سر ورق / ناول / افسانے کی حقیقی لڑکی ابصار فاطمہ جعفری قسط نمبر 2

افسانے کی حقیقی لڑکی ابصار فاطمہ جعفری قسط نمبر 2

افسانے کی حقیقی لڑکی

ابصار فاطمہ جعفری

قسط نمبر 2

 ”امی میں ایک سوٹ فائزہ سے منگا لیتی ہوں وہ کوئی سادہ سا سوٹ لا دے گی کاٹن کا اوور نا لگے نا اسکول کے فنکشن میں۔ میں اسے کہوں گی سیل سے لے لے تھوڑے سے پیسے پڑے ہیں میرے پاس۔”

امی نے بےدھیانی میں سر ہلا دیا اور بسمہ خوشی خوشی اٹھ گئی۔

اگلے دن اسکول میں اس نے فائزہ کو پیسے دیئے اور پہلے سے سوچے ہوئے رنگ بھی بتا دیئے۔ اسے پتا تھا کہ اس کی اجلی رنگت پہ لال اور کالا رنگ بہت کھلتا ہے اور کالا رنگ دادی اور امی کو بہت دبتا ہوا اور سوگوار لگتا ہے تو انہیں کپڑے فینسی بھی نہیں لگیں گے۔ اس نےجب ساڑھے تین ہزار نکال کے فائزہ کو دیئےتو فائزہ اتنے سارے پیسے دیکھ کر حیران سی ہوگئی۔

 ”بسمہ اتنے مہنگے کپڑے منگائے گی تو؟ میرے جیسے کپڑے بنوانے ہیں تو، وہ تو آرام سے ہزار پندرہ سو میں بن جائیں گے اور سستے بھی نہیں لگیں گے۔”

”نہیں فائزہ سستا سوٹ سستا ہی ہوتا ہے تو بس اچھا سا سوٹ لے آ میرے لئے۔ پہلی بار تو اپنی پسند کے کپڑے منگوارہی ہوں”

”بسمہ تو ہزار بار اپنی پسند کے کپڑے پہن مگر مجھے پتا ہے کہ تو اتنا خرچہ کیوں کر رہی ہے؟”

”کیا مطلب تجھے پتا ہے؟ سب ہی لڑکیاں کر رہی ہیں خرچہ میں کوئی انوکھی تو نہیں ہوں؟”

 ”ہاں اور وہ سب، لڑکوں کو متاثر کرنے کی کوشش میں ہیں۔ تو ایسی کب سے ہوگئی۔ تجھے کیا لگتا ہے مجھے پتا نہیں چلے گا کہ تو بات مجھ سے کر رہی ہوتی ہے مگر تیری نظریں اور دھیان کہیں اور ہوتا ہے۔ اسلم کے اردگرد آتے ہی تو اوور ری ایکٹ کرنا شروع کردیتی ہے۔ دیکھ بسمہ کسی کو پسند کرنا بری بات نہیں مگر جو طریقہ تو استعمال کرنا چاہ رہی ہے یہ غلط ہے۔ تونے بھی اس کی صرف شکل کو اہمیت دی اور اسے بھی صرف اپنی شکل کی بنیاد پہ متوجہ کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ یہ کوئی دل کا رشتہ تو نا ہوا۔”

”فائزہ بور نہیں کر! سوٹ لانا ہے تو بتا نہیں تو میں امبرین یا مریم سے کہہ دیتی ہوں”

”بھاڑ میں جا تو لانے سے کس نے منع کیا ہے مگر بسمہ خدا کے لئے خود کو نمائش کی چیز نہیں بنا۔”

”یعنی تیرے علاوہ سب لڑکیاں اپنی نمائش لگاتی ہیں۔ بس توبڑی خودار کی بچی ہے”

فائزہ کے چہرے کا رنگ ایک لمحے کے لئے بدلا تو بسمہ کو احساس ہوا کہ وہ جذبات میں بات غلط طریقے سے کہہ گئی۔

 ”اگر تو سچ سننا چاہتی ہے تو ہاں بالکل یہی بات ہے کسی لڑکی کے اچھے کپڑے پہننابری بات نہیں مگر کسی اور کے لئے اپنی پسند اور اصولوں کے خلاف جاکر خود کو سجانا یا چھپانا تاکہ وہ آپ کو پسند کرسکے یہ اپنی ہی بے عزتی ہے۔ بسمہ تو قابل احترام ہے کیونکہ تو اچھی ہے تیرے کپڑے نہیں۔ تو جو پہنے گی بسمہ ہی رہے گی ذہین، ہمدرد اور حساس بسمہ اگر تو صرف شکل کو اہمیت دینے والی ہوتی تو ہم دوست نا ہوتے۔ بسمہ اپنے گھر والوں کے بنائے سطحی معیاروں سے نکل۔”

 ”یہی تو کرنے کی کوشش کر رہی ہوں فائزہ۔” بسمہ کا لہجہ ٹوٹا ہوا تھا۔ ” مجھے خوف آنے لگا ہے اپنے گھر کی گھٹن سے، میری ماں نے ویسے ہی میری نمائش لگائی ہوئی ہے ایک بار بس ایک بار میں یہ سب اپنی مرضی سے اپنے لئے کرنا چاہتی ہوں مجھے زبردستی کی شادی نہیں کرنی اور اس کے لیئے میں کچھ بھی کرنے کو تیار ہوں۔”

جذبات سے بسمہ کی آنکھیں اور چہرہ سرخ ہو گیا۔

”ٹھیک ہے لا دوں گی مگر جو کر سوچ سمجھ کے کر”

فائزہ نے پیسے بیگ میں رکھ لیئے۔ دو دن بعد اس کی پسند کا ریڈ اور بلیک ڈزائنر اسٹائل کا سوٹ اس کے پاس تھا۔

فئیرویل والے دن وہ صبح سے بے چین تھی۔ اس کا بس نہیں چل رہا تھا کہ صبح 6 بجے ہی تیار ہو کر اسکول پہنچ جائے مگر فئیرویل کی وجہ سے اسکول جانے کا ٹائم 11 بجے دوپہر کا تھا۔ وہ کوئی بدمزگی نہیں چاہتی تھی اسی لئے سب کچھ بیگ میں ڈال لیا تھا۔

اس کے باوجود دادی سے منہ ماری ہوگئی۔ اس نے خود کو تسلی بھی دی مگر موڈ خراب ہی رہا اسکول پہنچنے تک۔ اسکول پہنچ کے وہ دونوں فورا اپنی کلاس میں آگئیں جہاں عموما لڑکیاں اپنی تیاری مکمل کر رہی تھیں۔ بسمہ نے کھلے بالوں پہ برش پھیرا اور لپ شائنر اور پروفیوم لگا کر اپنی تیاری کو فائنل ٹچ دیا۔ اسے یقین تھا کہ ایک تو آج اس کی تیاری کی وجہ سے اور موقع بھی ایسا تھا کہ اسلم ضرور اظہار کردے گا۔ اب اسے انتظار تھا کہ اسلم کب آئے۔ وہ فائزہ کے ساتھ اسکول کے آڈیٹوریم میں آگئی جہاں فئیرویل کی تیاریاں ہورہی تھیں۔ ڈراموں اور مختلف پرفارمنس میں حصہ لینے والوں کو اسٹیج کے پیچھے بلایا جارہا تھا۔ فائزہ اور بسمہ آگے جانے لگیں رستے میں اسے اسلم، دوستوں کے ساتھ کھڑا نظر آیا اس کی توجہ دوسری طرف کھڑی لڑکیوں کی طرف تھی۔ بسمہ کو عجیب بھی لگا اور برا بھی جیسے اسلم اس کی ملکیت ہو۔ پاس سے گزرنے پہ اسلم کی توجہ بسمہ کی طرف ہوئی تو بسمہ نے بھی اسے بھرپور نظروں سے دیکھا آج اس نے نظریں چرانے کی کوشش نہیں کی۔ وہ فائزہ اور اپنی باقی دوستوں کے ساتھ تھوڑا ہی آگے والی رو کی سیٹس پہ بیٹھ گئی۔

انہیں بیٹھے پانچ منٹ ہی ہوئے ہونگے کہ نویں کلاس کی عمارہ ان کے پاس آئی

”بسمہ باجی ٹیچر اسد کو بلوا رہی ہیں آپ نے دیکھا ہے ابھی تھوڑی دیر پہلے یہیں تھا؟”

”نہیں تو میں نے تو نہیں دیکھا مجھ سے پہلے ہی آیا تھا، اسکول آنے کے بعد میں نے نہیں دیکھا۔ کیوں کیا ہوا؟”

 ”اس کے پاس حمزہ کا نمبر ہے۔ حمزہ نہیں آیا ابھی تک اور شروع کی کمپئیرنگ اسی نے کرنی ہے ٹیچرنے کہا ہے اسد سے کہو اسے کال کر کے پوچھے کہ کتنی دیر میں آئے گا۔”

”حمزہ کونسا؟ گل بانو کا کزن؟” عمارہ نے ہاں میں سر ہلا دیا۔ ”چلو، اگرمجھے نظر آیا اسد تو ٹیچر کے پاس بھیج دیتی ہوں۔”

عمارہ کے جانے کے بعد وہ سب پھر اپنی باتوں میں لگ گئیں بسمہ کو رہ رہ کر یہ خیال آرہا تھا کہ اگر وہ ایسے ہی دوستوں کے ساتھ بیٹھی رہی تو اسلم سے بات کیسے ہوگی۔ بہت سوچنے کے بعد وہ پانی پینے کے بہانے سے اٹھی۔ آڈیٹوریم کے دونوں اطراف میں باہر کی طرف برآمدے میں دو دو الیکٹرک کولر لگے ہوئے تھے۔ بسمہ جان بوجھ کے اسلم کے پاس سے ہوکر اس کولر کی طرف گئی جو دور ہونے کی وجہ سے ویران ہوتا تھا۔ آڈیٹوریم سے نکلتے ہوئے اس نے دیکھا کہ اسلم بھی دوستوں سے الگ ہو کر اسی سمت آنے لگا۔ بسمہ کولر کے پاس جاکر پانی نکالنے لگی جیسے اس نے نوٹ ہی نہیں کیا کہ اسلم پیچھے آیا ہے۔ وہ آہستہ آہستہ پانی پینے لگی اسلم نے بھی آکر پانی نکالا مگر اس کے انداز سے لگ رہا تھا کہ وہ کچھ کہنا چاہ رہا ہے۔ ایک گھونٹ پی کر رک گیا۔ پھر کہا۔

”بسمہ آپ برا نا مانیں تو ایک بات کہوں؟ ”

”جی بولیں”

”آپ پلیز برا نہیں مانیئے گا مگر۔۔۔۔”وہ کچھ رکا آپ پلیز دوپٹہ سرپہ اوڑھ لیں”

”جی کیا مطلب”

بسمہ کچھ غیر متوقع بات پہ حیران ہوگئی۔

”وہ اصل میں آپ کے بال بہت خوبصورت ہیں لڑکے انہیں دیکھ رہے ہیں مجھے اچھا نہیں لگ رہا”

بسمہ کو اس کا کئیر کرنا بہت اچھا لگا وہ بلاوجہ ہی شوخ ہوگئی۔

”آپ کیا سب لڑکیوں کو دوپٹے پہنواتے پھرتے ہیں۔”

 ”سب کو نہیں بس کسی اسپیشل کو۔” اسلم نے اپنی مخصوص مسکراہٹ کے ساتھ کہا اس کا ڈمپل دیکھ کر بسمہ کا دل پھر بے قابو ہونے لگا۔ اسلم اپنا گلاس رکھ کر آگے بڑھ گیا پھر کچھ آگے جاکر رکا اور مڑ کے بولا۔

 ”اگر ممکن ہو تو پروگرام شروع ہونے کے بعد کلاس میں آیئے گا اپنی، آپ سے ضروری بات کرنی ہے۔” یہ کہہ کر تیزی سے اندر آڈیٹوریم میں چلا گیا۔

بسمہ بھی جلدی سے گلاس رکھ کے واپس دوستوں کے پاس آکر بیٹھ گئی۔ فئیرویل شروع ہونے کا ٹائم تو ہوگیا تھا مگر شروع نہیں ہوا تھا پتا نہیں کیا مسئلہ تھا۔ خیر کوئی آدھا پون گھنٹہ گزرنے کے بعد پروگرام اسٹارٹ ہوا مگر عمارہ کے کہنے کے برعکس حمزہ کی بجائے کوئی اور لڑکا کمپئیرنگ کے لئے آیا تھا۔ بسمہ کو یاد تو آیا کہ عمارہ نے حمزہ کا بتایا تھا مگر زیادہ دھیان نہیں دیا اس کا دھیان صرف اس بات پہ تھا کہ کب اسے موقع ملے اور وہ کلاس میں جائے۔قراٰت شروع ہوئی تو اس نے سر پہ دوپٹا اوڑھا اور پھر سر پہ ہی رہنے دیا۔ آخر حمد اور نعت گزرنے کے بعد پہلا اسکٹ شروع ہوا اور سب کے توجہ مکمل اسٹیج کی طرف ہوگئی اس نے نوٹ کیا کہ پیچھے کی سیٹس سے اسلم اٹھ کر جان بوجھ کے اس کے سامنے کے دروازے سے باہر نکل گیا۔ بسمہ نے دو منٹ صبر کیا پھر فائزہ کے کان میں بتایا کہ اسے باتھروم جانا ہے فائزہ نے ساتھ چلنے کا کہا مگر وہ اسے تسلی دے کر اٹھ گئی کہ وہ خود ہو کر آجائے گی۔

وہ بہت محتاط ہوکر کلاس کی طرف چل پڑی سارا اسکول سنسان پڑا تھا کلاس میں پہنچی تو اسلم وہاں پہلے سے موجود تھا۔ اسے دیکھ کے وہ ایک دم اس کی طرف آیا۔

”تھینک یو سو مچ بسمہ مجھے یقین تھا تم ضرور آو گی۔ اتنی طاقت تو ہے میرے جذبوں میں”

 بسمہ کا دل پہلے ہی بہت تیز دھڑک رہا تھا اس کے اتنے اچانک جذبات کے اظہار پہ دھڑکن اور بڑھ گئی۔ اسلم نے آہستہ سے اس کا ہاتھ تھام لیا۔

بسمہ کو اسلم کا اتنی نرمی سے ہاتھ پکڑنا بہت اچھا لگا اس کے مضبوط ہاتھ کی گرفت بہت نرم تھی۔

بسمہ کی طرف سے کوئی خاص ردعمل نا پاکر وہ تھوڑا قریب آیا۔

 ”بسمہ تم بہت خوبصورت ہو کسی مقدس دیوی کی طرح” بسمہ کے گرد سحر سا طاری ہونے لگا اسلم اتنا رومانوی ہوگا اس نے صرف سوچا ہی تھا۔ یہ سب کچھ حقیقت میں ہوتا دیکھ کر اسے یقین نہیں آرہا تھا اسے لگ رہا تھا یہ بھی کوئی تصور ہے اور ابھی آکر کوئی اسے اس تصور سے نکال لے گا۔

بسمہ خفیف سا مسکرائی مگر خاموش رہی۔ اسلم کی ہمت اور بڑھ گئی۔

 ”پتا ہے سب مجھے ڈراتے تھے کہ تم بہت غصے والی ہو مغرور ہو، یہ ہو، وہ ہو، مگر یقین مانو مجھے کبھی یقین نہیں تھا ان سب کا، مجھے پتا تھا کہ اس مغرور چہرے والی کا دل بہت نازک جذبات سے لبریز ہوگا۔”

وہ کچھ لحظہ رکا پھر بولا

 ”بسمہ تمہارے بال بہت خوبصورت ہیں گھٹاوں جیسے۔ ”اس نے آہستہ سے بسمہ کا دوپٹہ کھینچا جو اسلم ہی کی فرمائش پہ اس نے سر پہ اوڑھ لیا تھا۔ اتنی دیر میں پہلی بار بسمہ کو احساس ہوا کہ سب کچھ اتنا بھی اچھا نہیں جتنا لگ رہا تھا۔ اس نے دوپٹہ سختی سے پکڑ لیا۔

 ”ابھی تم نے ہی تو اوڑھنے کے لیئے کہا تھا” بسمہ کی آواز میں خفیف سے لرزش تھی۔ وہ ہلکے سے ہنسا۔

”وہ تو دوسروں کے لئے نا، محبت کرنے والوں کے درمیان یہ تکلفات نہیں ہوتے۔”

بسمہ اتنی سمجھ دار تو تھی کہ یہ سمجھ سکے کہ اب جو کچھ ہونے والا تھا وہ رومینس ہرگز نہیں کہا جاسکتا۔ ہاں اسے زبردستی کہا جاسکتا ہے اور اس لفظ ”زبردستی” نے اسے اندر تک جھنجھوڑ دیا اسی سے بچنے کے لئے تو وہ ‘سب’ کرنے کے لئے تیار تھی مگر اس ‘سب’ میں یہ بھی ہوگا اس نے سوچا بھی نہیں تھا۔ وہ گھبرا کر مڑی۔

”فائزہ والے میرا انتظار کر رہے ہوں گے۔”

اسلم نے کلائی سختی سے پکڑ لی

”اتنی جلدی کیا ہے جس کام سے آئی ہو وہ تو پورا کرلیں۔”

”اسلم مجھے تم سے کوئی کام نہیں تھا، تمہیں کوئی بات کرنی تھی جو کرنے کی بجائے تم بدتمیزی کر رہے ہو۔”

اب کے بسمہ کا لہجہ سخت تھا۔

بسمہ کو دکھ، ڈر اور گھبراہٹ سب ایک ساتھ محسوس ہورہا تھا۔ دکھ اسلم کے سطحی رویئے کا، ڈر کہ پتا نہیں اسلم کیا کرنے والا ہے اور گھبراہٹ کہ کوئی اور انہیں ساتھ نا دیکھ لے۔ وہ ایک دم جیسے کسی نیند سے جاگی تھی اب اسے خود پہ حیرت ہورہی تھی کہ وہ جو بھری کلاس میں لڑکوں سے بات کرتے میں گھبراتی تھی وہ خالی کلاس میں اسلم سے ملنے اکیلی آگئی تھی۔ اس کی کلائی ابھی تک اسلم کی سخت گرفت میں تھی پہلی والی نرمی مفقود تھی۔

 ”محترمہ جتنی معصوم تم خود کو ثابت کرنا چاہ رہی ہو اگر اتنی ہی ہوتیں تو میرے پیچھے پیچھے اکیلے کمرے میں نا آتیں۔ بچی تو نہیں ہو کہ یہ نہ پتا ہو کہ جوان لڑکا، جوان لڑکی کو اکیلے کمرے میں کیوں بلاتا ہے۔”

۔۔۔۔۔جوان لڑکی۔۔۔۔۔ وہ جو ابھی تک اسکول کی بچی کہلاتی تھی اسلم اسے جوان لڑکی کہہ رہا تھا۔ ابھی تک بسمہ کی محبت میں، تصور میں، لڑکپن کی معصومیت تھی اس نے اس پہلو پہ کبھی کہاں سوچا تھا۔ وہ اور گھبرا گئی

”اسلم چھوڑو ہاتھ ورنہ میں چیخنا شروع کردوں گی۔”

 ”واہ بھئی! آئیں بھی خود اپنی مرضی سے میں پکڑ کے تو نہیں لایا تھا اب نخرے دکھائے جارہے ہیں۔ ویسے چیخنے سے تمہارا ہی نقصان ہوگا سارے اسکول کو پتا چل جائے گا کہ تم مجھ سے ملنے آئی تھیں۔ کیا پتا کوئی اخبار تک بھی خبر پہنچا دے۔ واہ کیا مصالحے دار خبر لگے گی میٹرک کی طلبہ اپنے عاشق کے ساتھ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ”وہ بات کو آدھا چھوڑ کر ہنسنے لگا۔

”بدنامی بھی تمہاری ہی ہوگی اور شادی کے چانسز تو ختم ہی سمجھو پھر اس سے بہتر ہے خاموشی سے موقع کا فائدہ اٹھاتے ہیں پھر ویسے بھی تم دوسرے کالج چلی جاو گی میں کسی دوسرے کالج ہاں تم رابطہ رکھنا چاہو گی تو موسٹ ویلکم، ورنہ آج کی بات آج ختم۔”

اسکی باتوں سے صاف لگ رہا تھا کہ سمجھ رہا ہے کہ وہ جس جسمانی ضرورت سے آیا ہے بسمہ بھی اسی وجہ سے آئی ہے مگر ڈر رہی ہے۔ اور اس بات کا احساس ہوتے ہی شرمندگی سے بسمہ کے آنسو بہنے لگے۔

”اسلم مجھے کسی کا کوئی فائدہ نہیں اٹھانا ہاں اکیلے میں ملنے آنا میری غلطی تھی کیونکہ میں سمجھی تھی کہ تم شریف لڑکے ہو”

”او میڈم! جسے تم شرافت کہہ رہی ہو آج کل وہ صرف ان لڑکوں میں ہوتی ہے جن میں کوئی اور صلاحیت نہیں ہوتی”

اس نے ”کوئی اور” اتنے معنی خیز انداز میں کہا کہ بسمہ کے جسم میں سرد لہر دوڑ گئی۔

اسی وقت بسمہ کو لگا کہ فائزہ نے اسے پکارا ہے اور شاید اسلم نے بھی وہی آواز سنی اس کے چہرے پہ آنے والے چند لمحوں کی گھبراہٹ نے بسمہ کا فیصلہ آسان کردیا

 ”اسلم ہاتھ چھوڑو”

وہ تھوڑا زور سے بولی۔ خالی کمرے میں اس کی آواز گونج گئی۔ اسلم کی گرفت کچھ ڈھیلی ہوئی بسمہ نے اور زور سے آواز دی ”فائزہ” باہر قدموں کی آواز بالکل قریب آ گئی۔ اسلم کے چہرے کی گھبراہٹ واضح ہوگئی وہ بسمہ کی کلائی چھوڑ کے بھاگ کے کلاس کی کھڑکی سے پیچھے تنگ راہداری میں کود گیا۔ بسمہ چند لمحے سن کھڑی رہی پھر ایک دم باہر بھاگی۔ فائزہ اور ارمغان تیز قدموں سے ادھر ہی آرہے تھے فائزہ کا چہرہ دیکھ کر بسمہ کا دل رکنے لگا۔ اس کی آنکھیں سرخ ہورہی تھیں اور چہرہ آنسووں سے تر تھا۔

لمحے کے ہزارویں حصے میں اسے خیال آیا ”کیا ارمغان بھی”

اتنے میں ارمغان بولا ”بسمہ کہاں تھیں تم ہم تمہیں سارے اسکول میں ڈھونڈ کے آئے ہیں۔”

”کیا کیا ہے تم نے فائزہ کے ساتھ؟ ” بسمہ کا لہجہ بہت تیز تھا۔ فائزہ نے بسمہ کا ہاتھ پکڑ لیا اس سے بولا نہیں جارہا تھا۔ پہلے صرف نفی میں سر ہلایا پھر بہت مشکل سے بولی ”یہ میری مدد کرہا ہے” یہ کہہ کر دوبارہ خاموش ہوگئی اس کے ہونٹ کانپ رہے تھے۔ ”بسمہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ گل بانو”

”کیا ہوا فائزہ۔۔۔ جلدی بتا مجھے ڈر لگ رہا ہے ”

فائزہ رو پڑی۔

 ”بسمہ! بانو کی ڈیتھ ہوگئی”

گل بانو کی کہانی

میں گل بانو ہوں۔ مجھ سے آپکا تعارف یا تھوڑی سے شناسائی بسمہ کی بدولت ہوئی۔ اب تو میں مر بھی گئی مگر جاننا چاہیں گے کہ میرے ساتھ کیا ہوا جو مجھے اتنی کم عمری میں موت کی آغوش میں لے گیا۔

اتنا تو آپ کو اندازہ ہو ہی گیا ہوگا میرا تعلق ایک دیہی علاقے کے درمیانے درجے کے زمیندار گھرانے سے ہے۔ ہمارا آبائی گاوں 2 ہزار سے بھی کم نفوس پہ مشتمل ہے جو کسی نا کسی حوالے سے ایک دوسرے کے رشتہ دار ہوتے ہیں۔ اصل میں یہ دو سگے بھائیوں کی نسل ہے جو دو برادریوں کی صورت میں ایک ہی گاوں میں رہتی ہے۔ میں نا اپنی ذات بتاوں گی نا صوبہ کیوں کہ آپ مسئلہ سمجھنے کی بجائے یہ فیصلہ کرنے میں لگ جائیں گے کہ یہ قوم اور یہ صوبہ تو ہے ہی ایسا۔ اب صوبہ یا قوم جیسی بھی ہو میں تو مر گئی نا۔ خیر آگے سنیں تو مسئلہ کچھ یوں ہے کہ ہمارے گاوں میں باقاعدہ شادیاں عموما پیدائش سے پہلے ہی طے ہوجاتی ہیں اور لڑکی کے بالغ ہوتے ہی باقاعدہ رخصتی۔ میں سمجھتی تھی کہ میں اپنے گھر والوں کے ساتھ شہر میں رہ رہی ہوں تو شاید میرے پڑھے لکھے بھائی ان رسوم کے خلاف کوئی قدم اٹھائیں گے۔ اور میں بہت پر امید تھی کیونکہ وہ فلاحی کاموں میں کافی آگے آگے ہوتے تھے۔ میرے والد اور بڑے بھائی درمیانے درجے کے سیاسی کارکن تھے ہر اہم موقعے پہ ملک سدھارنے کے عزم کا اعلان کیا جاتا عورتوں پہ ہونے والے ظلم کے خلاف آواز اٹھائی جاتی۔ میرے بھائی کا کہنا تھا کہ تبدیلی گھر سے شروع ہوتی ہے اور ہر جگہ میرا حوالہ دیتے کہ کس طرح وہ سب خاندان سے لڑ کر مجھے تعلیم دلوا رہے ہیں۔ اس کا حوالہ وہ کئی بار مجھے بھی دے چکے تھے بقول ان کے ”میں نے بہت مشکل سے تمہیں اسکول میں پڑھانے کے لئے سب سے مخالفت مول لی ہے، کبھی بھی کچھ ایسا نا کرنا کہ مجھے شرمندہ ہونا پڑے۔” میں نے ہمیشہ یہ بات اپنے لئے اولین اصول بنا کے رکھی۔ بسمہ اور فائزہ کے علاوہ کسی اور سے دوستی نا کرنے کی وجہ بھی یہی تھی کیونکہ باقی لڑکیوں کی لڑکوں سے بھی دوستی تھی اور اگر بڑے بھائی کو پتا چل جاتا تو ان کے مطابق وہ میرا اسکول جانا بند کرا دیتے۔

اس خوف سے میں خود تو محدود ہی رہتی بلکہ بسمہ اور فائزہ کو بھی نصیحت کرتی رہتی مجھے صرف یہ خوف تھا کہ کسی وجہ سے میری تعلیم نہ چھوٹ جائے۔ مجھے یہ تو پتا تھا کہ میری شادی گاوں میں ہی ایک چچا زاد کزن سے ہوگی مگر مجھے یہ بھی پتا تھا کہ اس میں کافی وقت ہے کیونکہ جب میں پانچویں میں تھی تب وہ پیدا ہوا تھا۔ اسی لئے میرا ارادہ تھا کہ میں اتنا پڑھ لوں کہ گاوں جاکر وہاں کی لڑکیوں کے لئے اسکول بنا سکوں۔میرا خیال بلکہ خوش فہمی تھی کہ تعلیم سے شاید یہ نظام بدل جائے۔ یہ وہ خواب تھا جو میں کبھی کسی سے نہیں کہہ سکی۔ مگر نویں جماعت کا سال اختتام پہ تھا جب یہ ہوا کہ چھوٹے بھائی کی دوستی گاوں کی دوسری برادری کی لڑکی سے ہوگئی۔ مجھے پتا تھا کیونکہ بھائی کے کہنے پہ میں نے اس سے دوستی کی تھی اور بھائی کا نمبر اسے اور اس کا بھائی کو لا کر دیا تھا۔ مجھے وہ لڑکی کبھی اچھی نہیں لگی کیونکہ میری دوستی کبھی ایسی لڑکیوں سے نہیں ہوپائی مگر مجھے بھائی سے محبت تھی جس میں وہ خوش اس میں میں خوش۔ مجھے توقع تھی کہ بابا اور بڑے بھائی اس شادی کو سپورٹ کریں گے مگر جب ان لوگوں کو پتا چلا تو میری توقع کے برعکس طوفان کھڑا ہوگیا۔ چھوٹے بھائی کو کچھ کہنے کی بجائے دوسری برادری والوں کو دھمکیاں دی جانے لگیں کہ اپنی لڑکی کو حد میں رکھو۔ اور ایک دن چپکے سے بھائی اور وہ لڑکی بھاگ کر دوسرے شہر چلے گئے۔ کچھ مہینے عدالت میں مقدمہ چلا ان برادری والوں کا موقف تھا کہ لڑکی بہت چھوٹی ہے اور اسے زبردستی اغوا کیا گیا ہے۔ بھائی پہ اغوا اور زنا کا الزام لگایا گیا مگر عدالت میں لڑکی کے بیان کے ساتھ ہی عدالت نے ان دونوں کے حق میں فیصلہ دے دیا اور فیصلے کے بعد وہ دونوں کہاں گئے کسی کو نہیں پتا۔ ہاں اس کے بعد لڑکی کے گھر والوں نے جرگے میں معاملے کو حل کرنے پہ اور زور دینا شروع کر دیا معاملہ پہلے بھی جرگے میں چل رہا تھا مگر سست رفتار سے۔ اس دوران میٹرک کی کلاسیں بھی شروع ہوگئیں۔ میں نے اس معاملے کی کوئی بات بسمہ یا فائزہ سے نہیں کی کیا بتاتی میری ہی شرمندگی تھی۔ میں ان سے ویسے تو ہر بات شئیر کرتی تھی مگر یہ فرسودہ روایات کیسے بتاتی۔ میری ساری باتیں آج کیا پکا گھر جاکے کیا کیا کل کیا کرنا ہے بس اس تک رہتی تھیں ان کی طرح میں گھر کے مسئلے نہیں بتاتی تھی۔میری کوشش ہوتی کہ میرے حوالے سے کوئی بات ہو ہی نہیں۔ ہم بسمہ کی دادی کی نصیحتوں پہ بات کرتے فائزہ کی امی کی بات کرتے مگر میں ان سب باتوں سے پہلو بچا جاتی انہوں نے شاید کبھی غور بھی نہیں کیا۔ میں بھی کن غیر ضروری تفصیل میں چلی گئی مگر مر گئی ہوں نا وقت کی طوالت کا احساس بھی زندگی کے ساتھ ختم ہوگیا ہے۔ خیر گرمیوں کی چھٹیوں میں واپس گاوں آئی تو میرے گھر والوں نے میرے لئے زندگی کا سب سے بڑا سرپرائز رکھا ہوا تھا۔ میری شادی، جس لڑکی سے بھائی نے بھاگ کے شادی کی اس کے چچا سے۔ جو مجھ سے 40 سال بڑا بھی تھا اور پہلے سے شادی شدہ اور مجھ جتنی بیٹیوں کا باپ۔ جون کا مہینہ تو جرگے کے فیصلوں اور پیسوں کی ادائیگی میں گزرا جولائی کے شروع میں نکاح کیا گیا۔ میں شاید یہ سمجھتی رہتی کہ یہ سب میرے گھر والوں نے مجبوری میں مانا مگر نکاح سے ایک دن پہلے اتفاقا میں نے بڑے بھائی کو فون پہ بات کرتے سن لیا ان کی باتوں سے اندازہ ہوا کہ وہ چھوٹے بھائی سے بات کر رہے ہیں اور یہ پہلے سے طے تھا کہ دوسری برادری کو میرا رشتہ دے کر معاملہ ٹھنڈا کر لیا جائے گا تاکہ پیسے زیادہ نا دینے پڑیں۔ یہ تھے وہ بھائی جن کی عزت کے لئے میں خود کو محدود کرتی رہی۔ اپنی خواہشات ختم کیں تاکہ کوئی ان پہ انگلی نا اٹھا سکے۔ مگر انہوں نے گھرکے بیٹے کی زندگی کے لئے گھر کی بیٹی کو قربان کردیا۔ مگر شاید غلطی ان کی بھی نہیں تھی جب روایات خون بن کے جسم میں دوڑنے لگیں تو ظلم نہیں لگتیں۔

ہوتا ہوگا نکاح خوشی کا موقع مگر مجھے لگ رہا تھا میرا جنازہ تیار کیا جارہا ہے۔ میں وہاں من پسند بہو اور بیوی کے طور پہ نہیں جارہی تھی میں انتقام کا نتیجہ تھی۔ مجھے لے جاکر اس سن رسیدہ کے کمرے میں راتب کی طرح پھینک دیا گیا۔ اور صبح کسی معمول کی طرح مجھے سمیٹ کر اسپتال میں ڈال آئے۔ اس اسپتال کے لئے بھی کوئی انوکھی بات نہیں تھی میری موجودگی میں ہی کوئی تین چار لڑکیوں کو میری ہی حالت میں لایا گیا اور اسپتال کے عملے کو دیکھ کے لگ رہا تھا کہ وہ سب اس کے عادی ہیں۔

اور اس کے بعد ناختم ہونے والا عذاب شروع ہوا بھاگ جانے والی بیٹی کا غصہ مجھ پہ اتارا جاتا پہلے ہی مہینے امید سے ہونے کے باوجود میں گھر کے کام بھی کرتی اور رات میں شوہر کے پاس حاضری بھی۔ کئی بار بےہوش ہوئی۔ ڈاکٹر کا کہنا تھا کہ اگر میری غذا بہتر نا کی گئی تو میں زچگی کا عمل سہہ نہیں پاوں گی۔ مجھے سمجھ نہیں آتا تھا کہ اپنی زندگی کی دعا مانگوں یا موت کی۔ مجھے موت بہتر لگنے لگی تھی۔ کچھ ہی دنوں میں میری حالت مردے جیسی ہوگئی کہ بسمہ اور فائزہ بھی دیکھ کے گھبرا گئیں مگر کیا بتاتی انہیں کچھ تھا ہی نہیں بتانے کو جو کچھ میں سہہ رہی تھی وہ صرف محسوس کیا جاسکتا تھا بتایا نہیں جاسکتا۔ میرے شوہر کے گھر والے اب بھی اپنی گھر کی لڑکی اور میرے بھائی کی تلاش میں تھے۔ میرے گھر والوں بلکہ میرے فلاحی کاموں میں آگے آگے رہنے والے بھائی نے پلٹ کر میرا حال پوچھنے کی زحمت گوارا نہیں کی۔ کیوں کرتے جتنا کام مجھ سے لے سکتے تھے وہ انہوں نے لے لیا اب میں ان کے کسی کام کی نہیں تھی۔ وقت گزر رہا تھا میری حالت بگڑ رہی تھی خون کی کمی ہوتی جارہی تھی میں درد سے تڑپتی رہتی تھی۔ آخری بار ڈاکٹر کے پاس لے کر گئے تو اس نے پہلے ہی بتا دیا کہ حالت اتنی نازک ہے کہ اب صرف ماں یا بچے میں سے کسی ایک کو بچایا جاسکتا ہے۔ واپس آکر میں بہت دیر گم سم رہی مجھے پتا تھا کہ شوہر سمیت میرے سسرال والے مجھے تو بچانے کی ہرگز کوشش نہیں کریں گے ہاں شاید بچے کو بچانا چاہیں کیونکہ وہ لڑکا تھا۔ میرے حمل کاآٹھواں مہینہ ختم ہونے کو تھا میری نیندیں اڑ چکی تھیں اور اپنی زچگی سے چند دن پہلے میں نے فیصلہ کر لیا۔ میں اس دنیا میں ایک اور خود غرض بڑھانا نہیں چاہتی تھی۔ ایک رات میں سب کے سوتے میں چپکے سے اٹھی اور کالا پتھر پی لیا۔ اگلی صبح سب کو میری کالی ہوئی لاش ملی۔ میں اپنا بچہ اپنا ساتھ لے آئی ہوں ان جیسے خود غرضوں میں رہ کر وہ بھی ان جیسا ہوجاتا اب یہاں میں اسے صرف محبت سکھاوں گی۔ تاکہ قیامت کے دن وہ میرے ساتھ دینے کے لئے موجود ہو دنیا کے دوسرے مردوں کی طرح اپنے فائدے کے لئے مجھے اکیلا نا چھوڑ جائے۔

ارے ہاں ایک بات تو بتا دوں میری مرنے کے دو مہینے بعد میرے سسرال والوں کو اپنی بیٹی یعنی میری بھابھی مل گئی اور انہیں اپنی عزت دوبارہ بڑھانے کا شاندار موقع مل گیا۔ اب ہم نند بھاوج مل کر ایک مرد کو دنیا کی خودغرضی سے دور صرف محبت سکھا رہے ہیں۔ یہاں اس سے مل کر مجھے پتا چلا وہ اتنی بھی بری نہیں جتنا میں سمجھتی تھی اس نے صرف اپنے گھر کے گھٹن زدہ ماحول سے نکلنے کی کوشش کی تھی۔ دیکھیں بسمہ بھی یہی کرنے جارہی تھی نا۔ ہم عورتوں کو اس گھٹن سے نجات شاید موت کے بعد ہی ملتی ہے مگر میری دعا ہے کہ بسمہ کے ساتھ ایسا نا ہو۔ آپ تو اس کے ساتھ ہیں دیکھتے جائیں کیا ہوتا ہے اس کے ساتھ۔

”بسمہ! بانو کی ڈیتھ ہوگئی ہے”

بسمہ کو لگا اس کے ہاتھوں پیروں کی جان نکل گئی وہ پیچھے دیوار کے سہارے بیٹھتی چلی گئی۔ فائزہ نے ایک دم اسے پکڑنے کی کوشش کی مگر بسمہ سے اٹھا ہی نہیں گیا۔ اس کے لئے دونوں ذہنی جھٹکے بہت شدید تھے۔ ارمغان فورا بھاگ کے ذرا دور لگے الیکٹرک کولر سے پانی لے آیا۔ دونوں سہیلیاں ایک دوسرے کا ہاتھ تھامے وہیں زمین پہ بیٹھی رو رہی تھیں۔ کچھ دیر بعد فائزہ نے خود کو سنبھالا۔

 ”ارمغان پلیز اس کے بھائی کو بلا کر لے آو اس سے کہنا بسمہ کی طبیعت ٹھیک نہیں ہے رکشا لے کر آئے تو میں اسے گھر لے جاتی ہوں۔ ٹیچر نرگس کو بھی بتا دینا۔”

کچھ ہی دیر بعد رکشا آگیا اور فائزہ اسے سہارا دے کر رکشے تک لائی۔ بسمہ کا جسم ابھی بھی بے جان ہورہا تھا۔ وہ فائزہ کے کندھے پہ سر رکھ کر بیٹھ گئی۔رکشا چل پڑا۔ کچھ دیر بعد بسمہ کو خیال آیا۔

”فائزہ تجھے گل بانو کا کس نے بتایا”

 ”یار تو اٹھ کے گئی تو پیچھے سے اسد آگیا میں نے اسے بتایا کہ اس کی کلاس ٹیچر نے حمزہ کو کال کرنے کا کہا تھا، اس کی پہلے ہی بات ہوگئی تھی حمزہ سے دو دن پہلے ڈیتھ ہوئی ہے وہ گھر والوں کے ساتھ دو دن سے گاوں میں ہے آج بانو کی فاتحہ تھی۔”

”ہوا کیا تھا اسے”

”زیادہ تو نہیں پتا شاید ڈلیوری کے وقت جسم میں زہر پھیل گیایہی اندازہ ہوا مجھے اسد کی بات سے۔”

اس کے بعد وہ دونوں ہی چپ ہوگئیں۔ بسمہ کو پورا رستہ گل بانو کے ساتھ گزارا ایک ایک لمحہ یاد آتا رہا۔ گل بانو اس کے لئے آئیڈیل تھی ایک مکمل لڑکی کو جیسا ہونا چاہیئے دھیما مزاج، مضبوط کردار، اور زمانے کی نزاکت کو سمجھ کے چلنے والی۔ ایک دم اس کا دل بھر آیا۔ اگر گل بانو ساتھ ہوتی تو آج اس کے ساتھ یہ نا ہوتا جو ہوا گل بانو اسے پہلے ہی سنبھال لیتی۔ گل بانو نے ہمیشہ سچی دوست ہونے کا حق ادا کیا مگر جب اسے ضرورت تھی تو بسمہ کچھ بھی نہیں کرپائی۔ بسمہ کے دل میں ہوک سی اٹھی۔

”کاش مجھے پتا چل جاتا کہ اس کا ساتھ کیا ہوا۔ کاش میں اسے بچا سکتی”

گھر پہنچ کر فائزہ نے بسمہ کو سہارا دے کر اتارا وہ گھر میں داخل ہوئیں تو امی اور دادی اسے ایسے سہارا لے کر آتے دیکھ کر گھبرا گئیں۔ امی تیزی سے آگے آئیں۔

”کیا ہوابسمہ میرا بچہ”

 ”آنٹی وہ گل بانو۔۔۔۔۔۔۔۔” فائزہ بتانے لگے مگر بسمہ نے اس کا ہاتھ کھینچا

 ”چھوڑ فائزہ انہیں پتا ہوگا” اس کے لہجے میں تلخی بھی تھی اور شکستگی بھی۔

”کیا ہوا گل بانو کو۔ کیا پتا ہوگا۔ ارے کچھ بتاو تو لڑکیو۔”

 ”آنٹی اس کا شاید بی پی لو لگ رہا ہے بہت میں کمرے میں لٹا کے آوں پھر بتاتی ہوں۔” فائزہ نے جاتے جاتے مڑ کر جلدی سے جواب دیا۔

فائزہ اسے لٹا کر فورا باہر نکل گئی پانچ منٹ بعد واپس آئی تو پیچھے امی بھی تھیں۔ فائزہ کے ہاتھ میں گلوکوز کا گلاس تھا۔ فائزہ نے اسے گلاس پکڑایا امی خاموشی سے اس کے پاس بیٹھ گئیں۔

آہستہ سے اس کا ہاتھ پکڑ کر کچھ دیر چپ بیٹھی رہیں۔ پھر بولیں

 ”اسی لئے نہیں بتاتے تجھے کچھ، فورا دل پہ لے لیتی ہے مگر سچی بات ہے اللہ گواہ ہے، گل بانو کے انتقال کا ہمیں بھی نہیں پتا تھا ابھی فائزہ نے بتایا۔

بسمہ چپ رہی مگر اس کے تاثرات سے لگ رہا تھا کہ اسے زیادہ یقین نہیں آیا۔

اس کے بعد ایک ان کہا سا معاہدہ ہوگیا سب میں، کوئی گل بانو کی بات نہیں کرتا تھا۔ فائزہ اور بسمہ کو لگتا تھا کہ سہیلی ہونے کے ناتے ان کی ذمہ داری تھی کہ وہ تکلیف میں تھی تو کسی نا کسی طرح اس کی مدد کی جاتی۔ مگر کیا تکلیف تھی کتنی شدید تھی اس کا وہ اندازہ نہیں کرسکتی تھیں بس ایک احساس ندامت تھا جو مسلسل ساتھ تھا۔

امتحان شروع ہوگئے، ایسا لگنے لگا جیسے سب ٹھیک ہوگیا ہے۔ نارمل زندگی شروع ہوگئی ہے۔ مگر بسمہ کو پتا تھا سب نارمل نہیں ہے۔ اب رات رات بھر تکیے پہ سر رکھے جاگتی رہتی۔ کوئی سوچ کوئی رومانوی خیال کچھ نہیں، بس جیسے جمود طاری ہوگیا ہو۔ امتحان ختم گئے تو پریکٹیکلز کی تیاری میں لگ گئی۔

مگر کچھ دنوں سے کچھ الگ ہلچل نظر آرہی تھی گھر میں۔ایک دو دفعہ گھر میں آنے والی خواتین بالکل نامانوس لگیں امی نے کہا میری پرانی جاننے والی ہیں مگر بسمہ کو لگا معاملہ کچھ اور ہے۔ ایک دن امی نے صبح صبح دونوں بہنوں کو بلا لیا اور کافی دیر بند کمرے میں کیا چلتا رہا بسمہ کو اندازہ نہیں ہوپایا۔ اتنی عقل تو تھی اس میں کہ یہ سب کسی نا کسی حوالے سے اس کی شادی سے تعلق رکھتا ہے۔ شام تک معاملہ کھل بھی گیا۔ تھیں تو وہ امی کی جاننے والی ہی مگر بسمہ کو دیکھنے آئی تھیں پہلی دفعہ والی خواتین کو بسمہ کا قد چھوٹا لگا تھا مگر دوسری دفعہ والی خواتین جو لڑکے کی بھابھی بھی تھیں اور مڈل مین کا کردار ادا کر رہی تھیں انہوں نےکل شام ہی بتایا کہ باقی گھر والوں کی ریکوائرمنٹ کے حساب سے بسمہ میں تقریبا سب خصوصیات ہیں تو آج سب فارملی بسمہ کو دیکھنے آئیں گے اسی لئے امی نے صبح سے دونوں بہنوں کو بلایا ہوا تھا اور یہ بات چیت چل رہی تھی کہ اگر ان کی طرف سے ہاں ہوگئی تو یہاں سے کیا جواب دینا ہے۔ شام تک لڑکے والوں نے آنا تھا۔ اسماءآپی اور بشرہ آپی نے اس کے کمرے میں آکر سوٹ کھنگالنے شروع کر دیئے۔ اور بشرہ آپی نے ایک سوٹ نکالا اور بسمہ کا دل رک سا گیا۔ بلیک اینڈ ریڈ ایمبرائڈڈ سوٹ۔

 ”بسمہ واہ یہ تو بہت زبردست سوٹ ہے کب لیا تم نے بس یہی پہن لو، ہیں نا آپی” انہوں نے اسماءآپی سے تصدیق بھی چاہی جو انہوں نے سر ہلا کر دے دی۔

”ہاں واقعی کافی پیاری کرتی ہے” اور بسمہ کے دماغ میں آندھیاں سی چلنے لگیں۔ وہ کیا بتاتی کہ یہ سوٹ کیا سوچ کے لیا تھا۔ ایک دفعہ پہلے بھی اس نے اپنی نمائش لگائی تھی اب دوبارہ شاید یہی ہونے جارہا تھا۔ ایسا نا بھی ہو مگر اسے ایسا ہی لگ رہا تھا۔ جیسے اس کی ذات مردوں کے سامنے پیش کی جارہی ہو۔ جو تذلیل اسلم کے رویئے سے محسوس ہوئی تھی وہی آج یہی سوٹ پہن کر تیار ہونے کے مشورے پہ محسوس ہوئی۔ اسے فائزہ کی جو بات تب سمجھ نہیں آئی تھی اب سمجھ آگئی۔ جب اس نے کہا تھا بسمہ خدا کے لئے خود کو نمائش کی چیز نا بنا۔ وہ چپ کھڑی تھی۔ اتنے میں دادی اندر آگئیں ”ارے کیوں دیر لگا رہی ہو لڑکیو نکال چکو کپڑے تو یہ تیار ہو۔

دادی یہ دیکھیں یہ سوٹ پیارا لگے گا نا ہماری بسمہ پہ۔””

بشرہ آپی نے انہیں بھی دکھایا۔

 ”پاگل ہوگئی ہو کیا یہ سیاہ رنگ آج پہناو گی بی بی خوشی کے موقع پہ ایسے رنگ نہیں جچتے نا ہمیں راس آتے ہیں۔ فورا رکھو اسے کوئی شوخ رنگ نکالو۔”

بسمہ نے سکون کا سانس لیا۔ سوٹ تو بدل گیا مگر آگہی کا جو نیا در کھلا وہ ابھی کھلا ہی تھا۔

مہمان آئے بھی اسے دیکھ کے چلے بھی گئے کافی خوش اور مطمئین بھی لگ رہے تھے مگر بسمہ کو مسلسل اپنا آپ دکان پہ سجے مال جیسا لگتا رہا۔ اس کو ہر ہر پہلو سے جانچا گیا کردار پرکھا گیا۔ بس شاید دانت گننے کی کسر رہ گئی۔ یہ سوچ آتے ہی اس کے چہرے پہ تلخ مسکراہٹ آئی۔ وہ اب کمرے میں بیٹھی چوڑیاں اتار رہی تھی۔ دادی ابھی امی کے کمرے میں تھیں جہاں سب بڑے بیٹھے فیصلہ کر رہے تھے۔ تبھی بشرہ آپی کمرے میں آئیں۔

 ”بسمہ! کہاں گم ہو ابھی تو تم نے اپنے ان کو دیکھا بھی نہیں” بسمہ کو ان کا انداز عجیب لگا ایسی بے تکلفی تو کبھی نہیں تھی ان سے۔

 ”یہ لو دیکھ لو ہمارے دولہا بھائی کیسے ہیں” بشرہ آپی نے ایک تصویر پکڑا دی اسے اور واپس مڑ گئیں۔

تصویر لینے اور ان کے جانے تک کی ذرا سی دیر میں اسے یہ تو اندازہ ہوگیا کہ فیصلہ ہوگیا ہے۔ اس نے ہاتھ میں پکڑی تصویر پہ نظر ڈالی۔

پچیس چھبیس سال کا کافی خوبرو لڑکا جو کیمرے میں دیکھ کے مسکرا رہا ہوگا مگر بسمہ کو لگا اسی کو دیکھ رہا ہے۔

کافی دیر میں پہلی بار اسے خوشگوار احساس ہوا۔

بسمہ نے تصویر پلٹ کر دیکھی ایک کونے میں شاید اس کا نام لکھا تھا۔ ”رانا عبدالباسط” بسمہ کو ہنسی آگئی ایک اور نام جو افسانے کے ہیرو جیسا بالکل بھی نہیں۔ پھر اس نے دل میں دہرایا بسمہ باسط اور ہلکے سے مسکرا دی۔

صورت حال تو افسانوں جیسی ہی تھی اس کا نام ایک ایسے شخص کے ساتھ جوڑ دیا گیا تھا جسے وہ جانتی بھی نہیں تھی مگر اس کی نکھری گندمی رنگت چمکیلے سیاہ بال اور سیاہ آنکھیں اس کا دل دھڑکا رہے تھے۔ اسٹوڈیو کی سوفٹ لائٹ میں وہ بالکل کسی افسانوی ہیرو جیسا ہی لگ رہا تھا۔ اس نے تصویر الماری میں رکھی کتاب میں چھپا دی۔

منگنی کی رسم دومہینے بعد رکھنے کا فیصلہ ہوا اس کے بعد گھر میں بحث جاری تھی کہ لڑکا آیا تو دونوں کو ساتھ بٹھانا ہے یا الگ الگ۔ دادی کا کہنا تھا کہ منگنی کوئی شرعی رشتہ نہیں ہوتی لڑکا بہرحال نامحرم ہے اور اسے الگ بٹھانا چاہیے، جبکہ امی اور بہنوں کا موقف تھا کہ اب یہ سب کون دیکھتا ہے اب تو لڑکا لڑکی ساتھ ہی بیٹھتے ہیں۔ ابو کی حیثیت فی الحال ٹینس میچ کے تماشائی جیسی تھی۔ گھر میں چند دن سے کنھچاو کی سی کیفیت تھی۔ روز دونوں بہنیں بچوں کو ٹیوشن بھیج کر ادھر ہی آجاتیں اور رات گئے تک ادھر ہی رہتیں۔ آج پھر یہی بحث جاری تھی۔ بسمہ خود فیصلہ نہیں کرپارہی تھی کہ وہ کیا چاہتی ہے کیا اسے ساتھ بیٹھنا اچھا لگے گا یا شرم آئے گی۔ وہ اسے قریب سے دیکھنا چاہتی تھی مگر وہ برابر بیٹھ بھی جاتا تو کونسا بسمہ آنکھیں پھاڑ پھاڑ کے دیکھ لیتی۔

امی دادی کی بحث جاری تھی۔ ایک پوائنٹ پہ آکر امی کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوگیا۔ وہ غصے میں آگئیں۔

 ”بس اماں اب میرا منہ نہ کھلوائیں، اخلاق بھائی اور منور بھائی کے گھر کے شادیوں میں جو طوفان بدتمیزی ہوتا ہے وہ آپ نے نہیں دیکھا کیا؟ وہ بھی تو آپ کی اولاد ہیں مگر یہ سیدھے ہیں آپ کا احترام کرتے ہیں تو آپ ناحق کی نکتہ چینی کر رہی ہیں۔ اماں زمانے کے ساتھ چلنا پڑتا ہے ایک دن کی بلکہ چند گھنٹوں کی بات ہوگی اور ساری زندگی کے لیئے رہ جائے گی۔ مشتاق صاحب آپ ہی سمجھائیں اماں کو۔”

”ہاں اماں زبیدہ ٹھیک کہہ رہی ہے ہے تقریبوں میں تو یہ سب چلتا ہی ہے۔ اخلاق بھائی اور منور بھائی کے گھر کی شادیوں کی سب مثالیں دیتے ہیں آپ کیا چاہتی ہیں کہ میری آخری بیٹی کی شادی میں لوگ باتیں بنائیں۔”

ابو کے دو ٹوک انداز سے ہی ظاہر ہوگیا کہ وہ شروع سے اسی سائیڈ تھے بس مناسب موقعے کی تلاش میں تھے۔

منگنی کی تیاریاں زور و شور سے شروع ہوگئیں لگتا تھا منگنی نہ ہو بارات ہو۔ طے یہ ہوا کہ لڑکی کا سوٹ لڑکے والے بھیجیں گے اور لڑکے کا سوٹ لڑکا اور بڑے بھیا ساتھ جا کر لے آئیں گے۔ بڑے بھیا دو دفعہ گئے اور دونوں دفعہ بھنائے ہوئے واپس آئے۔

”لاڈ صاحب کو کچھ پسند ہی نہیں آتا اور جو پسند آتا ہےاس کی قیمتیں آسمان سے باتیں کر رہی ہوتی ہیں۔”

 ”ارے عادت ہو گی نا ایسے کپڑے پہننے کی” امی فی الحال داماد کی ہر کمی کو بھی خوبی میں شمار کر رہی تھیں۔

 ”کوئی عادت وادت نہیں ہے گھسی ہوئی جینز پہن کے گھومتا رہتا ہے ایسے ہی اٹھ کے میرےساتھ چل پڑتا ہے یہ تک خیال نہیں کہ نیا نیا سسرال ہے تو بندہ کچھ ڈھنگ سے پہن لے۔ اصل میں امی مفت کا مال ہے نا تبھی رال ٹپک رہی ہے۔”

بسمہ کو باسط کا اتنا مہنگے کپڑوں کی فرمائش کرنا بھی عجیب لگا مگر بڑے بھیا کا انداز بھی بہت تضحیک آمیز تھا۔ ہونے والے بہنوئی کے لئے ابھی سے یہ خیالات ہیں تو بعد میں کیا ہوگا۔

حسب عادت وہ بس سوچ کے رہ گئی۔

”تم فکر نا کرو بڑے بھیا بسمہ کے کپڑے آنے دو اگر ٹکر کا سوٹ نا آیا تو ہم بھی واپس کروا دیں گےکہ بسمہ کو پسند نہیں آیا۔ ساتھ ہی کچھ بات میں وزن پیدا کرنے کے لئےیہ بھی کہہ دیں گے کہ بسمہ تو رورو کر آدھی ہوگئی ہے کہ دوستوں کو دکھاوں گی تو کتنی شرمندگی ہوگی۔”

اسماءآپی اپنے بے تکے مشورے سے خود ہی محظوظ ہوئیں۔

 ”ائیے نئیں واپس بھجوانے کی ضرورت نئیں سسرال کا معاملہ ہے اس کی۔ بس ڈھکی چھپی دو ایک کہہ لینا” دادی نے اپنے حساب سے کافی مناسب مشورہ دیا۔

بسمہ کو سمجھ نہیں آرہا تھا کہ ہو کیا رہا ہے ایک نیا رشتہ بننے جارہا ہے اور وہ بھی بدگمانی اور دروغ گوئی سے؟ اسے یونہی خیال آیا کہ یہی وجہ تو نہیں کہ امی ابو کی جب کوئی لڑائی یا نوک جھونک ہوتی ہے تو دونوں کو شادی کے موقعے پہ دیئے گئے تحائف اور جہیز کا سامان یاد آجاتا ہے جس سے وہ آج تک مطمئین نہیں ہوپائے۔ ابو کے بقول امی والوں کی طرف سے جو نکاح کی شیروانی آئی تھی وہ اتنے سستے معیارکی تھی کہ ایک دفعہ ہی پہننے میں سلائی خراب ہوگئی۔ جبکہ امی کا جوابی طعنہ یہ ہوتاکہ آپ کے گھر سے آنے والا زیور بھی ایک مہینے میں کالا پڑ گیا سونے کا کہہ کر لوہے کا زیور بھیج دیا تھا۔ اور اس کے بعد وقت نامعلوم تک جو بحث شروع ہوتی تو انگوٹھی، چپل، پاندان، دیگچی، بیڈ، پہناونی کے جوڑے، سرمہ دانی، لوٹا، آرسی مصحف کا آئینہ غرض دونوں طرف سے دی گئی ایک ایک چیز کی مدح سرائی ہوتی۔ جب تک کوئی اولاد کچھ ایسا نا کردیتی کہ دونوں کی توپوں کا رخ اس کی طرف ہوجائے۔ بسمہ کو لگ رہا تھا یہی سب کچھ اس کی زندگی میں بھی ہونے والا ہے نازک سا رشتہ حقیر چیزوں کی نظر ہوجائے گا۔ اس سے تو بہتر یہ لین دین ہوتا ہی نہیں توبہتر تھا۔

عجیب سی کیفیت تھی اس کی کبھی شدید خوشگوار احساس ہوتا کہ شاید اب اس کے تمام رومانوی خیالات حقیقت ہونے والے ہیں اور کبھی یہ مسائل دیکھ کے پریشان ہوجاتی۔ وہ سوچتی کپڑوں کےلئے اتنا سطحی رویہ دکھانے والا اچھا ہوسکتا ہے؟ پھر سوچتی اگر بہنوں نے یہ سب کچھ کہہ دیا جس کا وہ پلان بنا کر بیٹھی ہیں تو اس کا بھی توایسا ہی تاثر جائے گا۔

کیا پتا باسط کے بارے میں بھی یہ سب کچھ غلط فہمی کا نتیجہ ہو۔ آخر بڑے بھیا بھی تو پیسے خرچ کرنے کے معاملے میں کنجوسی کی حد تک احتیاط پسند ہیں۔البتہ اسد کافی متاثر تھا باسط بھائی کی بائیک زبردست ہے، باسط بھائی کی پرفیوم کی چوائس کیااعلی ہے، باسط بھائی کلاسی کلر چوز کرتے ہیں۔

منگنی کا سامان آیاتوبسمہ کو تو سب کچھ ٹھیک ہی لگا مگر اسماءآپی اور بشرہ آپی نے ہر ہر چیز کا خوب تنقیدی جائزہ لیا۔ اسماءآپی کا کہنا تھا کہ اول تو منگنی پہ شرارے پہننا آوٹ ڈیٹڈ ہوگیا ہے اور ٹی پنک کلر بہت زیادہ پٹ گیا ہے ہر منگنی پہ دلہن یہی پہنے ہوتی ہے۔ بشرہ آپی کو جیولری پسند نہیں آئی ان کا کہنا تھا کہ جیولری کافی ہلکی ہے۔ اور یہ سب باتیں بعد میں آپس میں نہیں ہوئی بلکہ باسط کی بڑی بہن رافیعہ اور بڑی بھابھی زیبا جو سامان لے کر آئیں تھیں ان کے سامنے یہ سب بیان کیا گیا۔ بھابھی تو خاموشی سے سنتی رہیں جبکہ بہن کے چہرے پہ واضح ناگواری تھی۔ آخر جب ان کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوگیا تو انہوں نے جتا دیا۔ کہنے کو ان کی چہرے پہ مسکراہٹ تھی مگر اس کے باوجود لہجے کا طنز واضح تھا۔

 ” چلیں شادی پہ ہم محلےکے درزی کو یہ سب تفصیل بتا کے اسی سے سلوا لیں گے۔ برانڈڈ برائیڈل سوٹ کا کیا فائدہ جب پسند ہی نہ آئے۔ خیر ہر ایک کو برانڈز اور کلاسی کپڑوں کا اتنا سینس ہوتا نہیں بس جو مڈل کلاس شادیوں میں نظر آئے اسی کو ‘ان’ سمجھتے ہیں۔

”اسماءدیکھو کچن میں کسی چیز کی ضرورت ہو تو اسد کو بھیج کے منگوا لو اتنی دور سے آئے ہیں یہ لوگ کوئی کمی نہ ہو”

اسماءآپی نے نے جواب دینے کے لئےمنہ کھولا ہی تھا مگر اس وقت دادی نے بروقت بات بدل دی۔ شاید ان کے خیال میں اتنا کہنا سننا کافی تھا۔

امی کو بھی شاید اندازہ ہوا کہ بات اس سے زیادہ سنجیدہ لے لی گئی ہے جتنا سوچا تھا۔

 ”بس بیٹا بچیاں تو انہی سب میں خوش ہوتی ہیں آپکو تو پتا ہے منگنی شادی پہ ہی بچیاں ارمان پورے کرتی ہیں اپنے پھر کہاں موقع ملتا ہے۔”

 ”جی آنٹی صحیح کہا مگر اسی موقع پر تو اچھی تربیت کا پتا چلتا ہے میری شادی پہ میری سسرال سے اتنا سستا سا سوٹ آگیا تھا کہ بس کیا بتاوں۔ میں پورا ایک ہفتہ روئی مگر مجال ہے جو ہماری امی نے ایک بھی بات میرے سسرال والوں سے کہنے دی ہو۔ اب جس گھر میں جاکر رہنا ہے اس کے بارے میں بولتے ہوئے ہزار بار سوچنا پڑتا ہے نا۔ سسرال میں ایسے ہی تو نہیں میری سمجھداری کی مثالیں دی جاتیں آپ خود بتائیں میں نے پہلے ہی اپنا امیج خراب کر لیا ہوتا تو یہ مقام مل سکتا تھا؟”

بسمہ بچاری ہکا بکا بیٹھی تھی کہ کچھ نا بول کر بھی اتنی تعریفیں ہوگئیں کچھ بول دیا ہوتا تو کیا ہوتا۔

اگلے دن بسمہ نے فون کر کے فائزہ کو بلوا لیا۔ایک تو منگنی کا سامان دکھانا تھا اور دوسرا یہ مسئلہ بھی تھا کہ دماغ میں جو کچھ چل رہا تھا وہ یہاں گھر پہ کسی کو نہیں بتا سکتی تھی۔ ایسے موقعے پہ صرف فائزہ ہی اس کی بات سمجھ سکتی تھی۔

فائزہ آئی تو اسے منگنی کا سامان نکال کے دیا اور خود کچھ کھانے پینے کی چیزیں لینے کچن میں آگئی۔ کچن میں جاتے ہوئے دادی پہ نظر پڑی تو دیکھتے ہی اندازہ ہوگیا کہ ان کا موڈ خراب ہے پاندان کی چھوٹی چھوٹی کٹوریاں زور زور سے پٹخ رہی تھیں۔ بسمہ چیزیں ٹرے میں رکھ کر نکلی ہی تھی کہ دادی نے آواز دے لی۔

”بی بی یہ ڈشیں بھر بھر کے کہاں لے جائی جارہی ہیں”

بسمہ کو کبھی کبھی دادی کا طرز تخاطب عجیب اور ہتک آمیز لگتا تھا وہ سیدھے سادھے کام کی پوچھ تاچھ ایسے کرتی تھیں جیسے کوئی خطرناک سازش کا کھوج لگا رہی ہوں۔ اور سازش بھی صرف خطرناک نا ہو بلکہ غیر اخلاقی بھی ہو۔

 ”دادی فائزہ آئی ہے میری چیزیں دیکھنے” اس نے حتی الامکان حد تک اپنے لہجے کو نارمل رکھا۔ اول تو ویسے بھی وہ منہ در منہ بحث کی عادی نہیں تھی۔ اور پھر فائزہ کی موجودگی میں وہ کوئی ذرا سی بھی بدمزگی نہیں چاہتی تھی۔ یہ پتا ہونے کے باوجود کہ فائزہ اس کے سب گھر والوں کو اچھی طرح جانتی ہے کبھی کبھی اس کا دل چاہتا کہ فائزہ کے سامنے اس کے گھر کا امیج بھی اتنا ہی شائستہ لگے جتنا فائزہ کے اپنے گھر کا ماحول ہے۔ مگر اس کی کسی کوشش کا کوئی فائدہ نہیں ہوا دادی کی آواز مزید تیز ہوگئی۔

 ”دیکھو بی بی یہ دوستیاں وغیرہ یہیں تک رکھنا سسرال والے یہ چونچلے نہیں برداشت کرتے۔اور اس لڑکی سے اپنے دوستانے کا تو بالکل ذکر نہ کرنا۔ صحبت سے ہی انسان کے کردار کا پتا چلتا ہے اور یہ لڑکی۔۔۔۔۔ توبہ توبہ لڑکیوں والے کوئی لچھن ہی نہیں ہیں۔ اپنی سسرال میں تو جاکر جو گل کھلائے گی سو کھلائے گی تمہاری سسرال والوں کو یہ غلط فہمی نا ہوجائے کہ تم بھی اسی کی طرح دیدہ ہوائی ہو۔”

”دادی ایسی بات نہیں ہے فائزہ بہت سلجھی ہوئی لڑکی ہے اور پلیز آپ آہستہ تو بولیں وہ مہمان ہے اس وقت”

 ”ہونہہ اب ان کل کی چوہیوں کی بھی مہمان کے نام پہ عزت کرنی ہوگی۔ دیکھو بسمہ ہر ایک چلتے پھرتے کو یہ چیزیں نہیں دکھاتے۔ نظر بد تو سلطنتیں اجاڑ دیتی ہے تم کیا جانو۔”

اب کے بسمہ کو خاموشی سے آگے بڑھ جانے میں عافیت لگی اسے پتہ تھا بحث کا فائدہ نہیں مزید بدمزگی ہی ہوگی۔

”ارے دیکھو ذرا آج کل کی نسل کو عقل کی بات کرو تو بھاگ جاتے ہیں”

بسمہ کمرے میں آئی تو فائزہ ہنس رہی تھی۔

”کیا ہوا جن چڑھ گیا کیا اکیلی بیٹھی ہنس رہی ہو” بسمہ کو اندازہ تو ہوگیا کہ فائزہ نے سب سن لیا ہےمگر مذاق میں بات ٹالنے کی کوشش کی۔

”یار تیری دادی بڑا زبردست کریکٹر ہیں”

” تجھے برا نہیں لگا”

 ”برا ماننے کی کیا بات ہے جب مجھے ان کی عادت کا پتا ہے۔ اور میری دوست تو ہے تیری دادی تھوڑی ہیں جو ان کی بات پہ ناراض ہوجاوں۔ ہاں اگر تیرے میرے بارے میں یہی خیالات ہیں تو آئیندہ نہیں آوں گی تجھ سے ملنے۔”

”اف نہیں یار! یہ بات نہیں ہے۔ مگر یار کبھی کبھی مجھے بہت شرمندگی ہوتی ہے وہ تیرے سامنے تجھے کچھ بھی بول دیتی ہیں۔”

”یہ تو نے دادی پہ تھیسس لکھنا ہے کیا؟ چھوڑ بس جس وجہ سے بلایا ہے وہ بات کر۔”

بسمہ نے سر ہلایا اور پہلے اٹھ کر جلدی سے کمرے دروازہ بند کر کے آئی۔

”یار مجھے دونوں طرف کے لوگوں کے رویئے سمجھ نہیں آرہے۔”

بسمہ کے لہجے میں بیچارگی تھی۔

”کیا مطلب کس قسم کے رویئے؟”

 ”دیکھ کوئی نیا بندہ ملنا جلنا شروع کرتا ہے جیسے نئے پڑوسی آئیں یا کوئی اور تو ہم اس سے بہت تکلف سے ملتے ہیں کوئی بات بری لگے تو بھی خاموش رہتے ہیں کوئی کم قیمت تحفہ بھی لیا دیا جاتا ہے تو بہت زیادہ شکرگزاری کا اظہار کیا جاتا ہے۔ مگر یار یہاں یہ حال ہے جہاں کوئی کمی نہیں بھی ہے وہاں بھی ڈھونڈ ڈھونڈ کر ایک دوسرے کی کمیاں نکالی جارہی ہیں ایک دوسرے کو سنایا جارہا ہے۔ تحفے حق سمجھ کے وصول کیے جارہے ہیں اور ان میں بھی سو سو خرابیاں۔ اب دیکھ یہ جو سامان ہے اس میں کیا برائی ہے؟ آپی والوں نے اتنی برائی کی باسط کے گھر والوں کے سامنے جواب میں وہ بھی لگی لپٹی رکھے بغیر مجھے سنا کے گئیں۔ جب دونوں طرف لوگوں کو ایک دوسرے پسند نہیں آئے تو رشتہ کیوں جوڑ رہے ہیں۔ میں نے کل رات ان لوگوں کے جانے کے بعداسماءآپی سے کہا بھی کہ آپی سب چیزیں ٹھیک تھیں تو برائی کرنے کی کیا ضرورت تھی تو کہنے لگیں تم ابھی نہیں سمجھو گی یہی وقت ہوتا ہے دوسروں پہ یہ ثابت کرنے کا کہ ہم کوئی گرے پڑے نہیں ابھی سے سب خاموشی سے سہتی رہو گی تو بعد میں بھگتو گی۔ یار اتنی کامن سینس تو مجھ میں ہے کہ یہ سب جوکچھ ہورہا ہے یہی بعد میں زیادہ پروبلم پیدا کرے گا۔ یار ان لوگوں کی تو اسٹریٹجی ہی بدل گئی ہے کہاں تو کیا دادی کیا امی ہر ہر بات پہ سسرال کی ماننے کے سبق دیتی تھیں کہ یہ سیکھ لو ورنہ سسرال میں جوتے پڑیں گے وہ مت کرو سسرال میں جوتے پڑیں گے ابھی سنا نا کہ دوستی تک چھوڑ دو۔ یعنی روز کے کام جو عموما گھر کی عورتوں کے آپس میں مل جل کر کرنے سے آرام سے ہوجاتے ہیں وہ تو میں گدھے کی طرح کرنا سیکھوں مگر ان کے منہ پہ ان کی برائیاں بھی کروں۔ بھائی الگ ناراض ہیں کہ باسط کی شاپنگ پہ بہت خرچا ہوگیا۔ جو بندہ ابھی دوسرے کی دلائی چیزوں پہ اس طرح اترا رہا ہے بعد میں کیا کرے گا۔”

”بس بس بس محترمہ بریک لے لے تھوڑا۔ ایک ایک کر کے ڈسکس کرتے ہیں آج کیا اگلے پچھلے سارے رکارڈ توڑنے ہیں باتوں کے”

 ”بھول جاوں گی نا کوئی نا کوئی بات یہ سب باتیں مجھے اتنا ٹینس کر رہی ہیں رات رات بھر جاگ رہی ہوں۔ اور تیرے سوا کسی کو بتا بھی نہیں سکتی اور بار بار تجھ سے ملاقات کا موقع نہیں ملے گا۔”

” ہمم دیا کچھ تو گڑبڑ ہے۔”

”ابے ڈائیلاگ نا مار حل بتا”

 ”دیکھ یار پہلی بات تو یہ پتا چلے کے تمہارے یہ جو باسط صاحب ہیں یہ موصوف کس ڈیزائن کے بندے ہیں۔ کیونکہ رہنا تمہیں بھلے سسرال کے ساتھ ہے مگرشوہر کا رویہ اہم ہوتا ہے۔”

 ”لو جی یہ کیا نئی بات بتا دی یہی تو آپی اور امی والے اتنے دن سے سمجھا رہے ہیں کہ بس باسط کو قابو میں کرلو تو سمجھ لو سب مٹھی میں۔”

”عقل کی اندھی شوہر کو قابو کرنا اور شوہر کے ساتھ ذہنی ہم آہنگی پیدا کرنا دو الگ باتیں ہیں۔”

”مجھے نہیں سمجھ آرہا اتنا گنجلک سا ہے سب کچھ۔”

بسمہ بیچارگی سے جھنجھلا گئی۔

 ”بیٹا جی اول تو یہ وہ دریا ہے جس میں تیرے گھر والے تیراکی سکھائے بغیردھکا دے رہے ہیں تیرنا تجھے خود سیکھنا ہے اور کچھ چیزیں عمر اور تجربے کے ساتھ ہی سمجھ آتی ہیں جس کا تجھے موقع نہیں مل رہا 16 سال شادی کی عمر ہوتی ہے کوئی۔”

” تو کیا کروں گھر سے بھاگ جاوں کیا؟ کرنی تو ہے نا شادی”

 ”دیکھ ایسے میں امی زیادہ صحیح مشورہ دے سکتی ہیں اگر تو کسی بہانے ہمارے گھر آسکے کیوں کہ یہاں تو امی کی تجھ سے اکیلے بات ہو نہیں سکتی۔”

 ”ہونہہ اس کا سوچنا پڑے گا اب تو پرسوں منگنی ہے ہی۔ اس کے بعد ہی کسی دن آنے کی کوشش کرسکتی ہوں وہ بھی موقع ملا تو۔ فائزہ یار پتا نہیں کیا ہوگا میرا۔”

جیسے جیسے وقت گزر رہا تھا بسمہ کی ٹینشن تو بڑھ ہی رہی تھی مگر ساتھ ہی وہ بہت خوابناک اور رومانوی سا محسوس کر رہی تھی تھی۔ پہلی بار باسط کو قریب سے دیکھے گی۔ منگنی سے ایک رات پہلے دادی کے سونے کے بعد خاموشی سے الماری میں سے باسط کی تصویر نکالی۔ آج وہ کسی ٹینشن کے بارے میں سوچنا ہی نہیں چاہتی تھی۔ وہ دوبارہ اپنے انہی رومانوی خیالات میں کھو جانا چاہتی تھی جو پچھلے دو سال سے اس کی رات کی مصروفیت تھے۔ وہ شکر ادا کر رہی تھی کہ باسط دیکھنے میں کافی پرکشش تھا۔ اور رنگ بھی گندمی مگر نکھرا نکھرا لگ رہا تھا۔ وہ پوری رات خیالوں میں باسط سے ہی باتیں کرتی رہی۔ منگنی کی ایکسائٹمنٹ میں نیند ہی نہیں آرہی تھی۔ ان چند اہم دنوں میں سے ایک دن جو لڑکی کی زندگی کے اہم ترین دن کہے جاتے ہیں۔ منگنی شادی اور۔۔۔۔۔۔اس سے آگے کا سوچنے سے پہلے ہی شرم سے اس کے کان کی لوئیں تک اسے گرم محسوس ہونے لگیں۔ بالکل نہ چاہتے ہوئے اسے خیال آیا کیا گل بانو کو بھی یہی سب محسوس ہوا ہوگا جب اسے پتا چلا ہوگا کہ اس کی شادی اس سے تین گنا بڑے شخص سے کی جارہی ہے۔ اس کی جذبات اتنی تیزی سے بدلے اسے خود بھی اندازہ نہیں ہوا۔ ایک آنسو چپ چاپ آنکھ سے نکل کر تکیے میں چھپ گیا۔ رات اتنی گزر گئی تھی اسے پتا ہی نہیں چلا دماغ پہ غنودگی محسوس ہورہی تھی۔ اسے احساس ہوا کہ برابر کے بیڈ پہ سے دادی اٹھی ہیں اور پھر ایک دم ہی کسی نے زور سے ہلایا۔

”بسمہ اٹھو گھر پہ کام پڑا ہے اور یہ محترمہ آدھا دن گزرنے کے باوجود سوئے جارہی ہیں۔”

یہ امی تھیں۔ وہ ہڑبڑا کے اٹھی۔ کچھ دیر تک تو اسے سمجھ نہیں آیا کہ ہوا کیا ابھی تو فجر ہوئی ہوگی۔ مگر کمرے سے باہر چہل پہل اور روشنی دیکھ کے اندازہ ہوا کہ دن نکل آیا ہے اور سب جاگ گئے ہیں۔ تب اسے اندازہ ہوا کہ دادی کے اٹھتے وقت ہی وہ شاید سو گئی تھی۔

اس پہ ایک دم عجیب سے گھبراہٹ طاری ہوگئی۔ آج شام اس کی منگنی ہے اس کا نام جزوی طور پہ ایک ایسے شخص کے ساتھ جڑ جائے گا جسے اس نے ابھی تک اصل میں دیکھا تک نہیں۔

پورا دن عجیب ہلچل سی رہی۔ ایسا لگتا تھا سب عجلت میں ہیں ہر کوئی اپنی اپنی اور الگ الگ بات کہہ رہا تھا۔ ہر ایک کا کام الگ تھا اور ہر ایک کو لگ رہا تھا کہ بس اسی کا کام سب سے اہم ہے۔ گھر کی چھت پہ ہی تقریب کا انتظام کروایا جارہا تھا۔ قناتیں،کرسیاں، ٹیبلیں، قالین صبح سے ہی نیچے چھوٹے سے صحن میں لا کر جمع کردیئے گئے تھے۔ بڑے بھیا کو لگ رہا تھا صرف وہی کام کر رہے ہیں باقی سب بس وقت ضائع کر رہے ہیں۔ حالانکہ وہ صرف شور مچارہے تھے کام سب ڈیکوریشن والے کر رہے تھے۔ اسد کو بار بار باہر کے کاموں کے لئے دوڑایا جارہا تھا کبھی ہار اور پتیاں منگوانے کبھی مٹھائی منگوانے کبھی پیکو کے لئے دیا ہوا دوپٹہ منگوانے۔ وہ جب کوئی کام کر کے آتا بھیا اسے ڈانٹتے کہ وہ اکیلے لگے ہوئے ہیں اور وہ گھومنے پھرنے میں لگا ہوا ہے۔ کوئی 5 بجے کے قریب آخر اسد کی بھی برداشت جواب دے گئی۔ گھر کی خواتین کو تب اندازہ ہوا جب باہر سے ایک دم جھگڑے کی آوازیں آنے لگیں۔

 ”آخر آپ کرتے کیا ہیں سوائے بیٹھے بیٹھے حکم چلانے کے اور شور مچانے کے۔ مجھے بسمہ نا سمجھیں جسے آپ کچھ بھی کہہ لیتے ہیں اور وہ خاموشی سے سن لیتی ہے۔ مجھ سے بات کرتے ہوئے سوچ سمجھ کے بولا کریں میں بھی اسی گھر کا مرد ہوں۔”

 ”ہیں ہیں ہیں، لڑکے بڑے بھائی سے کوئی ایسے بات کرتا ہے۔ باپ کی جگہ ہوتا ہے بڑا بھائی۔” دادی اسد کی طرز تخاطب پہ حیران تھیں۔

 ”آپ کیا ٹوک رہی ہیں اسے آپ لوگوں کی ہی دی ہوئی ڈھیل ہے جو یہ میرے منہ آرہا ہے۔ میں سارا دن گدھے کی طرح خوار ہوتا ہوں تو ان صاحب کے عیش پورے ہوتے ہیں اور اب یہ مجھے آنکھیں دکھا رہا ہے۔” بھیا کی آواز اتنی بلند تھی کے اردگرد کے لوگ اپنی چھتوں پہ آگئے تھے کچھ لوگ گھر کے کھلے دروازے سے اندر جھانکنے کی کوشش کر رہے تھے۔

 ”یعنی آپ جو بولتے رہیں، میں چپ کر کے سنتا رہوں؟ صبح سے دس چکر لگائے ہیں کام کے لئے صرف اسی لئے کہ ان کے ساتھ کام بانٹ سکوں۔ مگر ہر بار ان کے طعنے ہی نہیں ختم ہوتے۔کما کے لاتے ہیں تو احسان نہیں کرتے ہم پہ،ہم سے بھی چاکری کرواتے ہیں اپنی۔ ان کی چالیس ہزار کی تنخواہ میں سے گھر پہ آدھی بھی خرچ نہیں ہوتی۔ میری کوئی فیس کبھی انہوں نے نہیں بھروائی۔ کپڑے جوتے کچھ بھی اس میں سے کس پہ خرچہ کرتے ہیں جو اتنا جتاتےہیں۔”

 ”بس کرو اسد گھر میں کام پڑا ہے اور تم بڑے بھائی سے بحث کرنے میں لگے ہو۔ چلو اندر بس ختم کرو” امی کھینچ کر اسد کو اندر لے گئیں۔

اسد اور بھیا کی تھوڑی بہت بحث بازی چلتی ہی رہتی تھی۔ مگر آج کا جھگڑا بہت بڑھ گیا تھا۔ بھیا کا چہرہ غصے سے لال ہورہا تھا۔ بسمہ کو ڈر لگنے لگا کہ اگر امی اسد کو اندر نا لے جاتیں تو وہ اسد کو ایک دو تھپڑ لگا ہی دیتے۔ خیر جب تک وہ کچھ چھوٹا تھا تو پٹتا ہی تھا مگر کچھ عرصے سے جس طرح وہ تن کے انہیں جواب دینے لگاتھا تو بھیا بھی اب صرف زبانی طنز پہ اکتفا کرتے تھے۔ گھر کا ماحول اور کشیدہ ہوگیا۔

بیوٹیشن نے آکر گھر پہ ہی بسمہ کا میک اپ کردیا۔ بسمہ تیار ہوتی رہی اور دل ہی دل میں اس کے دماغ میں کئی ماڈلز کی دلہن بنی ہوئی تصویریں آگئیں بسمہ کو یقین تھا کہ وہ بھی دلہن بن کے بہت پیاری لگے گی۔ بیوٹیشن نے اپنا کام نپٹایا بسمہ کا چہرہ آئینے کے دوسری طرف تھا اتنی دیر میں بشرہ آپی اندر آئیں۔

 ”ہائے اللہ بسمہ میری گڑیا کتنی پیاری لگ رہی ہو ماشائاللہ ” انہوں نے آگے بڑھ کے فورا اس کے سر پہ پیار کیا۔ بسمہ ہلکے سے مسکرائی اس نے آہستہ سے مڑ کے خود کو آئینے میں دیکھا اور چند لمحوں کے لیے تو سمجھ ہی نہیں آیا کہ اس کے چہرے کے ساتھ ہوا کیا ہے۔

 ”یہ میں ہوں؟۔۔۔۔۔۔” اس کے سامنے ایک موٹے ہونٹوں والی سفید چہرے کی ایک پچیس تیس سال کی عورت نما دلہن کھڑی تھی۔

”آپی بیس بہت وائٹ نہیں ہوگیا؟ ”

اس نے ہچکچاتے ہوئے کہا۔

”ارے نہیں گڑیا، برائڈل میک اپ ایسا ہی ہوتا ہےوڈیو اور تصویریں اچھی آتی ہیں۔”

بسمہ خاموش ہوگئی۔ کچھ دیر بعد ہی خاندان والے آنے لگے ہر کزن جس نے کبھی بسمہ سے سیدھے منہ بات بھی نا کی ہو وہ بھی اس کے روم میں آکر ایسے مل رہی تھی جیسے اس سے زیادہ قریبی دوست اور کوئی نہیں۔ سب سے پہلے تو عموما یہی تعریف کرتیں بسمہ کتنی پیاری لگ رہی ہو ویسے تو ماشائاللہ ہو ہی پیاری۔ بسمہ کچھ کنفیوز سی تھی اسے ایسے ٹریٹ کیا جارہا تھا جیسے وہ کوئی جہاد جیت کے آئی ہے۔ ہر مہمان اس کا سگا بننے کی کوشش میں تھا۔ خواتین اپنے روتے بسورتے بچے لارہی تھیں آو دلہن دکھائیں آپ کو بھی دلہن چاہئے یہ والی، پیاری ہے نا۔ وغیرہ وغیرہ۔ دولہا والوں کے آنے کا وقت گزارنا عذاب لگنے لگا تھا۔

آخر خدا خدا کر کے دولہا والے آئے بسمہ کے گرد لگا مجمع ایک دم سے چھٹ گیا سب عورتیں دولہا کو دیکھنے باہر چلی گئیں۔ بسمہ کے کمرے کے دروازے پہ پردہ ڈلا ہوا تھا اور بالکل ذرا سا کھلا ہوا تھا ہوا سے کبھی اور کھل جاتا اور کبھی بالکل بند ہوجاتا۔

مین گیٹ سے باسط کے گھر کی خواتین اندر آتی نظر آرہی تھیں ان پہ ایکسٹرا روشنی لگ رہی تھی جس سے اندازہ ہورہا تھا کے آگے مووی والا بھی ہے۔ وہیں سے تھوڑا ٹرن لے کر وہ سب چھت ک طرف جاتی سیڑھیوں پہ جارہی تھیں۔ پیچھے پیچھے مٹھائیوں کے ٹوکرے اٹھائے کچھ لڑکے اور اس کے پیچھے اندازہ ہورہا تھا باسط ہوگا کیوں کہ مووی والا ایکدم سے آگے آگیا اور ایسے اینگل پہ کھڑا ہوگیا کہ پردے کے بیچ موجود ذرا سی جگہ کے سامنے مووی والا آگیا تھا اور باقی سب اس کے پیچھے چھپ گئے۔ وہ کافی دیر کھڑا مووی بناتا رہا اور بسمہ کی آنکھیں پردے کی طرف رہیں آخر کار مووی کی لائٹس بند ہوئیں اور وہ سامنے سے ہٹا مگر سامنے خالی گیٹ بسمہ کا منہ چڑا رہا تھا۔ بسمہ کی دھڑکن ویسے ہی مسلسل تیز تھی اسے اور ٹینشن ہونے لگی۔ برابر بیٹھ کے کیسے دیکھوں گی۔وہ تھوڑی مایوس ہوگئی۔

ایک دم پردہ زیادہ کھلا اور فائزہ اندر آئی۔

”فائزہ بد تمیز یہ ٹائم ہے آ نے کا کب سے انتظار کر رہی تھی تیرا”

”ارے یار آئی ہوئی تو کافی دیر کی ہوں آنٹی والوں نے اوپر بھیج دیا تھا کہ اندر گرمی اور رش سے بسمہ کی طبیعت گھبرا رہی ہے”

”یہ لوگ اتنی عجیب حرکتیں کیوں کرتے ہیں؟ باقی تو کسی کو نہیں روکا ابھی ابھی فوج گئی ہے یہاں سے۔”

 ”اچھا چھوڑ نا یہ بتا پتائی کس سے کرائی ہے سوری میک اپ کس سے کرایا ہے” فائزہ کی شرارت سمجھ گئی وہ۔

”سن فیس وائٹ ہورہا ہے نا بہت مجھے بھی یہی لگ رہا تھا آپی نے کہا برائیڈل میک اپ ایسا ہی ہوتا ہے”

ہاں ہوتا تو ایسا ہی ہے ان کے پاس ایک ہی فارمولا ہوتا ہے جو یہ ہر چہرے پہ تھوپ دیتی ہیں ایج، فیس کٹ اور کومپلیکشن دیکھے بغیر بس تو پریشان نہ ہو، چند گھنٹوں کی بات ہے اصل میں تو تیرا وہی پیارا والا منہ ہےنا۔”

”مگر یار باسط تو یہی دیکھیں گے نا ابھی”

 ” ارےبے تکی باتوں پہ ٹینشن نا لے کچھ دیر کے خراب میک اپ سے کوئی کسی کی زندگیاں خراب نہیں ہوتیں۔ ویسے بھی صرف بیس زیادہ ہے باقی لگ تو پیاری ہی رہی ہے اور ریڈی ہوجا میں جارہی ہوں اوپر، تھوڑی دیر میں تجھے بھی لے آئیں گے۔”

فائزہ کی باتوں سے وہ تھوڑا پرسکون ہوگئی اور واقعی کچھ ہی دیر بعد آپیاں اسے لینے آگئیں اور پیچھے کچھ دم چھلا ٹائپ کزنز بھی جو صرف مووی میں آنے کے شوق میں بسمہ کے ساتھ گھس گھس کے چل رہی تھیں۔

بسمہ آہستہ آہستہ سیڑھیاں چڑھتی ہوئی اوپر آئی مووی والے کے پیچھے کچھ نظر نہیں آرہا تھا سیڑھیاں ختم ہوتے ہی مووی والے نے کچھ دیر کے لئے فلیش لائٹس بند کردیں۔ بسمہ کو ایکدم لگا اندھیرا ہوگیا مگر آہستہ آہستہ کچھ کچھ منظر واضح ہوا سامنے ہی اسٹیج پہ باسط اپنی بہن اور امی کے ساتھ بیٹھا تھا اور اس پہ پہلی نظر پڑتے ہی بسمہ کی صبح سے تیز چلتی دھڑکن ایک دم تھم گئی۔

”یہ باسط ہے؟”

اسٹیج پہ گندمی سے ذرا زیادہ گہری رنگت کا لڑکا بیٹھا تھا بال کالے ضرور تھے مگر کچھ روکھے۔ اور عمر بھی چھبیس سے زیادہ ہی لگ رہی تھی۔

کچھ لمحوں کے لئے اسے سمجھ ہی نہیں آیا کہ ہوا کیا ہے۔ کیا بندہ بدل گیا؟ مگر یہ کیسے ہوسکتا ہے۔ بشرہ آپی نے ہلکے سے ٹہوکا دیا۔

”چلو نا آگے۔”

وہ حیران سی ہی آگے چل دی۔ جیسے جیسے قریب آتی گئی تو نقوش واضح ہوتے گئے۔ اسے اندازہ ہوا بندہ وہی ہے مگر تصویر میں زیادہ کمال شاید فوٹو گرافر کا تھا۔ جس نے برائٹنیس کا ظالمانہ استعمال کیا تھا۔عمر کافرق بھی اسی کمپیوٹر کے بےدریغ استعمال کا کمال لگ رہا تھا۔پہلے اس کو غصہ آیا مگر کچھ ہی دیر پہلے اپنا آئینے میں دیکھا سفید چٹا سراپا یاد آگیا۔

جب ہمیں ایک دوسرے کی اصلی شکل کے ساتھ زندگی گزارنی ہے تو اس دھوکے نما خرچے کی کیا ضرورت؟

باسط کی گہری کتھئی آنکھیں بغیر ”کنٹراسٹ” کے کچھ پھیکی سی لگ رہی تھیں۔ اتنے میں اس کی بہن نے شرارتی مسکراہٹ کے ساتھ اس کی توجہ اسٹیج پہ آتی بسمہ کی طرف دلائی۔ اس وقت آنکھوں میں در آنے والی چمک کا مقابلہ کمپیوٹر سے کیا ہوا کنٹراسٹ بھی نہیں کرسکا۔ مگر بسمہ کی توجہ اس کی رنگت پہ تھی۔ ارمغان بھی اس سے تو گورا ہی ہوگا۔ کیا دیکھا میرے گھر والوں نے؟

 ”اففف۔۔۔ بسمہ تیری منگنی ہورہی ہے اور تو کہاں کہاں خیالات کے گھوڑے دوڑا رہی ہے” اس نے دل ہی دل میں خود کو ڈانٹا۔

ساری رسم میں اس کے جذبوں پہ جمود سا طاری رہااورباسط کے چہرے پہ بہت شریر مسکراہٹ رہی خاص طور پہ جب اس نے انگوٹھی پہنانے کے لئے بسمہ کا ہاتھ پکڑا اور بالکل خفیف سے انداز میں سر جھکا کر بسمہ کی آنکھوں میں جھانکنے کی کوشش کی۔ بسمہ نے اپنے سرد تاثرات چھپانے کے لئے سر اور جھکا لیا۔ اس کی حرکت کو فطری شرم سمجھا گیا اور اسٹیج پہ زنانہ و مردانہ قہقہے گونج گئے۔

رسم کے بعد کافی دیر تک تصویروں کا سیشن چلتا رہا پہلے اس کی اور باسط کی الگ تصاویر کھینچی گئیں۔ پھر دونوں طرف کے رشتہ داروں کے ساتھ تصاویر کا سلسلہ شروع ہوا۔ کچھ رشتہ دار اسٹیج سے اترنے کو تیار نہیں تھے اور کچھ اسٹیج پہ آنے کو تیار نہیں تھے۔ اسی کھینچا تانی میں تقریبا بارہ بج گئے باقی سب نے اسی دوران کھانا بھی کھا لیا۔ باسط کے لئے بھی الگ ٹیبل پہ کھانا لگا دیا گیا۔ کھانا اس کے سامنے بھی لگا ہوا تھا مگر کسی کو ٹائم نہیں تھا کہ دو منٹ بیٹھ کے اسے کھانا کھلا دے۔ دوپہر میں بھی اس نے ذرا سا ہی کھانا کھایا تھا اب بھوک اور کمزوری سے ہاتھ پاوں سن ہورہے تھے۔ ایک دو دفعہ دل میں آئی کہ مہمانوں پہ لعنت بھیجے اور خود ہی نکال کے کھانا شروع کردے۔ مگر ”لوگ کیا کہیں گے” کا سوچ کے خاموش بیٹھی رہی۔ آخر جب سب خواتین نے اسٹیج خالی کردیا تو فائزہ کو موقع ملا اس کے پاس بیٹھنے کا۔ اس نے بسمہ کے لیئے تھوڑی سی بریانی نکالی۔

”فائزہ”

بسمہ نے ہلکے سے اسے آواز دی کہ کسی اور کو سنائی نا دے۔

”ہمم”

”تھوڑی اور نکال۔ مجھے بہت بھوک لگ رہی ہے”

”یہ تو کھا لے دوبارہ نکال دوں گی”

فائزہ نے آہستہ آہستہ اسے کھلانا شروع کیا۔ ایک تو میک اپ میں کھل کے کھایا نہیں جارہا تھا وہ بھی کسی دوسرے کے ہاتھ سے۔ کہاں تو اسے لگ رہا تھا کہ وہ دو تین پلیٹیں بھر کے بریانی کھا جائے گی اور کھاتے کھاتے یہ حال ہوا کہ چار پانچ نوالوں کے بعد ہی اس نے فائزہ کو روک دیا۔

”بس یار اب نہیں کھایا جارہا۔ بریانی بالکل بھی اچھی نہیں ہے”

 ”بیٹا جی بریانی ٹھیک ہے تیرا موڈ اور دماغ خراب ہے” فائزہ نے بہت ہلکی آواز میں ٹوکا۔ بسمہ کے چہرے پہ پھیکی سے مسکراہٹ آئی۔

فائزہ کو اندازہ ہوگیا تھا کہ ایک دم اس کا منہ کیوں لٹک گیا ہے۔ اس موضوع پہ تفصیلی بات چیت اس نے کچھ دن بعد تک ٹال دی۔

لڑکے والے جانے کے لئے تیار تھے جب باسط اپنی سب سے چھوٹی بہن سنیہ کے ساتھ دوبارہ اسٹیج پہ آیا۔ فائزہ ابھی بھی بسمہ کے ساتھ ہی بیٹھی تھی۔ کافی مہمان جاچکے تھے۔ باسط کے چہرے سے لگا وہ کچھ ہچکچا رہا ہے۔ بہن نے ٹہوکا دیا۔

دیں نا۔””

باسط نے ایک گفٹ آگے بڑھا دیا

”یہ آپ کے لئے”

بسمہ نے کنفیوز ہو کر فائزہ کی طرف دیکھا۔ فائزہ نے کندھے اچکا دیئے۔

جاری ہے۔۔۔۔

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

”جس دن سے!“ ۔۔۔ صادقہ نواب سحر ۔۔۔ قسط نمبر 01

”جس دن سے!“ صادقہ نواب سحر قسط نمبر 01  ٭ ڈیلیوری بوائے  ” ڈیلیوری …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے