سر ورق / افسانہ / ”  پرکھوں کی نشانی ” ۔ خالد شیخ طاہری

”  پرکھوں کی نشانی ” ۔ خالد شیخ طاہری

”  پرکھوں کی نشانی "

از۔ خالد شیخ طاہری

جامشورو سندھ

سردار سہراب خان کی جب میڈیکل رپورٹس آئیں تو اسے اپنے سیاسی کیریئر اور اپنے خاندان کی سیاسی ساکھ کے مستقبل کی فکر نے آن گھیرا۔ رپورٹس کے مطابق سہراب خان کے جگر نے ستر فیصد کام کرنا چھوڑ دیا تھا۔ بلند فشار خون اور ذیابطیس جیسے مرض تو اس نے کئی سالوں سے پال رکھے تھے۔ حالیہ رپورٹس دیکھ کر ڈاکٹروں نے اسے چھ ماہ کا وقت دے دیا تھا۔ وہ بھی اس شرط پر کہ شراب کو ہاتھ نہیں لگائے گا ورنہ وقت سے پہلے اس کی بچی کچی سانسیں ساتھ چھوڑ سکتی ہیں۔

سہراب خان چاہتا تھا کہ اُس کا بیٹا مہتاب خان اُس کی زندگی میں ہی اپنے سیاسی کیریئر کا آغاز کر کے پارٹی کی لیڈرشپ سنبھال لے تاکہ جدّی پشتی سیاست اس کے گھر کی لونڈی بنی رہے۔ اپنی اسی چاہت کو پورا کرنے کے لیے بیٹے کو اعلی تعلیم حاصل کرنے برطانیہ بھیج چکا تھا۔جو وہاں کی مشہور یونیورسٹی سے پولیٹیکل سائنس کی ڈگری لے کر مستقبل قریب میں پاکستان لوٹ رہا تھا۔ سہراب خان کی سیاسی بصیرت نے اپنے بیٹے میں وہ تمام گُر دیکھ لیے تھے جو ایک کامیاب سیاستدان میں ہوتے ہیں۔ اسی ایجنڈے پر بلائی جانے والی مرکزی رہنماؤں کی ایک میٹنگ میں جب سہراب خان نے اپنے بیٹے کو اس کی غیر موجودگی میں پارٹی کا سربراہ نامزد کیا تو کسی پارٹی رہنما نے اعتراض نہیں کیا کیونکہ سب جانتے تھے مہتاب خان ہی پارٹی کی گرتی ہوئی ساکھ کو بحال کر سکتا ہے۔ اس کا سیاسی پس منظر خاندانی لحاظ سے بہت مضبوط تھا، لہذا سب نے سہراب خان کے فیصلے کو سراہا اور اگلا الیکشن مہتاب خان کی قیادت میں لڑنے کا فیصلہ کر لیا۔

                                       ***

 مہتاب خان کی وطن واپسی پر اس کا والہانہ استقبال کیا گیا۔ پورے شہر میں جشن کا سماں تھا۔ سہراب خان کی حویلی کے باہر کھانا تقسیم کیا جا رہا تھا۔ پارٹی کے  مرکزی رہنما سہراب خان کی حویلی میں موجود تھے۔ وسیع و عریض لان میں ملک کے مختلف شہروں سے آئے ہوئے معزز مہمانوں سے مہتاب خان مبارکبادیں وصول کر رہا تھا۔

 خوبصورت مضبوط لاٹھی کا سہارا لیتا ہوا سہراب خان مہمانوں کو لان میں چھوڑ کر حویلی کے اندرونی حصے میں آ گیا۔ اسے تھوڑی دیر بعد ایک مختصر سی تقریر کرنی تھی جس کے لیے وہ ذہنی طور پر تیار ہونا چاہتا تھا۔

پیچھے پیچھے اُس کا وفادار نوکر بہرام بھی داخل ہوا۔

” بہرام !” سہراب خان نے چلتے چلتے بہرام کو مخاطب کیا.

” جی سائیں حکم۔ ” بہرام ہاتھ جوڑے جلدی جلدی قدم بڑھا کر سہراب خان کے ساتھ چلنے لگا.

اپنے کمرے میں پہنچ کر سہراب خان صوفے پر بیٹھ گیا اس کے چہرے پر سنجیدگی طاری تھی۔ بہرام ہاتھ اس کے سامنے جوڑے کھڑا تھا۔

” سائیں سب ٹھیک ہے نا؟ آپ پریشان نظر آ رہے ہیں؟ ” بہرام نے سہراب خان کو خاموش دیکھ کر استفسار کیا۔

” نا بابا.. بس مہتاب کے بارے میں سوچ رہا ہوں۔ میں چاہتا ہوں کہ تم اب مہتاب کے ساتھ رہا کرو۔ تم ہمارے خاندانی وفادار ہو۔۔تمہارے سوا کسی پر بھروسہ نہیں کر سکتا۔”

سہراب خان صوفے سے اُٹھ کر بہرام کے ساتھ کھڑا ہو گیا۔

” اللہ سائیں آپ کو حیاتی دے۔ جو حکم آپ کا۔۔ مگر آپ ہمیں خود سے دور مت کیجیے گا سائیں۔” بہرام جوڑے ہوئے ہاتھ سہراب کے آگے کرتے ہوئے عاجزانہ لہجے میں بولا۔۔

” اڑے بابا۔۔ میں ابھی کی بات نہیں کر رہا، بس میرے بعد مہتاب تمہاری ذمہ داری ہوگا۔” سہراب خان نے بہرام کے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا اور بہرام کو غور سے دیکھنے لگا۔

” بس سائیں۔۔آپ فکر نا کریں۔ مہتاب سائیں آج سے میری ذمہ داری ہیں۔” بہرام نے اپنا سر تھوڑا خم کر کے سینے پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا..

بہرام کی بات سُن کر سہراب خان نے تحسین آمیز نظروں سے بہرام کی طرف دیکھا اور اس کے کندھے پر سے ہاتھ ہٹا کر اُسے باہر جانے کا اشارہ کردیا۔ خود واپس صوفے پر بیٹھ کر لمبی لمبی سانسیں لینے لگا۔ نقاہت سے اس کا چہرہ زرد ہو رہا تھا۔اس نے صوفے سے ٹیک لگا کر آنکھیں بند کر لیں۔ بظاہر تو وہ آنکھیں بند کیے بیٹھا مگر وہ مہتاب کے مستقبل کے بارے میں سوچ رہا تھا۔ تھوڑا پُرسکون ہونے کے بعد اپنی مختصر سی تقریر دھرانے لگا جو ابھی باہر سب کے سامنے کرنی تھی۔ ایک وقت تھا وہ بلا تھکان ایک ایک گھنٹہ تقریر کر لیتا تھا مگر اب دس منٹ کی تقریر کرنے کے لیے بمشکل خود کر تیار کر پا رہا تھا۔

                                     ***

مہتاب خان بہت جلد اپنے جوشیلے اندازِ خطاب طاقتور سیاسی پس منظر کی وجہ سے عوام میں مقبول ہونے لگا۔ ادھر سہراب خان کی بیماری نے اسے بستر سے لگا دیا تھا۔ اسی دوران مہتاب خان بستر مرگ پر ہی باپ سے سیاسی چالبازیاں و چالاکیاں بڑی حد تک سیکھ چکا تھا۔ ایک دن اچانک سہراب خان کو دل کا دورہ پڑا اور تین دن ہسپتال میں رہ کر راہ عدم پر اپنے اعمال سمیت روانہ ہو گیا۔

باپ کے مرنے کے بعد مہتاب خان نے پارٹی کی ساری بھاگ دوڑ مکمل طور پر سنبھال لی اور دو سال کے اندر اندر اپنی ولولہ انگیز قیادت سے پارٹی کو عروج پر پہنچا دیا۔ جس کی وجہ سے پورے ملک میں پارٹی پوزیشن مستحکم ہو گئی۔ پارٹی رہنماؤں کو یقین تھا کہ آنے والا الیکشن وہ ہی جیتیں گے۔ الیکش مہم شروع ہو چکی تھی۔ مرکزی رہنماؤں کی مشاورت سے پارٹی کا پہلا جلسہ مہتاب خان کے آبائی شہر میں کرنے کا اعلان کر دیا۔

                                        ***

شہر کے باہر ایک بہت بڑے میدان میں جلسے کی تیاری مکمل ہو چکی تھی۔

جلسہ گاہ میں ہر طرف رنگوں کی بہار بکھری ہوئی تھی،  پارٹی اور پاکستان کے پرچم لہرا رہے تھے۔ منچلوں، عورتوں اور بچوں نے اپنے چہروں پر ایک طرف پارٹی کا پرچم اور دوسری طرف پاکستان کا پرچم پینٹ کروایا ہوا تھا۔ جگہ جگہ پارٹی ” لاڈلے ” قومی پرچم کے ساتھ پارٹی پرچم لہرا کر قومی ترانوں پر رقص کر رہے تھے۔ خواتین کا جذبہ بھی قابلِ دید تھا وہ لاڈلوں کی بھرپور حوصلہ افزائی کر رہی تھیں۔ یہ جذبہ یہ ولولہ اپنے پیارے وطن پاکستان کے لیے اپنے عروج پر کیوں نا ہوتا اُن کے قائد نے جو  وطن کی محبت اُن کے دلوں میں کوٹ کو ٹ کر بھری دی تھی. اپنے قائد کی اثر انگیز فکر کو سینے میں سمائے یہ جوشیلے کارکن پاکستان کی طرف اُٹھنےوالے ہر ہاتھ کو کاٹنے اور ہر بُری آنکھ کو نکال دینے کے لیے ہر وقت تیار رہتے تھے۔ سیکورٹی اہلکار الرٹ تھے گو کہ ابھی کوئی پارٹی رہنما جلسہ گاہ نہیں پہنچا تھا پھر بھی لوگوں کی سخت نگرانی ہو رہی تھی۔ کنٹینروں سے بنے شاندار اسٹیج کے پیچھے بڑے سے خوبصورت بینر پر پارٹی رہنماؤں کی تصاویر کے ساتھ سردار مہتاب خان کی تصویر نمایاں طور پر موجود تھی جس کے نیچے جلی حُروف میں ” فخرِ پاکستان ” جگمگا رہا تھا۔ پارٹی رہنماؤں کی آمد کسی بھی وقت متوقع تھی۔ لاکھوں افراد جلسہ گاہ میں اور کروڑوں عوام ٹی وی پر اپنے قائد کی ولولا انگیز تقریر سننے کے لیے بے قرار تھے۔ مہتاب خان کی حویلی میں پارٹی کے تمام مرکزی رہنما موجود تھے جو مہتاب خان کے اشارے کے منتظر تھے۔ اشارہ ملتے ہی انہیں جلسہ گاہ روانہ ہوجانا تھا۔

                                    ***

جلسہ اپنے عروج پر پہنچ چکا تھا۔ پارٹی رہنما باری باری اپنی تقریریں کر کے اپنی نشستوں پر بیٹھ چکے تھے۔  سب کو اپنے قائد کی تقریر کا انتظار تھا۔ کمپیئر نے جیسے ہی مہتاب خان کی تقریر کا اعلان کیا پورا پنڈال پارٹی نعروں سے گونج اُٹھا اور پارٹی ترانے نے پوری جلسہ گاہ میں ایک سماں سا باندھ دیا۔

مہتاب خان مائیک تک پہنچا اور کارکنوں کے نعروں کا جواب ہاتھ ہلا کر دینے لگا۔ مہتاب خان نے اپنے مخصوص انداز میں تقریر شروع کی۔ جیسے جیسے تقریر آ گے بڑھتی جا رہی تھی، نعروں کی گونج بھی تیز سے تیز تر ہوتی جا رہی تھی۔ تقریر کے دوران اب پارٹی نعروں کے ساتھ ساتھ ” پاکستان زندہ باد ” ” قائد اعظم پائندہ باد ” کے نعرے بھی لگ رہے تھے.. پورے جلسہ گاہ میں مہتاب خان کی آواز گونج رہی تھی۔

” یہ ملک انگریزوں نے ہمیں پلیٹ پر رکھ کر نہیں دیا ہے۔ یہ ہمارے آباؤ اجداد کی جدوجہد تھی جس نے انگریزوں کو آزادی دینے پر مجبور کیا۔ ہمارے باپ دادا اگر یہ جنگ نا لڑتے شاید ہم آج تک غلامی کی زنجیروں سے جکڑے انگریزوں کے ہر ظلم ستم پر سر جھکائے ان کے سامنے ہاتھ باندھے کھڑے ہوتے۔ یہ پاکستان ہمارے پُرکھوں کی عظیم قربانیوں کا صلہ ہے جہاں ہم آج سر اُٹھا کر جی رہے ہیں… آؤ ! آج کے دن ہم سب مل کر عہد کریں کہ کبھی اپنے محسنوں کی عظیم قربانیوں کو ضائع نہیں ہونے دیں گے..مل کر پاکستان کی حفاظت کریں گے۔ اگر ہم نے آج اپنے بڑوں کے جہدوجہد کو بھلا دیا.. تو سوچو میرے جوانو !! کل قیامت کے دن ہم کس منہ سے اُن کے سامنے کھڑے ہوں گے…. آج مجھے سے وعدہ کرو پاکستان کے خلاف دشمنوں کے ہر عزائم کو خاک میں ملا دو گے۔” مہتاب خان کی تقریر اب ختم ہونے والی تھی. مہتاب خان آخر میں عوام سے ملک اور پارٹی سے وفاداری اور ووٹ دینے کا عہد لے رہا تھا۔ تقریر کے اختتام پر اُس نے پُرجوش نعرہ لگایا

” پاکستان زندہ باد "

عوام نے مہتاب خان کے نعرے کا جواب بھی پرجوش انداز میں دیا۔

تقریر ختم ہوتے ہی جلسہ گاہ میں نعرے اور ترانے گونجنے لگے، مہتاب خان کارکنوں کے نعروں کا جواب اپنے روایتی انداز ہاتھ جوڑ کر دے رہا تھا.

تھوڑی دیر بعد مہتاب خان کو پارٹی کی طرف سے سونے کا تمغہ اور تاج پہنایا گیا۔ کچھ دیر بعد بلند شگاف نعروں کی گونج میں  رہنماؤں کا قافلہ مہتاب خان کی سربراہی میں واپس حویلی کی جانب روانہ ہو گیا۔۔

                                           ***

” بہرام ! ہماری تقریر کیسی لگی؟ ” مہتاب خان نے حویلی میں قدم رکھتے ہی بہرام سے مسکراتے ہوئے سوال کیا..

” سائیں۔۔ ہمیشہ کی طرح زبردست۔ آج تو آپ نے کمال ہی کردیا۔ بڑے سائیں کی یاد دلادی”  بہرام نے ہاتھ جوڑتے ہوئے خوشامدی لہجے میں جواب دیا۔ سہراب خان کے بعد بہرام اب ہر جگہ مہتاب خان کے ساتھ ساتھ رہتا تھا۔

” ہممم۔۔ "مہتاب خان اپنی مونچھوں کو تاؤ دیتا ہوا اپنے کمرے کی جانب بڑھ گیا۔ بہرام ساتھ ساتھ چل رہا تھا۔

"اچھا ابھی دس منٹ کے بعد کھانا لگواؤ، اور ہاں کسی چیز کی کمی نہیں ہونی چاہیے۔ میں کپڑے بدل کر آتا ہوں..”  مہتاب خان نے کمرے کے دروازے پر رک کر کہا اور اندر داخل ہو گیا۔ پارٹی کی طرف سے دیا ہوا تمغہ اُس کے گلے میں لٹکا ہوا تھا اور تاج اس کے ہاتھ میں تھا۔

کمرے میں پہنچ کر مہتاب خان نے تمغہ گلے سے اُتارا اور دائیں جانب دیوار پر بنے خوبصورت شیلف کی جانب بڑھ گیا۔ اُس نے تمغہ شیلف میں لگےخوب صورت ہکس کی دوسری رو میں لٹکایا اوراور طلائی تاج ایک طرف رکھ کر فخریہ انداز سے شیلف پر لٹکے دیگر خوبصورت تمغوں اور شیلڈز کو دیکھنے لگا۔ تھوڑی دیر دیکھنے کے بعد آگے بڑھا اور پہلی رو میں لٹکے ہوئے اپنے دادا اور پڑ دادا کے تمغوں اور شیلڈز کو ٹھیک کرنے لگا جن پر برطانیہ حکومت کی طرف سے وفاداری کے تعریفی الفاظ کندہ تھے.

                                   ختم شد

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

*سسکیاں۔۔۔ روما رضوی

*سسکیاں* روما رضوی ریل کی سیٹی تهی یا ہارن اس کے  بجتے ہی ہجوم میں …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے