سر ورق / ناول / بلاوا خورشید پیر زادہ قسط نمبر 4

بلاوا خورشید پیر زادہ قسط نمبر 4

بلاوا

خورشید پیر زادہ

قسط نمبر 4

کہو تو گھر چھوڑ آئیں-“ عمر کوٹ پہنچتے ہی لڑکیوںنے کار روکنے کو کہا تو رویندر نے چٹخارہ لیا- بنا کچھ بولے لڑکیاں کار سے اتر گئیں- پھر اچانک واپس مڑتے ہوئے ریتو آگے آئی گئی اور بولی- ”شکریہ— اورسوری-“

”کیا لڑکیاں تھیں یار-“

”یہ کہاں مل گئیں تمہیں-“ شیکھر نے لڑکیوں کے جاتے ہی رویندر سے سوال کیا-

”کیسی لڑکیاں تھیں یار- احسانمند ہونا چاہئے تھا ان کو کہ میں ساتھ لے آیا- خالی شکریہ بول کر چلی گئیں- کم سے کم اپنا موبائل نمبر تو دے کر جاتیں-“ رویندر نے کہتے ہوئے اس طرح منہ بنایا جیسے سچ مچ میں اس کو ان کا چلا جانا اچھا نہیں لگا ہو-

موبائل کا لفظ سن کر روہن کو ایک فون کرنے کی سوجھی- اور جیب کو ہاتھ لگا تے ہی وہ اچھل پڑا-

”اوئے میرا فون؟-“

”کیا ہوا؟-“ شیکھر اور رویندر ایک ساتھ بول پڑے-

”موبائل گیا- کہیں نکل گیا شاید-“ اپنی شرٹ اور پینٹ کی سبھی جیبوں کو ٹٹولنے کے بعد روہن نے آہستہ سے کہا-

”اوہ-“ رویندر کے منہ سے نکلا- ”اب-“

”ایک منٹ- نمبر بتانا-“ شیکھر نے اپنا موبائل نکالتے ہوئے کہا-

روہن کے نمبر بتانے پر شیکھر نے ڈائل کیا-

”ہوں- فون تو یار کسی غلط آدمی کے ہاتھ لگ گیا- سوئچ آف آ رہا ہے-“ کہتے ہوئے اچانک موبائل اسکرین پر دیکھتے ہوئے شیکھر لگ بھگ اچھل ہی پڑا-

”آپ- روہن ہیں؟-“

”اور میں رویندر- ابھی بتایا تو ہے بھائی-“ روہن کے بولنے سے پہلے ہی رویندر نے جواب دیا-

”نہیں – میرا مطلب ہے کہ آپ روہن اسٹیٹ کے مالک روہن ہیں؟-“ شیکھر نے چونکتے ہوئے کار کو بریک لگائے-

”مالک تو میرے والد ہیں- میں تو صرف ان کا وارث ہوں- ابھی میں نے آفس جانا بھی شر وع نہیں کیا- پڑھ ہی رہا ہوں ابھی تک- لیکن– آپ کو یہ سب کیسے پتہ؟-“ روہن کی دلچسپی اپنے موبائل سے ہٹ کر شیکھر پر آگئی-

”میری آپ سے بات ہوئی تھی- کچھ دن پہلے- ڈیفینس فیز VIII میں آپ کے نئے پروجیکٹ کی حصے داری پر- یاد ہے؟— آپ نے اپنے والد کا نمبر دیا تھا- اور ہاں- آپ نے اپنا نام بھی روہن ہی بتایا تھا–“

”سوری مجھے یاد نہیں آرہا- دراصل پاپا نے میرا نمبر بھی وزیٹنگ کارڈ پر ڈال رکھا ہے- اس لئے اکثر جب ان کا فون آف رہتا ہے تو میرے پاس کال آجاتی ہیں-“

ہوں- میں نے بھی آپ کا نمبر کارڈ سے ہی لیا تھا-اور آپ کے نام بتانے پر میں نے وہ نمبر روہن آر ای کے نام سے سیو کر لیا تھا- کمال ہوگیا یار- مجھے اب بھی یقین نہیں ہو رہا ہے کہ میں اتنے بڑ ے آدمی کے ساتھ بیٹھا ہوں-“ شیکھر حقیقت میں حیرت زدہ تھا- اس نے اپنا ہاتھ روہن کی طرف بڑھایا جسے روہن نے دونوں ہاتھوں سے پکڑلیا-

”پھر – بات بنی کہ نہیں-“ رویندر نے شیکھر کو ٹوکا-

” کس بارے میں؟-“ شیکھر نے اس کی طرف دیکھتے ہوئے پوچھا-

”پارٹنر شپ کے بارے میں- — اور کیا؟-“

”ہاں- وہ تو پہلے ہی ڈن تھی- صرف کچھ فارملیٹیز باقی تھیں-“ شیکھر نے کار آگے بڑھاتے ہوئے کہا-

”یہ تو بہت اچھا ہوا یار- اب ہم تینوں پارٹنر ہیں- اب تمہارے پاس رہ کر مفت کا کھاتے ہوئے شرم نہیں آئے گی- ہا ہا ہا-“

”مگر ایک بات سمجھ میں نہیں آرہی ہے- یہاں عمر کوٹ میں؟— اور وہ بھی بس سے؟-“ شیکھر کے دماغ میں ابھی بھی کافی سوال تھے-

”سب اس کے کرتوت ہیں- کہتا تھا ڈرائیور کو لے کر نہیں چلنا ہے- — اور اتنی دور کار چلانا اس کے لئے عذاب ہے-“ رویندر نے منہ بناتے ہوئے کہا-

”پھر بھی یار- یہاں اس چھوٹے سے شہر میں ایسا کیا کام نکل آیا؟-“شیکھر نے پوچھا-

رویندر نے پیچھے مڑ کر روہن کی طرف ہاتھ جوڑ کر سر جھکا لیا-”اب تو بتا دو گرو-اب تو آپ کا عمر کوٹ بھی آگیا-“

رویندر کو تو بتانا ہی تھا- اور شیکھر کو بتانے میں بھی روہن کو کوئی حرج نظر نہیں آیا-

”دراصل میں ایک لڑکی کے لئے یہاں آیا ہوں-“

”اوئے – تیری تو- تم نے ایک لڑکی کے لئے مجھے اتنی دور تک گھسیٹا ‘ یہ حالت بنائی- وہاں کراچی میں لڑکیوں کی کمی ہے کیا- اور کالج میں تم پر کتنی لڑکیا ں لٹو ہوچکی ہیں- ان کی گنتی بھی یاد ہے تمہیں- وہاںتو بھولے بابا بنے رہتے ہو- اور لڑکی کے لئے آیا ہے یہاں- مجھے نہیں چلنا تیرے ساتھ- اتار نیچے ابھی- گاڑی روکو شیکھر بھائی- ابھی کے ابھی گاڑی روکو-“ رویندر جانے کیا کیا بولنے لگا-

شیکھر نے سچ میں ہی کار کو بریک لگادیئے-

”مذاق کر رہا ہوں یار- چل نا جلدی- بہت بھوک لگی ہے- ہی ہی ہی- اور پیاس بھی-“ رویندر نے شیکھر کو چلنے کا اشارہ کیا اور ہنسنے لگا- شیکھر بھی مسکرا دیا-

”اور کہاں چلیں- آ تو گئے منزل پر-“

”اوہ- مجھے لگا کہ شاید زبردستی اتارنے کے لئے کار روکی ہے-“ رویندر مسکرایا اور کار سے اتر گیا- روہن کے باہر نکلتے ہی رویندر اس کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر اس کو ایک طرف لے گیا-

”یہ لڑکی کا کیا معاملہ ہے بھائی-“

”بتاتا ہوں یار- سب بتاتا ہوں- “ روہن نے کہا اور تینوں مل کر سامنے والی تین منزلہ کوٹھی کی طرف بڑھے- گیٹ پر ہی انہیں چوکیدار نے روک لیا-

”کس سے ملنا ہے سائیں-“

”اسی الو کے پٹھے سے جو اس گھر کا مالک ہے- امان سے- گیٹ کھول بھی دے یار-“ شیکھر نے چڑتے ہوئے کہا-

”مگر— مگر صاحب تو مصروف ہیں سائیں- ان کا حکم ہے کہ مزید ایک گھنٹے تک کسی کو بھی مت آنے دینا-“

”کسی معشوقہ کے ساتھ ہوگا- شراب اور لڑکی کے علاوہ وہ کچھ کرتا بھی ہے-“ شیکھر زیر لب بڑبڑایا اور فون نکال کر اس کا نمبر ڈائل کرنے لگا-

”اوئے یار شیکھر-“ امان تیزی سے چلتا ہوا نیچے اتر کر آہی رہا تھا کہ شیکھر ان دونوں کو لے کر اوپر پہنچ گیا- برمودہ اور بنیان میں وہ آتے ہی شیکھر سے لپٹ گیا-

”سالے ننگے- آج تو کم از کم انتظار کر لیتا-صبح صبح ہی چالو ہوگیا تھا کیا؟-“ شیکھر نے مذاق میں کہا-

”ہی ہی ہی نہیں تو-“ امان نے ہنستے ہوئے کہا-

”نہیں تو مطلب؟—- اور کیا شراب کی اسمیل کا پرفیوم لگانے لگا ہے؟-“ شیکھر نے اس کے منہ کے پاس منہ لے کر سونگھتے ہوئے کہا-

”ہاں یار وہ چھوٹا سا پروگرام بن گیا تھا-“ امان نے کہا اور روہن اور رویندر سے ہاتھ ملاتے ہوئے بولا- ”یہ بھائی؟-“

”بھائی ہی سمجھ لے-“ شیکھر یہ کہتے ہوئے اس کے بیڈ روم کی طرف جانے لگا-

” یار- یہاں نہیں – چل نیچے ہی بیٹھتے ہیں-“ امان نے شیکھر کا ہاتھ پکڑ لیا-

”کیوں؟—یہاں کیوں نہیں— دیکھوں تو سہی برانڈ کون سا لے رہا ہے آج کل- اس علاقے میں انڈیا سے اسمگل ہونے والی شراب آسانی سے مل جاتی ہے نا-“ شیکھر زبردستی بیڈ روم میں گھس گیا- اندر جاتے ہی باہر کھڑے تینوں کو اس کے زوردار قہقہے کی آواز سنائی دی- اگلے ہی پل وہ واپس باہر تھا- اس کی ہنسی تھمنے کا نام ہی نہیں لے رہی تھی- ہنستے ہنستے ہی بولا-

”ابے دو دو ایک ساتھ-“ پھر پاس آکر دھیرے سے بولا-”مجھے نہیں پتہ تھا کہ ایک دن تم اتنے کمینے ہو جاﺅ گے-“

امان‘ رویندر اور روہن کے سامنے شرما سا رہا تھا-

”ایسے مت بول یار- میری گرل فرینڈز ہیں-“

”میں نے چہرہ نہیں دیکھا-“ شیکھر کہہ کر چپ ہوا ہی تھا کہ رویندر نے بیچ میں ٹانگ اڑا دی-

”دو دو گرل فرینڈز ایک ساتھ- کیسے مینج کرتے ہو بھائی؟-“

”کیا کریں یار- اپنا دل ہی اتنا بڑا ہے- ہا ہا ہا- چلو نیچے چلتے ہیں- ان کو آرام کرنے دو یہیں- “ امان نے کہا اور ان کو لے کر نیچے چلا آیا-

نیچے آتے ہی ان کو ڈرائنگ روم میں بٹھا تے ہوئے امان نے رویندر اور روہن سے مخاطب ہوتے ہوئے پوچھا-

”تھوڑی بہت چلے گی کیا؟— یا کھانا لگانے کا بول دوں-“

روہن نے کوئی جواب نہیں دیا لیکن رویندر کا دھیان اوپر سے نیچے نہیں آرہا تھا-

”وہ دونوں پرسنل ہیں یا ٹائم پاس؟-“

امان پر نشے کا ہلکا ہلکا سرور تو تھا ہی- اس نے کسی واعظ کی طرح بیان شروع کر دیا-

”سچ پوچھو تو میں خود ہی پرسنل نہیں ہوں یار- لڑکیاں کیا خاک پرسنل ہوں گی- بس زندگی جیسے چلا رہی ہے- ویسے چل رہا ہوں- صورت دیکھ کر لڑکیاں پٹ جاتی ہیں او رپیسہ دیکھ سب کچھ کرنے پر راضی ہوجاتی ہیں- لڑکیوں کے معاملے میں سیرئیس ہونا توایک دم پاگل پن ہے-“

”یہ ہوئی نا بات یار- تم ایک دم صحیح آدمی ہو- ایک اس کو دیکھو- ایک لڑکی کے چکر میں دھکے کھاتا ہوا یہاں تک آگیا ہے-“ روہن کے لاکھ اشارہ کرنے پر بھی رویندر کہے بنا نہیں مانا-

امان بھی سمجھدار لڑکا تھا- دو منٹ پہلے کہی گئی اپنی بات سے مکر گیا-”وہ تو اپنی اپنی مینٹالٹی ہوتی ہے یار- اور ہو سکتا ہے اس کو قسمت سے کوئی سچا پیار کرنے والی مل گئی ہو- مگر ایسی ہوتی ہزاروں میں ایک آدھ ہی ہیں- ورنہ تو— اب بس کیا کہوں— ان اوپر والی لڑکیوں کو ہی دیکھ لو-“

”دیکھ لوں؟-“ رویندر تو جیسے اس کی بات پکڑنے کے لئے منہ کھولے بیٹھا تھا- جیسے ہی رویندر نے مثال کے طور پر ان لڑکیوں کا نام لیا- جھٹ سے رویندر نے ”دیکھ لو“ پکڑ لیا-

”کیا؟-“ امان نے رویندر کی طرف دیکھا-

”لڑکیوں کو- آپ نے ہی تو کہا ہے- اوپر والی لڑکیوں کو دیکھ لو-‘ ‘ رویندر نے بتیسی نکالتے ہوئے کہا-

”ہا ہا ہا- تم بھی ایک نمبر کے آدمی ہو یار— جاﺅ دیکھ لو- مگر دیکھ بھائی- کوئی اونچ نیچ ہوتی دکھائی دے تو چپ چاپ واپس آجانا- ان لڑکیوں کا کوئی بھر وسہ نہیں ہوتا-کب ناٹک کرنے لگ جائیں- کب پچھاڑی مار دیں-“ امان نے ہنستے ہوئے رویندر کو اندر سے ہی اوپر جانے کا راستہ دکھا دیا-

”میں چلوں کیا ایک بار ساتھ میں؟-“

”نہیں یار- تم بیٹھو- تمہارا دوست آیا ہے- میں اکیلا ہی ٹرائی کرکے دیکھتا ہوں-“ رویندر نے کہا اور مستی میں گنگناتے ہوئے اوپر چلا گیا-

”کمال کا آدمی ہے یار- میری ایسے لوگوں سے بہت بنتی ہے-“ امان نے کہا اور پھر روہن کو دیکھتے ہوئے بولا-”تم ایسے گم سم کیوں بیٹھے ہو یار- موج مستی کرو- کل اپنی والی لڑکی سے بھی مل لینا- ٹھیک ہے نا؟-“

”ایسی کوئی بات نہیں ہے یار- بس میں ٹھیک ہوں- رویندر کی باتوں کا برا مت ماننا یار- وہ ذرا منہ پھٹ ہے- جو من میں آیا بول دیتا ہے-“ روہن نے کہا-

”یہ کیا بات کہہ دی یار- اگر دوبارہ ایسا بولا تو برا مان جاﺅں گا- ہم تو یاروں کے یار ہیں- اور پھر شیکھر کے یار تو مجھے بھی عزیز ہوں گے ہی– یہ شیکھر کہاں چلا گیا؟-“ اچانک امان کا دھیان شیکھر پر گیا-

”کہیں وہ بھی اوپر تو نہیں پہنچ گیا؟-“

” یہیں ہوں بے- فریش ہو رہا تھا- صبح سے چلا ہوا ہوں-“ شیکھر باتھ روم سے نکلتے ہوئے بولا-

”صرف فریش ہی ہو رہا تھا یا- ہی ہی ہی-“ امان یہ کہہ کر ہنسنے لگا-

”ابے ُٹن- ہمیشہ بکواس ہی کرتا رہتا ہے- وہ رویندر بھائی کہاں گیا-“ شیکھر نے روہن کے پاس بیٹھتے ہوئے پوچھا-

”اوپر-“ روہن کہتے ہوئے مسکراہٹ کو چہرے پر آنے سے نہیں روک پایا-

٭٭٭٭٭٭٭

رویندر دبے قدموں چلتا ہوا بیڈ روم کے قریب آیا- دروازے کے سامنے آتے ہی لڑکیوں سے اس کی ٹکر ہوتے ہوتے بچی- شاید وہ نکلنے کی تیاری کر رہی تھیں- انجان لڑکے کو سامنے پا کر وہ چونک اٹھیں اور ایک دم سے اپنا چہرہ گھما کر اس کی طرف پیٹھ کرکے کھڑی ہوگئیں- ادھر لڑکیوں کا حسن اور کرارا بدن دیکھ کر رویندر بھی ہکا بکا رہ گیا- لگ بھگ ایک ہی قد کاٹھی کی وہ لڑکیاں بمشکل بیس اکیس سال کی ہونگی- ایک دم گوری چٹی لمبی لڑکیوں کا بھرا بھرا بدن دیکھ کر رویندر کے منہ میں پانی اگیا- دونوں نے جینز پہن رکھی تھی- ایک لڑکی نے جین پر کرتا ڈال رکھا تھا-

”ہیلو-“

جب لڑکیوں کو نکلنے کا اور کوئی راستہ نہیں سوجھا تو مجبوراً ان کو پلٹنا ہی پڑا- جواب میں ہائے کہہ کر لڑکیاں رویندر کے برابر سے نکلنے کی کوشش کرنے لگیں-

رویندر نے بیچوں بیچ کھڑے ہوکر دروازے کی چوکھٹ پر ہاتھ رکھ لئے-

”ایسے کہاں بھاگی جا رہی ہو یار- تعارف تو ہوجائے ایک بار-“

کرتے والی نے چہرہ نیچے کئے ہوئے ہی نظریں اٹھا کر دیکھنے کی کوشش کی-

”ہمیں جانے دو – ہم لیٹ ہو رہی ہیں-“ ان کے چہرے سے صاف جھلک رہا تھا کہ وہ سہمی ہوئی سی ہیں-

”نام کیا ہے تمہارا؟“ رویندر نے کرتے والی کی ہی کلائی پکڑلی- دوسری ڈر کر پیچھے ہٹ گئی- دونوں کے چہرے کا رنگ اڑا ہوا تھا-

”امان-“ لڑکی ہلکی سی چیخی اور کوئی راستہ نہ پاکر ٹون بدل لی- ”پلیز جانے دو نا- سچی میں ہم لیٹ ہو رہی ہیں- گھر جانا ہے-“ کلائی موڑ کر اپنا ہاتھ چھڑانے کی کوشش کرتے ہوئے اس نے مایوسی سے رویندر کے چہرے کی طرف دیکھا-

”اور اگر ٹوٹ گئی تو ؟– اتنی نازک ہے- کیوں پریشان ہو رہی ہو- دو چار منٹ سے کچھ فرق نہیں پڑتا- آﺅ- “ رویندر نے دوسری لڑکی کا ہاتھ بھی پکڑ لیا- اور نہ چاہتے ہوئے بھی دونوں اس کے ساتھ چلتے ہوئے بستر پر جاکر بیٹھ گئیں-

تینوں کے پاﺅں لٹکے ہوئے تھے- رویندر دونوں کے بیچ میں بیٹھا تھا-

”پلیز ہمیں چھوڑ دو- ہم ایسی لڑکیاں نہیں ہیں-“ دوسری لڑکی نے اپنی کمر کو ہلاتے ہوئے رویندر سے دور ہونے کی کوشش کرتے ہوئے کہا- مگر رویندر نے ایک جھٹکے سے اسے دوبارہ کھینچ لیا-

”اوئے ہوئے- صدقے جاﺅں- اور کیسی لڑکیاں ہو تم؟“ رویندر نے ہنستے ہوئے کہا-

”تم ہوتے کون ہو ہم سے ایسی بات کرنے والے- ہم آپ کو جانتی بھی نہیں ہیں- امان کہاں ہے- اس کو بلاﺅ-“

”کیا؟—- تم سچ میں مجھے نہیں جانتی ہو- امان نے تمہیں بتایا نہیں؟-“ رویندر نے حیرت زدہ سا ہوتے ہوئے ناٹک کیا-

”دونوں لڑکیوں نے چونک کر اس کو دیکھا- مگر ان کی سمجھ میں بات آئی نہیں-

”کیوں- ہمیں کیوں بتائے گا؟— ہمیں کیا لینا دینا آپ سے؟-“

وہ دونوں مسلسل اس کی گرفت سے چھوٹنے کی کوشش کر رہی تھیں-

” ارے تمہیں میرے لئے ہی تو بلایا تھا اس نے- اور امان نے تم کو بتایا بھی نہیں-میں حیران ہوں کہ عمر کوٹ جیسے علاقے میں بھی تم جیسی ماڈرن لڑکیاں پائی جاتی ہیں- امان کو بتانا چاہئے تھا نا تم کو-“

رویندر کی یہ بات سن کر وہ عجیب سی نظروں سے اس کو دیکھتے ہوئے اپنی کشمکش بھول گئیں-

”آپ کے لئے— کیا بکوا س کر رہے ہو؟– وہ – وہ مجھ سے بہت پیار کرتا ہے-“کرتے والی نے کہا-

”ہاں مجھے پتہ ہے- او ر تم بھی اس سے بہت پیار کرتی ہو- اسی لئے تو تمہیں میرے لئے بلایا ہے- تمہاری خاطر ہی-“ رویندر نے باری باری سے ان دونوں کے چہروں کو دیکھا- مگر بات شاید ان کے سر کے اوپر سے نکل گئی تھی-

” یہ کیا بات ہوئی- آپ کیوں ہمیں پریشان کر رہے ہیں- پلیز جانے دیجئے نا-“ کرتے والی نے اپنا چھڑانے کی ایک اور کوشش کرتے ہوئے کہا-

 ”حد ہے یار- لگتا ہے مجھے ہی سب کچھ بتانا پڑے گا اب- وہ کیا ہے کہ پچھلی بار جب تم آئی تھیں تو میں نے چپکے سے پردے کے پیچھے کھڑے ہوکر تمہاری مووی بنا لی تھی- “رویندر نے اندھیرے میں تیر چھوڑا جو سیدھا نشانے پر جا لگا- اس کی بات سن کر جیسے کرتے والی لڑکی کو جھٹکا سا لگا-اس کے چہرے کا رنگ یکایک پیلا پڑ گیا-

”کک- کیا؟-“

”ہاں- اور نہیں تو کیا؟- میں تو آج فری بھی نہیں تھا- ایک دوست کا اس کی گرل فرینڈ کے ساتھ پارک میں ایم ایم ایس بنانے جا نا تھا مجھے- مگر امان اڑ گیا- بولا آج ہی آجاﺅ- میں نے بلا لیا ہے لڑکیوںکو- اب وہ تم سے پیار ہی اتنا کرتا ہے- وہ نہیں چاہتا کہ تمہاری وہ فلم گھر گھر میں دیکھی جائے- میرا نقصان تو ہوا ہے لیکن کیا کروں- امان بھی خاص یار ہے اپنا- اس کی اور اس کے پیار کی عزت کا خیال تو رکھنا ہی پڑے گا نا-“کہتے ہوئے رویندر ہنسنے لگا-

”لیکن آپ تو اس دن یہاں تھے ہی نہیں-“

”ہاں- پہلے امان بھی یہی کہہ رہا تھا- جب اس کو مووی دکھائی تب جاکر یقین آیا اسے- دراصل مجھے امان نے بتارکھا تھا کہ اس دن اس کے ساتھ تم آنے والی ہو- میں پیچھے سے آیا اور چوکیدار کو بول دیا کہ امان کو کچھ نا بتائے- مجھے سرپرائز دینا ہے – اب بھلا وہ دوستوں کے بیچ کیسے آتا- اور میں چھپ کر اپنا کام کر گیا-“ رویندر مزے لیتا ہوا بولا-

لڑکیوں کو کاٹو تو خون نہیں- کرتے والی تو باقاعدہ کانپنے لگی تھی- دوسری لڑکی نے مشکل سے آواز نکالی-

”مگر- مگر میں تو آج پہلی بار آئی ہوں— ہیں نا کوشل-“

”مجھے سب پتہ ہے یار- مجھے کیوں بتا رہی ہو-مجھے تو وہ مووی دیکھے بنا نیند ہی نہیں آتی- مگر اب تو آج کے دن کی یادیں ہی بچی رہنی ہیں بس- سی ڈی تو میں آج دے ہی دوں گا امان کو-“

”ایک درخواست ہے مان لو گے نا پلیز؟-“ کرتے والی نے کہا-

”ہاں ہاں کیوں نہیں جان- بولو-“ رویندر نے دریادلی دکھاتے ہوئے کہا-

”تم جو چاہے کرلو- لیکن وہ سی ڈی امان کو مت دینا- مجھے دے دینا-“ کوشل نے اپنی شوخ نظروں کا جادو اس پرچلانے کی کوشش کی-

”کیا فرق پڑتا ہے- امان تمہیں اتنا پیار کرتا ہے- ایک ہی بات ہے- تم رکھو یا وہ-“

”تم وہ سی ڈی مجھے ہی دینا پلیز-“ کوشل نے پیار سے رویندر کے چہرے پر ہاتھ پھیرتے ہوئے کہا-

”اوکے میری جان اوکے-“

”میں جاﺅں کوشل- تم آجانا بعد میں-“ دوسری لڑکی نے کہا-

” نہیں نندنی مجھے چھوڑ کر مت جاﺅ پلیز- صرف دو منٹ اور رکو-“ پھر وہ رویندر سے مخاطب ہوئی- ”وہ سی ڈی مجھے دے دو پلیز- میری زندگی تباہ ہوجائے گی- میں کسی کو منہ دکھانے کے لائق نہیں رہوں گی-“

”پہلے نندنی سے کہو کہ یہاں سے ہلنے کی کوشش نہ کرے- جب تک میں نا کہوں- تبھی میں سی ڈی تمہیں دینے کے بارے میں سوچوں گا-“

اب رویندر نے ان دونوں لڑکیوں کو کس طرح بے وقوف بنا کر اپنا مقصد حاصل کیا اس بات کو یہیں چھوڑتے ہیں-

——————

نیچے محفل جم چکی تھی- کچھ دیر رویندر کا انتظار کرنے کے بعد امان نے وہیں پروگرام جما لیا- گلاسوں کو کھڑکھڑاتے اب تقریباً آدھا گھنٹہ ہوچکا تھا- شراب کے نشے میں روہن اب وہ سب بولنے لگا تھا جس کو بتانے میں اب تک وہ ہچکچا رہا تھا-

”اوہ— پھر کیا ہوا؟-“ امان آگے کو جھکتے ہوئے بولا-

”چھوڑو یار – کیوں ٹائم ضائع کر رہے ہو- میں ان بے وقوفانہ باتوں پر یقین نہیں رکھتا- ایک خواب کو لے کر اتنا سیرئیس اور جذباتی ہونے کی ضرورت نہیں ہے- “ شیکھر ماورائی قسم کی باتوں پر یقین نہیں کر پا رہا تھا-

”پوری بات تو سن لو گدھے-“ روہن نے شیکھر کو ڈانٹا اور کہانی سنانے لگا-

”کون گدھا؟— میں– ہا ہا ہا-“ شیکھر زور زور سے ہنسنے لگا-”گدھا- ہا ہا ہا-“

”تمہیں نہیں سننی نا- چل سامنے جا کر بیٹھ جا اور اپنا منہ بند رکھ- میں مانتا ہوں اور مجھے سننی ہے-“ امان آکر سامنے والے صوفے پر شیکھر اور روہن کے بیچ میں بیٹھ گیا-

شیکھر اٹھا اور بڑبڑاتے ہوئے سامنے چلا گیا-

باتیں ابھی چل رہی تھیں کہ رویندر مسکراتا ہوا کمرے میں داخل ہوا-

”اچھا اکیلے اکیلے مزے کئے جا رہے ہیں-“

”ابے گدھے اکیلے اکیلے تم مزے کرکے آئے ہو یا ہم-“ شیکھر اس کے آتے ہی کھڑا ہوگیا-”بات کرتا ہے-“

”بھائی تم میرے کو گدھا کیوں بول رہے ہو- وہ تو روہن بولتا ہے-“ رویندر نے اس کے پاس بیٹھتے ہوئے کہا-

”کیونکہ میرے اندر روہن کا بھوت گھس گیا ہے- ہی ہی ہا ہا ہو ہو ہو-“ شیکھر نے بھوتوں والی بات کا مذاق بنا لیا-

”چپ کر بے ذلیل انسان- ایسی باتوں کا مذاق نہیں اڑاتے- کسی کے ساتھ بھی کچھ ہو سکتا ہے-“ امان نے پیار سے اس کو سمجھایا-

”کس کے ساتھ کیا ہوگیا ہے بھائی؟— مجھے بھی تو بتاﺅ-“ رویندر نے اپنا گلاس بنا کر اٹھا یا اور سب کے ساتھ چیئر کیا-

”وہ بات بعد میں شروع سے شروع کریں گے- اب سب کو سیرئیس ہوکر سننی ہیں- پہلے تم بتاﺅ- مزے کئے یا نہیں-“ امان نے آنکھ مارتے ہوئے پوچھا-

”واہ- مزے کیسے نہیں لئے-“

”سچ میں- چل آ گلے لگ جا- مبارک ہو مبارک ہو- “ امان لڑکھڑاتا ہوا آکر اس کے گلے لگ گیا-”تم نے تو کما ل کر دیا-“

”اس میں کمال کی کیا بات ہے؟-“ شیکھر نے برا سا منہ بنا کر کہا-

”ابے یار وہ دونوں سگی بہنیں ہیں-“

”کیا؟– سگی بہنیں ہیں؟-“

”ہاں- چل چھوڑ یار لمبی کہانی ہے- اس کے بارے میں بعد میں بات کریں گے- پہلے روہن بھائی کی کہانی سنتے ہیں- چل بھائی روہن- اب سب اکٹھے ہو گئے ہیں- شروع سے شروع کرکے – آخر تک سنا دے—- پہلے بول رہا ہوں شیکھر- بیچ میں نہیں بولنا-“

”نہیں بولوں گا- چلو سناﺅ-“ شیکھر بھی روہن کی طرف متوجہ ہوگیا-

روہن نے کہانی سنانی شروع کر دی –

”اوہ مائی گاڈ- مطلب یہ کہ کوئی لڑکی صدیوں سے تمہارے لئے تڑپ رہی ہے آج تک-“ امان نے پوری کہانی سننے کے بعد کہا-”میںنے تو ایسا صرف کہانیوں میں پڑھا یا فلموں میں دیکھا ہے-آج جیتا جاگتا ثبوت دیکھ رہا ہوں-“

”ابے گھونچو- یہ بھی تو کہانی ہی ہے-“ نشے اور مستی میں جھول رہے شیکھر نے مونگ پھلی کا دانہ اٹھا کر اس کے منہ پر دے مارا-

”مطلب؟— یہ بھی صرف کہانی ہی ہے- کیوں روہن-“ امان نے سوالیہ نظروں سے روہن کی طرف دیکھا-

روہن کچھ نہیں بولا- پچھلی باتیں یاد کرتے کرتے اس کے چہرے پر پسینہ چھلک آیا تھا- بدن میں رہ رہ کر انجانی سی لرزش دوڑ رہی تھی- وہ سر جھکائے بیٹھا رہا-

”ابے یار — سپنے کہانیاں ہی تو ہوتے ہیں- سپنے میں ہی تو آتی ہے نا وہ- اور جو کچھ جیتے جاگتے میں ہوا ہے-اس کے بارے میں تمہارا دوست نتن ٹھیک ہی کہہ رہا ہے- وہ ضرور اس بڈھے اور لڑکی کی سازش ہے- ضرور کسی تنتر منتر کا سہارا لے کر اس کے سپنے میں آجاتی ہوگی- تم کیا کہتے ہو رویندر-“ شیکھر نے سب کے لئے ایک ایک پیگ اور بنا دیا-

”سالا کمینہ- دو مہینے سے ایسی ہی رونی سی صورت بنائے ہوئے ہے- کبھی مجھ کو دوست نہیں سمجھا- مجھے آج تک کچھ بھی نہیں بتایا اس نے-“ اب تک چپ چاپ غور سے ساری باتیں سن کر رویندر اٹھا اور روہن کے پاس بیٹھ کر گلے لگ گیا- ”پہلے کیوں نہیں بتایا یار- میں چلتا تیرے ساتھ- ہر جگہ- افسوس تم نے مجھے اپنا نہیں مانا یار- مجھے اپنا نہیں مانا-“

”اب چپ بھی کر یار- ذرا سی چڑھتے ہی شروع ہوجاتا ہے-“ روہن نے بھی اس کے گلے میں ہاتھ ڈال دیا-

”آج میں اس طرح سے شروع نہیں ہوا ہوں یار- کتنا ہنستے تھے تم- کتنی مستی کرتے تھے ہم دونوں- مگر دو مہینے سے تم پتہ نہیں کیسے ہو گئے ہو- نہ کہیں گھومنے چلے- نہ کبھی فون اٹھایا- اور ملتا بھی ہے تو شاہ رخ خان کے اسٹائل میں- میںسوچتا تو تھا کہ کہیں تمہارا کسی سے کوئی چکر تو نہیں چل گیا- مگر یہ تو میں نے خواب میں بھی نہیںسوچا تھا کہ یہ سارا چکر ہی خوابوں کا ہے- مگر اب تم فکر مت کرو- یہاں عمر کوٹ میں ہی ہے نا وہ؟-“ رویندر انتہائی جذباتی ہو رہا تھا-

”ہاں-“ روہن نے اثبات میں سر ہلاتے ہوئے کہا-

”اس کو ڈھونڈنا ہی ہے نا بس- باقی کام تو تم کر لو گے-“ رویندر نے پوچھا-

”صرف ڈھونڈنا نہیں ہے یار- اس کو وہاں لے بھی جانا ہے- اس ٹیلے پر-“ روہن نے وضاحت کرتے ہوئے کہا-

”تو- وہ تو چل ہی پڑے گی نا- جب تم سے اتنا پیار کرتی ہے- تمہارے لئے تو وہ ساری دنیا کو چھوڑ سکتی ہے بھائی- پھر عمر کوٹ میں کیا رکھا ہے؟— پرانے ٹیلے پر رہیں گے چل کر— ایک چھوٹا سا مکان بنا لیں گے-“ رویندر نے اپنی بٹن جیسی آنکھیں گھماتے ہوئے کہا-

”تم سے تو بات کرنا ہی بیکار ہے یار- بھیجے میں تو لگتا ہے جیسے چڑیا نے انڈے دے رکھے ہیں- کچھ سمجھ میں آتا نہیں- تمہیں کیا بتاتا میں-“ روہن اس کی اول جلول باتیں سن کر جھلا اٹھا-

”ایسے کیوں بول رہے ہو یار- چلو اچھے سے ایک بار اور سنا دو پوری کہانی- اس بار میں ضروری باتیں نوٹ کرتا رہوں گا اپنی ڈائری میں- میری ڈائری کہاں گئی-“ رویندر نے بھولے پن سے کہا اور سبھی قہقہہ لگا کر ہنس پڑے-

”تمہیں کہانی سننے کی کوئی ضرورت نہیں ہے- آگے کی سن لے بس- پہلے تو نیرو کو ڈھونڈنا ہے- پھر اس سے دوستی کرنی ہے- پھر ساری باتیں اس کو بتانی ہیں اور اس کو اپنے ساتھ ایک بار پرانے ٹیلے پر چلنے کے لئے منانا ہے- سمجھ گیا- اور اب وہاں مکان بنانے کی پلاننگ مت شروع کر دینا- وہاں رہنا نہیں ہے ہمیں-“ روہن نے خاص خاص باتیں دوہرا دیں-

”رہنا نہیں ہے تو پھر کیوں چلنا ہے وہاں- کیوں بیچاری بھابھی کو ڈرا رہے ہو یار-“ رویندر کے دماغ میں ایک اور سوالوں کا لٹو گھومنے لگا-

”ابے گدھے – وہیں چل کر اس کو سب کچھ یاد آئے گا- سمجھا-“ روہن نے غصے سے کہا-

”اوہ- اچھا- ٹھیک ہے- ایک منٹ— مگر تمہیں کیسے پتہ کہ اس کو وہیں سب کچھ یاد آئے گا-“ رویندر نے ایک اور سوال داغا-

”خود نیرو نے ہی بتایا ہے مجھے- خواب میں یار-“ روہن سمجھاتے سمجھاتے تھک گیا-

”جب اس کو پتہ ہی ہے تو یاد دلانے کی کیا ضرورت ہے؟- بس یہ ایک آخری بات اور کلیئر کر دو-“

”ابے تیرے دماغ میں چڑھ گئی ہے- یہاں والی نیرو کو کچھ پتہ نہیں ہے- وہ ٹیلے پر جو ہے- وہ کئی جنموں پہلے کی پریا کا دل ہے- جو کہتی ہے کہ میں دیو تھا اور وہ پریا- ہم ایک دوسرے سے بہت پیار کرتے تھے- اس جنم میں پریا نیرو ہے اور دیو‘ روہن- یعنی کہ میں- اس سے زیادہ مجھے کچھ نہیں پتہ- میں صرف دیکھنا چاہتا ہوں کہ یہ سب سچ بھی ہے یا نہیں- کل صبح نیرو کو ڈھونڈنے چلیں گے- اب ا س کے بعد کوئی سوال کیا تو دیکھ لینا پھر-“ روہن بولتے بولتے تھک گیا-

 ”ایک منٹ روہن- مان لیتے ہیں کہ تمہارا خواب ایک حقیقت ہے- شہر میں تو کئی نیرو ہوسکتی ہیں- تم اس کو ڈھونڈو گے کیسے؟-“

”اس کا گھر گورنمنٹ کالج کے پاس ہے- وہیں پتہ کریں گے کہ کوئی نیرو وہاں ہے بھی یا نہیں-“ روہن نے جواب دیا-

”گورنمنٹ کالج کے پاس؟— وہاں تو میں ابھی پتہ لگا سکتا ہوں- ایکچوئلی کوشل اور نندنی وہیں رہتی ہیں-“

”تو پتہ کر نا یار-“ رویندر اور روہن ایک ساتھ بول پڑے-

”ہاں ابھی پتہ کرو یار- پتہ چل جائے گا کہ خواب حقیقت ہے یا افسانہ-“ شیکھر بھی بے چین ہوکر امان کی طرف متوجہ ہوا جو اپنا موبائل نکال رہا تھا-

امان نے ان کے بیچ بیٹھے بیٹھے ہی کوشل کو کال کی اور اسپیکر آن کر لیا- کافی لمبی بیل جانے کے بعد کوشل نے فون ریسیو کیا-

”جانو- امی یہیں پر ہیں- میں اوپر جارہی ہوں- پانچ منٹ بعد فون کرنا-“ سرگوشی میں بات کرتے ہوئے کوشل نے جھٹ سے فون کاٹ دیا-

٭٭٭٭٭٭٭

”امی نندنی کہاں ہے؟-“ کوشل نے فون اپنی جیب میں ڈالا اور کچن سے باہر آتے ہوئے بولی-

”اوپر پڑھ رہی ہوگی- کیوں؟-“ امی نے کام کرتے کرتے ہی جواب دیا-

”میں نے دودھ ابلنے کے لئے چولہے پر رکھ دیا ہے امی- ایک بار دیکھ لینا- میں ابھی آتی ہوں-“ کوشل نے سیڑھیاں چڑھتے ہوئے کہا-

کوشل اوپر گئی تو کمرے کا دروازہ اندر سے بند ملا- اس نے ہلکی دستک دیتے ہوئے کہا-

”کیا کر رہی ہو بنو- چلو دروازہ کھولو-“

نندنی نے دروازہ کھول دیا اور کوشل اندر جاکر بستر پر بیٹھ گئی-

”امان کا فون آیا تھا- میں اسے مس کال دے رہی ہوں-“

”میں نہیں جاﺅں گی وہاں- آج کے بعد-“ نندنی نے اس کے پاس بیٹھتے ہوئے کہا-”میں اب کسی اور کے ساتھ -“ بات ادھوری چھوڑ دی-

”کیوں؟– پیار ہوگیا ہے اس سے – “ کوشل نے اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالتے ہوئے پوچھا-

”نہیں بس ایسے ہی-“ کہتے ہوئے نندنی نے نظریں پھیر لیں-تبھی امان کی کال دوبارہ آگئی-

”امان – تمہیں پتہ ہے آج تمہارے دوست نے ہمارا ریپ کر دیا ہے-“

”کس نے؟— کب؟-“امان نے فون پر حیرت اور غصہ دکھاتے ہوئے وہاں سب کی طرف دیکھ کر بتیسی نکال دی-

”مجھے نام نہیں پتہ- مگر جب تم نیچے چلے گئے تھے تو کوئی دوسرا اوپر آگیا تھا- کہنے لگا میں نے تمہاری امان کے ساتھ مووی بنا رکھی ہے- اور پھر بلیک میل کرنے لگا مجبوراً اس نے جو کچھ کہا ہمیں کرنا پڑا- نندنی تو اب تک اپ سیٹ ہے بیچاری-“

کوشل بات کر ہی رہی تھی کہ اچانک فون پر اس کو دوسر ی آواز سنائی دی-

”جھوٹ کیوں بول رہی ہو- ریپ تو میں نے صرف تمہارا کیا تھا- نندنی کے ساتھ پیار کیا تھا-“

”مگر یار تم ایسے پاگل کیسے بن سکتی ہو’ ایسے کیسے کوئی ہماری مووی بنا سکتا ہے- وہ بھی سیکنڈ فلور پر چلو چھوڑو- اس بات کو بعد میں دیکھیں گے- مجھے تم سے ایک بات پوچھنی ہے-“ امان نے کام کی بات کرتے ہوئے کہا-

”ہاں بولو جانو-“ کوشل کا لہجہ اچانک بدل گیا –

”یہ تمہارے آس پاس نیرو نام کی کوئی لڑکی رہتی ہے کیا؟ -“ امان نے کہا-

”بڑے بے شرم ہو تم- میں کافی نہیں ہو ں کیا- “ کوشل اپنی آواز میں غصہ بھرتی ہوئی بولی-

”ارے یار لڑکیاں کیا صرف اسی کام کے لئے ہوتی ہیں- بولو؟-“ امان چڑتا ہوا بولا-

”اوکے– کس عمر کی ہے’“ کوشل نے پوچھا-

امان نے ہاتھ سے اشار ہ کرکے روہن سے عمر کے بارے میں پوچھا مگر روہن کے نا میں ہاتھ ہلانے پربولا- ”یہی کوئی تمہاری عمر کی ہوگی-“

کوشل اپنا ذہن چاروں طرف دوڑاتی ہوئی بولی- ”ہماری عمر کی کیا- میرے خیال سے تو کسی عمر کی لڑکی اس نام کی نہیں ہے کوئی-“ کوشل کا جواب سن کا روہن کے ارمانوں پر پانی پھر گیا-

”پکا یہ گورنمنٹ کالج کے پاس ہی رہتی ہے نا-“ روہن نے پوچھا-

کوشل نے اس کی آواز سن لی- ”ہاں یار – کل ملا کر چالیس پچاس گھر ہی تو ہیں یہاں- سب ایک دوسرے کو جانتے ہیں- کوئی اس نام کی نہیں ہے یہاں پر-“

”چلو ٹھیک ہے-باقی کل بات کروں گا- اوکے بائے-“ اور امان نے اس کی بات سنے بغیر ہی فون کاٹ دیا-

”میں نے کہا تھا نا کہ خواب ‘ خواب ہی ہوتے ہیں- ان کا حقیقت سے کوئی واسطہ نہیں ہوتا-چلو چھوڑو خوابوں کو اور رئیل لائف میں انجوائے کرو-“ شیکھر نے کہا-

اب کسی کے پاس بولنے کو کچھ نہیں بچا تھا- روہن نے صوفے پر سر ٹکایا اور آنکھیں بند کرلیں-

٭٭٭٭٭٭٭

جاری ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

چلو عشق کا رستہ چنتے ہیں آسیہ مظہر چوہدری قسط نمبر 2

چلو عشق کا رستہ چنتے ہیں آسیہ مظہر چوہدری قسط نمبر 2 دو دن ہو …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے