سر ورق / ناول / خون ریز…امجد جاوید …قسط نمبر 3

خون ریز…امجد جاوید …قسط نمبر 3

خون ریز

امجد جاوید

قسط نمبر 3

میرا خیال تھا کہ وہ میرے پیچھے حویلی میں آ ئے گا لیکن تنّی نے ایسا نہیں کیا۔ میں سوچ رہا تھا کہ وہ اتنی جلدی میرے پیچھے کیسے آگیا؟کیا اسے علم تھا کہ مجھ پر فائرنگ ہونے والی ہے ؟کیا وہ ہر وقت اپنے ساتھ پسٹل رکھتا ہے یا اسی موقعہ کے لئے اس نے پسٹل اپنے ساتھ لیا تھا ؟وہ ایسا کیوں کر رہا ہے ؟ کیا میرا اعتماد جیتنا چاہتا ہے ؟ایک دم ہی سے کئی سوالوں نے مجھے گھیر لیا ۔ تنّی کا کردار میرے لئے مشکوک ہو چکا تھا ۔ وہ شام ڈھلنے تک نہیں آ یا۔ میں اس کا انتظار کرتا رہا ۔ اس کے نہ آنے سے میری سوچوں کو تقویت ملنے لگی تھی۔ میں بابا کو اس فائرنگ کے بارے میں نہیں بتانا چاہتا تھا لیکن میں فوری طور پر جیپ کو نہیں چھپا سکتا تھا ۔انہیں پتہ چل گیا تو وہ تشویش میں مبتلا ہو گئے ۔ کچھ دیر سوچتے رہنے کے بعد بولے

”کیا پولیس کو اطلاع دی تم نے ؟“

” نہیں ،لیکن ابھی بتاتا ہوں ۔“ میں نے کہا اور تھانے فون کرنے لگا ۔ کچھ دیر بعد راﺅ ظفر سے میرا رابط ہو گیا ۔ میں نے اسے سارے واقعہ کے بارے میں مطلع کیا ۔ اس نے رپورٹ بنانے کے لئے بندے بھیجنے کا کہہ دیا ۔ میںنے زیادہ بات نہیں کی اور فون بند کر دیا ۔بابا کافی حد تک مطمئن ہوگئے تھے ۔

” بیٹا ، تم ایسا کرو ، کچھ دن کے لئے لاہور چلے جاﺅ ، وہاں چند دن رہو ، پھر فریش ہو کر واپس آ نا ۔“

” بابا، میں جانتا ہوں آپ یہ مجھے کیوں کہہ رہے ہیں ، میں نے جانا تھالاہور اپنا مکمل چیک اپ کرانے لیکن اب نہیں ، اب میں گیا تو میرا دشمن یہی سمجھے گا کہ میں ڈر گیا ۔“ میں نے بڑے ادب سے انہیں اپنا موقف بتادیا

” نہیں بیٹا، دشمن کا مقابلہ طاقت سے زیادہ عقل سے کیا جاتا ہے ۔بھر پور وار کے لئے تھوڑا پیچھے ہٹنا پڑتا ہے ۔“بابا نے سمجھاتے ہوئے کہا

” لیکن دشمن سامنے ہو اور میں اس پر وار کررہاہوں تب نا ، ابھی تو میںنے اسے تلاش کرنا ہے ۔“ میں نے اپنا لہجہ مودب رکھا

” پھر بھی چند دن کے لئے ہی سہی تم ابھی چلے جاﺅ ۔“ انہوں نے پھر سے کہا تو میں انکار نہیں کرسکا تھا ۔ اس لئے کہا

” ٹھیک ہے بابا، میں چلا جاﺅں گاایک دو دن میں ۔“

”نہیں ، تم آج ہی جاﺅ گے ۔“ بابا نے کافی سختی سے کہا تو میں نے ہنستے ہوئے کہا

” بابا اگر یہی حملے مجھ پر لاہور میںبھی ہو نے لگے تو پھر کیا کروں گا ؟“

میری یہ بات سن کر وہ کچھ دیر کے لئے گم سم سے ہو گئے ، پھر جیسے انہیں یہ احساس ہو گیا کہ ایسا ہونا ممکن ہے تو میری طرف دیکھ کر بولے

” بات تو تمہاری ٹھیک ہے ۔وہاں تم کیا کرو گے ۔ ٹھیک ہے تم وہاں سے زیادہ یہاں محفوظ ہو ۔ بس باہر نہ نکلا کرو ۔“ انہوں جھنجھلاتے ہوئے کہا تو میں نے بابا کے دونوں شانوں پر ہاتھ رکھ دئیے ۔ پھر ان کی آ نکھوں میں دیکھتے ہوئے بولا

” بابا میں جانتا ہوں کہ میں اکلوتا ہوں ۔ مجھے اس دنیا کے ساتھ چلنا ہی نہیں اس کا مقابلہ بھی کرنا ہے ۔میں نے یہاں رہنے کے نہ صرف بہت سوچا ہے بلکہ اس کی تیاری بھی کرنے کی کوشش کی ہے ۔آپ گھبرائیں مت ، میں دیکھ لوں گا جو کوئی بھی ہے ۔“

” یار کبھی کبھی مجھے گمان ہوتا ہے ، کہیں یہ سب اکبر تو نہیں کروا رہا، جائیداد کا اسے ہی فائدہ مل سکتا ہے ۔“بابا نے اپنا شک ظاہر کیا تو میں نے انہیں یقین دلاتے ہوئے کہا

” بابا ، اس میں اتنی جرات نہیں کہ وہ اتنا بڑا کھیل، کھیل سکے ۔ میں جانتا ہوں وہ کس بات پر ناراض ہے ۔میں لمحوں میں اس کی ناراضگی دور کر سکتا ہوں۔ اکبر دل میں کینہ رکھ سکتا ہے ، مجھ سے یا آپ سے حسد کر سکتا ہے ، کہیں بھی ہماری مخالفت کر سکتا ہے لیکن ایسا نہیں کرسکتا جو ہو رہا ہے ۔“

” ہاں ایسا توہے ، لیکن یہ سب کیوں ہو رہا ہے ؟“ بابا نے کہا

”جہاں تک مجھے یاد پڑتا ہے ، میری اتنی بڑی دشمنی کسی کے ساتھ نہیں تھی اور نہ حالیہ دنوں میں ہوئی ہے ۔ نہ آپ کا ایسا کوئی وطیرہ رہاہے ۔خیر دیکھتے ہیں کون ہے ۔ سنبھال لیں گے اسے ۔“ میں نے مسکراتے ہوئے ادب سے کہا اور پھر انہیں صوفے پر بٹھا دیا ۔تبھی وہ پھر کچھ نہیں بولے ۔میں انہیں زیادہ ڈسٹرب نہیں کرنا چاہتا تھااس لئے ان سے ادھر اُدھر کی باتیں کرنے لگا تاکہ ان کی توجہ بٹ جائے ۔

٭….٭….٭

شام ہو نے کو تھی ۔ہم رات کا کھا نا کھا چکے تھے ۔میرا دماغ اسی ادھیڑ بن میں تھا کہ اگر اسلم اے ایس آئی غائب ہو گیا ہے تو اس کے بارے میں پتہ کروایا جا سکتا ہے ۔ گاﺅں میں ایسے لوگ تھے جو پھتّو مسلّی یا فیروز کے بارے میں اطلاع دے سکتے تھے ۔میں اس معاملے میں مدد لینے کے بارے میں سوچ رہا کہ وہ کون بندہ ہو جو یہ میرے لئے انتہائی خاموشی یہ کام کر دے ۔ اسلم ای ایس آئی کے لئے مجھے شہر سے کوئی بندہ تلاش کرنا تھا ۔ میں یہ سوچ ہی رہا تھا کہ شہر سے چند پولیس والے آ گئے ۔وہ رپورٹ لکھنے آئے تھے ۔ انہوں نے حالات کے بارے میں تفصیلی لکھا ، مجھے سے کچھ دیر سوال جواب کرتے رہے پھر مہمان خانے میں کھانا کھا کر واپس چلے گئے ۔انہیں گئے زیادہ وقت نہیں ہوا تھا کہ چوہدری سردار ایم پی اے کی کار آ رُکی ۔اسے مہمان خانے میں موجود خاص کمرے میں بٹھایا گیا ۔

” میں تو آ ج آ یا ہوں لاہور سے پورے بیس دن بعد ، مجھے بتایا تو تھا میرے ایک آ دمی نے لیکن اتنا بڑا مسئلہ بن جائے گا ، یہ تو گمان میں بھی نہیں تھا ، ویسے بات کیا ہوئی ہے ؟“ اس نے پوچھا تو بابا اسے بتانے لگے ۔ میں غور سے بات سن رہا تھا ۔ میں اس وقت چونک گیا جب بابا نے ارم کے بارے میں ایک لفظ بھی نہیں کہا ۔جیل کے اندر تک رسائی کے بارے میں بابا نے یہی بتایا کہ ان کے ایک دوست کی وجہ سے یہ ممکن ہوا ۔ مجھے تھوڑا تعجب تو ہوا لیکن میں خاموش رہا تاکہ ان سے بعد میں اس بارے پوچھوں گا ، بابا ساری بات کہہ کر بولے

”اب جو کوئی بھی دشمن ہے ، پتہ نہیں اسے علی سے کیا بیر ہے ۔“

” دیکھیں ، میں جیسا بھی ایم پی اے ہوں ، مانتا ہوں کہ اپوزیشن میں ہونے کی وجہ سے آج کل میری شنوائی کہیں نہیںہے۔ تھانے والے بھی میری بات نہیں مانتے لیکن پھر بھی اتنا گیا گزرا تو نہیں ہوں کہ آپ کی کوئی مدد ہی نہ کر سکوں ۔ کچھ تعلق تو اب بھی ہیں نا میرے ۔“ اس نے شکوہ بھرے لہجے میں کہا

”ہماری کسی کے ساتھ کوئی دشمنی نہیں ہے تو ہم کیا کہیں اس معاملے میں چوہدری صاحب ۔“ بابا نے سکون سے کہا

” علی نوجوان ہے اور یہ لڑکے بڑے جذباتی ہوتے ہیں ۔کسی وقت بھی ، کچھ بھی کر سکتے ہیں ۔“ اس نے خود کلامی کے سے انداز میں کہا

” آپ کی بات بالکل ٹھیک ہے ، لیکن میرا نہیں خیال علی جذباتی ہے ، اور کبھی بھی اس کے کسی جذباتی پن کی وجہ سے کسی کو نقصان ہوا ہو ۔ اب اگر اپنی جان پر بن جائے ، کوئی جان کے ہی درپے ہو جائے تو پھر اپنا دفاع تو کرنا پڑتا ہے ۔مثلا ً جیسے آج ہی کی فائرنگ کی بات لے لیں ، اگر اس کے پاس پسٹل نہ ہوتا تو کیا صورت حال بنتی ۔“بابا نے اسے سمجھاتے ہوئے کہا

” یہ علی اپنے ساتھ پسٹل رکھتا ہے ؟“ اس نے حیرت سے پوچھا

”نہیں ، یہ تواب حالات کی وجہ سے رکھا، اس کا اپنا ذاتی لائیسنس والا پسٹل ہے ۔“ بابا نے وضاحت کر دی ۔

” بہر حال جو بھی ہے وہ اچھا نہیں کر رہا ۔ویسے میں آپ کو ایک مشورہ دوں ، آپ اسے یورپ بھیج دیں پڑھنے کے لئے ۔ نہ یہاں ہوگا نہ کوئی دشمنی بنے گی اس کی کسی کے ساتھ ۔“ ایم پی اے نے کہا

” میں چوہدری صاحب بھیج تو دوں لیکن کسی دشمنی کا پتہ تو چلے ۔ہم سے کوئی زیادتی ہوئی ہو ، کوئی قصور ہوگیا ہو ہم سے ، کسی پہ ظلم کیا ہو ۔اب کوئی خواہ مخواہ ہمیں یہاں سے دھکیلنا چاہے تومرضی ہے ۔“ اس بار بابا تھوڑا غصے میں آ گئے تھے ۔ ان کے درمیان ایسی ہی بے سروپا گفتگو جاری تھی کہ میرے سیل فون پر ایک میسج آ گیا ۔ صرف دو سطریں تھیں ۔

” جس جیپ سے تم پر فائرنگ ہوئی تھی ، وہ جیپ چوہدری سلطان کے ڈیرے پر کھڑی ہے ۔یقین نہ آ ئے تو پتہ کروالو ۔“

وہ میسج تنّی کی طرف سے تھا جسے پڑھتے ہی مجھے اچھا نہ لگا ۔میرے دماغ میں ایک د م سے غبار چڑھ گیا۔ یہ تنّی مجھے سلطان کے مقابلے پر لا کر ہی کھڑا کر ے گا ۔لیکن اگلے چند منٹ بعد میرے دماغ نے کام کرنا شروع کر دیا ۔ یار اگر وہ جیپ وہاں کھڑی ہے تو اس کا مطلب ہے وہ چوہدری سلطان کی ایماءپر ہی کھڑی ہے ؟ کیا اسے نہیں معلوم کہ جیپ والوں نے مجھ پر فائرنگ کی تھی ؟ اس کا مطلب ہے چوہدری سلطان ہی میرا دشمن ہے جو یہ ساری چالبازیاں کر رہا ہے ۔کیا وہ اس قدر رسائی رکھتا ہے کہ بیرک میں موجود غنڈے بھی اس کی بات مانتے ہیں ؟ کیا وہ اتنا مضبوط بد معاش بن گیا ہے کہ علاقے کے لوگوں پر ہاتھ ڈال سکے ۔ میں جوں جوں سوچتا چلا جا رہا تھا ، میرے اندر آ گ بھڑکنے لگی تھی ۔ میں نے تو اس کا کوئی نقصان نہیں کیا تھا مگر اس نے مجھے تھانے میں ذلیل کیوں کروایا ؟مجھے تنّی کی باتیں ٹھیک لگنے لگی تھیں ۔اس نے اگر چوہدری سلطان کی طرف انگلی اٹھائی تو ٹھیک اٹھائی تھی ۔

میںبے چین ہو گیا ۔میرا دل تو چاہ رہا تھا کہ میں ابھی اٹھوں اور سیدھا جا کر چوہدری سلطان کو گردن سے دبوچ لوں ۔ اس پر سوچنا جتناآ سان تھا ، اس پر عمل کرنا اتنا ہی مشکل تھا ۔اور پھر یہ نری بے وقوفی تھی کہ بنا سوچے سمجھے کسی پر چڑھ دوڑا جائے ۔بابا اور چوہدری سردار آپس میں باتیں کر رہے تھے ۔میں نے ان کی باتوں میں ہنکارا بھی نہیں دیا تھا ۔ میں خاموشی سے اٹھا اور کمرے سے باہر آ گیا ۔ میرے اندر کھد بد ہو رہی تھی کہ میں پتہ کرواﺅ کہ واقعی وہ جیپ چوہدری سلطان کے ڈیرے پر کھڑی ہے ؟

میں حویلی کے کاریڈور میں آ گیا تھا۔ ٹھنڈی ہوا کا تھپیڑا پڑا تو احساس ہوا کہ باہر کافی ٹھنڈ تھی ۔مگر میرے اندر کی آگ نے اس ٹھنڈ کو محسوس نہیں کیا ۔میں اپنے کسی بھروسہ والے دوست کو فون کر کے پتہ کروانا چاہ رہا تھا ۔میں ابھی یہ سوچ ہی رہا تھا کہ میرا سیل فون بج اٹھا ۔دوسری جانب تنّی تھا

”میں جانتا ہوں کہ تمہیں میری اطلاع کا بھی یقین نہیں آیا ہوگا لیکن میںنے اپنی کہی ہوئی بات پوری کردی ہے ۔ میں اس وقت تک تمہیں ثبوت دیتا رہوں گا جب تک تم مانو گے نہیں ۔“

” تمہاری اطلاع پکی ہے ؟“ میں ٹھہرے ہوئے لہجے میں کہا

”تم ایسا کرو، اپنے فون کا نیٹ آن کرو ، میں تمہیں اس کی تصویریں بھیج دیتا ہوں ۔“ اس نے تیزی سے کہا تو میں حیران ہوا ۔ تنّی اس قدر سنجیدہ ہو چکا ہے ۔کیا مجھے اس پر یقین کر لینا چاہئے یا وہ مجھے گھیر کر اس کے ڈیرے پر لے جانا چاہتا ہے ؟میں تذبذب کا شکار ہو گیا ۔ میں نے بادل نخواستہ فون نیٹ آن کیا۔ کچھ ہی دیر بعد دو تصویریں مجھے موصول ہوئیں ۔فائرنگ زدہ جیپ ڈیرے کے صحن میں کھڑی تھی ۔اسے چھپایا نہیں گیا تھا ۔ مجھے احساس ہوا کہ جیسے یہ مجھے دعوت دی جا رہی ہو کہ یہ لو ہم یہاں ہیں ، ہمارا جو کرنا ہے کر لو ۔غصہ میرے دماغ میں ٹھوکریں مارنے لگا تھا ۔وہ تصویریں چیخ چیخ کر مجھے میری اوقات یاد دلا رہی تھیں۔یہ ایسے ہی تھا جیسے کوئی وار کرنے کے بعد سامنے کھڑا مسکرا رہا ہو۔ غصے سے میرا دماغ ماﺅف ہونے لگا تھا ۔

اب میرے پاس دو ہی راستے تھے ، چپ چاپ خاموشی سے اپنے گھر میں دبک کر بیٹھ جاﺅں ۔تنّی کے بتانے کے باوجود یوں بن جاﺅں کہ جیسے مجھے پتہ ہی نہیں ہے ۔ دوسری صورت یہ ہو کہ میں سیدھا ڈیرے پر جاﺅں اور جاکر انہیں ایسا سبق سکھاﺅںکہ دوبارہ میری طرف دیکھنے کی جرات نہ کریں ۔میرا دل بھی یہی چاہ رہا تھا لیکن انہیں لمحات میں ارم کی کہی ہوئی بات میرے دماغ میں گونج گئی ۔تلوار کے مقابلے میں لاٹھی نہیں اٹھانی چاہئے ۔اس کے ڈیرے پر پتہ نہیں کیا تھا ، کتنے لوگ تھے اور میں اکیلا تھا ۔میں نے تو اس کا ڈیرہ بھی نہیں دیکھا ہوا تھا ۔اس وقت میری بے بسی کی انتہا تھی ۔ میں خود کو روکنے میں ناکام ہو رہا تھا لیکن میں خود کشی بھی نہیں کر سکتا تھا ۔

اچانک فون بیل ہوئی تو میں چونک گیا۔وہ فون تنّی کا تھا ۔میںنے بادل نخواستہ کال رسیو کر لی ۔میرے ہیلو کے جواب میں وہ بولا

”ان کے دو بندے زخمی ہوئے ہیں ۔ ایک کے کاندھے پر گولی لگی ہے اور دوسرے کی ران پر فائر لگا تھا ۔وہ دونوں ہسپتال میں ہیں اس وقت ۔ تین بندے وہیں ہسپتال میں ہیں۔ ڈیرے پر صرف دو بندے ہیں ۔کہو تو میں تمہارے ساتھ جانے کو تیار ہوں ۔“

” دیکھ تنّی ، میں اپنی جنگ خود لڑوں گا ۔تم نے معلومات دے دیں ، تمہارا شکریہ، میں قانون کے دائرے میں …. “ میںنے کہنا چاہا تو وہ بھنّا کر بولا

” قانون ، تجھے پتہ ہے قانون نے تیرے ساتھ کیا کیا ہے ۔نہیں علی ، میں جو سمجھتا تھا کہ تم میں دل گردہ ہی نہیں ہے ، میں غلط سمجھ رہا تھا کہ تم میں تھوڑی بہت بھی غیرت ہے ۔ لڑکیوں میں رہ رہ کر تم بھی لڑکی بن گئے ہو ۔مان لو تم بزدل ہو ۔ تم اپنی جنگ لڑ بھی نہیں سکتے ہو ۔جاﺅ سو جاﺅ جا کر ۔ میں پاگل تھا جو تمہیں ….“ اس نے انتہائی غصے میں کہا تو میں اس بات کاٹتے ہوئے تیزی سے فیصلہ کن لہجے میںبولا

”تمہارا کیا خیال ہے میں بھی غنڈہ اور بد معاش بن جاﺅں ، نہیں میں ایسا نہیں کروں گا ۔ میں قانون کو اپنے ہاتھ میں نہیں لوں گا ۔“

” سیدھا کہو ، تم میں دشمن کا سامنا کرنے کی جرات ہی نہیں ہے۔ بس میںنے سمجھ لیا ، تم کچھ نہیں کر سکتے ہو ۔لیکن ایک بات سن لو اور سمجھ لو ، یہ لوگ اس وقت تک تمہیں چین سے بیٹھنے نہیں دیں گے ۔ جب تک ان کا مقصد حل نہیں ہو گیا ۔تم مجھے جب بھی آ واز دو گے ، میں تمہارے لئے حاضر ہوں۔“ وہ شکوہ بھرے لہجے میں کہتے ہوئے فون بند کر گیا ۔

 میں سیل فون کی طرف دیکھتا ہی رہ گیا تھا ۔اس نے کچھ بھی غلط نہیں کہا تھا ۔ مگر میں اس پر یقین بھی نہیں کر سکتا تھا ۔سرد ہوا کے جھونکے سے میرے بدن میں ایک لہر سرائیت کر گئی ۔میرے بدن پر ایک گرم شال تھی جو ڈھلک گئی تھی ۔ میںنے چادر کو سمیٹا اور اندر کی جانب چلا گیا ۔ چوہدری سردار ابھی تک بابا کے ساتھ مہمان خانے میں موجود تھا ۔میں اندر اپنے کمرے کی جانب بڑھ گیا ۔

میں سلگ رہا تھا اور مجھے کسی پل چین نہیں آ رہا تھا ۔میں نے اپنی الماری کھولی ، اس میں دھری ہوئی گن کو دیکھا، اسے نکال کر چیک گیا ، پھر واپس رکھ د ی ۔ پسٹل اٹھایا ، اسے دیکھا اور پھر رکھ دیا ۔مجھے کچھ بھی سمجھ میں نہیں آ رہا تھا ۔ میرا دماغ ماﺅف ہو رہا تھا ۔میں نے چادر ایک جانب رکھی اور سونے کے لئے لیٹ گیا ۔مگر مجھے نیند بالکل بھی نہیں آ رہی تھی ۔میرے اندر بیٹھا ہوا انسان مجھے غیرت دلا رہا تھا ۔جلتی پر تیل کا کام تنّی کے لفظ تھے ۔میرے ساتھ ہونے والا ذلت آ میز سلوک مجھے مرنے مارنے پرآمادہ کر چکا تھا ۔ میں بے چین ہو کر اٹھ بیٹھا ۔ میرے کمرے میں اندھیر ا تھا ۔ باہر کی روشنی چھن کر اندر آ رہی تھی ۔انہی لمحات میں چوہدری سردار کی گاڑی پورچ سے نکلی اور گیٹ پار کر گئی ۔ چوکیدار نے گیٹ بند کر دیا تھا ۔بابا حویلی کی طرف آرہے تھے۔ انہوںنے اپنے کمرے میں چلے جاناتھا ۔میں وہاں کھڑا سب دیکھتا رہا ۔

رات کا دوسرا پہر تھا ۔ ہر جانب سناٹا تھا ۔میرے اندر وہ کیفیت ختم ہی نہیں ہو رہی تھی ۔ یہاں تک کہ میں پاگل ہونے والا ہو گیاتھا ۔تبھی میں نے ایک لمحہ کے لئے سوچا اور اٹھ گیا ۔ میں نے الماری سے جین کے ساتھ جیکٹ نکالی ، اسے پہنا ۔اس میں پسٹل کے ساتھ سائلینسر اور میگزین رکھے ۔ گن اٹھائی اور انتہائی خاموشی سے باہر آ گیا ۔میں سامنے کی طرف سے نہیں گیا ۔ چوکیدار اپنے چھوٹے سے کمرے میں بیٹھا تھا۔ میں نے سائیڈ والی دیوار پار کی اور حویلی سے باہر آ گیا ۔میں نے چوہدری سلطان کا ڈیرہ دیکھا ہوا نہیں تھا لیکن مجھے اندازہ تو تھا کہ وہ کہاں ہو سکتا ہے ۔ وہ ڈیرہ زیادہ سے زیادہ تین کلو میٹر کے فاصلے پر تھا ۔میں اس طرف نہیں گیا بلکہ سیدھا اپنے ڈیرے پر چلا گیا ۔ وہاں پہنچنے میں مجھے آ دھے گھنٹے سے بھی زیادہ وقت لگ گیا ۔

ڈیرے پر ہمارا مزارع چاچا فیضو تھا ۔کوئی وقت تھا ، اس کا پورے علاقے میں طوطی بولتا تھا ۔ وہ ایک پہلوان ہی نہیں ، اچھا خاصا ہتھ چھٹ بھی تھا۔نوجوانی کے دنوں میں وہ ناک پر مکھی نہیں بیٹھنے دیتا تھا ۔ تھوڑا فربہ مائل ، کھلی فضا میں رہنے والا صحت مند دیہاتی تھا۔پھر وقت کے ساتھ اس نے یہ سب چھوڑ دیا ۔ اولاد جوان ہو گئی ۔اس کا سارا خاندان گاﺅں میں رہتا تھا ۔اس کی بیوی بچے اور ایک بہو ہماری زمینوں پر کام کرتے تھے ۔بابا نے دوسرے مزارعوں کی دیکھ بھال بھی اسی کے ذمے لگا دی ۔ اب ڈیرے پر وہی ہوتا تھا ۔رات گئے تک اس کے پرانے سنگی ساتھی وہاں بیٹھے رہتے ۔ وہ اب اپنی زندگی سے مطمئن تھا ۔بابا نے اسے موٹر سائیکل لے کر دی ہوئی تھی ۔ وہ موٹر سائیکل ڈیرے پر ہی ہوتا تھا ۔وہ کہتے ہیںنا چور ، چوری سے جائے پر ہیرا پھیری سے نہ جائے ۔ اسی طرح اس نے بدمعاشی تو چھوڑ دی تھی لیکن شوق اس کے اب بھی وہی تھے ۔ میں ڈیرے میں داخل ہوا تو ہمارے پالتو کتے سیدھے میرے پاس آ گئے ۔میں ان کے پاس رُک گیا ۔ چاچا فیضوخبردار قسم کا بندہ تھا ۔ وہ فوراً دروازہ کھول کر باہر نکل آیا ۔ اس نے مجھے یوں پیدل اتنی رات گئے دیکھا تو تشویش زدہ لہجے میں بولا

” علی پتر ، سب خیر تو ہے نا ؟“

” چاچا تیرا موٹر سائیکل کہاں ہے ؟“

”وہ اُدھر دوسرے کمرے میں کھڑا ہے ۔“ اس نے گن کی جانب دیکھتے ہوئے عجیب سے لہجے میں بتایا

’ ’باہر نکالو اسے ، تیل ہے نا اس میں ؟“ میںنے دھیمے سے پوچھا

” بہت ہے تیل ۔“ اس نے کہا پھر دوبارہ گن کی جانب دیکھ کر بولا ،” علی پتر ، تمہارے ارادے ٹھیک نہیں ہیں ؟“

” ہاں ، لیکن تم فکر مت کرو ، چپ چاپ خاموشی سے ادھر پڑے رہو ۔“ میں نے سخت لہجے میں کہا

” نہیں علی ، میں تمہاری جگہ ہوتا نا تو یہی کچھ کرتا ، اب تک میںنے بندے پھڑکا دئیے ہوتے ۔ مجھے ساتھ لے چلو ، میں تمہارے بہت کام آ سکتا ہوں ۔“ اس نے سمجھانے والے انداز میں کہا تو میںنے غصے میں پوچھا

” تجھے پتہ ہے چاچا ، میں کہاں جا رہا ہوں ؟“

” ہاں ،مجھے اندازہ ہے ، تم چوہدری سلطان کے ڈیرے پر جا رہے ہو ۔“اس نے تیزی سے کہاتو میں نے لمحہ بھر فیصلے کے بعد کہا

’ ’ چل پھر نکال موٹر سائیکل اور چلو میرے ساتھ۔“ میں نے کہا ہی تھا کہ اس نے انتہائی تیزی سے چادر لپیٹی ، دوسرے کمرے سے موٹر سائیکل نکالااور کک مار کر سٹارٹ کرتے ہوئے بولا

” آ پتر، دیکھتا ہوں اس بدمعاش کو ۔“

میں اس کے پیچھے بیٹھ گیا ۔ تب مجھے احساس ہوا کہ اس نے بھی گن لے لی ہوئی تھی ۔ظاہر ہے یوں باہر ویرانے میں رہنا تھا تو ہتھیار پاس رکھنا پڑتا تھا ۔ اس نے ہیڈ لائیٹ روشن کئے بغیر کچی سڑک پر موٹر سائیکل ڈالا اور احتیاط سے چلاتا چلا گیا ۔یہ دیہاتی لوگ ، جو باہر کھیتوں میں اپنی زندگی گزارتے ہیں ، جن کے چاروں طرف زیادہ تر راتوں کا اندھیر ا ہوتا ہے ، اس کے وہ عادی ہو چکے ہوتے ہیں ، رستے ان کے دیکھے بھالے ہوتے ہیں ۔انہیں ارد گرد کی بڑی خبر ہوتی ہے ۔اگر کوئی چور نہیں بھی ہوتا تو چوروں سے نپٹنے کے سارے گُر جانتے ہیں ۔ چاچا فیضو تو خود کسی زمانے میں بڑا اکھڑ تھا ۔تقریباً پندرہ منٹ کے سفر کے بعد اس نے موٹر سائیکل روک کر بند کر دی ۔ کچھ دیر تک وہ خاموشی سے ارد گرد کی سن گن لینے کی کوشش کرتا رہا پھر دھیمے سے بولا

” یہاں سے کوئی دو سو قدم بالکل سامنے چوہدری سلطان کا ڈیرہ ہے ۔ ہم موٹر سائیکل یہیں چھوڑتے ہیں ۔یہاں سے پیدل جاتے ہیں ۔“

یہ کہہ کر اس نے موٹر سائیکل ایک درخت کے ساتھ لگا دیا ۔ گن ہاتھ میں لے کر چادر کو اچھی طرح خود سے لپیٹا اور میرے آگے آ گے چل پڑا۔ میں اس کے پیچھے پیچھے چلتا چلا گیا ۔ڈیرے کے بالکل قریب پہنچ کر اس نے مجھے روک دیا ۔میں رک گیا ۔ و ہ تیزی سے آ گے بڑھا اور ڈیرے کی دیوار کے سب سے قریب درخت پر چڑھ گیا ۔ وہ اس قدر خاموشی سے درخت پر چڑھا تھا کہ میں بالکل قریب تھا ، مجھے اس کا پتہ نہیں چل سکا۔ تقریباً دس منٹ بعد وہ واپس اتر آ یا ۔نیچے اترتے ہی بولا

” میں یہ دیکھنا چاہتا تھا کہ چھت پر تو کوئی پہرا نہیں دے رہا ۔ وہاں کوئی نہیں ہے ۔نہ کوئی صحن میں ہے اور نہ کوئی اس وقت برآمدے میں موجود ہے ۔ اگر کوئی ہوا تو وہ اندر کمروں ہی میں ہوگا ۔“

” کتنے کمرے ہیں ؟“میں نے پوچھا

” چھ کمرے ہیں اور ایک بڑا ہال نما کمرہ ہے جو بھینسوں کا باڑہ ہے ۔“اس نے مجھے بتایا تو میںنے گن اپنے کاندھے پر لٹکائی اور خود درخت پر چڑھنے لگا ۔ لڑکپن میں کھیلے ہوئے کھیل اس وقت کام آ رہے تھے ۔ میں نے کافی اونچائی پر جا کر دیکھا ۔ چاچا فیضو ٹھیک کہہ رہا تھا ۔ برآمدے میں جلتا ہوا ایک مدقوق بلب وہاں کی صورت حال بتا رہا تھا ۔وہاں موجود کتے کھلے ہوئے تھے ۔وہ صحن میں بے چینی سے پھر رہے تھے ۔ شاید انہیں ہمارا احساس ہو گیا تھا ۔ یہ وہ کتے تھے جو بھونکتے کم اور لوگوں کوچیر پھاڑ دینے میں وقت نہیں لگاتے تھے ۔ میں نے پسٹل نکالا، اس پر سائینلسر فٹ کر کے خود کو ایک شاخ کے ساتھ مضبوط کیا ۔ میری جانب رخ کئے ہلکی پلکی بخ بخ کرنے والا کتا میرے نشانے پر تھا ۔اسی کتے کا نشانہ لے کر فائر کر دیا ۔ وہ ایک دم سے پھرپھری لے کر تڑپا، پھر صحن میں لوٹ پوٹ ہونے لگا ، اس سے پہلے کہ دوسرا بھونک کر اندر پڑے لوگوں کا الرٹ کرتا ، میں نے اس کا بھی نشانہ لیا ، وہ بھی صحن میں گر کر تڑپنے لگا ۔میں تیزی سے نیچے اتر آیا ۔ میرے سامنے کوئی دس فٹ کی دیوار تھی ۔ جو تھی تو پکی اینٹوں کی لیکن گارے سے بنائی ہوئی تھی ۔ اس میں درزیںبنی ہوئی تھیں ۔ چاچا فیضو آ گے بڑھا ، اس نے اپنا کاندھا لگایا اور میں دیوار پر چڑھ گیا ۔ دیوار کے ساتھ اندھیرا تھا ۔ چاچا فیضو اشارہ کرنے لگا کہ اسے بھی اوپر کھینچ لوں ۔ میں نے سوچے سمجھے بغیر اسے بھی اوپر اٹھایا ۔ اس نے دوسری طرف اترنے میں مجھے مدد دی ۔ پھر آ ہستگی سے کہا

”میں بڑا گیٹ کھول کر آ تا ہوں ۔“ یہ کہہ کر وہ تیزی سے گیٹ کھولنے چل دیا ۔ میں برآمدے میں گیا اور جاتے ہی وہاں کا بلب بجھا دیا ۔ وہاں اندھیر اہوگیا ۔ میں نے گن لوڈ کی اور ایک کمرے کی جانب بڑھا۔ میں نے اس کی کھڑکی سے اندر دیکھنا چاہا ، اندر اندھیر تھا ۔مجھے یوں لگا جیسے یہاں پر کوئی بھی نہیں ہے ۔ میں نے دروازے کو ہاتھ لگایا تو وہ کھلتا چلا گیا ۔ کمرے میں کوئی نہیں تھا ۔اگلے کمرے میں بھی اسی طرح دیکھا، وہاں بھی کوئی نہیں تھا۔ تیسرے کمرے کی کھڑکی تک میں ابھی گیا ہی تھا کہ اندر سے کسی کے کھانسنے کی آ واز آ ئی ۔ میں وہیں ساکت ہو گیا۔ چند لمحوں بعد میں نے کھڑکی سے جھانکنے کی کوشش کی لیکن وہ بند تھی ۔مجھے یقین ہو گیا کہ اس کمرے میں کوئی تو ہے ۔ میں نے بنددروازے کو ہاتھ لگایا تو وہ کھلتا چلا گیا ۔ انہوںنے کمرے کی کنڈی نہیں لگائی تھی ۔میں نے ذرا سا دروازہ کھولا تو اندر زیرو بلب کی مدہم نیلی روشنی پھیلی ہوئی تھی ۔ میں نے ایک نگاہ دیکھا ، دو لوگ لحاف اوڑھے لیٹے ہوئے تھے ۔ میں نے انہیں ویسے ہی لیٹے رہنے دیا اور انتہائی تیزی سے باقی کمرے دیکھے ۔ ان کمروں میں کوئی بھی نہیں تھا ۔ وہ جو بھی تھے ایک ہی کمرے میں پڑے ہوئے تھے ۔میں انتہائی سرعت سے واپس اسی کمرے کی جانب پلٹا ۔ میں نے ذرا سا دروازہ کھولا اور اندر داخل ہوگیا ۔ میرے اندر داخل ہوتے ہی ایک بندے نے لحاف کو پرے ہٹا کر میری جانب دیکھا، وہ کچھ کہنا چاہتا تھا کہ میں نے فائر کر دیا ۔اس سے کوئی بات تو نہ ہوئی لیکن اس کی چیخیں بلند ہو گئیں ۔

اس کے ساتھ پڑا ہوا دوسرا شخص بے تابانہ اٹھا مگر اپنے سامنے گن تانے دیکھ کر وہیں سہم گیا ۔

” کچھ بولو گے یا بولے بنا ہی مر جانا پسند کرو گے ؟“ میں نے سخت لہجے میں کہا تو حیرت سے میری طرف دیکھنے لگا ۔ وہ چند لمحے ویسے ہی ساکت رہا تو میںنے گن اس کی جانب سیدھی کر دی تبھی وہ جلدی سے ہذیانی انداز میں بولا

” کک…. کیا…. بات ہے ؟“

”مجھے پہچان گئے ہو میں کون ہوں ؟“میں نے نفرت سے پوچھا تو اس نے ہان میں گردن ہلاتے ہوئے کہا

”ہاں …. وہ ….“

” کس نے مجھ پر فائر کرنے کے لئے کہا تھا ؟“میںنے پوچھات وہ بے چارگی سے بولا

” چوہدری سلطان نے ۔“

اس نے یہ لفظ کہے ہی تھے کہ میں نے اس پر فائر کر دیا ۔ گولی اس کے سینے پر لگی تھی ۔ وہ وہیں پر دہرا ہوتا چلا گیا ۔اب وہاں پر کوئی بھی نہیں تھا ۔ میںنے ان کے دو بندے مار کر ان کی دشمنی کا جواب دے دیا تھا ۔جب و ہ دونوں ساکت ہو گئے تو میں واپس پلٹااور صحن میں آ گیا ۔جہاں سامنے وہی جیپ کھڑی تھی ، جس پر فائر لگے ہوئے تھے ۔

اسے دیکھ کر اچانک میرے دماغ میں آ یا کہ انہیں کوئی نشانی تو دے کر جاﺅں کہ ان بندوں کو کون مار گیا ہے ؟ میںنے اس جیپ کی ٹنکی میں فائر مارا، تیل گرنے لگا۔ میں نے باہر جا کر پھر سے فائر کیا تو تیل سے آ گ لگ گئی ۔ میں تیزی سے باہر بھاگا ۔ چاچا فیضو پہلے ہی موٹر سائیکل سٹارٹ کر چکا تھا ۔ ہم نے ارد گرد نہیں دیکھا ، بس وہاں سے نکلتے چلے گئے ۔

چاچا فیضو مجھے حویلی کے قریب اتار کر چلا گیا ۔ میں نے اپنی حویلی کی دیوار پھلانگی اور اندر چلا گیا ۔ یہاں تک کہ میں کاریڈور میں آ گیا ۔ اسی وقت میںنے فیصلہ کر لیا کہ صبح چوکیدار تبدیل کر دینا ہے ۔میں اپنے کمرے کی جانب بڑھا تو مجھ پر نشہ طاری تھا ۔ احساس فتح مندی کا نشہ ، میرے اندر کے انسان کو بڑی تسکین مل رہی تھی ۔ میںنے سوچا ، ابھی تو میںنے ان لوگوں کو مارا ہے جنہوںنے مجھ پر فائرنگ کی تھی ، جب میں اپنے اصل دشمن کو ماروں گا تو کیا ہوگا ؟ اسی خیال سے ہی میرا نشہ تیز ہو نے لگا تھا ۔

٭….٭….٭

 فون کی تیز آ واز سے میری آ نکھ کھل گئی ۔میںنے کھڑکی سے باہر دیکھا، ابھی دھوپ نہیں نکلی تھی ۔ ہلکی ہلکی کہر دکھائی دے رہی تھی ۔میں پوری طرح بیدار ہو گیا تھا ۔ میں نے سائیڈ ٹیبل سے فون اٹھایاتو وہ تنّی کی کال تھی ۔میں نے کال رسیو کی تو وہ دوسری طرف خوشی بھرے لہجے میں بولا

” میں خوش ہوں تم پر ، کمال کر دیا تم نے ، کاش تم مجھے اپنے ساتھ لے جاتے ، مجھے حسرت نہ رہتی ۔“

” کیا بات کر رہے ہو ، کس بات سے خوشی ہو گئی ہے تمہیں ؟“ میںنے بالکل انجان بنتے ہوئے کہا تو چہکتے ہوئے بولا

” تم نے کمال کر دیا ، میں آ رہا ہوں کچھ دیر بعدتیرے پاس ۔“ یہ کہہ کر اس نے فون بند کر دیا ۔ میںجانتا تھا کہ یہ فون اس وقت ایک خطرناک آلہ بھی بن جاتا ہے ، جب یہ آپ کے خلاف استعمال ہوتا ہے ۔پھر مجھے اس کے سامنے اقرار کرنے کی ضرورت ہی کیا تھی ۔ ایسا سوچتے ہی میرا دھیان رات کی جانب چلا گیا ۔ وہی نشہ میرے اندر سرسرانے لگا ۔اب چوہدری سلطان کا کیا حال ہوگا ؟ وہ میرا سامنا کرنے کے لئے کس طرح تڑپ رہا ہوگا ؟ ایک زخمی سانپ کس طرح بل کھاتا ہے ، اس کا مجھے اندازہ تھا ۔وہ احساس ذلت جو میرا حوصلہ توڑ رہا تھا اب نہیں رہا تھا ۔ایک اعتماد میرے اندر در آ یا تھا ۔میں جاگنگ پر جانے کے لئے اٹھ گیا ۔

ناشتے کی میز پر بابا نے مجھے بتایا کہ رات چوہدری سلطان کے ڈیرے پر موجود دو مشکوک لوگ قتل ہو گئے ہیں ۔یہ کہتے ہوئے انہوں نے مجھے غور سے دیکھا تھا ۔ میںنے بڑے اعتماد سے ان کی آ نکھوں میں دیکھتے ہوئے کہا

”بابا، انہیں بندے کہنا ہی غلط ہے ، درندے ہیں وہ سارے ۔“

” خیر بیٹا، تم بہت محتاط رہنا ، دشمن کے وار کا پتہ نہیں ہوتا ۔“ انہوں نے عجیب سے لہجے میں کہا

” جی بالکل ، میں محتاط رہوں گا ۔“ میںنے ادب سے کہا اور ناشتے کی طرف متوجہ ہو گیا ۔

میں چائے کا مگ پکڑ کر کاریڈور میں آ بیٹھا ۔ شمال سے ٹھنڈی ہوا چل رہی تھی ۔ بادل بھی چھا گئے ہوئے تھے ۔مجھے تنّی کا انتظار تھا ۔بلاشبہ وہ علاقے کی خبر دینے والا تھا ۔ میں چائے کے سپ لیتا ہوا اسی کے انتظار میں تھا ۔ زیادہ وقت نہیں گزرا تھا کہ وہ موٹر سائیکل پر گیٹ پار کرتا ہوا آ گیا۔ اس نے موٹر سائیکل تیزی سے اسٹینڈ پر لگایا اور میری جانب بڑھ آ یا ۔ میرے چہرے پر حد درجہ سنجیدگی دیکھ کر وہ تھوڑا ٹھٹکا اور پھر اپنی ساری گرم جوشی سمیٹ کر بولا

”رات چوہدری ….“

” وہ تم بتا چکے ہو ؟“ میںنے سرد سے لہجے میں کہا

”یار میں توسمجھتا ہوں وہ تم نے کیا ہے تو کمال کیا ہے ؟“اس نے دبے دبے جوش سے کہا تو میںنے منہ بناتے ہوئے کہا

” میںنے انہیں نہیں مارا ، مارتا تو ضرور بتاتا، بلکہ ڈنکے کی چوٹ پر کہتا ، میں کوئی غنڈہ یا بدمعاش نہیں ہوں ۔“

” یار تم نے تو میری امید ہی ختم کر کے رکھ دی …. پتہ ہے گاﺅں میں کتنی خوشی ہے ۔پہلی بار چوہدری سلطان کو کسی نے نقصان پہنچایا ہے ۔ وہ کسی پاگل کتے کی طرح رات سے بھونک رہا ہے ۔اس نے کتنا ظلم کیا ہوا ہے اس علاقے پر تم جانتے نہیں ہو ۔“ اس نے انتہائی جذباتی انداز میں کہا

” جب میرا اُس کا آ منا سامنا ہوا تو دیکھ لوں گا ۔ “ میں نے سر سری سے لہجے میں کہا اور اس کی سننے لگا ۔ وہ بے حد جذباتی ہونے لگا تھا ۔ وہ مجھے باور کرانے کے لئے کئی واقعات بتانے لگا کہ لوگ کس قدر اس سے تنگ ہیں ۔میں سنتا رہا ۔ کچھ دیر تک وہ بیٹھا رہا ۔ اندر سے چائے آ گئی وہ اس نے پی اور پھر اٹھتے ہوئے بولا،” بہرحال علی ، یہ جس نے بھی کیا ہے اسے شاباش اور کاش تم مجھ پر اعتماد کر سکو ۔“یہ کہہ کر اس نے جواب کا انتظار نہیں کیا بلکہ وہاں سے نکلتا چلا گیا ۔میں اسے جاتا ہوا دیکھتا رہا ۔

 میں اٹھ کر اندر گیا تو میرے مزارع کی کال آ گئی ۔ وہ وہیں ڈیرے پر جا پہنچا تھا ، جس طرح ارد گرد کے لوگ وہاں جا پہنچے تھے ۔اس نے مجھے بتایا کہ پولیس کی بھاری نفری وہاں پر آ ئی ہوئی تھی ۔ وہ دو لوگ تھے ۔ پولیس سب کچھ دیکھ کر چلی گئی تھی ۔ چوہدری سلطان کا بس نہیں چل رہا تھا کہ وہ قاتل کو پکڑ کر ان کا بدلہ لے ۔ یہ اس کی بہت زیادہ بے عزتی تھی ۔ پہلی بار کسی نے اس کے ڈیرے میں گھس کر اس کے بندے پھڑکا دئیے تھے ۔یہ وہی تھے جنہو ں نے مجھ پر فائرنگ کی تھی ۔ علاقے میں جو اس کی دھاک بیٹھی ہوئی تھی ، وہ سب کی سب ختم ہو کر رہ گئی تھی ۔ اسے ہی نہیں لوگوں کو بھی احساس ہو گیا تھا کہ اب چوہدری سلطان کو نیچا دکھانے والا آ گیا ہے ۔مجھے کہیں بھی جانے کی ضرورت نہیں تھی ، ابھی لوگ آ نا شروع ہوں گے تو وہ سب بتانے لگ جائیں گے ۔مجھے اگر انتظار تھا تو اپنے دشمنوں کی طرف سے، وہ کیا رد عمل دکھاتے ہیں یا اگر چوہدری سلطان ہی تھا تو پھر سارا منظر ہی واضح ہو جانے والا تھا ۔

دوپہر تک ہر طرح کی اطلاع مل چکی تھی ۔ ان مرنے والوں میں دو نوں اشتہاری تھے جو چوہدری سلطان کے پاس پناہ لئے ہوئے تھے ۔میڈیا ان تک پہنچ چکا تھا ۔ خبریں مختلف چینل پر چل چکی تھیں ۔لیکن کسی بھی بندے نے مجھ تک رابطہ نہیں کیا تھا ۔مجھے اب پولیس کا خوف نہیں تھا بلکہ منتظر تھا کہ کوئی مجھ تک آ ئے ۔ایسا کچھ بھی نہیں ہوا ۔شام تک میں انتظار ہی کرتا رہا ۔

شام ڈھل رہی تھی ۔مغربی اُفق پر سرخی پھیل چکی تھی ۔ میں چوکنّا تھا ۔ میں نے اپنے چند قریبی لوگوں کو اپنے ہاں بلا لیا تھا کہ ممکن ہے چوہدری سلطان باﺅلا ہو کر حویلی پر چڑھائی کرے ۔یہ میرا اپنا ذاتی خیال تھا ۔ وہ سب مہمان خانے میں تھے ۔یہ معمول کی بات تھی ۔ لوگ بیٹھے رہتے تھے ۔ایسے میں ایک سیاہ ہنڈائی پورچ میں آ ن رکی ۔ میں لان میں بیٹھا اُسے دیکھ رہا تھا ۔ کار رکتے ہی اس میں سے ارم باہر نکلی ۔ اس نے سیاہ پتلون پر سیاہ جیکٹ پہنی ہوئی تھی ۔ میک اپ سے بے نیاز چہرہ ، کھلے ہوئے بال اور تھکی تھکی سی لگ رہی تھی ۔ میں اس کی اس طرح اچانک آ مد حیران رہ گیا ۔ اس نے مجھے فون بھی نہیں کیا تھا ۔ میں اٹھ کر اس کے پاس چلا گیا ۔ وہ میری طرف دیکھ کر مسکرا رہی تھی ۔ اس نے اپنا گلابی ہاتھ بڑھایا تو میں نے تھام لیا ۔

” یوں اچانک …. “ میں نے پوچھا

”نہیں آ سکتی کیا ؟“ اس نے ایک ادا سے کہا

” اُو جناب جم جم آ ﺅ ، آ ﺅ اندر تشریف لے آ ﺅ ۔“ میں نے اندر کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا تو میرے ساتھ اندر چل پڑی ۔ہم لاﺅنج میں جا بیٹھے ۔ کچھ ہی دیر میں اماں کو بھی اس کی آ مد کا پتہ چل گیا وہ بھی وہیں آ گئیں ۔ انہوں نے بھی آ تے ہی ارم سے یہی سوال کیا تو وہ ہنس دی

” میں اس لئے آئی ہوں کہ صبح اس کی بہاول پور میں پیشی ہے ۔ “ یہ کہہ کر اس نے میری طرف دیکھ کر پوچھا ،” ایسا ہے کہ نہیں ؟“

” ہے تو سہی ۔“ میں نے کہا

” بس تو پھر ،مجھے آ نا ہی تھا۔ “ اس نے دبی دبی مسکراہٹ سے کہا اور اماں سے باتیں کرنے لگیں ۔ کچھ دیر بعد اماں نے کہا

” چل جلدی سے فریش ہو جا ، میں کھانا لگواتی ہوں ۔“یہ کہہ کر وہ دونوںاٹھ کر اندر کی جانب بڑھ گئیں ۔

حویلی کے پچھلے لان میں مدہم سی روشنی پھیلی ہوئی تھی ۔میں اور ارم کافی کامگ پکڑے وہاں جا بیٹھے تھے ۔ موسم کافی سرد ہو رہا تھا ۔کھلی فضا میں بیٹھ کر گرم گرم کافی کا اپنا ہی مزہ ہوتا ہے ۔کچھ دیر ادھر اُدھر کی باتوں کے بعد اچانک ارم نے گہری سنجیدگی سے پوچھا

” علی ، میں جو تم سے پوچھنے جا رہی ہو ، وہ بالکل سچ بتانا ۔“

” پوچھو ، کیا پوچھنا ہے ۔“ میںنے عام سے لہجے میں کہا

”یہ جو چوہدری سلطان کے ڈیرے پر ہوا ، اس میں تمہارا کتنا ہاتھ ہے ، مطلب یہ سب کچھ کروانے میں ….؟“ اس نے بڑے محتاط انداز میں پوچھا

” وہ سب میں نے خود کیا ہے ۔“ میں نے اسے بتادیاتو اس کے چہرے پر لمحہ بھر کے خوشگوار حیرت در آ ئی ، پھر وہ خوش ہوتے ہوئے بولی

”میرا اندازہ درست نکلا علی ، تمہارے منہ سے یہ بات سن کر مجھے لگا کہ تم ایک غیرت مند نوجوان ہو ، تم میں بدلہ لینے کا حوصلہ ہے ۔“

”تم نے کیوں یہ اندازے لگائے ؟“ میں نے پوچھا

”یہ تم نہیں سمجھو گے ، لیکن اتنا دراز قد ، وجہہ اور طاقت رکھنے والے کا دل اگر چھوٹا سا ہوتا ناتو شاید تم میری توجہ نہ بنتے ، تم نے میرا دل جیت لیا ہے ۔یہ جو زمین پر بوجھ لوگ ہیں نا ، انہیں کوئی دوسرا نہیں ، دل والا ہی صاف کرتا ہے ۔میں نے جو تمہارے بارے میں شروع سے انداز لگایا تھا ، وہ درست نکلا ۔ تم نہ صرف اپنا دفاع کر سکتے ہو بلکہ ان بے غیرتوں کو ٹھکانے بھی لگا سکتے ہو ۔“اس نے بے حد جذباتی انداز میں یوں کہا جیسے وہ بھی ایسا ہی چاہتی ہو ۔میں کچھ پل اس کے چہرے کی طرف دیکھتا رہا جہاں نفرت پھیلی ہوئی تھی ۔ پھر اس نے جیسے خود پر قابو پالیا اور مسکراتے ہوئے بولی ،”میں اسی لئے آئی تھی یہاں ، وہ تمہاری پیشی والے دن تم پر حملہ ضرور کریں گے ۔میں نے ان کے بارے میں ساری تفصیل لے لی ہوئی ہے ۔ بیرک میں تم سے لڑنے والے کوئی معمولی بدمعاش نہیں ہیں ۔“

”کیا وہ سارے لوہے کے بنے ہوئے ہیں ؟“ میںنے مسکراتے ہوئے پوچھا تو وہ ایک دم سے کھلکھلا کر ہنس دی ۔پھر بولی

”دیکھو ، یہ انسانی فطرت ہے کہ وہ ہمیشہ طاقت کی طرف جھکتا ہے ۔یہ غنڈے ،بدمعاش اور جرائم پیشہ لوگ بنیادی طور پر بزدل ہوتے ہیں ۔ لیکن جیسے ہی ان کے ساتھ طاقت جڑتی ہے یا وہ کسی طاقت کے ساتھ لگ جاتے ہیں تو اپنی خباثت دکھاتے ہیں ۔ تمہیں پتہ ہی ہے کہ اس وقت ان کی پشت پر کون سی طاقت ہوتی ہے ۔“ اس نے دکھ بھرے لہجے میں کہا

” یہی سیاسی لوگ ، انہیں قدم قدم پر ان جیسے لوگوں کی ضرورت پڑتی ہے ۔اپنے علاقے میں جب تک خوف و ہراس پھیلا کر نہ رکھیں ، اس وقت تک یہ اپنا تسلط نہیں جما سکتے ۔“ میںنے اپنی رائے دی۔

” سیاست تو اصل میں خدمت کا نام ہے ، لیکن یہاں عجیب صورت حال ہے ، یہاں غلا م بنانے اور تسلط جمانے کے لئے یہ کھیل کھیلا جاتا ہے ۔ اسے کاروبار تصور کر لیا گیا ہے ، جرم چھپانے کے لئے آڑ بنا لی گئی ہے ۔کیا کیا چالبازی نہیں ہو رہی یہا ں پر ۔“ اس نے نفر ت بھرے لہجے میں کہا

”تمہیں پتہ چلا کہ وہ بیرک والے بدمعاش کون ہیں ؟“ میںنے اس کی توجہ ہٹانے کے لئے پوچھا

”وہ کوئی بھی ہوں ، انہیں تو بس استعمال کیا گیا ہے ۔ان کی طرف سے اس وقت تک کوئی خطرہ نہیں جب تک تمہارے یہاں سے اصل دشمن سامنے نہیں آ جاتا ۔“ یہ کہتے ہوئے اس نے خود کلامی کے سے انداز میں کہا ،” بہت جلد ، وہ لوگ بہت جلد سامنے آ جائیں گے ۔“

” اچھا یار ایک بات بتا ، اگر تم ناراض نہ ہو تو پوچھوں ۔“ میںنے ہنستے ہوئے کہا تو وہ مسکرا کر بولی

” چل پوچھ، کیا پوچھتا ہے ۔“

” یہ تم مجھ پر اتنی مہربان کیوں ہو ، مطلب دوسرے بھی تو ہیں ، انہوں نے تو ایک فون کال نہیں کی اور تم ….“ میں کہتے کہتے رُک گیا تو اس نے میرے چہرے پر دیکھا، پھر اپنے نچلے ہونٹ کو ذراسا دباتے ہوئے بڑے ہی جذباتی لہجے میں بولی

”علی ، بڑی عجیب بات ہے کہ تمہیں اب میرے مہربان ہونے کا پتہ چلا، میں تو تم پر ڈیڑھ برس ہوئے مہربان ہوں ۔کبھی اکیلے میں بیٹھ کر سوچنا میرے بارے میں ۔“

” ہماری بے تکلفی کلب میں ہوئی تھی۔ وہ تو مجھے اچھی طرح یاد ہے۔ ہم بہت اچھے دوست ہیں لیکن وہ بھی کلب کی حد تک اور ….“میںنے کہنا چاہا تو اس نے سسکاری لیتے ہوئے کہا

”بات اس سے بھی آ گے کی ہے علی ، چھوڑ ان باتوں کو ، آﺅ اب چلیں ۔“یہ کہتے ہوئے وہ اٹھ گئی ۔ مجھے یہ معلوم تھا کہ ابھی اس نے کافی ختم نہیں کی تھی یوں اس کا اٹھ جانا یونہی نہیں تھا ۔وہ مزید بات کرنا نہیں چاہتی تھی ۔ وہ تیزی سے اندر کی جانب چلی گئی ۔میں بھی اٹھا اور اپنے کمرے کی جانب بڑھ گیا ۔ مجھے اس کا رویہ تھوڑا عجیب لگا تھا ۔شاید وہ ایسا کچھ کہنا نہیں چاہتی تھی ، جسے کہنے کے لئے وہ بیتاب ہو گئی تھی ۔

میں اپنے کمرے آ کر بیڈ پر لیٹ گیا ۔میں سونے کی کوشش میں تھا لیکن نادیدہ اور کسی متوقع خطرے کے سبب مجھے نیند بالکل بھی نہیں آ رہی تھی ۔تقریباً دو گھنٹے یونہی بے چینی میں پہلو بدلتے ہوئے گزر گئے ۔آخر کار میں اٹھ گیا ۔ میں نے سائیڈ ٹیبل سے اپنا پسٹل اٹھایا اور باہر کی جانب چل دیا ۔ میں باہر کا ایک چکر لگا کر آ نا چاہتا تھا تاکہ کچھ تو ذہنی سکون ہو ۔میں پہلے ایک طرف گیا ۔ وہاں مہمان خانے میں لوگ جاگ رہے تھے ۔ چوکیدار بھی گیٹ کے ساتھ بنے کمرے کے دروازے میں بیٹھا ہوا تھا ۔میں دوبارہ اندر گیا اور حویلی کی پچھلی جانب گیا ۔میں جیسے ہی کاریڈور میں پہنچا ، مجھے ایک ہیولاایک دم سے اندھیرے میں غائب ہوتے ہوئے دکھائی دیا ۔ وہ میرا وہم نہیں تھا ، حقیقت تھی ۔ میں انتہائی سرعت سے اس جانب بڑھا ، اس دوران میں نے پسٹل کا سیفٹی کیچ ہٹا لیا تھا ۔میں دم سادھے اسی ہیولے کے انتظار میں تھا ۔

میں محتاط قدموں سے بالکل کاریڈور کے سرے پر جا پہنچا ۔وہ ہیولا دیوار کے ساتھ لگا ہوا تھا ۔ میںنے اس کے اور اپنے فاصلے کا اندازہ کیا۔اگلی ہی لمحے جست بھری اور اس پر جا پڑا۔وہ بجائے میرے ساتھ نیچے گرنے کے ، وہیں جما رہا جیسے اسے پوری امید ہو کہ وہ جو چاہتا تھا ، میں ویسا ہی کروں گا ۔ نرم لمس ، نسوانی مہک اور جسم کے اُ بھار نے مجھے چونکا دیا ۔ دھڑکتا ہوا سینہ کسی مرد کا نہیں تھا ۔ میںنے اس کی گردن پر ہاتھ ڈالتے ہوئے پوچھا

” کون ہو تم ؟“

”تمہارے ہاتھوں مر جانے کو بیتاب ۔“ اس کی لرزتی ہوئی آواز ابھری تو میں پہچان گیا ۔ وہ ارم تھی ۔ میں اسے چھوڑ کر الگ ہونے لگا تو اس نے مجھے خود سے الگ نہیں ہونے دیا ۔ اس کی گرم سانسیں میری سینے پر پھیلنے لگیں ۔ تبھی میں نے پوچھا

” تم یہاں کیا کر رہی ہو ؟“

” یہی سوال اگر میں تم سے کروں تو ؟“ اس نے اسی لرزتی ہوئی آواز میں جواب دیا

” میں تو کسی بھی متوقع خطرے …. “

” میں بھی اسی لئے یہاں تھی ، ادھر کوئی بھی نہیں ہے ۔“ اس نے اکھڑتی ہوئی سانسوں میں بے تابی سے کہا تو میں جھنجھلاتے ہوئے بولا

” تم ٹھیک کہتی ہو ، پر مجھے چھوڑو تو سہی ۔“

”تم کیا سمجھتے ہو ، اب تم مجھے چھوڑ سکو گے یا مجھ سے جان چھڑوا سکو گے ؟“ یہ کہتے ہوئے وہ ہلکا سا ہنسی اور مجھے چھوڑ دیا ۔میں چند لمحے اندھیرے میں اسے دیکھتا رہا پھر بڑی نرمی سے اس کا ہاتھ پکڑا اور کاریڈور کی جانب بڑھ گیا ۔ تبھی میں نے وہاں پڑی ہوئی کرسیوں پر بیٹھتے ہوئے کہا

” یہاں بیٹھ کر باتیں کرتے ہیں ۔“

” لیکن میرا خیال ہے کہ تم سو جاﺅ ، میں جاگ رہی ہوں ۔“ اس نے میرے بالوں میں ہاتھ پھیرتے ہوئے کہا

” تم کیا سمجھتی ہو مجھے نیند آ جائے گی ۔“ میں نے کہا

” آ ئے گی تونہیں۔“ اس نے دھیمے سے کہا تو میں بولا

” تم جاﺅ ، سو جاﺅ ۔صبح ہم نے جانا بھی ہے ۔“

وہ چند لمحے یونہی ساکت بیٹھی رہی پھر ایک طویل سانس لے کر اٹھی اور تیزی سے اندر کی جانب چلی گئی ۔میں وہیں کرسی پر بیٹھا رہا ۔مجھے ارم کا رویہ بڑا عجیب سا لگا تھا ۔

٭….٭….٭

اس وقت سورج نہیں نکلا تھا لیکن میں بہاول پور جانے کے تیار ہو چکا تھا ۔اس دن میں جاگنگ پر نہیں جا سکا تھا ۔ میں ناشتے کی میز پر آیا تو ارم بھی تیار ہو کر آ گئی ۔ اس نے سیاہ جین پر گلابی شرٹ پہنی ہوئی تھی ۔اس نے اپنی سیاہ جیکٹ کی زپ کھلی چھوڑ رکھی تھی۔ وہ بالکل میرے سامنے آ کر بیٹھ گئی ۔ اس کے چہرے پر گہری سنجیدگی تھی ۔میں نے کوئی بات نہیں کی بلکہ ناشتہ کرتا رہا ۔ وہ بھی ناشتہ کرتے ہوئے خاموش تھی ۔جس وقت میں نے کپ میں چائے لی تو اس نے بھی کھانا چھوڑ دیا اور مجھے چائے دینے کو کہا ۔ ہم نے خاموشی ہی میں چائے پی اور اٹھ کر باہر لاﺅنج میں آ گئے ۔ وہاں بابا بیٹھے ہوئے تھے ۔انہوں نے ہمیں دیکھا اور بولے

” رات مجھے فہیم نے فون کیا تھا ، وہ وقت پرعدالت پہنچ جائے گا ۔اس نے مجھے یہ بھی بتایا تھا کہ صرف اسی ایک پیشی پر علی کو جانا پڑے گا ۔ پھر ضرورت نہیں ہوگی ۔“

” جی بالکل ، جیسے وہ کہیں گے ۔“ میں نے سعادت مندی سے کہا

”ٹھیک ہے بیٹا جاﺅ پھر تم دونوں، بہت سنبھال کر جانا ، فی امان اللہ ۔“ انہوں نے ہم دونوں کی طرف دیکھتے ہوئے کہا تو ہم پورچ میں آ گئے ۔ وہاں ارم کی گاڑی کھڑی تھی ۔ وہ سیدھی ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھ گئی ۔ میں اس کے ساتھ آ کر بیٹھ گیا تو وہ چل دی ۔

گاﺅں سے شہر تک کا فاصلہ بہت جلدی کٹ گیا ۔ شہر سے بہاول پور تک جانے میں کوئی ایک گھنٹہ چاہئے تھا ۔ جیسے ہی ہم شہر سے نکلے تو ارم نے سامنے دیکھتے ہوئے کہا

” سوری یار علی ، رات میں کچھ زیادہ ہی جذباتی ہو گئی تھی ۔“ اس کے لہجے میںکسی شرمندگی کااحساس نہیں بلکہ اعتراف تھا

” اس میں سوری کی کیا بات ہے ، وہ شہزادی ، جسے دیکھنے ، جسے ملنے ، جس کا قرب حاصل کرنے کا ایک جہاں طلب گار ہے ، اسے میر ا احساس ہے ، اس کے دل میں میرے لئے پیار ہے ۔یہ تو میری خوش نصیبی ہے یار۔“ میںنے کہتے ہوئے قہقہ لگا دیا ۔ تبھی وہ دبی دبی مسکراہٹ کے ساتھ بولی

” میں نہیں چاہتی کہ تم مجھے کوئی ایسی ویسی لڑکی سمجھو ۔“

” نہیں میں تمہیںکیسی کیسی سمجھ لیتا ہوں۔“ یہ کہہ کر میں نے سنجیدگی سے کہا ،” ایسی باتیں مت کرو ۔ہم دوست ہیں اور بس ۔“

”میں نہیں چاہتی کہ تم میرے عشق میں پاگل ہو جاﺅ ۔“ اس نے ناز سے سر جھٹکتے ہوئے کہا

” یہ تم بھول جاﺅ ، مجھے نہ کسی سے محبت ہوئی ہے اور نہ عشق کا مرض مجھے لا حق ہو سکتا ہے ۔ چاہے تمہارے جیسی جتنی مرضی حسین لڑکی ہو ۔“ میںنے مذاق میں کہا تو وہ قہقہ لگا کر ہنس دی ۔ پھر ہنستے ہوئے بولی

”ہاں ،میںنے تمہیں دو برس دیکھا، تم نے کسی لڑکی میں دلچسپی نہیں لی ۔خیر ہونا تو ایسے ہی چاہئے ۔“

” کیا ایسے ہونا چاہئے ؟“ میںنے پوچھا

” تیرے جیسے وجہہ لڑکے کوصرف ایک لڑکی پر اکتفا نہیں کرنا چاہئے ۔ ساری زندگی ایک لڑکی کے ساتھ کیا بندھے رہنا ۔تم جب چاہو ….“ وہ کہتے کہتے رک گئی تو میں قہقہ لگا کر ہنس دیا۔ میں اس کی بات سمجھ چکا تھا ۔ اس لئے بولا

” یہ تمہاری سوچ ہے ، میں کیا کہہ سکتا ہوں ۔“

انہیں باتوں کے دوران میںنے اپنے سائیڈ مرر میں دیکھا ۔ ایک سیاہ کرولا مسلسل ہمارے پیچھے آ رہی تھی ۔ جب سے ہم شہر سے نکلے تھے ، تب سے وہ ہمارے پیچھے پیچھے تھی ۔ پہلے میںنے اسے اتفاق ہی سمجھا تھا ، لیکن آ دھا گھنٹہ گزر جانے کے بعد بھی وہ مسلسل ہمارے پیچھے تھی ۔ مجھے تعاقب کا یقین ہوگیا ۔ میں نے ارم سے کہا

” تم نے پیچھے آ تی ہوئی سیاہ ….“

” وہ ایک نہیں دو ہیں ، دوسری سرخ کار ہے ۔ ہمارے ہی لوگ ہیں ۔“ اس نے سکون سے کہا تو میںنے اطمینان کا سانس لیا ۔میںنے اس سے کوئی سوال نہیں کیا کہ وہ لوگ کہاں ٹھہرے تھے ؟ انہیں کیوں ساتھ لیا گیا ہے ؟ کیا اتنا بڑا ہی خطرہ ممکن تھا ؟ کیا ارم اتنی طاقت رکھتی ہے کہ اپنے ساتھ اتنے لوگوں کو لئے پھرتی ہے اور وہ بھی اس قدر محتاط اور خفیہ انداز میں ؟ میری سوچیں پھیلنے لگیں ۔یہ کیاکھیل تھا اور میں کس کھیل میں پھنس رہا ہوں ۔کیا اب بھی مجھے اتنے لوگ اپنے ساتھ رکھنے پڑیں گے ؟ اس طرح تو زندگی اجیرن ہو کر رہ جائے گی ؟ کیا یہ فقط حالات ہیں یا کوئی جان بوجھ کر مجھے اس جانب دھکیل رہا ہے ؟

عدالت میں ہمیں دوپہر کے قریب آ واز پڑی ۔ انکل فہیم اُدھر ہی تھے۔ ہماری تفصیلی بات چیت ہو چکی تھی ۔ان کا خیال تھا کہ ابھی ان سب بیرک والے بد معاشو ں پر اسی مقدمہ کے ذریعے دباﺅ ڈالا جائے گا ، بعد میں جب وہ یہ بتا دیں گے کہ کس کے ایماءپر انہوںنے یہ سب کیا تھا تو تصدیق کے بعد انہیں معاف کر دیا جائے گا ۔یہ ایک طرح سے نیا محاذ تھا ، اسے یوں کھولنے کی ضرورت اس لئے نہیں تھی کہ اصل دشمن ہی کی جانب توجہ رکھی جائے ۔ میںنے ان کی بات من وعن مان لی ۔اس کے علاوہ میرے پاس چارہ نہیں تھا ۔ بابا نے انہیں میرا وکیل مقرر کیا تھا وہ جو کر رہے تھے بابا کی مرضی ہی سے کر رہے تھے ۔ عدالت میں وہ سبھی بیرک والے بد معاش پیش ہوئے تھے ۔وہ چھ تھے ۔ میں نے پہلی بار انہیں غور سے دیکھا تھا ۔ وہ سب میری طرف یوں دیکھ رہے تھے جیسے ابھی مجھے کچا کھا جائیں گے ۔میں انہیں دیکھ کر مسکرا دیا تھا ۔پولیس نے اپنی تفتیش پیش کی ، جس میں یہ ثابت تھا کہ انہوں نے مجھے شدید زخمی کیا تھا ۔اُن کی طرف سے وکیل پیش نہیں ہوا تھا جبکہ انکل فہیم نے انہیں سخت سے سخت سزا دینے کی استدعا کی تھی ۔یوں اگلی پیشی پر عدالتی کاروائی ختم ہو گئی ۔

ہم حویلی واپس آ نے کے لئے چل پڑے تھے ۔ شہر سے باہر آ کر ارم نے اپنا پسٹل ڈیش بورڈ پر رکھ لیا تھا ۔تب میں نے کہا

” کیا تمہیں یقین ہے کہ ہم پر حملہ ہوگا ؟“

” ففٹی ففٹی چانس ہے ۔جس طرح انہوں نے دھمکیاں دی ہوئی ہیں اور جس طرح کے گینگ کے ساتھ وہ تعلق رکھتے ہیں ، انہیں حملہ کرنا چاہئے ۔اور اگر یہ حملہ نہیں ہوتا تو پھر کچھ دوسرا سوچنا پڑے گا ۔“

” مجھے تمہاری سمجھ نہیں آ رہی ، تم مجھے کھل کر کیوں نہیں بتا دیتی ہو ؟“ میںنے اکتائے ہوئے لہجے میں کہا

” دھیرج رکھو ، تمہیں سب معلوم ہو جائے گا ، بہت ساری باتوں سے صرف دماغ خراب ہوتا ہے اس کا حاصل کچھ نہیں ہوتا ۔ “ یہ کہتے ہوئے اس نے اپنا فون بھی اپنی گود میں رکھ لیا ۔مجھے نجانے کیوں خطرے کا احساس ہو نے لگا ۔ ارم نے ماحول ہی ایسا بنا دیا تھا ۔

واپسی پر پورے راستے ٹینشن رہی ۔ہم میں زیادہ باتیں بھی نہیں ہوئیں لیکن اپنا شہر آ جانے تک کچھ بھی نہیں ہوا تھا ۔ میںنے اطمینان کا سانس لیا ۔ ارم جو خطرہ محسوس کر رہی تھی ، ویسا نہیں ہوا تھا ۔ سہ پہر کا وقت تھا جب ہم شہر سے حویلی جا پہنچے تھے ۔ اس بار سفید اور سرخ کار والے بھی ہمارے ساتھ ہی حویلی آ گئے تھے ۔ میں جیسے ہی پورچ میں رکا، میرا ملازم کام چھوڑ کر آ گیا ۔ یہ معمول کا عمل تھا ۔ اس سے پہلے کہ میں کوئی سامان وغیرہ اندر لے جانے کے لئے انہیں آواز دیتا ، وہ خود ہی قریب آ جاتا تھا ۔میںنے اس کی طرف دیکھتے ہوئے پوچھا

”سب خیریت ہے نا ؟‘

” جی یہاں حویلی میں سب خیریت ہے لیکن گاﺅں میں نہیں ۔“

” کیوں گاﺅں میں کیا ہوا ہے ؟“ میںنے تجسس سے پوچھا

” وہ جو تنّی نہیں آ تا یہاں پر ، وہ تنویر۔“ ملازم نے کہا

” ہاں کیا ہوا ہے اسے ؟“میںنے تیزی سے پوچھا

” وہ چوہدری سلطان کے لوگ اسے تلاش کرتے اس کے گھر گئے تھے ۔ وہ گھر پر نہیں تھا ۔ لیکن انہوںنے اس کے بھائی کو پکڑ کر لے جانا چاہ رہے تھے ۔“

” پھر کیا ہوا ؟“میں نے تجسس سے پوچھا

” وہیں پر ماسڑ مجید تھے ۔انہوں نے چوہدری سلطان کے بندوں کو روکا کہ کیوں اسے پکڑا ہوا ہے ۔جاﺅ تنّی کو تلا ش کرو ۔اس کا کیا قصور ۔ اسی بات پر انہوں نے ماسٹر مجید کے ساتھ بڑی زیادتی کر دی ۔“

” کیا ، کیا انہوں نے ؟“ میں نے دکھ اور تکلیف سے پوچھا

” ماسٹر مجید کو انہوں نے مارا ، اسے تنّی کے گھر کے سامنے گھسیٹتے رہے ہیں ۔پتہ نہیں بے چارہ اب تک زندہ ہے یا مر گیا ہوگا ۔“ ملازم نے بتایا تو میرے دماغ کی نسیں پھٹنے لگیں۔ میرے تن بدن میں آگ لگ گئی ۔ مجید صاحب پورے گاﺅں ہی کے نہیں میرے بھی استاد تھے ۔ایک کمزور بندے پر ظلم مجھے سے برداشت نہیںہوا۔ میں نے اسی وقت تنّی کو فون کیا ۔ اس نے دوسری بیل پر فون رسیو کرلیا ۔

” یہ میں کیا سن رہا ہوں ۔“

”یار ، انہوں نے میرے بھائی کو جو ذلیل کیا ہی تھا ، ماسٹر مجید کے ساتھ بڑی زیادتی کی ہے ۔ اس عمر میں ،وہ ….“ یہ کہتے کہتے روہانسا ہو گیا

” لیکن کیوں ، وہ تمہیں کیوں تلاش کر رہے ہیں ؟“ میںنے تیزی سے پوچھا تو اس نے بھرائی ہوئی آ واز میں بتایا

” ان کے خیال میں رات ہونے والے قتل بارے میں سب جانتا ہوں ۔کل میرے علاوہ وہاں پر کوئی نہیں گیا تھا ۔“

” اس وقت کہاں ہو ؟“ میںنے سنجیدگی سے پوچھا

”میں ادھر گاﺅں ہی میں دوست کے گھر چھپا ہوا ہوں ۔“ اس نے بتایا

” اور وہ لوگ ، جنہوںنے ماسٹر صاحب پر ظلم کیا ان کا کوئی پتہ ؟“ میں نے ایک خیال کے تحت تیزی سے پوچھا

” وہ مجھے ادھر اُدھر تلاش کر رہے ہیں ۔پتہ نہیں ان کی حالت کیسی ہوگی ۔“ اس نے تڑپتے ہوئے لہجے میں کہا

”تم فکر نہ کرو ۔ مجھے صرف اتنا پتہ بتا دو کہ وہ لوگ کہاں مل سکتے ہیں ۔“ یہ کہہ کر میں نے فون بند کر دیا ۔

” کیا بات ہوئی ؟“ ارم نے پوچھا

”آﺅ میرے ساتھ بتاتا ہوں ۔“ یہ کہہ کر میں اسی کی کار میں واپس بیٹھ گیا ۔ اس نے میرے چہرے پر دیکھا پھرکوئی سوال کئے بنا کار بڑھا دی ۔ راستے میں ساری بات میں نے ارم کو بتا دی ۔ بہ مشکل دس منٹ میں ہم گاﺅں میں ماسٹر مجید کے گھر کے سامنے پہنچ گئے ۔ وہاں گاﺅں کے لوگوں کا رش لگا ہوا تھا ۔ میں تیزی سے اندر گیا ۔ وہ صحن میں چار پائی پر پڑے تھے ۔ ان کے چہرے پر اور بدن پر بہت ساری خراشیں تھیں ۔ وہ لمبے لمبے سانس لے رہے تھے ۔ مجھ پر نگاہ پڑتے ہی ان کی نگاہوں میں حسرت اتر آ ئی ۔ اس کے ساتھ ہی ان کی آ نکھوں سے آ نسو جاری ہو گئے ۔ میں ان کے پاس بیٹھ گیا۔ پھر ان کے آ نسو صاف کرتے ہوئے دھیمے سے کہا

” سر ، اپنے آ نسو بچا کر رکھیں ، اگر میں انہیں یہاں لا کر نہ گھسیٹ سکا تو پھر چاہیں بہا لیں ۔“

یہ کہتے ہی میں نے ان کے بیٹے سے کہا

” یہ جو گاﺅں کا ہسپتال ہے ، اس میں ڈاکٹر ہوگا ، وہ نہ ملے تو ڈسپنسر تو ہوگا ہی ، اسے میرا بتانا اسے کہو فوراً آ جائے ۔“

وہ اپنے موٹر سائیکل کی جانب بڑھا ۔ میں اٹھا اور باہر گلی میں آ گیا ۔ جہاں گاﺅں والوں کا رش تھا ۔ مجھے ان پر بہت غصہ آیا ۔ان سب کو دیکھ کر میں نے کہا

” تم سب بزدل اور بے غیرت ہو ۔ تم لوگوں کے سامنے چند غنڈے اس شریف انسان کو ذلیل کر گئے ہیں جو تم میں سے بہت ساروں کا روحانی باپ ہے ۔ کسی نے بھی ان کا ہاتھ روکنے کی غیرت نہیں کی ؟“

” ہم تھے نہیں یہاں پر ۔“ ایک نوجوان نے کہا

” لیکن اب تو انہیں تلاش کر سکتے ہو ۔ سنو، جس میں غیرت ہے ، جو سمجھتا ہے کہ یہ ان کے روحانی باپ ہیں تو ان غنڈوں کا بس پتہ مجھے بتا دو ۔“

” وہ اب بھی تنّی کو تلاش کرتے پھر رہے ہیں ۔“ ایک لڑکے نے آ گے بڑھ کر کہا

” میں کہتا ہوں اگر تنّی میں ذرا سی بھی غیرت ہے تو وہ سامنے آ جائے ، میں دیکھتا ہوں اسے کون لے کر جاتا ہے ۔ لیکن پہلے مجھے ان غنڈوں کے بارے میں بتاﺅ ، جنہوں نے یہاں بے غیرتی کی ہے ۔“میں نے سب کی طرف دیکھتے ہوئے زور سے کہاتبھی ایک لڑکے نے بتایا

” وہ غنڈے یہیں گاﺅں میں ہیں ۔یہاں سے تیسری گلی میں، وہ گھر گھر میں تنّی کو تلاش کر رہے ہیں ۔“

” چلو پھر ۔“ میںنے ساری احتیاط ایک طرف رکھتے ہوئے کہا اور کار میں بیٹھ گیا ۔ ارم نے اب بھی کوئی سوال نہیں کیا تھا ۔ وہ ادھر بڑھ جاتی جد ھر میں کہتا ، کچھ دیر بعد ایک طرف شور پڑ گیا۔ وہ غنڈے ایک گلی میں کھڑے تھے ۔ان کے پاس ایک جیپ کھڑ ی تھی ۔وہ سات آٹھ لو گ تھے ۔ انہیں پتہ چل چکا تھا کہ میںان کے پیچھے آ رہاہوں ۔ بلاشبہ ان کے پاس اسلحہ تھا ۔ میںنے ان کے قریب کار روکی اور باہر نکلتے ہی ایک شخص سے پوچھا

” تم میںسے کس کس نے مجید صاحب پر ظلم کیا ہے۔ وہ میرے سامنے آ جائے ۔“

میرے یوں کہنے پر انہوںنے میری طرف دیکھا، پھر ایک دوجے کی طرف سے زور دار انداز میں ہنس دئیے ۔ تبھی ایک غنڈہ آ گے بڑھا اور اس نے اپنی گن سے میری طرف اشارہ کرتے ہوئے حقارت بھرے لہجے میںکہا

” اُوئے کیوں موت کو آواز دے رہا ہے ۔کیا تجھے بھی ان گلیوں میں گھسیٹ دوں تب تمہیں پتہ چلے گا ۔“

” اس کا مطلب ہے تم ہی ہو ۔“میںنے کہا ہی تھا کہ سرخ اور سفید کار میں آئے لوگوں نے اپنا اپنا پسٹل نکالا اور ایک ساتھ سیفٹی کیچ اتار اکر سب پر تان دیا ، وہ سبھی گھیرے میں تھے ۔ انہوںنے انتہائی حیرت سے چاروں طرف دیکھا ۔ میں نے انہیں حیران ہی رہنے دیا ، پھر آ گے بڑھ کر اس کی گن کی نال کو پکڑ کر جھٹکا دیا ۔ گن اس کے ہاتھ سے نکل گئی ۔ میںنے ان سب غنڈوں کی طرف دیکھ کر کہا ،” تین سیکنڈ میں اپنے ہتھیار پھینک دو ، ورنہ تمہاری موت کا ذمہ دار نہیں ہوں گا ،پھینکو اسلحہ بے غیرتو….“

میرے کہتے ہی کئی ساروںنے گن یا دیسی ساخت کے ریوالو ر ،کاربین نیچے پھینکے ۔اسی دوران ان میں سے دو نے فائر کرنے کی غلطی کر لی ۔ لیکن ان پر پہلے ہی ان پر فائر ہو گئے ۔ ان کے ہاتھوں کا نشانہ لیا تھا ۔ وہ اپنے ہاتھ پکڑ کر زمین پر گرتے چلے گے ۔ انہیں یقین ہو گیا کہ وہ اب بچ نہیں سکتے ۔ میںنے کہا بھی نہیں لیکن گاﺅں کے چند جوشیلے اور جذباتی نوجوانوں نے اُن کی دھنائی کرنا شروع کر دی ۔ان غنڈوں نے تھوڑی دیر مزاحمت کی لیکن اتنے لوگوں کے سامنے ان کا بس نہ چلا ۔میرے کہنے پر گاﺅں کے جوشیلے لڑکے رُک کر انہیں باندھنے لگے۔ انہوںنے انہی کی جیپ کے ساتھ انہیں باندھ دیا ، کچھ نے انہیں ویسے ہی گھسیٹنا شروع کر دیا ۔ یہاں تک کہ انہیں مجید صاحب کے گھر کے سامنے لے آ ئے ۔

” ان میں سے کون کون تھا ؟“ میںنے مجید صاحب سے پوچھا

”انہیں پہچاننے کی دقت ہو رہی تھی ، وہ بہت تکلیف میں تھے ۔ ڈاکٹر پہنچ گیا تھا اور اس نے کچھ دیر پہلے انجکشن دے دئیے تھے ۔ میں ان میں سے ایک کے پاس گیا اور اس سے پوچھا

” کیوں ظلم میرے استاد پر ؟“

” ہم تنّی کو تلاش کر رہے تھے ۔انہوں نے ….“ اس نے کہنا چاہا تو میں نے زور سے ٹھوکر اس کے سر پر مارتے ہوئے کہا

”تو اس کا مطلب ہے تم کمزور لوگوں پر ہاتھ اٹھا دو ، کس نے بھیجا ہے تمہیں ؟“ میںنے پوچھا

” چوہدری سلطان نے ۔“ اس نے میری توقع کے مطابق جواب دیا

” اسے کرو فون ، اور بلاﺅ اسے یہاں ، اگر اس میں ہمت ہے نا آئے یہاں پر اور تم لوگوں کو لے جائے مجھ سے ۔“میں نے دھاڑتے ہوئے کہا

ارم کے ساتھ آئے سیکورٹی گارڈ بڑے پرو فیشنل تھے ۔ وہ بڑے الرٹ انداز میں کھڑے تھے ۔میں نے بڑی بات کہہ دی تھی ۔ چوہدری سلطان کو میں نے للکارا تھا ۔ اب اسے اپنی طاقت کے ساتھ ہی میرے سامنے آ نے سے کون روک سکتا تھا ۔ مگر میں اس دن یہ جوا کھیلنے والا تھا ۔ میںنے یہ فیصلہ کر لیا تھا کہ آج اگر چوہدری سلطان جتنی مرضی طاقت لے کر میرے سامنے آ جائے میںنے اسے مار دینا ہے ۔میں شام تک انتظار کرتا رہا ، شام تک گاﺅں کے نوجوان ان غنڈوں کو پیٹتے رہے ۔جس نے کسی کو کبھی تھپڑ نہیں مارا تھا وہ بھی انہیں مارتا رہا۔ وہ غنڈے ادھ موئے ہو چلے تھے ۔ جو زخمی تھے وہ بے ہوش ہو چکے تھے۔ شاید وہ مر جاتے۔ چوہدری سلطان تو نہیں آیا ، لیکن پولیس کی بھاری نفری آ گئی ۔ اس بار ایک نیا ہی انسپکٹر تھا۔اس نے بڑے مودب انداز میں میرے ساتھ مصافحہ کرتے ہوئے کہا

” علی بھائی مجھے یقین ہے ، آپ قانون کو ہاتھ میں نہیں لیں گے ، انہیں ہم لے جارہے ہیں؟“

” یہ دھمکی دے رہے ہو ؟“ میں نے سرد سے لہجے میں پوچھا ۔ اس وقت میرا دماغ خراب ہو رہا تھا ۔

” نہیں دھمکی نہیں ، بس ایک مشورہ ہے ۔ہم آ گئے ہیں اور اب یہ ہمارا کام ہے ۔“ اس نے نرم لہجے میں کہا

”کیا انہیں سزا ملے گی ، یہ جو یہاں غنڈہ گردی کرتے رہے ہیں ، یہ جو بے گنا ہ اور مظلوم لوگوں پر تشدد کرتے رہے ہیں ، انہیں کوئی پوچھنے والا نہیں ؟“

” ہم یہ سب دیکھ لیں گے ، پوری کاروائی ہوگی ۔“ اس نے یقین دلاتے ہوئے کہا

” یہ خود اقرار کر رہے ہیں کہ انہوں نے چوہدری سلطان کے کہنے پر یہ ساری غنڈہ گردی کی ہے ، کیا اس کا نام دو گے ایف آئی آر میں ؟“ میں نے پھر سے پوچھا

” بالکل ، ایسا ہی ہوگا ۔“ اس نے کہا تو میں نے انہیںجانے کی اجازت دے دی ۔ انہوںنے ان غنڈوں کو ایک گاڑی میں ڈالا اور تیزی سے لے کر چلے گئے ۔میں کچھ دیر مجید صاحب کے پاس بیٹھا رہا پھر حویلی میں آ گیا ۔

٭….٭….٭

رات ہو چکی تھی ۔ بابا کو پتہ چل گیا تھا کہ میں مجید صاحب کے لئے کس قدر جذباتی ہو گیا تھا ۔ انہوںنے مجھے اس بابت ایک لفظ بھی نہیں کہا ، نہ ناراض ہوئے نہ شاباش دی ۔ میں دیکھ رہا تھا کہ ان کے چہرے پر فکر مندی پھیل چکی تھی ۔ میں ان کے پاس چلا گیا ۔وہ لاﺅنج میں اکیلے ہی بیٹھے ہوئے تھے ۔ میں ان کے ساتھ دھرے صوفے پر بیٹھا توانہوں نے ہلکی سی مسکراہٹ سے مجھے دیکھ کر کہا

”میں جانتا ہوں تم میرے پاس کیوں آ ئے ہو ؟بیٹا تم نے جو کیا اچھا کیا لیکن میں سوچ رہا ہوں یہ جو جنگ ہم پر مسلط کی جا رہی ہے ، اس کا انجام کیا ہوگا ؟“

” بابا آپ اس جنگ کے انجام کی فکر کرنے سے پہلے یہ کیوں نہیں سوچتے کہ وہ ہمیں انجام تک پہنچا دینا چاہتے ہیں ۔“ میںنے کہا

” ہاں یہ بات تم ٹھیک کہتے ہو ، لیکن کیا تم سمجھتے ہو کہ تمہارا دشمن یہ سلطان ہی ہوگا ۔“

”میں نہیں سمجھتا کہ یہ سب کچھ چوہدری سلطان کروا رہا ہے ۔“ میںنے کہا تو انہوں نے میری طرف دیکھ کر پوچھا

” تو پھر کون ہو سکتا ہے ؟“

” جو بھی ہے ، وہ کافی شاطر ہے ۔ وہ مجھے ایک مہرے سے لڑوا دینا چاہتا ہے ، وہ مجھے دیکھنا اور پرکھنا چاہتا ہے ۔سلطان جیسے گھٹیا دشمن کو میرے سامنے کر دیا ہے ۔“ میں نے کہا

” اور یہ تنّی تو بہت بزدل نکلا، یوں چھپ گیا جیسے پھر کبھی سامنے ہی نہیں آ نا ۔“ بابا نے تبصرہ کیا

” بابا، مجھے نہیں لگتا کہ وہ بزدل ہے ،ہاں مگر وہ خود کو کمزور سمجھتا ہے اور بے چارہ ہے بھی تو اکیلا ہے ۔ کون ہے اس کے ساتھ ؟ کون ہے اسے حوصلہ دینے والا؟یہ بہت بڑی بات ہے کہ وہ چوہدری سلطان جیسے لوگوں کے پالتو غنڈوں میں شامل نہیں ہوگیا ۔ “میں نے اپنی رائے دی

” ہاں ، تم ایسا کرو ، خود کو بہت بچا کر ، بہت محتاط ہو کر اس مسلط کی ہوئی جنگ سے باہر آ جاﺅ ، ہمیں نہیں لڑنا یہ جنگ ۔“ وہ دھیمے سے بولے

” لیکن بابا جب تک میرا دشمن میرے سامنے نہیں آ جاتا اور جب تک وہ وجہ نہیں معلوم ہو جاتی ، جس کے باعث یہ جنگ مسلط کر دی گئی ہے تب تک میں کیسے باہر نکل سکتا ہوں ۔ “ میں نے کہا

 ” تم ٹھیک کہتے ہو ۔“ بابا نے پھر آ ہستگی سے فکر مند لہجے میں کہا

” آپ فکر نہ کریں ، سب ٹھیک ہو جائے گا ۔“ میںنے ان کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لے کر کہا تو وہ دھیمے سے مسکرا تے ہوئے بولے

” بیٹا، میں تمہاری کہیں بھی حوصلہ شکنی نہیں کرنا چاہتا ، لیکن جہاں تک ممکن ہو ، باﺅلے کتّے کو خود سے پرے رکھو ۔ اگر وہ کاٹنے پر تل ہی جائے تو اسے گولی مانے میں تاخیر نہ کرو ۔ تمہیں نہیں کاٹے گا تو کسی دوسرے کو کاٹ لے گا ۔بس علاقے میں اپنی عزت بنا کر رکھنا ۔ یہی میری خواہش ہے ۔“

” ایسا ہی ہو گا بابا، اب آپ کمرے میں جا کر آ رام کریں ۔“ میںنے کہا

”ٹھیک ہے ۔“ یہ کہہ کر وہ اٹھے اور اپنے کمرے کی جانب چل پڑے ۔ میں وہاں سے اٹھ کر اپنے کمرے میں جانے لگا تو باہر سے ملازم نے مجھے بتایا کہ باہر تنّی آ یا ہے ۔

” ٹھیک ہے ۔“ میںنے کہا اور باہر چلا گیا ۔ تنّی مہمان خانے میں بیٹھا ہوا تھا ۔ اس کی آ نکھیں سرخ ہو رہی تھیں ۔ مجھے دیکھتا ہی اٹھا اور روتے ہوئے میرے گلے لگ گیا

” اُو خیر تو ہے ، کیا بات ہوئی، سب ٹھیک توہے نا ۔“ میں نے گھبراتے ہوئے پوچھا

” تم نے مجھے خرید لیا ہے یار ، آج مجھے پتہ چلا ہے کوئی تو میرے لئے اس قدر دشمن کو للکار سکتا ہے ۔اب تو میری جان بھی مانگو تو حاضر ہے، یہ تو خوشی کے آ نسو ہیں ۔“ اس نے روتے ہوئے کہا

” یہ اپنے آ نسو پونچھ چاہے خوشی کے ہی ہیں، مرد کی آ نکھوں میں یہ آ نسو اچھے نہیں لگتے ۔“ میں نے اس کی بھیگی آ نکھوں کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔اس نے اپنی چادر کے پلو سے اپنی آ نکھیں صاف کی اور افسردہ سا ہو کر بیٹھ گیا ۔کچھ دیر بعد میںنے پوچھا

” کھانا کھایا تم نے ؟“

اس نے جواب دینے کی نجائے نفی میں سر ہلا دیا ۔ میں نے ملازم کو بلایا اور کھانا لانے کے لئے کہا ۔ کچھ دیر بعد وہ کھانا کھا چکا تو بولا

” مجھے سونا بھی ہے ۔“

” یہیں سو جاﺅ ۔ “ میںنے ایک طرف پڑی چار پائی کی جانب اشارہ کرتے ہوے کہا تو وہ لیٹ گیا ۔وہ شاید بات نہیں کرنا چاہتا تھا یا تھکا ہوا تھا جو بھی تھا ، اس نے لحاف سر پر لی اورسو گیا ۔

نجانے کیوں مجھے تنّی پر یقین نہیں آ رہا تھا اور اسے چھوڑنے کو دل بھی نہیں کر رہا تھا ۔ اگر وہ دشمن تھا تو میری حویلی میں سو رہا تھا اور اگر دوست تھا تو پھر بہت بری حالت میں تھا ۔ مجھے کچھ سمجھ میںنہیں آیا۔ میںنے اسے ویسے ہی چھوڑ دیا۔اس کے بارے میں سوچا ہی نہیں لیکن چوکیدار سے کہہ دیا کہ اس کا خیال رکھنا ۔ ارم کے سیکورٹی گارڈ حویلی کے کاریڈور میں بنے کمرے میں تھے ۔ انہیں اپنی ڈیوٹی بھی دینا تھی ۔ میں حویلی کے اندر چلا گیا ۔

میں اپنی کمرے کی جانب جا رہا تھا کہ سامنے ارم کھڑی دکھائی دی ۔ وہ حویلی کے دوسری جانب کاریڈور میں کھڑی تھی ۔ یہ وہی جگہ تھی ، جہاں ہم رات بیٹھے رہے تھے ۔میں چلتا ہوا اس کے پاس جا کر کھڑا ہو گیا ۔ اس نے پلٹ کر مجھے دیکھا اور پھر دھیمی سی مسکان کے ساتھ بولی

”علی ، تمہارا معاملہ بڑھتا ہی جا رہا ہے ۔ “

”ہاں ، لیکن بہت جلد یہ سب ختم ہو جائے گا ۔“ میں نے سنجیدگی سے کہا

”تم جذباتی فیصلے کرتے ہو ، آج میں نے تمہارا غصہ دیکھا۔ ایسا میں نے تمہیں پہلے نہیں دیکھا کبھی ۔ “ وہ آ ہستگی سے بولی

”یار میں ہی نہیں ، میرے بابا بھی مجید صاحب کی عزت کرتے ہیں ، اگر لوگ بے حس ہو گئے تو کیا ہم بھی ایسے ہی ہو جائیں ۔میں نے بہت چھوٹی جماعتوں میں ان سے پڑھا ہے ۔“ میںنے اسے بتایا

”نہیں ،وہ تمہارا ان کے لئے کچھ بھی کرنا ٹھیک تھا لیکن اس طرح بنا سوچے سمجھے اتنی بڑی بات کہہ دینا ، میرے لئے بہت حیران کن تھا ۔“اس نے حیرت ملے لہجے میں کہا

”جو کچھ بھی ہے تمہارے سامنے ہے ۔مجھے غصہ ہی اتنا آ گیا تھا ، آج اگر وہ سلطان میرے سامنے آ جاتا تو میںنے اسے مارنے کا فیصلہ کر لیا تھا ۔“ میںنے اکتائے ہوئے لہجے میںکہا تو وہ بالکل میرے قریب آ گئی ۔ پھر میرے کاندھے پر ہاتھ رکھ کر بولی

”کب تک لڑو گے ۔“

” جب تک میں لڑ سکا ۔“ میںنے حتمی لہجے میں کہا

” بس تو پھر حوصلہ نہیں ہارنا ۔ “ اس نے سر سراتے ہوئے لہجے میں کہا ۔ اس کا لہجہ عجیب سا ہو رہا تھا ۔جس میں کہیں کھو جانے کا احساس چھپا ہوا ہو ۔ میںنے اس کا ہاتھ پکڑا، اسے تھپتھپاتے ہوئے کہا

” اب تم سو جاﺅ ، صبح بات کریں گے ۔“

” نہیں مجھے تم سے بہت ساری باتیں کرنی ہیں ۔“ اس نے سست پڑتے ہوئے کہا تو میں بولا

” صبح کر لیں گے ۔ اس وقت اگر اماں یہاں آ گئی تو کیا سوچیں گی ۔“

 میرے یوں کہنے پر وہ لمحہ بھر کو رُکی اور پھر کمرے کی جانب بڑھ گئی ۔ میںنے اسے کمرے تک چھوڑا اور اپنے کمرے کی جانب چلا گیا ۔ مجھے ارم کا ہونا بہت عجیب سا لگتا تھا ۔ اس کا یہاں ہونا، میری مدد کرنا اور مجھے حوصلہ دینا ،ایسا ہی تھا جیسے اس نے مجھے ایک نئی زندگی دے دی ہو ۔ جس طرح آج گاﺅں میں ہوا ، وہ خود مجھے حیران کر دینے والا تھا ۔

اس وقت نیلگوں روشنی پھیل چکی تھی ، جب میری آ نکھ کھل گئی ۔میں جاگنگ کے لئے تیار ہو نے لگا ۔ مجھے زیادہ وقت نہیں لگا اورمیں کاریڈور میں آگیا ۔ میں باہر جانا چاہتا تھا کہ دو سیکورٹی گارڈ میرے ساتھ چل پڑے ۔

” تم لوگ کہاں ؟“ میںنے حیرت سے پوچھا

”میڈم کا حکم ہے کہ آپ اکیلے نہیں جائیں گے ۔“ ان میں سے ایک نے کہا تو میں ہنس دیاپھر بولا

” او یار کیوں میری عزت کا جنازہ نکال رہے ہو ، اس سے اچھا ہے کہ میں جاﺅں ہی نا ۔“

” سر ، کل والا واقعہ ….“

” اُویار یہ بات نہیں ، آج اگر میں تم لوگوں کو لے کر نکلا نا توپورے علاقے میں یہ خبر پھیل جانی ہے کہ اب میں گارڈ رکھنے لگا ہوں ۔ڈرتا ہوں ،اکیلا نہیں نکل سکتا ۔ یہ اچھی خبر نہیں ہوگی ۔“ میں نے اسے سمجھایا

”سر پھر ہم میڈم کو کیا کہیں گے ؟“ اس نے پوچھا

” میں انہیں سمجھا لوں گا ، تم آرام کرو ۔“ میںنے کہا اور گیٹ کی جانب چل دیا ۔ ہلکی ہلکی کہر پھیلی ہوئی تھی لیکن اس میں دور تک دیکھا جا سکتا تھا ۔ سر سبز فصلیں اور دُھلے ہوئے درخت بہت خوبصورت لگ رہے تھے ۔ میں نے اپنی جیکٹ میں پڑے دونوں پسٹل محسوس کئے اور بھاگتا چلا گیا ۔میں لا شعوری طور پر چوکنا تھا ۔ میرے دشمنوں نے میرے اندر پڑی بہت ساری صلاحیتوں سے آ شنا کر دیا تھا ، شاید مجھے اپنے بارے میں احساس ہی نہ ہوتا اگر مجھ پر خوف مسلط کرنے کی کوشش نہ کی جاتی ۔مجھے یہی لگ رہا تھا جیسے ہر درخت کے پیچھے کوئی ہے ،وہ ابھی نکلے گا اور مجھ پر فائر کر دے گا ۔ لیکن یہ سب ایسی ہی سوچیں تھیں ۔ کچھ بھی نہیں ہوا اور میں واپس آ گیا ۔ میں سیدھا مہمان خانے میں گیا ۔ تنّی ابھی تک سو رہا تھا ۔ میںنے اسے جگانے کے لئے لحاف اٹھایا تو اس کا چہرہ سرخ ہو رہا تھا ۔

” کیا بات ہے ؟“ میں نے تجسس سے پوچھا

” کچھ نہیں ، بس اٹھنے والا تھا ۔“اس نے تیزی سے کہا

” چل پھر اٹھ ،نہا دھو ،کپڑے بدل اور ناشتہ کر ۔“ میں نے کہا اور یونہی اس پر لحاف چھوڑ کر مہمان خانے سے باہر آ گیا ۔ باہر آ کر میں نے ملازم کو ساتھ لیا ، اسے اپنا بہترین شلوا ر سوٹ دیا کہ وہ جا کر تنّی کو دے دے ۔وہ لے کر چلا گیا ۔

 ناشتے کے بعد ارم کو لاہور کے لئے نکلنا تھا ۔ وہ تذبذب میں تھی کہ جائے یا نہیں ۔وہ میرے پاس لاﺅنج میں بیٹھی تھی ۔

” دیکھو ، اگر تمہارا جانا ضروری ہے تو تم جا سکتی ہو۔“میں نے پیار سے کہا

” میرا دل نہیں چاہ رہا ، مگر مجبوری ہے ،میں ایسا کرتی ہوں ، یہ سیکورٹی گارڈز یہاں چھوڑ جا تی ہوں ۔تم ….“اس نے کہنا چاہا لیکن میںنے اس کی بات کاٹتے ہوئے کہا

”نہیں ارم ، یہاں پر کچھ ایسے لوگ ہیں ،جو میرا ساتھ دے سکتے ہیں ۔ میں کب تک ان سیکورٹی گارڈز کے حصار میں رہوں گا ۔“

” بالکل ، ٹھیک کہا تم نے ، بندے کو خود پر بھروسہ ہو نا چاہئے ۔“ اس نے ایک دم سے چمکتی ہوئی آ نکھوں کے ساتھ کہا ۔ چند لمحے خاموش رہنے کے بعد وہ پھر بولی ،” میرا خیال ہے کہ تم ادھر اُدھرکے معاملات میں پھنسنے کی بجائے ، اپنے اصل دشمن کو جلد ازجلد تلاش کر لو ، اس طرح سب واضح ہو جائے گا ۔“

”یہی کرنا ہوگا ۔میںنے سوچ لیا ہے اب مجھے کیا کرنا ہے ۔“ میںنے کہا تو ارم خاموش رہی ۔ پھر اٹھ گئی ۔کچھ دیر بعد میںنے اسے پورچ میں الوداع کہا ۔ وہ اپنے لوگوں کے ساتھ چلی گئی تھی ۔

میں لان میں بیٹھا ہوا چائے پی رہا تھا ۔ میں کوئی ایسا راستہ تلاش کرنا چاہتا تھا جس سے میں اپنے دشمن تک پہنچ سکتا ۔ میں سوچ کا کوئی بھی سرا پکڑ کر بڑھتا مگر میرے سامنے ایک بند گلی آ جاتی ۔میں یہی سوچ رہا تھا کہ صاف ستھرا تنّی میرے سامنے والی کرسی پر آ کر بیٹھ گیا ۔ اسے دیکھ کر میںنے پوچھا

” پتہ کیا تھا،مجید صاحب کا ، کیسے ہیں وہ ؟“

” وہ ٹھیک ہیں ، میں گیا تھا رات ان کے گھر لیکن میرے بھائیوں نے مجھے گھر سے نکال دیا ۔وہ سمجھ رہے ہیں کہ یہ سب میری وجہ سے ہوا ، بات بھی ٹھیک ہے ۔وہ مجھے تلاش کرتے ہوئے میرے گھر گئے تھے۔ بس اسی کا مجھے دکھ تھا جو مجھ سے برداشت نہیں ہو رہا تھا ۔“

”لیکن اس کا یہ مطلب تو نہیں ناکہ یوں …. خیر مجھے یہ بتا وہ تجھے کیوں تلاش کر رہے تھے ۔“میںنے پوچھا

” ان کا یہ شک ہی نہیں مجھ پر بلکہ یقین ہے کہ میں ہی ان کے ڈیرے پر گیا تھا اور میںنے ہی مخبری کی تھی ، جس کی وجہ سے وہاں موجود لوگ قتل ہو گئے ۔وہ مجھ سے یہ پوچھنا چاہتے ہیں کہ میں نے یہ مخبری کسے کی تھی ۔“ اس نے بتایا

”پھر تم بتا دیتے کہ یہ بات مجھے بتائی تھی ؟“ میںنے ایک خیال کے تحت کہا تو وہ تیزی سے بولا

”میں مر جاتا لیکن یہ بات کبھی نہ بتاتا ۔“ یہ کہہ کر وہ کچھ دیر کے لئے خاموش ہوا پھر بولا ،” میں یہ بات اچھی طرح جانتا ہوں کہ تم مجھ پر اعتماد نہیں کرتے ہو ، ٹھیک کرتے ہو ، یوںکیسے مجھ پر اعتماد ہو سکتا ہے ، ایک لوفر ، لفنگے کے ساتھ جس کا کوئی گھر بار نہیں ، اپنے گھر سے نکالا ہو ا، جسے کوئی پسند نہیں کرتا ، جس کی عزت ہی نہیں ہے ۔“

” یہ بات تو سچ ہے کہ میں تم پر اعتماد نہیں کر رہا ، لیکن اس کی وجہ یہ سب نہیں ، مجھے یہ سمجھ میں نہیں آ رہا کہ تمہاری چوہدری سلطان سے کیا دشمنی ہے ؟ تم کیوں مجھے اس کے سامنے لا کر کھڑا کرنا چاہتے ہو ؟“میں نے صاف کہا تو وہ چند لمحے خاموش رہا پھر سر اٹھا کر بولا

”دسویں جماعت کے بعد تم شہر چلے گئے تھے پڑھنے ، وہیں رہتے تھے ۔میںنے بھی داخلہ لیا تھا لیکن جلد ہی چھوڑ دیا ، کیا تم جانتے ہو میرے کالج چھوڑنے کی وجہ کیا تھی ؟“

” نہیں ، میں نہیں جانتا، تم بتادو ۔“ میںنے اختصار سے کہا

”ان دنوں اسی چوہدری سلطان نے دسویں کا امتحان دیا تھا ۔جب ہمارا ان کے ساتھ جھگڑا ہوا۔ ہماری زمین ان کے ساتھ ہی تھی ۔پانی لگانے پر ان کے نوکروں نے میرے ابا کو مارا، انہیں بے عزت کیا ۔کسی نے بھی ہمارا ساتھ نہیں دیا ۔گاﺅں کے لوگ ان سے ڈرتے تھے ۔پولیس والوں نے بھی ہماری نہیں سنی بلکہ تھانے دار مشورے دیتا رہا کہ زیادہ سے زیادہ کیاہوگا ، سات اکیاون کا پر چہ درج ہوگا ، میرا باپ بھی اندر ہوگا ۔وہ لوگ بھی اندر ہوں ۔ ان کی توضمانت ہو جانی تھی میرے باپ کے پیچھے کون جاتا ؟“

” کہیں بھی شنوائی نہ ہوئی ؟“ میںنے بے صبری سے پوچھا

”بالکل نہیں ، لیکن یہاں آپ کے بابا کام آ ئے ، انہیں پتہ چلا کہ میرے ابا کے کیا حالات چل رہے ہیں تو سب سے پہلے انہوں نے ہمارے گھر میں راشن پہنچایا ۔انہیں کچھ رقم دی ۔ پھر سب معاملہ ختم کروایا۔ تم اپنے بابا سے یہ سب پوچھ سکتے ہو ۔“اس نے کہا تو مجھے کافی حیرت ہوئی

” ایسا بھی ہوا تھا ؟“ میںنے حیرت سے پوچھا

” ہاں ایسا ہوا تھا ، وہ ہماری تھوڑی سی زمین پر قبضہ جمانا چاہتے تھے اور یہ ان کی کوشش اب تک ہے ۔ “

” پھر دوبارہ کوشش کی تھی انہوں نے ؟“میں نے پوچھا

” کہہ رہا ہوں نا کئی بار ، ہم چھوٹے تھے ،لیکن اب کئی برس ہوئے چوہدری سلطان کا باپ بھی تو مر گیا ہے نا ، اب نہیں ۔“ اس نے بتایا

”اچھا ، تو یہ پرانی بات ہے ۔“ میں نے تبصرہ کیا تو نفرت سے بولا

”اس دن سے میںنے سوچ لیا تھا ، اصل طاقت تو ان لوگوں کی ہے ، کوئی کسی کی عزت نہیں کرتا ، عزت صرف اس کی ہے جس کے پاس لاٹھی ہے جس سے وہ سب کو ہانک سکے ۔ میں اس معاشرے سے ویسے ہی متنفر ہو گیا ۔محنت مزدوری کرتے میں نے بیوپار شروع کر دیا ۔ میں چاہتا تھا کہ مجھے کوئی ایسا گینگ ملے جس میں شامل ہو کر میں طاقت حاصل کر لوںاور چوہدری سلطان جیسے لوگوں کو سبق سکھا سکوں ۔مجھے ایسا توکوئی نہیں ملا ، لیکن اس پورے علاقے کہاں سانپ ہیں، کہاں شیر ہیں یہ سب مجھے پتہ ہے ۔“

وہ کہہ رہا تھا اور مجھے کافی حیرت ہو رہی تھی ۔ وہ سانس لینے کے لئے رُکا تو میں نے پوچھا

”لیکن میرے سوال کا جواب تم نے نہیں دیا ؟“

”میں تمہیں چوہدری سلطان کے سامنے نہیں کرنا چاہتا تھا ، بلکہ یہ بتانا چاہتا تھا کہ یہی وہ بندہ ہے جو تمہارا دشمن بنا ہوا ہے ۔اب دیکھو ، وہی لوگ ، اسی کے ڈیرے پر مارے گئے جنہوں نے تم پر فائرنگ کی تھی ۔“اس نے جوش سے کہا

” یہ تو ٹھیک کہہ رہے ہو تم ۔“ میںنے تسلیم کیا

”اور قدرت نے تمہیں خود بخود چوہدری سلطان کے سامنے لا کھڑا کیا ہے ۔وہ اچھی طرح سمجھتا ہے کہ ڈیرے پر قتل کرنے والا کون ہے ۔“ اس نے پھر وہی بات کہہ دی ۔

”تو جائے جا کر پکڑے اسے جس نے قتل کئے ۔ ‘ ‘ میں نے اعتماد سے کہا

”اب شاید اس میں ہمت نہ رہی ہو ، کیونکہ اسے یقین نہیں تھا کہ اس کے ساتھ ایسا ہو جائے گا ۔ایک طرف پورے علاقے میں اس کی نفرت باہر آ گئی ہے اور دوسری طرف اس کے بندے مارے بھی گئے اور پکڑے بھی گئے ۔ اب کوئی ایسا بندہ پولیس پر دباﺅ ڈالے جس کی وجہ سے چوہدری سلطان کو پولیس پکڑ لے ۔اس کے ساتھ بھی وہی کچھ ہو سکتا ہے ، جو اس نے تیرے ساتھ کرنے کی کوشش کی تھی ۔“ اس نے جوش بھرے لہجے میں بتایا

” اس کا مطلب ہے کہ اسلم اے ایس آئی ، پھتّو مسلّی اور فیروز کو اسی چوہدری سلطان نے غائب کیا ہوا ہے ؟“ میںنے پوچھا

”اس میں کوئی شک نہیں ۔“ اس نے تیزی سے کہا

” دیکھو ، اب سارا معاملہ انہی تینوں پر ہے ۔یہ تینوں اگر اقرار کر لیتے ہیں کہ یہ سب کچھ انہوں نے چوہدری سلطان کے کہنے پر کیا تھا تو ہمیں ان سے کوئی دشمنی نہیں ۔ ہمارا دشمن سامنے آ جائے گا اور پھر اس کے ساتھ جو ہو سکا ہم کریں گے ۔ سانپ کا سر کچل کر رکھ دیں گے ۔“ میںنے کہا تو اس کی آنکھیں چمک گئیں ۔

”اپنے اسی علاقے میں چند نوجوان ایسے ہیں۔ اگر ان کے سر پر ہاتھ رکھ دیا جائے نا تو وہ بہت کچھ کر سکتے ہیں۔ وہ کسی نہ کسی حوالے سے انہی چوہدریوں کے ڈسے ہوئے ہیں ۔ انہیں کے ظلم کا شکار ہیں ۔ان سے بہت کام لیا جا سکتا ہے ۔“اس نے مجھے قیمتی اطلاع دی

” تم رکھ دو ہاتھ ان پر ۔“ میںنے مسکراتے ہوئے کہا

”کاش میرے پاس اتنی قوت ہوتی لیکن دیکھ لینا ، ایک دن آ ئے گا ، جب لوگ مجھ سے ڈریں گے ۔“ اس نے عجیب نفرت بھرے لہجے میں کہا

” اچھا چل ایک کام کر ، یہ جو تین لوگ میںنے تمہیں بتائے ہیں ، انہیں تلاش کر ، جہاں کہیں بھی ہوں ، بس ان کا پتہ مجھے دے دے ، انہیں ان کی بلّوں سے نکالنا میرا کام ہے ۔“میں نے اس کے سامنے آ فر رکھی ۔

” ٹھیک ہے ، میں کر دیتا ہوں یہ کام ۔“اس نے فوراً ہی سر ہلاتے ہوئے کہا تو میںنے جیب میں پڑے جتنے نوٹ تھے سب نکال کر اس کی جانب بڑھا دئیے ۔ اس نے ایک نگاہ ان نوٹوں کو دیکھا۔ اس کے چہرے پر عجیب بے بسی آ گئی ۔ اس نے شکوہ بھری نگاہوں سے میری جانب دیکھا اور پھر کوئی بات کئے بنا اٹھ کر چلا گیا ۔

مہمان خانے کے باہر ہی اس کی موٹر سائیکل کھڑی تھی ۔اس نے وہ اٹھائی اور گیٹ سے نکلتا چلا گیا ۔ نوٹ میرے ہاتھ ہی میں رہ گئے جو اس کے چلے جانے کے بعدمیں نے جیب میں ڈال لئے ۔ اب مجھے بابا سے اس کی بتائی ہوئی کہانی کنفرم کرنا تھی ۔ اگر وہ سچ تھا تو تنّی پر اعتماد کیا جا سکتا تھا ۔

٭….٭….٭

سہ پہر کا وقت تھا ۔میں اپنے ڈیرے پر تھا ۔ میرا دماغ تنّی کے جانے کے بعد مسلسل سوچ رہا تھا کہ پھتّو مسلّی ، فیروز اور اسلم اے ایس آئی کو کیسے تلاش کیا جائے ۔میںتنّی کے بارے میں بابا سے بات کر چکا تھا ۔ انہوں نے بھی تصدیق کر دی تھی کہ وہ سچ کہہ رہا ہے ۔اگر یہ تینوں چوہدری سلطان کی ایماءپر میرے خلاف ہو گئے تھے تو اب بھی یہ اسی کی پناہ میں ہوں گے ۔ ممکن ہے اسلم اے ایس آئی اس کے پاس نہ ہو لیکن باقی دو تو ہو سکتے ہیں ۔اس کا پتہ تو وہی بندہ لگا سکتا ہے جو ان کے قریب رہا ہو ۔میں یہی سوچتے ہوئے فصلوں میں چہل قدمی کر رہا تھا ۔مجھ سے کچھ فاصلے پر چاچا فیضو اور کی بیوی چارہ کاٹ رہے تھے ۔ایسے میں ڈیرے کی جانب آ نے والے کچے راستے پر پولیس جیپ آتی ہوئی دکھائی دی ۔میرے دماغ میں پہلا سوال یہی گونجا کہ وہ یہاں کیوں آ رہے ہیں ؟ اگر انہیں مجھ سے ملنا ہی تھا تو وہ حویلی جاتے ، وہاں سے مجھے فون کر کے بلوا لیا ہوتا یا ان کی آ مد بارے اطلاع مل جاتی ۔ ان کے سیدھے یہاں آ نے کا مقصد کیاہو سکتا تھا ؟ جس قدر میں تیزی سے سوچ رہا تھا ، وہ اتنی ہی تیزی سے ڈیرے پر پہنچ گئے ۔ جیپ رکتے ہی اس میں سے راﺅ ظفر نکلا ، اس کے ساتھ ہی دو کانسٹیبل بھی اُتر آ ئے ۔اگر کوئی جیپ میں بیٹھا تھا تو اس کے بارے مجھے پتہ نہیں چلا ۔ وہ ڈیرے پر آ کر رک گئے ۔میں انہیں دیکھ کر ڈیرے کی جانب بڑھ گیا ۔مجھ سے پہلے چاچا فیضو وہاں پہنچ چکا تھا ۔ اس نے چارپائیاں اور کرسیاں لگا دی تھیں ۔ میں نے ان سے ہاتھ ملاتے ہوئے پوچھا

” راﺅ صاحب، خیر ہے سیدھے یہاں آ گئے ، حویلی نہیں گئے ؟“

” مجھے آپ ہی سے بات کرنا تھی ، اس لئے یہاں آ گیا ۔“

” تشریف رکھیں ۔“ میںنے اسے بیٹھنے کا کہا اور خود بھی ایک کرسی پر بیٹھ گیا ۔ وہ بیٹھ گیا ، چند لمحے خاموش رہنے کے بعد بولا

”آپ نے مجھے جو نمبر دیا تھا ، وہ جعلی ہے ، عام طور پر ایسا ہوتا ہے کہ جیل کے قیدی کچھ وقت کے لئے فون لیتے ہیں اور باتیں کر لیتے ہیں ۔سنا ہے کہ اب جیل حکام جیمر لگا رہے ہیں ۔ خیر ، آپ پر ہونے والی فائرنگ کی ایف آئی آر ہم نے درج کر لی تھی ۔اسی رات چوہدری سلطان کے ڈیرے پر قتل ہو گئے ۔ وہ گاڑی بھی جل گئے اور فائرنگ کرنے والے بندے بھی قتل ہو گئے ۔ ان میں دو اشتہاری تھے ۔“ یہ کہہ کر وہ سانس لینے کے رکا تو میں نے پوچھا

” راﺅ صاحب یہ سب تو مجھے معلوم ہے ، آپ جو بات کہنا چاہتے ہیں وہ فرمائیں ۔“

” یہ ایف آئی آر تو میں نے کہیں ٹھکانے لگانی ہے نا جی ، اسی کی بارے بات کر رہاہوں ۔“ اس نے تیزی سے کہا

” جی جی ، کہیں کیا کہنا چاہتے ہیں ۔“میںنے کہا

” میںنے چوہدری سلطان کو بلوایا تھا ، ظاہر ہے اس کے ڈیرے پر یہ سب ہوا ، اس نے اگر انہیں پنا ہ دی تھی تو وہ بھی مجرم ہے ۔بہر حال درمیان میں بہت سارے لوگ پڑ گئے ہیںاور انہوں نے یہ کہا ہے کہ اس واقعہ کو گول ہی کر دیا جائے ۔اگر آپ اس میں دلچسپی نہ لیں تو یہ معاملہ یہیں ختم کر دیتے ہیں ۔“ اس نے کہا

”واہ راﺅ صاحب واہ ، ایک دیدہ دانستہ مجرم کو آپ بچا رہے ہیں اور میرے جیسے بے گنا ہ کو آ پ نے فوری پکڑ کر ایک کرپٹ رشوت خور اسلم اے ایس آئی کے سپرد کر دیا ، یہ کہاں کا انصاف ہے ؟“ میںنے افسوس بھرے انداز میں کہا تو وہ تیزی سے بولا

”وہ ڈیرے پر قتل ہو نے والے لوگوں کا الزام آ پ پر لگا رہے ہیں ۔فائرنگ کے ردعمل میں آپ نے انہیں قتل کر دیا ۔“

”تو ٹھیک ہے ، آپ مجھے گرفتار کر لیں ۔اور وہ کون لوگ ہیں جو سلطان کو بچا رہے ہیں ؟ کیا وہ قانون سے بالا تر ہے ؟“ میںنے سخت لہجے میں کہا

”علی بھائی ، میں بہت مجبور ہوں ، میں بتا نہیں سکتا کہ کون کون لوگ اس کی پشت پناہی پر ہیں ۔ہونا صرف یہ ہے کہ آپ کی ایف آئی آ ر پڑی رہی گی اور نامعلوم افراد کے خلاف تفتیش جاری رہے گی ۔“

” اور و ہ لوگ ، جو ایک کمزور اور بے بس انسان کو گاﺅں کی گلیوں میں گھسیٹتے رہے ہیں ، وہ بھی بچ جائیں گے ۔ انہیں بھی آپ چھوڑ دیں گے جو اسلحہ کے زور پر لوگوں کو ڈرا دھمکا رہے تھے ۔“میں نے انتہائی نفرت سے کہا

” سچی بات تو یہی ہے کہ وہ لوگ انہی لوگوں کا بچانا چاہتے ہیں ۔وہ ایک دو لوگوں کو پیش کر دیں گے اور باقی سب چھوڑ دئیے جائیں گے ۔مجید صاحب سے بات ہو گئی ہے وہ راضی ہیں ۔انہوں نے لکھ کر بھی دے دیا ہے ۔“ راﺅ ظفر نے کہا تو میں حیران رہ گیا ۔ اتنی جلدی وہ لوگ دباﺅ میں آ گئے ۔مجھے بڑا دکھ ہوا ۔

” کب لکھ کر دیا انہوں نے ؟“ میںنے پوچھا

” آ ج دوپہر تھانے میں پنچائت ہوئی ، معافی تلافی ہو گئی ۔مدعی ان کا بیٹا تھا ، اب یہ معاملہ ختم سمجھیں ۔آپ اپنی ایف آئی آر کی بات کریں ۔“اس نے بڑے سکون سے مجھے جتا دیا

” دیکھیں ، اگر معاملات یونہی باہر ہی حل ہو نے ہیں تو آپ کے جو جی میں آ ئے کریں ، مجھ پر وہ سارے قتل ڈال دیں ، مجرموں کو چھوڑ دیں بے گناہوں کو پکڑ لیں ۔جب آپ کی بادشاہی ہے تو جو مرضی کریں ۔“میںنے بھی اسی سرد لہجے میں کہا تو اس نے مسکراتے ہوئے پوچھا

” تو کیا میں سمجھ لوں کہ آپ اس معاملے میں کوئی دلچسپی نہیں لیں گے ؟“

” کیا بات کرتے ہیں راﺅ صاحب آ پ بھی ،کریں بادشاہی ۔“ میں نے کہا تو راﺅ ظفر نے کہا

”علی بھائی ، آپ ابھی اٹھتے ہوئے جوان ہو ، خون بہت گرم ہے ،لیکن حالات کو چاروں طرف سے دیکھ کر کوئی بھی فیصلہ کرنا درست ہو تا ہے ۔اصل واقعہ کچھ اور ہوتا ہے لیکن عدالت میں جا کر اس کی تصویر ہی بدل جاتی ہے ۔ایسا کون سی طاقت کرتی ہے یہ آپ جانتے ہو ۔میری حیثیت تو صرف غریب غربا لوگوں کے لئے ہے ۔ ایک خاص سطع پر جا کر میرے بھی پر جلنے لگتے ہیں ۔“ اس نے اکتاہٹ بھرے لہجے میں کہا

” ٹھیک ہے ، جیسا آپ چاہیں ۔“ میںنے حتمی لہجے میںکہا تو وہ حتمی لہجے میںبولا

”میرے خیال میں یہی بہتر ہے ۔“

اس کا میںنے کوئی جواب نہیں دیا ۔ وہ اٹھا اس نے مجھ سے مصافحہ کیا اور پلٹ کر جیپ میں جا بیٹھا ۔اگلے چند لمحوں میں وہ وہاں سے چلا گیا ۔وہ میرے لئے کئی سوچیں چھوڑ کر چلا گیا تھا ۔ کیا یہ جنگل ہے ، جہاں فقط طاقت کا قانون چلتا ہے ۔بجائے ڈیرے پر قتل ہو نے والوں کی تفتیش کرنے کے ، اس کے قاتل تلا ش کرنے کے ، یہ سارا معاملہ لپیٹ دینے کی کوشش کی جارہی تھی صرف اس لئے کہ اس میں کچھ لوگوں کے نام آ رہے تھے ۔ قتل سے پہلے فائرنگ ، اور ڈیرے پر پناہ دینے کا جرم ثابت ہونا تھا ۔مجھے دکھ آ رہا تھا مجید صاحب کے بیٹے پر ، ایک طرح سے یہ اچھا ہی ہوا تھا ۔ وہ کہاں عدالتوں میں خجل خراب ہوتے ۔ پھر اس کے بعد بھی نتیجہ کیا نکلنا تھا ؟ غریب آدمی کس قدر بے بس تھا ، اس کا اندازہ مجھے اس وقت ہوا تھا ۔

میں نے حویلی میں آ کر ساری بات بابا کو بتا دی ۔ انہوں نے چند لمحے سوچ کر کہا

” اچھا ہے ، اگر یہ لوگ یونہی پیچھے ہٹ جائیں تو ہمیں اور کیا چاہئے۔“

”ٹھیک ہے بابا۔“ میںبھی ان سے متفق ہو گیا ۔

اگلے دن مجھے کچھ کاغذات پر دستخط کرنے کے لئے انکل فہیم کے پاس عدالت جانا تھا ۔میںدن چڑھے تیار ہو کر شہر کی طرف چل دیا۔میں عدالت میں پہنچا ۔انکل فہیم کا چیمبرسر ے کی قطار میں تھا ۔ میرے ڈرائیور نے وہیں کار پارک کر دی ۔ میں چیمبر کے اندر چلا گیا ۔انکل فہیم آ چکے تھے اور میرے انتظار ہی میں تھے ۔راﺅ ظفر نے جس سلسلے میں مجھے ملنے آیا تھا بابا کی وساطت سے انہیں معلوم ہو چکا تھا ۔تبھی میںنے انہیں کہا

” اسلم اے ایس آئی کا کسی طرح پتہ چل جائے تو ….“

”دفعہ کرو ، یہ تو ان کی روٹین ہے ، ادھر سے مال کھایا کبھی کسی سے مال بنایا ، وہ تو لوگوں کو پھنساتے رہتے ہیں ۔ وہ کوئی ایک اکیلا بندہ نہیں ، یہ ایک مافیا ہے ۔“انہوں نے نفرت سے کہا

”ٹھیک ہے ۔“ میںنے فوری ان کی بات تسلیم کر کے مزید کوئی بھی بات نہ کرنے کا فیصلہ کر لیا ۔میں دستخط وغیرہ کر کے بیٹھا تھا ۔ انکل نے چائے منگوائی ہوئی تھی ۔ اسی کے انتظار میں بیٹھا گپیں لگا رہا تھا کہ تنّی کا فون آ گیا ۔ میں چیمبر سے باہر نکل آ یا ۔ باہر آتے ہی میںنے اسے کال کی

” ہاں بول کیا بات ہے ؟“

”اس وقت پھتّو مسلّی شہر والے تھانے میں ہے ۔ وہاں وہ اپنا نکاح نامہ جمع کروانے گیا ہوا ہے ۔“

” تمہیں کیسے پتہ چلا ؟“ میںنے بے ساختہ پوچھا

”یہ مجھے آج صبح ہی پتہ چلا ہے ۔تصدیق کے لئے ہمارے گاﺅ ں کا ہی ایک لڑکا وہاں موجود ہے ، وہ اس کے نکاح میں گواہ ہے ۔ دراصل وہ لڑکی پہلے ہی پھتّومسلّی کے ساتھ شادی کرنا چاہتی تھی ۔ان کی اس شادی میں رکاوٹ روشن مسلّی تھا ۔ اب نکاح نامہ اس لئے جمع کروا رہے ہیں کہ جو ایف آئی آر اس کی ماں کی طرف سے درج ہوئی تھی ، اسے ختم کروا سکیں ۔“ اس نے مجھے تفصیل سے بتایا

” اس لڑکے نے مزید بتایا کہ یہاں تھانے سے نکلنے کے بعد وہ کہاں جانے والے ہیں ؟“میںنے پوچھا

”وہ ایک دوسرے شہر میں چھپے ہوئے تھے ، کس کے پاس تھے یہ پتہ نہیں لیکن اس لڑکے سے ان کا رابطہ تھا اور اب بھی ہے ۔“تنّی نے تیزی سے بتایا تو میںنے پوچھا

”تو پھر کیا خیال ہے ؟“

 ” اب یہ یہاں شہر میں ہیں ، اس بار ہاتھ سے نکل گئے تو پھر شاید ہی ملیں ۔“ اس نے وہی کہا جو میں سوچ رہا تھا ۔

”ٹھیک ہے تو وہیں پہنچ ،میں آ رہا ہوں ۔“میں نے کہا اور فون بند کر دیا ۔ میں نے انکل فہیم کو نہیں بتایا اور خاموشی سے ڈرائیور کو اشارہ کر کے باہر آ گیا ۔ میں جب کارلئے تھانے کی طرف جا رہا تھا تو دماغ میں ایک خیال یہ بھی تھا کہ میں یہ جوا کھیل رہا ہوں ۔ممکن ہے جو میں پھتّومسلّی کو پکڑنے جا رہا ہوں، وہاں خود ہی ٹریپ ہو جاﺅں ۔بھلے اس کا اندازہ تنّی کو بھی نہ ہو ۔ وہ تنّی کو غلط خبر دے کر مجھے وہاں گھیرنے کے لئے بلا رہے ہوں ۔جو کچھ بھی تھا ، میں یہ موقعہ ہاتھ سے جانے نہیں دینا چاہتا تھا ۔مجھے رسک تو لینا تھا ۔میں تیزی سے تھانے کی طرف جا رہا تھا ۔ میں نے ڈرائیور کو بھی بتا دیا تھا کہ میں کس لئے جا رہا ہوں تاکہ اسے اندازہ ہو ۔

میں ابھی تھانے کے دروازے تک نہیں پہنچا تھا کہ تنی کا فون آ گیا ۔

” وہ لوگ تھانے سے نکل گئے ہیں ۔“

” کس طرف ۔“ میںنے پوچھا

”شاید اڈے کی طرف جا رہے ہیں ۔“ اس نے کہا

” وہ پیدل نکلے ہیں یا ….“میںنے پوچھا

”نہیں باہر آ کر انہوںنے آٹو رکشہ لیا ہے ۔“ اس نے بتایا

” تم ان کے پیچھے جاﺅ ، میں بھی آ رہا ہوں ۔ فون بند نہ کرنا ، مجھے بتاتے جانا ۔“ میں نے کہا اور کار کی رفتار بڑھا دی ۔اس وقت وہ شہر کے درمیان رش والی جگہ پر تھا ۔ شاید وہ اڈے پر جانے سے پہلے کچھ خریدنا چاہتا تھا یا کہیں جانا چاہتا تھا ۔ وہ بازار میں چلا گیا تھا ۔نہ چاہتے ہوئے بھی کار کی رفتار تیز نہیں ہو سکتی تھی ۔ میںنے تنّی کو دیکھ لیا تھا ۔ میں نے اسے رکنے کو کہاتو وہ رک گیا ۔ میںنے ڈرائیور کو کار لانے کا کہا، کار سے نکلا اور بھاگتا ہوا تنّی کے پیچھے جا بیٹھا ۔میرے بیٹھتے ہی اس نے موٹر سائیکل بھگا لیا ۔ دو تین منٹ بعد لوگوں کے رش میں ایک پھنسا ہوا رکشہ دکھا ئی دیا۔

” اسی میں ہیں ۔“تنّی تیزی سے بولا

ہم اس کے قریب پہنچ چکے تھے ۔ تنّی نے بالکل آ گے لے جا کر موٹر سائیکل سے راستہ رو ک لیا ۔ تب تک میںنے اپنا پسٹل نکال لیا تھا ۔ میں تیزی سے اُترا اور رکشے میں بیٹھے ہوئے پھتّومسلّی کے سر پر جا پہنچا ۔مجھے یوں دیکھ کر اس کے چہرے کی ہوائیاں ہی اُڑ گئیں ۔

” بس تیرا کھیل ختم ہوا پھتّو، باہر نکل کر آ رام سے میرے ساتھ چل ، ورنہ ….“ یہ کہتے ہوئے میںنے پسٹل اس کے سامنے کر دیا ۔ وہ ایک دم سے خوف زدہ ہو گیا ۔ اس کے ساتھ بیٹھی لڑکی ایک دم سے گھگیانے لگی

” اللہ کا واسطہ ہمیں کچھ نہ کہیں ، میں ….“

” تم چپ کرو ، میںنے تمہیں کچھ نہیں کہنا ۔ شور کرو گی تو پہلے تمہیں ماروں گا ۔“ میںنے غضب نا ک لہجے میں کہا پھر پھتّومسلّی کی طرف دیکھا تو اس نے میرے سامنے ہاتھ جوڑ دئیے

” خدا کے لئے مجھے معاف کردو ، میرا کوئی قصور نہیں ہے ۔“

” اگر تم بے گنا ہ ہو تو میں تمہیں کچھ نہیں کہوں گا اور اگر تم میری بات ختم ہو نے سے پہلے نہ اترے تو میں تمہیں یہیں گولی مار دوں گا ۔“میںنے کہا ہی تھا کہ وہ رکشے سے اتر آ یا ۔ وہ تنّی کو دیکھ چکا تھا ۔دوسری طرف سے لڑکی اُتر گئی تھی ۔ اتنی دیر میں ڈرائیور کار لے کر آ گیا تھا ۔ میں پھتّو کو کار میں بیٹھنے کے لئے کہاتو لڑکی چیخی

” میں کدھر جاﺅں ؟“

”آ میں بتاتا ہوں کدھر جانا ہے ؟“ تنّی نے اس لڑکی کو اپنی جانب متوجہ کر لیا تھا ۔میں نے پھتّومسلّی کو کار کی پچھلی سیٹ پر بٹھایا اور خود اس کے ساتھ بیٹھ گیا ۔ڈرائیور نے کار بڑھا دی تھی ۔ مجھے اس پر اعتبار نہیں تھا ، میںنے اسی کے پَرنّے سے اس کے ہاتھ باندھ دئیے ۔

جیسے ہی ہم شہر سے نکلے تنّی کا فون آ گیا

”ہاں بول ۔“

” میںنے لڑکی کو گاﺅں جانے والی ویگن میں بٹھا دیا ہے ، وہ گاﺅں چلے جائے گی ۔پھتّوکو احتیاط سے لے جانا ، یہ بڑی خبیث روح ہے ۔“اس نے بتایا تو میںنے کہا

”میں دیکھ لوں گا اسے ۔“میں نے کہا اور فون بند کر دیا ۔ میں اس کی طرف سے مزید محتاط ہو گیا تھا ۔ تقریباً دس منٹ کے بعد ہم ڈیرے پر جا پہنچے تھے ۔میںنے اسے ایک کمرے میں لے گیا اور فرش پر بٹھاتے ہوئے پوچھا

” مجھے صرف ایک سوال کا جواب دو ، مجھ پر روشن کا قتل کس کے کہنے پر ڈالا تھا ؟“

”وہ بات ختم ہو گئی ہے ، جانے دیں ، وہ لوگ مجھے مار دیں گے ۔“ اس نے گڑگڑاتے ہوئے کہا

”نہیں بتاﺅ گے تو میں تمہیں مار دوں گا ۔“ میںنے پسٹل کا سیفٹی کیچ ہٹاتے ہوئے کہا۔انہی لمحات میں چاچا فیضو کمرے میں آ گیا ۔ اس نے یہ منظر دیکھا توگھبراگیا ۔ مجھے اچھی طرح معلوم تھا کہ وہ جان بوجھ کر گھبرانے کی ادا کاری کر رہا ہے ۔ اس نے فوری ہاتھ جوڑتے ہوئے کہا

”اُو رَبّ کا نام لو سرکار ، کیوں اسے مار کر اپنے ہاتھ خون سے رنگتے ہو ۔اسے مار دیا یا کتّے کو مار دیا ایک ہی بات ہے ۔مار نا ہے تو کسے بندے کو ماریں، اسے کیا مارنا ۔“

” جو میں پوچھ رہا ہوں یہ بتا نہیں رہا ۔“ میںنے دھاڑتے ہوئے کہا

”کیا گولی مارنے کے بعد یہ بتا دے گا ؟ “اس نے کہا اور آگے بڑھ کر پھتّومسلّی کے ایک زور دار ٹھوکر مارتے ہوئے بولا،” کر بکواس جلدی ۔“

”آپ رہا ہو گئے ہیں ، آپ کو بری کر دیا گیا ہے ، اب اس بات کو جانے دیں ۔“ اس نے ہاتھ جوڑتے ہوئے کہا تو چاچا فیضو اس پر پل پڑا۔ اس نے پہلے اس کی پسلیوں میںٹھوکر ماری، پھر ایک گھونسہ اس کے منہ پر مار دیا ۔ خون کی ایک دھار نکلی ۔ وہ رکا نہیں اس نے تابڑ توڑ گھونسوں اور مکوں کی بارش برسا دی ۔ پھتّومسلّی نڈھال سا ہو کر فرش پر گر گیا ۔ اتنی مار کھانے کے باوجود اس نے زبان نہیں کھولی تھی ۔چاچا فیضو اسے مار مار کر نڈھال ہو گیا تھا ۔ تبھی میںنے اسے روکتے ہوئے کہا

”اگر تم نے زبان نہیں کھولی تو میں تمہیں ابھی کے ابھی مار دوں گا ۔“یہ کہتے ہوئے میںنے پسٹل سیدھا کر لیا ۔ وہ ایک دم سے خوف زدہ ہوگیا ۔ اس لئے جلدی سے بولا

” اگر آپ کوئی کاروائی نہ کریں تو میں ساری بات بتا دیتا ہوں۔ میںجانتا ہوں آپ بندہ مار سکتے ہیں ۔ “

”کاروائی مطلب ؟“ میںنے پوچھا۔میں جان بوجھ کر بندہ مارنے والی بات گول کر گیا تھا جیسے میں کوئی اہمیت ہی نہیں دے رہا ہوں ۔ورنہ یہ بڑی اہم بات تھی ۔ ان لوگوں کے درمیان یہ بات کیسے کیسے زیر بحث رہی ہو گی، اس کا بھی اندازہ ہو نا چاہئے تھا ۔

” میں جو بتاﺅں گا سچ بتاﺅں گا مگر …. آپ وعدہ کریں ، میرے بتانے کے بعد ، مزید کچھ نہیں کریں گے ۔“ اس نے پھر وہی مطالبہ کیا

” کیا تم میرے دشمن کو مجھ سے بچانا چاہتے ہو ، جس کی وجہ سے میں اتنا مشکل وقت گزارا، تم ….“میں نے نفرت سے کہنا چاہا تو وہ بولا

” آپ اپنے دشمن کو جو چاہیں کریں ، لیکن مجھے کچھ نہیں کہیں گے ، مجھے معاف کر دیں گے۔“

”ٹھیک ہے ، میں تمہیں کچھ نہیں کہوں گا ۔“میںنے وعد ہ کر لیا تو تھوک نگلتے ہوئے بولا

”میںنے جو کچھ بھی کیا ، چوہدری سلطان کے کہنے پر کیا ۔ میں اور فیروز نے آپ کو چند دن دیکھا ، یہ سب کچھ چوہدری سلطان کو بتایا تو اس نے سارا منصوبہ بنایا ۔ “

” اس کا مطلب ہے روشن کو تم نے مارا یا فیروز نے یا کس نے ؟“

”میںنے، اسی لئے وعدہ لیا تھا سرکار ، میں چوہدری سلطان کے منہ پر کہہ سکتا ہوں کہ اس نے مجھے کہا تھا ۔“

” روشن کو مارنے کا ؟“میںنے تیزی سے پوچھا

” نہیں نہیں ، آپ کو قاتل کہنے کا ؟“ اس نے جلدی سے کہا

” اس کے عوض اس نے تمہیں کیا دیا ، تم نے تو مدعی بن کر پر چہ بھی کٹوا دیا تھا ، اصل بات بتا بے غیرت ۔“ میںنے اس کے تھپڑ مارتے ہوئے کہا

” میں سچ بتاتا ہوں ، پر مجھے معاف کردینا ، وعدہ کیا ہے آپ نے ۔“ اس نے پھر سے ہاتھ جوڑتے ہوئے منّت بھرے لہجے میں کہا تو مجھے غصہ آ نے لگا ۔ میرا دماغ اب پکنے لگا تھا ۔

”بات بتاتا ہے یا تمہیں لٹکادوں ۔“ میںنے سرد سے لہجے میں کہا

 ”بتاتا ہوں ۔“ اس نے تیزی سے کہا پھر میری طرف بے چارگی سے دیکھ کر بولا ،”میں چوہدری سلطان کے پاس دو سال سے ہوں ۔ سچی بات ہے میں علاقے میں چوری کرتا ہوں ، میری پشت پناہی چوہدری سلطان ہی کرتا ہے ۔کچھ دن پہلے ا س نے مجھے آپ کے بارے میں سب کچھ جاننے کی تفصیلی ڈیوٹی لگا دی ۔ میں نے دس دن آپ کو دیکھا ، آپ کا روزانہ کا معمول ایک جیسا ہی تھا ۔ میںنے اسے بتایا تو تین دن بعد اس نے مجھے کہا کہ صبح میں فیروز کے پاس جاﺅں وہ مجھے سب سمجھا دے گا ۔“

” فیروز نے تمہیں سب سمجھایا ۔“میںنے پوچھا

” اس نے مجھے ساری بات سمجھا دی ۔ میں روشن سے پہلے ہی جان چھڑانا چاہتا تھا ، اس لئے میںنے اُسے قتل ہو جانے دیا ۔“

” مطلب تم نے قتل نہیں کیا ؟“ میںنے دانت پیستے ہوئے پوچھا

”میں چور ہوں لیکن قاتل نہیں ہوں ۔“ اس نے ہاتھ جوڑتے ہوئے کہا

” توپھر قتل کس نے کیا، یہ تمہیں پتہ ہے ؟“میںنے پوچھا

”وہ ایک اشتہاری تھا چوہدری سلطان کے پا س، اس نے مارا اور وہاں ے غائب ہو گیا ۔ہم بعد میں پہنچے ۔“ اس نے بتایا

” چلو مان لیا ، مدعی کیوں بنے ؟“ میں نے پوچھا

”مجھے یہ لالچ دیا گیا کہ میں روشن کی بیٹی کو بھگا کر لے جاﺅں تو میری ہر طرح سے مدد کی جائے گی ۔ وہ مجھے چھپا کر رکھ لیں گے ۔ اگر کوئی مقدمہ ہوا تو بھی لڑ لیں گے ۔سو میں مدعی بن گیا ۔“ اس نے کہا تو مجھے اس کی بات پر سو فیصد اطمینان نہیں تھا ۔

” اچھا فیروز کہاں ہے ؟“

” مجھے نہیںمعلوم ، سنا تھا کہ وہ کسی دوسرے شہر میں ہے ، اب صلح ہو جانے والی ہے سو وہ واپس آ جائے گا ۔“

” کس سے صلح ہو نی ہے ؟“ میںنے پوچھا

”آپ سے ، چوہدری سلطان کی اور آپ کی صلح ہو جانی ہے ، بس پھر ساری بات ختم ہو جائے گی ۔“ اس نے کہا تو میں چونک گیا ۔ اندر ہی اندر کچھ دوسری ہی گیم چل رہی تھی ۔ میںنے اسے وہیں چھوڑا اور کمرے سے باہر آ گیا ۔ یہ صلح آخر کس نے کروانی ہے ؟کل راﺅ ظفر کی آ مد اسی سلسلے کی کڑی تھی۔ سلطان کے سارے مقدمے ایک طرف کر کے صلح کے بعد فائدہ کسے پہنچنا ہے ؟ میں اس مزید سوچتا کہ اگلے ہی لمحے مجھے خیال آیا کہ یہ چوہدری سلطان کا ان لوگوں کو دھوکہ دینے والے بیان کے سوا کچھ بھی نہیں ہے ۔آخر انہیں کوئی نہ کوئی جھوٹ سچ کہہ کر مطمئن تو کر کے ساتھ میں رکھنا تھا ۔ مجھے اس کی بات پر بھروسہ نہیں کرنا چاہئے ۔پھتّو مسلّی نے اگر روشن مسلّی کا قتل کیا بھی تھا تو اب وہ سامنے آ نے والا نہیں تھا ۔ وہ کسی بھی مرے ہوئے اشتہاری پر ڈال دیتے اور یوں یہ قتل فائلوں میں دب کر گم ہو جانا تھا ۔مجھے اس سے کوئی سروکار نہیں تھا ۔میں واپس کمرے میں گیا ۔پھتّو مسلّی فرش پر یوں اکڑوں بیٹھا ہوا تھا جیسے بہت تکلیف میں ہو ۔ چاچا فیضو اس کے پاس چارپائی پر بیٹھا ہوا تھا ۔پھتّو مسلّی نے میری طرف رحم طلب نگاہوں سے دیکھا ۔ تب میں نے کہا

”تم نے مجھے جو بتایا ، مجھے اس پر کوئی بھروسہ نہیں ، تو نے روشن کو قتل کیا یا نہیں ، مجھے اب اس سے کوئی سروکار نہیں رہا ۔نہ میں اس پر کوئی کاروائی کروں گا ۔ لیکن ، کیا تم سب کے سامنے یہی کہہ سکتے ہو جو مجھے کہا؟ “

”ہاں جی ،میں کہہ دوں گا ۔“ اس نے تیزی سے کہا تو میںنے کار کے پاس کھڑے ڈرائیور کو بلایا ، پھتّو مسلّی کو دوبارہ کار میں ڈالنے کا کہا اور پھر حویلی کی طرف چل پڑا۔

 گاﺅں میں پتہ چل گیا تھا کہ پھتّو مسلّی پکڑا گیا ہے ۔ اس لئے حویلی میں کافی سارے لوگ جمع تھے ۔ ان میں پھتّو مسلّی کے رشتے دار بھی تھے ۔لڑکی کی ماں بھی وہیں تھی ۔بابا ابھی باہر نہیں آ ئے تھے ۔پھتّو مسلّی ابھی تک کار ہی میں بیٹھا ہوا تھا ۔ اسے دیکھتے ہی پھتّو مسلّی کے رشتے داروں میں ایک بزرگ سا بندہ آ بڑھا ، اس نے ہاتھ جوڑتے ہوئے کہا

”اسے معاف کردیں ، ہم سب لوگ آپ کی منّت کرتے ہیں ۔“

”اچھا شام تک میں اس کے بارے میں فیصلہ کرتا ہوں کہ کیا کرنا ہے ، پھر لے جانا اسے ۔“ میں نے کہا اور اندر کی طرف چل دیا۔حویلی میں موجود لوگوں نے پھتّو مسلّی کو ایک کمرے میں لے جا کر بند کر دیا ۔ میرا خیال تھا کہ شام تک گاﺅں کے بزرگوں کے سامنے اس کا اعترافی بیان دلوا کر اسے چھوڑ دوں گا ۔اس کے بعد وہ میرے لئے کوئی اہمیت نہیں رکھتا تھا ۔اس وقت میں اندر کی جانب بڑھ رہا تھا کہ میرا سیل فون بجا ،وہ تنّی کی کال تھی ۔

” ہاں بول تنّی ۔“میں نے کال رسیو کرتے ہوئے کہا تو دوسری جانب وہ بڑے جوش سے بولا

”علی ، یہ جو چوہدری سلطان ہے نا، یہ تیرا دشمن نہیں، تیرااصل دشمن میںنے تلاش کرلیا ہے ۔“

”کیا کہہ رہے ہو تم ؟“ میں نے بے یقینی سے پوچھا

” میں بالکل سچ کہہ رہا ہوں ۔ میں ابھی آتا ہوں تمہارے پاس سارے ثبوت لے کر ۔“ یہ کہتے ہی اس نے فون بند کر دیا ۔میرے بدن میں سنسنی پھیل گئی ۔

تنّی کی کال سے میں بے چین ہو کر رہ گیا تھا ۔میں کاریڈ ور میں ہی رُک گیا ۔ کچھ لمحوں تک مجھے یوں لگا جیسے میرا جسم تشنج کی کیفیت میں آ گیا ہو ۔ میں نے اپنی حالت پر قابو پاتے ہوئے مڑ کر دیکھا۔گاﺅں سے آئے ہوئے جو لوگ لان میں جمع تھے وہ آہستہ آہستہ واپس جا رہے تھے ۔میں نے کہہ دیا تھا کہ شام کے وقت پھتّو مسلّی انہیں دے دوں گا ۔ شاید انہیں یقین تھا کہ شام تک میں پھتّو مسلّی کو چھوڑ دوں گا یا پھر وہ مایوس ہو گئے ہوں گے ۔مجھے ان کی پرواہ نہیں تھی ۔ میرا دماغ تنّی کی طرف لگا ہوا تھا ۔مجھے تنّی پراعتبار آ نے لگا تھا ۔ کوئی کتنا بھی بے غیرت ہو اپنے باپ کی ذلت پر تو سمجھوتہ نہیں کر سکتا تھا ۔ اب تک جن حالات کا مجھے سامنا کرنا پڑا تھا ، اس میں تنّی نے کہیں بھی مجھ سے غلط بیانی نہیں کی تھی ۔ اب جبکہ وہ ایک نئی اطلاع لے کر آ رہا تھا ۔مجھے اس اطلاع کو بھی پورے ہوش حواس کے ساتھ جانچنا تھا ، اس کے بعد ہی کوئی فیصلہ کرنا دانش مندی تھا ۔ یہی سوچتے ہوئے میں حویلی کے اندر چلا گیا ۔

لاﺅنج میں کوئی بھی نہیں تھا ۔ میں ایک صوفے پر جا کر بیٹھ گیا ۔ میں چاہ رہا تھا کہ تنّی جلد از جلد آ جائے ۔باہر والا لان لوگوں سے خالی ہو گیا تھا ۔میری نگاہ گیٹ پر تھی ۔میں کھڑکی میں سے گیٹ کو دیکھ رہا تھا ۔ایسے میں تنّی اپنی موٹر سائیکل پر گیٹ پار کرتا ہوا دکھائی دیا ۔ میں اٹھ کر باہر کی طرف چل دیا۔ تنّی موٹر سائیکل سے اتر چکا تھا ۔میںنے اسے مہمان خانے کی طرف جانے کا اشارہ کیا اور خود بھی اس جانب چل پڑا۔ مہمان خانے میں کوئی بھی نہیں تھا ۔ہم کرسیوں پر اطمینان سے بیٹھ گئے ۔

”کون ہے میرا دشمن ؟“ میںنے اپنے تجسس پر قابو پاتے ہوئے پوچھا

” بتاتا ہوں ، لیکن پہلے تمہارا سوال یہ ہونا چاہئے تھا کہ یہ تصدیق مجھے ہوئی کہاں سے ؟“ تنّی نے سکون سے کہا

” بولو ، بتاﺅ ، کیسے ہوئی تصدیق ۔“ میںنے خود پر قابو پا کر پوچھا

” میںنے تمہیں بتایا تھا نا کہ اس علاقے میں ہم چند دوست ایسے ہیں ، جوان طاقتور لوگوں کے ستائے ہوئے ہیں ۔ ہم دل میں بغاوت تو رکھتے ہیں لیکن انتہائی کمزور ہو نے کے باعث اظہار نہیں کر سکتے ۔“اس نے سمجھانے والے انداز میں کہا

”ہاںتم نے مجھے بتایا تھا ۔“ میںنے اس کی بات میں دلچسپی لیتے ہوئے کہا تو وہ بولا

” ہم چھ لوگ ہیں ، جو ایک دوسرے کے بارے میں سب جانتے ہیں۔ ہم ہی ایک دوسرے کو ارد گرد کی ساری خبریں دیتے ہیں ۔ رات ہم ساتھ والے گاﺅں میں اکھٹے ہوئے تھے ۔انہیں بھی گاﺅں میں ہونے والے واقعے کا بہت دکھ ہوا تھا ۔ وہ بھی مجید صاے شاگرد رہے تھے ۔ انہی باتوں کے دوران تمہارا ذکر بھی ہوا۔تم نے جو چوہدری سلطان کے گماشتوں کے ساتھ کیا ، اس پر سبھی خوش ہیں۔ ان کے سامنے میںنے یہ سوال رکھا کہ علی احسن کا دشمن کون ہو سکتا ہے ؟“

”پھر کیا جواب ملا؟“ میںنے بے تابی سے پوچھا لیکن وہ اپنی روانی میں کہتا چلا جا رہا تھا

” پار بستی کا رہنے والا ایک لڑکا غفورا ہے ۔وہ چوہدری سردار کے ڈیرے پر کام کرتا ہے ۔وہ دن رات وہیں پر رہتا ہے ۔اس نے جان بوجھ کر وہاں نوکری کی ہوئی ہے ۔اس نے جب میری بات سنی تو اسی نے یہ انکشاف کیا ۔ ساری تفصیل مجھے بتانے کے ساتھ ساتھ ثبوت کے طور پر مجھے کچھ ویڈیوز دیئے ۔ اس میں تم خود ہی دیکھ لو ، کون تمہارا اصل دشمن ہے ۔“تنّی نے جوش سے کہتے ہوئے اپنی جیب سے سیل فون نکالا ۔ اس نے تیزی سے ایک ویڈیو نکالی اور میرے سامنے کر دی ۔

اسکرین پر چوہدری سردار کے ڈیرے کاخاص کمرہ دکھائی دے رہا تھا ۔ صوفے پر چوہدری سلطان اورچوہدری سردار بیٹھے ہوئے باتیں کر رہے تھے ۔ان دونو ں کی گفتگو اتنی واضح نہیں تھی لیکن وہ سمجھ رہا تھا کہ بات کیا ہو رہی ہے ۔ چوہدری سردار کہہ رہا تھا

”ایک نیا لڑکا نہیں سنبھالا گیا تجھ سے ، تم نے خاک ممبری کرنی ہے ۔تیرے بندے مار دئیے اس نے اور تم اب چھپتے پھرتے ہو ۔“

”چوہدری صاحب آپ نے بھی تو پوری معلومات نہیں دی تھی نا اس کے بارے میں ۔میں نے تو اسے ایک ایسا ڈرپوک سا لڑکا سمجھا تھا۔میں نے تو اسے بس ڈرانا تھا ، اس نے تو آ گے سے نقصان ہی بہت کر دیا ۔“ چوہدری سلطان نے شکوہ بھرے لہجے میں کہا

” دشمن کمزور یا طاقتور نہیں ہوتا ، وہ بس دشمن ہوتا ہے ۔ اسے کبھی کمزور مت سمجھو ، تمہیں اتنی بھی عقل نہیں ۔“ چوہدری سردار نے غصے میں کہا

”اب جو ہونا تھا وہ ہوگیا ، اب مجھے بتائیں کرنا کیا ہے ۔اسے مار دوں ؟ “ چوہدری سلطان نے فیصلہ کن لہجے میں پوچھا تو چوہدری سردار نے دھیمے سے لہجے میں کہا

” سچ پوچھو نا سلطان ، مجھے بھی اس لڑکے کی سمجھ نہیں آ ئی ، میں ابھی اسے یونہی سمجھتا تھا لیکن وہ تو بڑا جی دار نکلا ۔ سب سے خطر ناک بات یہ ہے کہ وہ چالاک بھی ہے اور شاطر بھی ۔ اس نے ہماری ہی چال ہم پر الٹ دی ۔“

” وہی تو پوچھ رہا ہوں ،ایک گولی بس اس کا کام تمام کر دے گی ۔آپ بس ہاں کریں ۔“ چوہدری سلطان نے اجازت چاہی

” میں ہاں تو کر دوں لیکن یہ کام تم سے ہونا نہیں ۔وہ علی احسن تیرے بس کا روگ ہی نہیں ہے ۔وہ مجھے کوئی معمولی شے نہیں لگتا ، اس کے باپ نے جو کہا تھا ، ٹھیک کہا تھا ۔ اب اس کا بندو بست کچھ دوسرا ہی کرنا پڑے گا ۔“ چوہدری سردار نے نفرت سے دانت پیستے ہوئے بولا

”مجھے بتائیں کیا کرنا ہے ؟“ چوہدری سلطاان نے اکتاہٹ سے پوچھا

” تم …. بس اب تم اس کا سامنا نہ کرنا۔ جس دن تم اس کے سامنے آ گئے وہ تمہیں چھوڑے گا نہیں ، میں اب سنبھال لوں گا ۔“ اس نے کہا تو اس کے ساتھ ہی وہ ویڈ یو ختم ہو گئی۔ میں نے ایک طویل سانس لی ۔ میں سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ چوہدری سردار میری مخالفت کرے گا ۔تنّی نے اس وقت تک ایک دوسری ویڈیو نکال لی تھی ۔ اس میں صرف چوہدری سردار دکھائی دے رہا تھا ۔ وہ کسی کو سمجھا رہا تھا۔

” یہ جو لڑکا آیا ہے نا علی ، اس کے ارادے بڑے خطرناک ہے ، یہ ہمارے سروں پر تلوار کی طرح لٹک جائے گا ۔اسے تو شاید پتہ بھی نہ ہو لیکن اس کے باپ کے ارادے بڑے خطر ناک ہیں ۔اس بڈھے کھوسٹ کو کوئی سمجھائے ،قبر میں تیری ٹانگیں ہیں ۔ ایک تیرا اکلوتا بیٹا ہے ، جو ایک گولی کی مار ہے ۔خواب اتنے بڑے بڑے دیکھ رہا ہے ۔“

وہ رُکا تو ایک آ واز ابھری

”پھر اس کے ساتھ کرنا کیا ہے ؟“

” دیکھ میں وہ کروں گا اس کے ساتھ کہ وہ بڈھا ہاتھ ملتا رہ جائے گا ۔ میں اس کے ساتھ وہ کروں گا کہ اسے سمجھ بھی نہیں آئے گا۔ اس کا وہ حشر کرنا ہے کہ مرتے دم تک یاد رکھے گا ۔“ چوہدری سردار نے نفرت سے کہا۔ اس کے ساتھ ہی وہ ویڈیو بھی ختم ہو گئی ۔

میرا خون کھولنے لگ گیا تھا ۔ وہ میرے بابا کے بارے میں اتنی نفرت رکھتا ہے ۔کھلا دشمن اتنا خطرناک نہیں ہوتا ، جتنا منافق خطرناک ہوتا ہے ۔ چوہدری سردار ایسا سانپ تھا جو ہمیں ڈسنے کے لئے پوری طرح تیار بیٹھا تھا ۔ وہ کسی بھی وقت ہمیں ڈنگ مار سکتا تھا ۔

”چوہدری سردار ہے میرا دشمن ۔“میں نے سیل فون تنّی کو واپس کرتے ہوئے کہا تو میرا لہجہ بدل چکا تھا ۔ مجھے خود اپنی آواز پر حیرت ہوئی ، مجھے یوں لگا جیسے میرے اندر کوئی وحشی جاگ گیا ہو ۔ میرا بس نہیں چل رہا تھا ورنہ میں ابھی اس کے سامنے جاتا اور اس سے اپنی دشمنی کا اعتراف کرواکے چیر پھاڑ دیتا ۔ میں چند لمحے اسی کیفیت میں رہا، پھر خود پر قابو پانے لگا۔

”میں خود حیران رہ گیا تھا کہ یہ کیسے تمہارا دشمن ہو گیا ؟ اس کی نفرت اور دشمنی کی وجہ کیا ہے ، یہ تو اب تم اپنے بابا ہی سے پوچھو۔“تنّی نے تجسس بھرے لہجے میں کہا تو میں سوچ میں پڑ گیا ۔ ظاہر ہے کوئی نہ کوئی وجہ تو ضرور رہی ہوگی ۔ورنہ اس کا اس قدر تلخ لہجہ اور نفرت یونہی نہیں تھی ۔

” اس قدر نفرت کے پیچھے کوئی نہ کوئی وجہ تو ہوگی ۔ خیر۔!تم مجھے یہ ویڈیو بھیجو ۔“ میں نے تنّی کی طرف دیکھتے ہوئے کہا

 تنّی نے اپنے سیل فون سے ویڈیوز مجھے بھیج دیں ۔ پھر اپ لوڈ ہونے کا انتظار کرنے لگا، دو چار منٹ بعد ویڈیوز اپ لوڈ ہو گئیں ۔

” لو بھی چلی گئی ہیں تجھے ۔“ تنّی نے آہستہ سے کہا

” تنّی میں تیرا شکریہ ادا نہیں کروں گا کیونکہ تم نے ثابت کر دیا ہے صرف تم ہی میرے دوست ہو ، میں ….“ میںنے کہنا چاہاتھا کہ وہ تیزی سے بولا

” علی ، میں تو ایک فالتو سا انسان ہوں جس کی اس معاشرے میں نہ کوئی عزت ہے اور نہ کوئی ضرورت ، ہاں مگر تیری صورت میں ایک خواب پورا ہوتے دیکھ رہا ہوں۔ یہ جو دھرتی پر خدا بن کر بیٹھے ہوئے ہیں نا ، میں انہیں زمین چاٹتے ہوئے دیکھنا چاہتا ہوں ۔اس خواب کی تعبیر میں اگر میری جان بھی چلی جائے تو مجھے کوئی پروا نہیں…. “ یہ کہتے ہوئے تنّی کی آ واز بھرا گئی ۔ میں اس کے چہرے پر دیکھ رہا تھا۔ میں بھی جذباتی ہو گیا تھا اس لئے جذبات بھرے لہجے میں بولا

”بس تم نے کر لی بکواس ،مریں گے تیرے دشمن۔ اوئے میں تجھے دوست سمجھتا ہوں ، یہ ٹھیک ہے کہ مجھے ان حالات میں سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ میرے ساتھ ہو کیا رہا ہے ۔ تم بتاﺅ ، اگر تیرے ساتھ یہ حالات بنتے تم کیا کرتے ؟“

”تم مجھے پر اعتما د نہیں کرتے ہو ۔“ تنّی نے شکوہ بھرے لہجے میں کہا۔ اس کا یہ شکوہ ٹھیک تھا ۔ میںنے اس پر اعتماد نہیں کیا تھا لیکن اس نے ثابت کر دیا کہ وہ اعتماد کے ہی نہیں بلکہ اعتبار کے بھی قابل ہے ۔ تبھی میں اعتراف کرتے ہوئے کہا

” تنّی میں تجھے ایسا ہی سمجھتا تھا ۔ لیکن اب مجھے دوست دشمن کا پتہ چل رہا ہے ۔یہ چوہدری سردار کون تھا ، تم سمجھتے تھے کہ یہ مجھے ….“میں نے کہنا چاہا تو تنّی نے کہا

” جانے دو ، اب یہ سوچو، ان حالات سے نپٹنا کیسے ہے ؟“

” وہ دیکھ لیتا ہوں ۔لیکن تم ابھی شہر جاﺅ ، اپنے لئے کپڑے لو ، اپنی ضروریات کی چیزیں لو ، اس پھٹیچر موٹر سائیکل کو ٹھیک کراﺅ ۔“ یہ کہتے ہوئے میں نے اپنی جیب سے نوٹوں کی ایک گڈی نکالی اور اسے دیتے ہوئے بولا ،” یہ پکڑو ۔“

” نہیں علی ، میں یہ نہیں چاہتا بلکہ ….“ تنّی نے کہنا چاہا

” اب کوئی بات نہیں کرنی، یہ صر ف تیرے لئے نہیںہیں ۔“ یہ کہتے ہوئے مجھے ایک دم سے خیال آیا ،” اپنے دوستوں کی بہت حفاظت کرنا۔ انہیں یہ پیغام دے دینا کہ گھبرانے کی ضرورت نہیں میں ان کے ساتھ ہوں ۔انہیں اگر اپنی حفاظت کے لئے کوئی ہتھیار چاہئے تو میں دوں گا ۔“

”ہاں ، اس کی تو ضرورت ہے ۔ تھوڑا بہت ان کے پاس ہے۔ خیر، ملتے ہیں شام کو، میں نے غفورے کے ذمے لگایا ہے ۔وہ ہماری مدد کرے گا ۔“تنّی نے اٹھتے ہوئے کہا ۔ میں بھی اٹھ گیا ۔ ہم دونوں مہمان خانے سے باہر آئے ۔ تنّی اپنی موٹر سائیکل کی جانب بڑھ گیا اور میں اندر کی جانب۔مجھے اپنے بابا سے ملنا تھا ۔ میں ان کے کمرے کی طرف چل دیا ۔

٭….٭….٭

جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

خون ریز۔۔۔امجد جاوید ۔۔۔قسط نمبر5

خون ریز امجد جاوید قسط نمبر5 صبح میری آ نکھ کھلی تو ارم کے بیڈ …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے