سر ورق / افسانہ / دل کے قصّے میں… شکیل احمد چوہان

دل کے قصّے میں… شکیل احمد چوہان

دل کے قصّے میں

شکیل احمد چوہان

”دل کے قصے میں ہماری پھر سے ہار ہوئی

ایسا کئی بار ہوا ہمیشہ ہر بار ہوئی

کیسا لگا میرا شعر؟“ سید کاشف امین نے پوچھا اپنے سامنے بیٹھے ہوئے روحان حیدر کیانی سے۔

روحان نے مسکراتے ہوئے اپنے ابرو کو جنبش دی اور کہا:

”تمھارے جیسا ہی ہے۔“

”کیانی صاحب میں تم سے ملنے آیا ہوں وہ بھی اتنی سردی میں اور تم ہو کہ اس پینٹگ میں بزی ہو۔ ویسے ایک خبر ہے تمھارے لیے، مجھے پھر محبت ہو گئی ہے۔“

روحان نے کاشف کی بات سن کر ہنسنا شروع کر دیا، روحان جیسا بندہ جو کہ ہنسنے کے معاملے میں انتہائی کنجوس تھا وہ اُس دن زور زور سے ہنس رہا تھا۔

”پچھلے دس سال میں غالباً چھ سات دفعہ تم یہ اعزاز حاصل کر چکے ہو۔“ روحان نے ہنستے ہوئے کاشف کا ٹریک ریکارڈ اُسے بتایا۔

”اس بار سچی محبت ہے۔“ کاشف نے اپنی نیت بتائی۔

”کیا محبت بھی جھوٹی ہوتی ہے؟ سید کاشف مجھے یاد ہے تمھیں چودہ سال کی عمر میں پہلی محبت ہوئی تھی اور آج دس سال بعد چھٹی یا ساتویں بار یہ گولڈ میڈل تم نے پھر حاصل کیا ہے۔“

”یہ فائنل ہے ہفتہ پہلے فلائٹ میں اُس سے ملاقات ہوئی، مجھے ارفع اچھی لگی تھی، تیسری ملاقات میں اُسے دل کی بات کہہ دی۔ کل ممی پاپا کو اُن کی طرف بھیج دیا وہ بھی ایکسپوٹر ہی کی بیٹی ہے۔ آسٹریلیا میں پڑھتی تھی اپنی اسٹڈی مکمل کر کے لوٹی ہے۔ ارفع کے ڈیڈی پہلے سے پاپا کو جانتے ہیں۔ انھوں نے فوراً ہاں کر دی۔“ کاشف نے اچھے ٹی وی رپوٹر کی طرح ساری رپورٹ دی۔

”کاشف تم نے ہمیشہ دماغ سے محبت کی ہے، تم محبت نہیں معیار دیکھتے ہو۔ خوب صورتی کا معیار پھر خاندانی رتبہ، مقام اگر وہ لڑکی تمھارے معیار پر پوری اُتر جائے پھر تمھاری شرطیں شروع ہو جاتی ہیں۔ محبت عقل سے عقل والوں کے ساتھ نہیں کی جاتی بلکہ محبت دل سے دل رکھنے والوں کے ساتھ ہو جاتی ہے۔“ روحان نے سنجیدگی سے کہا۔

”بھائی صاحب! آپ والی محبت صرف کتابوں میں ملے گی۔ حقیقت میں اس کا کوئی وجود نہیں۔ چھ بار کا تجربہ ہے۔ تین لڑکیوں نے مجھے صرف اس لیے چھوڑ دیا کہ اُنھیں مجھ سے امیر اور اچھے لڑکے مل گئے تھے۔“ کاشف نے افسردگی سے جواب دیا۔ روحان مسکرایا اور بولا:

”دو دفعہ تو تم نے بھی گھر والوں کو خود کشی کی دھمکی دی تھی، ایک دفعہ نیند کی گولیاں بھی کھا لیں تھیں، وہ کیا تھا؟“

”چھوڑو دفعہ کرو پرانی باتیں تم چائے کا بولو ساتھ کچھ کھانے کو بھی ہو۔“

کاشف نے مزید شرمندگی سے بچنے کے لیے جلدی سے بات بدل دی۔

روحان اور کاشف بچپن کے دوست تھے۔ روحان کے ابا کارگل کی جنگ میں شہید ہو گئے تھے۔ اس کی ماں مرئے کالج سیالکوٹ میں اردو کی پروفیسر تھیں، روحان کی ماں نے دوبارہ سہاگن بننے کے بجائے شہید کی بیوہ رہنے کو ترجیح دی، روحان بڑا تھا اُس سے چھوٹی ایک بہن تھی۔

کاشف کا تعلق ایک بڑے خاندان سے تھا۔ وہ مالی اور افرادی قوت سے مالا مال تھا۔ کاشف کے خاندان میں رشتہ داری اور تعلق داری، مالی نفع نقصان دیکھ کر کی جاتی تھی۔

کاشف کے باپ نے یہ رشتہ بھی بزنس ڈیل کی طرح ہی کیا تھا۔ کاشف اپنے باپ کی تین فیکٹریوں میں سے ایک دیکھتا تھا۔ اس کے برعکس روحان ایک مشہور پینٹر بننا چاہتا تھا، وہ NCA سے حال ہی میں پاس آو ¿ٹ ہوا تھا۔

روحان نے برش اور پینٹ پلیٹ رکھی اور کمرے سے چلا گیا، کاشف اس پینٹگ کے پاس آکر کھڑا ہو گیا جو کہ روحان بنا رہا تھا۔ تھوڑی دیر بعد روحان ٹرے اٹھائے کمرے میں داخل ہوا۔

”ماں جان نے پہلے ہی چائے بنا دی تھی۔“ روحان نے ٹرے رکھتے ہوئے کاشف کی طرف دیکھتے ہوئے بتایا۔

”یہ تصویر تو کسی لڑکی کی ہے!“ کاشف نے صوفے پر بیٹھتے ہوئے کہا تھا۔

”ہاں!“ روحان نے پرچ کپ کاشف کو تھماتے ہوئے مختصر سا جواب دیا اور اپنی چائے پینے میں مصروف ہو گیا۔ اس کی نظریں پینٹنگ پر ٹکی ہوئی تھیں اور کاشف کی اُس کے رخسار پر۔

”سیدھی طرح کہو بھابھی کی تصویر بنا رہے ہو۔“ کاشف جانچتی نگاہوں سے روحان کی طرف دیکھتے ہوئے بولا۔

”روحی چوہدری بھی تو لڑکی ہی ہے۔“ روحان نے سنجیدگی سے کاشف کو بتایا۔

”اور وہ لڑکی تمھاری منگیتر بھی تو ہے۔“

”تو؟“

”ہماری فیکٹری والی مسجد کے مولوی صاحب بتا رہے تھے، تصویریں بنانے والے جہنم میں جائیں گے۔“ کاشف نے مولوی صاحب کی جمعہ کی تقریر سے اقتباس سنایا۔

”اس جمعہ مولوی صاحب سے پوچھنا ”سلفی“ بنانے والے بھی اُس میں شامل ہیں یا پھر صرف پینٹرز ہی کو دوزخ میں جانا ہے؟“ روحان چائے ختم کر کے اپنا برش پکڑتے ہوئے کہا۔

”سنس آف ہیومر تو تمھارا بچپن ہی سے بہت اچھا ہے۔“ کاشف بھی چائے ختم کر کے روحان کے پاس کھڑا ہو گیا۔

”تم نے رنگوں کی مدد سے اپنی محبت کو اس پینٹنگ میں قید کر لیا ہے۔“ کاشف کی بات میں تعریف کم اور شرارت زیادہ تھی۔

”سید کاشف! محبت رنگوں کی قید سے آزاد ہے۔“ روحان نے پینٹنگ پر اسٹروک لگاتے ہوئے جواب دیا۔

”کچھ بھی کر لو یہ لڑکیاں کسی قید کو نہیں مانتیں۔ یہ سیدھی نہیں ہو سکتیں ، یہ ٹیڑھی ہی رہیں گی۔“ سید کاشف نے اپنا دکھڑا رویا۔

”کیوں کرنا چاہتے ہو لڑکیوں کو قید؟“ روحان نے بغیر دیکھے پوچھا۔

”چلو سیدھی ہی ہو جائیں۔“ کاشف نے دوسری خواہش بتا دی۔

”سیدھا کرنا چاہو گے تو وہ ٹوٹ جائیں گی مگر سیدھی نہیں ہوں گی۔ اللہ رب العزت نے عورت کو پسلی سے پیدا کیا ہے۔ پسلی ٹیڑھی تھوڑی ہے۔ وہ تو کمان ہے۔ عورت بھی کمان ہی کی طرح ہے۔ زندگی کی جنگ میں بچاتی بھی ہے اور مرواتی بھی ہے، اگر یہ کمان حیا کی رسی سے بندھی رہے تو سید کاشف! اسے سیدھا کرنے کی کیا ضرورت ہے؟“

روحان نے برش رکھا اور دو قدم پیچھے ہٹ کر اپنے دونوں ہاتھوں کو بغلوں میں دبا کر کھڑا ہو گیا اور اپنی تخلیق کو دیکھنے لگا۔

بھنویں ایسی جیسی کمان ہوں نظریں تیر جیسی گال ایسے جیسے دہکتے انگارے گھٹا گھنگور جیسے گیسو شربتی نین موتیوں کی طرح چمکتے دانت یہ سانولی سالونی اور نمکین لڑکی روحی چوہدری کی تصویر تھی۔

روحی چوہدری دبنگ لڑکی تھی۔ اُس نے خود روحان سے اپنی محبت کا اظہار کیا۔ یہ اُن دنوں کی بات ہے جب روحان NCA میں پڑھتا تھا اور روحی چوہدری پنجاب یونی ورسٹی کے اولڈ کیمپس میں پڑھتی تھی۔ روحی چوھدری اور روحان حیدر کیانی آپس میں خالہ زاد تھے۔ روحی روحان کی سب سے بڑی خالہ کی سب سے چھوٹی بیٹی تھی۔ روحان ہاسٹل میں رہتا تھا اور کبھی کبھار اپنی خالہ کی طرف سمن آباد چلا جاتا، روحان کے دل میں کبھی بھی روحی کے لیے کوئی ایسا جذبہ نہیں تھا۔ اس کی وجہ شاید روحی کی بے باک ، بے مہار اور بے ہنگم قسم کی شخصیت تھی۔

ایک دن روحان کی خالہ نے سمن آباد اُسے اپنی طرف بلایا۔ سردی کی آمد آمد تھی رات کا کھانا کھانے کے بعد روحان چھت پر کبوتروں کے ڈربے کے پاس سگریٹ سلگائے کھڑا تھا ۔ وہ خالہ اور خالو کے احترام کی وجہ سے چھت پر سگریٹ پینے چلا آیا، روحان اپنی سوچوں میں کھویا ہوا تھا۔ تب روحی چھت پر چلی آئی۔

”پینٹر بابو! کن سوچوں میں گم ہو؟“ روحی دو فٹ پیچھے کھڑی ہو کر بولی۔ روحان واپس مڑا تو چائے کے مگ گرتے گرتے بچے تھے جو کہ روحی کے ہاتھوں میں تھے۔

”ماما نے کہا چائے اوپر ہی لے جاو ¿۔“ روحی نے چائے پکڑاتے ہوئے کہا۔

دونوں چپ چاپ چائے پیتے رہے۔ چائے ختم کرنے کے بعد روحان بولا:

”میں چلتا ہوں۔“ روحان نے نیچے جاتی سیڑھیوں کی طرف قدم اٹھائے ہی تھے، روحی کے تین لفظوں نے اُس کے قدم روک دیے۔

”آئی لو یو۔“

روحان نے پلٹ کر روحی کی طرف دیکھا۔

”بچپن سے محبت کرتی ہوں تمھیں۔“ روحی بے باکی سے بول رہی تھی ۔ روحان کے چہرے پر حیرت تھی۔

”ایسی ہی ہوں میں۔ تم تو کبھی نہ کہتے یہ سب اس لیے میں نے ہی کہہ دیا ہے۔“ روحی نے محبت کا اظہار ایسے کیا جیسے حکم سنایا ہو۔ روحان تھوڑی دیر تک اُس کے چہرے کو دیکھتا رہا۔ اس کے بعد پلٹا جانے کے لیے۔ روحی نے بڑھ کر روحان کی کلائی پکڑ لی۔

”میجر کے بیٹے ہو کر بھی تم تو بہت ہی ڈرپوک ہو۔“

”میجر کا بیٹا بزدل ہو تو کوئی بات نہیں مگر اُسے بے حیا نہیں ہونا چاہیے۔“ روحان نے کلائی چھڑاتے ہوئے جواب دیا۔

”محبت کا اظہار ہے، بے حیائی تھوڑی ہے!“ روحی نے روحان سے آنکھیں ملاتے ہوئے اپنی صفائی دی۔

”حیا کو بے باکی دھکا مار دے تو وہ بے حیائی بن جاتی ہے۔“

”اس بے باکی پر اپنی محبت کی چادر ڈال دو۔“ روحی چوہدری دیدہ دلیری سے بولی۔

”میری چادر میں گزرے دنوں کی چند یادیں لپٹی ہیں۔“ روحان نے کھوئی کھوئی آواز کے ساتھ جواب دیا۔

”اُن یادوں کی رہائی کا وقت آگیا ہے۔“ روحی نے روحان کا ہاتھ تھامتے ہوئے محبت سے کہا۔

”روحی!“ روحان نے اپنا ہاتھ چھڑایا اور اپنی جیب سے سگریٹ کی ڈبیہ نکالی اور سگریٹ جلایا اور لمبا کش لگا کر بولا:

”سارا گیلانی میری کلاس فیلو تھی۔ NCA جوائن کرنے کے تیسرے دن سے لے کر تین سال تک ہم اکٹھے رہے۔ وہ اکثر مجھے کہتی تھی: روحان اگر تم مجھے نہیں ملے تو میری روح نکل جائے گی۔ سارا کی روح تو نہیں نکلی وہ ضرور اپنے ہسبینڈ کے ساتھ لندن کو نکل گئی۔ اُس نے شادی کرنے کی وجہ بتائی نہیں اور میں نے پوچھی نہیں۔ آپ تو خود ہی روح ہی ہیں۔“

روحان نے پرانی یادوں کا دریچہ بند کیا سگریٹ کو دیوار کے ساتھ ملیا میٹ کیا اور وہاں سے چلا گیا۔ چند دنوں کے بعد روحان کی ماں نے اُس سے رائے طلب کی کہ اگر اُس کا رشتہ روحی سے کر دیا جائے تو اُسے کوئی اعتراض تو نہیں ہو گا؟

”روحان بیٹا! آپا، روحی کے رشتے کو لے کر بہت پریشان ہیں، انھوں نے خود مجھ سے اس سلسلے میں بات کی تھی۔ روحی کو تو تم بہت پسند ہو۔“ روحان نے حیرانی سے اپنی ماں کو دیکھا اور کہا:

”ماں جان آپ! کیا آپ اُس لڑکی کے ساتھ رہ سکتی ہیں؟“ روحان کی ماں نے کچھ دیر سوچا پھر بولیں:

”تھوڑی بدلحاظ ہے اور“

”اور یہ کہ آپ اپنی بہن کی محبت میں یہ سوچنے پر مجبور ہیں کہ روحی کو اپنی بہو بنا لیا جائے۔ ماں جان! آپ روحی کے ساتھ نہیں چل سکتیں۔“

”روحان! آپا نے مجھ سے بات کی تھی، میں نے انھیں صاف صاف کہہ دیا تھا کہ میں روحان کی مرضی پوچھے بغیر کچھ نہیں کہہ سکتی۔ اب تم بتاو ¿ تمھاری کیا رائے ہے؟“

”پہلے آپ بتائیں آپ کے دماغ میں کیا چل رہا ہے؟“ روحان نے سوال پر سوال کر دیا تھا۔

”دیکھو روحان! اب ایسی بُری بھی نہیں ہے روحی“

”مطلب آپ فیصلہ کر چکی ہیں؟“ روحان نے آگے بڑھ کر اپنی ماں کو گلے لگایا تھا۔

”جیسے آپ کی خوشی ماں جان!“

روحان حیدر کیانی اب بھی اپنی تخلیق میں کھویا ہوا تھا۔ تھوڑی دیر تک سید کاشف اُسے دیکھتا رہا۔ پھر واش روم چلا گیا۔ جب وہ واش روم سے لوٹا تو روحان اُسی پوز میں کھڑا تھا۔

”جناب اس پینٹنگ سے باہر نکل آئیں۔“

روحان کی نظریں تو پینٹنگ پر تھیں مگر اس کے ذہن میں یادوں کا میموری کارڈ ON تھا۔

”لگتا ہے بھابھی سے بہت محبت کرتے ہو۔“ سید کاشف نے روحان کو چھیڑا۔

”آج ایک سچ بولوں؟“ روحان نے ایسے کہا تھا جیسے وہ سید کاشف سے سچ بولنے کی اجازت مانگ رہا ہو۔

”مجھے روحی سے کبھی بھی محبت نہیں رہی، میری محبت تو سارا تھی۔“

”سارا؟ کون سارا؟“ سید کاشف حیرت سے بولا۔

”پتہ نہیں نام تو اس کا سارا گیلانی تھاپر میں یہ نہیں جان سکا کہ وہ کیا تھی اور کون تھی۔ میں تو روحی کو بھی نہیں جانتا یہ کون ہے؟“ روحان کھویا کھویا بول رہا تھا۔

”میری بات پھر ٹھیک ہوئی نا! کہ لڑکیاں ٹیڑھی ہوتی ہیں۔“ سید کاشف عجلت میں بولا۔

”نہیں! لڑکیاں تو پہیلیاں ہیں پاتال سے گہری سیپ کے اندر موتی جیسی کبھی نمکین اور کبھی میٹھی جسے تم ٹیڑھا پن کہتے ہو وہ تو اُن کی اصل ہے۔ اصل کی نقل تو ہو سکتی ہے اصل کی ساخت نہیں بدلی جا سکتی وہی ٹیڑھا پن، نزاکت اور ادائیں لڑکیوں کی خوب صورتی ہے۔“

”سات دفعہ محبت میں نے کی اور تجربہ تمھارے پاس ہے۔“

”محبت کے کھیل میں کوئی تجربہ کار نہیں ہوتا سب کے سب اناڑی ہی رہتے ہیں۔“

روحان اٹھا اور اپنا روم اندر سے بند کیا، ایک دراز کو چابی لگا کر کھولا اُس میں سے سگریٹ کی ڈبیا، لیٹر اور ایش ٹرے نکال کر سامنے ٹیبل پر رکھا۔ ایک سگریٹ لگا کر سید کاشف کو دیا اور دوسرا اپنے لبوں سے لگایا۔ پھر کمرے میں دھوئیں کے غبارے اُڑنے لگے۔

”میں تو ممی پاپا کے سامنے بھی سگریٹ پی لیتا ہوں۔“ کاشف نے اپنی عادت بتائی۔

”کچھ عجیب سا لگتا ہے اس طرح سگریٹ پینا اس سے زیادہ عجیب بات تو یہ ہے کہ ایک شہید آرمی میجر کا بیٹا پینٹر ہو پتا سب کو ہے کہ میں سگریٹ پیتا ہوں مگر کسی کے سامنے کبھی نہیں، میں اپنی خامیاں اور ناکامیاں چھپانا چاہتا ہوں۔“

”دوستوں سے بھی؟“ کاشف نے پوچھا۔

”ہاں! دوستوں سے بھی سارا گیلانی نے مجھے چھوڑ دیا، یہ بات روحی کے بعد تمھیں بتائی ہے۔“

روحان نے صوفے کے اوپر خود کو دراز کیا۔ گردن کی ٹیک لگائی اپنے غم کو دھوئیں کے ذریعے اندر سے نکالا۔

”سید کاشف! میرے لیے بڑی تکلیف کی بات ہے کہ کوئی مجھے چھوڑ دے اور وجہ بھی نہ بتائے محبت میں ہم دونوں کی مرضی شامل تھی تو جدائی کا فیصلہ وہ اکیلے کیسے کر سکتی ہے؟“

”شادی تم روحی سے کر رہے ہو اور تمھارے دل میں سارا گیلانی ہے۔“ سید کاشف کو تشویش لاحق ہوئی۔

”نہیں! روحی مجھ سے شادی کر رہی ہے۔“ روحان اوپر کی طرف بند CEILING FAN کو دیکھ کر بولا۔

”سید کاشف! اُس FAN کو دیکھو، تین پر ہیں۔ سارے ایک ہی مدار کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں۔ یہ محبت کا مدار ہے اور ہم تینوں تین پَر ہیں، ہم جتنا مرضی تیز گھوم لیں ایک دوسرے کے پیچھے ایک دوسرے کو چھو کبھی نہیں سکتے، یہی حقیقت ہے۔“

”تمھارا پوائنٹ آف ویو میری سمجھ سے باہر ہے، محبت کرنے والے تو محبوبہ کی تصویر بناتے ہیں اور تم نے ہونے والی بیوی کی بنائی ہے۔“

”میری محبوبہ اب کسی کی بیوی ہے! میرے دل نے کہا محبوبہ نے تو وفا نہیں کی، شاید ہونے والی بیوی کرے اس لیے روحی کی تصویر بنائی ہے۔“

”اِف یو ڈونٹ مائینڈ، ایک بات بولوں؟“ سید کاشف نے اجازت مانگی۔ روحان نے گردن موڑ کر پلکوں کو بند کر کے کھولا۔

”اگر روحی چوہدری بھی سارا گیلانی کی طرح نکلی تو ؟“ روحان کے چہرے پر دھیمی دھیمی مسکراہٹ اُبھری۔ اُس نے کہا:

”وہ کیا بے وزن شعر تم نے سنایا تھا؟“

”دل کے قصے میں ہماری پھر سے ہار ہوئی

ایسا کئی بار ہوا ہمیشہ ہر بار ہوئی“

سید کاشف نے جلدی سے اپنا شعر سنایا۔

”سید کاشف اس بار ہماری نہیں صرف تمھاری ہار ہو گی کیوں کہ تمھاری شادی مجھے ایک بزنس ڈیل لگ رہی ہے جو زیادہ دن نہیں چل سکتی۔“

سید کاشف نے زوردار قہقہہ لگایا اور بولا:

”روحان حیدر کیانی! تمھارے بقول ہم لوگ سب کچھ برداشت کر سکتے ہیں سوائے بزنس میں نقصان کے۔ اگر ایسی بات ہوئی تو عمر بیت جائے گی نقصان نہیں اُٹھائیں گے ہم لوگ تم اپنی بات کرو اس دفعہ دل کے قصے میں اگر تمھاری ہار ہو گئی تو؟“

”اگر اس بار دل کے قصے میں ہار ہوئی تو میں زندگی ہار جاو ¿ں گا۔“ روحان نے سنجیدگی سے جواب دیا۔ اُسی لمحے دروازے پر دستک ہوئی روحان نے جلدی سے ایش ٹرے ، سگریٹ اور لیٹر سب کچھ اٹھایا، روم اسپرے کیا اور سید کاشف کو دروازہ کھولنے کا اشارہ کیا اور خود واش روم سے موتھ واش کی کلی کر کے واپس آیا۔ روحان کی ماں جان اور ا س کی چھوٹی بہن رات کا کھانا لے کر آئی تھیں۔

”آنٹی! آپ ایک میڈ کیوں نہیں رکھ لیتیں؟“ سید کاشف نے جلدی سے مشورہ دیا اس سے پہلے کہ روحان کی ماں کچھ پوچھتیں۔

”کاشف بیٹا! ہم تین افراد ہیں اور ہم تینوں خود اپنا اپنا کام کرنے کے عادی ہیں۔ تم کھانا کھاو ¿۔“ روحان کی ماں نے مسکراتے ہوئے جواب دیا۔ اس کے بعد روم سے چلی گئیں۔

روحان اور کاشف کھانے میں مشغول ہو گئے۔ اس دوران روحان کے سیل فون پر گھنٹی بجی جو کہ دوسرے صوفے پر پڑا ہوا تھا۔ کاشف نے اُسے بتایا:

”روحان! تمھارا فون بج رہا ہے۔“

”کھانے کے دوران میں کسی کا بھی فون اٹینڈ نہیں کرتا۔“

روحان نے بے پرواہی سے کہا۔ اس اثناءمیں تین CALLS آئیں۔ اُس کے تھوڑی دیر بعد ایک MESSAGE بھی آیا، کھانے سے فارغ ہونے کے بعد سید کاشف چلا گیا تھا۔ روحان برتن کچن میں چھوڑ کر لوٹا اُس نے اپنا سیل فون پکڑا، روحی نے تین کالز کی تھیں۔ روحان نے کال بیک کی تو روحی کا نمبر بند ملا۔ اُس نے دوبارہ نمبر ملایا، فون بند تھا۔ اُس نے میسج چیک کیا وہ بھی روحی ہی کا تھا۔ روحان نے میسج منہ میں پڑھنا شروع کیا۔

”ڈیئر فیانسی! تھینکس تم میرے بہت کام آئے تمھیں یاد ہو گی پچھلے نومبر کی وہ رات جب تمھیں کھانے پر ماما نے بلایا تھا، دراصل وہ میرے کہنے پر ہوا تھا۔ ماما اور پاپا میری جلد سے جلد شادی کرنا چاہتے تھے۔ اُنھیں میرے اور شاہ ویز کے ریلشن شپ کی خبر ہو چکی تھی۔ شاہ ویز ہماری گلی کے آخری مکان میں رہتا تھا، اُس نے اپنی بیوی کو طلاق دے دی تھی، میری وجہ سے یا پھر ایسے کہہ لو میرے کہنے پر اُن دنوں شاہ ویز پاکستان میں تھا۔ شاہ ویز کینیڈا میں سیٹل تھا، میں نے اُس سے کورٹ میرج کر لی تھی۔ تمھیں ڈنر پر انوائٹ کرنے سے تین دن پہلے میرے گھر والے اس بات سے بے خبر تھے۔ مجھے ٹائم چاہیے تھا اس لیے تمھارا انتخاب کیا! میں نے ہی ماما سے کہا تھا تم سے انگیجمنٹ کرنے کے لیے۔ اس دوران میرے سارے ڈاکومنٹس کمپلیٹ ہو گئے۔

بڑی ڈرامیٹک اسٹوری لگتی ہے نا؟ بٹ دِس اِز ٹرو میں نے اپنے گولڈ سمتھ کے پاس جانے کے لیے بلیک سمتھ کو استعمال کیا۔

EVERY THING IS FAIR LOVE AND WAR

میں تمھاری سارا گیلانی جیسی تھوڑی ہوں، میں نے جس سے محبت کی اُسی سے شادی بھی کی۔ مجھے تمھیں جسٹی فیکشن دینے کی بھی ضرورت نہیں ہے۔ بس یہ پروف کرنا چاہتی ہوں میں سارا گیلانی سے بہتر ہوں۔ اُس نے تم سے محبت کر کے دھوکہ دیا اور میں نے اپنی محبت کو پانے کے لیے تمھارا استعمال کیا۔ سارا بغیر بتائے چلی گئی تمھاری زندگی سے اور میں بتا کر جا رہی ہوں اس وقت میں فلائٹ میں بیٹھی ہوں اپنے ہسبینڈ کے کندھے پر سر رکھ کر تمھیں تین کالز کیں تم نے رسپانس نہیں دیا اس لیے میسج چھوڑ رہی ہوں۔ ہمارا جہاز اُڑنے کے لیے ریڈی ہے۔ شاہ ویز کے آنے کی کسی کو خبر نہیں ہے اور میری اُس کے ساتھ جانے کی بھی کسی کو خبر نہ ہو۔ پلیز پلیز پلیز“

روحان نے روحی کا میسج ڈلیٹ کیا اور موبائل کو اتنی زور سے دیوار پر مارا کہ وہ کرچی کرچی ہو گیا۔ روحان سیدھا اپنے بیڈ پر لیٹ گیا اُس نے شدید سردی میں CEILING FAN ON کر دیا اور اُسے دیکھنے لگا۔

صبح جب اُس کی ماں جان روحان کے کمرے میں آئی تو روحان لحاف کے بغیر کھلی آنکھوں سے FAN کو دیکھ رہا تھا۔ اُس کی ماں نے پنکھا بند کیا۔

روحان تھا تو اپنے بستر پر مگر اپنی روح کے بغیر۔ روحی کیا روحان کو چھوڑ کر گئی، روحان کی روح نے بھی ُاُسے چھوڑ دیا تھا۔

٭….٭….٭

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

زندگی بے بسی کا نام!!” ناہیدطاہر 

زندگی بے بسی کا نام!!” ناہیدطاہر سعودی عرب ، ریاض نمازِ فجر کی ادائیگی کے …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے