سر ورق / افسانہ / ” روٹھی ہوئی محبوبہ ” .. خالد شیخ طاہری۔

” روٹھی ہوئی محبوبہ ” .. خالد شیخ طاہری۔

” روٹھی ہوئی محبوبہ "

از.. خالد شیخ طاہری۔

حسبِ معمول رات کا کھانا کھا کر میں نے الماری سے کتاب نکالی اور اپنے لحاف میں آ گیا۔ کتاب کھولی اور پڑھنا شروع کر دیا۔ پڑھتے پڑھتے اچانک چونک سا گیا..  ایسا لگا جیسے کتاب کے اندر کوئی ہے، جو کچھ کہنے کی کوشش کر رہا ہے…. دکھ،  تکلیف اور غم سے اس کے الفاظ سسکیوں میں ڈھلے ہوئے ہیں، جو واضح نہیں ہیں…. سوچا شاید کوئی مظلوم کردار ہے جو اپنی بے بسی و بے کسی پر سسک رہا ہے اور لکھاری سے نوحہ کناں ہے…  یا پھر کوئی ظالم وڈیرہ یا جاگیردار انتہائی کرب و الم کی حالت میں مستفسر ہے کہ میرا کیا قصور ہے جو مجھے ایسے کردار و انجام سے دوچار کیا گیا…میں  کتاب کو غور سے دیکھتا ہوا اُٹھ کر بیٹھ گیا…. اور کان لگا کر سُننے کی کوشش کرنے لگا.. سسکیوں نے الفاط کا روپ دھارا تو میرے ہوش اڑ گئے کیونکہ وہاں شکوہ کناں کوئی اور ہی تھا۔

” دیکھو ! تم لوگوں نے میری کیا حالت کر دی …… یہ مجھے کس مقام پر لا چھوڑا ہے ….کہ اپنے پیروں پر کھڑی بھی نہیں ہوسکتی….مجھ پر رحم کرو…. تم لوگوں نے تو مجھے اس قابل بھی نہیں رکھا….. کہ کہیں عزت سے دیکھی جاؤں.. اب تو میری پہچان بھی کہیں گم ہوتی جا رہی ہے. ایسا لگتا ہے جیسے میرے اطراف انجانی آوازیں، نامانوس الفاظ ہیں جو مجھے اس طرح نوچ نوچ کر کھا رہے ہیں۔ جیسے میرا وجود ہی فنا کر دیں گے۔”

میری توجہ سے اس کی سسکیاں اور واضح ہو گئیں.

سر شرم سے جھک گیا…. زبان گنگ تھی… کچھ سمجھ ہی نہیں آ رہا تھا، کیا کہوں۔ لاجواب جو کر دیا تھا….. کیونکہ اُس کی سسکیوں کا منہ زور سچائی کا طوفانِ درد لہروں کی مانند میرے دماغ کے ساحل سے  ٹکرا رہا تھا۔

وہ پھر کہنے لگی..

” تم لوگ……. ہاں…. تم میرے اپنے لوگ….. میری بربادی کے زمہ دار ہو…… میں تمہیں کبھی معاف نہیں کروں گی. کبھی نہیں….”

اس کی آواز پھر درد و الم کے سانچے میں ڈھل گئی..

میرے اردگرد اب اُس کی سسکیاں گونج رہی تھی۔

شاید اس کا دکھڑا ابھی باقی تھا… وہ پھر گویا ہوئی.

” کبھی سوچا…!  میں کیا تھی اور اب کیا ہو گئی ہوں…..؟ کہاں کہاں سے نکال دی گئی ہوں…..؟”

” بولو…..!  کیا کر سکتا ہوں تمہارے لیے……؟”

میں شرم کے مارے بس اتنا ہی استفسار کر پایا..

” مجھے کچھ نہیں چائیے…… بس میرا کھویا ہوا وقار لوٹا دو……  تا کہ میں عزت و احترام سے پہچانی جاؤں……اور خدارا مجھے ویسے ہی چھوڑ دو، جیسے میں تھی…”

اب اس کی آواز میں ٹہراؤ آ گیا۔

” ہم کوشش کر رہے ہیں….. انشاء الله بہت جلد تم باوقار طریقے سے  زمانے کا سامنا کر سکو گی……”

 میرے کمزور لہجے نے اُسے دلاسہ دیا.

مجھے ایسا لگا جیسے امید و آس کی نمی آنکھوں میں لے کر اُس نے میری طرف ملول نظروں سے دیکھا ہو۔ مجھے میں اب اتنی سکت نہیں تھی میں اُس سے نظریں ملا کر بات کرتا …..میں نے نظریں چُرا کر چُپ سادھ لی..

                                      ***

ایسا لگتا ہے جیسے یہ کل کی بات ہو…… وہ ہر دل کی دھڑکن میں بسی تھی….. ایک وقت ایسا بھی گزرا اُس کے بغیر محفلیں بےجان سی لگتی تھیں….. وہ سب کی پیاری تھی…….. لاج دلاری تھی…… جس کو دیکھو  اس کے گن گاتا تھا۔

شعراء کرام  نے لمبی لمبی نظمیں، غزلیں……، ادیب و دانشور حضرات نے اُس کی نفاست و بلاغت پر ضخیم کتابیں لکھ ڈالی تھیں……. اُس کے حُسن و جمال کا یہ عالم تھا اگر کوئی اُسے اپنے کمال جوبن پر دیکھ لیتا اطراف میں مسحور کن خوشبو محسوس کرتا……شیریں اتنی کہ مٹھاس کا احساس رگ و جاں میں سرایت کرتا محسوس ہوتا…… یہ جس گھر میں ہوتی، وہ گھر تہذیب و تمدن کا مسکن کہلاتا…… جب نوجوان بزرگوں سے اس کے تزکرے سُنتے، بے اختیار جھوم اُٹھتے…… بزرگوں کی آنکھیں زکر کرتے کرتے نم ہو جایا کرتیں……

کیا اپنا اور کیا پرایا….. ہر کوئی اس کا دیوانہ تھا.. یہ تھی ہی اتنی پیاری…… ہر دل میں اس کے لیے خود بخود جگہ بن جاتی تھی۔

پھر ناجانے کس کی نظر لگی.. آہستہ آہستہ پہلے محفلوں سے…..   تذکروں سے….. اور پھر دلوں سے بھی نکلتی چلی گئی……. بس کچھ عاشق تھے جو اسے سینے سے لگائے اپنی وفاداری کا دم بھرتے نظر آتے تھے……. دلجوئی کرتے……. مگر جب یہ عاشق بھی بے نیازی برتنے لگے……. تو غم وغصے سے آج میرے سامنے پھٹ پڑی۔

                                        ***

میں چُپ سادھے آنکھیں بند کیے لیٹ گیا تھا……

کتاب کو مضبوطی سے تھامے  سینے سے لگا رکھا تھا.

 وہ میرے کچھ بولنے کے انتظار میں تھی….. مگر میں چُپ چاپ اُسی کے بارے میں سوچ رہا تھا..

” کیا..میں کچھ کر پاؤں گا؟”

” اگر کوشش کروں بھی تو کیا؟”

” کیا… یہ میرے اکیلے کی زمہ داری ہے؟”

 ان سوالوں کے جواب مجھے کہیں سے تو ڈھونڈنے تھے..

” تمہارے لیے جتنا ممکن ہو سکے گا، میں کروں گا۔”

میں نے عہد کیا اور پھر اس سے عاجزانہ لہجے میں مخاطب ہوا.

” بس تم مجھے سے کبھی مت روٹھنا…. تمہاری وجہ سے تو میری پہچان ہے…….میری شان ہے…  سبھی تو، تم سے ہے….. میرے جذبات…میرے احساسات…. میرے محسوسات…..میرے تجربات اور خود میری ذات…… تمہارے بغیر نامکمل ہے…… یہ سب تمہارے محتاج ہیں…… تمہارے بغیر، یہ سب بیکار ہیں۔

یہ سوچ کر میں نے اپنے سینے پر رکھی کھلی کتاب کو زور سے دبا لیا…… آنکھوں میں آئی نمی اندر جذب ہونے لگی۔

یکدم چار سو خاموشی سی چھا گئی.

شاید میری”  اردو ” مطمئن ہو کر ایسے میری آغوش میں سما گئی تھی…. جیسے روٹھی ہوئی محبوبہ محبوب کے وعدوں پر بھروسہ کر کے، من کر بانہوں میں سما جاتی ہے۔

                                ختم شد

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

زندگی بے بسی کا نام!!” ناہیدطاہر 

زندگی بے بسی کا نام!!” ناہیدطاہر سعودی عرب ، ریاض نمازِ فجر کی ادائیگی کے …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے