سر ورق / یاداشتیں / ست رنگی دنیا ٭ میری کہانی ٭ ضیاءشہزاد . قسط نمبر 14

ست رنگی دنیا ٭ میری کہانی ٭ ضیاءشہزاد . قسط نمبر 14

ست رنگی دنیا
٭
میری کہانی ٭ ضیاءشہزاد
آندھیاں غم کی یوں چلیں، باغ اجڑ کے رہ گیا
قسط نمبر 14
٭
٬٬ ہاں تو اب بول اورکیا کہہ رہا تھا گنگا رام ۔ ۔ ۔ اس سیتا رام سے ۔ ۔ ۔ دادا کی بات پوری بھی نہیں ہوئی تھی کہ حویلی کے دروازے پر کسی کے ٬٬ جے ہو ۔ ۔ جے ہو ،، کہنے کی آواز سنائی دی اور اس کے ساتھ ہی سنکھ بجنے لگا ۔ ۔ ۔
دادا کی بات ادھوری رہ گئی ۔ انہوں نے منہ بناتے ہوئے بڑے ابا سے کہا ۔٬٬ دیکھ بھئی ۔ ۔ اب یہ ۔ ۔ کون جے کرنے آگیا ۔۔ ۔ ۔ اور یہ سنکھ کیوں بجا رہا ہے ۔ ۔ ۔ ۔ مجھے کچھ گڑ بڑ نظر آتی ہے ۔،، اور اس کے ساتھ ہی انہوں نے گھور کر پھر پرساد کی طرف دیکھا اور کہنے لگے۔٬٬ تو خبیث پوری پلاننگ سے آیا تھا ۔ ۔ ۔ اب مری سمجھ میں سب آ رہا ہے ۔ ۔ ۔ کون ہیں یہ جے کرنے والے ۔ ۔ ۔ حویلی کے دروازے پر ۔ ۔ ۔ اور یہ سنکھ کیوں بجایا ہے ؟۔،،
پرساد نے پھر اپنے دونوں ہاتھ جوڑ لئے ۔ ۔ ۔ روتے ہوئے کہنے لگا۔٬٬ سراجو مہاراج ۔ ۔ ۔ بھوان کی سوگند مجھے کچھ نہیں معلوم ۔ ۔ ۔ میں نردوس ہوں۔،،
٬٬ ابے چپ۔۔ ۔ ۔ پھر وہی بکواس ۔ ۔ ۔ ٹکڑے کردوں گا تیرے۔،، دادا کو ایک دم جلال آ گیا تھا
بڑے ابا حویلی کے دروازے کی طرف چلے گئے تھے ۔۔ ۔ دادا جلدی جلدی اپنی آنکھیں گھما کر ادھر ادھر دیکھ رہے تھے ۔ ۔ ۔ پھر وہ تیز آواز میں بولے ۔٬٬ سب عورتیں اوپر چھت والے کمرے میں چلی جائیں۔ ۔ ۔ مجھے کچھ گڑ بڑ نظر آ رہی ہے ۔ ۔ ۔ جلدی کرو ۔ ۔ اور ہاں ۔ ۔ ۔ ضیاءالدین کو بھی اپنے ساتھ لیتی جاﺅ ۔ ۔ جلدی کرو۔،،
میرا جی تو نہیں چاہا وہاں سے جانے کے لئے ۔ ۔ ۔ لیکن دادا اس وقت بہت غصے میں تھے ۔ ۔ ۔ میں ضد کرتا تو وہ میری پٹائی کر دیتے اس لئے میں خاموش ہی رہا ۔
اماں۔ ۔ تائی خیرن ۔ ۔ محمودن بھابی اور اندھی تائی سمیت سب عورتیں دادا کا اعلان سن کر کمرے سے باہر آ گئیں ۔ میری اماں نے قریب آ کر میرا ہاتھ پکڑا اور مجھے گھسیٹتے ہوئے باہر کی طرف بھاگیں۔ ۔ ۔ سب عورتیں باہر آ کر اوپر جانے کے لئے سیڑھیوں کی طرف جلدی جلدی قدم اٹھا رہی تھیں۔ ۔ ۔ سیڑھیوں کے پاس پہنچ کر اماں نے مجھے اپنی گود میں اٹھا یا اور سیڑھیاں چڑھنے لگیں۔ اوپر چھت پر پہنچ کر سب عورتیں کمرے میں جانے کی بجائے دیوار کے ساتھ لگ کر کھڑی ہو گئیں۔ اماں نے مجھے بھی گود سے اتارا اور وہ بھی دیوار سے باہر کی طرح جھانکنے لگیں۔ مجھے بھی یہ جاننے کا شوق تھا کہ ہماری حویلی کے دروازے پر کون آیا ہے ۔ ۔ کس نے جے ہو کا نعرہ لگا کر بھونپو بجایا ہے ۔ ۔ میں جلدی سے دیوار کے ساتھ لگی ہوئی اوپر تلے رکھی ہوئی دو اینٹوں پر چڑھ گیا ۔ یہ اینٹیں اماں نے میرے لئے خاص طور پر رکھی تھیں ۔ وہ مجھے گود میں اٹھا کر زیادہ دیر تک کھڑی رہ کر دیوار سے نیچے کی طرف نہیں جھانک سکتی تھی اس لئے انہوں نے دیوار کے ساتھ دو اینٹیں رکھ دی تھیں ۔ جب بھی مجھے دیوار سے باہر نیچے کی طرف جھانکنا ہوتا تھا میں اینٹوں پر چڑھ جاتا تھا ۔ ۔ ۔ ۔میں نے نیچے کی طرف جھانکا تو ہماری حویلی کے دروازے پر ایک آدمی کھڑا ہوا تھا ۔ اس کے ہاتھ میں ایک بڑا سا ڈنڈا تھا جس کے سرے پر تین چھریاں لگی ہوئی تھیں۔ اس نے اپنے بدن پر مٹی مل رکھی تھی، اس کے سر کے بال الجھے ہوئے تھے ۔ وہ ننگے بدن تھا بس نیکر جیسا ایک کپڑا لپیٹا ہوا تھا۔ وہ مٹی میں بالکل بھوت لگ رہا تھا ۔
٬٬ یہ اس کے ہاتھ میں جو ڈنڈا ہے اس میں یہ تین چاقو کیوں لگے ہوئے ہیں ماں۔،،میں نے اماں سے پوچھا
٬٬ یہ ان ہندوﺅں کا ترشول ہوتا ہے بیٹا۔،، اماں نے مجھے بتایا
٬٬ اس کا کیا کرتے ہیں اماں۔،، میں نے اماں سے پھر پوچھا تو انہوں نے مجھے ڈانٹ دیا ۔٬٬ چپ کر ۔ ۔ ۔ تجھے سوال کرنے کی بہت بری عادت ہے ۔ ۔ ۔ یہاں سر پر مصیبت کھڑی ہوئی ہے اور تو سوال پوچھ رہا ہے ۔،،
میں خاموش ہو گیا اور پھر دیوار سے نیچے جھانکنے لگا۔نیچے وہی بھوت کے روپ والا آدمی ہمارے دروازے پر کھڑا ہوا تھا ۔اس آدمی کے پیچھے کچھ دور دس بارہ اور آدمی تھے ۔ ان سب نے بھی یہی روپ بنایا ہوا تھا ۔ میرے ساتھ ہی اماں بھی کھڑی ہوئی نیچے جھانک رہی تھیں اور ان کے ساتھ ساتھ بھابی محمودن ۔ ۔ ۔ تائی خیران ۔ ۔ اور اندھی تائی تھیں ۔ ۔ ۔ وہ دیوار سے پیچھے کی طرف ہٹ کر جھانک رہی تھیں تاکہ نیچے کھڑے ہوئے لوگوں کی ان پر نظر نہ پڑ سکے ۔ اماں مجھے بھی دبے دبے لفظوں میں پیچھے ہٹنے کے لئے کہہ رہی تھیں مگر میں کہاں ماننے والا تھا ۔ وہ بار بار مجھے چٹکی بھر رہی تھی مگر میں کسمسا کر پھر باہر کی طرف جھانکنے لگتا تھا ۔ میں نے دیکھا کہ بڑے ابا حویلی کے دروازے پر آ کر ذرا باہر کی طرف آگے نکل کر اس آدمی کے آگے سینہ تان کر کھڑے ہو گئے۔ ۔ ۔ ۔اس آدمی نے اپنے منہ سے وہ بھونپو لگایا اور زور زور سے بجانے لگا ۔ ۔ ۔ پھر اس نے بھونپو اپنے منہ سے ہٹا یا اور جے ہو۔ ۔۔ جے ہو ۔ ۔ کالی ماتا کی جے ہو کا نعرہ لگایا ۔۔ ۔ اس آدمی کے نعرہ لگاتے ہی پیچھے کڑے ہوئے آدمیوں نے بھی ۔ ۔ جے ہو ۔۔ ۔ ۔ ۔ کالی ماتا کا نعرہ لگایا ۔ ۔ ۔بڑے ابا نے آگے بڑھ کر اس کے منہ پر ہاتھ رکھ دیا اور غصے سے بڑ بڑاتے ہوئے چیخ کر بولے ۔٬٬ خبر دار جو تو نے اب ہمارے دروازے پر اپنی کالی ماتا کا نعرہ لگایا ۔ ۔ ۔ ۔ تو ہمیں جانتا نہیں ہے ہم کون ہیں ۔،،
٬٬ سب جانتے ہیں مہاراج ۔ ۔ ۔ گاﺅں میں دادا سراجو کو کون نہیں جانتا ،،۔ ۔ ۔وہ بھوت جیسا آدمی بڑے ابا سے کہہ رہا تھا ٬٬ تو برا
مت مان ۔ ۔ ہم تو اپنی ماں کو پکار رہے ہیں ۔ ۔۔۔ کسی کو گالی تو نہیں دے رہے۔،،
٬٬ہم مسلمان ہیں ۔ ۔ ۔ ہمارے دروازے پر کوئی کالی ماتاکو پکارے یہ برداشت نہیں کر سکتے ۔،، بڑے ابا بولے۔٬٬ اگر ہم تمہارے مندر میں جا کر اللہ اکبر کہیں تو کیا تمہیں اچھا لگے گا؟،،
٬٬ ہم اللہ کو بھی مانتے ہیں ۔ ۔ وہی بھگوان ہے ۔۔ ۔ سب کے بھاگ بناتا ہے ۔،، وہ آدمی بولا
٬٬ ہاں ہمیں مت پڑھا ﺅ ۔ ۔ یہ بتاﺅ کیوں آئے ہو ۔ ۔ اور یہ تمہارے پیچھے تمہارے چیلے ساتھ میں کیوں ہیں۔،، بڑے ابا نے اس آدمی سے پوچھا
اتنی دیر میں کلو تایا بھی دادا کے کمرے سے نکل کر باہر حویلی کے دروازے پر پہنچ گئے تھے۔ سب عورتیں نیچے کا تماشا دیکھ رہی تھیں اور میں ان کے آپس میں کھسر پھسر کرنے کی ہلکی ہلکی آوازیں سن رہا تھا ۔ لیکن میں نے کوئی توجہ نہیں دی ۔ میں جانتا تھا کہ جب ساری عورتیں اکٹھی ہوتی تھیں تو وہ آپس میں ایسی ہی کھسر پھسر کرتی تھیں ۔ میری تو ساری دلچسپی اس بات میں تھی کہ نیچے کیا ہو رہا ہے ۔ بڑے ابا اور اس آدمی کے درمیان جو باتیں ہو رہی تھیں وہ سن کر مجھ پر گھبراہٹ سی تھی لیکن ڈر نہیں تھا ۔ بس یہی خیال آتا تھا کہ اب کیا ہوگا ۔ اب کلو تایا گھر سے نکل کر حویلی کے دروازے پر پہنچے تھے تو مجھے اب کیا ہوگا دیکھنے کا چاﺅ بڑھ رہا تھا ۔ مجھے یہ بھی پتہ تھا کہ بڑے ابا تو تھے ہی دادا کی طرح سے غصے والے مگر کلو تایا بھی کسی سے کم نہیں تھے ۔ ہمارے گھر میں سب کے سب غصے والے ہی تھے ۔ سب کو بات بات پر غصہ آتا تھا مگر دادا سے سب ڈرتے تھے ۔ میں ان کا لاڈلا تھا لیکن میں بھی بہت ڈرتا تھا ان سے۔
٬٬ابے گردھاری ۔ ۔ ۔ یہ تو ۔ ۔ ۔ تجھے ہمارے گھر آنے کی کیا سوجھ گئی ۔ ۔ کس نے بھیجا ہے تجھے؟،، کلو تایا نے اس بھوت جیسے آدمی کو پہچان لیا تھا ۔ بڑے ابا نے بھی بڑی حیرت سے کلو تایا کی طرف دیکھا تھا مگر وہ خاموش رہے ۔
٬٬ ہاں جی کلو مہاراج ۔ ۔ ۔ یہ آپ کا سیوک گردھاری لال ہی ہے ۔،، وہ آدمی بولا ۔٬٬ مجھے پنڈت گوکل رام نے سندیسہ دے کر بھیجا ہے دادا سراجو کے پاس ۔ ۔ ۔ مین تو ان کا سیوک ہوں ۔ ۔ آپ کو تو سب پتہ ہے مہاراج۔،،
٬٬ اور یہ تمہارے پیچھے اتنے سیوک کیوں کھڑے ہیں ۔ ۔ ۔ انہیں کیوں لائے ہو ۔ ۔ کیا لڑائی کے لئے آئے ہو۔؟،، کلو تایا کڑکدار آواز میں بولے
٬٬ نہیں کلو مہاراج ۔ ۔ ہم پجاری لوگ ہیں ۔ ۔ ہم کسی سے لڑائی نہیں کرتے ۔ ۔ ہم تو سیوا کرتے ہیں ۔ ۔ سیوک ہیں جنتا کے ۔ ۔ ۔ آپ کے بھی سیوک ہیں مہاراج۔،، وہ آدمی کلوتا کے آگے ہاتھ جوڑے کھڑا تھا ۔
اس آدمی نے جس کا نام کلو تایا نے گردھاری لیا تھا ، پیچھے پلٹ کر ان آدمیوں کی طرف دیکھا جو اس کے ساتھ آئے تھے ۔ ٬٬ یہ تو پنڈت جی نے کہا تھا کہ آج کل گاﺅں میں بلوہ ہو رہا ہے مسلمان ہندو سے لڑ رہا ہے ۔ ۔
٬٬ کیا بکواس ہے بے ،، بڑے تایا کو ایک دم غصہ آگیا ۔ وہ چیخ کر بولے ۔٬٬ مسلمان لڑ رہا ہے ہندو سے ۔ ۔ یا ہندو مسلمان کو مار رہا ہے ۔ ۔ ۔ تم ہندوﺅں نے ہمارے دو مسلمان مار دیئے ہیں ۔ ۔ ہم مسلمانوں نے ابھی تک جواب نہیں دیا ہے ۔ ۔ ۔ ہم ابھی شانت ہیں ۔ ۔
برداشت کر رہے ہیں ۔ ۔ ۔ بات برداشت سے باہر ہو رہی ہے اب ہمیں بھی جواب دینا پڑے گا ،،
٬٬ بھائی آپ طیش میں مت آﺅ ۔ ۔ میں ان سب کو جانتا ہوں ۔ ۔ ان کی رگ رگ سے واقف ہوں ۔ ۔ ۔ مجھے معلوم ہے کب اور کس وقت ان سے کیا بات کرنی چاہئے ۔ ۔ میں نمٹ لوں گا ان سب سے ۔ ۔ آپ ٹھنڈے ہو کر دیکھتے رہو میں ان کا کیا کرتا ہوں۔۔ ۔ پہلے اس گردھاری سے پوچھ تو لینے دو کہ پنڈت گوکل رام نے انہیں ہمارے دروازے پر کیوں بھیجا ہے ۔،،
٬٬ جے ہو کلو مہاراج کی ۔،، گردھاری لال نے پھر اپنے ہاتھوں کو جوڑتے ہوئے جھک کر کہا
٬٬ہاں اب بتاﺅ۔ ۔ ۔ تم لوگوں کو پنڈت نے کیوں بھیجا ہے ۔،، کلو تایا نے پوچھا
٬٬مہاراج ۔ ۔ ۔ پنڈت جی نے مجھ سے کہا تھا کہ دادا سراجو سے بات کرنا ۔ ۔ ۔ اور کسی سے نہیں۔ ۔ ۔ آپ کی کرپا ہوگی اگر سراجو دادا سے بات کروادو۔،،
٬٬ دادا سراجو سے بھی بات کر وادیں گے ۔ ۔ ۔ مگر یہ بات دھیان رہے کہ وہ بہت غصے والے ہیں ۔ ۔ انہیں بڑی جلدی جلال آجاتا ہے۔،، بڑے ابا نے گردھاری لال سے کہا
٬٬ جی مہاراج ۔ ۔ ۔ پنڈت جی نے مجھے یہ بھی بتا دیا تھا ۔ ۔ ۔ مگر انہوں نے کہا تھا کہ بس سندیسہ دیدینا ۔ ۔ آگے وہ خود ساری بات سنبھال لے گا۔،،گردھاری بولا
٬٬ گردھاری بتا دو کیا بات ہے؟ ۔ ۔ ۔ جب تک مجھے نہیں بتاﺅ گے میں دادا سراجو سے تمہاری بات نہیں کر واﺅں گا ۔،، کلو تایا نے نرمی سے سے کہا
گردھاری نے پھر پیچھے پلٹ کر اپنے ساتھیوں کی طرف دیکھا ۔اس بات کے جواب میں ان سب نے اپنے اپنے ہاتھوں میں جو ترشول پکڑ رکھے تھے انہیں ہوا میں اٹھایا اور سب نے مل کر زوردارآواز میں۔ ۔ ۔ جے ہو ۔ ۔ جے ہو کا نعرہ لگایا ۔ بڑے ابا کو پھر یہ سن کر جیسے طاﺅ آگیا ۔ وہ آگے بڑھنے لگے تو کلو تایا نے انہیں روک دیا
٬٬اری سعیدن تیرے جیٹھ جی بڑے غصے میں ہیں ۔ ۔ ۔ کہیں لڑائی نہ ہو جائے ۔ ۔ مجھے تو ڈر لگ رہا ہے ۔ ،، تائی خیرن نے اماں سے کہا
٬٬ ہاں بھابی جی مجھے بھی ڈر سا لگ رہا ہے ۔،، اماں نے کہا ۔٬٬ یہ حرام کے جنے تو بہت سارے ہیں اور ہمارے مرد تو چار ہی ہیں ۔ ۔ ۔ اب کیا ہوگا ،،
٬٬ تم دونو مجھے بھی ڈرا ۔ ۔ را ۔ ۔ را ہی ہو ،، اندھی تائی ہکلاتے ہوئے بولیں ۔ ۔۔٬٬ چپ کرو ۔ ۔ ۔ دیکھ تو لو یہ کمینے اب کیا کریں گے ،،
گردھاری کے چہرے پرمسکراہٹ پھیل گئی تھی وہ پھر اپنے ہاتھوں کو جوڑتے ہوئے بولا ۔٬٬ کلو مہاراج ۔ ۔ آپ کی حویلی میں ہمارا ایک سیوک ہے ۔ ۔ ۔ پرساد نام ہے اس کا ۔ ۔ ۔ پنڈت نے یہ سندیسہ دے کر بھیجا ہے کہ اسے چھوڑ دو ۔ ۔ نہیں تو لڑائی ہوگی ۔ ۔ گاﺅں میں بلوہ ہو جائے گا مہاراج ۔،،
٬٬ ابے بے شرمو ۔ ۔ ۔ ایک تو تم ہمارے بچے کو اٹھا لو۔ ۔ ۔ اور جب ہم اسے پکڑ لیں تو دھمکی لگانے آئے ہو کہ ہم اسے چھوڑ دیں۔،، بڑے ابا غصے سے چیخے۔٬٬ اسے کہتے ہیں چوری اور سینہ زوری۔ ۔ ۔ ۔ تم گندے لوگ ہو ۔ ۔ گاﺅں کے حالات سے فائدہ اٹھانا چاہتے ہو۔ ۔ مگر اسے ہماری کمزوری مت سمجھنا۔،،
٬٬شانت رہو ۔ ۔ مہاراج شانت ۔ ۔۔ گاﺅں کے حالات تو تم مسلمانوں نے بگاڑے ہیں جی ۔،، گردھاری اکڑتے ہوئے بولا ۔٬٬پنڈت جی کہہ رہے تھے کہ مسمانوں کا پاکستان بن گیا ہے ۔ ۔ ۔ ان کو گاﺅں سے بھگاﺅ۔ ۔ ۔ باول کھالی کروا لو ان سے ۔ ۔ یہ گاﺅں ہندوﺅں کا ہے وہی رہیں گے یہاں۔،،
٬٬ نہیں باول ہم مسلمانوں کا بھی ہے ۔ ۔ ہمارے باپ دادا یہیں کے ہیں ۔ ۔ ۔ گاﺅں میں ان کی قبریں ہیں ۔ ۔ سمجھے ۔،، بڑے ابا کو دادا ابا کی طرح غصہ آگیا ۔ ۔ ۔ وہ اس گردھاری کی طرف غصے سے آگے بڑھے مگر کلو تایا نے انہیں پکڑ لیا ۔
٬٬ نہیں بھائی ۔ ۔ ۔ غصے میں مت آﺅ ۔،، کلو تایا بولے ۔٬٬ ان کا بندوبست تو میں ابھی کرتا ہوں بس آپ خاموشی سے تماشا دیکھنا ۔،، یہ کہہ کر کلو تایا تیزی سے سرائے کے میدان کی طرف بھاگے۔ بڑے ابا حیرن ہو کر کلو تایا کو بھاگتے ہوئے دیکھنے لگے ۔ گردھاری نے بھی بڑی حیرت سے کلو تایا کو بھاگتے ہوئے دیکھا اور اس کے ساتھ ہی وہ بار بارپیچھے مڑ کر اپنے آدمیوں کو بھی دیکھ رہا تھا ۔۔ ۔ ۔
(جاری ہے )

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

ست رنگی دنیا ٭ میری کہانی ٭ضیاءشہزاد ‘٭ قسط نمبر17

ست رنگی دنیا ٭ میری کہانی ٭ضیاءشہزاد ”آندھیاں غم کی یوں چلیں، باغ اجڑ کے …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے