سر ورق / یاداشتیں / ست رنگی دنیا ٭ میری کہانی ٭ ضیاءشہزاد ٬٬ قسط نمبر 13

ست رنگی دنیا ٭ میری کہانی ٭ ضیاءشہزاد ٬٬ قسط نمبر 13

ست رنگی دنیا
٭
میری کہانی ٭ ضیاءشہزاد
٬٬آندھیاں غم کی یوں چلیں، باغ اجڑ کے رہ گیا،،
قسط نمبر 13
٭
دادا چیخے ۔٬٬ جا اسلام ۔ ۔ ۔ اندر سے بگدا اور گٹکا نکال کر لا۔ ۔ ۔ جس سے قربانی کے گوشت کے ٹکڑے اور بوٹیاں بناتے ہیں،،
یہ سنتے ہی بھائی اسلام تیزی سے اندر کی طرف دوڑے اور پرساد دھاڑے مارتا ہوا دادا کے پیروں پر گرگیا۔ مگر دادا کہے جا رہے تھے ۔ ۔ ۔ ٬٬ ویسے بھی ہمارے دو مسلمان مار دئے گئے ہیں۔ ۔ ۔ ۔ اب ایک ہندو بھی مرنا چاہئے ۔ ۔ ۔ کچھ تو حساب برابر ہو،، دادا یہ کہتے ہوئے رکے اور قریب کھڑے ہوئے میرے ابا کی طرف دیکھا ۔ ۔ ۔ اسی وقت بڑے ابا بھی آگئے ۔ ۔ ۔ ان کے پیچھے پیچھے ۔ ۔ ۔ تایا کلو بھی تھے ۔پرساد نیچے زمین پر لیٹا ہوا دھاڑے مار مار کر روئے جا رہا تھا ۔دادا نے سب لوگوں کی طرف دیکھتے ہوئے کہا ۔٬٬کیا خیال ہے ۔ ۔ اس حرامزادے کے ۔ ۔ ۔ آج ٹکڑے کر دیتے ہیں ۔ ۔ تم لوگ ۔ ۔ ۔ ۔۔ اندر گودام والے کمرے سے کوئی پرانی سی بوری نکال کر لے آنا ۔ ۔ ۔ اس کے ٹکڑے اس میں بند کر کے کٹارے والی حویلی کے پاس پھینک دیتے ہیں ۔ ۔ ۔ ۔ چیل کوے اور کتے کھا لیں گے ۔،،
٬٬ٹھیک ہے ابا ۔ ۔ ۔ اس سسرے کا یہی انجام ہونا چاہئے ۔ ۔ ۔ ،، بڑے ابا بولے۔٬٬حرامی ۔ ۔ ۔ ہمارے بچے کو اٹھا کر بھاگ رہا تھا ۔،،
٬٬ہاں ۔ ۔ ۔ میں نے اسلام کو اندر سے بگدا اور گٹکا لانے کے لئے بھیجا ہے۔،، دادانے کہا
پرساد روئے جا رہا تھا ۔ ۔ ۔ اب وہ اپنا سر زمین پر مارنے لگا ۔٬٬ مہاراج ۔ ۔ شما کردو ۔ ۔ شما کر دو بڑی گلتی ہو گئی ۔ ۔ ۔ میں نردوس ہوں ۔،،
٬٬ چپ ہوجا ۔ ۔ ۔ خبیث ۔ ۔ ۔ میرے سامنے ناٹک مت کر ۔ ۔ ۔ تجھے رنگے ہاتھوں پکڑا ہے ۔ ۔ تو نردوش ہے ۔ ۔ ۔ ایں ۔،، دادا چیخ کر بولے

کلو تایا آگے بڑھے اورجھک کر پرساد کو اس کی ٹھوڑی سے پکڑکر اوپر اٹھاتے ہوئے بولے ۔ ۔ ۔ ٬٬ ابا ۔ ۔ ۔ اس سے تو میں نمٹتا ہوں۔ ۔ ۔ ۔ ابھی اس کے ٹکڑے کرنے کی ضرورت نہیں ہے ۔ ۔ پہلے اس سے پوری بات تو معلوم کر لوں کہ یہ ہے کون۔،،
٬٬ اپنا نام پرساد بتاتا ہے ۔ ۔ ۔ ،، دادا نے کہا ۔٬٬کہتا ہے فرید آباد کا ہوں ۔،،
٬٬فرید آباد ۔ ۔ کا ۔ ۔ ۔ ہماری تو فرید آباد میں کسی سے دشمنی بھی نہیں ہے ۔،، کلو تایا بولے ۔ ۔ ۔ ۔٬٬ وہاں چاچا فیاض لمبو سے کسی وقت کچھ ہمارا جھگڑا چلا تھا ۔ ۔ ۔ مگر وہ برادری کے تھے تو ان سے میل ملاپ ہوگیا تھا ۔ ۔ ۔ اور اب تو ویسے بھی ان کا انتقال ہو چکا ہے اور ان کے بچے کسی لینے دینے میں نہیں ہیں۔،،
٬٬ کہتا ہے گنگا رام تیلی کی دوکان پر کولھو چلاتا ہے ۔،، دادا نے کہا
٬٬ گنگا ۔ ۔ رام ۔ ۔ نام سنا تو ہے میں نے ۔ ۔ ۔ کسی سے یہ نام سنا ہے ابا میں نے ۔،، کلو تایا بولے ۔ ۔ ۔ ٬٬ کس سے سنا تھا میں نے ۔ ۔ ۔ یہ نام ۔ ۔ ۔ مجھے یاد آجائے گا ابھی ۔،،
٬٬تجھے یاد کرنے کی ضرورت نہیں ہے ،، دادا ابا بولے۔٬٬یہ ابھی کہہ چکا ہے کہ اسے گنگا رام نے بھیجا تھا ۔ ۔ ۔ یہ اس کے کولہو پر تیل نکالتا ہے،،
٬٬ ہاں ۔ ۔ ابا ۔ ۔ مجھے یاد آ گیا ۔،، کلو تایا اچھل پڑے اور پھر انہوں نے دوبارہ پرساد کی ٹھوڑی پکڑتے ہوئے اس سے پوچھا ٬٬ اگر تجھے گنگا رام نے بھیجا ہے تو پھر ۔ ۔ ۔ تو سیتا رام کو بھی جانتا ہوگا ۔،،
پرساد خاموش رہا اس نے اپنی نظریں جھکا لیں اور کچھ نہیں بولا
٬٬ابے بول ۔ ۔ ۔ چپ کیوں ہے ۔ ۔ تو سیتا رام کو بھی جانتا ہے نا؟،، کلو تایا چیخے
٬٬ جی ۔ ۔ ۔ مہاراج ۔ ۔ ۔ جانتا ہوں۔،، پرساد بولا اور پھر ہاتھ جوڑنے لگا
دادا چیخے ٬٬ بس بس ۔ ۔ ۔ ناٹک مت کر ۔ ۔ ۔ ہاتھ جوڑنے کی ضرورت نہیں ہے ،،
اتنی دیر میں بھائی اسلام اپنے کاندھے پر لکڑی کا بڑا سا گٹکا اور ایک ہاتھ میں بڑا سا چھرا لئے چلے آئے ۔ ۔ ۔ زمیں پر گٹکا اور چھرا رکھتے ہوئے بولے ۔٬٬ میں ابھی اس کو صاف کر دوں دادا ۔ ۔ ۔ بہت دن سے اسے کام میں نہیں لیا ہے ۔ ۔ کہیں زنگ نہ لگ گیا ہو ۔،،
پرساد کی چھرے کو دیکھ کر جیسے جان ہی نکل گئی
٬٬ ہاں کر دے ،، دادا نے کہا ۔٬٬ اور اسے سل پر خوب گھس کر بھی لانا ۔ ۔ ۔ دھار تیز ہونی چاہئے ۔ ۔ ۔ اس حرامزادے کو تکلیف نہ پہنچے ۔ ۔ ۔ بس ایک دو جھٹکوں میں ہی ٹکڑے ہو جائیں۔،،
پرساد کا چہرہ سفید پڑ گیا تھا ۔ ۔ ۔ اس پر جیسے غشی سی چھا گئی تھی ۔ ۔ ۔ پہلے وہ دھاڑیں مار کر رو رہا تھا ۔ ۔ ۔ ۔ مگر اب وہ اپنی آنکھیں پھاڑے چھرے کو ہی دیکھے جا رہا تھا۔

تایا کلو نے پھر اس کی ٹھوڑی کو اپنے ہاتھ سے اوپر اٹھایا اور پرساد سے پوچھا۔٬٬ دیکھ سسرے اب بھی موقع ہے ۔ ۔ سب کچھ سچ سچ بتا دے ۔ ۔ ۔ ہو سکتا ہے ابا کو تجھ پر ترس آجائے۔ ۔ ۔ اگر سچ بتا یا اور پوری بات بتا ئی تو میں بھی ابا سے تیری سفارش کروں گا۔،،
٬٬ پو۔ ۔ چھ ۔ ۔ کیا ۔ ۔ ۔ بو ۔ ۔ لوں۔،، پرساد کا گلہ خشک تھا ۔ ۔ ۔ وہ مشکل سے اتنا ہی بول سکا۔
٬٬ سیتا رام کون ہے ۔ ۔ ۔ گنگا رام سے اس کا کیا تعلق ہے۔،، کلو تایا نے پوچھا
٬٬جی ۔ ۔ ۔ وہ ۔ ۔ گنگا کی لگائی(بیوی) کا بھائی ہے۔،، پرساد بولا
٬٬ لگائی کا بھائی ہے ۔ ۔ ۔ میں یہی پوچھنا چاہ رہا تھا ۔ ۔ ۔ مجھے گنگا رام کا نام سنا ہوا کیوں لگا تھا ،، کلو تایا بولے۔ ۔ ۔ پھر وہ دادا ابے سے بولے٬٬گنگا رام اصل میں پنڈت کا آدمی ہے ۔ ۔ ۔ میں نے سیتا رام کے بارے میں سنا تھا کہ وہ پنڈت گوکل رام کے پاس رہتا ہے ۔ ۔ اب اس کمینے نے بھی بتا دیا کہ سیتا رام اصل میں گنگا رام کی لگائی کا بھائی ہے ۔ ۔ ۔ مجھے معلوم تھا ابا کہ پنڈت گوکل رام بھی گنگارام کا رشتے دار ہے ۔ ۔ ۔ ۔
٬٬ ہاں تجھے ضرور معلوم ہوگا۔ ۔ ۔ دادا نے کلو تایاکو گھورتے ہوئے کہا ۔ ۔ ۔ ۔٬٬ تو نے تو اپنا بچپن ۔ ۔ ۔ اپنی جوانی ۔ ۔ سب ان ہندوﺅں ۔ ۔ اور پنڈت پجاریوں میں گزار دی ہے ۔ ۔ تجھے معلوم نہیں ہوگا تو اور پھر کس کو پتہ ہوگا ۔ ۔ تومجھے یہ بتا ان باتوں سے تیرا مطلب کیا ہے ۔ ۔ کیوں وقت بیکار کھو رہا ہے میرا۔ ۔ ۔ مجھے اس پرساد کے ٹکڑے کرنے دے ۔ ۔ میراخون کھول رہا ہے ۔،،
٬٬ ابا میں وقت بیکار نہیں کھو رہا ۔ ۔ ۔ تھوڑا دھیان دے دو میری بات پر ۔،، کلو تایا بولے
٬٬ ہاں ۔ ۔ بول ۔ ۔ کیا دھیان دوں۔،، دادا نے کلو تایا سے پوچھا
٬٬ دو دن پہلے ہی توگنگو تیلی ۔ ۔ ۔ پنڈت کا سندیسہ دے کرگیا تھا گاﺅں کے مولوی کے پاس ۔ ۔ ۔ اسی نے تو پنڈت کا سندیسہ دیا تھا کہ مسلمان گاﺅں چھوڑ دیں ۔ ۔ لاشیں گر جائیں گی ۔ ۔ ۔ ٬٬ کلو تایا بولے،،۔ ۔ ۔٬٬ یہ گنگو فرید آباد والا ہی گنگا رام ہے ۔ ۔ ۔ یہ پنڈت بھی اس کی لگائی(بیوی) کا بھائی ہے ۔ ۔ یہ سب لوگ گاﺅں میں آگ لگا رہے ہیں ۔ ۔ ۔ بلوہ کرا دیا ہے ان حرامزادوں نے ۔ ۔ دومسلمان مار دئے دو دنوں میں ۔ ۔ ۔ ۔ مجھے سب سے زیادہ صدمہ رحمان کے بھائی کے مرنے کا ہے ۔ ۔ ۔ وہ غریب تو کسی کے لینے دینے میں بھی نہیں تھا ۔ ۔ ۔ مار ڈالا ان حرامزادے بلوائیوں نے ،،
٬٬ یہ بات اب سب کو پتہ ہے کہ گاﺅں میں آگ لگا دی ہے ان کمینوں نے ۔ ۔ ۔ مجھے بھی صدمہ ہے رحمان کے بھائی کا ۔ ۔ ۔ ۔ ،، دادا نے کلو تایا کی بات کاٹتے ہوئے کہا ۔٬٬ مگر یہ حرامزادہ پرساد ۔ ۔ میرے بچے کو کیوں اٹھا کر بھاگ رہا تھا ۔ ۔ ۔ اسے گنگا رام نے کیوں بھیجا تھا ۔ ۔ ۔ ۔ میرے بچے کو اٹھوا کر کیا اسے شدھی کرنا چاہتے ہیں وہ ؟،،
اتنی دیر میں بھائی اسلام چھرے کو دھار لگا کر لے آئے ۔ ۔ ۔ بگدا اب چمک رہا تھا دادا نے بھائی اسلام کے ہاتھ سے بگدا لیا اور بولے ٬٬ ذرا ایک موٹی سی لکڑی لے کر آﺅ ۔ ۔ ۔ چولہے کے پاس پڑی ہوگی ۔،،

فاروق بھائی جو قریب ہی کھڑے ہوئے تھے دوڑ کر باہر کی طرف بھاگے ۔ ۔ ۔ اور بس تھوڑی ہی دیر میں ایک لکڑی کا ٹکڑا اپنے ہاتھ میں پکڑے چلے آئے۔ دادا نے ان کے ہاتھ سے لکڑی کا ٹکڑا لیا اور اسے لکڑی کے گٹکے پر رکھا اور اپنے سیدھے ہاتھ میں بگدا تھام کر اسے زور سے اس لکڑی کے ٹکڑے پر مارا تو وہ دو ٹکڑے ہوگیا ۔ پرساد نے یہ سب دیکھا تو اس پر غشی طاری ہو گئی اور منہ سے جیسے جھاگ سے نکلنے لگے۔ دادا نے اس کی یہ حالت دیکھی تو مسکرائے اور بڑے ابا سے کہا ٬٬ اس سرے کے ہاتھ کھول دو ۔ ۔ ۔ کپڑے خراب ہو گئے ہیں اس کے ۔ ۔ سالے کا موت نکل گیا ہے۔،،
بڑے ابا سے پہلے بھائی اسلام آگے بڑھے اور پرساد کے بندھے ہوئے ہاتھ کھول دئے ۔ ۔ ۔ ۔ اس نے اپنے ہاتھوں کو کھلا ہوا پایا تو اس کے چہرے پر جیسے رونق سی آگئی اور ہاتھ جوڑ تے ہوئے بولا ۔٬٬ جے ہو مہاراج ۔ ۔ ۔ مجھ سے پوچھو میں کیا بتاﺅں۔،،
٬٬ وہ سب کچھ بتا دے جو تجھے معلوم ہے ٬٬ دادا نے کہا ۔٬٬ ہم مسلمان ہیں کسی کمزور اور نہتے آدمی کو نہیں مارتے ۔ ۔ ۔ تو اب ہمارے ہاتھ نیچے ہے ۔ ۔ ۔ تجھے مارنا چاہیں تو دو منٹ میں ترا کام ہو جائے گا ۔ ۔ ۔ لیکن یہ سب بزدل کرتے ہیں ۔ ۔ تو اکیلا ہے اور ہم چار پانچ لوگ ہیں ۔ ۔ تو ہماری گھر میں ہے ۔ ۔ ہماری پناہ میں ہے ۔ ۔ ہم تجھے نہیں ماریں گے ۔ ۔ ۔ بس توہمیں ٹھیک ٹھیک ساری بات بتا دے۔ ۔ ۔ ۔ گنگا رام نے میرے بچے کو اٹھوانے کے لئے کیوں کہا تھا۔ ۔ ۔ وہ کیا کرنا چاہتا ہے میرے بچے کے ساتھ۔ ۔ بول ۔ ۔ ۔ تجھے ضرور معلوم ہوگا ۔،،
٬٬ جی دادا سراجو ۔ ۔ ۔ گنگا رام اور سیتا رام کو میں نے ایک بار بات کرتے سنا تھا ۔،، پرساد کہنے لگا ۔٬٬ گنگا ایک دن سیتا سے کہہ رہا تھا کہ دادا سراجو کا چھوٹا پوتا بڑا گیانی ہے ۔ ۔ ۔ اس کا بڑا بھائی جس کا دھانت ہو گیا ہے وہ بھی بڑاپہنچا ہوا تھا۔ ۔ ۔ جو بولتا تھا وہ دھنی ہوتا تھا ۔ ۔ ۔
٬٬ ہوں۔ ۔ ۔ تو یہ بات ہے ،، دادا نے پرساد کی بات کاٹتے ہوئے کہا ۔٬٬ اور کیا کہہ رہا تھا وہ ۔ ۔ جلدی جلدی بول ۔،،
٬٬ جی وہ کہہ رہا تھا ۔ ۔ ۔ یہ مسلے تو پاکستان بھاگ جاویں گے۔ ۔ ۔ ان کا پاکستان بن گیا ہے ۔ ۔ ۔ یہ دادا سراجو بھی بھاگ جاوے گا۔ ۔ ۔ ۔
٬٬ ابے مسلمان کبھی نہیں بھاگتا ۔ ۔ ۔ گدھا ہے وہ جو ایسی بات کر تا ہے ۔،، دادا کو غصہ آگیا اور وہ چیختے ہوئے پرسادکی بات کاٹتے ہوئے بولے۔٬٬ ہم مسلمان ہیں ۔ ۔ اور مسلمان کبھی نہیں بھاگتا ۔ ۔ ۔ مسلمان ہجرت کرتا ہے ۔ ۔ ۔ میں بھی نہیں بھاگوں گا ۔ ۔ ۔ یہ گاﺅں ہمارا ہے ۔ ۔ چاہے کچھ بھی ہو جائے ۔ ۔ ہم باول چھوڑ کر کہیں نہیں جائیں گے ۔ ۔ ۔ دیکھ لیں گے وہ ہمارے کتنے مسلمان ماریں گے ۔ ۔ ۔ وہ چارماریں گے تو دو ہم بھی مار دیں گے ۔ ۔ ۔ مقابلہ کریں گے سسرو تم لوگوں کا ۔،،
٬٬ ابا پہلے اس کی پوری بات تو سن لینے دو۔،، تایا کلو دادا کی بات کاٹتے ہوئے بولے۔٬٬ اب یہ بتا رہا ہے تو اس کو پوری بات بتا نے دو ۔ ۔ ہمیں پتہ چلنا چاہئے کہ ان کا مطلب کیا ہے ہمارے بچے کو اٹھوانے کا۔،،

دادا نے گھور کر تایا کلو کی طرف دیکھا۔ ۔ ۔ انہیں تایا کلو کا بیچ میں ٹوکنا اچھا نہیں لگا تھا ۔ ۔ بس وہ تایا کلو کی طرف دیکھ کر رہ گئے اور اپنی کڑک دار آواز میں پرساد سے بولے ۔٬٬ہاں بول اور کیا کہہ رہا تھا گنگا اس سیتا رام سے ۔،،
٬٬ جی ۔ ۔ گنگا کہہ رہا تھا۔۔ ۔ ۔ وہ کہہ رہا تھا ۔ ۔ ۔ ،، پرساد کا گلہ سوکھنے لگا اور بولا ۔٬٬ٹھوڑا سا پانی پلوا دو۔ ۔ ۔ گلا سوکھ رہا ہے ۔ ۔ بات بھی نہیں ہو رہی مجھ سے ۔،،
اسی وقت فاروق بھائی دوڑے اور قریب رکھے ہوئے مٹکے سے ایک پیالے میں پانی بھرا اورپرساد کی طرف بڑھا دیا ۔٬٬ لے پی لے پانی ۔ ۔ ۔ تو نے دیکھا کہ مجھے پانی کے لئے کسی سے کہنا نہیں پڑا ۔ ۔ میرا بچہ پانی کا سنتے ہی دوڑا اور پانی لا کے تجھے دیدیا ۔ ۔ یہی ہم مسلمانوں کی شان ہے ۔ ۔ ۔ تو ہمارے گھر میں ہے تو خود کو مہمان سمجھ ۔ ۔ جو حرکت تو نے کی وہ الگ بات ہے۔،، دادا نے پرساد سے کہا اور وہ جلدی جلدی پانی کا پورا پیالہ خالی کر گیا ۔
٬٬ اگر بھوکا ہے تو تجھے کھانا بھی کھلا دیں گے ۔ ۔ بول کھائے گا کھانا ۔،، دادا نے پرساد سے پوچھا
٬٬ نہیں دادا سراجو بھوک نہیںلگی ۔ ۔ ۔ ۔ پیاس لگی تھی توپانی مانگ لیا ۔ ۔ آپ کی بڑی کرپا ہے جی مہاراج ۔،، پرساد نے کہا
٬٬ ہاں تو اب بول اورکیا کہہ رہا تھا گنگا رام اس سیتا رام سے ۔ ۔ ۔ دادا کی بات پوری بھی نہیں ہوئی کہ حویلی کے دروازے پر کسی کے ٬٬ جے ہو ۔ ۔ جے ہو ،، کہنے کی آواز سنائی دی اور اس کے ساتھ ہی سنکھ بجنے لگا ۔ ۔ ۔
(جاری ہے)

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

ڈائجسٹوں کی الف لیلہ : قسط نمبر 53 سید انور فراز

آنکھوں میں اُڑ رہی ہے لٹی محفلوں کی دُھول عبرت سرائے دہر ہے اور ہم …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے