سر ورق / ثقافت / یہ کھنکتی چوڑیاں ۔۔۔ مدیحہ ریاض

یہ کھنکتی چوڑیاں ۔۔۔ مدیحہ ریاض

یہ کھنکتی چوڑیاں ۔۔۔
مدیحہ ریاض
میرے نیہر سے آج مجھے آیا یہ پیلا جوڑا یہ ہری ہری چوڑیاں ۔۔۔
سولہ سنگھار عورت کا زیور ہے اور زیور میں اگر چوڑیاں نہ ہوں تو سولہ سنگھارادھورا سا لگتا ہے۔چوڑیاں کنواری بالیوں کی اولین پسند ہیں بلکہ یوں کہنا بے جا نہ ہو گا کہ یہ لڑکیوں بالیوں کی سکھی سہیلیاں ہیں ۔کلائیوں میں کھنکتی اٹکھیلیاں کرتی اوڑھنی کے پلو سے چمٹتی بالکل کسی شرارتی بچے کی طرح خوشی میں کھنکتی اور غم میں کھنکنا بھول جاتی اداس بلبل کی طرح اپنی سکھی کے غم میں برابر کی شریک ہوتی ہیں ۔چوڑیاں جوانی کی دہلیز پر قدم دھرتی بالیوں کے آنکھوں میں سجے سپنوں کی امین ہوتی ہیں ۔چوڑیوں کی کھنکناہٹ دل میں پنپتی محبت کا بھید کھول دیتی ہے۔ بازار میں مختلف اقسام کی چوڑیاںدستیاب ہیں ۔ کانچ ، پلاسٹک ، اسٹیل ،چاندی اور سونے کی چوڑیاں پاکستان ، بنگلہ دیش اور بھارت میں یکساں مقبول ہیں ۔آج سے تقریبا ہزار سال قبل بھی چوڑیاں اس وقت کی خواتین میں اتنی ہی مقبول تھیں جتنی کہ اس دور کی خواتین میں مقبول ہیں ۔عید ،شب برات ،منگنی ،مایوں یا پھر شادی ہو کوئی بھی تقریب اورتہوار خواتین کے لئے چوڑیوں بغیر ادھورا ہے ۔ بھارت بنگلہ دیش اور پاکستان میں دلہن کی کلائیاں کہنیوں تک چوڑیوں سے بھری ہوتی ہیں ۔سہاگن کا سولہ سنگھار چوڑیوں کے بناءادھورا ہوتا ہے ۔ایک سہاگن تب ہی سہاگن لگتی ہے جب اسکی کلائیاں چوڑیوں سے بھری ہوں ۔چوڑیاں سہاگن کے لئے سہاگ کی نشانی ہوتی ہیں ۔سہاگ کا اپنی سہاگن کی کلائیوں میں اپنے ہاتھوں سے چوڑیاں پہنانا ایک خوشگوار ازدواجی زندگی کی ضمانت سمجھا جاتا ہے ۔ ہر شوہر اپنی سہاگن کو اپنی استطاعت کے مطا بق چوڑیوں کا تحفہ دیتا ہے ۔

موتیے سے زلف، عنبر سے مہکتی چوڑیاں

یاد آئیں لمس سے اس کے دہکتی چوڑیاں

دیکھ کر سونی کلائی یاد آئے تیری بات
"جان لیں میری،تری ہر دم کھنکتی چوڑیاں”

چھین لیں جاگیرِ دل حسیں ہتھیار یہ
کر دیں گھائل پایلیں، جھومر، کھنکتی چوڑیاں

حادثہ گزرا ہے کیا لڑکی پہ بڑھ کر پوچھنا
نم ہیں آنکھیں دیکھ کر اس کی دمکتی چوڑیاں

جانتا ہے وہ ادا مجھ کو منانے کی جیا
شعر لے آتا ہے کچھ، کلیاں، چمکتی چوڑیاں

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

ینگ ویمن رائٹرز فوراسلام آباد ، اولین ادبی بزمِ نسواں ابصار فاطمہ, عروج احمد

ینگ ویمن رائٹرز فوراسلام آباد کے زیرِ اہتمام اولین ادبی بزمِ نسواں ابصار فاطمہ, عروج …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے