سر ورق / کہانی / عشق ہو!  نادیہ احمد پہلی قسط

عشق ہو!  نادیہ احمد پہلی قسط

عشق ہو!

 نادیہ احمد

وہ دسمبر کی ایک خنک مگر اداس صبح تھی۔ خزاں رسیدہ درختوں کے زرد پتوں سے جھانکتے سورج کی دھیمی سی تمازت سست بدنوں کو حرارت دینے میں ناکام ہوئے جاتی تھی۔ سورج کا تھال ابھی افق کے اس پار کھڑا اپنی پہلی چھب دکھلا رہا تھا جب اس نے بے دلی سے کھڑکی کا پردہ سرکایا۔ سامنے لان میں سکھ چین کے درختوں کے نیچے سوکھے پتوں کا ڈھیر لگا تھا جو مالی کے آنے تک یونہی رہنے والا تھا۔ اس نے ہاتھ بڑھا کر فرینچ ونڈو کو سلائیڈ کیا اور آدھی کھڑکی کھل گئی۔ ایک ہی پل میں سرد ہوا کا تیز جھونکا اس کے گلابی گالوں کو سرخ کر دگیا تھا۔ آن ِ واحد میں کمرے کے نرم گرم ماحول کو” سرد ی“ نے منتشر کر دیا تھا ۔” خنکی “کا احساس اس کی ریڑھ کی ہڈی میں سرائیت کر رہا تھا پر اس پل وہ جیسے اس ”شدت“ کو اپنے اندر اتارنا چاہتی تھی اسی لئے تو ”بے آرام“ ہونے کے باوجود اس احساس سے” حِظ“ اٹھا رہی تھی۔

 چند منٹ یونہی سکون و بے سکونی کے ساتھ گزرے ۔ وال کلاک میں اب آٹھ بج رہے تھے۔ ایک گہرا سانس لیتے اس نے شیشہ برابر کیا اور پردے گرا دئیے۔ کمر پہ بکھرے اپنے ریشمی سیاہ بالوں کو جوڑے میں لپیٹتی وہ سست روی سے چلتی کمرے سے باہر چلی گئی۔

٭٭٭

”کیا پلان ہے تمہارا آج ؟“ قاسم نے اخبار کی سرخیوں پہ نگاہ دوڑاتے چائے کا کپ ہونٹوں سے لگایا۔

انمول کا چائے دانی سے اپنے مگ میں چائے انڈیلتا ہاتھ ایک پل کو تھما تھا۔ اس نے قاسم کی طرف دیکھا جس کی مکمل توجہ اس وقت ہاتھ میں پکڑے اخبار کی شہ سرخیوں میں تھی۔ حسبِ سابق وہ آج بھی اتنا ہی لاپرواہ دکھائی دے رہا تھا جتنا آج سے پہلے اور یہ وہ معمول کا سوال تھا جو ہر صبح ناشتے کی میز پہ دہرایا جاتا تھا اور جس کے جواب میں یقینناََ اسے کبھی دلچسپی نہیں رہی تھی۔

”کچھ الگ نہیں ۔ وہی روٹین کے کام۔“ انمول نے چائے میں چینی ملاتے سنجیدگی سے کہا اور سلائس پہ مکھن لگا کر قاسم کے آگے رکھا۔ اخبار ایک طرف رکھتے وہ اب ناشتے میں مصروف ہوگیا تھا۔ہمیشہ کی طرح اس کے وجود سے غافل اور لاتعلق وہ پوری رغبت سے ناشتہ کر رہا تھا اور یہ سب جیسے ایک میکانکی روٹین کا حصہ تھا۔” برش کرنا“، ” شیو کرنا“ ، ”شاور لینا“، ناشتے کی میز پہ بیٹھ کر” اخبار“ پڑھنا اور اس دوران جانے سے پہلے اس کی اگلی مصروفیات کے متعلق سوال کرنا جس کا لگا بندھا اور سرسری سا جواب پچھلے دو سال سے دہرایا جاتا تھا۔ اسے سن کر قاسم نے کبھی کسی ردِ عمل کا اظہار کیا تھا نہ ہی اپنی طرف سے اس میں کوئی ”سجیشن“ دے کر اپنی دلچسپی شامل کی تھی۔ اپنے سوال کے بعد اسے اس بات کی رتی برابر پرواہ نہیں تھی اور اب کچھ عرصے سے انمول کو بھی تو قاسم کی گفتگو سے بس اتنی ہی دلچسپی رہ گئی تھی کہ وہ ”کہہ “ دیتا تھا اور انمول” سن“ لیتی تھی۔ دو سال پہلے انمول ، قاسم کے یہی بات پوچھنے پہ لمبی چوڑی تمہید باندھے نان اسٹاپ اسے پورے دن کی ممکنہ مصروفیات کے متعلق بتایا کرتی تھی۔ کرید کرید کر اس سے اس کی فرمائش پوچھتی اور پھر اسی کے مطابق ڈنر کا مینئیو پلان کرتی۔ ڈنر کے دوران دس بار ”کھانا کیسا بنا ہے؟“ کا سوال دہرایا جاتا جس کا جواب ہمیشہ سرسری سے انداز میں ”ٹھیک ہے“ کہہ کر دیا جاتا تھا۔ پھر جب وہ رات کو ہاتھ میں ٹی وی کا ریموٹ تھامے نگاہیں اسکرین پہ جمائے اپنے معمول کے انداز میں یہ پوچھتا کہ اس نے آج” کیا“ کیا تو وہ اس کے کندھے پہ سر ٹکائے انگلی کی پوروں پہ گنتی ”سوچ سوچ “ کر دن بھر کی ہر چھوٹی بڑی بات اس کے گوش گزار کرتی۔ کتنی بار گھر کی صفائی کی۔۔۔۔کپڑے کب دھوئے، کب استری کئے۔۔۔کس سہیلی سے فون پہ بات کی۔۔کس کی کال ریسیو نہیں کی۔۔۔لان میں کون سے نئے پودے منگوا کر لگائے۔۔۔کس پھول کے ساتھ لگے کانٹے چنے۔۔۔۔۔۔۔ قاسم کے اس چند حرفی سوال کا اس کے پاس ہر روز لمبا چوڑا جواب ہوتا۔ اس بات سے لاپرواہ کہ وہ اس پل اسے نہیں بلکہ ٹی وی پہ بیٹھے کسی نیوز اینکر کو سننے میں محو ہے وہ بس بولتی چلی جاتی۔ یوں جیسے ان لمحوں میں اپنی دن بھر کی تنہائی کا مداوا کرتی۔ وہ سوچیں جو دن بھر اسے بے چین رکھتیںرات کو اس ایک گھنٹے میں قاسم سے کہہ کر وہ پر سکون نیند سو جاتی۔ اس کی بے تحاشہ باتوں کے جواب میں قاسم کی ”ہوں۔ ہاں“ یا پھر” اچھا۔نہیں“ بھی اسے مکمل گفتگو لگا کرتی تھی۔ ٹی وی دیکھتے پورا ایک گھنٹہ کمرے میں صرف اس کی آواز گونجا کرتی تھی یا پھر تجزیہ نگاروں کی بحث و تکرار کا دھیما دھیما شور اور ایک عرصے تک وہ یہ طے نہیں کر پائی تھی کہ اس وقت قاسم ”کسے“سن رہا ہے۔ اس کی بے مقصد گفتگو کو یا پھر حالاتِ حاضرہ پہ تبصرہ کرتے تجزیہ نگاروں کے سچ اور جھوٹ کو۔۔۔وہ بس کہتی ہی چلی جاتی تھی۔ مگر یہ سب تو اب پرانا قصہ تھا جب انمول اور قاسم کی ”نئی نئی شادی “ہوئی تھی۔

تب خواب خوشنما لگتے تھے اور زندگی خوبصورت۔۔۔۔۔

تعبیر کی تلخی تو اس وقت محسوس ہوئی جب قاسم کی خود سے لاپرواہی نے انمول کے دل میں بدگمانی کی جڑیں گاڑیں۔ وہ نہیں بدلا تھا ہاں انمول واقعی بہت بدل گئی تھی۔ بولتے بولتے خاموش ہوگئی تھی۔ اچانک اسے اپنی باتیں غیر ضروری اور احمقانہ محسوس ہونے لگی تھیں کہ اس نے خود ہی قاسم کے سامنے خاموشی اختیار کر لی۔ جیسے اس کی طویل گفتگو سے قاسم کبھی عاجز نہیں آیا تھا بالکل اسی طر ح اس کی خاموشی نے بھی اسے حیران کیا تھا نہ پریشان۔

”اوکے پھر میں چلتا ہوں“۔ وہ اپنا ناشتہ مکمل کر چکا تھا۔ چائے کی پیالی سے آخری گھونٹ بھرتے اس نے آج بھی انمول کے چہرے پہ لکھی ”خاموش شکایت“ کو نظر انداز کیا تھا ۔ بالکل اسی طرح جیسے اس کے حسین چہرے کی شادابی پہ کبھی نگاہ نہیں ڈالی تھی اور جس کا احساس اسے کافی دیر بعد ہوا تھا۔

ایک وقت تھا جب سارا دن مصروف رہنے کے باوجود بھی وہ شام ہوتے ہی قاسم کی آمد سے پہلے خوب بناو ¿ سنگھار اور بہترین لباس میں ملبوس اس کا استقبال کرتی تاکہ کبھی اسے اپنی تھکن کا احساس نہ ہونے دے ۔ قاسم ایک نفیس اور خوش لباس انسان تھا۔ اسے اپنی چیزوں میں ترتیب پسند تھی۔ اس کے پاس سے ہمیشہ ہی اس کے مخصوص کلون کی ہلکی سی مہک آتی تھی۔ انمول بھی خود کو اس کے معیار کے مطابق رکھنا چاہتی تھی۔ سلیقے سے کیا میک اپ، بہترین لباس اور خوشبوو ¿ں سے مہکتا وجود ۔۔۔وہ جیسے خود کو قاسم کے سانچے میں ڈھالنے کی کوشش کرتی تھی۔ قاسم نے کبھی نہیں کہا تھا کہ وہ انمول کو اس انداز میں دیکھنا چاہتا ہے پر ٹوکا بھی نہ تھا۔ وہ سراہتا نہیں تھا تو منہ بھی نہیں بناتا تھا۔ انمول کو لگتا تھا اس کی چیزوں کا خیال رکھنا، گھر کو اچھے سے سنبھالنا، اس کا ترتیب و سلیقہ یقینناََ قاسم کو خوشی دے گا۔ قاسم نے کبھی لفظوں میں اپنی خوشی کا اظہار کیا تھا نہ ہی انمول کی حوصلہ افزائی کی تھی لیکن اس کا انمول کے ساتھ ایڈجسٹ کر لینا ہی اس کے لئے کسی دلیل سے کم نہیں تھا ۔

اور پھر یہ سلسلہ ایک دن رک گیا تھا۔ انمول پہ آگہی کا ایک نیا در وا ہوا تھا۔ اسے قاسم کا رویہ، اس کی خاموشی، اس کا لگا بندھا مزاج اور اپنے کام اور ذمہ داریوں میں حد درجہ انوالو رہ کر خود انمول کی ذات کو نظر انداز کرنا چبھنے لگا تھا۔ اس نے خود کو قاسم کے لئے سنوارنا چھوڑ دیا تھا۔ قاسم کو خوشی دینے کے لئے گھر میں ہلکان ہونا ختم کر دیا تھا۔ اب وہ قاسم کی گھر آمد سے پہلے بھاگ بھاگ کر کچن میں پڑے میلے برتن نہیں دھوتی تھی بلکہ اپنی فرصت کے مطابق کرتی تھی۔ اس بات کی بھی پرواہ بھی کم کر دی تھی کہ قاسم کو نفاست و ترتیب پسند ہے البتی اب بھی اس کے سب کام وہ احتیاط سے ہی کرتی تھی لیکن اس میں پہلے سا شوق نہیں رہا تھا۔

 جس دن اس پہ یہ راز منکشف ہوا تھا کہ قاسم کو اس کی پرواہ نہیں اس نے قاسم کی پسند و ناپسند کی پرواہ کرنا چھوڑ دی تھی لیکن افسوس اسے تو انمول کے اس احتجاج سے بھی اختلاف نہیں ہوا تھا۔ مرد کا سراہنا اس کی تھوڑی سی بھی توجہ عورت کے لئے انرجی ڈرنک کی حیثیت رکھتی ہے ۔ جب تک وہ یہ معمولی سی تھپکی پاتی رہے چارج رہتی ہے۔ اپنی ہمت اور بساط سے بڑھ کر محنت کرتی ہے۔ شوہر کی بیگانگی ہمت توڑنے لگتی ہے ۔ اسے ناکارہ کرنے لگتی ہے۔ خود اپنا آپ بھی بوجھ لگنے لگتا ہے اور انمول کے لئے تو پچھلے چند ماہ سے زندگی ہی بوجھ بن گئی تھی ۔ شائد اسی تناو ¿ سے بچنے کی خاطر اس نے یونیورسٹی میں دوبارہ ایڈمیشن لیا تھا کہ کسی طرح تو نارمل ہوپائے۔اور واقعی وہ خود کو بہتر محسوس کر رہی تھی۔ دھیان ایک لگی بندھی اور مایوس روٹین سے ہٹ کر دوسری طرف لگا تھا تو قاسم کا رویہ بھی بس وقتی تکلیف دیتا تھا لیکن آج کا دن مختلف تھا۔ آج یونیورسٹی کا آف تھا تو اب باقی کا سارا دن اسے اس خالی مکان میں تنہا اور بوجھل وجود کے ساتھ گزارنا تھا۔

اس نے بے دلی سے میز پہ پڑے ناشتے کے خالی برتن اٹھائے اور کچن کی طرف بڑھ گئی۔

٭٭٭

”وہ دیکھو کون آرہا ہے“۔ رابعہ نے اس کی کمر میںکہنی مارتے اس کا دھیان سامنے سے آتے علی کی طرف دلایا تھا۔ وہ دونوں لائبریری سے نکل رہی تھیں جب وہ اپنے مخصوص لباس میں ڈیپارٹمنٹ کی بلڈنگ کی طرف جاتا دکھائی دیا۔ سفید کاٹن کا کرتا، گھسی ہوئی جینز اور پیروں میں سیاہ پشاوری سینڈل ۔اس اوٹ پٹانگ حلیے کے باوجود وہ پرکشش لگ رہا تھا۔

”لیکن ابھی تو کلاس ختم ہوگئی پھر یہ ڈیپارٹمنٹ کی طرف کیوں جا رہا ہے؟ “ ہاتھ میں پہنی اپنی نفیس اور قیمتی گھڑی میں وقت دیکھتے اس نے رابعہ کے کان میں سرگوشی کی تھی۔ اپنا چھوٹا سا بیگ کندھے پہ لٹکائے وہ سر جھکائے آج بھی نگاہ اٹھائے بغیر ان کے پاس سے گزر گیا تھا۔

”ایکسکیوز می!“ ان دونوں کو ہی اس وقت اس کی آمد پہ تجسس ہورہا تھا ۔ رابعہ کی آواز پہ وہ چونک کر رکا اور حیرانی سے ان دونوں کی طرف دیکھا اور یہ حیرانی تو اسے بھی ہوئی تھی کیونکہ وہ رابعہ سے اس احمقانہ پن کی امید نہیں کر رہی تھی جو بناءجان پہچان اسے روک کر کھڑی ہوجائے گی لیکن افسوس وہ اسے کچھ کہہ نہیں سکتی تھی کیونکہ اب سامنے علی کھڑا تھا تو بس لب کاٹتے نظریں جھکا لیں۔

”آپ مجھ سے مخاطب ہیں؟“ وہ تحیر سے بولا۔ حالانکہ وہ ان کا کلاس فیلو تھا لیکن کبھی بات چیت نہیں ہوئی تھی شائد اسی لئے وہ بھی حیران تھا کہ یوں اچانک راستے میں اسے روکا گیا تھا۔ ویسے تو اسے پوری یونیورسٹی جانتی تھی۔ وہ کلاس کا سب سے ذہین اسٹوڈنٹ ہونے کے ساتھ ساتھ لٹریچر ڈیپارٹمنٹ کے سب ہی اساتذہ کی آنکھ کا تارہ تھا اور اس کی یہاں بے شمار دوستیاں تھیں۔ اکثر اس کے نوٹس مانگنے اس تک پہنچ جاتے تو چند اس سے کوئی مخصوص موضوع سمجھنے اس کے گرد جمع ہوتے۔ وہ بناءماتھے پہ بل ڈالے سب کی مدد کرتا ۔ اس کے گرد اکثر لڑکے لڑکیوں کا جھمگٹا رہتا جس کی بنیادی وجہ اس کے وہ نوٹس تھے جو دھڑا دھر کاپی ہوا کرتے تھے۔

”یونیورسٹی کا ٹائم تو ختم ہوچکا ہے پھر آپ اس وقت یہاں؟“ رابعہ نے مسکراہٹ چہرے پہ سجائے بے تکلفی سے پوچھا جبکہ پیچھے کھڑے خود اس کا شرمندگی کے مارے برا حال ہورہا تھا۔ وہ اتنے دوستانہ انداز میں علی سے سوال کر رہی تھی جیسے اس سے دیرینہ تعلق ہو۔ اب اتنے قلیل وقت میں ڈیپارٹمنٹ کے سب لوگوں سے جان پہچان تو ہو نہیں سکتی۔ وہ بھی اپنے کلاس فیلوز سے ابھی ناموں کی حد تک ہی واقف تھی ماسوائے علی کے جس کی شہرت اوائل دنوں میں ہی اس تک اس کی غیر معمولی ذہانت کی بدولت اس کے کانوں تک پہنچی تھی۔ جن چند ایک سے اس کی دوستی ہوئی تھی ان میں رابعہ سرِ فہرست تھی۔علی سے بھی اس کا تعارف نام کی حد تک ہی تھا لیکن اس کی ذات میں تجسس نام سے بڑھ کر ہونے لگا تھا اور اسی لئے چند ایک بار اس نے رابعہ سے علی کے حوالے سے ذکر کیا تھا ۔ اب یہ رابعہ کی زیرک نگاہ تھی جو اس نے اس کے فطری تجسس میں پوشیدہ پسندیدگی کی جھلک کو تاڑ لیا تھا اور جان بوجھ کر گاہے بگاہے اس کا نام گفتگو میں شامل کرنے لگی تھی۔ ہر بار علی کا نام سن کر اس کے گالوں کی گلابی رنگت رابعہ کے اندازے پہ یقین کی مہر ثبت کرتی تھی کہ وہ اسے کافی پسند کرتی ہے۔

”پرسوں ہورہی شامِ سخن کے سلسلے میں مجھے دراصل ثقلین صاحب سے ملنا تھا“۔ اس کے چہرے کا تحیر ، تحمل میں بدلا تھا اور اس نے سنجیدہ پر مو ¿دبانہ انداز میں انہیں اپنی اس وقت آمد کا مقصد بتایا تھا۔ انداز بے حد عام سا تھا پر پیچھے کھڑے اس کے وجود میں گھنٹیاں بجنے لگی تھیں۔

”اچھا تو آپ ان کے ساتھ آرگنائزر ہیں“۔ رابعہ نے بات بڑھانے کی خاطر کریدا۔ اس کی اوٹ میں وہ اب بھی سر جھکائے خاموش کھڑی اپنی سینڈل کو سمینٹ کے فرش پہ رگڑ رہی تھی۔ اس کی گرفت سینے سے لگی فائل پہ اتنی شدید تھی جیسے یہ خوف ہو کہیں جذبات کے زور سے وجود بہہ نہ جائے۔

”جی نہیں میں” شرکاء“میں سے ہوں “۔ اس نے مزید کہا تو رابعہ نے متاثر کن انداز میں سر ہلایا۔علی کو لگا شائد اب گفتگو موقوف ہوئی لہذا آگے کو قدم بڑھائے ۔

”کیا ہم بھی سننے آسکتے ہیں؟“ علی نے جاتے جاتے رک کر ان کی طرف دیکھا۔ وہ اب بھی اس کی طرف دیکھنے سے گریزاں تھی۔ ناخن سے ہاتھ میں پکڑی فائل کا کور کھرچتے اس کی نگاہیں جھکی ہوئی تھیں۔

”ضرور۔ کیوں نہیں۔۔۔یہ شامِ سخن پورے ڈیپارٹمنٹ کے لئے ہے۔ کل صبح نوٹس بورڈ پہ نوٹس بھی لگ جائے گا“۔ اس بار علی نے بھی اسے گہری نگاہوں سے دیکھا تھا اور اب کہ وہ براہِ راست جیسے اسی سے مخاطب تھا۔ خود پہ ٹکی اس کی نظروں کو محسوس کرتے اس نے بھی پلکیں اٹھائیں اور پھر نگاہوں کے اس تصادم نے جذبوں میں طوفان برپاءکیا تھا۔ ان گہری سیاہ آنکھوں سے جھلکتی ذہانت اور چمک میں ایک نیا رنگ نمودار ہوا تھا۔۔۔۔۔۔ ستائش کا رنگ۔ جو بھوری آنکھوں نے شرماتے ہوئے موصول کیا تھا۔ وہ چاہ کر بھی اس بار نظریں چرا نہیں سکی تھی اور پھر علی کے ہونٹوں پہ بے ساختہ مسکراہٹ نمودار ہوئی۔

 بناءکچھ کہے وہ آگے بڑھ گیا جبکہ وہ خود رابعہ کی اوٹ میں کھڑی اب بھی ان نظروں کے حصار میں تھی۔ وہ اب نظروں سے اوجھل ہوچکا تھا کہ جب وہ ہوش میں آئی اور پاس کھڑی رابعہ پہ بگڑی۔

”میں نہیں جاو ¿ں گی رابعہ“۔اس نے فوراََ ہی انکار کر دیا تھا۔

”لیکن کیوں؟“رابعہ کو شدید حیرت نے آگھیرا۔ اسے تو لگا تھا یقینناََ وہ بے تحاشہ خوش ہوگی۔

”یار مجھے یہ سب ٹھیک نہیں لگ رہا پھر گھر پہ بھی کیا کہوں گی“۔وہ الجھے سے انداز میں بولی حالانکہ رابعہ جانتی تھی یہ فقط بہانہ ہے کیونکہ اسے ایسے ایونٹس کے لئے اجازت درکار نہیں ہے۔

”ہمارے ڈیپارٹمنٹ میں مشاعرہ ہے اور بس“۔بات سادہ تھی لہذا سادگی سے ہی کہی گئی تھی۔

 پتا نہیں کیوں مجھے اس کی نظروں سے خوف آرہا ہے۔ روح کے اندر جھانکنے کی صلاحیت رکھتی ہیں “۔وہ اب تک خود پہ مرکوز اس کی گہری نگاہوں سے اپنے اندر ہورہی جھنجھناہٹ پہ تشویش میں مبتلا تھی۔ وہ چلا گیا تھا لیکن اپنا احساس وہیں چھوڑ گیا تھا۔

”حد ہوگئی یار۔۔۔۔یہ بھی بھلا کوئی توجیح ہے اسے avoidکرنے کی؟“رابعہ کوفت سے بولی۔ اسے لگا اس کی ساری محنت اکارت گئی ہے۔ بجائے خوش ہونے کے یہاں تو پریشانی کے آثار نمایاں ہیں۔

”تم سمجھ کیوں نہیں رہی ہو رابعہ یا شائد میں تمہیں سمجھا نہیں پا رہی“۔ دائیں ہاتھ کی انگلیوں سے چہرے پہ آئی لٹوں کو سلجھاتے اس نے بے بسی سے کہا۔

”تم خود سمجھنے کی پوزیشن میں نہیں ہو مائی ڈئیر۔ “رابعہ نے اس کے کندھے کو تھپکتے تسلی دی۔

”خیر میرے حساب سے تو یہ کوئی اتنی بڑی بات نہیں تھی۔ وہاں ہمارے علاوہ بھی پچاسیوں اسٹوڈنٹ ہوں گے اور شائد اسے تو خبر بھی نہ ہو کہ ہم ہال میں موجود ہیں بھی یا نہیں“۔بڑبڑاتے ہوئے وہ آگے بڑھ گئی جبکہ پیچھے وہ اب تک کنفیوز کھڑی لب کاٹ رہی تھی۔

٭٭٭

اتوار کا دن اکثر گھر کے ان کاموں کی نظر ہوا کرتا تھا جو یونیورسٹی کی وجہ سے رکے رہتے تھے اور آج انہی کی باری تھی۔ اس کی الماری ان دنوں بری طرح” میس اپ“ (بکھری) تھی کہ ایک چیز نکالنے پہ چار باہر آگرتی تھیں۔ پچھلے کچھ دنوں سے اس کا سارا دھیان اپنے مقالے پہ لگا ہوا تھا یہاں تک کہ چھٹی کے دن بھی وہ اسی کی ریسرچ میں مصروف رہتی تھی۔ لیکن آج یہ کام اس کی پہلی ترجیح تھا۔ بھلے قاسم نے کبھی ٹوکا نہیں تھا خاص طور پہ جب سے اس نے یونیورسٹی جوائن کی تھی وہ بہت کم اسے ڈسٹرب کرتا تھا لیکن پہلے بات فقط کورس تک محدود تھی۔ یہ آخری سمیسٹر تھا اور اسے ایک مقررہ مدت میں اپنا تھیسس مکمل کرکے جمع کروانا تھا جو اس کی اتنے سالوں کی محنت کا نچوڑ تھا اور جس کی وجہ وہ پچھلے کئی دنوں سے کافی overwhelmedتھی ۔ خود قاسم کی مصروفیات تو ہمیشہ سے تھیں جن میں انمول کو مخل ہونے کی اجازت نہیں تھی لیکن انمول جہاں تک ممکن ہوتا اس کے سب کام آج بھی ذمہ داری سے ہی کرتی تھی۔ ہاں پہلے ان میں شوق کا عنصر ہوتا تھا تو آج احتیاط غالب تھی۔

 ”کیا ہورہا ہے؟“قاسم کی آواز پہ اس نے سر اٹھایا۔وہ عام سے انداز میں سوال کرتا اس کے پاس رکھی خالی کرسی پہ آکر بیٹھ گیا تھا۔

”نوٹس بنا رہی تھی کچھ ریفرینس اکٹھے کر رہی تھی‘۔دن تو کام کی نظر ہوا تھا اور اب سہ پہرکو چائے کا کپ تھامے وہ اپنی فائل اور کتابیں لئے باہر آکر بیٹھ گئی۔ موسم میں خنکی ان دنوں دم توڑنے لگی تھی اور اب ڈھلتے سورج کی نرم گرم کرنوں کے ساتھ یہ پل بدن کو تمازت دیتے تھے۔ اسے وہاں بیٹھتا دیکھ کر انمول نے ہاتھ میں پکڑ ا قلم کتاب میں رکھا اور کتاب کو فائل کے اندر رکھ کر بند کرتے ہوئے سامنے پڑی میز پہ رکھ دیا۔

”ہممم۔ گڈ“۔قاسم سوچتے ہوئے بولا۔ انمول پوری طرح متوجہ تھی ۔ جانتی تھی وہ یونہی بے سبب آکر اسے اسٹڈی کے دوران ڈسٹرب نہیں کرتا۔ یقینناََ کچھ اتنا اہم تھا جو وہ اس سے مخاطب تھا۔ اسے کچھ تشویش بھی تھی لیکن قاسم کا چہرہ دیکھ کر تو کبھی وہ اس کے اندر کا حال جان ہی نہ پائی تھی تو پھر آج کس طرح اس کا بھید سمجھ پاتی۔

ان دونوں کی شادی ”ارینج“ تھی۔ انمول اور قاسم کے والد پرانے دوست تھے اور یہی دوستی ان کے رشتے کی بنیاد بنی تھی۔ انمول ان دنوں ”ایم فل“ کر رہی تھی جبکہ قاسم نے ایم بی اے کے بعد کچھ عرصہ جاب کی اور حال ہی میں اپنا بزنس شروع کیا تھا۔ رشتہ طے ہونے سے پہلے دونوں کے درمیان بس نام کی حد تک جان پہچان تھی تو رشتہ ہونے کے بعد ان دونوں نے ایک دوسرے کو پہلی بار سب کی موجودگی میں دیکھا تھا۔ قاسم ایک وجیہہ مرد تھا ، کسی بھی لڑکی کی پسند ہوسکتا تھا اس لئے انمول کو بھی اچھا لگا تھا تو دوسری طرف انمول میں بھی کوئی ایسی خامی نہ تھی جس کی بناءپہ اس رشتے سے انکار کیا جاتا۔ وہ خوبصورت تھی، اچھے گھرانے سے تعلق رکھتی تھی۔ ویل کوالیفائیڈ تھی ۔ قاسم اسے کس بناءپہ ریجیکٹ کرتا لہذا بڑوں کی خواہش کو عملی جامہ پہناتے ان دونوں کی شادی ہوگئی تھی اور شادی کے بعد زندگی کا آغاز بالکل ویسا ہی تھا جیسا دو باشعور اور دنیاوی سمجھ بوجھ رکھنے والے لوگوں کی زندگی کا ہوا کرتا ہے۔ قاسم کا مزاج دھیما تھا۔ وہ بہت باتونی نہیں تھا اور بلاوجہ باتوں کو الجھانا یا جھگڑا کرنا اس کی فطرت کا حصہ نہیں تھا۔ البتہ اس پہ کام کا شدید بوجھ تھا جو کہ اس نئے نئے پنپتے کاروبار کی وجہ سے اتنا زیادہ تھا کہ شادی کے بعد وہ انمول کو کہیں گھومانے پھرانے بھی نہیں لے کر گیا تھا۔ انمول کی اپنی طبیعت میں شکوے شکایات کا عنصر نہیں تھا۔ اس کی زندگی کی سب سے بڑی تمنا ایک پڑھے لکھے اور باشعور انسان کا ساتھ تھا جو قاسم کی صورت پورا ہوا تھا۔ وہ بہت زیادہ ڈیمانڈنگ نہیں تھی اور اس نے قاسم کی مصروفیت اور کسی حد تک لاپرواہی کو بھی خوشدلی سے نظر انداز کیا تھا۔ وہ طبعاََ رومانیت پسند تھی۔ چھوٹی چھوٹی باتوں سے خوشیاں تلاش کرتی تھی۔بدلتی رتوں اور کھلتے پھولوں کو دیکھ کے نہال ہوجاتی تھی۔۔۔۔ اسے قاسم کے کیش فلو اسٹیٹمنٹ کو دیکھ کر ماتھے پہ پڑتی سلوٹیں سمجھ نہیں آتی تھیں ۔ قاسم بیلنس شیٹ کے عدد گننے میں اتنا مصروف تھا کہ وہ انمول کی تشنگی کا شمار ہی نہ کر پایا۔

”اچھا سنو میں کل صبح ایک میٹنگ کے سلسلے میں کراچی جا رہا ہوں۔ کم سے کم ایک ہفتہ لگ سکتا ہے“۔بالآخر وہ اصل مدعے پہ آہی گیا تھا۔

”اچانک؟؟؟؟“انمول کو حیرت کے ساتھ پریشانی نے آگھیرا تھا وہ کبھی اتنے عرصے میں قاسم کے بغیر گھر پہ اکیلی نہیں رہی تھی۔ قاسم کام کے سلسلے میں اگر کبھی شہر سے باہر گیا بھی تھا تو حد سے حد رات تک واپسی ہوجاتی تھی۔

 کچھ اس لئے بھی انمول کا انحصار قاسم پہ تھا کیونکہ وہ شادی کے بعد جوائینٹ فیملی کی بجائے الگ رہتے تھے ۔ اس سے بڑا بھائی بھی اپنی فیملی کے ساتھ الگ گھر میں مقیم تھا جبکہ چھوٹا بھائی اور ایک بہن والدین کے ساتھ رہتے تھے۔ بڑے بیٹے کی طرح قاسم کے والد نے اسے بھی شادی کے بعد الگ رہائش کا بندوبست کرنے کی تنبیہہ پہلے ہی کر دی تھی۔ اس کا کام اچھا تھا لیکن ابھی اپنے پیروں پہ اس انداز میں نہیں کھڑا ہوا تھا کہ الگ گھرداری کا مالی بوجھ سہار سکتا پھر بھی اسے اپنا سیٹ اپ بنانا پڑا تھا۔ یہی وجہ تھی کہ اس پہ ذمہ داریوں کا بوجھ زیادہ تھا۔

”کنسلٹنٹ کا ایک گروپ آیا ہوا ہے اور بدقسمتی سے وہ لوگ یہاں نہیں آرہے تو مجھے ہی ان سے ملنے جانا ہوگا“۔وہ خود بھی فکرمند تھا لیکن اتنی تسلی تھی کہ پیچھے انمول اور خود اس کی فیملی اس کا خیال رکھیں گیں۔ وہ چاہتا تو انمول کو اس کے میکے میں رکنے کا مشورہ بھی دے سکتا تھا لیکن وہ یہ بات انمول پہ مسلط کرنے کی بجائے اس کے ایما پہ چھوڑنا چاہتا تھا۔ ویسے بھی اپنی مجبوری کے تحت بیوی کو اس کے میکے چھوڑنے کی سوچ اسے مناسب نہیں لگ رہی تھی پھر اگر انمول جانا چاہے تو وہ ایک الگ صورتحال ہوتی۔

”تم فکر نہ کرو یوٹیلٹی بل آج صبح ہی میں نے سب جمع کروا دئیے تھے۔ کچھ پیسے تمہاری دراز میں رکھے ہیں اور ایک سائن ہوا چیک میری دراز میں رکھا ہے۔ ایمرجنسی ہو تو نکال لینا “۔وہ اپنی طرف سے اسے تسلی دیتا ان تمام مالی انتظامات کے متعلق سنجیدگی سے بتا رہا تھا ۔

”قاسم آپ ایک ہفتے کے لئے جا رہے ہیں پھر اتنے سب انتظامات کی کیا ضرورت ہے۔ اتنے پیسے تو میرے پاس بھی ہیں “۔انمول کو ان باتوں کی پریشانی تھی ہی نہیں۔ اس کی تشویش قاسم کی غیر موجودگی تھی۔ تحفظ کا وہ احساس تھا جو اس کی رات میں موجودگی دیتی ہے۔ نا چاہتے ہوئے بھی اس کی گھر آمد سے پہلے انمول کی نظریں وال کلاک کی طرف بار بار اٹھتی تھیں اور جیسے جیسے وقت گزرتا اس کا دل بھی گھڑی کی سوئیوں کی طرح دھڑکنے لگتا تھا۔ اب اتنے دن اس کے بغیر رہنے کی سوچ ہی اس وقت اسے بے چین کر رہی تھی۔

”پھر بھی کوئی نہ کوئی ضرورت پڑ ہی سکتی ہے“۔اس نے سر نفی میں ہلاتے کہا۔

”ضرورت ہو تو امی سے مانگ سکتی ہوں میں“۔انمول نے تو بس یونہی اس کی تسلی کے لئے کہا تھا لیکن قاسم کو اس کی بات ناگوار گزری تھی۔

” تم میری ذمہ داری ہو انمول اور تمہاری ضرورتوں کو مجھے ہی پورا کرنا ہے“۔وہ ناراض نہیں تھا لیکن انداز میں ناپسندیدگی تھی لیکن انمول تو اس کے لفظوں میں الجھی اس وقت کسی اور ہی سوچ کے حصار میں تھی۔ وہ اس کی ضرورت ”پیسوں“ کو سمجھ رہا تھا جبکہ انمول کے نزدیک اس کا ”ساتھ“ سب سے اہم تھا۔ شائد مرد اور عورت کی سوچ کا بنیادی فرق ایک اسی نقطے پہ آکر رک جاتا ہے۔ مرد کے نزدیک دنیا کا ہر کام اس کی اولین ترجیح ہوتا ہے جبکہ عورت کے نزدیک اس کی ” توجہ “ اور ”وقت“ اہمیت کا حامل ہوتا ہے ۔ یہ اور بات اپنے ”وقت “ کی تقسیم کرتے کوئی بھی مرد اس کا ایک ”جز“ ہی عورت کی جھولی میں ڈال سکتا ہے اس کا ”کل“ ہمیشہ اس کی ذمہ داریوں کی نظر ہی رہتا ہے یہاں تک کہ خود اس کی اپنی ذات بھی اس کی سب سے کم حصہ دار بن پاتی ہے۔

”کاش آپ جان سکتے قاسم میری ”ضرورت“ کبھی صرف آپ ہوا کرتے تھے“۔بے اختیار اس کے لبوں سے نکلا تھا۔ اس کی طرف دیکھتے ، انگلیوںکے ناخن کھرچتے اس کی سرگوشی اتنی دھیمی تھی کہ قاسم کچھ سمجھ نہیں پایا تھا۔ شائد اس کا دھیان کسی اور طرف تھا البتہ اس وقت وہ دیکھ انمول کو ہی رہا تھا جو خود بھی اسی کو دیکھ رہی تھی۔

”کیا دیکھ رہی ہو؟“بے اختیار اس نے سوال کیا تھا۔

”کچھ نہیں“۔قاسم ریلیکس سے انداز میں کرسی کی پشت سے ٹیک لگائے اب اسے کچھ ہدایات دے رہا تھا ۔ انمول بناءکچھ کہے سر ہلاتی اس کی بات سنتی رہی۔ وہ دو الگ سیاروں کے لوگ تھے، دو الگ فطرتوں کے ساتھ پیدا ہوکر پروان چڑھے۔ ایک ہوکر بھی ایک جیسے نہیں ہوسکتے تھے لیکن ایسا بھی کیا کہ ایک ہی چھت تلے رہتے وہ اس سے اتنا بیگانہ ہوجاتا کہ مجبوراََ انمول کو بھی بے پرواہی کا لبادہ اوڑھنا پڑتا۔ قاسم کے رویے کے قلق کو ختم کرنے کی خاطر ہی انمول نے آگے پڑھنے کا فیصلہ کیا۔ وہ اس روٹین سے ”تھک “ چکی تھی اور نہیں چاہتی تھی زندگی بے مصرف اور بیکار گزر جائے۔ ”ایم فل“ کے بعد ”پی ایچ ڈی“ ویسے بھی اس کا دیرینہ خواب تھا اور قاسم کو اس بات سے ہرگز اعتراض نہیں تھا اور یہ ایک طرح سے اس کے حق میں اچھا ہی تھا کہ انمول کو کوئی ایکٹیوٹی مل گئی تھی لیکن وہ نہیں جانتا تھا یہ اس کے حق میں کتنا برا ثابت ہونے والا تھا۔

٭٭٭

وہ ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے کھڑی ہاتھ میں پکڑے اس سیاہ مخملی باکس کو عجیب نظروں سے دیکھ رہی تھی۔اسے یہ باکس آج الماری کی صفائی کے دوران ملا تھا جسے کچھ عرصہ پہلے اس نے بیکار سمجھ کر پھینک دیا تھا۔ آج کئی ماہ بعد اس کو دوبارہ دیکھتے ذہن کے پردے پہ ایک حسیں یاد نے دستک دی تھی۔

”ہیپی برتھ ڈے انمول“۔ستارہ کی آواز پہ چونک کر اس نے دیکھا۔ ہاتھ میں ایک خوبصورت ریپر میں لپٹا گفٹ تھامے وہ اس کی طرف بڑھی تھی۔

”تھینک یو سومچ ستارہ۔ کیا ہے اس میں؟“پیکٹ کو الٹ پلٹ کر دیکھتے انمول نے تجسس سے پوچھا تھا۔

”خود ہی کھول کر دیکھ لو“۔اپنی اکلوتی کزن اور عزیز از جان دوست کی بات پہ مسکراتے اس نے احتیاط سے ریپر پہ لگی ٹیپ اتارنا شروع کی لیکن سیاہ مخمل کے کور سے نکلی شے کو دیکھ کر اس کا منہ حیرت سے کھلا رہ گیا تھا۔

”میک اپ کٹ؟“

”تمہیں پتا تو ہے یار مجھے میک اپ وغیرہ کا کوئی خاص شوق نہیں ہے۔ کرنا بھی نہیں آتا مجھے میک اپ پھر کیا ضرورت تھی خوامخواہ اتنے پیسے خرچ کرنے کی“۔وہ کچھ کچھ بد دل ہوئی تھی۔ جیسے اسے اس تحفے کی تو ہرگز امید نہ تھی۔

”کرو گی تو آئے گا نا پاگل لڑکی۔ “ستارہ نے اس کے سر پہ ہلکی سی چپت رسید کرتے نرمی سے کہا اور خود ہی وہ میک اپ باکس کھول کر اسے دکھانے لگی۔ ستارہ شادی کے بعد پہلی بار پاکستان آئی تھی اور ان دنوں ا نمول کی تازہ تازہ منگنی کی خبر سے شاد تھی۔ شائد اسی موقع کی مناسبت سے اس نے انمول کو وہ میک اپ باکس دیا تھا لیکن انمول کی دلچسپیاں الگ تھیں۔ وہ ہمیشہ سے کتابی کیڑا تھی اور خود کو اسی تخیل کی دنیا میں رکھ کر خوش رہتی تھی۔

”اب کیا تمہارے لئے کتاب لے آتی تحفے میں۔ وہ بھی تمہارے فیورٹ ” فرہاد “صاحب کی“۔وہ تمسخرانہ ہنسی ہنستی اس کے پاس بیٹھ گئی۔ اچھی طرح واقف تھی انمول کا پہلا اور آخری شوق ادب اور شاعری ہے اور اپنے اسی شوق کی تسکین کی خاطر اس نے لٹریچرکو چنا ۔ انمول نے بھی فی الفور سر ہلا کر اعتراف کیا تھا۔

”کتنی کتابیں اکٹھی کرو گی یار۔ پڑھ پڑھ کر دماغ خراب ہوجاتا ہے محترمہ اور کچھ نہیں تو اپنے اس ہونے والے میاں پہ رحم کھاو ¿۔ سجنا سنورنا شروع کرو۔ اب کیا اسے صبح شام کتابیں پڑھ پڑھ کر سنایا کرو گی“۔ان دنوں اس پہ ایک نئے شاعر کی شاعری پڑھنے کا جنون سوار تھا۔ یہ اتفاق تھا کہ کچھ کتابوں کی خریداری کے لئے اس کا بک شاپ جانا ہوا اور وہاں اسے ” فرہاد عالی “کے نام سے منسوب ایک شاعری کی کتاب نظر آئی۔ کتاب کا سرسری جائزہ لیتے اسے اچھی طرح اندازہ ہوگیا تھا کہ یہ کوئی معمولی الفاظ نہیں ہیں بلکہ ان میں کچھ ایسا ہے جو دل کو چھو جانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس وقت بلا توقف ہی اس نے وہ کتاب خرید لی تھی اور بعد ازاں اس میں شامل مختلف نظمیں اور اشعار وہ اکثر ستارہ کو میسیج کیا کرتی تھی۔ خود ستارہ بھی اس کے کلام سے متاثر تھی لیکن وہ انمول کی طرح اسے دل سے لگائے نہیں بیٹھی تھی۔

”ہاں وہ تو جیسے میرے ہی سجنے کے منتظر ہیں“۔ اسے سوچ کر ہی ہنسی آگئی تھی۔ منگنی کے بعد اس کی کبھی قاسم سے رسمی و غیر رسمی گفتگو نہیں ہوئی تھی۔ یہ منگنی بھی بس ایک رسمی کاروائی تھی کیونکہ شادی جلد ہونے والی تھی ۔ قاسم نے پہل نہیں کی تھی تو خود انمول کے ذہن میں بھی ایسی کوئی بات نہیں آئی تھی کہ ان دونوں کا کچھ تو رابطہ ہونا چاہئیے بلکہ اسے لگتا تھا یہ ایک طرح سے اچھا ہی ہے کہ کچھ اسرار باقی رہے اور ایک دوسرے کو سمجھنے کا آغاز ساتھ رہتے ہوئے ہو۔

”بھئی شوہر کے لئے سجنے سنورنے کا حکم تو دین میں بھی ہے۔ اور پھر تم پریشان زلفیں، آنکھوں کے گرد پڑے سیاہ حلقوں کے ساتھ کسی کتاب کے ایموشنل سین پہ آنسو بہاتی اپنے شوہر کو نظر آو ¿ گی تو کیا گزرے گی اس بیچارے کے دل پہ“۔ستارہ کے ڈرامائی انداز پہ تو وہ ہرگز داد دئیے بنا نہیں رہ پائی تھی۔

”اب ایسی بھی کوئی بات نہیں اور تم فکر مت کرو کچھ نہیں گزرتی اس کے دل پہ۔ میں ہوں نا ۔۔۔میں سنبھال لوں گی۔“وہ مزے سے بولی تھی۔

”یہ تو میڈم اس وقت پتا چلے گا جب وہ تم سے بے زار ہوکر کسی جھلمل کرتی حسین اور سجی سنوری دوشیزہ میں دلچسپی لینے لگے گا“۔ستارہ کا انداز ڈرانے والا تھا۔

”جو میرے ظاہر سے بڑھ کر میرے باطن کو چاہے ایسے شخص کو تو میںخود اٹھا کر اپنی زندگی سے باہر پھینک دوں گی۔ بھلا جس انسان میں رشتے نبھانے کی صلاحیت نہ ہو اس کے لئے میں اتنا تردد کیوں کرو“۔ اور ستارہ جانتی تھی کہ یہ وہ بات ہے جو عقل نہیں جذباتیت کی بناءپہ کہی جاتی ہے ۔

”یہ سب کتابی باتیں ہیں انمول انہیں کتابوں میں پڑھنا ہی اچھا لگتا ہے۔ رشتے اٹھا کر پھینکنے کی نہیں بلکہ سنبھالنے کے لئے ہوتے ہیں۔ شوہر کوئی گلا سڑا پھل نہیں میری جان جسے کچرے میں ڈال دو گی۔ وہ آپ کا نصف بہتر ہے۔ زندگی کا محور ہے۔ اپنے تعلق کو سجا سنوار کر دل سے لگا کر رکھنا“۔اس کا ہاتھ تھامے ستارہ نے بڑے پیار سے سمجھایا تھا۔ اس کی سنجیدگی کو دیکھتے خود انمول بھی حیران رہ گئی تھی ۔ وہ کچھ دیر خاموش اسے دیکھتی رہی اور پھر یکدم ہی ماحول کی سنجیدگی کو کم کرنے کی خاطر ہنس کر بولی۔

”یہ تم نے کہاں سے دادی اماں والی باتیں سیکھی ہیں بھئی“۔ستارہ نے بھی شرارت سے کندھے اچکائے ۔

”تجربہ بولتا ہے جانی“۔ اور اس وقت کی کہی ستارہ کی یونہی سی باتیں اپنے آپ انمول کی زندگی کا حصہ بنتی گئی تھیں ۔ اسے قاسم کے لئے سجنا سنورنا اچھا لگتا تھا تو یہ تعلق اس کے لئے دنیا کا سب سے اہم بندھن تھا۔ وہ اس کے بغیر زندگی کا تصور بھی نہیں کر سکتی تھی۔ وہ شخص کہ جس سے محض چند ماہ پہلے تک اس کی شناسائی نام سے بڑھ کر نہیں تھی نکاح کے دو بولوں کے بعد وہ اس کا کل جہان تھا۔ گو کبھی کہا نہیں تھا لیکن یہ سچ تھا انمول کو قاسم سے بے پناہ محبت تھی۔ کتابوں میں لکھے چاہت کے قصے وہ اپنے اور اس کے نام سے پڑھنے لگی تھی۔ تخیل کا ایک جہان تھا جو ان شعروں نے آباد کر دیا تھا جن میں بس عشق و عاشقی کی باتیں ہوا کرتی تھیں اور اس تخیل میں پرواز کرتا انمول کا وجود قاسم کے سنگ الگ ہی دنیا کی سیر کرتا تھا۔ لیکن پھر آنکھ کھلتے ہی حقیقت نے بڑی زور سے زمین پہ لا کے پٹخ دیا تھا۔ قاسم تو اب بھی وہی تھا ہاں انمول بدل گئی تھی اور شائد وہ محبت بھی۔ ایسا وہ سوچتی تھی۔

 ہوا سے باہر کا دروازہ بجا تھا۔ آواز نے اس کے دھیان کو منتشر کرتے اسے حال میں لا پٹخا تھا۔ آئینے میں دکھائی دیتے اپنے عکس کو دیکھ کر وہ خود ہی حیران رہ گئی تھی۔ کتنے کم وقت میں اس کا چہرہ مرجھا گیا تھا ۔ آنکھوں کے گرد حلقے گہرے ہورہے تھے۔ انگلی کی پوروں کو آنکھوں تلے پھیرتے اسے احساس ہوا تھا کہ یہ تبدیلی قبل از وقت ہے ۔وہ نیچرل خوبصورت تھی لیکن اس وقت اپنی عمر سے دس سال بڑی لگ رہی تھی اور اس کی وجہ وہ بے توجہی تھی جو ان دنوںانمول اپنی ذات کو لے کر کرنے لگی تھی۔ کچھ سوچتے ہوئے اس نے سیاہ مخمل سے میک باکس نکالا۔

جانے کیوں آج بہت دنوں بعد اس کا دل ایک بار پھر سجنے سنورنے کی ترغیب دے رہا تھا۔

آج وہ بے حد حسین لگنا چاہتی تھی۔

٭٭٭

تیرا حسن ہو میرا ”عشق ہو“

تو پھر حسن و عشق کی بات ہو

کبھی میں ملو ں کبھی تو ملے

کبھی ہم ملیں ملاقات ہو!

کبھی تو ہو چپ کبھی میں ہو چپ

کبھی دونوں ہم چپ چاپ ہوں

کبھی گفتگو کبھی تذکرے

کوئی ذکر ہو کوئی بات ہو

کبھی وصل ہو تو دن کو ہو

کبھی ہجر ہو تو وہ رات ہو

کبھی میں تیرا کبھی تو میرا

کبھی ایک دوجے کے ہم رہیں

کبھی ساتھ میں کبھی ساتھ تو

کبھی ایک دوجے کے ساتھ ہو!

”ایک بات پوچھوں؟“اپنے سوال کے جواب میں نگاہ اٹھا کر اس نے علی کی سمت دیکھا تھا۔رابعہ کو انکار کرکے بھی وہ خود کو آج شام یہاں آنے سے روک نہیں پائی تھی ۔ اگلے دن نوٹس لگنے کے بعد علی نے ایک بار خود بھی ان دونوں کو پرسنلی انوائیٹ کیا تھا۔ اس وقت رابعہ کے سمجھانے کے باوجود بھی اس نے منع کر دیا تھا ۔ وہ خود یہ سمجھنے سے قاصر تھی کہ جب اس کی شخصیت سے حد درجہ مرعوب ہے، اس میں اتنی دلچسپی لے رہی ہے تو یکایک اس کی توجہ پاکر کیوں پیچھے ہٹ رہی ہے ۔ رابعہ نے عاجز آکر سمجھانا ترک کر دیا تھا ۔ وہ خود بھی اسی کی وجہ سے مشاعرہ اٹینڈ کرنا چاہ رہی تھی اب جب وہی راضی نہیں تھی تو وہ کیا کرتی وہاں جاکر الٹا بوریت کا سامنا رہتا۔

 وہ خود آج صبح تک اپنی بات پہ قائم تھی لیکن شام ہوتے ہی بے اختیار اس کا دل بے چین ہوا تھا ۔ وہ اسے دیکھنا چاہتی تھی، سننا چاہتی تھی ۔ وہاں بہت سے دوسرے لوگوں کے درمیان بیٹھ کر یہ مشاعرہ سننا کوئی ایسا بڑا مرحلہ بھی نہ تھا ۔ اور وہ بہت آرام سے ایک خاموش سامع کی صورت واپس آسکتی تھی لیکن وہ اس سے ملے اسے سراہے بغیر پلٹ نہ سکی تھی۔

”کیا آپ نے کبھی کسی سے محبت کی ہے؟“یونیورسٹی گراو ¿نڈ کی پگڈنڈی پہ چلتے اس نے سر جھکائے دھیمے سروں میں پوچھا تھا جس پہ علی نے محض اثبات میں سر ہلاتے اسے اجازت دی تھی لیکن اب اس کے سوال پہ حیرت زدہ سا وہ اس کی طرف دیکھتا جیسے اسے سمجھنے کی کوشش کر رہا تھا۔وہ لمحہ بھر کو جھینپی اور پھر مزید بولی۔

”میرا مطلب تھا کہ آپ یہ جو شعرکہتے ہیں تو یقینناََ اس میں جذبات بھی شامل ہوں گے ۔ “انگلیاں مروڑتے اس نے صفائی دی تھی۔

 اس سے پہلے وہ فقط اس کی شخصیت کے حصار میں تھی آج اس کی شاعری نے دل کے تاروں کو چھوا تھا۔ وہ دونوں ہال سے پرے یونیورسٹی گراو ¿نڈ کی پگڈنڈی پہ ٹہلتے مین گیٹ کی طرف جا رہے تھے لیکن قدموںکی رفتار اتنی دھیمی تھی جیسے دل واپسی پہ رضامند نہ ہو۔ اس وقت سے ذہن کی گتھی الجھ رہی تھی اور دل عجیب مخمصے میں الجھا تھاشائد اسی لئے خود کو اتنے ذاتی سوال سے روک نہیں پائی تھی ورنہ ابھی اتنے مراسم ہی کب تھے کہ پہلی ملاقات میں نوبت یہاں تک آتی۔

”یعنی سازینہِ دل پہ چوٹ پڑی ہے جو صدا نکلی ہے۔“وہ بے اختیار ہنسا تھا البتہ وہ پھیکی مسکراہٹ لبوں پہ لائے اس کا ساتھ دینے میں ناکام رہی تھی۔ جانے کیوں خوف تھا کہ اس کا جواب ”ہاں“ ہوگا۔

”یہ سچ ہے کہ شاعری جذبات کی عکاس ہوتی ہے پر اس کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ غزل کہنے کے لئے لازم کسی لڑکی کی زلفوں کا اسیر ہونا پڑے“۔وہ شاعر تھا دریا کو کوزے میں بند کرنے کے ہنر سے واقف اور اب بھی اس نے انتہائی مختصر لفطوں میں اس کے دل کا بوجھ ہلکا کر دیا تھا۔شائد یہ آج کی شب کا سب سے حسین انکشاف تھا کیونکہ اسے سن کے تو کچھ ایسا ہی محسوس ہوا تھا۔

”تھینک گاڈ“۔وہ زیرِ لب بڑابڑائی۔

”کچھ کہا آپ نے؟“اس نے چلتے چلتے سوال کیا تھا۔

”کچھ نہیں۔۔۔کچھ بھی تو نہیں“۔اپنی بے ساختگی پہ شرمندہ اسے شدید گھبراہٹ نے آگھیرا تھا۔ جو اگر وہ سن لیتا تو کیا کیا بے نقاب ہوجاتا۔

”بہت خوبصورت شاعری کرتے ہیں آپ۔ احساس کے تاروں کو چھو جانے والی۔دل کی کیفیت کو کس طرح لفظوں میں اتنے حسین انداز سے بیان کر لیتے ہیں ؟“ اس نے بات بدلنے کی کوشش کی ۔ یہ سچ تھا کہ علی کے لفظوں کی حسین بازگشت اب تک کانوں میں رس گھول رہی تھی۔

”کہتے ہیں حسن ہمیشہ دیکھنے والے کی نظر میں ہوتا ہے۔ ایک شاعر کا کلام گر کسی کے جذبات کی ترجمانی کرنے لگے تو یقینناََ اس دل میں بڑے لطیف جذبے بستے ہیں“۔وہ چلتے چلتے رک گئے تھے اور ساتھ ہی فضا میں گونجتی اس کی ہیل کی آواز بھی تھم گئی تھی۔ ہاتھ سینے پہ باندھے وہ اسے مسکراتی نظروں سے دیکھے گیا یہاں تک کہ خود اسے نگاہ جھکانی پڑی۔

”آپ شاعر ہیںآپ سے بڑھ کر بھلا لفظوں سے اور کون کھیل سکتا ہے“۔اپنے کھلے بالوں کو انگلیوں سے عادتاََ سمیٹتے اس نے ایک بار پھر چلنا شروع کر دیا تھا۔ علی نے بھی قدم سے قدم ملایا۔ وہ آج بھی اسی سفید کرتے اور جینز میں تھا البتہ خود اس کی تیاری ہمیشہ سے بڑھ کر تھی۔ میرون سلک کا کرتا اس کے حسین سراپے کو اور بھی دلکش بنا رہا تھا۔ اس پہ سلیقے سے ہوا میک اپ اور جدید انداز میں کٹے بال اس کی شخصیت کو چار چاند لگاتے تھے ۔ کیا ستم آج اس ”اماوس“ کی رات میں جب آسمان ایک چاند سے بھی محروم تنہا ، اداس اور ویران تھا وہ خوش نصیب تھا اس کے سنگ چلتے اپنے حسن کی چاندنی بکھیرتا یہ مجسم ”چاند “تنہائیوں کا مداوا کر تاتھا۔

”آج سے پہلے مجھے کبھی اپنی کم مائیگی کا اتنا شدید قلق نہیں ہوا ۔ میں تو سمجھتا تھا میں بڑا زبان دراز ہوں یا پھر وہ لفظ ہی نہیں بنے جن سے آپ جیسی شگفتہ شخصیت کی تعریف کی جا سکے“۔اس کے لفظو ں میں صداقت کی رمق تھی ۔ تعریف کا انداز بھی اس کی طرح منفرد تھا اور آج سے پہلے کسی نے کبھی اس کی تعریف کرنے کی جرا ¿ت بھی کہاں کی تھی۔اس کا حسن اور ماڈرنزم اپنی جگہ لیکن اس کی آن بان اور سنجیدہ تاثرات کے سبب تو لڑکے بلاضرورت گفتگو سے بھی پرہیز کرتے تھے۔ وہ لفظوں کا جادوگر تھا ، لفظوں سے دل کو چھو رہا تھا۔

”آج اگر یہاں نہ آتی تو کچھ کھو دیتی“۔اپنے کیوٹکس لگے ناخنوں کو دانتوں سے کترتے اس نے موضوع بدلا۔

”اور میں تو کھو چکا ہوں“۔وہ چونکی۔

”کیا؟“ابرو اچکائے سوال کیا تھا۔

”اپنا دل“۔دایاں ہاتھ سینے پہ بائیں طرف رکھتے اس نے بے ساختہ کہا ۔ وہ ایک پل کو حیراں ہوئی اور اگلے ہی پل اس کی مسکراہٹ کے دام میں الجھی خود بھی مسکرا دی۔

”کلاس میں آپ اچھے خاصے سنجیدہ انسان نظر آتے ہیں“۔انداز ٹالنے والا تھا۔

”یقین جانیں میں اس وقت بے حد سنجیدہ ہوں“۔وہ مزید کچھ کہہ نہیں پائی۔ کہنے کو کچھ بچا بھی کہاں تھا کہ اب خاموشی گفتگو میں بدلنے لگی تھی۔ چلتے چلتے وہ دونوں اب پارکنگ میں کھڑی اس کی گاڑی تک پہنچ گئے تھے۔ ایک خوبصورت شام کا اختتام اس سے بھی زیادہ سحر انگیز تھا اور اگلی صبح تو ہر صبح سے روشن و چمکدار ہونے کی امید تھی کیونکہ دلوں میں محبت کے دئیے جل اٹھے تھے۔

٭٭٭

”ہیلو!“ایک غیر شناسا آواز کو اپنی قربت میں سن کر انمول چونکی اور پلٹ کر دیکھا۔ ایک مڈل ایج لیکن بے حد ہینڈسم اور باوقار شخصیت کے حامل انسان کو اپنی طرف متوجہ پاکر وہ اچھی خاصی حیران ہوئی تھی۔ ابھی کچھ دیر پہلے وہ لائبریری سے کچھ کتابیں ایشو کروا رہی تھی۔ قاسم کی غیرموجودگی کے سبب فرصت کچھ زیادہ ہی ہونے والی تھی۔ وہ خود آج صبح کی فلائیٹ سے کراچی چلا گیا اور پہنچ کر اس نے انمول کو انفارم بھی کر دیا تھا اور اب بقول اس کے اگلے کئی دن بے حد مصروفیت کے ساتھ گزرنے والے تھے لیکن وہ تو محض ان چند گھنٹوں میں ہی اسے بری طرح مِس کرنے لگی تھی۔ ایسے لگ رہا تھا جیسے سارا شہر ہی سنسان ہوگیا ہے یہ الگ بات دل اپنا اداس ہورہا تھا۔ قاسم نے جانے سے پہلے اسے کہا بھی تھا کہ بوریت ہو تو یونیورسٹی کے بعد اپنی امی کی طرف چکر لگا آئے۔ ویسے بھی اسے جلدی گھر جا کر کیا کرنا تھا وہ بھی اس صورت کہ آج اسے قاسم کے لئے ڈنر بھی نہیں بنانا تھا لیکن اس کا ایسا کوئی ارادہ نہیں تھا۔ قاسم کے بغیر بھی اس کا گھر چلتے پھرتے قاسم کا احساس دلاتا تھا ۔ یہی سوچ کر اس نے اپنی چند مطلوبہ کتابیں پکڑیں اور اب واپسی کا قصد کیا تھا جب پارکنگ کی طرف جاتے ایک اجنبی کی آواز نے اس کے قدموں کو روک دیا تھا۔

”میں پروفیسر رضوی ہوں۔ “ ان کی عمر چالیس سے پینتالیس کے درمیان تھی ۔ بڑے گریس فل انداز میں کنپٹیوں سے جھانکتے چند سفید بال ان کی شخصیت کو اور بھی سوبر بناتے تھے۔ اسے حیرت زدہ دیکھ کر آگے بڑھتے نہایت خوش اسلوبی سے انہوںنے اپنا تعارف کروایا تھا۔ ان کی شخصیت کی طرح لب و لہجہ بھی بے حد توجہ طلب تھا ۔

”پروفیسر رضوی؟؟؟“انمول نے سوچتے ہوئے آنکھیں سکیڑیں۔ وہ اس نام سے واقف تھی اور اب ذہن پہ زور ڈالتے یہی سوچ رہی کہ اچانک اسے یاد آگیا تھا۔

”آپ ہمارے ڈیپارٹمنٹل ہیڈ ہیں نا سر؟“اس بار وہ خود بھی مسکرائی تھی اور اس کی مسکراہٹ میں ادب و احترام کا عنصر غالب تھا۔ پروفیسر رضوی کا نام لٹریچر ڈیپارٹمنٹ کی بلڈنگ میں لگی اساتذہ کی فہرست میں نیا اضافہ سہی لیکن سب سے نمایاں تھا اور کئی بار وہ ان کے آفس کے سامنے سے گزر چکی تھی لیکن اتفاق سے ان سے سامنا پہلی بار ہورہا تھا ۔ وہ انمول کے لیکچرر بھی نہیں تھے اور خود وہ بس ان دنوں یونیورسٹی اپنی ریسرچ کے لئے ہی آیا کرتی تھی ۔ ایسے میں ان سے شناسائی نہ ہونا کچھ اتنا حیران کن بھی نہیں تھا لیکن ہاں ان کا انمول کو بالخصوص روک کر اپنا تعارف کروانا واقعی ایک اعزاز کی بات تھی۔

”اتفاق سے“۔انہوںنے کندھے اچکائے۔ ان کے لاپرواہ سے انداز پہ اس کی مسکراہٹ کچھ اور گہری ہوئی تھی۔ انہوں نے حال ہی میں یونیورسٹی جوائن کی تھی جس کی وجہ سے بہت سے لوگ ابھی ان سے نا واقف تھے ۔ وہ بہت غور سے اس کے ہاتھ میں پکڑی ان کتابوں کی طرف دیکھ رہے تھے جو ابھی کچھ دیر پہلے انمول نے لائبریری سے لی تھیں۔

”شاعری میں بہت دلچسپی ہے آپ کو؟“انہوں نے بے تکلفی سے سوال کیا ۔ یقینناََ اسے روکنے اور اس سے سلسلہِ کلام شروع کرنے کی وجہ اس کے ہاتھ میں پکڑی کتابیں تھیں ۔

”فرہاد عالی میرے پسندیدہ شاعر ہیں اور ان کا کلام میری کمزوری“۔ اس نے ایک نگاہ کتاب کے ٹائٹل کو دیکھا اور پھر ایکسائیٹمنٹ سے جواب دیا۔ وہ جو اب تک ان کی گفتگو کا مقصد سمجھنے سے قاصر تھی بالآخر سِرا پا گئی لیکن وہ یہ بات نہیں جانتی تھی کہ پروفیسر رضوی نے اسے پارکنگ میں دیکھ کر نہیں روکا بلکہ وہ لائبریری سے اس کے پیچھے آئے تھے۔

”جس اشتیاق سے آپ لائبریری سے اس کی کتابیں اکٹھی کر رہی تھیں اتنا تو اندازہ ہوگیا تھا مجھے“۔انمول کے ہاتھ سے ایک کتاب لے کر اس کے ٹائٹل پہ نگاہیں جمائے وہ ایکدم ہی سنجیدہ ہوگئے تھے۔

”لگتا ہے سب ایک ساتھ پڑھنے کا ارادہ ہے“۔وہ شائد کسی گہری سوچ کے حصار میں تھے۔ اپنی بات کے اختتام پہ انہوں نے نگاہ اٹھا کر انمول کی طرف دیکھا اور کتاب واپس اس کی سمت بڑھا دی۔

”ایسی بات نہیں سر۔۔۔یہ کتابیں تو میں کئی بار پڑھ چکی ہوں لیکن ابھی تو میں یہ اپنے تھیسس میں ریفرینس کے لئے لے کر جا رہی ہوں“۔ انمول نے وضاحت دیتے وہ کتاب بھی باقی کتابوں کے ساتھ احتیاط سے رکھ لی۔

”آپ نے اپنا مقالہ لکھنے کے لئے اس ”گمنام انسان“ کا انتخاب کیا ہے جس کے پاس ”درد“،” حسن“، ” عشق“ ، ” جدائی“ اور ” غم“ کے سوا کہنے کو کچھ بھی نہیں“۔انہوں نے قدرے سنجیدگی سے سوال کیا تھا۔ اپنے ہر ایک لفظ پہ زور دیتے وہ انمول کے ذہن کو ٹٹول رہے تھے۔ اس کی ذہنی پختگی کو جج کرنا چاہتے تھے یا پھر اس کی زبانی وہ دلیل سننا چاہتے تھے جس کی بناءپہ اس نے اپنے موضوع کا انتخاب کیا تھا۔

”تو کیا یہ سب” فطرت “کے عین مطابق نہیں ہے“۔ وہ بے اختیار بولی تھی۔

”وہ کیسے؟“دونوں ہاتھ سینے پہ باندھے وہ پورے انہماک سے اس کی طرف متوجہ تھے۔

”دیکھیں نا سر۔۔۔”درد و غم“ نہ ہو تو ”راحت “ کا پتا نہیں چلتا۔” جدائی“ کے بناء”وصل“ کی اہمیت ہی نہیں۔ اور ”عشق“۔۔۔۔عشق تو کائنات کا حسن ہے بھلا اس کے بغیر بھی زندگی کوئی زندگی ہے“۔ وہ جیسے اس ایک فقرے میں خلاصہ بیان کر گئی تھی۔

”نو کمنٹس۔۔۔۔اس موضوع پہ ہم پھر کسی دن طویل بحث کریں گے۔ ابھی مجھے دیر ہو رہی ہے“۔بڑے وجیہہ اندازمیں مسکراتے وہ یقینناََ اس سے امپریس ہوئے تھے اور پھر کلائی پہ بندھی گھڑی کی طرف دیکھتے وہ بے ساختہ بولے۔ انمول کو بھی یاد آیا کہ اسے گھر واپس پہنچنا ہے سو اس نے بھی مسکرا کر سر ہلایا۔

”اور ہاں اپنے تھیسس میں کسی بھی طرح کی کوئی مدد چاہیئے تو You can come any time in my office“ چلتے چلتے مڑ کر انہوں نے پرخلوص انداز میں کہا تھا اور پھر تیز قدموں سے اپنی کار کی طرف چلے گئے۔ انمول چند لمحے کھڑی ان کے متعلق سوچتی رہی اور پھر خود بھی پارکنگ میں کھڑی اپنی گاڑی کی طرف قدم بڑھا دئیے۔

 ٭٭٭

گھر پہنچنے تک وہ اس مختصر ملاقات کو یکسر فراموش کر چکی تھی کیونکہ ذہن اس وقت قاسم میں الجھا ہوا تھا۔ چند سال پہلے جب انمول نے اسے اس کے حال پہ چھوڑ کر اپنی زندگی جینے کا ارادہ کیا تھا اس وقت سے اب تک یہی لگتا تھا شائد وہ واقعی اپنی زندگی گزار رہی ہے لیکن وہ غلط تھی۔ اس سے وقتی دوری کے احساس نے ہی اسے بوکھلا دیا تھا۔ اس کی موجودگی ایک محفوظ حصار تھا اور اب جیسے وہ یکدم کھلے آسمان تلے آکر کھڑی ہوگئی تھی۔ وہی دیوار و در تھے لیکن تنہائی کا جو احساس آج کی رات اس کے حصے میں آیا تھا اایسا تو اس نے کبھی سوچا ہی نہیں تھا۔ وہ قاسم کی بے پرواہی سے خائف تھی لیکن آج پوری رات جب ایک پل بھی سوئے بغیر صبح فجر کی اذان تک وہ قاسم کے خالی بستر کو تکتی رہی تو اسے احساس ہوا وہ تو کبھی اس سے نالاں تھی ہی نہیں۔ کچھ عرصہ پہلے بد گمانی کی ہلکی سی لکیر نے اس کو یہ عندیہ دیا تھا کہ شائد ان کا رشتہ بے حد کمزور ہے لیکن جب اس کے بغیر شام کے وہ لمحات تنہا گزارنا مجبوری رہی تو جان پہ بن آئی تھی۔ رات کو ڈنر کے بعد کچھ دیر ٹی وی دیکھنا قاسم کی روزِ اول کی روٹین تھی اور انمول اس روٹین کی عادی تھی۔ حالانکہ وہ بہت بدل گئی تھی لیکن اس دوران بھی یہ مخصوص وقت اس کا قاسم کے ساتھ ہی گزرتا تھا۔ اب بھی اس کا سر قاسم کے کندھے پہ ہی ٹکا رہتا تھا بس فرق یہ تھا کہ وہ پہلے کی طرح بے سبب گفتگو نہیں کرتی تھی اور اب خاموشی سے اس کی طرح نیوز چینل دیکھتی رہتی تھی۔ آج بھی ڈنر کے نام پہ چند لقمے بمشکل حلق سے اتار کر اس نے حسبِ معمول اپنے لئے کافی بنائی تھی۔ بس آج دو نہیں کافی کا ایک ہی کپ تھا جسے لے کر وہ لاو ¿نج میں چلی آئی اور آتے ساتھ ٹی وی آن کر لیا۔ تجزیہ نگاروں کی وہی روزمرہ کی ہنگامہ آرائیاں تھیں جس میں کبھی اسے ”ایک پرسنٹ“ بھی انٹرسٹ نہیں رہا تھا لیکن آج وہ بڑے انہماک سے ان کی گفتگو سن رہی تھی۔ صوفہ کی بیک پہ سر ٹکائے اس وقت اسے یہ شور اپنے اندر کے سناٹے سے بہتر لگ رہا تھا۔ دس بجے قاسم نے کال کرکے اس سے اس کی خیریت دریافت کی تھی اور وہ بڑی دقت کے ساتھ اپنے آنسوو ¿ں کو کنٹرول کر پائی تھی۔

”کھانا کھا لیا آپ نے؟“ وہ جانتی تھی قاسم ساڑھے آٹھ بجے کھانا کھانے کا عادی ہے۔ کبھی اس سے لیٹ ہوجائے تو وہ رات کا کھانا نہیں کھاتا کیونکہ اس صورت اسے رات بھر بے چینی رہتی ہے اور انمول نے ہمیشہ اس بات کا پورا خیال رکھا کہ اسے اس معاملے میں کبھی شکایت کا سامنا نہ رہے لیکن اب بات برائے بات کرتے محض گفتگو کو طویل کرنے کی خاطر اس نے قاسم سے یہ سوال پوچھا تھا۔

”ہاں کافی دیر ہوگئی۔ سوچا تم سے پوچھ لوں کوئی مسئلہ تو نہیں“۔ وہ اسے کیا بتاتی یہاں مسئلہ نہیں مسائل ہیں۔ شائد ابھی قاسم کے جہاز نے کراچی ٹچ ڈاو ¿ن بھی نہیں کیا ہوگا کہ انمول کو اس کی غیر موجودگی نے مضطرب کر دیا تھا۔ ا ©س وقت تو اسے ایسا لگ رہا جیسے وہ بارہ سو نہیں بارہ ہزار کلومیٹر کے فاصلے پہ ہے۔

”نہیں مسئلہ تو کوئی نہیں“۔ اپنے آنسوو ¿ں پہ قابو پاتے اس نے لہجے کی نمی کو ہر درجہ کم کرنا چاہاپھر بھی قاسم چونکا تھا۔

”تمہاری آواز کو کیا ہوا انمول۔۔طبیعت تو ٹھیک ہے تمہاری؟“ اس کے لہجے میں واضح تشویش تھی جس نے محتاط ہونے کے ساتھ انمول کو بے حد حیران کیا تھا۔ اس سے پہلے تو کبھی قاسم نے اس کی آواز پہ اتنا غور نہیں کیا تھا۔ ”تو کیا وہ واقعی اس کے لئے اس وقت فکرمند ہورہا تھا یا پھر شائد اس وقت فرصت زیادہ تھی لیکن وہ تو بتا رہا تھا کہ وہ کسی کام میں مصروف تھا اور آج اس کا ارادہ دیر تک جاگنے کا ہے کیونکہ صبح اسے اپنی ایک پریزنٹیشن دینی ہے جسے اس وقت مکمل کرنا انتہائی اہم ہے“ اس نے خود ہی اپنی سوچ پہ نفی کا نشان لگاتے قاسم کی بات کو دل ہی دل میں دہرایا تھا جو وہ اسے کچھ دیر پہلے بتا چکا تھا۔

”آج شائد سردی زیادہ ہے اسی لئے ہلکا سا فلو ہوگیا“۔ اپنی سرخ ہوتی ناک رگڑتے اس نے بہانہ بنایا۔ پتا نہیں قاسم کو یقین آیا تھا یا نہیں لیکن اس نے مزید کوئی سوال کرنے کی بجائے اسے دوا لینے اور گیٹ کا لاک اچھی طرح چیک کرنے کی تاکید کرتے کال بند کر دی تھی ۔

 کال ڈسکنیکٹ ہوتے ہی انمول کا صبر جواب دے گیا۔ وہ بے تحاشہ پھوٹ پھوٹ کر روئی تھی۔ اتنا کہ اس کے سر میں شدید درد ہونے لگا تھا اور پھر بے دم سی ہوکر تکیے پہ سر ٹکائے بستر پہ لیٹ گئی اس طرح کہ آنکھیں خالی بستر پہ ٹکی تھیں۔ پھر جب قریبی مسجد سے فجر کی اذان کی آواز سنائی دی تو اس نے چونک کر وال کلاک کی طرف دیکھا تھا۔ وہ تمام رات جاگتی رہی تھی اور ایک پل بھی نہیں سو پائی تھی ۔ سر درد کی شدت سے پھٹ رہا تھا تو آنکھوں میں شدید جلن تھی پھر بھی اپنی ساری ہمت مجتمع کرتے اس نے اٹھ کر وضو کیا ۔ آنکھوں پہ نیم گرم پانی کے چھینٹے مارنے سے کچھ سکون ملا تھا۔ نماز کے بعد وہ ایک بار پھر واپس بیڈ پہ آگئی تھی ۔

 اس طبیعت کے ساتھ وہ ہرگز آج یونیورسٹی نہیں جاسکتی تھی۔ ”اچھا ہوا کل کتابیں لے آئی تھی“ اس نے خود کو سراہا تھا کہ آج کم سے کم گھر بیٹھ کر وہ تسلی سے اپنا کام کرلے گی لیکن یہ الگ مسئلہ تھا کہ اس طبیعت اور ایسی ذہنی حالت کے ساتھ وہ کچھ کر سکتی تھی یا نہیں۔ بیڈ سائیڈ ٹیبل سے اپنا فون اٹھا کر اس نے سب سے پہلے واٹس ایپ کھولا اور قاسم کا اسٹیٹس چیک کیا تھا۔ وہ رات سوا بارہ بجے کا شو ہورہا تھا۔” اس کا مطلب وہ سوا بارہ کے بعد سو گیا ہوگا۔“ اسے تسلی ہوئی تھی یا نہیں لیکن واٹس ایپ پہ لگی قاسم کی تصویر کو دیکھ کر اس کی کمی کا احساس قدرے کم ہوا تھا۔ بیڈ کراو ¿ن پہ کمر ٹکائے اور کمبل پیروں پہ ڈالے وہ اب وقت گزاری کو اپنے سیل فون کی مختلف ایپلیکیشنز کھولنے لگی۔ ذہن بے حد تھکا ہوا تھا لیکن نیند اب بھی نہیں آرہی تھی۔ اچانک اس کا ذہن کل یونیورسٹی سے واپسی پہ ”پروفیسر رضوی“ سے ہوئی مختصر ملاقات کی طرف جا نکلا۔

”آپ نے اپنا مقالہ لکھنے کے لئے اس ”گمنام انسان“ کا انتخاب کیا ہے جس کے پاس ”درد“،” حسن“، ” عشق“ ، ” جدائی“ اور ” غم“ کے سوا کہنے کو کچھ بھی نہیں“۔اس کے ذہن میں پروفیسر رضوی کا جملہ گردش کر رہا تھا۔

”گمنام انسان؟“ اس نے زیرِ لب دہرایا اور پھر جلدی سے ”انٹرنیٹ براو ¿زر“ کھول کر وہ ”فرہاد عالی“ کو سرچ کرنے لگی تھی۔ اور اس پہ آج پہلی بار یہ حیرت انگیز انکشاف ہوا تھا کہ اس کی کتابوں کے سوا انٹرنیٹ پہ اس کے متعلق ایک بھی جملہ نہیں تھا۔ اس کی کوئی تصویر تھی نہ ہی اس کا تعارف موجود تھا۔ آج کل تو ہر چھوٹے بڑے، نئے پرانے قلم کار و شاعر کا پورا شجرہ نسب انٹرنیٹ پہ موجود ہوتا ہے ۔ یا تو وہ خود سوشل میڈیا پہ مل جاتے ہیں ورنہ ان کے نام سے انہیں شامل کرکے ان کے پیج بنے ہوتے ہیں جہاں سے ان تک بآسانی رسائی ممکن ہوتی ہے لیکن ایک گھنٹہ ڈھونڈنے پر بھی انمول کو ”فرہاد عالی “ کے متعلق ماسوائے اس کی کتابوں کے کچھ نہیں ملا تھا۔

اسے خود پہ بھی حیرت ہوئی تھی کہ آج سے پہلے یہ سوال خود اس کے ذہن میں کیوں نہیں آیا تھا ۔ اس نے اردو و انگریزی ادب میں بہت سے لوگوں کو پڑھا تھا۔ ایسے کئی لوگ تھے جنہیں پسندیدگی کی سند حاصل تھی اور ان کی سوانح عمریاں کتابی صورت دوکانوں پہ سجی ہوئی تھیں تو ان کے واقعاتِ زندگی سے اوراق بھرے ہوئے تھے۔ اسے انہیں کبھی ڈھونڈنا نہیں پڑا تھا بلکہ وہ کھلی کتابوں کی طرح سامنے ہی نظر آجاتے تھے۔ حال ہی میں اس نے اردو ادب کی تاریخ پڑھی تھی۔ ”فرہاد عالی“ کا نام نیا تھا لیکن اس کی شاعری میں جو سنجیدگی اور گداز پن تھا وہ یہ بات ببانگِ دہل کہتا تھا کہہ عصرِ حاضر کے چند میچور ترین شاعروں میں شمار ہورہا ہے۔ گزرے چند سالوں میں اس کی کئی کتابیں مارکیٹ میں آچکی تھیں ۔ وہ ڈرامہ، نثر، تاریخ، تنقید یا پھر شاعری میں سے کسی بھی موضوع کا انتخاب کر سکتی تھی لیکن کیونکہ اسے ”فرہاد عالی“ کی شاعری بے حد انساپائر کرتی تھی لہذا اس نے اپنے مقالے کا موضوع بھی اسی شاعری کو چنا تھا۔ پھر بھی یہ اس کے احمقانہ پن کی انتہا تھی جو اس نے اب تک ”فرہاد عالی“ کے متعلق کوئی بھی معلومات اکٹھی نہیں کی تھی۔ اس کے اب تک بنے تمام نوٹس اس کے کلام پہ مبنی تھے لیکن اس کی ذات سے خالی تھے۔

تھک کر سیل فون بستر پہ پھینکتے وہ اب تکیہ سیدھا کرکے لیٹ گئی تھی۔ پروفیسر رضوی کی پر خلوص آفر اور بے تکلف گفتگو کے بعد بھی اس کا اپنے مقالے کے لئے ان سے ملنے کا ہرگز کوئی ارادہ نہیں تھا لیکن اب وہ اپنا فیصلہ بدل چکی تھی۔ اسے کل ہر صورت” پروفیسر رضوی“ سے ملنا تھا۔

٭٭٭

عشق پر زور نہیں ہے یہ وہ آتش غالب

جو لگائے نہ لگے اور بجھائے نہ بجھے

اور یہ عشق کی آگ ہی تھی جس نے جذبات میں چراغاں کر رکھا تھا ۔ اس رات جو قصہِ غم شروع ہوا تھا تو ہر گزرتے دن اس میں فقط اضافہ ہی ہورہا تھا۔ دنیاوی اعتبار سے مختلف سہی لیکن حقیقت میں وہ دونوں ایک جیسے تھے اور ان کی یہی خاصیت انہیں دن بہ دن قریب لارہی تھی۔ نبیلہ کا تعلق شہر کے ایک ممتاز ترین گھرانے سے تھا تو دوسری طرف علی کی زندگی شہر کی تنگ گلیوں میں گمنامی میں بسر ہوئی تھی۔ پھر بھی دونوں میں قدرِ مشترک” حساسیت “ تھی۔ وہ دل تھا جو لطیف جذبوں سے اسیر دھڑکتا تھا۔ علی لفظوں سے کھیلنے کا ہنر جانتا تھا تو نبیلہ ان کی گہرائی سے واقف تھی۔ علی کا تعلق لوئر کلاس کے ایک ایسے گھر سے تھا جہاں پیٹ کی آگ آپ کا ہر شوق جلا کر بھسم کر دیتی ہے۔ بہت کم عمری سے ہی اس نے مسائل کو اپنے پرانے بوسیدہ مکان کی چھت پہ بارش کے پانی کی طرح ٹپکتے دیکھا تھا۔ وہ تین سال کا تھا جب ایک دن فیکٹری میں کام کرتے اس کا باپ کرنٹ لگنے کے باعث دائمی معذوری کا شکار ہوگیا ۔ اس کے ایک پیروں میں اتنی سکت نہیں رہی تھی کہ وہ اٹھ کر چل پھر سکتا ایسے میں گھر کا چولہا جلانے کی ذمہ داری اس کی ماں کے سر پہ آن پڑی تھی۔ شبنم کے سر پہ شوہر کی معذوری سے آسمان ٹوٹا تھا لیکن اس کے پاس اس ظلم پہ آنسو بہانے کا وقت نہیں تھا ۔ قیوم کے سر پہ فقط شبنم اور علی کی ذمہ داری نہیں تھی بلکہ اس کے بوڑھے ماں، باپ اور اس کی دو غیر شادی شدہ بہنیں بھی اسی محدود کمائی پہ گزر بسر کرتے تھے جو اس کی فیکٹری میں مزدوری سے ملتی تھی۔ اس کے علاوہ اس کا بوڑھا باپ گلی کے نکڑ پہ ایک چھوٹی سی دوکان پہ بیٹھا کرتا تھا جہاں سے اسے ہر ہفتے تین سو روپے ملتے اور اس قلیل آمدنی کے سر پہ یہ سات افراد پہ مشتمل کنبے کی ضروریات تو دور کی بات پیٹ بھی مشکل سے بھرتا تھا۔ ان حالات میں شبنم کے لئے گھر سے نکل کر شوہر کی جگہ فیکٹری میں ملازمت مجبوری تھی۔ یہ بھی شکر کہ اسے یہ ملازمت مل گئی تھی۔ تین سال کا بچہ تمام دن ماںکے بغیر دادی اور پھوپھیوں کے آسرے پہ رہتا ۔ دادی بیٹے کے ساتھ پوتے کی بھی دیکھ بھال کرتی لیکن وہ خود اتنی ضعیف تھی ۔ غربت اور بیماری یونہی انسان کو گھن بن کر کمزور کرتے چلے جاتے ہیں جیسے اسے کر چکے تھے۔ قیوم کی دونوں بہنیں عمر کے اس حصے پہ دستک دے رہی تھیں جہاں خواب اور امیدیں دم توڑ دیتے ہیں۔ اپنے بالوںمیں اترتی چاندی نے ان کے اندر احساسِ کمتری اور چڑچڑے پن کو اس شدت سے ابھارا تھا کہ وہ سارا دن جلی کٹی رہتی تھیں۔ جب سے بھائی کا ایکسیڈنٹ ہوا تھا جانے کیوں انہیں پورا یقین ہوگیا تھا اب ان کی شادی کبھی نہیں ہوپائے گی۔ بہرحال فرصت تو ان کو بھی نہیں ہوتی تھی کہ گھر کے تمام کام اور اس کے ساتھ موم بتیاں اور لفافے بنانا بھی ان کی ذمہ داری تھی جنہیں ان کا باپ اسی دوکاندار کو بیچ دیا کرتا تھا جہاں وہ خود ملازمت کرتا تھا اور اس آمدنی کا ایک دھیلا بھی وہ ماں یا بھائی کو ہاتھ لگانے نہیں دیتی تھیں کیونکہ ان پیسوں کو وہ دونوں اپنے متوقع جہیز کے لئے اکٹھا کر رہی تھیں۔ اب تک کل ملا کر ساڑھے چار ہزار روپے جمع ہوچکے تھے جنہیں ایک لوہے کے صندوق میں زنگ آلود تالا لگا کر رکھا گیا تھا ۔ امید تھی اتنے پیسوں میں دو تین ایسی چیزیں تو آ ہی جائیں گیں جن کی بدولت انہیں گھر سے خالی ہاتھ آنے کا طعنہ نہیں ملے گا ۔ بس اب انتظار تھا تو فقط ایسے رشتوں کا جو ان حالات کے مارے گھروں کا رخ مشکل ہی سے کرتے ہیں۔

چھ سال کی عمر میں علی کو محلے کے ہی ایک چھوٹے سے اسکول میں سو روپے ماہوار پہ داخل کرا دیا گیا۔ اس کے یونیفارم اور کتابوں کے پیسے دو ماہ فیکٹری میں اوور ٹائم کے بعد شبنم نے اکٹھے کئے تھے۔ قیوم خود میٹرک پاس تھا جبکہ شبنم نے آٹھویں تک پڑھا تھا ایسے میں وہ علی کو بھی پڑھانا چاہتے تھے۔ پہلے دن دادا کی انگلی پکڑے اسکول جاتے اس سے اوپر دو نسلوں کی امیدیں اس پہ جا ٹکی تھیں۔ یہ الگ بات ان میں سے کوئی بھی نہیں جانتا تھا علی کی تعلیم کا سلسلہ جاری رہ پائے گا بھی یا نہیں کیونکہ محدود وسائل اور مسائل کے انبار تلے دبے وہ سات لوگ اس نچلی سطح کے پرائیوٹ اسکول کو زیادہ دیر تک افورڈ نہیں کرسکتے تھے ۔ علی کے دل میں پڑھائی کا شوق قیوم کی باتوں سے پیدا ہوا تھا جو اسے چھوٹی چھوٹی بچوں کی کہانیاں سناتا تھا۔ شائد کبھی بچپن میں یہ سب کہانیاں اس نے اپنے باپ سے سنی تھیں لیکن اس کے سنائے قصے جن میں ڈھکی چھپی نصیحتیں اور آگے بڑھنے کی لگن ہوتی تھی علی کو ہمیشہ ہی fascinateکرتے تھے ۔

وہ نو سال کا تھا ایک دن بڑی پھوپھی کی اچانک موت کی خبر نے اس کا ننھا سا دل دہلا دیا تھا۔ اپنی فرسٹریشن میں اس نے سنکھیا کھا کر خودکشی کرلی تھی جس کے بعد سے دادی نے چارپائی پکڑی تو پھر اس چارپائی کو چار کندھوں پہ ہی اٹھایا گیا تھا۔ یہ ایک انتہائی غمزدہ سال تھا جو اس خاندان کے بچے کھچے لوگوں بشمول ایک چھوٹے بچے کے ان سب نے انتہائی تکلیف میں گزارہ تھا۔ شبنم کو اب چھوٹی نند کی پریشانی ستاتی تھی لہذا اس نے بڑی مشکل سے اپنے ساتھ فیکٹری میں کام کرنے والی ایک دوسری عورت سے اس مسئلے کا ذکر کیا۔ اتفاق سے اس کا بڑا بھائی ان دنوں رنڈوا تھا اور اپنے بن ماں کے چھ بچوں کی وجہ سے شدید پریشانی میں مبتلا۔ شبنم کو یہ رشتہ غنیمت لگا تھا اس نے فوراََ قیوم اور سسر سے بات کی ۔ ان حالات میں خود ان کو بھی یہی معقول لگا تھا کہ بس یہ شادی ہوجائے لہذا آناََ فاناََ نکاح اور رخصتی کر دی گئی۔ سالہا سال لوہے کے صندوق میں جمع ہوتے پیسے جن میں سے کچھ تو بڑی نند اور ساس کی تدفین پہ خرچ ہوگئے تھے اور بچی ہوئی رقم سے چند جوڑے اور تین بستر بنا کر اس کا جہیز تیار کر دیا گیا تھا۔ نکاح کے وقت مہمانوں کو شربت اور کھانا کھلانے کے لئے شبنم نے فیکٹری سے کچھ ایڈوانس لیا ، کچھ رقم قیوم کے باپ نے دوکان کے مالک سے ادھار لی۔ اس طرح گھر سے ایک اور ذمہ داری کا خاتمہ ہوا۔ علی کے اسکول کا سلسلہ چلتا رہا تھا یہاں تک کہ اس چھوٹے سے پرائمری اسکول سے نکل کر وہ اب ایک سرکاری مڈل اسکول میں پہنچ گیا تھا۔

کہتے ہیں کنول کا پھول کیچڑ میں ہی کھلتا ہے ۔ اس چھوٹے سے کنبے کے مسائل زدہ جوہڑ میں علی جیسی نفیس سوچ کا مالک پیدا ہونا حیران کن بات تھی۔ وہ گلیاں جہاں بچے سارا دن کھیلنے میں وقت ضائع کرتے تعلیم کے نام پر گالیاں سیکھتے ہیں وہاں علی کے ہاتھ میں کتابوں کا ہونا کوئی معجزہ ہی تھا یا پھر شبنم کی دن رات گھلتی جان کا ثمر۔ پڑھائی کے ساتھ ہی اس نے تیرہ سال کی عمر سے دن کا بقیہ حصہ اس دوکان پہ بیٹھنا شروع کر دیا تھا جہاں پہلے اس کا دادا بیٹھا کرتا تھا اور اس کی موت کے بعد دوکان کا مالک کسی اور کی تلاش میں تھا۔ علی میٹرک میں تھا اور ہفتے کے ہفتے اس کا حساب بھی دیکھ لیتا تھا جس کی وجہ سے وہ اس سے بہت راضی تھا اور دوکان میں فارغ وقت میں اسے پڑھنے سے منع نہیں کرتا تھا۔

اس نے پہلی نظم اس وقت لکھی جب وہ انٹر میں تھا۔ یہ اس کی خوش قسمتی تھی کہ اس کا واسطہ کالج میں بہترین لوگوں سے پڑا جنہوں نے اس کے ٹیلنٹ کو سراہا تھا۔ کالج کے ساتھ وہ مختلف ٹیوشنز کرنے لگا تھا اور اب شبنم کا فیکٹری جانا بند ہوچکا تھا کیونکہ اس سے بہتر پیسے بہرحال علی گھوم پھر کر کما لیا کرتا تھا۔ گریجویشن کے بعد اس نے ایک پارٹ ٹائم ملازمت کر لی تھی جسے وہ یونیورسٹی کے ساتھ بڑے اچھے طریقے سے مینیج کر رہا تھا ۔ مسائل زندگی میں اب بھی بے شمار تھے لیکن وہ ان کا مقابلہ کرنے کی ہمت رکھتا تھا۔ کوشش کر رہا تھا۔ تلخیِ ایام اپنی جگہ اور محبت اپنی جگہ۔۔۔۔۔نبیلہ اور اپنے اسٹیٹس کے فرق کو دھیان میں رکھ کر بھی وہ اس کی چاہت سے دستبردار نہیں ہوسکا تھا۔

”اسے کتابی شکل میں کب لائیں گے؟“نبیلہ کے ہاتھ میں اس کی نوٹ بک تھی جس میں اس کا تازہ کلام لکھا تھا۔ اس سے نظریں ہٹا کر نبیلہ نے بڑے اشتیاق سے سوال کیا تھا۔ وہ تو پہلے ہی متاثر تھی اب تو مداح بن چکی تھی۔

”فی الحال تو ایسی کوئی صورت دکھائی نہیں دیتی۔ “علی نے مایوسی سے سرہلایا۔ وہ دونوں آج کلاس کے بعد کیفے ٹیریا چلے گئے تھے۔ علی یونیورسٹی کے بعد رک نہیں سکتا تھا اسے اپنی جاب پہ پہنچنا ہوتا تھا ۔ اس کے بعد وہ ایک اکیڈمی میں ٹیوشن پڑھاتا تھا جہاں سے راتے گئے فارغ ہوتا۔ کل اس سے نبیلہ نے یہ نوٹ بک لی تھی اور آض پڑھ کر اسے واپس کرتے اس پہ اپنا اظہارِ خیال کرنے کے ساتھ ساتھ وہ چاہتی تھی کہ جلد اسے کتابی صورت میں بھی دیکھے۔

”وہ کیوں؟ اتنا شاندار کام ہے آپ کا۔ پبلشر کو اور کیا چاہئے؟“وہ حیرت سے بولی۔

”پیسہ اور شہرت۔۔۔۔جو فی الحال ابھی میرے پاس نہیں“۔علی نے کاپی کے چند صفحے پلٹتے بے بسی سے ان پہ لکھے سیاہ حرفوں کو دیکھا اور بند کرکے واپس اپنے بیگ میں رکھ لیا۔

”اور مستقبل قریب میں آتی نظر بھی نہیں آرہی“۔وہ دونوں ہاتھ سینے پہ لپیٹے کرسی پہ ریلیکس سا ہوکر بیٹھ گیا۔

”ایسا مت کہو۔ لفظوں میں اتنی روشن خیالی اور حقیقت میں اتنی مایوسی“۔اسے تکلیف ہوئی تھی۔ وہ ایک بے حد حساس لڑکی تھی اور احساس کا یہ تعلق جلد ہی محبت کی صورت اس کے وجود پہ اترنے لگا تھا۔

”جب اردگرد ناکامی نے ڈیرے ڈال رکھے ہوں تو مایوسی یونہی روح تک اتر جاتی ہے“۔میز کا کونہ کھرچتے وہ دھیمی آواز میں بولا۔ وہ اسے کیا بتاتا اس شہر میںقلم والوں کا کس طرح استحصال ہوتا ہے۔ اچھے شعروں پہ سب سر دھنتے ہیں لیکن جب معاوضے کا ذکر آتا ہے تو منہ پھیر لیتے ہیں۔ کس کس طرح دل شکنی کی جاتی ہے۔ حوصلے اور ہمت توڑی جاتی ہے۔ اس کی باتیں سن کر نبیلہ کے چہرے پہ مایوسی پھیلنے لگی تھی۔

”لیکن اگر تمہارا ساتھ میسر آئے تو یہ اندھیرے اجالوں میں بدل سکتے ہیں“۔نبیلہ کا میز پہ دھرا ہاتھ تھامتے اس نے سوال کیا۔اسے نبیلہ کا مایوس چہرہ اچھا نہیں لگا تھا۔ اس کے چہرے کی مسکراہٹ ہی تو اس کے حسن کو دو آتشہ کرتی تھی اور اب اس سے حسن کی یہ تضحیک برداشت نہ ہوئی تھی۔

”یہ میری خوش نصیبی ہوگی علی “۔اس نے اپنا دوسرا ہاتھ علی کے ہاتھ کی پشت پہ رکھ دیا تھا۔ یک بیک جگنوو ¿ں سی ٹمٹماتی آنکھیں چراغاں کا منظر پیش کرنے لگی تھیں۔ وہ اسے ایک بار پھر مسکرانے پہ آمادہ کرنے میں کامیاب ہوگیا تھا۔

”اور ایک بات یاد رکھنا ۔۔۔۔میں فقط اجالوں کی نہیں اندھیروں کی بھی ساتھی بن کر تمہاری زندگی میں شامل ہونا چاہتی ہوں اور یہ وعدہ ہے میرا اس تعلق کو مرتے دم تک نبھاو ¿ں گی“۔وہ نہ بھی کہتی تو علی کو پورا یقین تھا کہ وہ اس کا ساتھ کبھی نہیں چھوڑے گی۔ وہ اسے اتنی شدت سے چاہنے لگا تھا تو کیسے ممکن تھا وہ اس سفر میں تنہا رہ جاتا۔ یہ محبت ہی تو ہے جو محبت کا آسرا بنتی ہے۔ اور ان کے دلوں میں ایک دوسرے کے لئے اتنی محبت تھی جس کے بعد پیچھے ہٹنے کی کوئی وجہ نہیں رہ جاتی تھی۔

٭٭٭

”تمہارا دماغ تو خراب نہیں ہوگیا نبیلہ؟ اوقات دیکھی ہے اس انسان کی جس کے ساتھ شادی کرنے کی خواہش کر رہی ہو تم“۔حیدر سعید نہ صرف ایک جانے مانے بزنس مین تھے بلکہ جدی پشتی رئیس بھی تھے جن کا آدھے سے زیادہ خاندان سیاست میں تھا تو باقی آدھے فیکٹری و ملوں کے مالکان کی صورت ملکی معیشت میں ڈائریکٹ اثر و رسوخ رکھتے تھے لیکن وہ اگر ایک عام آدمی بھی ہوتے تو ان کا ردِ عمل سے ہرگز مختلف نہ ہوتا کیونکہ ایک مڈل کلاس درمانے درجے کا شخص بھی اپنی اولاد کی شادی خود سے بہتر خاندان میں کرنے کی خواہش رکھتا ہے یہاں تو اس کی حیثیت حیدر سعید کے کسی ملازم سے بھی بدتر تھی سوائے اس کے کہ وہ ایک پڑھا لکھا اور شریف انسان تھا اس میں دوسری کوئی خوبی نہیں تھی اور افسوس ہمارا معاشرے کا معیار ایسی خوبیوں کے دام نہیں لگاتا تھا۔ حیدر سعید کاٹن انڈسٹری کے روحِ رواں تھے اور حیدر سعید ٹیکسٹائلز کی صورت ایکسپورٹ پہ چھائے ہوئے تھے۔ وہ جن کے گھر پہ ملازم بھی حسب نسب اور خاندان دیکھ کر رکھا جاتا تھا ایسے قدامت پسند انسان کے گھر نبیلہ جیسی اولاد کا ہونا شائد کوئی معجزہ ہی تھا جس کے مزاج میں اپنے اکلوتے ہونے اور دولت کی بے تحاشہ فراوانی نے بھی کوئی اثر نہیں ڈالا تھا۔ وہ دولت پہ دل کو فوقیت دینے والی لڑکی تھی ۔ علی کے بیک گراو ¿نڈ سے اسے کوئی سروکار نہیں تھا اس نے علی کو چاہا تھا اس کے سوشل اسٹیٹس سے واقف ہوکر بھی وہ اس بات سے نہیں گھبرائی تھی کہ آنے والی زندگی میں وہ اسے کوئی آسائش دے سکے گا یا نہیں۔ جانے کیوں اسے یقین تھا کہ علی اس کے لئے دنیا کی ہر مشکل کا سامنا کرنے کا حوصلہ رکھتا ہے اور جب اسے یقین تھا تو پھر علی اس کا یہ مان کس طرح توڑ سکتا تھا۔

یونیورسٹی کے بعد اب وہ ایک بہتر ملازمت کی تلاش میں تھا تو نبیلہ اس دن کے انتظار میں جب وہ اسے زندگی کے ہر میدان میں کامیاب دیکھے گی۔ خود اس کے لاکھ چاہنے پر بھی علی نے اس کی کتابیں پبلش کروانے کی درخواست کر رد کر دیا تھا ۔ وہ اس کے وسائل سے اپنے لئے فائدے نہیں چاہتا تھا اور نبیلہ کو احساس ہوا تھا اس کے لئے اس کی عزتِ نفس کتنی اہم ہے۔ ان کا رشتہ عادت کی طرح اور بھی مضبوط ہورہا تھا لیکن حالات اب بھی ایسے نہ تھے کہ وہ شادی کرپاتے مگر حیدر سعید بیٹی کے لئے آیا ایک انتہائی شاندار رشتہ ہرگز نظر انداز نہیں کرنا چاہتے تھے ۔

بات جب نبیلہ تک پہنچی تو اس نے فی الفور انکار کرتے علی کا نام بتا دیا تھا کہ شادی کرے تو بس اس ایک شخص سے ورنہ کنواری مر جائے گی۔

اس کا بیک گراو ¿نڈ جان کر حیدر سعید کا سیخ پاءہونا فطری تھا۔ کہاں ان کا طے کردہ ملوں فیکٹریون والا رشتہ اور کہاں ایک دو کوڑی کا شاعر جس کا کل اثاثہ ایک خستہ حال جھونپڑی نما مکان اور چند محبت بھری غزلیں ہیں جن کی اوقات باہر کی دنیا میں دو پیسے کی بھی نہیں ہے۔

”میں نے اس کی اوقات سے نہیں اس سے محبت کی ہے ڈیڈ“۔وہ انہی کی بیٹی تھی ان جیسا ہمت اور حوصلہ بھی رکھتی تھی۔ جو ٹھان لی تھی اس پہ عمل کرنا جانتی تھی اور دل کی بات کہنے سے تو بالکل نہیں ڈرتی تھی۔

”بکواس بند کرو۔ باپ کے سامنے ایسی بات کہتے حیا نہیں آتی“۔صالحہ کو بیٹی کے انداز نے ہلا کر رکھ دیا تھا۔ وہ جانتی تھیں نبیلہ کتنی ضدی ہے اپنی بات منوائے بغیر پیچھے نہیں ہٹتی لیکن یہ بات بھلا کوئی ماننے والی تھی۔ خدانخواستہ ایسا کچھ ہوجاتا تو سوسائٹی میں وہ کسی کو منہ دکھانے کے قابل نہ رہتے کہ ان کا ہونے والا داماد ایک عام اور معمولی شاعر ہے۔

”فقط چار دن کا کھیل ہوتا ہے یہ عشق محبت۔ پھر جب زندگی کی حقیقت سے سامنا ہوتا ہے تو آٹے دال کا بھاو ¿ پتا لگتے ہی ساری عاشقی ہوا ہوجاتی ہے۔ “حیدر سعید نے میز کو ٹھڈے سے پرے ہٹایا اور تنفر سے کہتے صوفہ پہ بیٹھ گئے۔ وہ اس وقت شدید غصے میں تھے لیکن نبیلہ پہ نہیں اس لڑکے پہ جس نے محبت کے سبز باغ دکھا کر ان کی اکلوتی اور جذباتی اولاد کو باغی کیا تھا۔ ٹانگ پہ ٹانگ رکھے انہوں نے جیب سے اپنا سگار نکال کر سلگایا۔ شائد سگار کا دھواں نکالنے سے ہی کچھ ذہنی ٹینشن کم ہوپائے لیکن ٹینشن تو ان کے طوفان کی صورت کھڑی تھی۔ کبوتر کی طرح بلی کو دیکھ کر آنکھیں بند کرلینے سے نہیں ٹل سکتی تھی۔ پھر بھی انہوں نے اپنے باپ ہونے کے اختیار کو اپنی ویٹو پاور سوچ کر خود کو تسلی دی تھی کہ وہ ایسا کچھ نہیں ہونے دیں گے۔ غلط فہمیوں کا علاج ممکن ہے خوش فہمیوں کا نہیں۔ حیدر سعید اس بات سے غافل تھے کہ اولاد کے سامنے طاقتور سے طاقتور ترین انسان بھی سب سے زیادہ کمزور اور بے بس ہوتا ہے۔ جس سے جیت بھی ہار سے بدتر ہوتی ہے وہ آپ کی اپنی اولاد ہی ہوتی ہے۔ یہاں بڑے بڑے طرم خان پسپائی اختیار کر جاتے ہیں۔ وہ نبیلہ پہ طاقت کا داو ¿ آزمانے کی کوشش بھی کرتے تو نتیجہ پھر بھی ان کے حق میں تو ہرگز نہیں آنے والا تھا۔

”غلط فہمی ہے آپ کی ۔ محبت میں بڑی طاقت ہوتی ہے اور اگر زندگی کو آپ نے صرف ضروریات کے ساتھ گزارا ہے تو یہ آپ کی غلطی ہے۔ پھر علی اتنا گیا گزرا بھی نہیں کہ مجھے دو وقت کی روٹی بھی نہ دے سکے“۔ وہ پیچھے ہٹنے والوں میں سے ہوتی تو یہ سب آغاز میں ہی ہوچکا ہوتا۔ دو ڈھائی سال کے ساتھ میں یہ تو طے تھا کہ مٹا تو جا سکتا ہے لیکن پیچھے نہیں ہٹا جا سکتا۔ یہ محبت کا جن ایسے ہی سر چڑھ کر بولتا ہے جیسے اس وقت وہ ان دونوں کے سامنے بول رہی تھی۔ اس بات سے بے نیاز کہ یہ وہی دو لوگ ہیں جنہوں نے اسے پیدائش سے لے کر آج تک کبھی کانٹا چبھنے جیسی معمولی تکلیف کا سامنا بھی نہیں کرنے دیا تھا۔

”اپنا اسٹیٹس دیکھو اور اس کی حیثیت۔۔۔دو وقت کی روٹی بھی مل گئی تو غنیمت جاننا۔ تمہیں جن آسائشوں کی عادت ہے کیا ان کے بغیررہ پاو ¿ گی؟“اس بار دھیمے انداز میں تصویر کا وہ رخ دکھانے کی کوشش کی گئی تھی جس سے ان کے خیال میں شائد اب تک وہ ناواقف تھی۔ لیکن یہ ان کی بھول تھی۔ وہ ذہنی طور پہ ایسی زندگی گزارنے کے لئے اس دن سے تیار تھی جب سے اس نے علی کو اپنا جیون ساتھی بنانے کا فیصلہ کیا تھا۔

”تمہارے ڈیڈ بالکل ٹھیک کہہ رہے ہیں ۔ چھوڑو یہ بچگانہ باتیں اور بھول جاو ¿ اسے“۔صالحہ نے بھی اس بار پیار سے پچکارتے اس کا کندھا تھپکا۔

”مرتے دم تک نہیں۔ میں اس کے ساتھ زندگی گزارنے کا فیصلہ کر چکی ہوں اور ہرگز اپنی بات سے پیچھے نہیں ہٹوں گی“۔وہ اپنی بات پہ بضد تھی۔ ان دونوں کے لئے یہ ”اسٹیٹس“ کا مسئلہ تھا تو نبیلہ کے لئے” دل“ کا معاملہ اور دل کے معاملے زور زبردستی کی بناءپہ تو بہرحال نہیں سلجھائے جاتے۔

”تو پھر مر جائے کیونکہ میں اپنی اکلوتی اولاد کو جیتے جی اس جہنم میں نہیں جھونک سکتا جس کا انتخاب اس نے جنت سمجھ کر کیا ہے“۔ حیدر سعید کے لئے بیٹی کی محبت سب سے بڑھ کر تھی لیکن وہ جانتے تھے یہ نری گیدڑ بھبکیاں ہوتی ہیں۔ انہوں نے پیسوں کی خاطر لوگوں کو اپنا ایمان بیچتے دیکھا تھا۔ اولاد کا سودا کرتے دیکھا تھا ۔ محبت جیسی بیکار اور بے نام شے کی خاطر بھی بھلا کوئی جان دے سکتا ہے۔ ان پہ نبیلہ کی اس دھمکی نے تو بہرحال کوئی اثر نہیں ڈالا تھا لیکن یہ ان کی غلط فہمی تھی کیونکہ یہ دھمکی تو ہرگز نہیں تھی۔

”ٹھیک ہے ڈیڈ۔ میں بھی آپ کی ہی بیٹی ہوں۔ علی کے بغیر زندگی بے معنی ہے اور اب اگر یہ آپ کی ضد ہے تو میں آپ کو مر کر ہی دکھاو ¿ں گی“۔اسے باپ کی بے حسی پہ شاک لگا تھا۔ حیدر سعید کا خیال تھا یہ بس اس کی ضد ہے لیکن زندگی میں پہلی بار نبیلہ نے ضد نہیں فیصلہ لیا تھا۔ علی کے بغیر زندہ رہنا موت سے بدتر تھا اور یہ تصور ہی اسے جان لیوا لگ رہا تھا ۔ ایک طرف ”انا “ تھی تو دوسری طرف ”محبت“۔ اور اس بار اسے کو ہر آزمائش پہ پورا اترنا تھا۔ ”محبت“ کو جیتنا تھا۔ آنسوو¿ں سے تر گالوں کو بے دردی سے کلائی سے پشت سے صاف کرتے اس نے ایک نگاہ حیدر سعید کے سنجیدہ اور بے تاثر چہرے کو دیکھا اور اگلے ہی پل لاو ¿نج سے نکل گئی تھی۔

”حیدر پلیز روکیں اسے یہ احمق لڑکی جذبات میں آکر کچھ نہ کرلے“۔اسے روتے ہوئے کمرے کی طرف جاتے دیکھ کر انہوں نے اپنے شوہر کو جھنجھوڑا۔ وہ ماں تھیں، بورژوا طبقے کی نمائندہ ہوکر بھی اکلوتی اولاد کے لئے دل میں امڈتے خدشات کو نظر انداز نہیں کر سکتی تھیں۔ حیدر سعید نے بیوی کے پریشان چہرے کو دیکھا اور پھر اپنے کندھے پہ ٹکا ان کا ہاتھ نرمی سے ہٹاتے ہوئے ایک گہرا سانس لیا۔ صالحہ کی برستی آنکھوں میں نظر آتا خوف اور نبیلہ کی کانوں میں گونجتی شکوہ کناں سسکیاں ۔ حیدر سعید جیسے بہادر انسان کے اندر بھی اب ہار کا خوف سر اٹھانے لگا تھا۔

¿ ¿ ¿ ¿٭٭٭

جاری ہے ۔۔۔۔۔۔

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

منا لینا عشناء ۔۔۔کوثر سردار ۔۔۔پہلا حصہ

منا لینا عشناء کوثر سردار پہلا حصہ ”مجھے نہیں معلوم تھا اگر محبت دل میں …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے