سر ورق / افسانہ / امیرِشہر کا کتا…بلال شیخ

امیرِشہر کا کتا…بلال شیخ

امیرِشہر کا کتا

بلال شیخ

مہنگائی روز بہ روز بڑھتی جا رہی تھی اور کام نہیں مل رہا تھا۔ بے روزگاری سے تنگ آچکا تھا جب سے ہوش سنبھالی ذمہ داریاں ہی دیکھنے کو ملی اُن کو پورا کرتے کرتے جوانی گزر گئی اور آج بڑھاپا سر پر آ  کھڑا ہو گیا ہے اِس دنیا میں محنت کرتے عرصہ بیت گیا مگر آسودگی نہیں ملی شائد کسی گناہ کی سزا تھی یا کسی کے گناہ کی سزا تھی  یا قسمت کا لکھا اپنے آپ سے اسی سوال کو کرتا کرتا میں اِس سہانے باغ میں آ گیا یہ علاقہ امیروں کا ہے اور میرے جیسے یہاں گاڑی صاف کرتے ہیں مزدوری چوکیداری یا چھوٹے موٹے کاموں کے لئے رکھے جاتے ہیں میں نے ایسے لوگوں میں کافی عرصہ گزارا ہے اور رشک ہی کیا ہے جب ہوش آئی تو باپ نے مجھے دو ہزار مہینے پر ایک گھر پر لگا دیا میں اُن کے گھر چھوٹے بڑے کام کرتا تھا سیٹھ کی ٹانگیں دبانا گھر کی خواتین کے لئے بازار سے سامان لانا کافی عرصہ کام کیا اور مجھے وہاں سے چھٹی ہو گئی جوان ہوا تو میں نے ایک عالی شان ہوٹل کی چوکیداری کی اُس ہوٹل کے گیٹ پر کھڑا رہتا اور ہر آنے جانے والے کو سلام کرتا کئی سخی لوگ ہاتھ میں ٹپ کے طور پر کچھ پیسے بھی پکڑا جاتے کافی کچھ بچ جاتا تھا شادی ہوگئی گزارا کرنا مشکل ہوا تو میں نے لوگوں کے گھروں کی گاڑیاں صاف کرنا شروع کر دی روز صبح اُٹھتا اور لوگوں کے گھروں میں جا کر اُن کی گاڑیاں دھوتا وقت بدلا سب کے گھروں میں اُن کے اپنے ذاتی ڈرائیور آ گے زندگی میں کافی دفعہ روزگار بدلتا رہا میرے پانچ بچے ہے میرے پاس کاروبار کرنے کے لئے پیسہ اور وقت درکار نہیں وقت کو ڈھونڈوں تو پیسہ نہیں ملتا اور پیسے کو ڈھونڈوں تو جینے کے لئے وقت نہیں ملتا ، ایک ہفتہ ہو گیا ہے گھر میں کھانے کو صیح سے کچھ نہیں پکا ۔ وقت بدل گیا قسمت نہ بدلی۔ اپنے آپ سے باتیں کرتے اور اِس نا امیدی کو ساتھ لیے اِس باغ میں آ گیا تھا جہاں عورتیں مہنگے سوٹ پہن کر واک کر رہی تھی مرد حضرات اپنے آپ کو تندرست رکھنے کے لئے ورزش کر رہے تھے بچے کھیل رہے تھے اور کچھ کے ساتھ اُن کے جانور بھی تھے ایک بچے کو ایک خوبصورت سفید رنگ کی بلی کے ساتھ کھیلتے ہوئے دیکھا تو مسکرانے لگا اور مجھے اُس بلی کی زندگی پر رشک آ رہا تھا کہ اِن جانوروں کی زندگی بھی میری زندگی سے اچھی ہے ۔ ایک بچی ایک کتے کے ساتھ میری طرف آ رہی تھی وہ نو عمر بچی ایک امیر گھرانے کی لگ رہی تھی ۔

” انکل یہ میرا ڈی جی ہے اِس کا تھوڑی دیر کے لئے دھیان رکھے گے پلیز میں اپنی سہیلیوں کے ساتھ بیٹ منٹن کھیل لوں یہ اکثر شرارتیں کرتا ہوا اِدھر اُدھر ہو جاتا ہے ” اُس لڑکی نے کہا تو میں منع نہیں کر سکا کیونکہ میں نے کافی وقت ایسے بچوں کی جی حضوری میں گزارا تھا ۔

” جی بیٹے دھیان رکھوں گا آپ اِس کی فکر نہ کرو” میں نے مسکراتے ہوئے کہا اور وہ تھینک یو کہ کر کھیلنے چلی گئی ۔ میں تنہا ہی بیٹھا تھا اور شائد میرے ساتھ اِس کتے کے علاوہ یہاں کوئی بیٹھنا بھی نہیں چاہے گا۔ کتا سائز میں چھوٹا تھا اور مجھے اُس کو دیکھ کر خوف بھی نہیں آ رہا تھا بڑا پیارا جانور تھا سفید رنگ تھا اور کچھ حصے میں براون رنگ بھی تھا۔ یہ جانور بھی عجیب سا ہوتا ہے  اِس کی سب سے بڑی قابلیت اِس کی وفا ہے یہ  اپنے مالک سے کبھی دغا نہیں کرتا ۔ وہ کتا بڑا صاف ستھرا تھا اُس کے جسم کو ہاتھ لگاتا تو مزا آ تا تھا ۔ میں نے ہاتھ پھیرتے ہوئے کہا ” بڑی مزے کی زندگی گزار رہا ہے ہاں جناب اوپر والے کا کرم ہے تیری زندگی ایسے ہی لکھی ہے اور میری ایسے ” کتا زبان نکالے ہانک رہا تھا میری آواز سن کر میری طرف دیکھتا تو ایسا لگتا کہ میری باتیں سن بھی رہا ہے اور سمجھ بھی۔ کچھ دیر گزرے تو وہ بچی ہاتھ میں کوئی چیز پکڑے بھاگتے ہوئے میری طرف آئی اُس نے ایک بسکٹ کا پیکٹ کو اوپر سے پھاڑا اور اُس کتے کے سامنے رکھ دیا اور بھاگتے ہوئے واپس چلی گئی ۔ کتا اُن بسکٹ کو دیکھ کر کھانے لگا اس کتے کو کھاتا دیکھ کر میرے پیٹ میں بھی چوہے دوڑنے لگے صبح کا نکلا ہوا تھا کام کی تلاش میں اور کھانا بھی بھول گیا تھا ۔ ادھر اُدھر دیکھا اور ایک بسکٹ اُٹھا کر منہ میں ڈال لیا ” واہ بسکٹ تو ذائقہ دار ہے ” موقع دیکھ کر ایک اور اُٹھا لیا ” تجھے تو بڑے مزے کے بسکٹ کھیلائے جاتے ہے چائے بھی پیتا ہے کیا کاش پیتا تو ایک ایک کپ آ جاتا دونوں کے لئے” کتے نے سارے بسکٹ کھا لیے اور بسکٹ کے لفافے کے ساتھ کھیلنے لگا لفافہ دکھنے میں کافی خوبصورت لگا میں نے لفافہ اُٹھا کر دیکھا تو اُس بسکٹ کی قیمت تو مزدور کی دیاڑی سے بھی ذیادہ تھی میرے چہرے پر مسکراہٹ آ گئی میں نے اپنی جیب میں نظر دوڑائی میری جیب میں پچاس کا نوٹ پڑا تھا میں نے مسکراتے ہوئے کتے کے سر پر ہاتھ پھیرا اور کہا” تیرے بسکٹ کی قیمت تو مزدور کی دیاڑی سے بھی زیادہ ہے تجھے کیا لگے تو کونسا اُن سے مانگتا ہے اوپر والا تیرے پر مہربان ہے پتہ نہیں میرے پر نظر کیوں نہیں پڑتی” اِس کتے میں بھی امیر شہر کی بو تھی بڑے ٹھاٹ کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا میں اُس کتےکو دیکھی جا رہا تھا اور عجیب عجیب سے خیال میں مصروف تھا وہ کتا بھی شائد مجھ سے بور ہو رہا تھا پتہ نہیں اچانک اُس کتے کو کیا سوجی اُس کتے نے دوڑ لگا دی اور میں گھبرا گیا مجھے فکر ہونے لگی کہ وہ بچی مجھ سے ناراض نہ ہو جائے تو میں نے بھی اُس کے پیچھے دوڑ لگا دی میں اُس کے پیچھے دوڑ رہا تھا جب باغ میں کھیلتے بچوں نے مجھے دیکھا تو  میرے پیچھے دوڑنا شروع ہو گے اور وہ جو اُس کتے کی مالکن بچی تھی وہ بھی دوڑنے لگی عجیب سا سماء تھا بچوں کی فوج میرے پیچھے تھی میں فکر میں تھا اور بچے مزے میں۔ اچانک اُس لڑکی نے ایک نام پکارا ” ڈی جی” اور وہ کتا رک گیا اور سارے بچے ہنس رہے تھے وہ لڑکی بھی مجھے دیکھ کر ہنسنے لگ گئی  ” انکل آپ کو کیا ہو گیا تھا ” اُس بچی نے ہنستے ہوئے کہا ۔ مجھے اب بچوں کی ہنسی دیکھ کر شرمندگی ہو رہی تھی ۔

” وہ کتا بھاگا تو میں ڈر گیا تھا کہ کہی گم نہ ہو جائے” میری سانس پھول رہی تھی ۔ میری سانس کے ساتھ سانس نہیں مل رہی تھی ۔ اُس لڑکی نے جواب دیا ” انکل یہ ایسے ہی کرتا ہے مگر یہ کبھی گم نہیں ہوتا اور خودی واپس آ جاتا ہے ڈی جی ہم سے بہت محبت کرتا ہے ہمیں کبھی نہیں چھوڑے گا ” اُس لڑکی نے مسکراتے ہوئے جواب دیا اور کتے کو ہاتھ پھیرنے لگ گئی میں خاموش تھا اور اپنے آپ پر ہنسنے لگا کہ میں بھی کس طرح گھبرا گیا تھا حالانکہ کتا وفادار ہوتا ہے ۔ بچی بھاگتی ہوئی گئی اور پانی کی بوتل لے کر آئی اور اُس نے مجھے پانی پینے کو کہا وہ چھوٹی سی بوتل میں نے ایک ہی سانس میں پی لی میں نے اُس بچی کا شکریہ ادا کیا ” شکریہ بیٹا” میں نے کہا۔

” کوئی بات نہیں انکل ” میرے نہ چاہتے ہوئے بھی میری زبان پھسل گئی” آپ نے جو بسکٹ اُس کتے کو کھیلائے تھے وہ تو بہت مہنگے تھے” میں نے بوتل کے ڈھکن کو بند کرتے ہوئے کہا۔

” جی وہ خاص ڈی جی کے لئے ہے”

‘ تو آپ کا کتا ڈی جی اِس کے علاوہ کچھ نہیں کھاتا ” مین نے دوبارہ سوال کیا کیونکہ میں عجیب سی گھبراہٹ اپنے اندر محسوس کر رہا تھا۔

” کھاتا ہے مگر ہم اُس کو اچھے سے اچھا کھانے کو دیتے ہے وہ ہم سے بہت محبت کرتا ہے ” اُس بچی شانے اُچکاتے ہوئے کہا ۔ بچی نے اجازت لے کر وہاں سے چلی گئی اور ساتھ میں کتا بھی اُس کے پیچھے دم ہلاتا ہوا چلتا گیا میں وہی بیٹھ گیا اور اُس کتے کو دیکھنے لگا جو بچوں کے ساتھ کھیلنے لگا تھا۔میرے اندر ایک عجیب سی گھبراہٹ محسوس ہوئی مجھے لگا  جیسے میری کوئی اوقات نہیں ہے میں ایک نیچ درجے کا شخص ہوں میرا اندر پھٹنے کو آ رہا تھا اور اُس کتے کو دیکھ کر بہت جلن محسوس ہوئی میرے دل نے کہا آج اوپر والے سے شکوہ کر ہی لوں میں اپنا سر آسمان کی طرف کیا اور دل ہی دل میں رب سے سوال کرنا شروع کر دیے ” اے میرے مالک تونے مجھے پیدا کیا انسان بنایا مگر آج ایسا لگ رہا ہے جیسے یہ کتا مجھ سے بہتر ہے صیح سلامت ہونے کے باوجود کھانےکےلئے پیسے نہیں کرنے کو کام نہیں میری حرکت میں برکت نہیں اِس امیرِ شہر کے کتے ہم غریب انسانوں سے با عزت ہے مجھ سےاراض ہے یا مجھے بنایا ہی ذلیل ہونے کے لئے میرے بچوں ے ایک ہفتے سے پیٹ بھر کر کھانا نہیں کھایا میرے اندر آج ایک آگ جل رہی تو اِن جانورون کا خدا ہے کیا تو صرف اِن امیروں کی سنتا ہے ہماری نہیں سنتا کیا تیرے رحم و کرم کا بھی گمان نہیں کس کو اپنی مجبوری سناوں کس کے سامنے اپنے دل کو نکال کر باہر رکھ دوں میرے اندر کی آگ بجھا دے میرے رب میرے اندر کی آگ بجھا دے ” لب خاموش تھے آنکھوں میں آنسو ں روانگی سے جاری تھے اور دل تھا کہ شائد ابھی پھٹ جائے گا ۔میں نے اپنی آنکھوں کے آنسو صاف کیے تو میں گھبرا گیا وہ کتا ڈی جی میرے سامنے بیٹھا ہوا تھا اور اُس کی آنکھیں مسلسل مجھے دیکھ رہی تھی اُس کتے کا وجود مجھے ڈرا رہا تھا مجھے ایسا لگا جیسے وہ کتا مجھ سے کچھ کہنا چارہا ہے ۔ اُس کی آنکھیں کچھ کہ رہی تھی مجھے ایک عجیب سی قوت میرے اندر دھاڑے مار رہی تھی مجھے ایسا لگا جیسے کوئی ڈاکٹر مجھے ہیپنوٹائس کر رہا ہے اور مجھے اُس کی ذبان سمجھ آنا شروع ہو گئی۔

” میں کتا ہوں اِس امیرِ شہر کا کتا وفاداری میری صفت ہے مجھے اپنے مالک سے محبت کرنا سیکھایا گیا جب مجھے میرا مالک روٹی کا پہلا نوالہ میرے سامنے رکھتا ہے تو اُس کے بعد میرا جینا مرنا اُس کے لئے ہو جاتا ہے جب میں اپنے مالک سے محبت کر بیٹھوں تو میلی آنکھ بھی اُس کی طرف نہیں پڑنے دیتا مجھے عالی شان بسکٹ کھیلائے جاتے ہے امراء مجھے اپنا دلچسپی کا سامان سمجھتے ہے اور میں اُن سے مانوس ہو جاتا ہوں مجھے خوبصورت گلیوں باغوں میں پھیرایا جاتا ہے راتوں کو گیٹوں پر حفاطت کے لئے باندھا جاتا ہے صابن سے نہلایا جاتا ہے اور یہ میری قسمت ہے میرا نصیب ہے اور یہ مجھے اپنی وفاداری کے بدلے میں ملا ہے مگر تم انسان ہو اشرف المخلوقات تمہاری ابتداء ہے تمہارا حساب ہے میرا نہیں تم اپنے رب سے شکوہ کرتے ہو مگر تم بھول چکے ہو شکوہ کرنے سے شکوہ دور کیا جاسکتا ہے مگر مانگنے سے عطاء کی جاتی ہے اگر میں امیرِ شہر کا نہ ہوتا تو غریبِ شہر کا ہوتا سڑک چھاپ ہوتا مگر پھر بھی وفادار ہوتا اپنے اندر اور مجھ میں فرق محسوس کرو تمہیں رب نے طاقت اور محنت دی ہے سوچنے کی صلاحیت دی ہے تم اپنا نصیب بدل سکتے ہو میں اپنے مالک کے ایک اشارے پر جان بھی دے سکتا ہوں مگر تم نے آج کے روز اپنے مالک کا کتنا کہا مانا میں اپنے مالک کے قدموں کو چاٹ لوں تو وہ مجھے اُٹھا کر اپنے کندھوں پر بٹھا لیتا ہے تم بھی سوچوں اگر ایک قدم اپنے رب کی طرف بڑھایا ہوتا تو اپنا موازنہ مجھ سے نہ کر رہے ہوتے امیرِ شہر میں بھی تم ہو غریبِ شہر میں بھی تم”اچانک میرا اور اُس کتے کی آنکھوں کا رابطہ ٹوٹ گیا کتا وہاں سے واپس دوڑ گیا اور بچوں کے ساتھ کھیلنے میں مصروف ہو گیا ۔ میں نے اوپر دوبارہ منہ اُٹھایا اور زبان سے استغفار کرنا شروع  ہو گیا۔ آج مجھے احساس ہوا کہ میں اپنے رب سے مانگوں تو وہ مجھے دنیا کی ساری دولت بھی عطا کر سکتا ہے اور جتنا مجھے ملا ہے وہ بھی شائد میرے عملوں کے مقابلے میں بہت زیادہ ہو گا۔میرے دل نے اُسی وقت سجدہ کرنا چاہا اور میں سجدے میؔں چلا گیاذبان میری استغفار کر رہی تھی جو کہ مجھے اپنے عملوں پر کرنا چاہئے تھا اور دل میرا شکر کر رہا تھا کیونکہ اوپر والے کو میں یاد تھا اور آج اُس نے مجھے موقع دیا کہ میں اپنا ایمان مضبوط کروں ۔ میں وہاں سے اُٹھ گیا اپنی نم آنکھوں کو صاف کیا شام ہونے کو تھی اور میں اپنے گھر کی طرف چل دیا۔

اُس ایک لمحے نے میرا آج بدل دیا آج میرےپاس وہ سب کچھ ہے جس کے لئے میں نے اپنے رب سے مانگا اور جس کے لئے میں نے محنت کی۔ میرے بچے جوان ہو چکے ہیں اُن کی شادیاں بھی ہو چکی ہے اور میں اپنے نواسے پوتوں کے ساتھ کھیلتا ہوں گھر میں رزق کی کوئی کمی نہیں بچے میرے کاروبار کرتے ہے اور میں ایک خوشحال خاندان کا سربراہ ہوں اور اُن خوش نصیبوں میں سے ہوں جن کو اوپر والے نے مایوسی کے کنویں میں گرنے سے بچایا کیونکہ مایوسی انسان کے مستقبل کو کھا جاتی ہے۔

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

*سسکیاں۔۔۔ روما رضوی

*سسکیاں* روما رضوی ریل کی سیٹی تهی یا ہارن اس کے  بجتے ہی ہجوم میں …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے