سر ورق / کالم / پیامِ اقبال! …ملک شفقت اللہ

پیامِ اقبال! …ملک شفقت اللہ

پیامِ اقبال!

 ملک شفقت اللہ
علامہ محمد اقبالؒ تحریک احیائے اسلامی کے اصل معماروں میں سے ہیں۔ آپ کی علمی و ادبی زندگی کا آغاز انیسویں صدی کے آخری عشرے میں ہو گیا تھا، لیکن قومی زندگی پر ان کے اثرات یورپ سے واپسی کے بعد مرتب ہونا شروع ہوئے۔ اسرارِ خودی کی اشاعت اور انجمن حمایت اسلام کے جلسوں میں ان کی روح پرور شرکت نے نہ صرف فکرِ اقبال کے نئے دور کا آغاز کیا ، بلکہ اسی سے ان کی زندگی میں ملی جذبے کے ساتھ نئے باب کی شمولیت بھی ہوئی۔ اقبال نے اپنا پیغام ، نظم و نثر اور زبان و قلم کے ذریعے پیش کیا اور بالآخر عملی سیاست میں شرکت کرکے تغیر و تعمیرکے عمل میں مؤثر کردار ادا کیا ۔ ان کی مساعی کا ثمرہ اسلامی فکر کی تشکیل نو ، ملت کی مزاجی کیفیت کی تعمیرِ جدید، ایک غلام قوم کی آزادی اور ایک عظیم اسلامی مملکت کے قیام کی صورت میں دیکھا جا سکتا ہے۔
ساتویں صدی ہجری میں جو کام مولانا جلال الدین رومیؒ نے مثنوی کے ذریعے انجام دیا تھا اسے دوبارہ اقبالؒ نے اولاََ اسرارِ خودی اور رموزِ بے خودی اور پھر جاوید نامہ ، پس چہ باید کردا اور اقوام مشرق کے ذریعے زندہ و جاوداں کیا۔ اسرارِ خودی میں جمود اور انحطاط کے بنیادی اسباب کی نشاندہی کی گئی ہے۔یونانی اور عجمی اثرات کی وجہ سے تصوف پر جو حیات کش تصور مسلمانوں کے ذہنوں پر مسلط ہو گیا تھا ، اس کی تباہ کاریوں کو بیان کیا گیاہے اور نفیِ ذات ، ترکِ دنیا کی جگہ اثباتِ خودی اور تعمیر حیات کا اسلامی تصور پیش کیا گیا ہے۔اسرارِ خودی کا مرکز تصور ایمان کی دریافت اور اس کی قوت سے مردِ مومن کی تشکیل ہے۔ رموزِ بے خودی میں اس اجتماعی ، اداراتی اور تاریخی پس منظر کو بیان کیا گیا ہے جس میں انسان اپنا تعمیری کردار ادا کرتا ہے۔فرد اور ملت کا تعلق ، اجتماعی نصب العین ، خلافت الٰہی کی تشریح و توضیح، اجتماعی نظم اور ادارات کی نوعیت، خودی کی پرورش اور ملی شخصیت کی نمو میں تاریخ کے حصے پر روشنی ڈالی گئی ۔ جاوید نامہ در حقیقت شاعر کے روحانی سفر کی داستان ہے جس میں وہ عالمِ افلاک کی سیر کرتا ہے ۔ دنیا اور اس کے ماورا پر بصیرت کی نظر ڈالتا ہے اور مشرق و مغرب کی نمائندہ شخصیات کی زبان سے آج کی دنیا کے حالات ، مسائل ، افکار اور مسلمانوں کے ماضی، حال اور مستقبل کے نقوش کو نمایاں کرتا ہے۔ پش چہ باید کردا اقوام شرق میں تہذیب کے چیلنج کا مطالعہ کیا گیا ہے اور بتایا گیا ہے کہ یورپ کی ترقی کا اصل سبب کیا ہے اور مغربی تہذیب کے روشن اور تاریک پہلو کیا ہیں۔ مغرب کی اندھی تقلید کے خطرے سے قوم کو متنبہ کیا گیا ہے اور ترقی کی راہ کی نشان دہی کی گئی ہے۔پیامِ مشرق اور ارمغانِ حجاز میں یہی پیغام دوسرے انداز میں بیان کیا گیا ہے اور اس کا اظہار اردو کلام میں بھی ہوا ہے۔خصوصیت سے بانگ درا کی قومی نظموں میں بالِ جبریل ولولہ انگیز تغزل میں اور ضربِ کلیم کے بے باک رجز میں ، جسے اقبال نے خود دورِ حاضر کے خلاف اعلان جنگ قرار دیا ہے۔
اسلام کے تصور مذہب کی علمی اور فلسفیانہ تعبیر اسلامی الٰہیات کی تشکیل جدید میں پیش کی گئی ہے ۔ اس کتاب میں بنیادی طور پر مغرب کے فکری رجحانات کو سامنے رکھ کر انسان ، کائنات اور خدا کے بارے میں اسلامی تصور کی وضاحت کی گئی ہے۔مذہب اور سائنس کے تعلق سے بحث کی گئی ہے اور ذرائع علم کا تنقیدی جائزہ لے کر بتایا گیا ہے کہ دورِ جدید کے یک رخے پن کے مقابلے میں اسلام میں کس طرح عقل ، تجربے اور وجدان کی ہم آہنگی قائم کی گئی ہے۔اقبال نے اپنے افکار کے اظہار کیلئے بنیادی طور پر شعر کو ذریعہ بنایا اور غالباََ اس کی وجہ یہ تھی کہ ایک شکست خوردہ قوم کو حرکت اور جد و جہد پر ابھارنے کیلئے عقلی اپیل کے ساتھ ساتھ جذباتی تحریک کی ضرورت تھی ۔وقت کی ضرورت محض عقل کو مطمئن کرنا نہیں تھی بلکہ جذبات میں تموج برپا کر کے اس جمود کو توڑا جائے جس میں ملت گرفتار تھی۔ان کے خیال میں مسلمانوں کے زوال کا بنیادی سبب یہ تھا کہ انہوں نے غیر اسلامی اثرات کے تحت ایک ایسے تصور حیات کو شعوری طور پر اختیار کر لیا جو اسلام کی ضد تھا ۔اسلام کی جو تشریح و توضیح اقبال نے کی ہے ، اس کی امتیازی خصوصیت اس کا حرکی اور انقلابی پہلو ہے۔ کائنات کی سب سے اہم خصوصیت یہ ہے کہ اس میں عملِ تخلیق و ارتقا جاری ہے۔کائنات محض ایک تخلیقی حادثہ نہیں ہے بلکہ اس میں کن فیکون کا سلسلہ جاری وہ ساری ہے اور جاوداں ، پیہم رواں ، ہر دم جواں ہے۔ان معروضات کی روشنی میں سمجھا جا سکتا ہے کہ اقبال ایک فرد کا نام نہیں ، بلکہ ایک دور کی شناخت اور خصوصیت سے مسلمانانِ بر صغیر کی امتِ مسلمہ کو خواب غفلت سے بیدار کر کے میدان حیات میں اپنا تہذیبی و سیاسی مقام حاصل کرنے کی جد و جہد کی طرف پکارا۔نوجواں نسل اور معماران نسلِ میں فکر ، فہم اور دانشِ اقبال مٹتی جا رہی ہے، جس کی اہم وجہ نصاب میں علامہ اقبال کو کم سے کم پڑھایا جانا ہے۔ حکومت کو چاہئے کہ ثانوی درجوں میں بھی علامہ اقبالؒ کی فکر و دانش کو پڑھایا جائے۔

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

نوخیزیاں/ پاکستانیوں کے مغالطے …گل نوخیزاختر

نوخیزیاں/گل نوخیزاختر پاکستانیوں کے مغالطے ایک دور تھا جب مجھے اپنا آپ سو فیصد ٹھیک …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے