سر ورق / کہانی / عشق خدا ۔۔۔محمد ابرار گجر

عشق خدا ۔۔۔محمد ابرار گجر

عشق ء خدا

محمد ابرار گجر

مائی زہرہ کا گھر گاؤں کی نکّرپے پندرہ بیس گھروں کی کچی آبادی میں تھا اور اس آبادی سے نکلتے ہی قبرستان تھا،مائی زہرہ کی عمر اس وقت کوئی ٥٠ سال کے لگ بھگ تھی اس کی ایک ہی بیٹی تھی جس کی شادی تین سال پہلے ہو چکی تھی اور کہیں دور رہتی تھی شادی ک بعد وہ کبھی لوٹ کر واپس نہ آئی تھی، اس بیٹی کے علاوہ اس کا ایک مفلوج بیٹا تھا جو ہمیشہ چارپائی پر بیٹھا مختلف آوازیں نکالتا رہتا تھا، وہ ذہنی بیمار بھی تھا اور جسمانی بھی، اس کے مونہہ سے اکثر رالیں ٹپکتی رہتی تھیں، مائی زہرہ اس کا خیال خود سے زیادہ رکھتی تھی، اسے صاف ستھرا رکھنے کی کوشش کرتی تھی، مفلوج بیٹے کی دکھیاری ماں کا خاوند فضلو بھی ایک طرف ٹوٹی پھوٹی اور لٹکتی ھوئی رسیوں والی میلی کچیلی چارپائی پر پڑا

رہتا تھا اور پرانی بیماری میں مبتلا کئی سالوں سے زندگی کی جنگ لڑ رہا تھا،

یہ دکھ تو مائی زہرہ کے خون میں شامل ہو چکے تھے، مفلوج بیٹے کو سنمبھالنا اوراپنے خاوند (فضلو) کی خاطر تواضح کرنا اس کا روز کا معمول تھا، یہ سب تو اس کی زندگی کا حصہ تھا، سب سے بڑا دکھ تو غریبی کا دکھ تھا، اور یہی دکھ تھا جو دوسرے کئی دکھوں کی دوا بھی تھا، اس دکھ نے کئی دکھوں کے درد ختم کیے ہوے تھے، غریبی اس قدر تھی کہ مائی زہرہ دو دو دن بھی فاقوں گزارتی تھی، لیکن وہ کبھی کسی سے مانگنے نہ جاتی تھی، مائی زہرہ کی کل آمدنی اس کی دو تین مرغیاں تھیں، جو انڈے دیتی تھیں اور وہ انڈے بیچ کر کبھی دال اور کبھی گلی سڑی سبزیاں لے کر آتی تھی آخر ان دو انڈوں کے بدلے اور آتا بھی کیا، کبھی کبھی تو صرف آلو لے کر ابال لئے جاتے تھے، ان سب مشکلات کے باوجود بھی مائی زہرہ دن رات میں کل سات نمازیں پڑھتی تھی، وہ الله کے بہت قریب تھی، اکثر مائی زہرہ کو مصلے پر نماز پڑھتے اور پھر رو رو کر دعاہیں مانگتے دیکھا جاتا تھا

وہ ہمیشہ پھٹے پرانے کپڑوں میں ہی ملبوس رہتی تھی اور صبح سویرے اٹھ کر نماز سبق سے فارغ ہو کر اپنے بیٹے اور خاوند کو دیکھتی پھر کھجور سے بنے ہوے جھاڑو سے گھر کی جھاڑ پونچھ کرتی، روٹی بنا کر باپ بیٹے کو کھلاتی پھر بیوہ اور ذہنی مریض اکلوتی ہمسائی کو کھانا کھلا کے آتی، اور جو تھوڑا بچتا آخر میں خود کھا لیتی اور کبھی بھوکی بھی رہتی تھی، بس ان تینوں مریضوں کی خدمت کرنا اور نمازیں پڑھنا مائی زہرہ کی کل زندگی تھی، جیسے وہ دو مرغیوں کی آمدن سے ایک پورا پاگلوں کا ہسپتال چلا رہی ہو، اور اس میں وہ ڈاکٹر بھی خود تھی، کیوں کہ احساس دوا سے زیادہ کام کرتا ہے، ان کے علاوہ وہ سارا دن کچے مٹی کے اپنے گھر میں کچھ نہ کچھ کرتی رہتی تھی، کبھی مرغیوں کو دانہ ڈالنا، کوے اکٹھے ہو جاتے تو ان کے آگے بھی گوندھے ہوے آٹے کے ٹکڑے بنا بنا کر ڈالتی رہتی، جیسے یہ سب کرنے سے اس کو سکون ملتا ہو، وہ کبھی اس بات کی فکر نہیں کرتی تھی کہ آٹا ختم ہو گیا تو تینوں مریضوں کو کہاں سے کھلاے گی اور خود

کی تو اسے فکر بلکل تھی ہی نہیں، اس کا پورا یقین الله پر ہی تھا،

ایک دن وہ صبح سویرے نماز سبق سے فارغ ہونے کے بعد تین چار انڈے لے کر دکان پر جا رہی تھی کہ ٹوٹی ہوئی جوتی کی ربڑمیں آگے اٹھنے والا قدم پھنسا اور توازن قائم نہ رہ سکنے کی وجہ سے مائی زہرہ زمین پر گر گئی اور ہاتھ میں پکڑے ہوے سارے انڈے گر کر ٹوٹ گئے، مائی زہرہ کو بھی چوٹ تو لگی لیکن اس چوٹ کا درد تو کچھ بھی نہ تھا وہ تو زندگی کی بہت بڑی بڑی چوٹوں کو برداشت کر رہی تھی، اسے اپنی چوٹ سے زیادہ انڈے ٹوٹنے کا درد ہوا، وہ ہمت کرتے ہوے وہاں سے اٹھی اور ٹوٹے ھوے مٹی میں جذب انڈوں کو بیحد درد مندانہ اور مایوسی کی نظروں سے دیکھتے ہوے واپس لڑکھڑاتی ہوئی گھر کو چلی گئی، گاؤں کے لوگ مائی زہرہ کو بھی تقریباً پاگل ہے سمجھنے لگے تھے،

مائی زہرہ گھر پہنچی تو آج پہلی بار اس نے دکھی اور ہاری ہوئی آبدیدہ اور مایوس آنکھوں سے اپنے خاوند اور مفلوج بیٹے کی طرف دیکھا پاگل بیٹےنے جیسے ماں کی آنکھوں سے ماں کے سارے دکھ اور بے بسی کی تڑپ پڑھ لی ہو ، وہ بھی ایک بہت ہی دکھ بھرے لہجے میں آوازیں اور آ آ آ کرنے لگا جیسے وہ اپنی بھوک پر نہیں بلکہ اپنی ماں کی بے بسی پر رو رہا ہو، اس نے اپنی زندگی میں پہلی بار اپنی ماں کے چہرے پر تھکن ، مایوسی اور روح میں گہرے درد کی تڑپ دیکھی تھی اس نے اپنی ماں کے اندر اٹھتے ہوئے طوفان کو محسوس کرلیا تھا ،وہ پوری چارپائی پر تڑپ تڑپ کر ایسے بلبلا رہا تھا جیسے ماں کے آنسو اسکی جان نکال رہے ہوں ، اس سے اپنی ماں کی یہ حالت برداشت نہیں ہورہی تھی ، آخر یہ احساس تو ہونا ہی تھا ، اس نے ماں کی کوک سے جنم جو لیا تھا ، ممتا اور ممتا کا درد تو حیوان بھی محسوس کرتے ہیں ،

اس ساری صورتحال میں زہرہ کو اپنی گر کر لگی ہوئی چوٹ یا بھوک کی کوئی فکر نہیں تھی بلکہ اسے اپنے تینوں پاگل مریضوں کی فکر تھی ، وہ ان سب کو بھوکا نہیں رکھ سکتی تھی اور گاوُں کے لوگوں نے مدد تو کیا کرنی تھی ان میں سے اکثر تو مائی زہرہ کو بھی پاگل ہی سمجھتے تھے ، یہ حالت ابھی چل ہی رہی تھی کہ مائی زہرہ نے اپنے آس پاس چنے اور مختلف دالوں کے دانے گرتے دیکھے ، اس نے حیرت سے ادھر ادھر دیکھا تو دیوار کے ساتھ ساتھ کتنے ہی دانے دیکھ کر اس نے اوپر کی طرف دیکھا تو چڑیوں کا ایک جھنڈ کچے مکان کی بنیر پر بیٹھا ہوا منہ میں چنے اور مختلف دالوں کے دانے کھا کم رہے اور پھینک زیادہ رہے تھے، جیسے وہ چڑیوں نے پیٹ بھر کھا لیا ہو اور باقی بچا ہوا رزق پھینک رہی ہوں ، وہ چڑیاں وہاں سے قبرستان میں جاتیں اور وہاں سے دانے چونچ میں اٹھا کر مائی زہرہ کے گھر پھینک دیتیں، اس کو سمجھ آگئ کہ لوگوں کی قبروں پر پھینکی ہوئی دال کو اٹھا کر لارہی ہیں، جیسے ان سب کا رزق اللہ نے ان چڑیوں کے زریعے بھیج رہا تھا، مائی زہرہ نے وہ ساری دال نیچے اور چھت کے اوپر سے اکھٹی کی صاف کیا اور پکا کر سب کو کھلائی اور یہ مشکل دن بھی آخر گزر گیا،

رات کافی گہری ہو چکی تھی، یہ ایک طوفانی رات تھی، بادل بہت گہرے تھے، بجلی کی کڑک اور بادلوں کی گرج نے مائی زہرہ کے خاوند کی طبیعت بہت بگاڑ دی تھی، اس کے دل کی دھڑکن بہت تیز ہوچکی تھی اس کی سانس پھولتی جارہی تھی، وہ کراہ رہا تھا، اس کی ہائے ہائے میں کافی تکلیف اور درد تھا، مائی زہرہ اسکا سر دباتی ہے پانی دیتی ہے، روٹی کے ٹکڑے دیتی ہے، لیکن موت اس کے قریب آچکی تھی کوئ چارہ نہیں چلتا، تکلیف میں اضافہ ہوتا جارہا تھا مائ زہرہ مصلحہ بچھا کر خدا سے دعا کرتی ہے، یا اللہ تو اس کو اتنی تکلیف نہ دے، یہ سالوں سے اس تکلیف میں ہے، اب مزید اس میں درد سہنے کی ہمت نہیں رہی، تو اس کو آسان موت دے دے، اس کی روح کو اس کے جسم سے الگ کردے، وہ پھر اس کے پاس جاکر بیٹھ جاتی ہے، تکلیف کم ہوچکی تھی، وہ سکون محسوس کررہا تھا، جیسے سب بیماریوں نے اس کو چھوڑ دیا ہو اور موت کے حوالے کردیا ہو، پھر ایک دم ایک جھٹکے والی لمبی سانس کے بعد فضلو کی آنکھیں سدا کے لئے بند ہو گیئں، مائی زہرہ ملے جھلے انداز میں اوپر کی طرف دیکھتی ہے جیسے اللہ سے دل ہی دل میں کوئی بات کی ہو اس نے، اور جیسے اس کے سر سے ایک بڑی ذمہ داری اتر گئی تھی,

صبح ہوتی ہے گلی محلے والے آتے ہیں آپس میں افسردہ منہ سے باتیں کرتے ہیں، بیٹھتے ہیں کچھ دیر اور چلے جاتے ہیں، ظہر کے بعد جنازہ اٹھانا تھا لیکن مائی زہرہ کو کفن کی فکر لگی ہوئی تھی، جس کو لانے کیلئے اس کے پاس پیسے نہیں تھے، آخر اس نے اپنے ایک ٹوٹے ہوئے لکڑی کے پرانے صندوق کو کھول کر دیکھا تو اسے سفید رنگ کی ایک بڑی چادر مل گئ، اس کا کفن بنا کر مرحوم کو دفن کردیا گیا،

مائی زہرہ کے سر سے اب کچھ ذمہ داری تو ختم ہوئی تھی لیکن اب وہ کمزور بھی ہو چکی تھی ، بیوہ اپاہج ہمسای اور اپاہج بیٹے کی ذمہ داری ابھی زہرہ پرہی تھی ، اس نے خود میں ہمت پیدا کی اور اپنی ذمہ داری نبھاتی رہی ،

مائی زہرہ کی ساری مرغیاں بیماری کی وجہ سے مر گئی تھیں، اب دونوں اپاہجوں کا پیٹ بھرنا اور خود کو بھی با ہمت رکھنا مشکل ہوتا جا رہا تھا ، لیکن وہ نماز پڑھتی اللہ سے دعا کرتی اور اس کو اللہ نے ہمت دے دی ، مائی زہرہ ہر نماز کے ساتھ ایک خصوصی دعا یہ بھی کرتی تھی کہ یا اللہ میں تیرے گھر آنا چاہتی ہوں ، یا اللہ مرنے سے پہلے تو مجھے اپنا گھر ضرور دکھا دینا، میری زندگی کی سب سے بڑی خواہش بس یہی ہے کہ مرنے سے پہلے تیرا اور تیرے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم کا گھر دیکھ لوں ،

فضلو کے مر جانے کے بعد مائی زہرہ کی زندگی پہلے سے بھی زیادہ مشکل ہو گئی تھی، مگر مائی زہرہ نے کبھی نماز نہیں چھوڑی اور نہ ہی کبھی اس کے منہ سے اللہ کی ناشکری یا گلہ ہوا وہ بہت ہی صابر اور شاکر عورت تھی، مشکلات کے پہاڑ بھی جب مائی زہرہ پر ٹوٹے تب بھی اس نے ہمیشہ اللہ تیرا شکر ہے کے الفاظ منہ سے نکالے ، یہ بول کر جیسے اس کو سکون مل جاتا ہو اور ہمت پیدا ہو جاتی تھی، ہر بات کے ساتھ اللہ تیرا شکر کہنا اس کا تکیہ كلام بن گیا تھا ،فضلو رہتا تو ہمیشہ چارپائی سے چپکا ہوا تھا مگر شاید ایسا تھا کہ فضلو کے وسیلےسے ہی ان سب کو كھانا مل رہا تھا ، اس کی قسمت میں رزق زیادہ تھا، اور اس کے مرتے ہی دونوں مرغیاں بھی مر گئ تھیں ، اب مفلوج بیٹے اور بیوہ اپاہج ہمسائی کا پیٹ پالنا بھی مشکل ہو گیا تھا، مائی زہرہ کومعلوم تھا کہ اللہ ہی ایک اور بڑا امتحان لے رہا ہے،

مائی زہرہ گاؤں کے امیر زمینوں کے مالک چوہدری کےگھر گئی ، یہ چوہدری بہت سخت مزاج اور غرور و تکبر والا شخص تھا ، وہ مائی زہرہ جس نے پوری زندگی میں بے حد غریبی میں بھی اپنی خودداری کو ٹھیس نہیں پہنچائی تھی کبھی کسی کے آگے ہاتھ نہیں پھیلایا تھا ، آج چوہدری کے گھر جا کر اس کی بیوی سے گھر کے کام صفائی وغیرہ پر رکھنے کی درخواست کی، مائی زہرہ نے چوہدرانی سے کہا ، اب مجھے پتہ ہے میں بوڑھی ہوں کام کرنے کے قابل تو نہیں ہوں لیکن مجھ سے میرا مفلوج بیٹا بھوک سے بلکتا ہوا نہیں دیکھا جاتا ، آپ مجھے کم پہ رکھ لو میں اچھی صفائی کروں گی اور برتن مانجھ دیاکروں گی ، چوہدرانی نے مائی زہرہ کی طرف غرور اور نفرت کی ملی جلی نظروں سے دیکھا کیونکہ مائی زہرہ کے کپڑے جگہ جگہ سے پھٹے ہوئے تھے اور کہیں کہیں سے سوئی دھاگے سے سلائی کیے ہوئے تھے ، چوہدرانی اتنی غریب اور بوڑھی کام والی کو بھی اپنے گھر میں رکھنا پسند نہیں کرتی تھی ، لیکن اگلے ہی لمحے اس نے کہا ، کتنے پیسے لو گی ، مائی زہرہ نے کہا مجھے تو بس میری اور وہ دو اپاہجوں کی روٹی چاہیئے اور کچھ نہیں چاہئیے مجھے

ٹھیک ہے ٹھیک ہے آپ شروع کرو کام۔ وہ کچن میں جاؤ برتن مانجھو اور پورے گھر کی صفائی کرو ابھی . اتنی دیر میں چوہدری آ گیا اور کہا یہ کیسی کیسی عورتوں کو گھر میں کام پہ رکھ لیتی ہو آپ ، یہ کام کر بھی سکے گی؟، چوہدری چوہدرانی سے بھی زیادہ گھمنڈی اور مغرور شخص تھا ، مائی زہرہ چوہدری کی بات سن کر پیچھے کی طرف دیکھتے ہوئے رکی، چوہدرانی نے کہا چلو چلو آپ کام کر ، جی ٹھیک بی بی جی ، مائی زہرہ نے کہا اور کام شروع کر دیا ،

چوہدرانی نے چوہدری سے کہا کوئی بات نہیں مجبور لوگ بھی ہوتے ہیں دنیا میں ، وہ اِس عمر میں کوئی خوشی سے کام کر رہی ہے؟ پتہ نہیں کن دکھوں کی ماری ہوئی ہے ،چوہدرانی کے دِل میں جیسے مائی زہرہ کی حالت زار پہ کچھ ہلکا سا ترس آ گیا ہو، اچھا اچھا ٹھیک ہے چوہدری نے کہا اور آ گے کی طرف چلا گیا ،

مائی زہرہ پہلے دن کا کام ختم کر کے گھر جانے لگی تو چوہدرانی نے کچھ پیسے اور بچا ھوا کھانا دیا ۔ مائی زہرہ نے کہا بی بی جی ابھی اتنے کام تو نہیں کیے جتنا کچھ آ پ نے دے دیا ہے ۔آ پ کھانا رہنے دیں اور یہ پیسے بھی بس اتنے ہی دیں جتنا میں نے کام کیا ہے ۔ لے جاؤ لے جاؤ اور کھا لو جا کر کھانا بھی سب لے جاو پیسے بھی ،چوہدرانی نے ذرا کرخت لہجے میں کہا،اور مائی زہرہ نے سب کچھ لیا اور گھر کو چلی گئی۔ اسے اپنے مریضوں کی بہت فکر ہو رہی تھی اس نے تازہ ملے پیسوں سے دوکان سے کچھ کھانے کا سامان خریدا اور گھر کو چلی گئی ۔

اس نے چولہا جلایا اور کھانا بنا کر مریضوں کو کھلایا اور خود بھی کھایا جو کھانا چوہدرانی سے ملا تھا وہ چھت پر پرندوں کے لیے رکھ دیا ۔اور کچھ گوشت کے پکے ہوئے ٹکڑے باہر گلی میں آوارہ پھرتے کتوں کو ڈال دئیے، مائی زہرہ کو اچھا نہیں لگتا تھا کہ وہ کسی کے گھر کا لیا ہوا کھانا خود کھائے یا گھر والوں کو کھلائے، اب اس کی روز کی عادت بن گئ تھی کہ جو کھانا چوہدرانی کے گھر سے ملتا وہ پرندوں اور گلی کے کتوں کو ڈال دیتی تھی ۔اس لیے نہیں کہ میں نے کھانا نہیں ہے بلکہ اس لیے کہ پرندے اور کتے بھی اللہ کی مخلوق ہیں اور ان کو بھی کھانے کی ضرورت ہوتی ہے بس وہ اس لیے کتوں اور پرندوں کے لیے کھانا رکھنا بھی اپنا فرض سمجھنے لگی تھی اور ایسا کر کے وہ سکون محسوس کرتی تھی ۔

مائی زہرہ ہر روز کام سے آتی کھانا بناتی سب کی خاطر تواضح کرتی اور کھانا بچ بھی جاتا تھا ۔ایک دن ایک فقیر دروازے پر آ یا اور اس نے کھانے کا سوال کیا ۔ مائی زہرہ نے اسے نیچے ایک پلاسٹک کی بنی ہوئی چادر بچھا کر بٹھایا اور گھر میں بنا ہوا تازہ کھانا کھلایا ۔

پانی پاس رکھا، فقیر نے کھانا کھایا اور چلا گیا، کچھ دنوں بعد مائی زہرہ کے دروازے پر وہی فقیر اپنے ساتھ ایک دو فقیروں کو لے کر آیا مائی نے خوشی سے ان کو ویسے ہی نیچے چادر پر بٹھایا اور سب کو تازہ کھانا دیا، فقیروں نے کھانا کھایا اور چلے گئے، ایسے ہی روز بروز فقیروں کی تعداد میں اضافہ ہوتا چلا گیا،یہ کوئی چھ یا سات ہو گئے تھے جو ہر روز شام کے وقت مائی زہرہ کے دروازے پر آتے کھانا کھاتے اور چپ چاپ چلے جاتے، یہ سب فقیر یا تو گونگے تھے یا پھر جان بوجھ کر گونگے بنے ہوئے تھے، کیونکہ کہ وہ کچھ بولتے نہ تھے ۔اور مائی زہرہ کو بھی پیسے جمع کرنے کا کوئی لالچ نہ تھا ۔وہ تو ان فقیروں کو کھانا کھلا کر خوش ہوتی تھی ۔کمزور ہونے کے باوجود وہ روزانہ اپنے کام پر جاتی اور تھکی ہاری واپس آتی پھر اپنے گھر کے سارے کام بھی کرتی اور کبھی اس نے نماز نہیں چھوڑی تھی، وہ باقاعدہ طور پر سات نمازیں ادا کرتی تھی اور ہر نماز کے ساتھ بس اب ایک ہی دعا کرتی تھی کہ یا اللہ مرنے سے پہلے مجھے اپنا اور اپنے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم کا گھر ضرور دکھا دینا ۔

ایک دن پھر شام کے بعد لال خونی آندھی آسمان پر چھا گئی،دیکھتے ہی دیکھتے تیز بارش،بادلوں کی خوفناک گرج اور بجلی کی چمک نے سارے آسمان کو اپنی لپیٹ میں لے لیا،مائی زہرہ ڈر گئی تھی اس کا دل گھٹنے لگا تھا یہ قدرتی بات تھی کہ جب بھی مائی زہرہ کی زندگی میں ایسا خوفناک موسم آیا کوئی نہ کوئی اس کی زندگی سے دور گیا، اس کی ممتا ایک عجیب فکر سے تڑپ رہی تھی اتنے میں دیکھتی ہے کہ چارپائی پر پڑا ہوا اس کا بیٹا لمبی سانسیں لیتا ہوا اللہ کو پیارا ہوجاتا ہے اس کی روح دیکھتے ہی دیکھتے جسم سے نکل گئی تھی، یہ کچھ دنوں سے سانس کی بیماری میں مبتلا ہو چکا تھا ۔آخر بیٹا تھا ماں کو کیسے برداشت ہوتا کہ ایک بیٹا اس کی آنکھوں کے سامنے دیکھتے ہی دیکھتے مر گیا ۔

اللہ کے سوا اس طوفانی رات میں بھی مائی زہرہ کے پاس کوئی نہ تھا ۔بیٹے کے مردہ جسم کو اس نے چارپائی پر خود ہی سیدھا کیا مصلہ بچھا کر نماز ادا کی اور تحمل کے ساتھ دعا مانگی ۔اس نے ایک اور بچی ہوئی چادر اپنے ٹوٹے صندوق سے نکالی، صبح ہو گئی ۔جب قبر کھودنے جانے لگے توگاؤں کے کچھ لوگوں نے قبر کھودنے والوں کو قبر کھودنے سے روک دیا ۔انہوں نے کہا کہ قبرستان کی جگہ ختم ہو گئی ہے اب مردے کے وارثوں کو خود جگہ خرید کر قبریں بنانا پڑے گی،

مائی زہرہ چوہدری کے پاس گئی اور روتے ہوئے اس نے ایک قبر کی جگہ کا سوال کیا ۔چوہدری نے کہا کہ ہاں مان لیا کہ اس قبرستان میں جگہ نہیں رہی اگر کوئی بچی بھی ہے تو وہ جوگاؤں کے حقیقی مالک ہیں انہوں نے بھی تو مرنا ہے ۔تم اپنے بیٹے کو باہر وہ ریگستان والے قبرستان میں دفن کر لو ۔مائی ذوہرہ یہ سن کر واپس آ گئی اس نے اپنے تین مرلے کے گھر میں سے دو مرلے قبر ستان کو دے دیے اور اعلان کر دیا کے میرے مرنے کے بعد یہ ایک مرلہ بھی قبرستان کا ہو گا، اسی جگہ پر بیٹے کو دفنا دیا گیا ، اور ہمیشہ کے لیے ایک بیٹا ماں کی زندگی سےچلا گیا ، کچھ دنوں بعد مائی زہرہ پِھر سے ہمت کرنے لگی وہ چُپ ہی رہتی تھی، وہ پِھر سے چودھریوں کے گھر کام پہ جانے لگی، کچھ پیسا ملتا اس سے وہ كھانا بناتی اور گونگےفقیر اس کے دروازے پر آ جاتے، كھانا کھاتے اور چلے جاتے باقی کا كھانا وہ گلی کے کتوں اور بلیوں کو کھلا دیتی ، اور کچھ کھانا اپنی چھت پر پھینکتی جو کوے چڑیاں اور کئی پرندے چوں چوں کرتے سارا دن کھاتے رہتے ، پرندوں کو بس مائی زہرہ سے محبت ہو گئی تھی ، مائی زہرہ کی ہمسائی بھی کچھ عرصہ بعد دنیا سے پردہ کر گئی تھی ،

مائی زہرہ کی عمر اب پینسٹھ برس ہو چکی تھی اس نے بہت لمبی اور مشکل ترین زندگی کی جنگ لڑی تھی ، اب وہ خود کو سرخرو سمجھتی تھی جیسے سارے دکھ ختم ہو گئے ہوں اس کے سَر سے ساری ذمے داریاں بھی ختم ہو چکی تھیں ، مگر اس کی صحت بگڑتی جا رہی تھی ،

ایک دن مائی زہرہ نے نماز پڑھی اور دعا کی یا اللہ مجھے اپنے گھر بلا لے ، میری موت اگر قریب ہے تو مجھے اپنے گھر دکھا کر وہیں جان نکال لینا لیکن مجھے اپنا گھر ضرور دکھا دے ،

مائی زہرہ یہ دعا مانگ کر رات کو سوئی تو اسے خواب میں سفید رنگ کے ایک جیسے کپڑے پہنے ہوئے بہت سے لوگ نظر آئے ، اس نے بہت ہی محبت بھری آواز من اَذان بھی سنی اور پِھر اس نے خانہ کعبہ اپنی آنكھوں کے سامنے دیکھا ہی تھا کے اس کی آنکھ کھل گئی وہ نیند سے جاگ گئی، وہ جاگی تو اس کی کیفیت عجیب ہو گئی وہ اللہ اللہ کرنے لگی، مائی زہرہ کو تیز بخار ہو گیا ، اگلے دن جب فقیر كھانا کھانے آئے تو دیکھا کے مائی نظر نہیں آئی ، پرندے بھی چھت پر سارا دن چی چی کرتے رہے جیسے اداس ہوں ، مائی زہرہ کو فقیر نے دیکھا کے چارپائی پر پڑی ہوئی ہے ، اس نے اپنے چولے سے نکال کر کچھ کھانے کو دیا ، مائی نے کھایا اور پانی پیا اس میں ہمت آئی اور اٹھ کر بیٹھ گئی، اس نے اپنے پاس کھڑے چھے سات گونگے فقیروں سے کہا کہ بناتی ہوں كھانا بناتی ہوں ، بیٹھو تم ، ادھر بیٹھ جاؤ سارے، پھر وہ خوشی سے مجذوبی سی حالت میں انکو اپنا خواب سنانے لگی، آج خواب میں میں نے کعبہ دیکھا ہے ، اللہ کا گھر دیکھا ہے ، میں وہ حقیقت میں بھی دیکھنا چاہتی ہوں ، میں جانا چاہتی ہوں اللہ کے گھر ، مائی زہرہ اٹھی کچھ بنانے کے لیے تو فقیر چلے گئے انہوں نے کہا ہَم کچھ نہیں کھائیں گے-

اگلے دن جب فقیر آئے تو انہوں نے پیسوں کے سکوں کا مائی کے آگے ڈھیر لگا دیا، وہ یہ پیسا مائی زہرہ کو دے رہے تھے کہ وہ اپنی خواہش پوری کر لے اور اللہ کے گھر کا عمرہ کرنے چلی جائے ، مائی زہرہ نے وہ پیسے واپس کیے لیکن باضد فقیروں نے وہ سارے پیسے مائی کے حوالے کر دیے، مائی زہرہ کچھ دنوں بعد انہی پیسوں سےعمرہ پر چلی گئی،

مائی زہرہ خانہ کعبہ کے سامنے بیٹھ کر بے حد روتی ہے، اور خوش ہوتی ہے اللہ کے گھر کا طواف کرتی ہے اور وہ پِھر بار بار آج اتنا روتی ہے کہ جیسے سہمے اورخوفزدہ بچے کو اچانک اپنی ماں مل جاتی ہے اور وہ کھل کر زور زور سے رونے لگتا ہے، پِھر آہستہ آہستہ مائی زہرہ کو صبر آیا، اس نے ہمت کی، ہجر اسود کا بوسہ لیا، اگلے دن وہ قافلے کے ساتھ مدینتہ المنورہ کو روانہ ہوتی ہے، مائی زہرہ گرمیوں کی کڑک اور آگ جیسی دھوپ میں جب مدینہ پاك پھنچتی ہے تو زمین پرقدم رکھنے سے پہلے وہ اپنے پاؤں کی جوتی کو اپنے سر پر رکھ لیتی ہے ، اور یہ کہتے ہوئے قدم مدینہ کی زمین پر لگاتی ہے کہ اے اللہ کے پیارے حبیب میں دنیا کی گنہگار اور پاپوں کی چھٹی پھوکی ہوئی اِس قابل نہیں کہ تیری اِس پاک زمین پر قدم رکھوں اس پاک زمین پر تیرے بھی تو قدم لگے ہیں پھر میں اپنے قدم تیرے قدموں پر کیسے رکھ لوں لیکن میرا عشق مجے مجبور کر رہا ہے، پِھر وہ اپنا پہلا قدم مدینہ پاك کی پاك زمین پر رکھتی ہے ، اور جھومتی جھولتی ہوئی کبھی گھسٹتی ہوئی وہ قافلے کے ساتھ روزہ رسول کی طرف جاتی ہے ، وہ اپنے منہ میں کچھ گنگناتی ہوئی جا رہی ہے ، وہ دنیا اور زندگی کو بھول چکی تھی اس کے جسم میں عشق مصطفیٰ سے توانا ئی آ گئی تھی،

مائی زہرہ روزہ رسول پر پہنچ کر تقریباً مجذوب ہو چکی تھی ، جس دن مائی زہرہ سے کہا گیا کہ چلو آج واپس جانا ہے اور واپس جانے کا وقت ہو گیا ہے ، مائی زوہرہ یہ سن کر بھاگتی ہوئی روزہ رسول پر گئی نیچے سے خاک اٹھا کر اپنے سر میں اپنے بالوں میں ڈالنے لگی اور پِھر وہ سجدے میں گر گئی اور اسی حالت میں وہ اللہ اور اپنے محبوب کے قدموں میں گری ہوئی اِس دنیا کو ہمیشہ کے لیے چھوڑ گئی، اسی دن گاؤں کا چوہدری بھی مر گیا تھا،

اسے مائی زہرہ کے ایک مرلہ کے گھر میں قبر بنا کر دفنا دیا گیا اور مائی زہرہ کو مدینہ پاک میں جَنَّة ٱلْبَقِيع‎میں دفن کر دیا گیا ،،،

مائی زہرہ کے گھر پر کئی دنوں تک پرندے روتے رہے اور گلی کے کتے بھی اداس پھرتے رہے ، ، ، ، ، ، ، ، ،

وہ اِس دنیا کو چھوڑ گئی تھی ، وہ ہمیشہ کے لیے اپنے اللہ کے پاس چلی گئی تھی،

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

"شادی نجی معاملہ ہے” چینوا اچیبے(نائجیریا) نجم الدین احمد

عالمی ادب سے انتخاب "شادی نجی معاملہ ہے” چینوا اچیبے(نائجیریا) نجم الدین احمد "کیا تم …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے