اسپیڈ بڑھا دی-

٭٭٭٭٭٭٭

جاری ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

خانقاہ قسط نمبر 2 کاوش صدیقی

خانقاہ قسط نمبر 2 کاوش صدیقی ”کیا ہو رہا ہے۔؟“کسی نے میر ے شانے پر …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے